Featured post

فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم

آج کے دور میں مسلمان کئی فرقوں میں بٹ چکے ہیں اگرچہ ان کی اکثریت اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات پر متفق ہے مگر فروعی اختلافا...

کیا تاریخی واقعات دین اسلام کی بنیاد ہو سکتے ہیں؟


قرآن کے تین بڑے دعوے دنیا میں کوئی کتاب نہیں کرسکتی: (١)قرآن اللہ کا کلام ہے جس میں کوئی شک نہیں اور(٢) ہدایت کی کتاب ہے (٣)اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ نے لیا ہے-
الله کا فرمان ہے: ذلِکَ الکِتبُ لَا رَیبَ فِیہِ ھُدَی للمُتَّقِینَ۔ (سورۃبقرہ 2:2)
" یہ وہ کتاب ہے جس میں کو شک کی گنجائش نہیں(الله سے) ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (سورۃاالبقرہ 2:2)
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ﴿٩﴾
"ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں (21:9 الحجر) 
قرآن کو رسول اللہﷺ پر نازل فرمایا جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، اس لیے رسول الله کی سنت دین اسلام کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے-
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا (٣٣:٢١ الاحزاب )
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے (٣٣:٢١ الاحزاب )
مسلمان قرآن و سنت کی اہمیت سے اچھی طرح سے اگاہ ہیں، قرآن تاریخ کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے تاکہ پرانے لوگوں اور انبیا کی امتوں کے واقعات سے سبق حاصل کریں-

