Featured post

Counter Sectarianism Narrative انسداد فرقہ واریت

انسداد فرقہ واریت مختصر تاریخ اورعملی اقدامات وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ ’’اور تم سب...

کیا کلمہ طیبہ پڑھ لینا ہی نجات کے لئے کافی ہے؟ Is only Faith sufficient for salvation?

Image result for faith  works Grace in islam

حدیت- کلمہ  جنت کی چابی -مسلم ، کتاب ایمان نمر 50 

كتاب الإيمان 1 The Book of Faith
(10)Chapter: The evidence that one who dies believing in tawhid will definitely enter paradise
10)باب مَنْ لَقِيَ اللَّهَ بِالإِيمَانِ وَهُوَ غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَحَرُمَ عَلَى النَّارِ

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَتَيْتُ حَائِطًا لِلأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ أَجِدْ فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَةٍ - وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ - فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَبُو هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا فَفَزِعْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ وَهَؤُلاَءِ النَّاسُ وَرَائِي فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ بِنَعْلَىَّ هَاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرُ فَقَالَ مَا هَاتَانِ النَّعْلاَنِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏.‏ فَقُلْتُ هَاتَانِ نَعْلاَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ‏.‏ فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَىَّ فَخَرَرْتُ لاِسْتِي فَقَالَ ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجْهَشْتُ بُكَاءً وَرَكِبَنِي عُمَرُ فَإِذَا هُوَ عَلَى أَثَرِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَقِيتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَىَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لاِسْتِي قَالَ ارْجِعْ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عُمَرُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَخَلِّهِمْ ‏"‏ ‏.‏

اردو گوگل ترجمہ >>>


It is reported on the authority of Abu Huraira:
We were sitting around the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him). Abu Bakr and Umar were also there among the audience. In the meanwhile the Messenger of Allah got up and left us, He delayed in coming back to us, which caused anxiety that he might be attacked by some enemy when we were not with him; so being alarmed we got up. I was the first to be alarmed. I, therefore, went out to look for the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) and came to a garden belonging to the Banu an-Najjar, a section of the Ansar went round it looking for a gate but failed to find one. Seeing a rabi' (i. e. streamlet) flowing into the garden from a well outside, drew myself together, like a fox, and slinked into (the place) where God's Messenger was. He (the Holy Prophet) said: Is it Abu Huraira? I (Abu Huraira) replied: Yes, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: What is the matter with you? replied: You were amongst us but got up and went away and delayed for a time, so fearing that you might be attacked by some enemy when we were not with you, we became alarmed. I was the first to be alarmed. So when I came to this garden, I drew myself together as a fox does, and these people are following me. He addressed me as Abu Huraira and gave me his sandals and said: Take away these sandals of mine, and when you meet anyone outside this garden who testifies that there is no god but Allah, being assured of it in his heart, gladden him by announcing that he shall go to Paradise. Now the first one I met was Umar. He asked: What are these sandals, Abu Huraira? I replied: These are the sandals of the Messenger of Allah with which he has sent me to gladden anyone I meet who testifies that there is no god but Allah, being assured of it in his heart, with the announcement that he would go to Paradise. Thereupon 'Umar struck me on the breast and I fell on my back. He then said: Go back, Abu Huraira, So I returned to the Messenger of Allah (ﷺ), and was about to break into tears. 'Umar followed me closely and there he was behind me. The Messenger of Allah (may peace and blessings be on him) said: What is the matter with you, Abu Huraira? I said: I happened to meet 'Umar and conveyed to him the message with which you sent me. He struck me on my breast which made me fall down upon my back and ordered me to go back. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: What prompted you to do this, 'Umar? He said: Messenger of Allah, my mother and father be sacrificed to thee, did you send Abu Huraira with your sandals to gladden anyone he met and who testified that there is no god but Allah, and being assured of it in his heart, with the tidings that he would go to Paradise? He said: Yes. Umar said: Please do it not, for I am afraid that people will trust in it alone; let them go on doing (good) deeds. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Well, let them.
Reference : Sahih Muslim 31
In-book reference : Book 1, Hadith 54
USC-MSA web (English) reference : Book 1, Hadith 50
  (deprecated numbering scheme)
http://sunnah.com/muslim/1/54
کیا کلمہ طیبہ پڑھ لینا ہی نجات کے لئے کافی ہے؟

کیا کلمہ طیبہ پڑھ لینا ہی نجات کے لئے کافی ہے؟
کلمہ طیبہ پڑھنے سے انسان دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے اور اسے ایمان کی دولت میسر آ جاتی ہے۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ مبارکہ میں ہے : آپ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفید کپڑا اوڑھے سو رہے تھے۔ میں دوبارہ حاضر ہوا اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے۔ پس میں تیسری بار حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص لا الٰہ الا اﷲ کہے، اسی اعتقاد پر اس کا خاتمہ ہو جائے تو وہ جنت میں جائے گا۔
مسلم، الصحيح، کتاب الايمان، باب من مات لا يشرک باﷲ شيئًا دخل الجنة و من مات مشرکا دخل النار، 1 : 95، رقم : 94
لیکن اس حدیث میں کلمہ طیبہ پڑھنے سے مراد احوال و اعمال کی اصلاح کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھنا ہے۔ کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد احوال و اعمال کی اصلاح کو نظرانداز کرنا اﷲ کی گرفت کا باعث بنتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلاَ يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللّهِ وَلِيًّا وَلاَ نَصِيرًاo
’’جو کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کی سزا دی جائے گی اور نہ وہ اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی پائے گا اور نہ مددگارo‘‘
 النساء، 4 : 123
اگر کسی کلمہ گو شخص نے اپنے گناہوں پر توبہ کی اور اس کی توبہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہوگئی تو وہ کلمہ گو شخص جنت میں جائے گا۔ یا اﷲ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو پھر وہ کلمہ گو اپنے گناہوں کی سزا پانے کے بعد جنت میں جائے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
ہے اور محمدؐ اس کے رسول ہیں وہ جنت میں جائے گا۔ اہل تقویٰ کے سرخیل سیدنا ابوذر غفاریؓ سے آپؐ نے کہا تھا۔ ابوذر جس نے کہا اللہ ایک ہے اور محمدؐ اس کے رسول ہیں، وہ بخش دیا جائے گا۔ حیرت زدہ انہوں نے کہا، خواہ اس نے چوری اور بدکاری کی ہو۔ فرمایا: ہاں خواہ اس نے چوری اور بدکاری کا ارتکاب کیا ہو۔ باردگرِ آپؐ کے رفیق نے تعجب سے اپنا سوال دہرایا تو رحمتہ للعالمین نے یہ کہا: ہاں! خواہ ابوذر کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ ظاہر ہے کہ خطا کا ارتکاب کرنے والا توبہ کرے گا۔ جس کی چوری کی ہے، اسے لوٹا دے گا۔ ثانوی ترجیحات پر کچھ نہیں ملتا،اللہ نہ اس کا راستہ، حسنِ عمل اور نہ علم و معرفت۔ اپنی خطا پر، اپنی ترجیحات پر آدمی اگر ڈٹا رہا۔ -
قرآن کی  معتد د آیات میں واضح ہے کہ نجات، بخشش صرف ایمان اور اچھے اعما ل کی بنیاد پر ہو گی:
(قرآن ; 103:2-3, 32:19, 42:22, 30:45, 31:8-9, 47:12, 18:107, 5:11, 22:23, 56,40)
اس کے ساتھ اللہ کا انصاف ، رحم ، فضل اور شفاعت (صرف اللہ  کی اجازت سے).
امام شا فعئی سوره العصرکو قرآن کا خلاصہ قرار دیتے ہیں. آپ نے فرم یا کہ اگر صرف سوره العصر (١٠٣) نازل ہوتی تو بھی کافی تھی:
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
وَالْعَصْرِ ﴿١﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ﴿٢﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴿٣﴾
زمانے کی قسم (1) انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے (2) سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے (103:3)
  