قرآن اور تاریخ :
قرآن کی نظر میں تاریخ حصول علم و دانش اور انسانوں کے لیے غور و فکر کے دیگر ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ قرآن نے انسانوں کو غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے غور و فکر کے منابع بھی ان کے سامنے پیش کیے ہیں۔ قرآن نے مختلف آیات میں انسانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ گزشتہ اقوام کی زندگی کا مطالعہ کریں۔ ان کی زندگی کے مفید نکات پیش کرنے کے بعد انہیں یہ دعوت دی کہ وہ باصلاحیت افراد کو اپنا ہادی و رہنما بنائیں اور ان کی زندگی کو اپنے لیے نمونہ سمجھیں۔ قرآن مجید میں کچھ پیغمبروں کی زندگی کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ ہم ہدایت اور نصحت پکڑیں ( هود، 120، 87 غافر، نساء، 164)
لَقَدْ كانَ في‏ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبابِ ما كانَ حَديثاً يُفْتَرى‏ وَ لكِنْ تَصْديقَ الَّذي بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصيلَ كُلِّ شَيْ‏ءٍ وَ هُدىً وَ رَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ. (یوسف، 111)
" یقینا ان کے واقعات میں صاحبان عقل کے لئے سامان عبرت ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے گڑھ لیا جائے یہ قرآن پہلے کی تمام کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں ہر شے کی تفصیل ہے اور یہ صاحبان ایمان قوم کے لئےھدایت اور رحمت بھی ہے۔" (یوسف، 111)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ فرماتا ہے:
قد کان لکم اسوة حسنة فی ابراھیم والذین معہ (سورة الممتحنة 60:4)
”تم لوگوں کے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔“
اسی طرح رسول اکرم کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:
لقد کان لکم (رضی اللہ ) رسول اللہ اسوة حسنة (٣٣:٢١ الاحزاب )
”درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے۔“
حدیث و سنت نبوی کی رفتار و گفتار امت مسلمہ کے لیے حجت قاطع اور سند محکم ہیں۔ سیرت نبوی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہمارا اخلاق و کردار نبی کی سیرت کے مطابق ہونا چاہیے جس کی تفصیلات حدیث کی کتب میں موجود ہے-
علم 'تاریخ' :
قرآن میں تاریخ کی حیثیت اور اہمیت واضح ہے- "تاریخ" جدید علوم کا اہم حصہ ہے- تاریخ کے اصطلاحی معانی بیان کرتے ہوئےسکالرز نے اس کی مختلف تعریفیں کی ہیں:
١. تاریخ وہ علم ہے کہ جس کے ذریعے انسانی معاشروں میں ارتقاء کے ذریعہ تبدیلی واقع ہوئی اور وہ کس طرح ایک مرحلے سے گزر کر دوسرے مرحلے تک پہنچے اور اس ارتقاء پذیر حالت کے وقت ان میں کون سے قوانین کارفرما ہیں۔
٢.کسی ایسے قدیم اور مشہور واقعہ کی مدت ابتداء معین کرنا، جو عہد گذشتہ میں رونما ہوا ہو اور دوسرا واقعہ اس کے بعد ظہور پذیر ہو۔
٣. سرنوشت یا قابل ذکر ایسے اعمال و افعال نیز حادثات اور واقعات کا ذکر جنہیں زمانے کی ترتیب کے لحاظ سے منظم و مرتب کیا گیا ہو۔
٤.عہد حاضر کی وضع و کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ واقعات و حادثات اور عہد ماضی کے انسانوں کی حالت اور کیفیت بیان کرنا۔
اس میں سوانح عمری، فتح نامے اور سیرت کی وہ کتابیں شامل ہیں جو تمام اقوام میں لکھی گئی ہیں اور اب بھی لکھی جا رہی ہیں۔
تاریخ کی خصوصیات:
(١) تاریخ جزئی ہوئی ہے، مجموعی اور کلی نہیں۔
(٢)تاریخ محض منقول ہے اور اس میں عقل و منطق کا داخل نہیں ہوتا۔
(٣)ان واقعات کا تعلق ماضی سے ہوتا ہے حال ، مستقبل سے نہیں۔
علمی اور بیانیہ تاریخ کی تشکیل چونکہ ان واقعات کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے جو عہد ماضی میں گزر چکے ہیں اس لیے محققین یہ طے نہ کرسکے کہ یہ واقعات کس حد تک معتبر یا غیر معتبر ہوسکتے ہیں۔ 
بعض محققین کی رائے یہ ہے کہ قدماء کی کتابوں میں بیانیہ تاریخ سے متعلق جو کچھ درج کیا گیا ہے اسے بیان اور قلمبند کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے واقعات کو اغراض کی بنیاد، شخصی محرکات، قوت تعصبات یا اجتماعی و عقیدتی وابستگی کی بنیاد پر نقل کیا ہے اور اس میں تصرف و تحریف کرکے واقعات کو اپنی منشاء کے مطابق پیش کیا ہے یا انہوں نے واقعات کو اس طرح لکھا ہے جس سے ان کے اغراض و مقاصد پورے ہوتے تھے اور ان کے عقائد کے منافی بھی نہیں تھے۔
بیانیہ تاریخ کے بارے میں یہ بدبینی بے سبب نہیں ہے، بلکہ اس کا سرچشمہ تاریخ کی کتابوں کی کیفیت اور مورخین کے مزاج کو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود تاریخ بھی دیگر علوم کی طرح مسلمہ حقائق و واقعات پر مبنی ایک سلسلہ ہے جو کہ حتمی نہیں مگراس کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک محقق شواہد و قرائن کی بنیاد اور اپنی اجتہادی قوت کے ذریعہ سراغ لگا سکتا ہے کہ حوادث و واقعات میں کس حد تک صحت و سقم ہے اور انہی کی اساس پر وہ بعض نتائج اخذ کرسکتا ہے۔مگر یہ شریعت کی بنیاد نہیں بن سکتے جب تک قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو-
تاریخ اسلام کی اہمیت اور قدر و قیمت
جن مسلم اور غیر مسلم محققین اور دانشوروں نے تاریخ خصوصاً تاریخ اسلام اور سیرت النبی کے بارے میں تحقیق کی ہے انہوں نے اس کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر اس کی قدر و قیمت کا اعتراف کیا ہے۔
جرح و تعدیل:
علماء نے تاریخی روایات سے استفادے کیلئے جو نظام تشکیل دیا اسے ” جرح و تعدیل ” کے نام سے پہچانا جاتا ہے جسکی بنیاد اس نص قرآنی پر ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے:
"اے اہل ایمان! اگر آپ لوگوں کے پاس کوئی فاسق خبر لے آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کسی گروہ کو جہالت میں نقصان پہنچا بیٹھیں اور پھر اپنے فعل پر نادم ہوں۔ "(الحجرات 49:6)
اس جرح و تعدیل کے ماہر حضرات مورخین و محدثین ہیں اسکی نص بھی قرآن سے بیان ہوتی ہے ۔
ترجمہ :" اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن یا خوف کی تو اس کو مشہور کرديتے ہیں اور اگر اس کو پہنچا ديتے رسولؐ تک اور اپنے اولو الامر (علماء و حکام) تک تو جان لیتے اس (کی حقیقت) کو جو ان میں قوتِ استنباط (حقیقت نکالنے کی اہلیت) رکھتے ہیں اس کی اور اگر نہ ہوتا فضل ﷲ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پيچھے ہو ليتے شیطان کے سواۓ چند (اشخاص) کے۔(النساء:83)
علما امت نے مستقل تاریخ اسلامی سے متعلق ایسی کتب لکھی ہیں جن میں تاریخی روایت کے نتیجے میں پیدہ ہونے والے اشکالات کا حل موجود ہے۔ ابن تیمیہ رح کی منہاج السنہ ، ابن العربی رح کی العواصم من القواصم، حضرت شاہ ولی الله دھلوی رح کی ازالة الخفاء عن خلافت الخلفاء وغیرہ۔ اسی طرح ماضی قریب اس موضوعات پر سینکڑوں کتابیں لکھی گئی-
تنقید:
"تاریخ کو حدیث سے کہیں زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ تاریخی واقعات نقل کرنے والے راویوں کی معرفت حاصل کی جائے کیونکہ جھوٹ اورتساہل کا وجود تاریخ میں بہت زیادہ ہے"۔[علم الرجال وأهميته للمعلمی ص: 257] یہ قول ہے علامہ معلمی رحمہ اللہ کا (المتوفی1386) جن کو امیرالمؤمنین فی الجرح والتعدیل ، فقیہ اسماء الرجال کھا جاتا ہے-
عام طوریہ سمجھا جاتا ہے کہ جس اسلوب میںعلماء احادیث رسولؐ کی چھان بین کرتے ہیں اسی انداز میں تاریخ کی بھی کرنی چاہیے۔ لیکن اسکی ضرورت نہیں کیونکہ:
(١) احادیث کے مقاصد تاریخ کے مقاصد میں بہت فرق ہے- احادیث سے تو دین کا ثبوت ہوتا ہے جبکہ تاریخ شریعت کے اصولوں میں شامل نہیں۔ تاریخ کے مقاصد فرق ہیں اور وہ گزرے ہوئے حالات اور معاملات کی فہمی اور اس سے عبرت ہے۔
(٢) ایک رائے کے مطابق اسلامی تاریخ کی حیثیت ویسی ہی ہے جوکہ تفسیر میں اسرائیلیات کی ہے۔ یعنی کسی واقعہ کو تفصیلا سمجھنے کے لیے تاریخ کی مدد لی جاسکتی ہے ورنہ شرعی استدلال "اسرائیلیات" سے درست نہیں الا یہ کہ وہ بذات خود شریعت سے ثابت ہو۔
(٣) اسی طرح تاریخ سے ایک عمومی بات کو تو قبول کیا جاسکتا ہے لیکن تفاصیل کو نہیں کیونکہ تفاصیل میں ہر مؤرخ اپنے بیان میں منفرد ہوتا ہے۔
(٤) تاریخ کی انتہاء نہیں جبکہ شریعت مکمل ہوچکی ہے۔ تاریخ تو آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک چلتی آرہی ہے جبکہ جس شریعت کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے اسکی ابتدا اللہ کے رسول (ص) کی نبوت سے ہوئ اور آپؐ کی وفات کے ساتھ تکمیل بھی۔ اس لیے تمام تاریخ کو احادیث کے معیار پر پرکھنا نہ صرف وقت کا ضیاء ہے بلکہ ناممکن بھی۔ اسی لیے ہمیں احادیث کی اسناد کی چھان بین کرنے والے تو بہت ملیں گے لیکن تاریخ کے کم۔ 
(٥) اہل علم نے بھی تاریخ کو اس طرح اہمیت نہیں دی اسی لیے ہمیں نامور مؤرخین میں ایسے بھی مل جائیں گے جوکہ 'جرح و تعدیل' کے معیار پر تو کمزور ہیں لیکن تاریخ میں انکا اپنا مقام ہے۔ اگر تاریخ کو انہیں معیارات پر پرکھنا شروع کردیا جائے جس پر احادیث کو کیا جاتا ہے تو تاریخ کا اکثر حصہ فارغ ہوجائے گا۔
(٦)اگر معترض یہ سوال کرے کہ صحابہ کی طرف بعض لوگ غلط باتیں منسوب کرتے ہیں تو کیا اب ہم اسکو قبول کرلیں؟ تو ممکنہ جواب ہو گا کہ ہر وہ چیز جسکا تعلق دین سے ہو وہ بغیر سند کے قبول نہیں کی جائے گی لیکن جسکا تعلق دین سے نہیں اسکواس طرح پرکھنے کی ضرورت نہیں۔
تاریخ اسلام
تاریخ کے جتنے بھی منابع و ماخذ موجود ہیں ان میں تاریخ اسلام سب سے زیادہ معلومات سے لبریز اور مالا مال ہے چنانچہ جب کوئی محقق تاریخ اسلام لکھنا شروع کرتا ہے اور اسے تاریخی واقعات وافر مقدار میں بصورت دقیق مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخ اسلام میں بمقابل دوسری تواریخ جس قدر مستند و باریک نیز روشن نکات موجود ہیں وہ دیگر تواریخ میں نظر نہیں آتے۔
ان خصوصیات کا سرچشمہ سیرت اور سنت رسول (ص) ہے اور یہ مسلمانوں کے لیے قطعی حجت و دلیل ہے چنانچہ وہ انہی کی پیروی کرتے ہیں۔
پیغمبر اسلام اور مذہب اسلام کو دیگر مذاہب پر فوقیت حاصل ہے، کیونکہ آپ کی تاریخ روشن و مستند ہے۔ اس اعتبار سے دنیا کے دیگر رہبر و راہنما ہماری برابری نہیں کرسکتے چنانچہ پیغمبر اسلام کی زندگی کی دقیق باتیں اور اس کے جزئیات آج بھی ہمارے پاس قطعی اور مسلم طور پر احادیث کی کتب میں موجود و محفوظ ہیں۔ آپ کا سال ولادت ماہ ولادت روز ولادت یہاں تک کہ ہفتہ ولادت بھی تاریخ کے سینے میں درج ہے۔ دوران شیرخوارگی، وہ زمانہ جو آپ نے صحراء میں بسر کیا، وہ دور جب آپ سن بلوغ کو پہنچے، وہ سفر جو آپ نے ملک عرب سے باہر کیے، وہ مشاغل جو آپ نے مبعوث بہ رسالت ہونے سے پہلے انجام دیئے ہیں وہ ہمیں بخوبی معلوم ہیں۔ آپ نے کس سال شادی کی اور اس وقت آپ کا سن مبارک کیا تھا؟ آپ کی ازواج کے بطن سے کتنے بچوں نے ولادت پائی اور کتنے بچے آپ کی رحلت سے قبل اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ وفات کے وقت آپ کی کیا عمر تھی؟ یہ واقعات مبعوث برسالت ہونے کے وقت تک ہیں، اس کے بعد کے واقعات اور دقیق ہو جاتے ہیں۔ تفویض رسالت، جیسا عظیم واقعہ کب پیش آیا وہ پہلا شخص کون تھا جو مسلمان ہوا، اس کے بعد کون شخص مشرف با اسلام ہوا۔ آپ کی لوگوں سے کیا گفتگو ہوئی؟ آپ نے کیا کارنامے انجام دیئے اور کیا راہ و روش اختیار کی سب دقیق طور پر روشن و عیاں ہیں۔
سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پیغمبر اکرم کی تاریخ میں زمانہٴ ”وحی“ کے دوران تحقیق ثبت کی گئی۔ تئیس سالہ عہد نبوت کا ہر واقعہ وحی آسمان کے نور سے منور ہوا، اور اسی کی روشنی میں اس کا تجزیہ کیا گیا، قرآن مجید میں جو واقعات درج ہیں ان میں اکثر و بیشتر وہی مسائل و واقعات ہیں جو عہد نبوت کے دوران پیش آئے۔ ہر وہ واقعہ جسے قرآن نے بیان کیا ہے بے شک وہ خداوند عالم الغیب والشہادہ نے ہی بیان کیا ہے۔ قرآن کی رو سے تاریخ بشر اور اس کا ارتقاء اصول و ضوابط کی بنیاد کے سلسلے پر قائم ہے، عزت و ذلت، کامیابی و ناکامی فتح و شکست اور بدبختی و خوش نصیبی کے واقعات دقیق و منظم حساب کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ان اصول و ضوابط اور قوانین کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کو رسول اللہ (ص) اور اصحابہ کرام کیتاریخ کوقرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا جائے اور اس کے ذریعے اپنی ذات نیز معاشرے کو فائدہ پہنچایا جائے۔
تاریخ میں مثبت اور منفی واقعات کو سمجھ کر اس سے سبق حاصل کیا جا سکتا:
قد خلت من قبلکم سنن فسیروا فی الارض فانظر واکیف…
”تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں، زمین میں چل پھر کر دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے اللہ کے احکامات اور ہدایات کو جھٹلایا۔“
اس میں شک نہیں کہ تاریخ اسلام کا شمار دنیا کی اہم ترین تواریخ عامہ میں ہوتا ہے، کیونکہ مذکورہ تاریخ نے قرون وسطیٰ سے متعلق پوری دنیا کی تاریخ تمدن کا احاطہ کرلیا ہے۔ بالفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ اسلام زنجیر کی وہ کڑی ہے جس نے دنیائے قدیم کی تاریخ کو جدید تاریخ سے متصل کیا ہے۔ یہ تاریخ اسلام ہے جس سے جدید تمدن کا آغاز اور قدیم تمدن کا اختتام ہوتا ہے ۔ لیکن تاریخ شریعت کی بنیاد نہیں مددگار ہو سکتی ہے قرآن و سنت کی روشنی میں-
دین اسلام میں تاریخ کی حثیت:
جب ہم تاریخ کو دین کا جزو سمجھ کر نتائج اخذ شروع کر تے ہیں تو بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں-اس طرح بہت بڑی غلط فہمیان پیدا ہوتی ہیں- قاری جس کسی مورخ کی تحریر پڑھے گا اس سے اثر قبول کرکہ اپنا نظریہ بنا کر اس کے دفاع میں لگ جایئے گا- دو مخالف افراد کی بحث ایک دائرہ کی شکل اختیار کرکہ گھومنا شروع کرتی ہے جس کا کوئی اختتام نہیں ہوتا- اللہ کا فرمان بار بار دہرانے کی ضرورت ہے :
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو (سورة الحجرات49:6)
مورخین اکثر خود واقعات کے چشم دید گواہ نہیں ہوتے وہ سنی سنائی روایت کو لکھ دیتے ہیں- تاریخ بطور "موضوع" ایک سائنس ہے اور سائنسی تجزیہ، عقیدے، جذبات اور تعصب سے ماورا ہوتا ہے- ہم اگر تاریخِ اسلام کوکسی مخصوص مسلمان فرقہ کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے نظریات مسلط کرکہ نتائج اخذ کریں گے- لیکن اگر سیکولر ، مغرب سٹنڈرڈ سے دیکھیں تو معاملہ کچھ اور ہو گا جو شاید ہما رے عقائد سے ٹکراتا ہواس لیے ضروری ہے کہ تاریخ اسلام کو عقائد کی بنیاد بنانے سے پرہیز جائے-
کتابت احادیث:
احادیث سے مراد وہ تمام اقوال ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں۔ احادیث کو لکھنے اور یاد کرنے کا کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے شروع ہو گیا تھا۔ عربوں کو چونکہ اپنے حافظہ پر ناز تھا اس لیے وہ تمام باتوں کو یاد کر لیتے تھے۔ قران کی طرح احادیث کی کتابت کا اہتمام خلفاء راشدین اور ان کے بعد کی صدی تک کے حکمرانوں نے بوجوہ نہ کیا- حضرت عمر فاروق رضی الله قرآن پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے تھے انہوں نے سختی سے احادیث کو لکھنے سے منع فرمایا ، جس پر بعد میں بھی کوئی تبدیلی نہ ہوئی- اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے- کئی سو سالوں تک احادیث کو جمع کرنے کا کام کیا جاتا رہا ہے۔ احادیث کے مجموعے مختلف اصحاب و علماء و محدثین کے ناموں سے مشہورہویے- چھ مستند کتابیں صحاح ستہ (٢٢٥ -٣٠٣ ھ) (١)صحیح بخاری (٢) صحیح مسلم(٣) سنن نسائی(٤) سنن ابی داؤد (٥) سنن ابن ماجہ(٦) سنن ابن ماجہ ہیں-حدثین کی ان کتابوں میں ایک طرف دینی معلومات جمع کی گئیں اور دوسری طرف ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے کے صحیح تاریخی واقعات جمع کیے گئے ہیں۔ اس طرح احادیث کی یہ کتابیں دینی و تاریخی دونوں اعتبار سے قابل بھرو سہ ہو سکتی ہیں- 
حدیث کے معاملہ میں اگرچہ بہت احتیاط برتی گئی مگر پھر بھی اسناد، تصدیق اور دوسری اہم وجوہات کے لحاظ احادیث کومختلف کیٹیگریز میں رکھنا ضروی ھوا- سب سے مستند "صحیح" اور نچلے درجہ میں ضعیف، موضوع وغیرہ- علم حدیث کو علم تاریخ سے علیحدہ رکھنا چاہیے-
تکمیل دین اسلام:
جب حج الوداع کے موقع پر المائدہ کی آیات ٣ ، نازل ہوئی جس میں دین کے کامل ہونے کا اعلان کر دیا گیا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ( المائدہ: 5:3) 
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ "اس دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کامل کر دیا ہے" اور اپنے نبی اور مومنوں کو اس کا کامل ہونا خود اپنے کلام میں فرما چکا ہے اب یہ رہتی دنیا تک کسی زیادتی کا محتاج نہیں ، اسے اللہ نے پورا کیا ہے جو قیامت تک ناقص نہیں ہوگا۔ اس سے اللہ خوش ہے اور کبھی بھی ناخوش نہیں ہونے والا ۔
اس وقت قرآن اور سنت رسول اللہﷺ تواتر میں موجود تھی مثلاً نماز، روزہ ، زکات ، حج اور دوسرے احکام و معاملات پر لاکھوں مسلمان عمل درآمد کر رہے تھے، قران حفاظ صحابہ اکرام کے دماغ میں اور مختلف طریقوں پر تحریر کی شکل میں موجود تھا جس کوحضرت عمر (رضی اللہ) کے اصرار پر حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ) کے دور میں اکٹھا کر دیا گیا، اور پھر حضرت عثمان رضی الله نے تو سرکاری طور پر اس قرآن کو اہل قریش کی قرات میں تحریرکروا کرعالم اسلام میں بھجوا دیا اور تمام غیر سرکاری نسخوں کو جلا دیا- نماز میں قران مسلسل تلاوت کیا جاتا تھا- پوری توجہ قرآن پر تھی- 
تکمیل دین اسلام (حج الوداع) کے اعلان کے 51 سال بعد 61 ہجری میں سانحہ کربلا پیش آیا اور 200 سال بعد احادیث کی مشہور کتب کی تدوین شروع ہوئی۔ جب اسلام کی تکمیل 10 ہجری کو ہو چکی تھی۔ اسلام کے اراکین پر عمل ہو رہا تھا مسلسل نماز ، روزہ ، زکات، حج ۔۔ ایمان سب کچھ معلوم تھا جو سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہو رہا تھا۔ پھر بہت تاریخی واقعات پیش آئیے۔۔ ان سے کوئی اسلام کے ارکان میں یا دین میں اضافہ یا کمی ممکن نہ تھی اللہ کا فرمان دیں کی تکمیل اور قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی۔ 
ہم کو تاریخ کو تاریخ سمجھ کر پڑہنا چاہیئے تاریخ دین کی بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور سنت دیں کی بنیاد ہے۔ 
ہم آج بھی 70 سال بعد بحث کرتے ہیں کہ قائد اعظم سیکولر پاکستان بنانا چاہتے تھے یا اسلامی ۔۔ دونوں طرف سے دلائل موجود ہیں ، تقریروں کی ریکارڈنگ ۔۔ اخباروں کے تراشے اور چشم دید گوایان کے بیانات اور کتابیں تک موجود ہیں مگر اس جدید میڈیا کے دور میں تاریخی اختلاف ختم نہیں ہو رہا-
مقدمہ ابن خلدون:
ابن خلدون (وفات؛ 1406ء،808 ہجری ) ایک مشہور مورخ، فقیہ ، فلسفی اور سیاستدان تھا-ا بن خلدون کو تاریخ اور عمرانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ" مقدمتہ فی التاریخ" ہے جو "مقدمہ ابن خلدون" کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تاریخ، سیاست ، عمرانیات ، اقتصادیات اور ادبیات کا گراں مایہ خزانہ ہے۔ تاریخ کو باقاعدہ ایک سائنسی علم کا درجہ ابن خلدون نے دیا آج سے 600 سال قبل-
تاریخ طبری:
ابن خلدون 800 ہجری کا مورخ ہے جس نے تاریخ کے اصول بنایے- تاریخ طبری" بہت زیادہ مشہور و معروف ہےجس کو بہت سے محقق ریفر کرتے ہیں- علامہ ابن جریر بن یزید طبری (المتوفی: ۳۱۰ھ) سانحہ کربلا کے چشم دید گواہ نہیں وہ تو ٢٠٠ سال بعد کی پیدائش ہیں - اکثر لوگوں کو علم نہیں کہ اسی نام کا دوسرا شخص شیعہ عالم تھا، جس کی بہت ساری تصانیف بھی ہیں- دونوں کا نام ولدیت اور کنیت ایک جیسی ہے؛ اس لیے بہت سارے خواص بھی اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں،پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں کے دادا کا نام جدا جدا ہے،سنی ابن جریر کے داد کا نام یزید ہے اور شیعہ ابن جریر کے دادا کا نام رستم ہے- اسی تشابہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعہ علماء نے ابن جریر (شیعی) کی بہت ساری کتابوں کی نسبت ابن جریرسنی کی طرف کرنے کی کوشش کی ہے-
تاریخ طبری میں جگہ جگہ حضرات صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ایسی بے بنیاد اور جھوٹی روایات مروی ہیں، جن کی کوئی معقول و مناسب توجیہ نہیں کی جاسکتی ہے- روایات پر کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ تاریخ طبری میں بڑے بڑے دروغ گو ، کذّاب اور متہم بالکذب راویوں کی روایات بھی جگہ جگہ موجود ہیں۔ طبری اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
مقدمہ تاریخ طبری:
"میں نے اس کتاب میں جو کچھ ذکر کیا ہے ا س میں میرا اعتماد اپنی اطلاعات اور راویوں کے بیان پر رہا ہے نہ کہ عقل و فکر کے نتائج پر ، کسی پڑھنے والے کو اگر میری جمع کردوں خبروں اور روایتوں میں کوئی چیز اس وجہ سے ناقابل فہم اور ناقابل قبول نظر آئے کہ نہ کوئی اسکی تک بیٹھتی ہے اور نہ کوئی معنی بنتے ہیں تو اسے جاننا چاہیے کہ ہم نے یہ سب اپنی طرف سے نہیں لکھا ہے بلکہ اگلوں سے جو بات ہمیں جس طرح پہنچی ہے ہم اسی طرح آگے نقل کردی ہے"۔ [علامہ ابن جریر بن یزید طبری (المتوفی: ۳۱۰ھ)]
راوی ابومحنف اور ہشام بن محمد سائب بھی ہیں۔ لیکن وہ قابل اعتبار نہیں۔ ابومحنف راوی اپنی طرف سے باتیں بنا لیتا ہے۔ اسی طرح کے راویوں کی روایت کی بنیاد پراگر ایک نیا مذہبی بیانیہ ترتیب دیا جائےتو اس کی کیا حثیت ہو گی ، کوئی بھی اندازہ کر سکتا ہے!
صحابہ اکرام:
ابتدائ تاریخ اسلام کو سمجھنے کے لئے، صحابہ کرام کا مزاج سمجھنا ضروری ہے ۔ تاریخِ اسلام سے رغبت رکھنے والوں کو پہلے صحابہ کے زمانہ کے رواج اور اس پاک جماعت کے مجموعی کردار کو سمجھنے کی ضرورت ہے- "حیات الصحابہ" نامی کتاب کا مطالعہ کیجئے- اس مقبول عام کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ مصنف نے صحابہ بارے سب میسر احادیث کو مختلف عنوانات میں جمع کر لیا ہے اور فیصلہ قاری کے ذہن اور ایمان پہ چھوڑ دیا ہے۔ لنک آخر میں-
صحابہ اکرام انسان تھے ان میں اختلاف ، رنجش اور لڑائ ہوئی تھی مگر اتنے قتل اور مظالم بہرحال نہیں ہوئے جو تاریخ نے "ریکارڈ" فرمائے ہیں-اس سلسلے میں کچھ ضروری باتوں کا خیال رکھنا چاہیے : 
1- ممکن ہے کہ دو گروہ آپس میں اختلاف کریں اور دونوں حق پہ ہوں (بلکہ اختلاف تو ہوتا ہی اہل حق میں ہے جنکا کوئ نظریہ ہو، اہل باطل کا کیا اختلاف ہو گا جنکا ہدف کسی طریقے سے پیٹ بھرنا ہو- قرآن بتاتا ہے کہ موسٰی اور ہارون، موسٰی اور خضر میں اختلاف ہوا-
2- دونوں اہل حق میں ایک ہی زیادہ حق پر ہو گا مگر اس سے دوسرے کی شان میں کمی نہیں آتی- قرآن بتاتا ہے کہ داؤد نے فیصلہ کیا مگر انکے بیٹے سلمان نے انکے برخلاف فیصلہ کیا جو کہ زیادہ درست تھا- دونوں نبی رہے اور کسی کو معزول نہیں کیا گیا-
3- حضرت امر معاویہ (رضی اللہ ) اور حضرت علی (رضی اللہ ) کی فوج میں موجود صحابی، کیا ایک دوسرے کو قتل کر کے بھی جنت جائیں گے؟- جی ہاں، ام حارثہ کی حدیث یاد کیجئے-
حارثہ کو حضور کے سامنے، مسلمان کے تیر نے شہید کیا اور سرکار نے انکے لئے جنت کی بشارت دی-
4- حضرت امر معاویہ (رضی اللہ ) اور حضرت علی (رضی اللہ ) کے علاوہ بھی صحابہ میں آپس میں رنجش ہو جایا کرتی تھی کہ یہ انسانی فطرت ہے- قرآن میں آیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں جائیں گے تو انکے دلوں کو اس کینے سے پاک کیا جائے گا جو دنیا میں تھا- اسکا مطلب ہے مومنین میں آپس میں رنجش اور خفگی ہو جایا کرتی ہے-
یہ حیران کن ہے ہے کہ اس دور کے کچھ علماء حضرات، صحابہ کے فیصلوں کی غلطیاں نکال کر، انکی نیتوں پہ حملے کرتے ہیں- فارسی میں ایک مثال ہے "امور مملکت را خسرواں می دانند"- عثمان، علی اور معاویہ، جو کچھ بھی تھے، اپنے زمانے کے حمکران تھے اور موجودہ کئ کئ ممالک پہ مشتمل علاقہ انکے زیرنگیں تھا- کسی حمکران کی پالیسی کا تجزیہ کوئ حمکران یا علوم سیاسیات کا ماہر ایکسپرٹ ہی کر سکتا ہے مگر افسوس کہ ایسے لوگ جو اپنے گھر، محلہ کو نہیں سنبھال سکتے وہ انکے طرز حکمرانی میں کیڑے نکالتے ہیں اور بزعم خود، انکو صحیح فیصلے سجھانے کی کوشش کرتے ہیں-
مختصر بات ہے کہ تاریخ کے دھارے میں، عقائد کو سنبھال کر بہت احتیاط سے چلنا ہو گا بالخصوص ان حالات میں جب جھوٹ کی گرد نےراستہ پر مٹی ڈال دی ہو- صحابہ اکرام کے متعلق سوچ کر بات کریں ،ایسا نہ ہو کہ بعد می پچھتاوا ہو:
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو(سورة الحجرات49:6)
حاصل کلام :
تاریخ بطور "علم " ایک سائنس ہے اور سائنسی تجزیہ، عقیدے، جذبات اور تعصب سے ماورا ہوتا ہے- ہم اگر تاریخِ اسلام کوکسی مخصوص مسلمان فرقہ کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے نظریات مسلط کرکہ نتائج اخذ کریں گے- لیکن اگر سیکولر ، مغرب سٹنڈرڈ سے دیکھیں تو معاملہ کچھ اور ہو گا جو شاید ہما رے عقائد سے ٹکراتا ہو- تاریخ مستند اور غیر مستند روایت کا مجموعہ ہوتا ہے، جس میں سچ اور جھوٹ کی پہچان بہت مشکل ہے- اسلام کی بنیاد قرآن ہے جو اللہ کا کلام ہے جس میں کوئی شک نہیں اوریہ ہدایت کی کتاب ہے قرآن کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ نے لیا ہے- قرآن رسول اللہﷺ پر نازل ہوا جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، اس لیے رسول الله کی سنت دین اسلام کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے- قرآن تاریخ کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے تاکہ ہم انبیا، پرانی امتوں اور اقوام کے واقعات سے سبق حاصل کریں اور نصحت پکڑیں- تاریخ ایک تغیر پزیر اور ترقی پزیرانسانی علم ہے جس سے دوسرے علوم کی طرح فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے مگر تاریخ کوٹھوس اسلامی عقائد کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا- 
(تحقیق و ترتیب : آفتاب خان)
..................................................