بہت سے احادیث سے یہ تاثرملتا ہے کہ نجات، بخشش کے  لیےصرف ایمان ہی کافی ہے. تمام کلمہ گو (مسلمان)، حضرت محمدﷺ کی امت کے لوگ  جنت میں جاییں گنے چاہے وہ کتنے ہی گناہ گار ہوں. ایک مشہور حدیث کے مطابق اگرچہ مسلمان زانی یا چورہو! (زنا اور چوری گناہ کبیرہ ہیں) پھر بھی وہ جنت میں جائے گا.
اب ایک طرف قرآن کی واضح آیات بہت بڑی تعداد میں ہیں اور دوسری طرف احادیث جو بظاھر قرآن کی واضح آیات کو منسوخ کرتی نظر آتی ہیں. یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ مذھب اسلام کی بنیاد کا معاملہ ہے.
علماء کے مطابق احادیث کو قران کی روشنی میں سمجھنا چاہیے. دل سے کلمہ پڑھنے کا مطلب ہے کہ اسلام کے احکام پر دل و جان سے عمل کرے صرف زبانی اقرار کافی نہیں.
اگر صرف کلمہ زبان سے ادا کیا جائے تو یہ کافی نہیں.دنیاوی، قانونی طور پر وہ مسلمان سمجھا جایے گا مگر اس کو اپنے عمل سے بھی مسلمان ثابت کرنا ہو گا.
گناہ، ثواب ، حلال ، حرام ،آخرت ، حساب کتاب ، جزا ، سزا . انصاف ، حقوق اللہ ، حقوق العباد وغیرہ ایک طرف اور ایمان (زبانی اقرار، کلمہ شہادہ) دوسری طرف اسلام کے چھ  بنیادی عقاید، اورپانچ ستون پر عمل کرنا ہو گا.  
تحقیق سے معلوم ہوا کہ علماء مختلف تاویلیں پیش کرتے ہیں - کچھ  تاویلیں عقل ودانش کے سادہ معیار سے بھی بعید معلوم ہوتی ہیں.

حدیث مسلم بمطابق حضرت ابوحریرہ ، جس میں رسول اللہﷺ دل سے کلمہ گو (مسلمانوں) کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں، حضرت عمر(رضی اللہ)   کی درخواست پر کہ مسلمان ظاہری الفاظ سے غلط مطلب سمجھ لیں گنے، ان کو اچھے اعمال کرنے دیں، آپ نے فرمایا کرنے دیں (اچھے عمل کرنے دیں) (مسلم حدیث 50  ، کتاب الایمان).  حضرت عمر(رضی اللہ)   کی اس پیغام کو عام کرنے سے منع کرنے کی درخواست رسول اللہﷺ نے قبول کر لی.
رسول اللہﷺ نے جس بات کو عام کرنے سے منع فرما دیا پھر  رسول اللہﷺ کے ارشاد کے خلاف آج تک اس کی تشسہیرکرکہ کنفیوژن پھیلایا جاتا ہے؟
حضرت عمر (رضی اللہ) نے جس خدشہ کا اظھار کیا تھا وھی کھلم کھلا ہو رہا ہے.لوگ ظاہری طور پر اپنی مرضی کا مطلب نکال کر اچھےاعمال کرنا ضروری نہیں سمجھتے بس کلمہ ادا کرنا نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں جو درست نہیں.  
کیا یہ اللہ کے فرمان  (سورة الحشر 59:7) کی کھلی خلاف درزی نہیں؟
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ(29:2 سورة العنكبوت)
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ "ہم ایمان لائے " اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟(29:2 سورة العنكبوت)

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿٧﴾
جو کچھ رسولؐ تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے (سورة الحشر 59:7)

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ﴿٢٢﴾
یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22)

عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ (سنن ابن ماجہ کتاب المقدمات، صحیح) تم پر لاز م ہے میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت جو ہدایت یافتہ ہیں ان (یعنی میری اور ان کی سنت) کو اپنی داڑھوں مضبوط پکڑنا۔

مسیحیت میں نجات کے کیے "ایمان" کو کافی سمجھا جاتا ہے. (ان کے ایمان کی تفصیل معلوم  ہے).یہودی اپنے آپ کو اللہ کی خاص قوم اور جنت کا حقدار سمجھتے ہیں. اگر عذاب آیا  بھی تو صرف تھوڑا.
اسلام "ایمان اور اعما ل" نجات کی بنیاد کی وجہ سے مسیحیت سے مختلف ہے.
جب قران کی واضح تعلیمات اور احکام کے خلاف صرف ایمان کی بنیاد پر نجات کا نظریہ پیش کیا جاتا ہے تو عام مسلمان اس کو کامیابی اور جنت کی کنجی سمجھ کر گناہ کرنے کو معیوب نہیں سمجھتا. دانشور اور علماء عوام کو نادانستہ طور پر گناہ اور تباہی کی دنیا میں دھکیل رہے ہیں.

قرآن واضح کرتا ہے کہ جو شخص اللہ کی خوشنودی  اور دنیا و آخرت میں کامیابی چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اسلام کی تمام بنیادی نظریات کو دل سے قبول کرے اور پوری دیانت داری سے ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے. اللہ  اور رسولﷺ کی کی نافرمانی سے بچے. اس کو چاہے کہ اس دنیا کی بجایے آخرت کی فکر کرے. اللہ کی کتاب ایسے لوگوں کو آخرت میں کامیابی کی ضمانت نہیں دیتی جو ان شرایط پر پورا نہیں اترتے، اللہ کا ارشاد ہے:

"پھر جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا  اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا جنت اس کا ٹھکانا ہوگی " ( سورة النازعات 79:35-41)
مسلمانوں کو چاہے کہ گمراہ کن نظریات سے با ھر نکلیں اور اپنی طرف سے پوری کوشش کریں کہ آخرت میں کامیاب ٹھریں اور اس کے لیے ایمان کے ساتھ نیک اعمال کریں، پھر بھی اگر کچھ کمی کوتاہی کی وجہ سے رہ جائے تو اللہ کی رحمت اور بخشش کا طلبگار ہو، یقینا اللہ ایسے ایمان والوں کو مایوس نہیں کرے گا-
مزید تفصیلات کے لیے اس لنک پر ملاحضہ کریں:
  • http://salaamforum.blogspot.com/2016/05/blog-post_15.html
  • Muslims , Paradise & Hell - Clear False Concepts thorough Quran: http://islam4humanite. blogspot.com/2016/05/muslims-in-paradise-not-hell.html-------------------------------------- جماعت کا اتباع ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا (النساء: 115) اور جو کوئی مخالفت کرے رسول کی جب کہ کھل چکی اس پر سیدھی راہ اور چلے سب مسلمانوں کے رستے کے خلاف تو ہم حوالہ کریں گے اس اسی کی طرف جو اس نے اختیار کی اور ڈالیں گے اس کو دوزخ میں اور وہ بہت بری جگہ پہنچا۔ یہ آیت اجماع امت پر عمل کرنے کی دلیل ہے۔
مجتہد کا اتباع
واتبع سبيل من اناب الي (لقمان: 15) راہ چل اس کی جو رجوع ہوا میری طرف سنت رسول ﷺ، سنت صحابہؓ حضرت عرباضؓ سے ایک روایت ہےجس میں آپ ﷺ کی وصیت ہے کہ میرے بعد بہت سے اختلافات پیدا ہوں گے اس کے بعد ارشاد فرمایا: عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ (سنن ابن ماجہ کتاب المقدمات، صحیح) تم پر لاز م ہے میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت جو ہدایت یافتہ ہیں ان (یعنی میری اور ان کی سنت) کو اپنی داڑھوں مضبوط پکڑنا۔ حضرت علیؓ کی ایک روایت ہے: جلد النبي صلى الله عليه وسلم اربعين وابو بكر اربعين وعمر ثمانين وكل سنة وهذا احب الي (الحدیث)(صحیح مسلم کتاب الحدود) رسول اللہ ﷺ نے (شرابی کو) چالیس (کوڑے) لگوائے اور ابوبکرؓ نے بھی چالیس (کوڑے لگوائے) اور عمرؓ نے اسی (کوڑے لگوائے) اور ان میں سے ہر ایک سنت ہے اور مجھے یہ (یعنی اسی کوڑے) زیادہ پسند ہیں۔ فائدہ: حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ دونوں کے فیصلے سنت کا درجہ رکھتے ہیں۔ حدیث 1 عن ابي وائل قال جلست مع شيبة على الكرسي في الكعبة فقال لقد جلس هذا المجلس عمر رضي الله عنه فقال لقد هممت ان لا ادع فيها صفراء ولا بيضاء الا قسمته قلت ان صاحبيك لم يفعلا قال هما المرءان اقتدي بهما۔(صحیح البخاری، کتاب الاعتصام بالسنۃ) ابووائل نے بیان کیا کہ میں شیبہ کے ساتھ کعبہ میں کرسی پر بیٹھا ہوا تھا تو شیبہ نے فرمایا کہ اسی جگہ بیٹھ کر عمر رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ) فرمایا کہ میرا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ کعبہ کے اندر جتنا سونا چاندی ہے اسے نہ چھوڑوں (جسے زمانہ جاہلیت میں کفار نے جمع کیا تھا) بلکہ سب کو نکال کر (مسلمانوں میں) تقسیم کر دوں۔ میں نے عرض کی کہ آپ کے ساتھیوں (رسول اللہ ﷺاور ابوبکرؓ) نے تو ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں بھی انہیں کی پیروی کر رہا ہوں (اسی لیے میں اس کے ہاتھ نہیں لگاتا)۔ · سیدنا عمرؓ نے اپنے عمل کی بنیاد رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکرؓ کے عمل پر رکھی یعنی ابوبکرؓ کا فیصلہ بھی رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کی طرح نافذ ہوسکتا ہے۔
سنت اور حدیث میں فرق
· سنت دائمی عمل کو کہتے ہیں۔ ثبوت سنت کے لئے غیرلازم چیز پر مواظبت (ہمیشگی) ضروری ہے۔ سنت دین کا وہ پسندیدہ معمول و مروج طریق ہے جو خواہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو یا آپ ﷺ کے صحابہ کرام سے ثابت ہو۔ اس کی دلیل آپ ﷺ کا یہ ارشاد ہے: تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت اور سے دانتوں سے (یعنی مضبوطی سے) تھام لو۔ · علیکم بسنتی (صحیح البخاری) علیکم بحدیثی نہیں آیا۔ · صرف فعل سے دوام اور عمل کا سنت ہونا ثابت نہیں ہوتا۔مثلا ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہوکر پیشاپ فرمانے کا ذکر ہے۔ فبال قائما (صحیح البخاری) لیکن یہ سنت نہیں۔سنت بیٹھ کر پیشاپ کرنا ہے۔ قبلہ رخ ہوکر رفع حاجت کرنا ثابت لیکن یہ سنت نہیں۔ بچی کو اٹھا کر نماز پڑھنا ثابت لیکن یہ سنت نہیں۔ یا مثلا یہ روایت ہے کہ ابوبکرؓ جماعت کروا رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ابوبکرؓ کے پہلو میں تشریف فرما ہوگئے اب ابوبکرؓ رسول اللہ ﷺ کی اقتدا کررہے تھے اور لوگ ابوبکرؓ کی۔ یہ حدیث تو ہے لیکن سنت نہیں۔ سنت وہی ہے کہ ایک جماعت کا ایک ہی امام ہوگا۔ اس لیے کہ امت نے کبھی اس پر عمل نہیں کیا کہ ایک جماعت کے دو امام ہوں۔ · یا مثلا رسول اللہ ﷺ سے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ جوتا پہن کر نماز پڑھتے تھے۔ کان یصلی فی نعلیہ (صحیح البخاری) جب کہ ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ بغیر جوتوں کے نماز پڑھتے تھے۔ لیکن امت کا عملی تواتر پہلی حدیث کے بجائے دوسری حدیث پر ہے۔ ساری امت کا اتفاق ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا آپ ﷺ کا نادر عمل ہے۔ https://goo.gl/N6IUG6



~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
بسم الله الرحمن الرحيم
 لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ
شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا. ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین  پر. جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا.
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits

مسلمان کون؟ Who is real Muslim?

Image result for Muslim sects
وہ مذاھب جو کہ سنی اسلام میں سے نہیں ہیں ،کیا حقیقی اسلام کا جزو شمار ہوتے ہیں؟ دوسرے الفاظ میں ، کیا ھر وہ شخص جو اسلامی مذاھب یعنی اھل سنت کے چاروں مذاھب کے علاوہ مذھب ظاھری، مذھب جعفری، مذھب زیدی یا مذھب اباضی میں سے کسی ایک کی پیروی کرے اور اس کے احکام پر عمل کرے ، مسلمان ہے ؟
(مفتی کل سعید عبد الحفیظ حجاوی کافتوی تقریب )
جواب : الحمد اللہ والصلوۃ و السلام علی رسولہ الامین محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین و بعد :
Image result for Muslim sects

اسلام ایک ایسا دین ہے جسے خدا نے پسند کیا ہے خاتم الانبیاء حضرت محمد (ص) اسے دنیا والوں کے لئے لائے ہیں تا کہ اس کے پیروکار قیامت کے دن تک دنیا و آخرت کی سعادت اور خوش بختی حاصل کر سکیں اور جو بھی اس سے منہ موڑ لے گا اور اس کو چھوڑ دیےگا ، گمراہی میں گرفتار ھو جائے گا خدائے متعال کا ارشاد ھے :

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ اور جو بھی اسلام کے علاوہ کوئی دین اپنائے ھرگز اس سے قبول نھیں کیا جائے گا اور وہ شخص آخرت میں خاسرین گھاٹے میں رہنے والوں) میں سے ہے ۔ (۱)

اور یہ بھی ارشاد فرمایا : إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الإِسْلاَمُ بیشک خدا کے نزدیک دین ، اسلام ہی ہے ۔ (۲)

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پراستوار ہے ، عبداللہ بن عمر رض سے روایت ھے کہ پیغمبر خدا (ص) نے فرمایا : بني الاسلام علي خمس، شهادة ان لااله الاالله و ان محمداً رسول الله و اقام الصلاة و ايتاء الزکاة و الحج و صوم رمضان: ۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ھے ۔ لا الہ الا اللہ اور محمداً رسول اللہ کی گواھی دینا ، نماز قائم کرنا ، زکات دینا ، حج اور رمضان کے روزوں پر ۔

لا الہ الا اللہ کی گوای، توحید کا اثبات اور محمد رسول اللہ کی گواھی ، رسالت اور نبوت اور پیغمبر (ص) سے سنی ہوئی تمام چیزوں کا اثبات ہے جیسے : ملائکہ الٰھی ، کتابیں ، انبیاء ، قیامت کا دن اور مقدرات الٰھی چاہے خیر ہو یا شر ۔ عمر بن خطاب سے نقل ہوا ہے : ایک دن ھم نبی اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک مرد ہمارے پاس آیا جس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت کالے تھے ۔ سفر کا کوئی اثر اس کے ظاھر میں نہیں تھا اور ہم میں سے کوئی اس کو نہیں پہنچانتا تھا ۔ پیغمبر (ص) کے پاس بیٹھ گیا ۔ اس کے زانو رسول (ص) کے زانو سے ملے ہوئے تھے اور اس نے اپنا ہاتھ آپ (ص) کی ران پر رکھا اور عرض کیا : اے محمد ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ، نبی اکرم (ص) نے فرمایا :

الاسلام ان تشهد ان لااله الاالله و ان محمداً رسول الله و تقيم الصلاة و تؤتي الزکاة وتصوم رمضان و تحج البيت ان استطعت اليه سبيلاً، قال: صدقت. قال فعجبنا له يسأله و يصدقه. قال: فاخبرني عن الايمان. قال: ان تؤمن بالله و ملائکته و کتبه و رسله و اليوم الاخر وتؤمن بالقدر خيره و شره. قال: صدقت۔ ثم انطلق فلبثت مليا قال لي: يا عمراتدري من السائل؟ قلت: الله و رسوله اعلم. قال: فانه جبرئيل اتاکم يعلمکم دينکم.

اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ وحدہ لا شریک کے علاوہ کوئی خدا نھیں ہے اور محمد(ص) اس کے رسول ہیں اور نماز کو قائم کرو، زکات دو، رمضان میں روزہ رکھو اور اگر استطاعت ہو تو خانۂ کعبہ کا حج کرو ۔ اس مرد نے کہا: آپ نے سچ کہا ۔ ہم نے تعجب کیا کہ وہ کیسے سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے ۔ اس مرد نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتاؤ؟ آپ(ص) نے فرمایا: یہ کہ خدا اور اس کے ملائکہ، کتابیں، رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آؤ اور قدر پر ایمان رکھو چاہے خیر ہو چاہے شر۔ اس نے کہا: صحیح ہے، پھر چلا گیا ۔ میں سوچ میں پڑ گیا، آپ(ص) نے مجھ سے فرمایا: اے عمر! کیا جانتے ہو کہ سوال کرنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: وہ جبرئیل تھے جو آئے تھے تاکہ تمھارا دین تم کو سکھائیں ۔

نبی اکرم(ص) نے مسلمان ہونے کی حدود کو بیان فرمایا ہے۔ اس کے بعد کہ اسلام کی علامتوں کو واضح فرما دیا ہے۔ انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) نے نبی اکرم(ص) سے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: من شهد ان لااله الاالله و استقبل قبلتنا و صلي صلاتنا و اکل ذبيحتنا فهو المسلم، له ما للمسلم و عليه ما علي المسلم : جو بھی یہ گواہی دے کہ خدائے وحدہ لا شریک کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کرے اور ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے ذبیحہ(ذبح کئے گئے جانور) کو کھائے، تو وہ مسلمان ہے،ایک مسلمان کے جملہ حقوق اس کے لئے ہیں اور مسلمان کے تمام فرائض اس پر واجب ہیں ۔