سانحۂ کربلا کی تاریخی اہمیت و حیثیت:مفصل تحققیق پڑھیں.. لنک ….
مزید تحقیق لنک
..................................................
اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، کیا تاریخی  واقعات بھی دین اسلام کی بنیاد بن سکتے ہیں؟
................................................

لنکس /ریفرنس


……………………………………………………..

حیاۃ الصحابہ رضی اللہ عنہ (اردو)
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین دین کی اساس اور اس کے اولین مبلغ ہیں۔انہی لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھا اور ہم تک پہنچایا۔یہ وہ مبارک جماعت ہے جسے خداوند عالم نے اپنے پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم  کی مصاحبت کےلیے چنا اور ان کے ایمان کو ہمارے لیے ایک نمونہ قراردیا ۔حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی زندگی حضرت رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا اعلیٰ ترین ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت سے ایسے  عظیم الشان لوگ تیار ہوئے جنہوں نے اطراف واکناف عالم میں خدا کے دین کو غالب کر دیا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے احوال زندگانی کا مطالعہ کیا جائے تاکہ دلوں میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جذبات بیدار ہو ں اور دین خداوندی کی خاطر کٹ مرنے کا داعیہ پیدا ہو۔سچ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے واقعات مسلمانوں کے لیے حیات نو کا پیغام اور تجدید دین کا سامان رکھتے ہیں ۔زیر نظر کتاب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے تذکرے پر مشتمل ہے اصل عربی کتاب مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے جو بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ کے فرزند ہیں۔یہ اس کا اردو ترجمہ ہے،جس سے اردو دان طبقے کے لیے استفادہ کی راہ آسان ہو گئی ہے۔ بحثیت مجموعی اس کا مطالعہ مفید رہے گا۔

..............................................................

مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہاٹس اپپ"یا SMS کریں   
     
  
Facebook.com/AftabKhan.page

مجبوری میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا




مجبوری میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا
مشہور مکاتب فکر کے علما ء کے مضامین



1۔ کرسی پر بیٹھ کرنماز پڑھنے کا درست طریقہ کیا ہے؟



بعض لوگوں کو کمر، گھٹنوں یا ٹخنوں وغیرہ میں تکلیف ہوتی ہے اور آج کل بوجوہ یہ صورت عام ہے، چنانچہ وہ کرسی وغیرہ پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں، بعض مریض نہ کھڑے ہو سکتے ہیں، نہ رکوع و سجود صحیح طریقہ سے ادا کر سکتے ہیں، وجہ بڑھاپا ہو یا کمزوری یا جوڑوں یا کمر وغیرہ کا درد، بہر صورت معذوری کی وجہ سے جو کر سکتے ہیں کریں۔ عبادات کے وہ حصے جو ادا نہیں ہو سکتے، ان میں شرعاً رعایت ہے۔ دین اسلام میں نہ تنگی ہے نہ تکلیف، اس کی بنیاد یُسر (آسانی) پر رکھی گئی ہے، یہ سہولتیں اور رعایتیں شارع کی طرف سے ہیں۔ ان سے معذوروں کو کوئی بھی محروم نہیں کر سکتا۔ بعض مخلص، دیندار مگر بے علم حضرات اس کی اجازت نہیں دیتے، ان کے نزدیک اس طرح نماز نہیں ہوتی۔ کئی مسجدوں سے کرسی زبردستی اٹھالی گئی ہے۔ یہ سراسر زیادتی، کم عقلی و کم علمی ہے۔ ہمارے پاس اس بارے میں کثرت سے سوالات آئے اور آتے ہیں۔ اس لیے مسئلہ کی وضاحت کے لئے کچھ عرض کیا جاتا ہے۔ مسئلہ کی دو صورتیں ہیں، ایک جائز، دوسری ناجائز۔

..........................................................

نماز کی اہمیت ، مسائل ، طریقه اور جمع بین الصلاتین >>>>

..........................................................
صورت مسئلہ جائز صورت:

اگر معذور شخص کے سامنے پتھر، روڑا، لوہا، لکڑی وغیرہ سخت چیز ہو اور وہ اس پر سجدہ کرے، یہ بالکل جائز ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ پتھر، اینٹ تختہ اٹھا کر پیشانی کے قریب کرے اور اس پر سجدہ کرے۔ خواہ نمازی خود اٹھائے یا کوئی دوسرا۔ یہ طریقہ بالکل غلط ہے۔
ان النبی صلی الله عليه وآله وسلم دخل علی مريض يعوده فوجده يصلی کذلک فقال ان قدرت ان التسجد علی الارض فاسجد و الا فاوم براسک. وروی ان عبدالله ابن مسعود دخل علی اخيه يعود فوجده يصلی و يرفع اليه عود فيسجد عليه فنزع ذلک من يدمن کان فی يده وقال هذا شئی عرض لکم الشيطان اوم لسجودک.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بیمار کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے، دیکھا کہ وہ اسی طرح نماز ادا کرتا ہے، فرمایا اگر زمین پر سجدہ کر سکتے ہو تو سجدہ کرو۔ ورنہ اپنے سر سے اشارہ کرو۔ اور روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے بھائی کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ دیکھا کہ وہ نماز ادا کر رہے ہیں۔ لکڑی اٹھائی جاتی ہے اور وہ اس پر سجدہ کرتے ہیں۔ آپ نے اس شخص کے ہاتھ سے لکڑی چھین لی اور فرمایا، یہ چیز شیطان نے تمہیں پیش کی ہے۔ سجدہ کے لیے اشارہ کرو۔
فان فعل ذلک ينظر ان کان يخفض راسه للرکوع شيئاً ثم للسجود ثم يلزق بجبينه يجوز، لوجود الايماء لا للسجود علی ذلک الشئی.
پھر اگر ایسا کر لیا تو دیکھا جائے گا، اگر مریض نے رکوع کے لئے اپنا سر کسی قدر جھکا لیا تو یہ جھکاؤ سجدہ کے لیے پورا ہو گیا۔ پھر اس لکڑی وغیرہ سے پیشانی چمٹا لیتا ہے، تو یہ جائز ہے کہ اشارہ پایا گیا، نہ اس وجہ سے کہ اس چیز پر سجدہ ہوگیا۔
اگر تکیہ زمین پر رکھا ہے اور آدمی اس پر سجدہ کرتا ہے تو اس کی نماز درست ہے، اس حدیث پاک کی وجہ سے کہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں آتا ہے،
کانت لتسجد علی مرفقة موضوعة بين يديها لرمد بها ولم عينعها رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ میں تکلیف تھی، اپنے آگے رکھے ہوئے لکڑی کے تخت پر سجدہ کرتی تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع نہیں فرمایا۔
یونہی تندرست آدمی شہر سے باہر سواری پر ہو۔ اور کسی عذر کی بنا پر نیچے نہ اتر سکے، مثلاً دشمن کا خوف، یا درندے کا ڈر، یا کیچڑ گارے کی وجہ سے تو سواری پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز ادا کرے، نہ رکوع کرے، نہ سجود، اس لیے کہ معذوری کی ان صورتوں میں نہ رکوع کر سکتا ہے نہ قیام نہ سجود۔ یہ تمام صورتیں ایسی ہیں جیسے بیماری کی معذوری۔
حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر اشارہ سے نماز ادا فرماتے تھے، اور رکوع کی نسبت سجدہ کے لیے زیادہ جھکتے تھے۔
(علامه الکاسانی، بدائع الصنائع، 1 : 108 طبع کراچی)
علامہ ابن العابدین الشامی لکھتے ہیں :
ان کان ذلک الموضوع يصح السجود عليه کان سجودا و الافايماء.
اگر معذور نمازی کے آگے رکھی ہوئی چیز پر سجدہ درست ہے تو یہ سجدہ ہوگا۔ ورنہ اشارہ ہو جائے گا-
(شامی، 2 : 98، طبع کراچی، علامه ابن نجيم حنفی مصری، البحر الرائق، 2 : 113، طبع کراچی، فتاویٰ عالمگيری، 1 : 70، طبع کوئته، المرغينانی، هدايه مع فتح القدير لمحقق علی الاطلاق، 1 : 458، طبع سکهر)
عبدالرحمن الجزیری لکھتے ہیں :
يکره لمن فرضه الايماء ان يرفع شيئاً يسجد عليه، فلوفعل و سجد عليه يعتبر موميا فی هذه الحالة.
جس پر اشارہ سے نماز ادا کرنا فرض ہے (یعنی معذور) اس کے لیے کسی چیز کو اٹھا کر اس پر سجدہ کرنا مکروہ ہے، اگر ایسا کیا اور اس پر سجدہ کر لیا تو اس حال میں اشارہ کا اعتبار ہوگا۔
(علامه عبدالرحمن الجزيری، الفقه علی المذاهب الاربعة، 1 : 500، طبع بيروت)
الحنفیۃ
اذا لم يستطع فله ان يصلی بالکيفية التی تمکنه.
جب معمول کے مطابق نماز ادا کرنے کی طاقت نہ ہو، تو جس حال میں ممکن ہو ادا کر سکتا ہے۔
(الفقه علی المذاهب الاربعة، 1 : 498، طبع بيروت)

بعض سپیشل کرسیوں پر بیٹھنے کے ساتھ سجدہ کرنے کی تختی بھی لگی ہوتی ہے جس پر معذور سجدہ کے لیے پیشانی رکھتے ہیں، اگر اللہ کریم کی بارگاہ مین یہ سجدہ وضع الجبهة علی الارض کے حکم میں قبول ہوگیا۔ یعنی سجدہ نام ہے، زمین پر پیشانی رکھنے کا، تو تبھی نماز درست ہوگی۔ نہیں تو اشارہ تو پایا گیا، پھر بھی نماز درست ہوگئ۔ اسے ناجائز کہنا کسی صورت درست نہیں۔ نہ لڑائی جھگڑا اور سختی کرنے کی شرعاً گنجائش۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
لاَ يُكَلِّفُ اللّهُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا. (البقرة، 2 : 286)
اﷲ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا
ایک اور مقام پر فرمایا :
مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ.(الحج، 22 : 78)
اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
بشروا ولا تنفروا، ويسروا ولا تعسروا، سکنوا. متفق عليه.
لوگوں کو خوشخبری سنایا کرو (ڈرا ڈرا کر اسلام سے) متنفر نہ کرو۔ اور آسانیاں پیدا کیا کرو، سختی پیدا نہ کرو۔ سکون دیا کرو۔
علماء سے گزارش
آپ نے قرآن و حدیث اور فقہائے امت کے ارشادات پڑھ لیے، جب تک کسی دلیل شرعی (نص) کی مخالفت نہ ہو، عوام سے نرم رویہ اپنائیں، تاکہ وہ مسجد کو عبادات سے آباد کریں، معذوروں کو رعایت دی گئی ہے، اس پر عمل کرنے دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں احکام شرع پر کار بند فرمائے، نفس و شیطان کے کبر و غرور سے بچائے، ہم پر رحم فرمائے، آمین بحرمۃ سیدالعالمین۔ واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔ (مفتی: عبدالقیوم ہزاروی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2۔ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا درست طریقہ کیا ہے؟

اس مختصر مضمون میں نمازیوں کا کرسی پر نماز پڑھنا،خصوصاًباجماعت نماز کے احکام پر بحث کی گئی ہے۔اس کی غرض و غایت نمازیوں کو نماز کی اصلاح اور اس کے منافی امور سے اجتناب کی رغبت دلانا ہے۔ نماز دین کا ستون ہے اور شہاد تین کے بعد اہم ترین ہے۔ تمام اعمال کی اصلاح کا دارومدار اور انحصار نماز کی درستگی پرہے۔اگر نماز درست ہو گی تو باقی تمام اعمال صحیح ہو ں گے۔ اگر نماز درست نہ ہو گی تو باقی تمام اعمال بھی ناقص ہو جائیں گے۔اس لئے نماز کو اس کے کامل حسن کے ساتھ ادا کرنا اور اس کے تمام ارکان کی اہمیت و فضیلت کو بیان کرنا عین دین ہے۔آج کل نمازیوں کی کثیر تعداد کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتی ہے اور کوئی مسجد بھی ایسے لوگوں سے خالی نہیں ہے۔ان میں بعض لوگ غیر شعوری طور پر غلطی کاارتکاب کرتے ہیں۔ بسا اوقات نمازی آدمی رکوع تو نہیں کرسکتامگر قیام کی استطاعت رکھتا ہوتا ہے لیکن وہ استطاعت کے باوجود کھڑا نہیں ہوتا جب کہ قیام نماز کا رکن ہے۔ ذیل میں ہم انہی کوتاہیوں اور حالات کو بالتفصیل بیان کریں گے۔
پہلی صورت:
جو لوگ قیام،رکوع،سجود کی استطاعت موٹاپے یا کسی اور وجہ سے نہیں رکھتے،وہ کرسی پراس کیفیت میں نماز ادا کریں جو ان کےلئے ممکن وآسان ہوجیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

فاتقوا اللہ مااستطعتم"حسب استطاعت اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اللہ تعالی کافرمان ہے
"لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا ۔۔۔"اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا"
٭افضل عمل یہ ہے کہ کرسی پر بیٹھ کرنماز ادا کرنے والا امام کے بالکل پیچھے کھڑا نہ ہو تاکہ اگر باوقت ضرورت امام کی نیابت میں امامت کروانا پڑے تو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔اور کرسی پر بیٹھنے والا شخص دروس و محاضرات کے موقع پر امام وسامعین کے درمیان حائل بھی نہ ہو۔
٭بہتر یہ ہےکہ ہمیشہ چھوٹی کرسی ہی استعمال کی جائے جو صرف ضرورت کو پورا کرے اور صف بندی میں بھی سہولت رہے۔
دوسری صورت:
جوشخص قیام اور رکوع تو کرسکتا ہو لیکن سجدہ کی طاقت نہ رکھتا ہو،تو وہ معمول کے مطابق نماز ادا کرےمگر سجدے کے وقت کرسی پر بیٹھ جائےاور بہ قدر طاقت سجدہ کرے۔
تیسری صورت:
اگر کوئی شخص قیام کی طاقت تو رکھتا ہو مگر رکوع اور سجود کی ہمت نہ پاتاہو تو وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے لیکن رکوع اور سجود کے وقت کرسی پر بیٹھ جائے اور سجدوں میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکاؤ ہو۔
چوتھی صورت:
جو شخص رکوع و سجود کا متحمل تو ہو لیکن قیام میں اسے مشکل پیش آتی ہوتووہ بیٹھ کرنماز ادا کرے،رکوع کرسی کے بغیر اور سجدہ زمین پر کرے۔ اسے چاہئے کہ حسب ضرورت ہی رخصت سے فائدہ اٹھائے۔اور بغیر عذر کے رخصت پر عمل نہ کرے۔رخصت کو ضروت تک محدود رکھے اور بلاوجہ رخصتوں پر عمل نہ کرے۔
پانچویں صورت:
اگر کوئی شخص قیام اور رکوع میں دقت محسوس کرے لیکن سجدہ بآسانی بجا لا سکتاہو،وہ تمام نماز کرسی پر بیٹھ کرادا کرے لیکن سجدہ زمین پر کرے۔
یاد رہے کہ یہ تمام احکام فرض نماز کے متعلق ہیں،نفل نماز کے متعلق وسعت رکھی گئی ہے۔کہ بندہ جیسے آسانی محسوس کرے نماز ادا کرلے،کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے نفل نماز سواری پر بھی ادا کی ہے۔حدیث نبوی ہے"من صلی قاعدا فلہ نصف اجر القائم"۔۔۔"بیٹھ کر نماز ادا کرنے والےکےلئے کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے والے کی نسبت آدھا اجر ہے"
چھٹی صورت:
اگر کوئی شخص قیام ،رکوع اورسجود کی استطاعت تو رکھتا ہے مگر دیگر نمازیوں کی طرح تشہد میں نہیں بیٹھ سکتا تو وہ تشہد کے وقت کرسی پر بیٹھ جائے۔۔
ساتویں صورت:
اصل صورت تو یہ ہی ہے کہ مریض آدمی زمین پر بیٹھ کر نماز اداکرےلیکن کرسی پر نماز ادا کرنا بھی جائز ہے۔