" اھل سنت و جماعت " کی اصطلاح عباسی حکمرانوں کے دور کی ابتدا سے رائج ہوئی ہے ۔ اسلام اس سے زیادہ سابق اور جامع ہے اور کسی خاص مذھب تک محدود نہیں ہوتا ۔ بلکہ تمام سنی، ظاھری، جعفری و زیدی مذاھب، اسلام کے پرچم کے نیچے اور اس کے احکام کے تابع ہیں اور سارے وہ بزرگ پیشوا کہ جن سے یہ مذاھب منسوب ہیں، اسلام کے آستانے پر سر جھکاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک، ایسے مجتھدین مطلق ہیں کہ جن کے علمی مراتب کو اھل سنت قبول کرتے ہیں۔ منجملہ ائمہ اھل بیت اطھار میں سے امام زید بن علی (رضی اللہ عنہ)، کہ جن کی طرف مذھب زیدیہ کی نسبت دی جاتی ہے اور ان کے بھائی امام ابو جعفر محمد بن علی الباقر (رضی اللہ عنہ) اور آپ(ع) کے فرزند امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہ) کہ جن سے امام مالک (رضی اللہ عنہ) نے درس حاصل کیا ھے اور امام ابو حنیفہ (رضی اللہ عنہ) نے آپ سے روایت نقل کی ہے اور مذھب جعفری آپ(ع) کی طرف منتسب ہے ۔ ان پیشواؤں میں سے ہر ایک اجتھاد میں ایک خاص طریقہ رکھتے تھے ۔

صحابہ اور تابعین کے بعد، زید بن علی، امام محمد باقر(ع)، امام جعفر صادق(ع) کا (اھل سنت کے) پیشوا ابو حنیفہ، اوزاعی اور لیث بن سعد کے ساتھ اختلاف ہو گیا، اور ان کے بعد بھی شافعی کا اصحاب مالک و ابو حفینہ کے ساتھ اختلاف ہو گیا؛ لیکن یہ نظریوں کا اختلاف، دین خدا میں خصومت اور یقینی مسائل میں اختلاف کی صورت میں نہیں تھا، بلکہ فکری نظریہ کا اختلاف، دینی متون کی تفسیر اور اسلام کے حقیقی معانی کے ادراک میں تھا ۔ اسی لئے عمر بن عبد العزیز کہتے ھیں: رسول اللہ(ص) کے اصحاب کا اختلاف، سرخ اونٹوں کی طرح مجھے خوش کرتا ہے اس لئے کہ اگر ان کی رائے ایک ہوتی تو لوگ مشکل میں پڑ جاتے ۔

ہر مجتھد کو اس کا اپنا نصیب ملے گا چاہے وہ غلطی پر ہو ۔ اس لئے کہ نبی اکرم (ص) نے فرمایا ھے : اذا اجتھد الحاکم فاخطأ فلہ اجرو ان اجتھد فاصاب فلہ اجران ؛ اگر حاکم اپنے اجتھاد میں خطا کرے تو اس کو ایک اجر ملے گا اور اگر اس کا اجتھاد حق سے جاکر ملے تو اس کا دو اجر ہوگا ۔

ابن عباس، عطا، مجاھد اور مالک بن انس (رضی اللہ عنہ) سے نقل ھوا ھے: کہ " رسول خدا(ص) کے علاوہ لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نھیں ھے مگر یہ کہ ان کی بعض باتوں کو قبول کیا جاتا ھے اور بعض کو رد کر دیا جاتا ھے " ۔

ابو حنیفہ (رضی اللہ عنہ) کا بھی اس طرح کا قول ھے: " یہ میری رائے ھے اور یہ سب سے بھترین رائے ہے جسے میں نے چنا ہے، جو بھی اس سے بھتر رائے دے گا، میں اسے قبول کرلوں گا " ۔

امام مالک (رضی اللہ عنہ) نے کہا ہے: " میں ایک انسان ہوں میں کبھی صحیح راستہ پر چلتا ہوں اور کبھی مجھ سے غلطی بھی ہو جاتی ہے۔ میری رائے کو کتاب اور سنت کی کسوٹی پرپرکھو "۔

شافعی (رضی اللہ عنہ) بھی کہتے ہیں: " اگر کوئی صحیح حدیث تم کو ملے جو میرے نظریہ کے خلاف ھو، تو میرے نظریہ کو دیوار پر ماردو اور اگر کوئی حجت(کتاب و سنت) چاہے راستہ میں ھی تم کو ملے، تو میری رائے وہی ہے۔ میرا نظریہ صحیح ہے لیکن اس کے غلط ہونے کا احتمال بھی ہے اور دوسروں کی رائے غلط ہے لیکن اس کے صحیح ہونے کا احتمال بھی پایا جاتا ہے "!

ائمہ اھل بیت(علیھم السلام ) اصول سے تمسک کیلئے بھت اھتمام کرتے تھے اور دوسرے پیشواؤں کے ساتھ " گفتگو " فرماتے تھے، جیسا کہ امام باقر (رضی اللہ عنہ) کی گفتگو ابو حنیفہ (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ ۔ زیدی مذھب پر عقیدہ رکھنے والے بھی اھل بیت کے گزرے ھوئے لوگوں کا احترام کرتے تھے اور مختلف شھروں کے مذاھب کو بھی نظراندازنہیں کرتے تھے، اپنے آپ کو مذاھب اربعہ سے علاحدہ نھیں کیا اور ان پر جفا نھیں کی، بلکہ صحاح ستہ کو معتبر سمجھا اور اپنی کتابوں میں بغیر کسی تعصب کے دوسرے مذاھب کے علماء و مجتھدین کے نظریوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔

مذھب جعفری کے پیروکار بھی ارکان ایمان پر عقیدہ رکھتے ہیں اور ارکان اسلام کیلئے حرمت کے قائل ہیں اور اکثر فروع میں دوسرے مذاھب کے ساتھ ھم عقیدہ ہیں۔ اھل سنت کے ائمہ نے علم، ائمۂ شیعہ سے حاصل کیا ھے جیسا کہ بعض شیعہ علماءنے بھی اھل سنت کے علماء سے درس حاصل کیا ہے ۔ (۳)

یہ ایک تاکید ہے اس بات پر کہ وہ لوگ، اسلامی امت واحدہ کا ایک جزو ہیں ۔

اگر کوئی اختلاف ہے بھی تو تاریخی امور سے متعلق ہے کہ بعض لوگ اسے گہرا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کتنا بھتر ھوگا کہ ھم اس زمانہ میں، ان اختلافات سے عبور کریں(گزر جائیں) تاکہ امت کی وحدت کو حقیقت میں تبدیل کر سکیں اور سامنے آنے والے امتحانوں کے مقابلہ میں اپنے اتحادو یکجہتی کو تقویت پہنچائیں ۔

ہم کیوں اپنی مصلحتوں کے بارے میں نہیں سوچتے اور ماضی کےراستوں پر رک گئے ہیں اورگڑے مردرےاکھاڑنے میں لگے ھیں تاکہ ایک دوسرے سے گستاخی اور اختلاف کرسکیں؟! کیوں اپنے سلف صالح کا احترام نہیں کرتے ھیں؟ خدائے متعال فرماتا ھے:

تلکَ اُمّۃٌ قَد خَلَت لَھا ما کَسَبَت و لکم ما کَسَبتُم ولا تُسئَلونَ عَمّا کانوا یَعمَلونَ۔

یہ وہ قوم تھی جو گزر گئی، انھیں وہ ملے گا جو انھوں نے کمایا اور تمھیں وہ ملے گا جو تم کماؤگےاور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نھیں ھوگا ۔ (۴)

اور یہ بھی فرماتا ھے:

رَبَّنا اغفِرلَنا وَلاِِخوانِنا الذینَ سَبَقونا بِالایمانِ وَلا تَجعَل فی قُلوبِنا غِلّاً لِلّذینَ آمَنوا رَبَّنا اِنَّکَ رَؤوفٌ رَحیمٌ۔

خدایا! ھمیں معاف کردے اور ھمارے ان بھائیوں کو بھی جنھوں نے ایمان میں ھم پر سبقت کی ہے اور ہمارے دلوں میں صاحبان ایمان کے لئے کسی طرح کا کینہ قرار نہ دینا کہ تو بڑا مھربان اور رحم کرنے والا ھے ۔ (۵)

اور اباضیہ، عبداللہ بن اباض کے پیروکار ہیں اور خوارج میں سے سب سے معتدل گروہ اور جماعت مسلمین سے سب سے نزدیک ترین ہیں۔ اپنے مخالفین کو نعمت کا کافر سمجھتے ھیں عقیدہ کا کافر نھیں۔ اس لئے کہ وہ خدا کا انکار نھیں کرتے بلکہ خدا کے حضور میں کوتاھی کرتے ھیں ۔

اباضیہ، اپنے مخالفین کا خون محترم سمجھتے ھیں، ان کی سرزمین کو بادشاھوں کی جنگی چھاؤنی کے علاوہ، توحید اور اسلام کی سرزمین (دار الاسلام) سمجھتے ھیں، ، لیکن اس بات کو علنی طور پر نھیں کہتے ۔

ان کی باطنی رائے یہ ھے کہ ان کے مخالفین کی سرزمین اور خون حرام ہے، اگر کچھ مسلمان ان سے جنگ کریں تو گھوڑا اور اسلحہ اور جنگی آلات کے علاوہ، ان کی غنیمتیں حلال نہیں ہیں، لیکن سونا اور چاندی کو لوٹا دیتے ھیں ۔ ان کا فقہ بھی اسلامی مذاھب کے فقہ سے نزدیک ھے اور ایسا ھے کہ کوئی بھی مسلمان، شھادتیں پڑھنے والوں کو تکفیر نھیں کر سکتا جو قبلہ کی طرف رخ کرتے ھیں اور اھل سنت کے چاروں مذاھب، مذھب ظاھری، جعفری، زیدی اور اباضی کے پیروکار ان میں سے ھر ایک مسلمان ھے اور سب ظاھری طور پر شریعت پاک محمدی(ص) کے تابع ھیں، ان کے باطن کا بھی اللہ تعالیٰ ذمہ دار ہے ۔

ابن عباس (رضی اللہ عنہ) نقل کرتے ھیں: نبی اکرم(ص) نے ایک گروہ کو ایک قوم کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے بھیجا کہ جس میں مقداد بھی تھے ۔ لشکر اس وقت پھنچا جب سارے دشمن بھاگ چکے تھے، صرف ایک مالدار آدمی ان میں سے بچا تھا جس نے اسلام کے لشکر کو دیکھ کر کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ مقداد نے اسے قتل کر دیا، نبی اکرم(ص) نے ان سے فرمایا: کل لا الہ الا اللہ کے ساتھ کیا کروگے؟ اس کے بعد یہ آیت شریفہ نازل ھوئی:

یا ایَّھا الذینَ آمَنوا اِذا ضَرَبتُم فی سَبیلِ اللہِ فَتَبَیَّنوا وَلا تَقولوا لِمَن اَلقیٰ اِلَیکُمُ السَّلامَ لَستَ مؤمِناً۔

اے ایمان لانے والو! جب تم راہ خدا میں جھاد کیلئے سفر کرو تو پہلے تحقیق کر لو اور خبردار جو اسلام کی پیش کش کرے اس سے یہ نہ کہنا کہ تم مؤمن نھیں ہو ۔

دوسرا سوال: ھمارے زمانہ میں تکفیر کی حدیں کیا ھیں؟ کیا ایک مسلمان ان لوگوں کی تکفیر کر سکتا ھے جوروایتی اسلامی مذاھب میں سے کسی ایک کے یا اشعری مذھب کے پابند ھیں؟ اس کے علاوہ کیا حقیقی طریقت صوفیہ کے پیروکاروں کی تکفیر کی جا سکتی ھے؟

جواب: الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسولہ الامین محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین و بعد؛ آج کل بعض افراد کے نزدیک، غرور، تکبر اور تنگ نظری کی وجہ سے تکفیر کی کوئی حدود نہیں رہ گئي ہیں ؟ جبکہ یہ حق کے خلاف ہے ۔ امام ابو حنیفہ (رضی اللہ عنہ) کہتے ھیں: لوگوں میں سب سے زیادہ عالم شخص وہ ہے جو لوگوں کے فکری اختلافات کے بارے میں سب سے زیادہ عالم ہو ۔ کبھی کبھی تکفیر ھوا پرستی، فکری ونظری تعصب یا رد عمل کی صورت میں ھوتی ہے اور باعث ھوتی اے کہ اختلاف جو کہ صحت اور خیر کی علامت ھے، ایسی مخالفتوں میں تبدیل ھو جائے جو کہ شر اور برائی کا بیج ڈالتی ھیں اور دشمنی، خصومت، گالی گلوچ اور تھمت لگانے کا باعث ھو جاتی ھیں، یھاں تک کہ تکفیر تک پہنچ جاتی ھے ۔ اللہ سبحانہ فرماتا ھے:

اِنَّ الذینَ فَرَّقوا دینَھُم وَ کانوا شِیَعاً لَستَ مِنھُم فی شَیءٍ اِنَّما اَمرُھُم اِلی اللہِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُم بِما کانوا یَفعَلونَ ۔

بیشک جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ھو گئے ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے ، ان کا معاملہ خدا کے حوالے ہے ، پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں با خبر کرے گا ۔ (۷)

ابو ھریرہ سے نقل ہوا ہے: کہ نبی اکرم(ص) نے اس آیت ان الذین فرقوا دینھم کے بارے میں فرمایا:

ھُم اَھلُ البِدَعِ و الشُّبَھاتِ وَ اَھلُ الضَّلالَۃِ مِن ھٰذِہِ الاُمَّۃِ ۔

وہ لوگ جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا، اھل بدعت اور شبھات اور اس امت کے راستے سے گمراہ ہوگئے ۔

اور عمر بن خطاب سے نقل ھوا ہے کہ پیغمبر اعظم (ص) نے عائشہ سے فرمایا:

(ان الذین فرقوا دینھم و کانوا شیعاً)، اِنَّما ھُم اصحابُ البِدَعِ و اصحابُ الاھواءِ و اصحابُ الضلالَۃِ من ھٰذہِ الاُمَّۃِ یا عائشہ! اِنَّ لِکُلِ صاحِبِ ذَنبٍ بَراءٌ غَیرَ اَصحابِ البِدَعِ وَ اصحابُ الاھواءِ لَیسَ لَھم توبۃٌ و اَنا بَریءٌ منھم وھُم مِنّی بَراء ۔

جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ھو گئے، بیشک وہ اس امت کے اھل بدعت اور ھوس پرست اور گمراہ لوگ ھیں اے عائشہ! بیشک ھر گنھگار کیلئے [دوزخ کی آگ سے] برائت [نجات] ھے، اصحاب بدعت اور ھوس پرستوں کے علاوہ کہ جن کیلئے توبہ نھیں ھے اور میں ان سے بری [دور] ھوں اور وہ مجھ سے بری [دور] ھیں ۔

یہ آیت شریفہ نبی اکرم(ص)کی طرف اشارہ کرتی ھے کہ ان کا عذاب کرنا آپ (ص) کے ذمہ پر نھیں ھے آپ (ص) صرف انذار کرنے والے اور ڈرانے والے ھیں ۔

حضرت علی (رضی اللہ عنہ) فرماتے تھے: و اللہ ما فرقوہ و لکنھم فارقوہ: خدا کی قسم انھوں نے دین میں تفرقہ پیدا نھیں کیا بلکہ وہ دین سے جدا ھو گئے ۔

ابو ھریرہ، عائشہ اور ابو امامہ نے اس آیت کی تاویل میں کھا ھے: " یہ لوگ اس امت کے بدعت گزار اور منحرف لوگ ھیں " ۔

تکفیر ایک نہایت خطرناک امر ھے، اس لئے کہ اس کا نتیجہ مسلمانوں کے خون اور مال کو حلال سمجھنا اور اس کی کرامت کو پامال کرنا ھے اور اس کے عواقب قیامت کے دن تک باقی رھنے والے ھیں ۔ اس لئے کہ جھنم کی آگ میں ھمیشہ ھمیشہ رھنے کا سبب ھے ۔ تو تکفیر سے دوری کرنا جھاں تک ممکن ھو واجب ھے اور ان لوگوں کے خون اور مال کو مباح سمجھنا ایک بھت بڑی خطا ھے جو لوگ قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ھیں اور لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کھتے ھیں اور ھزار کافر کو زندہ رکھنے میں غلطی کرنا کسی مسلمان کے خون کا ایک قطرہ گرانے سے زیادہ آسان[اس سے کم اھمیت رکھنے والا] ھے ۔ پیغمبر اعظم(ص) نے فرمایا ھے:

اُمِرتُ اَن اُقاتِلَ الناسَ حَتّیٰ یَقولوا لا اِلہ اِلا اللہُ مُحَمَّدٌ رَسولُ اللہ فَاِذا قالوھا فَقَد عَصَموا مِنّی دِمائَھُم وَ اَموالَھُم اِلّا بِحَقِّھا۔