نماز میں کرسی کہاں رکھی جائے:

1: اگر کرسی درمیان صف ہے تو اس کے پچھلے پائے صف کے برابر رکھے جائیں،اور خود بندہ صف سے متقدم ہو تاکہ پچھلے نمازیوں کی صف بندی میں دقت نہ ہو۔
2: اگر کرسی صف کے آخر میں ہے جہاں پیچھے مزید کوئی صف نہ ہو تو اگلے پائے صف کے برابر رکھے جائیں اور نمازی صف میں ہی کھڑا ہو،صف سے متقدم نہ ہو۔
3: جو شخص کرسی پر نماز ادا کرے اس کےلئے جائز نہیں کہ وہ رکوع اور سجود کے وقت تو کرسی کو ہٹا دے اور قیام کی حالت میں پھر اس کو واپس اسی جگہ پر رکھ دے یا اس کے برعکس کرے۔یہ ایک زائد عمل ہے جس کی کوئی ضروت نہیں،نیز کرسی پر بیٹھتے وقت اس کا اچھی طرح جائزہ لینا چاہے کہ آٰیا وہ بیٹھنے کے قابل ہے بھی یا نہیں۔
کیوں کہ ایک محدود مدت کے بعداشیاء ناکارہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں،اور بعض اوقات جسیم آدمی کے بیٹھنے کی وجہ سےاسکے پائے ٹوٹ جاتےہیں۔جس کی وجہ سے خود اس آدمی اور اس کے اردگرد نمازیوں کو تکلیف پہچنتی ہے۔بعض مخیر حضرات مفاد عامہ کےلئے مسجد میں کرسیاں رکھوا دیتےہیں تو کسی شخص کےلئے جائز نہیں کہ ان میں سے کسی ایک کو اپنے لئے خاص کرے۔بلکہ جب مسجد میں آئے تو جو کرسی خالی اور اضافی ہو اس پر نماز ادا کرے۔ایسے ہی اگر کسی شخص نے اپنےلئے کوئی کرسی خرید رکھی ہے تو کسی دوسرے شخص کےلئے جائز نہیں ہے کہ وہ صاحب کرسی کی اجازت کے بغیر اسے استعمال کرے۔
کرسی پر نماز پڑھتے وقت قابل توجہ امور​
:
٭یہ بات ذہن نشین رہے کہ کرسی پر نماز اد اکرنے سے خشوع و خضوع میں کمی واقع ہوتی ہے۔کیوں کہ اس حالت میں نمازی ارکان صلوٰۃ کو ان کی مشروع کیفیت میں ادا نہیں کر رہا ہوتا۔اسلئے ضروری ہے کہ اس رخصت سے صرف باوقت ضرورت ہی فائدہ اٹھایا جائے۔دل لگی اور حضور قلب کے ساتھ نماز کی طرف متوجہ رہا جائےاور غفلت کو حتی المقدور قریب نہ پھٹکنے دیا جائے۔
٭کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے اکثر لوگ مریض ہوتے ہیں،ہم اپنے لئے اور ان کےلئے اللہ سے دنیا کی عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کا بہت جلد مسجد میں آنا مناسب نہیں خصوصاً جمعہ کےدن۔کیونکہ میں نے اکثر مشاہدہ کیا ہے کہ ایسے لوگ دوران خطبہ نیند کے خراٹے لے رہے ہوتےہیں۔مجھے بعض قابل اعتماد لوگوں نے ایسے واقعات بیان کئے ہیں کہ ایک آدمی بہت جلد مسجد میں آیا اور سو گیا۔جب مسجد کے کسی ذمہ دار نے ان کو جگایا اور کہا کہ نماز ہو چکی ہے اور سب لوگ مسجد سے جا چکےہیں تو انہوں نے کہا کہ میں تو نماز کے انتظار میں ہوں۔انہیں بتایا گیا کہ نماز تو بہت پہلے کی ہو چکی ہے لہذا انکی نماز جمعہ فوت ہو گئی ہے۔
٭بعض لوگ جب کسی ایسے کھڑے آدمی کو نماز ادا کرتا دیکھتے ہیں جس کے پیچھے کرسی موجود ہوتو وہ کرسی کو بے مقصد خیال کر کے اس کو وہاں سے ہٹا دیتےہیں۔تو نمازی آدمی اس گمان کے ساتھ کہ رکوع اور سجود میں بیٹھنےلگتا ہے کہ کرسی پیچھے ہی موجود ہے گر جاتاہےاور گرنے کی وجہ سے بعض اوقات اس کا مرض بھی بڑھ جاتاہے۔اس طرح سے ایک تو وہ اپنی نماز توڑ دیتاہےاور دوسرا وہ ناراض ہو کر کرسی ہٹانے والے شخص کو برا بھلا بھی کہتا۔
مسئلہ:اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ لوگ میز نما چیز کرسی کے آگے رکھ لیتے ہیں،یہ عمل صحیح نہیں ہےسراسر تکلیف ہے جسکا ہمیں حکم نہیں دیا گیاجب کہ نماز میں آدمی سے بغیر کسی تکلف کے حسب استطاعت اور حسب توفیق تقویٰ مطلوب ہے،تقویٰ کا حصول ہی نماز کا اصل مقصد ہے اور یہ ہی اکثر علما کا موقف ہے۔
مسئلہ:ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے بعض بھائی سجدے کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو ہوا میں بچھا دیتےہیں اور پھر ان کے برابر سجدہ کرتے ہیں۔یہ درست عمل نہیں اور نہ ہی اس کے متعلق کوئی صحیح روایت موجود ہے۔(واللہ اعلم)
تحریر: الشیخ فہد بن عبد الرحمن الشویب ،مترجم:جناب عبدالعظیم جواد۔ بشکریہ ہفت روزہ اہلحدیث۔
https://salaamforum.blogspot.com/
…………………………..


3۔ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا درست طریقہ کیا ہے؟


الْحَمْدُ لِوَلِیِّہ وَالصَّلاَةُ عَلٰی نَبِیِّہ وَ عَلٰی آلِہ وَأصْحَابِہ أجْمَعِیْنَ، أمّا بعد!
آج کل مساجد میں کرسیوں کا رواج عام ہورہا ہے اورلوگ عذر سے یا بلاعذر کے کرسیوں کو نماز کے لیے استعمال کررہے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ کرسی پر نماز پڑھنے کا رواج ابھی ابھی چند سالوں سے شروع ہوا ہے، اس سے پہلے بھی لوگ بیمار ہوتے تھے اور اعذار ان کو بھی لاحق ہوتے تھے؛ مگر کبھی لوگوں کو کرسی پر نماز کی نہیں سوجھی۔
اکثر دیکھنے میں آیا ہے اور سنا بھی جاتا ہے کہ لوگ اچھے خاصے ہیں، چلنے پھرنے، اٹھنے، بیٹھنے کی قوت پوری طرح رکھتے ہیں،اور اپنے گھروں سے چل کر آتے ہیں؛ مگر نماز کے وقت خود ہی کرسی کھینچ کر اس پر نماز پڑھتے ہیں۔ یہ صورت حال اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ لوگوں میں تکاسل وتغافل ہے اور نماز کی اہمیت سے وہ بے خبر ہیں؛ لہٰذا ان کو توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔
اور اس سے انکار نہیں کہ بعض اللہ کے بندے واقعی عذر اور شدید مجبوری میں کرسیوں کا استعمال کرتے ہیں اور ان کا یہ عذر شرعی ومعقول ہوتا ہے، اور آج کل قویٰ کی کمزوریوں اور نئی نئی قسم کی بیماریوں نے اصحابِ اعذار کی بھی بہتات کردی ہے۔
الغرض! ایک جانب دین سے غافل اورلاپرواہ لوگ ہیں جو بلاوجہ و بلا عذر محض تن آسانی ولاپرواہی سے اور غفلت وسستی کی بنا پر یا محض شوقیہ یا فاخرانہ طور پر نماز کے لیے کرسیوں کا استعمال کرنے لگے ہیں، تو دوسری جانب ان حضرات کی بھی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر و خوف اور احکام الٰہی کی عظمت وجلالت موجود ہے اور وہ بھی کرسیوں کا استعمال کرتے ہیں؛ مگر اس وجہ سے کہ وہ واقعی معذور ومجبور ہیں۔
اس صورت حال میں علماء ومفیان کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ امت کو اس سلسلے میں صحیح وغلط اوراچھے وبرے کی تمیز بتائیں اور شریعت کی روشنی میں اس کے احکام کو واضح کریں اور شریعت کے وصف امتیازی ”اعتدال“ کو پیش نظر رکھتے ہوئے پہلی قسم کے لوگوں کی بے اعتدالیوں پر تنبیہ کے ساتھ ساتھ واقعی عذر رکھنے والوں کے لیے شریعت کی عطا کردہ سہولتوں کو پیش کریں؛ تاکہ اصحاب اعذار ان سے منتفع ہوسکیں۔
زیر نظر تحریر اسی مسئلے کی تحقیق کے لیے لکھی گئی ہے اور اس میں ہم نے اس کے دونوں پہلوؤں کو واضح کیا ہے؛ تاکہ افراط و تفریط کی راہوں سے الگ اعتدال کے راستے پر قائم رہیں۔ واللہ اعلم۔

محوراوّل: بلاعذر کرسی پر نماز ناجائز ہے

کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں ہماری بحث کے تین محور ہیں: ایک یہ کہ بلاعذر کرسی پر نماز کا حکم، دوسرے عذر معقول کی وجہ سے کرسی پر نماز کاجواز، اور اس کے شرائط وقیود، اور تیسرے کرسی پر عذر کی وجہ سے جواز کی دلیل۔
لہٰذا سب سے پہلی بات ”کرسی پر بلاعذر نماز کے حکم“کے بارے میں عرض ہے کہ بلاعذرِ معقول کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا ناجائز ہے، اور اس کی کئی وجوہات ہیں:

عدم جواز کی پہلی وجہ:

ایک وجہ یہ ہے کہ نماز میں قیام ورکوع وسجدہ فرائض میں داخل ہیں، اور بلا عذر ان میں سے کسی کو چھوڑ دینے سے نماز نہیں ہوتی،اور کرسی پر نماز پڑھنے والا ان تمام فرائض کو چھوڑ دیتاہے، قیام کی جگہ کرسی پر بیٹھتا ہے اور رکوع وسجدہ دونوں کو چھوڑ کر محض اشارے سے ان کو ادا کرتا ہے، تو اس کی نماز کیسے ہوسکتی ہے؟ لہٰذا جو لوگ بلاعذر معقول کرسی پر نماز پڑھتے ہیں، وہ اپنی نمازوں کو ضائع کررہے ہیں، اور یہاں یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے تو نمازیں پڑھی ہیں؛ لیکن جب اللہ کے یہاں پہنچیں گے تو ان کے نامہٴ اعمال اس سے خالی ہوں گے؛ لہٰذا ایسے لوگ ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ اگر قیامت کے دن نماز کی محنت کرنے کے باوجود ہمارا نامہٴ اعمال نماز سے خالی ہوتو کیا ہوگا؟
عدم جواز کی دوسری وجہ:
دوسرے یہ کہ نماز دراصل اللہ تعالیٰ کی عظیم ہستی کے سامنے بندے کی بندگی، عاجزی وانکساری کا نام ہے اور اللہ کی جلالت کے روبرو خدا کے غلام کی تواضع وفروتنی سے عبارت ہے، اور کرسی پر نماز پڑھنے کی صورت میں یہ مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے؛ کیوں کہ کرسی پر بیٹھنے کی حالت عموماً عاجزی وانکساری کی نہیں ہوتی؛ بلکہ ایک حد تک یہ متکبرانہ ہوتی ہے، نیز اگرمتکبرانہ نہیں ہوتی تب بھی عرف عام میں بڑوں کے سامنے کرسی پر بیٹھنا بے ادبی سمجھا جاتا ہے، یا کم از کم خلافِ ادب خیال کیا جاتاہے۔ اب غور کیجیے کہ کیا اللہ عز و جل کے دربارِ عالی شان ودرگاہ بے نیاز میں بلاوجہ کرسی پر بیٹھنا اچھا معلوم ہوتا ہے؟ لہٰذا یہ صورت نماز کی مقصدیت کے خلاف ہونے کی وجہ سے بھی ناجائز ہے۔
عدم جواز کی تیسری وجہ:
تیسرے یہ کہ کرسیوں پر بیٹھ کر عبادت کرنے میں غیروں سے مشابہت پائی جاتی ہے؛ چنانچہ عیسائیوں میں رواج ہے کہ وہ اپنے چرچوں میں کرسیوں پر عبادت کرتے ہیں، اور یہ بات اسلام کی اہم تعلیمات میں سے ہے کہ غیروں کی مشابہت اختیار نہ کی جائے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ”مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ“ (جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ ان ہی میں سے ہوگا) (ابوداود:۴۰۳۳)
ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّہَ بِغَیْرِنَا، لاَ تَشَبَّہُوْا بِالْیَہُوْدِ وَلاَ بِالنَّصَارٰی؛ فَاِنَّ تَسْلِیْمَ الْیہُوْدِ الْاِشَارَةُ بِالأَصَابِعِ، وَتَسْلِیْمُ النَّصَارٰی الْاِشَارَةُ بِالأَکُفِّ“․
(وہ ہم میں سے نہیں جو غیروں سے مشابہت اختیار کرے، تم یہود سے مشابہت نہ کرو اور نہ نصاری سے، یہود کا سلام انگلیوں کے اشارے سے اورنصاری کا سلام ہتھیلیوں کے اشارے سے ہوتا ہے) (ترمذی:۲۲۹۵)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: ”جُزُّوْا الشَوَارِبَ وَأَرْخُوا اللُّحٰی، خَالِفُوْا الْمَجُوْسَ“ (مونچھوں کو کٹاؤ اور داڑھی کو بڑھاؤ،اور مجوسیوں کی مخالفت کرو) (مسلم:۶۲۶، معرفة السنن بیہقی:۱/۴۴۰، مسند ابو عوانة:۱/۱۶۱)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اسلام غیروں سے مشابہت اختیار کرنے کے سلسلے میں کس قدر حساس واقع ہوا ہے؟ جب اسلامی شریعت لباس وپوشاک،اور بال وکھال تک میں غیروں کی مشابہت کو پسند نہیں کرتا تو نماز جیسی اہم ترین عبادت اور موٴمن کی زندگی کے بنیادی مقصد کے بارے میں یہ کیسے گوارا کرسکتا ہے کہ وہ غیروں کے طور وطریقے کے مطابق انجام دیا جائے؟
لہٰذا بلا عذر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا ناجائز ہے، اور اس طرح نماز پڑھنے والوں کی نماز بالکل بھی نہیں ہوتی، اور اس طرح پڑھی ہوئی نمازیں ان کے ذمہ علی حالہ باقی رہتی ہیں۔