مجھے حکم ملا ھے کہ لوگوں کے ساتھ جنگ کروں یھاں تک کہ وہ کھیں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، جب ایسا کھہ لیں تو انھوں نے اپنے خون اور اموال کو میرے تعرض سے محفوظ کر لیا ھے،اس کے علاوہ کہ اس کاحق ھو ۔

یہ سب شرعی اور فقھی احکام کے مطابق ھے نہ کہ عقلی قواعد کے ۔

امام طحاوی(رحمۃ اللہ) نے کھا ھے: " ھم اھل قبلہ میں سے کسی ایک کو بھی گناہ کرنے کی وجہ سے تکفیر نھیں کرتے، الا یہ کہ گناہ کے حلال ھونے پر اعتقاد رکھتا ھو، ھم نھیں کھتے: گناہ، گنھگار کے ایمان کو نقصان نھیں پھنچاتا ھے" ۔

یہ اھل سنت کے عقیدہ کی توضیح اور خوارج کے عقائد کی تردید ھے جو کہ ھر گناہ کو کفر کا باعث سمجھتے تھے اور طحاوی نے " مالم یستحلہ " کی عبارت کے ذریعہ اسے مقید کردیا ھے ۔ یعنی گناہ اس وقت کفر کا باعث ھوگا کہ اس کے حلال ھونے کے عقیدہ کے ساتھ ھو ۔

اور(ھم نھیں کہتے کہ گناہ، گنھگار شخص کے ایمان کو نقصان نھیں پھنچاتا) کی عبارت مرجئہ کے عقائد کا رد ھے جو کھتے ھیں: " گناہ، ایمان کو نقصان پھنچاتا ھے جیسا کہ کافر کی اطاعت اسے کوئی فائدہ نھیں پھنچاتی ھے " ۔

علامہ صدر الدین علی بن علی بن محمد بن ابی العز حنفی، " شرح طحاویہ " میں مرجئہ کے شبھہ کے بارے میں کھتے ھیں: صحابہ کے زمانے میں ایک ماجرا واقع ھوا کہ جس کے عاملین کے قتل پر، توبہ نہ کرنے کی صورت میں، اصحاب نے اجماع [ایک ھونا] کیا اور وہ ماجرا یہ تھا: قدامہ بن مطعون اور ایک دوسرے گروہ نے شراب کے حرام ھونے پر علم حاصل کرنے کے بعد، شراب پی لی اور آس آیت شریفہ کو تأویل کیا:

لَیسَ عَلی الذینَ آمَنوا وَ عَمِلوا الصالِحاتِ جُناحٌ فیما طَعِموا اِذا ما اتَُقَوا و آمَنوا و عَمِلو الصّالِحاتِ ۔

ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیا کوئی حرج نھیں ھے ان چیزوں میں جسے [پھلے] کھا چکے ھیں اگر تقوا اختیار کریں اور ایمان لے آئیں اور عمل صالح انجام دیں ۔ (۸)

جب یہ خبر عمر بن خطاب تک پھنچی، تو وہ اور علی بن ابی طالب اور دوسرے اصحاب (رضی اللہ عنھم) نے ارادہ کیا کہ اگر وہ لوگ شراب کے حلال ھونے پر اصرار کریں، تو انھیں قتل کر دینا چاھئے عمر بن خطاب نے قدامہ سے کھا: تم نے غلطی کی ھے اور اپنے ھاتھوں اپنی قبر کھودلی ھے تم اگر پرھیزگار اور با ایمان ھوتے اور عمل صالح انجام دیتے تو شراب نھیں پیتے اس لئے کہ اس آیت کا نزول اس لئے تھا کہ جس وقت جنگ احد کے بعد خدا نے شراب کو حرام قرار دیا تو اس وقت بعض صحابہ (رضی اللہ عنھم) نے کھا: پھر ھمارے دوستوں کا کیا ھوگا؟ وہ تو شراب پیتے تھے اور مرچکے ھیں؟ خدا نے اس آیت کو نازل کیا تا کہ بتائے کہ تحریم شراب سے پھلے جن لوگوں نے شراب پی تھی، اگر وہ صالح اور پرھیزگار مؤمنین میں سے تھے تو ان پر کوئی گناہ نھیں ھے بالکل اس طرح کہ اس سے پھلے مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔

اس کے بعد یہ گروہ[قدامہ اور اس کے دوست] پشیمان ھوئے لیکن توبہ سے نا امید اور مایوس تھے ۔عمر نے قدامہ کو لکھا:

حٰم، تَنزیلُ الکِتابِ مِنَ اللہِ العَزیزِ العَلیم، غافِرِ الذَّنبِ وَ قابِلِ التَّوبِ شَدیدِ العِقابِ ۔

حم، اس کتاب کا نازل کرنا عزیز و علیم خدا کی طرف سے ھے،[جو کہ] گناہ بخشنے والا، توبہ قبول کرنے والا اور سخت سزا دینے والا ھے ۔ ھم نھیں جانتے کہ تمھاری کون سی گناہ زیادہ بڑی ھے؟ حرام الٰھی کا حلال سمجھنا یا پروردگار کی رحمت سے نا امید اور مأیوس ھونا؟

وہ چیز جس پر اصحاب اتفاق رکھتے ھیں، اس پر سارے مسلمان اتفاق رکھتے ھیں ۔

امام طحاوی (رح) کھتے ھیں: " کوئی بھی بندہ اھل ایمان کے دائرے سے خارج نھیں ھوتا، مگر اس چیز کے انکار سے جس نے اسے مسلمانوں کے گروہ میں شامل کیا ھے " اور یہ انھیں کے جملہ کی ایک دوسری تعبیر ھے کہ " ھم اھل قبلہ میں سے کسی کو بھی گناہ کی خاطر تکفیر نھیں کرتے مگر یہ کہ اس گناہ کو حلال سمجھے " ۔

امام علی (رضی اللہ عنہ) نے خوارج کی بیعت توڑنے کو ان کی بے ایمانی کا باعث نھیں سمجھا اور ان کی تکفیر نھیں کیا فرمایا: "کلمۃ حق یراد بھا الباطل" اور ان سے خطاب فرمایا:

لَکُم عَلَینا ثَلاثٌ، لا نَمنَعکُم مَساجِدَ اللہِ اَن تَذکُروا فیھا اسمَ اللہِ وَ لا نَبدَؤُکُم بِقِتالٍ و لا نَمنَعکُم الفَیء ما دامَت اَیدیکُم مَعَنا ۔

تم لوگوں کے ھم پر تین حق ھیں: ھم تمھیں خدا کی مساجد میں خدا کے نام کو یاد کرنے کیلئے حاضر ھونے سے منع نہ کریں اور تمھارے ساتھ جنگ شروع نہ کریں اور جب تک تمھارا ھاتھ ھمارے ساتھ ھے، ھم بیت المال کو تم سے نہ روکیں ۔

خوارج کے ساتھ آپ(ع) کا سلوک، آپ کا اھل اسلام جیسا سلوک تھا ۔

امام ابو الحسن اشعری (رح) کھتے ھیں: پیغمبر اکرم(ص) کے بعد مسلمانوں نے کچھ امور میں اختلاف کیا، ایک دوسرے کو گمراہ کیا، ایک دوسرے سے بیزاری کا اعلان کیا اور فرقوں میں تبدیل ھو گئے، لیکن اس سب کے باوجود اسلام ان کے بیچ جمع کرتا ھے(یعنی سب کے سب مسلمان ھیں)۔

بھت سے بزرگ علماء جھاں تک ھو سکتا ھے مسلمانوں کی تکفیر سے بچتے ھیں ۔

ابن نجیم نے، جو کہ حنفی مذھب کے بزرگ فقھاء میں سے ھیں، اپنے بھت سے تکفیری فتوؤں کو واپس لے لیا اور کھا: اگر کسی مسئلہ میں ننانوے وجھیں ھوں کہ جن کی وجہ سے تکفیر لازم ھو اور ایک وجہ ایسی ھو جس میں تکفیر لازم نہ ھو تو یہ ایک وجہ وہ ساری ننانوے وجھوں پر بھاری ھے اور رجحان رکھتی ھے اس کے بعد کس کی جرأت ھو سکتی ھے کہ بغیر شرعی حجت و دلیل کے کسی مسلمان کی تکفیر کرے؟ ۔

لیکن اشعری عقیدہ کے پیروکار اور حقیقی تصوف کی طریقت پر چلنے والے: امام محمد عبدہ رحمہ اللہ تعالی علیہ ان کے بارے میں لکھتے ھیں: وہ لوگ نبی اکرم(ص) اور ان کے اصحاب (رضی اللہ عنھم) کے احکام پر نھایت سختی سے عمل کرتے ھیں ۔

مذھب اشاعرہ، اھل سنت و جماعت کے مذاھب میں سے ایک ھے اور امام سفارینی حنبلی، کتاب لوامع الانوار میں کھتے ھیں: اھل سنت و جماعت تین فرقہ ھیں : اثریہ ، کہ جن کے امام احمد بن حنبل (رضی اللہ عنہ) ھیں، اشعریہ، کہ جن کے امام ابو الحسن اشعری (رحمہ اللہ) اور ما تردیدیہ، کہ جن کے امام ابو منصور ماتریدی (رح) ھیں ۔

اس بنا پر، مذاھب اھل سنت و جماعت، نقلی رجحان کے علاوہ عقلی رجحان کو بھی اپنے اندر شامل کرتے ھیں ۔ نقلی رجحان، " اثریہ " ،احمد بن حنبل کے پیروکاروں میں دیکھی جاتی ھے اور عقلی رجحان کی نمائندگی، متکلمین، اشعری مذھب کے علماء اور ما تریدیہ کرتے ھیں ۔ وھی لوگ جنھوں نے عقلی ادلہ کو وضع کرنے کیلئے اور اعتقادی شبھات کے مقابلے میں دفاع کرنے کیلئے قیام کیا اور ایسے گمراہ فرقوں کے ساتھ بحث اور مناقشہ کر کے ان کی مکرو فریب کو انھیں کو واپس لوٹا دیا جو کہ چاھتے تھے کہ مسلمانوں کی زندگی میں زھر گھول کر اپنے باطل عقائد کو منتشر کریں ۔

اس بناپر اھل سنت و جماعت، تین شاخوں کے ساتھ ایک متکامل مذھب ھے کہ جس نے عقلی و نقلی ادلہ کو ایک ساتھ اکٹھا کیا اور دینی عقائد پر یقین کو مسلمانوں کیلئے تحفہ کے طور پر لائے ۔ یہ سب کلیات میں، متفق القول ھیں اور بعض جزئیات میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ھیں ان فرقوں میں کوئی بھی صرف اپنے لئے صواب کا مدعی ھوکر دوسروں کی تکفیر نھیں کر سکتا اس لئے کہ اس اعتقاد پر مسلمانوں کے دل ایک دوسرے سے جڑے ھیں، بھت سی کتابیں قرآن کی تفسیر، سنت کی شرح، لغت اور ادب کے موضوعات میں لکھی گئی ھیں اور کروڑوں مسلمان، دنیا کے مشرق و مغرب میں اس پر عقیدہ رکھتے ھیں اور ھزاروں علماء نے، مختلف مکاتب و مذاھب اور مختلف شھروں میں سے، ان عقائد کی خدمت کیلئے کمر باندھ لی ھے ۔

اور صوفیہ: امام عبدالحلیم محمود رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے فتاوا میں ان کے بارے میں فرماتے ھیں: صافی صوفی جو کہ گفتار اور کردار میں، اخلاص کے ساتھ خدا کی کتاب اور رسول(ص) کی سنت پر پابند ھوں، اس اسلام کے سائے میں ھیں کہ جسے خدا نے اپنے بندوں کیلئے پسند کیا ھے اور اس کی بنیاد، خالص توحید اور ظاھر و باطن میں الٰھی مراقبت، خدا ترسی پر مبنی خود سازی، اور لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک اور حسن خلق پر ھے ۔ خدا نے ان کا قبلہ سب چیز میں قرار دیا ھے، دنیا ان کے لئے آخرت کی کھیتی ھے اور ان کے ھاتھ میں مال، لوگوں کو فائدہ پھنچانے کیلئے ھے اور ھرگز اس کی طرف دل نھیں لگایا ھے ۔

ظاھر سے پھلے صوفی لوگ، باطن کو پاک کرتے ھیں اور ان کاموں کو اولیت دیتے ھیں جن کا ربط دل سے ھے ۔ روحی اور اخلاقی تربیت کا اھتمام کرتے ھیں اور حقیقی و صافی صوفی، احکام شرع حنیف پر پابند اور رفتار و کردار میں بدعتوں اور انحرافات سے دور ھیں ۔

تیسرا سوال: اسلامی شریعت میں کس شخص کو حقیقی مفتی سمجھا جا سکتا ھے؟ امر افتاء کو اپنے ذمہ لینے کیلئے اور دین کو سمجھنے کیلئے اور شریعت اسلامی کی پیروی میں لوگوں کی ھدایت کیلئے اسلامی صلاحیتیں کیا ھیں؟

جواب: الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسولہ الامین محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین و بعد؛ مفتی کےلئے شرط ھے کہ:

۱۔ منابع و مصادر شرع پر احاطہ رکھتا ھو تاکہ اس کی صحیح تقدیم و تاخیر کوسمجھ کراسکی تحقیق کر کے اس حکم کا انتخاب کر سکے کہ جس کی صحت پر ظن قوی موجود ھے۔

۲۔ عادل ھو اور ان گناھوں سے اجتناب کرے جو کہ عدالت میں مانع ھیں۔ یہ شرط اس لئے ھے کہ اس کے فتوا پر اعتبار کیا جا سکے ۔ جو شخص عادل نہ ھو، اس کا فتوا قبول نھیں ھے، ھر چند کہ عدالت، فتوا دینے کی شرط نھیں ھے ۔ دوسرے لفظوں میں، عدالت فتوا کے قبول ھونے کی شرط ھے، صحت اجتھاد کی شرط نھیں ھے ۔ ابن قیم رحمہ اللہ کھتے ھیں: چونکہ الٰھی احکام کو پھنچانا، احکام پر علم اور کلام میں سچائی پر مبنی ھے، اس لئے روایت و فتوا کے مرتبۂ ابلاغ کو حاصل کرنا، علم اور سچائی رکھنے والے لوگوں کے علاوہ کسی اور کے لئے موزوں نھیں ھے ۔ مفتی جس چیز کی تبلیغ کرتا ھے اسے اس کا علم ھونا چاھئے اور اسے چاھئے کہ اپنے کلام میں سچا ھو اور نیک طریقہ اور پسندیدہ سیرت پر پرقائم رہے ؛ اپنے گفتار و کردار میں عادل اور اس کا ظاھر و باطن اور مدخل و مخرج یکساں ھو ۔

نووی (رح) کھتے ھیں: مفتی کی شرط یہ ھے: کہ بالغ، مسلمان، قابل اعتبار، امین اور اسباب گناہ اور خلف مروت سے پاک ھو، اور آگاہ دل، سالم ذھن، محکم فکر اور صحیح کردار بھی رکھتا ھو ۔ اسے چالاک ھونا چاھئے ۔ غلام اور آزاد، مرد اور عورت، اندھا اور بہرا اس کے نزدیک ایک جیسے ھوں ۔

شیخ ابو عمرو ابن صلاح (رح) کھتے ھیں: اسے چاھئے کہ ایک راوی کی طرح، رشتہ داری، دشمنی، منفعت طلبی اور دفع ضرر کے اثر کے تحت واقع نہ ھو، اس لئے کہ مفتی اپنے کام میں، حکم شرع کی خبر دیتا ھے، ایک ایسا حکم جو کسی خاص شخص سے مخصوص نھیں ھے ۔ اس کی مثال راوی کی طرح ھے نہ شاھد، اس کا فتواء حکم قاضی کے برخلاف الزام نھیں لاتا ۔ افتاء، اجتھاد سے اخص ھے ۔ اجتھاد، احکام کا استنباط ھے، چاھے کسی موضوع میں سوال کیا گیا ھو یا نھیں، بالکل اسی طرح کہ ابو حنیفہ اپنے درس میں عمل کرتے تھے اور مختلف فروع اور متنوع فروض کو ابھارتے تھے یا پھر مناسب قیاس کا انتخاب کرتے تھے تا کہ اس استنباط کی بنیاد پر، حکم دیں اور ان قیاسوں کی موزونیت اور اس کے اسباب کو پھچان لیں ۔

لیکن افتاء اس جگہ پر ھے کہ جھاں ایک ایسا امر واقع ھوا ھو کہ جس کا حکم فقیہ جانتا ھے ۔ سابق الذکر شرائط کے علاوہ مجتھد کے صحیح فتوا کے اور بھی شرائط ھیں اور وہ یہ ھیں: جس امر کے بارے میں پوچھا گیا ھے اس کی شناخت، سوال کرنے والے کی ذھنیات کی تحقیق اور اس معاشرہ کی شناخت کہ جس میں وہ رہ رھا ھے تاکہ اپنے فتوے کے منفی اور مثبت آثار کو جان لے اور اس کے فتوے کی وجہ سے، لوگ خدا کے دین کو کھیل تماشہ نہ بنالیں ۔