محور دوم: عذرمعقول کی وجہ سے کرسی پر نماز جائز ہے


دوسری بحث یہ ہے کہ عذر ہونے کی صورت میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
کیا کسی بھی عذر وتکلیف میں کرسی کااستعمال نماز کے لیے جائز نہیں؟
یا کچھ شرائط وقیود کے ساتھ جائز بھی ہے؟
مشقت سے احکام میں تخفیف:
یہ جاننے سے پہلے ایک اصولی بات سمجھ لینی چاہیے؛ تاکہ بات واضح وصاف طریقہ پر سامنے آجائے۔ وہ یہ کہ ہماری شریعت نہایت معتدل ہے جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط؛اس لیے یہ بات تو یقینی ہے کہ عذر وتکلیف کی صورت میں اس میں تخفیف وسہولت دی جاتی ہے۔
چناں چہ شریعت کے اصول میں سے ایک اصول یہ ہے کہ اس نے بیماری وتکلیف کو تخفیف احکام کا سبب مانا ہے۔
اسی کو فقہا یوں بیان کرتے ہیں کہ:
”الْمَشَقَّةُ تَجْلِبُ التَّیْسِیْرَ“ (مشقت آسانی کا باعث بنتی ہے) (الاشباہ والنظائر لابن نجیم: ۱/۷۵، الاشباہ والنظائر للسیوطی:۱/۱۶۰)
اور یہ قاعدہ فقہیہ متعدد قرآنی وحدیثی نصوص سے اخذ کیاگیاہے، جیساکہ فقہاء نے ثابت کیا ہے۔ اور علماء نے لکھا ہے کہ عبادات میں تخفیف کے سات اسباب ہیں،اور ان میں سے ایک مرض کو بھی لکھا ہے۔ (الاشباہ والنظائر لابن نجیم: ۱/۷۵، الاشباہ والنظائر للسیوطی:۱/۱۶۰)
مشقت کے درجات واحکام:
لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ ہر قسم کی تکلیف مرض اس سے مراد نہیں ؛ بلکہ وہ مرض وتکلیف جس سے انسان کو شدید پریشانی لاحق ہوتی ہے، ورنہ تھوڑی بہت تکلیف تو ہر کام میں ہوتی ہے، حتیٰ کہ خود نماز پڑھنا بھی ایک مشکل کام ہے، اسی طرح بعض امراض خفیفہ میں بھی تھوڑی بہت مشقت ہوتی ہے، جیسے سردرد، یا معمولی زخم کی تکلیف وغیرہ؛ مگر ان کی وجہ سے تخفیف نہیں دی جاتی۔
اسی لیے فقہاء نے لکھا ہے کہ مشقت دو قسم پر ہے: ایک وہ مشقت جو عبادت سے اکثروبیشتر جدا نہیں ہوتی، جیسے وضو وغسل میں سردی کی مشقت، اور طویل دن اور سخت گرمی میں روزے رکھنے کی مشقت․․․․․ پس اس قسم کی مشقت کا عبادات کے ساقط ہونے میں کسی بھی وقت اعتبار نہیں، اور رہی وہ مشقت جو غالب طور پر عبادات سے جدا ہوتی ہے، اس کے کئی مراتب ہیں: پہلی بڑی اور پریشان کرنے والی مشقت ہے، جیسے جان پر یا اعضاء پر، یا اعضاء کے متعلقہ فوائد پر خوف کی مشقت، پس یہ مشقت موجبِ تخفیف ہے؛ دوسری معمولی وہلکی مشقت، جیسے انگلی میں معمولی درد ہونا، یا سر میں معمولی سا چکر ہونا، یا معمولی سی طبیعت کی خرابی، پس اس کا کوئی اثر نہیں اور نہ اس کا کوئی لحاظ ہوتا ہے؛ اور تیسری ان دو کی درمیانی مشقت، جیسے رمضان میں بیمار آدمی نے روزہ رکھنے سے مرض کے بڑھ جانے کا خوف کیا، یا بیماری سے دیر سے صحت یاب ہونے کا اندیشہ کیا،پس اس کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے) (الاشباہ والنظائر لابن نجیم: ۱/۸۲، الاشباہ والنظائر للسیوطی:۱/۱۶۸)
الغرض مشقت وبیماری اسبابِ تخفیف میں سے ہے؛ مگر ہر تکلیف وبیماری نہیں؛ بلکہ وہ جس میں انسان کو ناقابلِ برداشت تکلیف پیش آئے اور وہ اس کو سہار نہ سکے۔

شریعت میں معذور کے لیے سہولت اور اس کی شرائط:

جب یہ تفصیل معلوم ہوگئی تو اب قابل غوربات یہ ہے کہ کرسی پر نماز کے جواز کے لیے کیا اور کون سے اعذار معتبر ہیں اور وہ کیا اور کون سے اعذار ہیں جو معتبر نہیں؟ اس کے جواب سے پہلے اصحاب اعذار کے لیے حضرات فقہاء کرام کے لکھے ہوئے مسائل پر ایک اجمالی نظر ڈال لیں:


(۱)قیام فرض ہے

لہٰذا جو شخص قیام کرسکتا ہے اس کو کھڑے ہوکر نماز پڑھنا فرض ہے، اور جو کسی عذر کی وجہ سے کھڑا نہیں ہوسکتا، تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ پورا وقت کھڑا نہیں ہوسکتا؛ لیکن کچھ دیر قیام کرسکتا ہے تو وہ کچھ دیر قیام کرے اور بعد میں بیٹھ جائے،اگر اس نے کچھ دیر قیام پر قدرت کے باوجود کچھ دیر قیام نہیں کیا، اور شروع ہی سے بیٹھ کر نماز پڑھ لی تواس کے لیے یہ جائز نہیں۔

العنایة شرح الہدایة میں ہے کہ جب بعض قیام پر قادر ہو اگرچہ کہ ایک آیت یا ایک مرتبہ اللہ اکبر کہنے کے برابر نہ کہ پورا، تو امام ابوجعفر ہندوانی نے کہا کہ اس کو حکم دیا جائے گا کہ جس قدر کھڑا ہوسکتا ہے وہ کھڑا ہو، پس جب قیام کرنے سے عاجز آجائے تو پھر بیٹھ جائے،اور اگر ایسا نہیں کیا تو مجھے خوف ہے کہ اس کی نماز فاسد ہوجائے گی، یہی مذہب ہے اور ہمارے اصحاب سے اس کے خلاف کوئی بات مروی نہیں ہے؛ کیونکہ طاعت بقدر طاقت ہوتی ہے (العنایة شرح الہدایة: ۲/۳۱۴)
دررالحکام میں ہے کہ اگر بعض قیام پر قدرت رکھتاہو تو وہ قیام کرے، پس اگر وہ قیام کے ساتھ تکبیر کہہ سکتا ہو یا تکبیر اور تھوڑی قراء ت کرسکتا ہوتو اس کو قیام کا حکم دیا جائے گا، شمس الائمہ نے کہا کہ یہی صحیح مذہب (احناف) ہے، اوراگر اس نے قیام کو ترک کردیا تو خوف ہے کہ اس کی نماز جائز نہیں ہوگی (دررالحکام:۲/۷۸)
اور در مختار میں ہے کہ اگر کوئی تھوڑی دیر بھی کھڑے ہونے پر قادر ہوتو وہ اپنی طاقت کے بقدر لازمی طور پر کھڑا ہو، اگرچہ ایک آیت یا ایک تکبیر کی مقدار ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ بعض کو کل پر قیاس کیاگیا ہے) (درمختار مع ردالمحتار: ۲/۹۷)
(۲) اور جو شخص خود تو نہیں کھڑا ہوسکتا؛ لیکن کسی دوسرے آدمی یا کسی چیز کو سہارا دے کر کھڑا ہوسکتا ہے تو اس کو بھی کسی کے سہارے سے کھڑا ہونا لازم ہے، اس کو بھی بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں، اوراگر کوئی خود بھی نہیں کھڑا ہوسکتا اور نہ کسی کے سہارے سے کھڑا ہوسکتا ہے اس کے لیے جائز ہے کہ وہ بیٹھ کر نماز پڑھے۔
علامہ ابن الہمام نے فتح القدیر میں اور علامہ البابرتی نے عنایة شرح ہدایہ میں لکھا ہے کہ: اگر ٹیک لگاکر قیام کرسکتا ہوتو شمس الائمہ نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ وہ کھڑے ہوکر ٹیک کے ساتھ نماز پڑھے گا، اوراس کے سوا جائز نہ ہوگا، اسی طرح اس صورت میں بھی ہے کہ اگر عصا پر ٹیک لگانے یا خادم ہوتو اس پرٹیک لگانے سے قیام کی قدرت مل جائے (فتح القدیر: ۲/۳، العنایة: ۲/۳۱۴ واللفظ لہ)
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ: اگر ٹیک لگاکر قیام کرسکتا ہوتو صحیح یہ ہے کہ وہ کھڑے ہوکر ٹیک کے ساتھ نماز پڑھے گا،اور دوسری صورت اس کے لیے جائز نہ ہوگی، اسی طرح اس صورت میں بھی ہے کہ اگر عصا پر ٹیک لگانے یا خادم ہوتو اس پر ٹیک لگانے سے قیام کی قدرت مل جائے تو وہ کھڑا ہوگا اور ٹیک لگائے گا (فتاویٰ ہندیہ: ۱/۶۳۱، رد المحتار: ۲/۹۷)
(۳) قیام کرتوسکتا ہے؛ مگر اس سے شدید تکلیف ہوتی ہے، جو ناقابل برداشت ہے یا بیماری وعذر کے بڑھ جانے کا غالب گمان ہے تو اس کے لیے بھی یہی تفصیل ہے کہ اگر کسی کے سہارے کھڑے ہونے سے تکلیف نہیں ہوتی تو وہ کسی کے سہارے قیام کرے، اور پورا وقت کھڑے ہونے سے تکلیف ہوتی ہے،مگر کسی کا سہارا لینے سے بقیہ وقت میں قیام میں تکلیف نہیں ہوتی تو وہ کچھ دیر تو خود قیام کرے اور باقی وقت کسی کے سہارے سے قیام کرے،اور اگر کسی کو ہر صورت میں شدید تکلیف ہوتی ہے تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔
دررالحکام میں ہے کہ: جب قیام کرنا بیماری کی وجہ سے متعذر ومشکل ہوجائے یا کھڑے ہونے سے بیماری کے بڑھ جانے کا خوف ہو یا بیماری کے دیر سے درست ہونے کااندیشہ ہو یا سر چکرانے کا ڈر ہو یا کھڑے ہونے سے شدید تکلیف محسوس کرے تو بیٹھ جائے) (دررالحکام:۲/۷۸)
علامہ شامی لکھتے ہیں: ”أرادَ بالتعذُّرَ التعذُّر الحقیقيَّ؛ بِحَیْثُ لو قام سَقَطَ․․․ أو الحکمي؛ بِأنْ خَافَ زِیَادَتَہ أَوْ بُطْءَ بُرْئِہ بِقِیَامِہ أَوْ دَوَرَانَ رَأسِہ أو وَجَدَ لِقِیَامِہ ألماً شدیداً صلی قاعداً“․
(یعنی مصنف نے عذر سے عذرِ حقیقی مراد لیا ہے، اس طور پر کہ کھڑا ہوتو گرجائے، یا حکمی مراد لیا ہے؛ اس طورپر کہ اسے بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو، یا کھڑے ہونے کی وجہ سے صحت یابی میں تاخیر کا اندیشہ ہو، یا سرچکرانے کا اندیشہ ہو، یاکھڑے ہونے میں سخت تکلیف محسوس کرے، تو بیٹھ کر نماز پڑھے) (درمختار وردالمحتار: ۲/۹۶)
یہ تو شدید تکلیف کا حکم ہے،اوراگر کسی کو تکلیف تو ہوتی ہے مگر تھوڑی بہت جو قابل برداشت ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں اوراس کو بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ”فانْ لَحِقَہ نوعُ مَشقَّةٍ لم یجُزْ ترکُ ذٰلِکَ الْقِیَامِ“․ (یعنی اگر کھڑے ہونے میں معمولی تکلیف لاحق ہوتو قیام کا چھوڑنا جائز نہیں) (فتاویٰ ہندیہ: ۱/۱۳۶)
اور علامہ ابن الہمام نے فتح القدیر میں، علامہ زیلعی تبیین الحقائق میں اور علامہ المیدانی نے اللباب فی شرح الکتاب میں لکھا ہے کہ:
”فان لَحِقَہ نَوعُ مشقّةٍ لم یَجُز ترکُ القیام بِسَبَبِہَا“ (یعنی اگر کھڑے ہونے میں معمولی تکلیف لاحق ہوتو اس کی وجہ سے قیام کا چھوڑنا جائز نہیں) (فتح القدیر:۲/۳، تبیین الحقائق: ۲/۴۵۶، اللباب:۱/۴۹)
(۴) جو شخص اوپر کی تفصیل کے مطابق کسی بھی طرح قیام نہیں کرسکتا، اور بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے تو وہ زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرے، اور اگر خود بیٹھ نہیں سکتا؛ لیکن کسی دوسرے شخص یا چیز جیسے دیوار، وغیرہ کے اوپر ٹیک لگاکر بیٹھ سکتا ہے تو اس کو کسی کے اوپر ٹیک لگاکر بیٹھنا ضروری ہے۔
المحیط البرہانی میں ہے کہ: امام محمد نے اپنی کتاب ”الاصل“ میں یہ صورت ذکر نہیں کی کہ اگر ایک شخص ٹھیک سے بیٹھ نہیں سکتا،اور ٹیک لگاکر یا کسی دیوار یا انسان وغیرہ پر سہارا لے کر بیٹھ سکتا ہوتو امام شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ ہمارے مشائخ نے کہا کہ اس کے لیے کسی کے سہارے سے یا ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے نماز پڑھے تو جائز ہے،اورلیٹ کر نماز پڑھے تو جائز نہیں) (المحیط البرہانی:۲/۲۷۲)
اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ: ”واذَا لَمْ یَقْدِرْ عَلَی الْقُعُوْدِ مُسْتَوِیاً وقَدَرَ مُتَّکئاً أو مُستنِداً الی حائِطٍ أو انسانٍ، یجب أن یصلي مُتّکئاً أو مُستنِدًا ولا یجوز لہ أن یصلّيَ مُضطجِعاً“․ (اور جب ٹھیک سے بیٹھنے پر قادر نہ ہو؛ بلکہ ٹیک لگاکر یا کسی دیوار یا انسان کا سہارا لے کر بیٹھنے پر قادر ہوتو ضروری ہے کہ وہ نماز پڑھے ٹیک لگاکر یا سہارا لے کر اور اس کے لیے لیٹ کر نماز پڑھنا جائز نہیں) (فتاویٰ ہندیہ: ۱/۱۳۶)
(۵) اور جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اور رکوع وسجدہ بھی کرسکتا ہے وہ بیٹھ کر ہی رکوع وسجدہ کرلے، لہٰذا جو شخص زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجدے کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے، اسکو رکوع وسجدہ کرنا فرض ہے، کیونکہ وہ اس پر قادر ہے اور یہ دونوں بھی نماز میں فرض ہیں۔
امام قدوری فرماتے ہیں کہ: ”اذا تعدَّرَ علی المریض القیامُ صلّی قاعداً یَرکَعُ ویَسْجُدُ“ (جب مریض پر قیام دشوار ہوجائے تو بیٹھ کر رکوع وسجدہ کرتے ہوئے نماز پڑھے) (الجوہرة:۱/۳۱۱)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے کہ: جب قیام سے عاجز ہوجائے یا قیام سے مرض بڑھ جانے کا خوف ہوتو بیٹھ کر رکوع وسجدہ کرتے ہوئے نماز ادا کرے (الاختیار لتعلیل المختار:۱/۸۲)
اس سے معلوم ہوا کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے والا اگررکوع وسجدے پر یا ان میں سے ایک پر قادر ہے تو اس کو بیٹھ کر رکوع وسجدہ کرنا لازم ہے، ورنہ اس کی نماز نہیں ہوگی۔
(۶) جو شخص زمین پر بیٹھ سکتا ہے، مگر رکوع وسجدے کے لیے جھک نہیں سکتا وہ بیٹھ کر رکوع وسجدے کے لیے اشارہ کرلے، اسی طرح جو شخص رکوع وسجدے کے لیے جھکنے میں شدید تکلیف محسوس کرتا ہے جو ناقابل برداشت ہوتو وہ بھی رکوع وسجدے کا اشارہ کرسکتا ہے۔
فقہاء نے لکھا ہے کہ: ”فانْ لَمْ یَسْتَطِعِ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ أوْمأ ایماءً“ پس اگررکوع وسجود نہ کرسکے تو اشارے سے کرلے (الجوہرة: ۱/۳۱۱، واللفظ لہ، البحرالرائق: ۲/۱۲۲)
(۷) اوراگر کوئی شخص اس قدر بیمار ہے کہ وہ بیٹھ کر رکوع وسجدہ نہیں کرسکتا، تو اس کو چت لیٹ کر یا پہلو پر لیٹ کر اشارے سے نماز پڑھنے کی اجازت ہے اوراس کو چاہیے وہ سرسے رکوع وسجدے کا اشارہ کرے اور سجدہ کا اشارہ رکوع کے اشارے سے زیادہ کرے۔
الجوہرة میں ہے کہ: ”فانْ لَمْ یَسْتَطِعِ القُعُودَ اِسْتَلْقٰی عَلیٰ ظَہْرِہ الخ“ (پس اگر بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو پیٹھ کے بل لیٹ جائے الخ) (الجوہرة: ۱/۳۱۲)
اور البحرالرائق میں ہے کہ: اگر بیٹھنا دشوار ہوجائے تو چت لیٹ کر یا اپنے بازو پر لیٹ کر اشارے سے پڑھے (البحرالرائق:۲/۱۲۳)
اس تفصیل سے بیماروں ومعذوروں کو شریعت کی دی ہوئی سہولت اور اسی کے ساتھ اس کی شرائط کا بھی علم ہوگیا، جس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ ان فرائض کے ادا کرنے کی جس قدر طاقت وگنجائش ہے اس قدر ان کو ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، جہاں ممکن نہ ہو یا ممکن تو ہو مگر زیادہ پریشانی وتکلیف ہوتی ہو، وہاں ان فرائض کو چھوڑنے کی اوپر کی تفصیل کے مطابق گنجائش ہے۔
کرسی پر نماز کا مسئلہ:
اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی وجہ سے زمین پر بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکتا ہو؛ لیکن کرسی پر بیٹھ سکتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
(۱) مثلاً ایک شخص کا ایکسیڈنٹ ہوا اور کمر میں راڈ داخل کی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ کرسی پر بیٹھ سکتا ہے؛ مگر جھک نہیں سکتا، بیٹھ نہیں سکتا اور رکوع یا سجدہ نہیں کرسکتا۔
(۲) ایک شخص اس قدر کمزور ہے کہ اٹھنا بیٹھنا اس کے لیے دشوار ہے، اگر اٹھتا بیٹھتا ہے تو ناقابل برداشت تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا وہ کرسی پر بیٹھ کر اپنے کام کاج کرتا ہے اور اسی میں نماز بھی پڑھ لیتا ہے۔
(۳) ایک شخص کو موٹاپے کی وجہ سے زمین پر بیٹھنے میں شدید تکلیف ہوتی ہے، اگرچہ وہ چل سکتا ہے اور قیام بھی کرسکتا ہے؛ مگر بیٹھ نہیں سکتا، لہٰذا کرسی پر ہی اس کو اپنے تمام دنیوی کام بھی کرنے پڑتے ہیں اور نماز بھی وہ اسی پر پڑھتا ہے۔
(۴) ایک شخص اس قدر کمزور یا بیمار ہے کہ زمین پر ازخود نہیں بیٹھ سکتا اور اگر بیٹھ گیا تو اٹھ نہیں سکتا؛ بلکہ اس کو اس صورت میں ایک دو آدمیوں سے مدد لینی پڑتی ہے۔ اور بعض دفعہ کوئی ایسا خادم یا اعانت کرنے والا میسر نہیں ہوتا؛ لہٰذا وہ اس پریشانی کی وجہ سے کرسی پر ہی نماز پڑھ لیتا ہے۔
(۵) بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن میں ڈاکٹروں کی ہدایت ہوتی ہے کہ نیچے نہ بیٹھا جائے، ورنہ بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہے، اس وجہ سے بھی کرسی پر نماز کی ضرورت کسی کو پیش آسکتی ہے۔
ظاہر ہے ان تمام صورتوں اور اس طرح کی صورتوں میں عذر معقول موجود ہے اوراس کا اعتبار کرنا شرعاً بھی درست ہے؛ لہٰذا اس قسم کے اصحابِ اعذار کو کرسی پر نماز کی اجازت ہونی چاہیے؛ کیونکہ اوپر خود فقہاء کے کلام میں یہ ضابطہ ہم نے پڑھ لیا ہے کہ: طاعت بقدر طاقت ہوا کرتی ہے۔ جب اس قسم کے اعذار میں نیچے بیٹھ کر نماز کی طاقت نہیں یا نیچے بیٹھنا بڑا مشکل ہے تو کرسی پر پڑھنے کی اجازت ایک معقول بات بھی ہے اور اصول فقہیہ کی روشنی میں شرعی بات بھی ہے۔
لیکن اس جگہ وہی دو باتیں ذہن نشین ہونی چاہئیں: ایک تو یہ کہ عذر موجود ہو، بلاعذر کرسی پر نماز پڑھنا گناہ بھی ہے اور اس کی وجہ سے نماز ہوتی بھی نہیں،اور دوسری بات یہ کہ معمولی اور چھوٹا موٹا عذر نہیں؛ بلکہ معقول وشرعاً معتبر عذر ہو، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی یا تو سکت و طاقت ہی نہ ہو، یا طاقت تو ہو ؛ مگر اس سے ناقابلِ برداشت تکلیف و درد ہوتا ہو، یا زمین پر بیٹھنے سے بیماری وتکلیف کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو۔ اس صورت میں کرسی پر نمازکی اجازت ہے۔


محور سوم: عذر سے کرسی پر نماز کے جواز کی دلیل:


اب رہا یہ سوال کہ عذر کی وجہ سے کرسی پر نماز کے جواز کی دلیل کیا ہے؟ اس مسئلے کی دلیل میں احقر کو ایک فقہی نظیر بھی الحمدللہ مل گئی جس سے اس مسئلے پر اچھی طرح روشنی پڑتی ہے۔ وہ یہ کہ حضرات فقہاء نے لکھا ہے کہ بعض صورتوں میں سواری کے جانور پر بیٹھے ہوئے بھی نماز کی گنجائش ہے۔ مثلاً:
(۱) کسی جگہ زمین میں کیچڑ ہی کیچڑ ہے اور وہاں زمین پراترکر نماز نہیں پرھی جاسکتی تو ایسی جگہ جانور ہی پر بیٹھ کر نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
(۲) اسی طرح کسی کاجانور سرکش ہے جس کی وجہ سے اس پرسوار ہونا کارے دارد، لہٰذا اگراس سے اترگئے تو دوبارہ اس پرسوار ہونے میں مشکل پیش آئے گی تو اس جانور ہی پر نماز پڑھ لینے کی گنجائش ہے۔
(۳) اسی طرح اگر جانور سے اترنے کی صورت میں کسی چور وڈاکو یا درندے کی جانب سے جان کا خطرہ ہوتو جانور پر بیٹھے ہوئے نماز جائز ہے۔
(۴) بوڑھا آدمی جانور پر سوار ہے اگر اترے گا تو دوبارہ بیٹھنا مشکل ہے، تو اس کو سواری ہی پر نماز کی اجازت ہے۔
(۵) کوئی بیمارہے اوراس کی وجہ سے سواری سے اتر نہیں سکتاتو اس کو بھی جانور ہی پر سوار ہوتے ہوئے نماز جائز ہے۔
کرسی پر نماز کی فقہی نظیر:
درج ذیل عبارات میں ان مسائل کا ذکر موجود ہے:
الجوہرة النیرة میں جانورپر نفل نماز جائز ہونے کے مسئلے کے ضمن میں ”نفل نماز“ کی قید کیوں لگائی ہے، اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”لأن المکتوبةَ لا تجوزُ علی الدَّابَّةِ الاَّ من عُذر، وہو أن یَخَافَ مِنَ النُّزُولِ علی نفسِہ أو دابَّتِہ من سَبُعِ أو لِصٍّ، أو کَانَ فِيْ طِیْنٍ أو رَدغَةٍ لا یجدُ علی الأرض مکانا جَافّاً، أو کانت الدابةُ جَمُوحاً لو نَزَلَ لا یمکنہ الرُّکُوب الاّ بمُعِین، أو کان شَیخاً کبیراً لا یُمکِنُہ ولا یَجِدُ مَن یُعِیْنُہ فتجوزُ صلاةُ الفَرض في ہذہ الأحوال کُلِّہا علی الدَّابَّة․
(کیونکہ بلاعذر جانور پر بیٹھ کر فرض نماز جائز نہیں ہوتی، اور عذر یہ ہے کہ جانور سے اترنے سے کسی درندے یا چور کا اپنے اوپر یا جانور پر خوف ہو، یا گارا وکیچڑ ہو جس سے زمین پر کوئی سوکھی جگہ نہ پائے، یا جانور سرکش ہوکہ اگر سواری سے اترے تو دوبارہ سوار ہونا بغیر کسی کی مدد کے ممکن نہ ہو، یا بوڑھا آدمی ہو جس کو سوار ہونا ممکن نہ ہو اور کوئی سوار کرانے والا نہ ملے، تو ان تمام احوال میں جانور پر بیٹھے ہوئے فرض نماز جائز ہے) (الجوہرة النیرة:۱/۲۹۶)
اور یہی بات تبیین الحقائق میں ہے کہ: ”وَہِيَ أنْ یَخَافَ مِنَ النُّزُولِ علی نَفْسِہ أو دَابَّتِہ من سبعٍ أو لِصٍ، أو کَانَ فِيْ طِیْنٍ أو رَدَغَةٍ، قال في المحیط: یغیبُ وجہہ فیہا، لا یَجِدُ مکاناً جَافّاً، أو کانت الدابةُ جَمُوحاً لو نزل لا یمکنہ رکوبُہا الا بعَنَاءٍ، أو کان شیخاً کبیراً لا یمکنہ أن یرکبَ فلا یجدُ مَنْ یُعِیْنُہ علی الرُّکُوبِ، فتجوزُ صَلاةُ الفرض فی ہذہ الأحوال کُلِّہا علی الدَّابَّة“․ (اور عذر یہ ہے کہ جانور سے اترنے سے کسی درندے یا چور کا اپنے اوپر یاجانور پر خوف ہو، یا گارا وکیچڑ ہو، جس میں چہرہ رکھنے سے اندر دھس جائے، اور زمین پر کوئی سوکھی جگہ نہ پائے، یا جانور سرکش ہو کہ اگر سواری سے اترے تو دوبارہ سوار ہونا بغیر مشقت کے ممکن نہ ہو، یا کوئی بوڑھا آدمی ہو جس کو سوار ہونا ممکن نہ ہو اور کوئی سوار کرانے والا نہ ملے، تو ان تمام احوال میں جانور پر بیٹھے ہوئے فرض نماز جائز ہے) (تبیین الحقائق:۲/۳۴۵)
البحرالرائق اور ردالمحتار میں ہے: وَکذا المَرِیْضُ الرَّاکِبُ اذَا لَمْ یَقْدِرْ عَلی النُّزُولِ، وَلَا عَلیٰ مَنْ یَنْزِلُہ الخ (اسی طرح جو مریض سوار ہو جب سواری سے اترنے پر اور اتارنے والے پر قدرت نہ ہو) (البحرالرائق، شامی:۲/۹۶)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے کہ: ”مریضٌ راکبٌ لا یَقْدِرُ علی مَنْ یُنزِلُہ یُصَلِّی المکتوبةَ راکباً بایماءٍ، وکذلک اذا لم یَقْدِرْ علی النُّزُول لمَرَضٍ أو مَطَرٍ أو طینٍ، أو عَدُوٍّ“․ (مریض شخص جو سواری پر سوار ہوا اگر اتارنے والے پر قدرت نہ ہوتو وہ فرض نماز سواری ہی پر اشارے سے پڑھ لے، اسی طرح اس وقت بھی جب سواری سے اترنے پرمرض کی وجہ سے یا بارش یا گارے یا دشمن کی وجہ سے قدرت نہ ہو) (الاختیار:۱/۸۳)
اور تحفة الفقہاء میں ہے کہ: ”أَمَّا الْفَرْضُ فَیَجُوْزُ عَلی الرَّاحِلَةِ بِشَرْطَیْنِ: أحَدُہُما أنْ یَکُوْنَ خَارِجَ الْمِصْرِ سَوَاءٌ کَانَ مُسَافِراً أو خَرَجَ الی الضیعة․ والثانی أنْ یَکُوْنَ بہ عُذرٌ مانعٌ من النُّزُول عن الراحلة، الخ“ (رہی فرض نماز تو وہ سواری پر دو شرطوں سے جائز ہے: ایک یہ کہ شہر سے باہر ہو خواہ سفر کی وجہ سے یا اپنی زمین کی جانب جانے کے واسطے، دوسری شرط یہ کہ اس کے ساتھ عذر ہو جو سواری سے اترنے سے مانع بنے) (تحفة الفقہاء:۱/۱۵۳)
ان تمام عبارات میں دابہ یعنی سواری کے جانور پر نمازِ فرض کی اجازت دی گئی ہے، اور ان سب کو قیام ورکوع وسجود کے ساقط ہونے کے لیے عذر مانا گیا ہے۔ اور ہر کوئی جانتا ہے کہ جانور پر بیٹھنے کی ہیئت تقریباً وہی ہوتی ہے جو کرسی پربیٹھنے کی ہوتی ہے، اور اس پر نماز کی صورت بھی تقریباً وہی ہوتی ہے جو کرسی پر نماز کی ہوتی ہے، لہٰذا ان اعذار میں جانور پرنماز کا جواز دراصل کرسی پر نماز کے جواز کی واضح نظیر ہے۔
حدیث وآثار سے استدلال:
اور فقہاء نے یہ مسئلہ ایک حدیث سے مستنبط کیاہے، جسے ترمذی، احمد، بیہقی اور دارقطنی وغیرہ محدثین نے حضرت یعلی بن مرہ سے روایت کیا ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ:
أنّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم انْتَہٰی الٰی مَضِیْقٍ ہُوَ وَ أَصْحَابُہ، وَہُوَ عَلَی رَاحِلَتِہ، وَالسَّمَاءُ مِنْ فَوْقِہِمْ، وَالْبَلَّةُ مِنْ أسْفَلِہِمْ، فَحَضَرَتِ الصّلاَةُ، فَأَمَرَ الْمُوٴَذِّنَ، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم عَلَی رَاحِلَتِہ، فَصَلّٰی بِہِمْ یُوٴْمِيْ ایْمَاءً، یَجْعَلُ السُّجُوْدَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّکُوْعِ“ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ایک تنگ جگہ پہنچے جبکہ آپ سواری پر سوار تھے،اور اوپر سے آسمان برس رہا تھا اورنیچے تری وکیچڑ تھا، پس نماز کا وقت آگیا تو آپ نے موٴذن کو حکم دیا تواس نے اذان دی اور اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر آگے بڑھے، اور لوگوں کو اشارے سے نماز پڑھائی، سجدے کا اشارہ رکوع کے شارے سے زیادہ پست کیا) (ترمذی:۴۱۱، مسند احمد: ۱۷۶۰۹، سنن بیہقی: ۲/۷، دارقطنی: ۱۴۲۹)
اس حدیث کے بارے میں علماء محدثین کا اختلاف ہے کہ یہ کس درجے کی ہے؟ امام ترمذی نے کہا:
”ہذا حدیثٌ غریبٌ تَفَرَّدَ بِہ عمر بن الرماح البلخي، لا یُعْرَفُ الاّ مِنْ حدیثِہ، وقد رَویٰ عنہ غیرُ واحدٍ مِنْ أہلِ الْعِلْم“
اور ابن حجر نے ”التلخیص الحبیر“ میں لکھا کہ: ”قال عبدُ الحق: اسنادُہ صحیحٌ، والنووی: اسنادُہ حَسَنٌ، وضعَّفَہُ البیہقي وابنُ العربي وابنُ القطان لحال عمرو بن عثمان“ (التلخیص الحبیر: ۱/۵۲۲)
اور ابن عبدالبر نے ”التمہید“ میں کہا کہ: لیس اسْنادُہ بِشَیءٍ․ (التمہید:۲۳/۶۱)
معلوم ہوا کہ اس کی صحت کے بارے میں اختلاف ہے، تاہم اس کی صحت حضرت انس بن مالک کے ایک اثر سے ہوتی ہے؛ کیونکہ محدثین کے نزدیک حدیث کی تقویت کا ایک ذریعہ آثار صحابہ کا اس کے موافق ہونا بھی ہے۔
چنانچہ امام طبرانی نے حضرت ابن سیرین سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ: ”أَقْبَلَنَا مَعَ أَنَسٍ مِنَ الْکُوْفَةِ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِأَطَّطٍ أَصْبَحْنَا وَالأَرْضُ طِینٌ وَماءٌ، فَصَلّٰی المَکتُوبَةَ عَلَی دَابَّتِہ “ (ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفے سے آئے یہاں تک کہ جب ہم اطیط مقام پر تھے تو ہم نے اس حال میں صبح کی کہ زمین میں کیچڑوپانی تھا، پس حضرت انس نے فرض نماز جانور پرپڑھی) (معجم طبرانی کبیر:۱/۲۹۲)
اور علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس حدیث کے بارے میں فرمایا کہ: ”رواہ الطبرانی فی الکبیر ورجالہ ثقات“ (مجمع الزوائد:۲/۱۹۲)
اور یہ حدیث دوسرے الفاظ سے امام ابن ابی شیبہ اور امام عبدالرزاق نے بھی روایت کی ہے۔ امام عبدرالزاق کے الفاظ یہ ہیں کہ ابن سیرین نے فرمایا کہ: ”کُنْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِیْ یَوْمٍ مَطِیْرٍ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِأَطِیْطٍ وَالأرْضُ فَضْفَاضٌ، صَلّٰی بِنَا عَلٰی حِمَارِہ صَلاَةَ الْعَصْرِ یُوٴْمِيْ بِرَأسِہ اِیْمَاءً وَجَعَلَ السُّجُوْدَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّکُوْعِ“ (مصنف عبدالرزاق:۲/۵۷۳)
اور ابن ابی شیبہ کے الفاظ اس طرح ہیں کہ ابن سیرین نے کہا کہ: ”أَقْبَلْتُ مَعَ أَنَسٍ مِنَ الْکُوْفَةِ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِأَطَّطٍ، وَقَدْ أخَذَنَا السَّمَاءُ قَبْلَ ذٰلِکَ، وَالأرْضُ ضَحْضَاحٌ، فَصَلّٰی أَنَسٍ وَہُوَ عَلٰی حِمَارٍ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَأَوْمَأَ اِیْمَاءً، وَجَعَلَ السُّجُوْدَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّکُوْعِ“ (مصنف ابن ابی شیبہ:۲/۹۰)
جب حضرت انس کے عمل کا صحیح طور پر ثبوت ہوگیا کہ انھوں نے بھی کیچڑکی وجہ سے جانور پر بیٹھے بیٹھے نماز پڑھی تو اس سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ اوپر کی حدیث بھی صحیح ہے؛ کیونکہ یہ حدیث اس کی تائید کررہی ہے؛ لہٰذا اس حدیث اور حضرت انس بن مالک کے اثر سے معلوم ہوا کہ ضرورت پرجانور پر بیٹھے بیٹھے رکوع وسجدے کا اشارہ کرتے ہوئے نماز ہوسکتی ہے اوراس کی گنجائش ہے، اور جیسا کہ عرض کیاگیا یہ نظیر ہے کرسی پر نمازکی؛ لہٰذا معلوم ہوا کہ ضرورت وعذر کی بنا پر کرسی پر نماز جائز ہے۔
از: مفتی محمدشعیب اللہ خاں جامعہ اسلامیہ مسیح العلوم، بنگلور، دارالعلوم دیو بند  ، ماہنامہ دارالعلوم ‏
(تحقیق و ترتیب : آفتاب خان )
..................................................