ابن قیم (رح) نے ابن عبداللہ بن بطہ (رح) سے اپنی کتاب میں خلع کے بارے میں امام احمد بن حنبل (رح) سے نقل کیا ھے کہ منصب افتاء کو سنبھالنا کسی کے لئے مناسب نھیں ھے، مگر یہ کہ اس کے اندر یہ پانچ صفات موجود ھوں:

۱۔ پاک نیت، جو کہ اگر اس میں نہ ھو، تو وہ خود اور اس کا کلام نورانیت سے خالی ھے ۔

۲۔ علم، حلم، وقار اور سکون ۔

۳۔ علمی طاقت اور کافی شناخت ۔

۴۔ زندگی میں کفایت شعاری، ورنہ لوگ اسے چبا جائیں گے ۔

۵۔ لوگوں کی شناخت ۔

توضیح: نیت، کام کی بنیاد اور اس کا ستون ھے ۔ ایک ایسی بنیاد اور جڑ ھے کہ جس پر کام مستحکم اور مضبوط ھوتا ھے ۔ نیت، عمل کی روح اور اس کا رھبر ھے، عمل، نیت کا تابع ھے ۔ اگر نیت صحیح ھو، تو عمل بھی صحیح ھے اور اگر فاسد ھو، تو عمل بھی فاسد ھے ۔ الٰھی توفیق، پاک نیت کا نتیجہ ھے ۔ حلم، وقار اور سکون، مفتی کے علم کا لباس اور اس کی خوبصورتی ھے ۔ اگر مفتی میں حلم اور وقار نہ ھو تو اس کی مثال اس بدن کی طرح ھے جو لباس نہ رکھتا ھو بعض گذشتہ لوگوں نے کھا ھے: کوئی چیز کسی دوسری چیز کے ھمراہ نھیں ھوئی ھے جو کہ بھتر ھو اس علم سے جو حلم کے ساتھ ھو اور لوگ اس اعتبار سے چار گروہ میں تقسیم ھوتے ھیں، ان میں سے بھترین وہ شخص ھے جو کہ علم کو حلم کے ساتھ رکھتا ھو اور بد ترین وہ شخص ھے جو کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی اس کے پاس نہ ھو ۔ تیسرا گروہ، وہ لوگ ھیں جو علم کے زیور سے آراستہ ھیں، لیکن بردباری کی صفت سے بے بھرہ ھیں اور چوتھا گروہ، تیسرے گروہ کے بر عکس ھے ۔

تو بردباری، علم کا زیور اور اس کی نورانیت اور جمال ھے اور اس کے مقابلے میں بیوقوفی، جلد بازی، غصہ اور ناپائیداری ھے ۔

وقار اور سکون، علم کا پھل اور اس کا نتیجہ ھے اور مفتی اس کا بھت محتاج ھے، اس لئے کہ اس کے قلب کے اطمینان اور اس کے سکون کا باعث ھے ۔ وقار کی جڑ دل میں اور اس کے آثار اعضاء و جوارح میں ھے ۔ وقار اور سکون دو قسم کا ھے: عام اور خاص، جیسے انبیاء کا سکون اور مومنین کا جو کہ انبیاء کے پیروکار ھیں ۔ اس فضیلت تک پھنچنے کیلئے، بندے کو چاھئے کہ ھمیشہ پروردگار کے حضور کو مد نظر رکھے، اس طرح سے کہ گویا اسے دیکھ رھا ھے، جتنا یہ خیال زیادہ ھوگا حیاء، سکون، محبت، خضوع، اور اس کی خوف رجاء زیادہ ھو جائے گی اور ھوشیاری کے بغیر ان میں سے کوئی ایک بھی حاصل نھیں ھوگا ۔

لیکن علمی توانائی؛ مفتی، علمی و عملی توانائی کا محتاج ھے ۔ حق کے کلام میں جب تک کلام کا نفوذ نہ ھو، تو وہ فائدہ مند نھیں ھو سکتا ۔

مادی بے نیازی اس لئے شرط ھے کہ مفتی، لوگوں کا محتاج نہ ھو اور ان کادست نگرنہ ھو ۔ بے نیاز عالم دین، اپنے عمل کو انجام دینے میں زیادہ طاقت رکھتا ھے اور جب لوگوں کا محتاج ھو جائے، تو اس کا عمل مرجاتا ھے اور وہ صرف نظارہ کرنے والا ھے ۔

لوگوں کی شناخت، ایک اھم اصل ھے کہ جس کا مفتی اور حاکم محتاج ھے ۔ اگر فقیہ، مردم شناس نہ ھو، تو ظالم اس کے نزدیک مظلوم اور مظلوم اس کی نظر میں ظالم کی طرح جلوہ کرے گا اور لوگوں کے مکرو فریب اس میں اثر کر جائیں گے ۔ وہ زندیق کو صدیق اور کاذب کو صادق دیکھے گا ۔ اسے چاھیئے کہ وہ لوگوں کی چال بازی کو سمجھنے میں بھی فقیہ ھو تاکہ ان کے مکر و فریب اور نیرنگ و سازش کو پھچان سکے ۔ اس لئے کہ فتوا، زمان و مکان اور مفادات و حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ بدلتا ھے اور یہ سب دین خدا کی تعالیم میں سے ھے ۔

وہ چیز جو فتوے میں مطلوب ھے، حق، اعتدال اور میانہ روی ھے ۔ حدیث میں آیا ھے:

سددوا و قاربوا و اغدوا و روحوا، شیء من الدلجۃ، القصد، القصد تبلغوا ۔

مستحکم اور مضبوط رھو اور ایک دوسرے سے نزدیک ھو جاؤ اور میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو تاکہ اپنے مقصد تک پھنچ جاؤ ۔

شاطبی (رح) کھتے ھیں: وہ مفتی جو کہ کمال کے سب سے اونچے درجے پر پھنچ چکا ھے، لوگوں کو بیچ کے راستے کی طرف لے جائے گا جو کہ لوگوں کےلئے موزوں ھے، نہ انھیں انتھاپسندی اور افراط کی طرف لے جائے گا اورنہ ھی لا ابالی پن اور لا پرواھی کی طرف ۔

اس طریقہ کے صحیح ھونے کی دلیل یہ ھے کہ شریعت نے اس کا حکم دیا ھے جیسا کہ پھلے بیان ھو چکا، مقدس شارع نے مکلفین سے، میانہ روی اور افراط و تفریط سے پرھیزکرنے کاحکم دیا ھے ۔ اگر مفتی اس طریقہ سے خارج ھو جائیں، تو وہ شارع کے مقصد سے باھر ھو گئے ھیں ۔ اسی لئے بیچ کے راستے سے نکل جانے والے، علم میں راسخین کے نزدیک مذموم ھیں ۔ اور یہ شیوہ بھی وھی ھے جو کہ رسول اللہ(ص) اور ان کے اصحاب کی سیرت سے استنباط کیا جاتا ھے، وھی کہ جس میں شرط ھے کہ تمام نیک صفات کو اپنے اندر رکھتا ھو، استاد نے، اس جگہ پر چالیس خصلت کو بیان کیا ھے منجملہ:

شرط ھے کہ مفتی بالغ ھو، اس لئے کہ بچہ اگر اجتھاد کے درجہ پر پھنچ بھی جائے اور احکام کو درک کر لیا ھو، اس کے رائے پر اعتماد نھیں کیا جاسکتا، لیکن بالغ کی رائے پر اعتماد ھے اور مناسب ھے کہ مفتی عربی زبان، قرآن، علم اصول، تاریخ(ناسخ و منسوخ)، علم حدیث، علم فقہ اور نفسیات کے علم کو جانتا ھے اور عدالت کی فضیلت بھی رکھتا ھو ۔ بعض علماء نے دوسری شخصی صفات کی طرف بھی اشارہ کیا ھے جو کہ اسلام، عقل، ذکاوت اور ذھانت ھے ۔

مفتی کل
سعید عبد الحفیظ حجاوی

۱۔آل عمران/۸۵

۲۔آل عمران/۱۹

۴۔ بقرہ/۱۳۴۔

۵۔ حشر/۱۰ ۔

۶۔ نساء/۹۴ ۔

۷۔ انعام/۱۵۹ ۔

۸۔ مائدہ/۹۳ ۔

۹۔ غافر/۱و ۲و ۳ ۔sal

http://taghribnews.com/vdcdfs09.yt0ff6342y.html



~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:

Also Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Religion, Culture, Science, Peace
A Project of Peace Forum Network: Overall 3 Million visits/hits