کرسی پر نماز کا جواز وعدمِ جواز ۔۔۔ ایک مطالعہ وتجزیہ

مفتی محمد جعفر ملی رحمانی
شیخ محمد سعید رمضان البوطی فرماتے ہیں:
”کرسی پر نمازکے جواز کا دار ومدار ماہر، حاذق ومعتمد طبیب کے قول پر ہے،اگر وہ مریض کوزمین پر گھٹنے موڑ کر بیٹھنے سے منع کرتا ہے ، تو کرسی پر اس کی نماز تمام مذاہب کے مطابق درست ہے اور اگر وہ اسے کسی سبب قیام سے منع کردے، مگر زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ یا اشارہ کے ساتھ نماز سے منع نہ کرے ، تو اس پر اسی حالت میں نماز پڑھنا واجب ہے، کرسی پر اس کی نماز درست نہیں “۔ (علی شبکة نیت)
کرسی پر بیٹھنے کی صورت میں سجدہ کی صورت کیا ہوگی؟
خلاصہٴ فتویٰ دار العلوم دیوبند:
”کرسی استعمال کرنے کی صورت میں بھی عام سادہ کرسی پر نماز ادا کی جائے، ٹیبل والی کرسی پر نماز ادا کرنے سے احتراز کیا جائے“۔
زمین یا کرسی پر نماز ادا کرنے سے متعلق دو امر قابلِ لحاظ ہیں:
کرسی پر اشارہ کرنے کی صورت میں بعض لوگ رکوع میں ہاتھ کو ران پر رکھتے ہیں اور سجدہ کی حالت میں فضا میں معلق رکھ کر اشارہ سے سجدہ کرتے ہیں، ایسا کرنا ثابت نہیں، رکوع وسجدہ دونوں میں ہاتھ کو ران پر رکھنا چاہیے۔


معذوری کی حالت میں زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کے ساتھ نماز ادا کرنے کی صورت میں رکوع میں سرین کا زمین سے اٹھنا ضروری نہیں، بلکہ پیشانی کا گھٹنے کے مقابل ہونا ضروری ہے، جیسا کہ ” امداد الاحکام“ میں ہے: ” بحالتِ جلوس رکوع کرتے ہوئے صرف اتنا ضروری ہے کہ پیشانی کوگھٹنے کے مقابل کردیا جائے، اس سے زیادہ جھکنے کی ضرورت نہیں، نہ سرین اٹھانے کی ضرورت ہے“۔ (امداد الاحکام:1/609)
اب کرسیوں پر نماز ادا کرنے والے حضرات اپنے احوال پر غور فرمائیں کہ - کیا واقعتا وہ اس درجہ معذور ہیں کہ شرعاً ان کے لیے کرسی پر نماز ادا کرنا جائز ہو؟ اگر وہ اس درجہ معذور نہیں تو پھر کرسیوں پر نماز پڑھنے سے احتراز کریں، تاکہ مساجد میں بے ضرورت کرسیوں کی کثرت نہ ہو، بوقتِ ضرورت کرسی اختیار کرنے کی صورت میں ٹیبل والی کرسی اختیار نہ کی جائے “۔ (ماہ نامہ دار العلوم دیوبند، جلد 95، شمارہ: 6، رجب 1432ھ مطابق جون2011ء)


”احسن الفتاویٰ“ میں ہے:
” اگر ایک کرسی پر بیٹھ کر دوسری کرسی پر سجدہ کیا تو نماز صحیح ہوجائے گی، بشرطیکہ سجدہ کے وقت گھٹنے بھی کرسی پررکھے، مع ہذا ایسا کرنا گناہ ہے، زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرنا چاہیے اور اگر بوقتِ سجدہ گھٹنے کرسی پر نہ رکھے تو یہ نماز واجب الاعادہ ہے، معلوم ہوا کہ بعض لوگ کرسی پر بیٹھ کر سجدہ کی بجائے اشارہ سے نماز پڑھتے ہیں، اگر زمین پر بیٹھ کر سجدہ کی قدرت ہو تو کرسی پر اشارہ سے نماز نہ ہوگی “ ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم (4/51)


”کفایت المفتی“ میں ہے:(سوال کا ماحصل حسبِ ذیل ہے:)
”سوال: پیٹ میں بے چینی سی معلوم ہوتی ہے اور زمین پر نماز پڑھنا بہت دشوار معلوم ہورہا ہے ، تو کیا کرسی پربیٹھ کر سامنے ٹیبل پر سجدہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟“
الجواب: کرسی پر پاوٴں نیچے لٹکا کر بیٹھنا اور ٹیبل پر سجدہ کے لیے سرجھکانا جائز نہیں، الا اس صورت میں کہ زمین پر بیٹھنا اور زمین پر سجدہ کرنا طاقت سے باہر ہوجائے، زمین پر بیٹھ کر کسی اونچی چیز پر، جو زمین سے ایک بالشت سے زیادہ اونچی نہ ہو، سجدہ کرلیا جائے، تو عذر کی حالت میں جائز ہے“۔ (3/422 ، ط: دار الاشاعت)


”فتاویٰ دار العلوم زکریا“ میں ہے:(میز سامنے رکھ کر سجدہ کرنے کا حکم)
” سوال : جو شخص معذور ہو کرسی پر نماز پڑھتا ہو، اگر وہ سامنے میز رکھ کر اس پر سجدہ کرے تو کیا حکم ہے؟
الجواب: جو شخص ایسا مریض یا معذور ہوکہ بیٹھنا بھی مشکل ہے اور کرسی پر نماز پڑھتا ہے تو میز وغیرہ پر سجدہ کرے تو درست ہے، لیکن سامنے تختہ رکھنا ضروری نہیں ہے، سجدہ کے لیے اشارہ کافی ہے اور میز پر سجدہ کرے، وہ بھی اشارہ میں شمار ہوتا ہے“ ۔ (2/489 ، کتاب الصلاة)


اور ایک جگہ یوں مذکور ہے:
” معذور آدمی جب کرسی پر نماز پڑھتا ہو تو سامنے میز رکھنا ضروری نہیں ہے، وجہ یہ ہے کہ سجدہ کی تحقیق کے لیے پیشانی ، دونوں ہاتھوں میں سے ایک ، دونوں گھٹنوں میں سے ایک اور پاوٴں کی انگلیوں میں سے ایک انگلی زمین پر رکھنا ضروری ہے، اگرچہ تھوڑی دیر کے لیے ہو، اس کے بغیر سجدہ محقق نہ ہوگا اور کرسی میز پر سجدہ کرنے میں یہ چیزیں نہیں ہوسکتی، لہٰذا معذور آدمی رکوع سجدہ اشارہ سے کرے، میز رکھنا ضروری نہیں ہے“ ۔ (2/490)


” فتاویٰ بینات“ میں مذکور دار العلوم کراچی کے ایک فتوے کی تصویب کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی فرماتے ہیں:” جب قیام پر قدرت نہ ہو توزمین پر بیٹھ کر بھی نمازجائز ہے اور گاڑی پر بیٹھ کر بھی، لیکن دونوں صورتوں میں اگر سجدے پر قدرت ہو تو سجدہ کرنا ضروری ہوگا ، خواہ زمین پر کرے یا گاڑی کے سامنے کوئی تختہ یا میز رکھ کر، جب اس طرح سجدہ پر قدرت نہ ہو تب اشارہ جائز ہوگا ، ورنہ نہیں“۔ واللہ سبحانہ اعلم (2/390)


”احسن الفتاویٰ “میں ہے:
” اگر سر اتنا جھکایا جاسکتا ہو کہ زمین تک ایک بالشت یا اس سے کم فاصلہ رہ جائے ، تو کسی اینٹ یا تپائی وغیرہ پر سجدہ کرنا لازم ہے، اشارہ سے نماز نہ ہوگی“۔ (4/55)


”زبدة الفتاویٰ “ میں ہے:
” سوال: عذر کی بناپر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا سر کے اشارہ سے سجدہ کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب: حامداو مصلیا:جو مصلی کھڑے ہوکر اور زمین پر بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکنے کی وجہ سے اگر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے، تو ایسے مصلی کے لیے بشرطیکہ وہ اپنے آگے سجدہ گاہ میں کوئی ٹیبل وغیرہ رکھ اس پر پیشانی رکھ کر سجدہ کرسکتا ہو اور ٹیبل اونچائی میں کرسی کے برابر یا کرسی سے نو انچ اونچا ہو، اس سے زائد اونچا نہ ہو ، تو اس کو اپنے آگے ٹیبل وغیرہ رکھ اس پر سجدہ کرنا فرض ہے، کرسی پربیٹھ کر اس طرح سجدہ کرسکنے کی صورت میں صرف سر کے اشارہ سے یا تھوڑا جھک کر سجدہ کرنے سے نماز صحیح نہ ہوگی۔


البتہ جو مصلی عذر کی بنا پر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو اور حسبِ تفصیل بالا ٹیبل وغیرہ کوئی سخت چیز سامنے رکھ کر اس کے اوپر سجدہ نہ کرسکتا ہو، اور اس طرح سجدہ کرنے سے ناقابلِ برداشت درد ہوتا ہو ، تو ایسا مصلی اشارہ سے سجدہ کرسکتا ہے، لیکن اس کو سجدہ کے لیے رکوع سے نسبتاً زیادہ جھکنا ضروری ہے“۔ (1/490، 491)


” کرسی پر اور مریض کی نماز کے احکام“ نامی کتابچہ میں ہے:
” اگر کوئی شخص زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں اور وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہے، تو پھر اس کو کرسی پر بیٹھ کر اپنی نشست کے برابر یا اس سے زیادہ سے زیادہ بارہ انگل اونچی چیز پر پیشانی ٹکا کر سجدہ کرنا چاہیے“ ۔ (ص/35،موٴلفہ مفتی محمد رضوان)


” آپ کے مسائل اور ان کا حل“ میں ایک سوال وجواب اس طرح ہے:
” سوال: ایک ضعیف عورت ایک کرسی پر بیٹھ کر دوسری چھوٹی میز پر سجدہ کرتی ہے ، تو کیا نماز ہوجائے گی؟
جواب: جو شخص سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو، وہ سر کے اشارہ سے سجدہ کرے اور رکوع کے اشارہ سے ذرا زیادہ سر جھکائے، چھوٹی میز پر سجدہ کرنا فضول ہے“۔ (3/349، اضافہ شدہ جدید ایڈیشن)


تجزیہٴ فتاویٰ بر جزئیہ اُولیٰ
دار العلوم دیوبند کے فتوی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو انسان کسی بھی ہیئت میں زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے، تو اس کو زمین ہی پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ نماز ادا کرنا ضروری ہے، کرسی پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے اشارہ سے نماز ادا کرنا جائز نہیں، نماز نہیں ہوگی، البتہ اگر زمین پر کسی بھی ہیئت میں بیٹھنا دشوار ہو تو کرسی پر نماز ادا کی جاسکتی ہے۔


فتاویٰ دار العلوم زکریا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو حضرات قیام وسجود پر قادر نہیں وہ زمین پر بیٹھ کر اشارہ کے ساتھ نماز پڑھیں، کرسی پر نماز پڑھنا درست نہیں، لیکن اگر قیام پر قدرت ہو اور سجود پر قدرت نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کے لیے افضل یہی ہے کہ زمین پر بیٹھ کر اشارہ کے ساتھ نماز پڑھے، کرسی پر نہیں، کیوں کہ قعود مشابہ بالسجود اور اقرب الی الارض ہے ، البتہ اگر زمین پر بیٹھنا انتہائی تکلیف دہ ہو اور سجدہ سے بھی عاجز ہو تو پھر بحالتِ مجبوری اشارہ سے نماز پڑھ سکتا ہے(اس سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اس صورتِ حال میں کرسی پر اشارہ سے نماز کی گنجائش ہے)۔


احسن الفتاویٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے اس کے لیے کرسی پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔


فتاویٰ بینات میں ” گاڑی اور کرسی پر بیٹھ کر نمازپڑھنے کا حکم“ کے عنوان کے تحت مذکور ہے کہ قیام پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں مریض کے لیے بنائی گئی گاڑی میں نماز پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ رکوع وسجدہ پر قدرت نہ ہو ، اگر قیام پر قدرت نہیں، مگر رکوع سجدہ پر قدرت ہے تو رکوع سجدہ کرنا فرض ہے، ایسی صورت میں مذکورہ گاڑی میں سامنے ٹیبل وغیرہ رکھ کر سجدہ ادا ہوسکتا ہو، تو اس میں نماز جائز ہے ، ورنہ نہیں۔


اس فتوی کی تصویب حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی نے ان الفاظ میں فرمائی:
” جواب صحیح ہے اور خلاصہ یہ ہے کہ جب قیام پر قدرت نہ ہو تو زمین پر بیٹھ کر بھی نماز جائز ہے اور گاڑی پر بیٹھ کر بھی، لیکن دونوں صورتوں میں اگر سجدے پر قدرت ہو تو سجدہ کرنا ضروری ہوگا، خواہ زمین پر کرے یا گاڑی کے سامنے کوئی تختہ یا میز رکھ کر، جب اس طرح سجدے پر قدرت نہ ہو تب اشارہ جائز ہوگا، ورنہ نہیں“۔ (2/389 ،390)


حضرت مفتی صاحب کی تحریر سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ جو شخص سجدہ پر قادر ہے اور گاڑی اور کرسی پر بیٹھ کر وہ سجدہ نہیں کرپاتا، تو گاڑی اور کرسی پر اس کی نماز جائز نہیں ہوگی اور اگر سجدہ پر قادر نہیں تو گاڑی یاکرسی پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنا جائز ہے۔


مفتی شعیب اللہ خان صاحب کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا عذرِ معقول کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا ناجائز ہے اور اس صورت میں کرسی پر نماز پڑھنے والوں کی نماز بالکل بھی نہیں ہوگی اور اُن کی یہ نمازیں اُن کے ذمہ علیٰ حالہ باقی رہیں گی، البتہ معقول اعذار کی صورت میں کرسی پر نماز کی اجازت ہے۔


مفتی محمد سلمان منصورپوری صاحب کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی وجہ سے سجدہ کرنے پر قادر نہ ہواس سے قیام کا فریضہ ساقط ہے، اس کے لیے بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنا افضل اور کھڑے کھڑے اشارہ سے نماز پڑھنا خلافِ اولیٰ ہے اور اس کے لیے کرسی یا اسٹول پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنے کی بھی گنجائش ہے۔


کتابچہ ” کرسی پر اور مریض کی نماز کے احکام“ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص قیام، رکوع اور سجدہ تینوں ارکان پر قادر ہے، فقط گھٹنوں میں درد وغیرہ کی وجہ سے وہ زمین پر دو زانو ، چار زانو - خواتین کے بیٹھنے کی طرح - غرضیکہ کسی بھی طرح مسنون وغیر مسنون قعدہ کرنے پر قادر نہیں، تو اس کے لیے کرسی پر نماز پڑھنا اس طریقے سے جائز ہے کہ قیام کی حالت میں باقاعدہ کھڑا ہو، قیام سے فارغ ہوکر کمر جھکا کر رکوع کرے اور اپنی کرسی کی نشست کے برابر یا اس سے زیادہ سے زیادہ بارہ انگل اونچی چیز پر پیشانی ٹکاکر سجدہ کرے۔


شیخ خاشع حقی العلوانی کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ جو مصلی قیام ، رکوع اور سجود پر قادر ہے، وہ اسی کے ساتھ نماز پڑھنے کا مکلف وپابند ہے اور جو قیام پر قادر نہیں وہ بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ اور جو اس پر بھی قادر نہیں وہ بیٹھ کر اشارہ کے ساتھ اور جو اس پر بھی قادر نہیں وہ پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھے گا، یہ تمام طریقے حدیثِ پاک سے ثابت ومنصوص ہیں،رہا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا تو وہ دین میں بدعتِ ظاہرہ اور شریعت کے بتائے ہوئے طریقہ کے مقابل ایک نئے طریقہ کی ایجاد ہے، جو کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں ہے۔


شیخ احمد الحجی الکردی کے فتوی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص زمین پر سجدہ کی قدرت نہ رکھے (قطع نظر اس کے کہ قیام ورکوع پر قادر ہو یا نہ ہو) تو اس کے لیے کرسی پر نماز پڑھنا جائز ہے۔


شیخ عبد العزیز الحداد کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص قیام پر قادر ہو وہ قیام کے ساتھ نماز کا مکلف وپابند ہے، اگروہ اس کی استطاعت نہ رکھے تو بیٹھ کر یا چت لیٹ کر نماز پڑھے گا، شیخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر امام اس قدر لمبی قرأت کرے کہ مقتدی اس کا متحمل نہ ہواور قیام سے عاجز آجائے ، تو وہ کرسی یا زمین پر بیٹھ سکتا ہے اور ان دونوں صورتوں میں اپنی استطاعت کے مطابق رکوع وسجود کرے گا۔


(11)شیخ محمد سعید رمضان البوطی کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مریض کو ڈاکٹر قیام سے منع کردے، مگر زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود یا اشارہ کے ساتھ نماز سے منع نہ کرے، تو اس پر زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا واجب ہے، کرسی پر اس کی نماز درست نہیں، لیکن اگر وہ مریض کو زمین پر گھٹنے موڑ کر بیٹھنے سے منع کرتا ہے تو ایسا مریض کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اور اس کی نماز درست ہے۔ (علی شبکة نیت)


تجزیہٴ فتاویٰ بر جزئیہ ثانیہ
فتاویٰ دار العلوم د یوبند سے معلوم ہوتا ہے کہ جس صورت میں کرسی پر نماز کی ادائیگی کی اجازت ہے، اس میں سادہ کرسی پر نماز ادا کی جائے، ٹیبل والی کرسی کا استعمال نہ کیا جائے۔(یعنی کرسی پر نماز پڑھنے والا شخص سجدہ کا مکلف وپابند نہیں، بلکہ وہ اشارہ سے نماز پڑھے گا اور رکوع وسجدہ دونوں میں ہاتھ کو ران پر رکھے گا)۔


احسن الفتاویٰ کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا شخص اگر سجدہ پر قادر ہو اور بوقتِ سجدہ ایک کرسی پر بیٹھ کر دوسری کرسی پر سجدہ کرے اور بوقتِ سجدہ دونوں گھٹنے بھی کرسی پر رکھے، تو اس کی نماز ادا ہوگی ، ورنہ واجب الاعادہ ، مع ہذا ایسا کرنا گناہ ہے۔(یعنی کرسی پر نماز کا مروجہ طریقہ جس میں کرسی پر بیٹھنے والا شخص سجدہ پر قادر ہوتا ہے اور وہ مذکورہ بالا طریقہ پر سجدہ نہیں کرتا، تو اس کی نماز درست نہیں)۔


کفایت المفتی کے فتوے سے معلوم ہورہا ہے کہ جو شخص زمین پر بیٹھ کر سجدہ کی طاقت نہیں رکھتا، اس کے لیے کرسی پر پاوٴں نیچے لٹکاکر بیٹھنا اور ٹیبل پر سجدہ کے لیے سرجھکاناجائز ہے۔(یعنی جو شخص زمین پر بیٹھ کر سجدہ کرسکتا ہے، اس کے لیے کرسی پربیٹھ کر سامنے رکھے ٹیبل پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے)۔


فتاویٰ دار العلوم زکریا سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا مریض یا معذور جس کے لیے زمین پر بیٹھنا مشکل ہو اور وہ کرسی پر نماز پڑھے، تو سامنے رکھی میز یا ٹیبل پر سجدہ کرنا درست ہے، ضروری نہیں، سجدہ کے لیے اشارہ کافی ہے۔


فتاویٰ بینات کے فتوے سے معلوم ہورہا ہے کہ قیام پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں زمین پر بیٹھ کر بھی نماز جائز ہے اور گاڑی پر بھی، لیکن دونوں صورتوں میں سجدہ پر قدرت ہوتو سجدہ کرنا ضروری ہوگا، خواہ زمین پر کرے یا گاڑی کے سامنے کوئی تختہ یا میز رکھ کر، جب اس طرح سجدہ پر قدرت نہ ہوتب اشارہ جائز ہوگا ، ورنہ نہیں۔(یعنی کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا اگر سامنے تختہ یا میز رکھ کر سجدہ پر قادر ہے، تو وہ اس پر سجدہ کا مکلف وپابند ہے)۔


زبدة الفتاویٰ سے معلوم ہورہا ہے کہ جو شخص کھڑے ہوکر اور زمین پر بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا، اگر وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنے آگے کوئی ٹیبل وغیرہ رکھ کر ، اس پر پیشانی وغیرہ رکھ کر سجدہ کرسکتاہے اور ٹیبل اونچائی میں کرسی کے برابر یا کرسی سے نو انچ اونچا ہو، اس سے زائد اونچا نہ ہو، تو اس کو اپنے آگے ٹیبل وغیرہ رکھ کر اس پر سجدہ کرنا فرض ہے، اگر ایسا نہیں کرتا تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔


کتابچہ ” کرسی پر اور مریض کی نماز کے احکام“ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں اور وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہے، تو اس کو کرسی پر بیٹھ کر اپنی نشست کے برابر یا اس سے زیادہ سے زیادہ بارہ انگل اونچی چیز پر پیشانی ٹکاکر سجدہ کرنا چاہیے۔


” آپ کے مسائل اور ان کا حل“ سے معلوم ہورہاہے کہ جو شخص سجدہ پر قادر نہ ہو اور وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو، تو وہ اشارہ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرے، سجدہ کے لیے اپنے سامنے میز ٹیبل وغیرہ رکھنا فضول ہے۔ (یعنی سامنے ٹیبل رکھ کر اس پر سجدہ کرنا نہ فرض ، نہ اولیٰ ، بلکہ فضول ہے)۔


کتاب المسائل سے معلوم ہورہا ہے کہ جو شخص رکوع سجدہ پر قادر نہ ہو،وہ بیٹھ کر رکوع سجدہ کے لیے اشارہ کے ساتھ نماز پڑھے ، یہی اس کے لیے افضل ہے، لیکن اگر وہ کرسی یا اسٹول پر بیٹھ کر بھی رکوع اور سجدہ کے اشارہ کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز درست ہے ، (یعنی زمین پر سجدہ کی قدرت نہ ہونے کی صورت میں سامنے ٹیبل وغیرہ رکھ کر سجدہ کرنا ضروری نہیں)۔


خلاصہٴ بحث
کرسی پر نماز کے جواز وعدمِ جواز کی یہ پوری بحث آپ قارئین کے سامنے ہے،ہمیں اپنے اِن بزرگ مفتیانِ کرام کے فتاویٰ پر کسی نقد وتبصرہ کے بغیر ،اتنا عرض کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ - جب شریعت نے معذوروں اور مریضوں کی نماز کی تمام حالتیں بیان کردی - کہ:


جو شخص قیام پر قادر نہیں وہ زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ نمازپڑھ سکتا ہے۔


جو شخص زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود پرقادر نہیں تو وہ زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے لیے اشارہ کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے۔


جو شخص زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجود کے لیے اشارہ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتاوہ پہلو کے بل یا چت لیٹ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔


عن عمران بن حصین - رضي اللہ عنہ - قال : کانت بي بواسیرُ، فسألتُ النبي - صلی الله علیہ وسلم - عن الصلاة، فقال : ” صلّ قائمًا ، فإن لم تستطع فقاعدًا ، فإن لم تستطع فعلی جنبٍ“۔ (بخاری :4/377 ، باب إذا لم یطق قاعدا صلی علی جنب ، عمدة القاري :11/230)


اور اگر کوئی شخص مذکورہ تینوں حالتوں میں سے کسی بھی حالت پر نماز نہیں پڑھ سکتا اور اس کی یہ حالت ایک دن رات یعنی پانچ نمازوں سے زیادہ رہتی ہے، تو اس سے فریضہٴ نماز ساقط ہے۔(در مختار:2/570، عمدة الفقہ)


تو پھر کیوں نماز جیسی عظیم الشان عبادت میں ایک نئی صورت کی اجازت دے کر اُن مفاسد کا دروازہ کھولا جارہا ہے، جن کا بعض فتاویٰ میں اندیشہ کیا جارہا ہے، حالاں کہ یہ مفاسد اندیشوں کے مقام سے نکل کر مشاہدات کا درجہ اختیار کیے جارہے ہیں، مزید برآں جو حضرات بعض مخصوص صورتوں میں کرسی پر نماز کی اجازت دے رہے ہیں، اُن میں سے بعض کرسی پر نماز پڑھنے والے شخص کے سجدے کے سلسلے میں مختلف باتیں لکھ رہے ہیں، مثلاً:”جو شخص اپنے سامنے میز ٹیبل وغیرہ رکھ کر سجدے پر قادر ہے“…
اُس کے لیے اُس پر سجدہ کرنا فرض ہے۔
اُس کے لیے اُس پر سجدہ کرنا اولیٰ ہے۔
اُس کے لیے اُس پر سجدہ کرنا فضول ہے۔
حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ جب یہ شخص زمین پر سجدہ کرنے پر قادر ہی نہیں، تووہ سجدہ کے لیے اشارہ ہی کا مکلف ہے، خواہ وہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہویاکرسی پر اور یہ حقیقت بھی کسی پر پوشیدہ نہیں کہ کرسی پر بیٹھنے کی ہیئت زمین پر بیٹھنے کی طرح نہیں ہے کہ وہ اپنی نشست کے برابر یا اُس سے زیادہ 12 انگل اونچی چیز پر سجدے کی قدرت رکھنے کی صورت میں اُس پر سجدے کامکلف ہوگا، اسی لیے دار العلوم دیوبند کے مفتیانِ کرام نے جس صورت میں کرسی پر نماز کی اجازت دی، اُس میں یہی تحریر فرمایا کہ - سادہ کرسی پر نماز ادا کی جائے، ٹیبل والی کرسی استعمال نہ کی جائے، یعنی ایسا شخص رکوع وسجود کے لیے اشارہ کرے۔


لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے فتاویٰ میں معذوروں اور مریضوں کو نماز کی وہی حالتیں بتلائیں، جو حدیثِ پاک سے منصوص وثابت ہیں، کرسی پر نماز کے جواز کو رواج نہ دیں، کیوں کہ یہ طریقہ صحیح ثابت سنت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ نماز کی اصلِ روح کمالِ تواضع وعاجزی کے مخالف ہے، نیز بہت سے اُن مفاسد اور خرابیوں کا داعی ہے، جن کی وجہ سے جماعت العلماء تامل ناڈو کے تقریبا 350علمائے کرام نے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کو قطعاً ناجائز قرار دیا اور جو حضرات مفتیانِ کرام حدیث وآثار اور مختلف فقہی عبارتوں کوبنیاد بناکر ، معقول اعذار کی صورت میں ، کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت دے رہے ہیں، وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والوں کو رکوع وسجود کے لیے اشارہ کامامور کریں، اپنے سامنے میز یا ٹیبل پر سجدہ کا حکم دے کر اجتہاد در اجتہاد نہ کریں،کیوں کہ عبادات امرِ تعبدی ہیں اور اُن میں اِس طرح قیاس واجتہاد کی گنجائش نہیں۔


تجزیہ وتجویز
معذور ومریض حدیث پاک سے منصوص وثابت طریقہ پر ہی نماز ادا کرے، کرسی پر نہیں، کیوں کہ کرسی پر نماز صحیح ثابت سنت کے مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ نماز کی روح کے منافی اور بہت سے مفاسد اور خرابیوں کاداعی ہے۔


اگر کوئی مریض سجدہ پر قادر ہے ، پورے قیام پر قادر نہیں، تو جتنی دیر قیام کرسکتا ہے، اُتنا قیام اُس پر فرض ہے، خواہ ایک آیت یا تکبیرِ تحریمہ کے بقدر ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ شروع ہی سے زمین یا کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہے، تو اُس کی نماز نہیں ہوگی۔ (در مختار مع شامیہ:2/267)


اگر کوئی مریض کھڑے ہونے پر قادرہے، رکوع سجدہ، یا صرف سجدہ پر قادر نہیں، تو اُس کے حق میں قیام ساقط ہے اور اس کے لیے زمین پر بیٹھ کر رکوع و سجدہ کے لیے اشارہ کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔ (ایضاً:2/567)


اگر کوئی مریض بعض مفتیانِ کرام کے فتاویٰ پر عمل کرتے ہوئے ، بعض مخصوص صورتوں میں کرسی پر نماز پڑھتا ہے، تو وہ رکوع وسجود کے لیے اشارہ ہی کرے گا، اپنے سامنے میز یا ٹیبل رکھ کر اُس پر سجدے کا مکلف وپابند نہ ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب، وعلمہ اتم واحکم

مزید پڑھیں >>>>>>>>
.................................................................................................

نماز کی اہمیت ، مسائل ، طریقه اور جمع بین الصلاتین >>>>

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مجبوری میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا
مشہور مکاتب فکر کے علما ء کے مضامین : https://goo.gl/Zg5GNQ
.........................................................
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہاٹس اپپ"یا SMS کریں   
     
  
Facebook.com/AftabKhan.page