Quran on Quran. قرآن کا تعارف قرآن سے



قرآن کا بہترین تعارف قرآن خود کراتا ہے :
قرآن کے متعلق الله نے واضح  کر دیا کہ :
Quran Introduces Quran [Keep reading .......]



   
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
SalaamOneسلام  is a nonprofit e-Forum to promote peace among humanity, through understanding and tolerance of religions, cultures & other human values. The collection is available in the form of e-Books. articles, magazines, videos, posts at social media, blogs & video channels. .Explore the site English and Urdu sections at Index
علم اور افہام و تفہیم کے لئے ایک غیر منافع بخش ای فورم ہے. علم،انسانیت، مذہب، سائنس، سماج، ثقافت، اخلاقیات اورروحانیت امن کے لئے.اس فورم کو آفتاب خان،  آزاد محقق اور مصنف نے منظم کیا ہے. تحقیقی کام بلاگز، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیو چننل اور برقی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے.اس  نیٹ ورک  کو اب تک لاکھوں افراد وزٹ کر چکے ہیں, مزید تفصیلات>>>  Page Index - Salaam One 
 ..........................................................................

صرف مسلمان Muslim Only


   

قرآن کے حکم کے مطابق  صرف ایک درست عمل کی شروعات سے شدت اور منفی رجحانات کو کم کرکہ فرقہ واریت کے خاتمہ کے سفر کا آغاز کے آجاسکتا ہے:



هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  (سورة الحج22:78)



اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ . (سورة الحج22:78)



1.ہرایک فقہ اور فرقہ کا دعوی ہے کہ وہ قرآن و سنت پر پر عمل پیرا ہیں، جس کو دوسرے قبول نہیں کرتے اور وہ خود دعوی دار ہیں کہ وہ حق پرہیں- ہم سب کو معلوم ہے کہ مسلمان کے علاوہ  تمام لیبل اور مذہبی القاب و نام بعد کے زمانہ کی ایجادات ہیں- تو ایک متفقہ نام "مسلمان" پر جو قرآن و سنت و حدیث اور تاریخ سے مسلسل پر ثابت ہے اور اور اب بھی ہماری اصل پہچان ہے، اس نام "مسلمان"  کو مکمل اصل حالت میں بحال کر دیں-


2. تمام مسلمان اپنے اپنے موجودہ فقہ و نظریات پر کاربند رہتے ہوۓ، الله تعالی کے عطا کردہ  ایک نام پر متفق ہو کر اپنے آپ کو صرف اور صرف “مسلمان” کے نام سے پکاریں، کسی اور نام کی جازت نہ  دیں،جو نام الله نے دیا وہ ہر طرح سے مکمل ہے،تعارف، شناخت یا کسی اور حجت کی وجہ سےفرقہ پرستی کو رد کریں- یہ پہلا قدم ہے- مسلمان کو کسی اکسٹرالیبل (extra label) کی ضرورت نہیں- جب کوئی آپ سے قریبی تعلقات یا رشتہ داری قائم کرنا چاہتا ہو تو تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہیں- اپنی مساجد، مدارس، گھروں اور اپنے ناموں کے ساتھ فرقہ وارانہ القاب لگانے سے مکمل اجتناب کریں- نفس کہتا ہے مشکل ہے، مگر اللہ کا حکم بھی ہے، فرمانبردار (مسلم) بن کر اس آزمائش سے گزریں، الله پرتوکل کریں-

3. یہ اقدام اسلام کے ابتدائی دور ، رسول الله ﷺ اور صحابہ اکرام کے زمانہ کے مطابق ہو گا، جس کی خواہش ہر مسلمان دل میں رکھتا ہے- الله اور رسولﷺ یقینی  طور پر آپ سے بہت خوش ہوں گے- اس احسن روایت، سنت کے دوبارہ اجرا پر الله ہم پر رحمتوں اور برکات کی بارش فرمایے گا- اس نیک عمل سے آپ دین و دنیا میں کامیابی کے راستے پر چل پڑیں گے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ (ماآنا علیہ واصحابی) یعنی وہ لوگ جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقے پر ہوں گے وہی جنتی ہیں۔ فیصلہ صرف  الله کا اختیار ہے- تہتر فرقوں والی حدیث مبارکہ میں امت مسلمہ کے اندر تفریق و گروہ بندی کی جو پیشن گوئی تھی وہ خبر،محض بطور تنبیہ و نصیحت کے تھی- بدقسمتی سے مسلمانوں کے مختلف فرقوں نے اس حدیث کو اپنے لئے ڈھال بنا لیا ہے اور (ماآنا علیہ واصحابی) کی کسوٹی سے صرف نظر کرتے ہیں اور ہر ایک گروہ اپنے آپ کو ناجی فرقہ کہتا ہے اور اپنے علاوہ دیگر تمام مکاتب فکر کو ضال و مضل اور بہتر (٧٢) فرقوں میں شمار کرتا ہے- حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ ان تمام گمراہ فرقوں کا شمار بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت میں کیا ہے وہ جہنم میں تو جائیں گے، مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، سزا کاٹ کر اس سے نجات پا جائیں گے (٧٣) واں فرقہ ہی اول وہلہ میں ناجی ہوگا کیونکہ یہی سنت پر ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔

4.کسی صورت میں کوئی گروہ دوسرے مسلمانوں کی تکفیر نہ کریں،یہ پلٹ کر تکفیر کرنے والے پر پڑتی ہے(مفھوم) [ابی داوود ٤٦٨٧] ہر حال میں اس شدت پسندی سے بچنا ہے- جنت ، جہنم کا فیصلہ صرف الله کا اختیار ہے- ہم کو اچھے اعمال میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرناہے-

5. تمام فقہ اور فرقوں کے علماء پر مشتمل ایک فورم تشکیل دیا جا ئے جہاں مسقل بنیاد پر پرکم از کم مشترکہ متفقہ اسلامی نظریات کو یکجا کے جا سکے[ Minimum Common Points of Agreement]. غیر اسلامی رسوم و رواج کو بتدریج  معاشرہ سے پاک کیا جائے- علماء کی جدید طریقه تعلیم اور ٹیکنولوجی سے مناسب تعلیم و تربیت اور معاشی سٹرکچر سرکاری طور پر نافذ کیا جاے- یہ تمام کام حکومت اور علماء کے تعاون سے سرانجام پا سکتے ہیں-

ایک کتاب یا ڈسکشن سیشن سےصدیوں پر محیط مائینڈ سیٹ کو تبدیل تو نہیں کیا جاسکتا مگر اہل عقل کے لیے غور فکر کےدروازے کھل سکتے ہیں ....

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الَّذِينَ كَفَرُوا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿ لأنفال: ٥٥﴾
یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں(9:55)

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ﴿٢٨﴾

"اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے واﻻ ہے" (35:28)

"ملسمون" یا "مسلمین" کا اردو، ترجمہ "مسلمان" ہے. اس کے علاوہ اور نام جو اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں مسلمانوں  لیئے جو نام پسند فرمائے ہیں ان میں"یٰایھا الذین اٰمنوا" یعنی اے ایمان والو. واحد کے لیئے "مؤمن" جمع کے لیئے مؤمنون یا مؤمنین اور صفاتی القاب-  موجودہ مشہورمسلمان گروہوں اور فرقوں کے نام جو منہج کے نام پر بزرگ فقیہ وامام ، شہر ، یا کتاب سے منسوب ہیں قرآن و سنت سے ثابت نہیں، بلکہ قرآن کی روح کے خلاف ہیں- اس کا قرآن و سنت کی روشنی میں تحقیقی جائزہ لیا جا رہا ہے-
دین و مذھب کے نام کی اہمیت: 
 کچھ کوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نام سے کیا فرق پڑتا ہے اصل دین تو ایمان اور عمل کا نام ہے- بظاھر تو بات معقول لگتی ہے، آینے اس کا جائزہ لیتے ہیں- اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم  علیہ اسلام کو علم الاسماء  سکھایا ، یعنی ناموں کا علم ۔۔۔۔ نام انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے حضورکرام صلّی اللہ علیہ وسلم نے ایام جاہلیت کے مہمل نام تبدیل کروائے ۔ ترمذی میں ہے کہ  حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم برے ناموں کو بدل کر ان کے عوض اچھے نام رکھ دیا کرتے تھے ۔ (ترمذی111/2)- نام کسی انسان کی زندگی کا وظیفہ ہوتا ہے کیونکہ وہ بار بار پکارا جاتا ہے ۔ اگر آپ اپنے نام کی نسبت  سے کام کرینگے تو آپ کئی گُنا اضافی ملے گا اور اگر آپ کے مخالف چلیں گے توآپ ایک ناکام زندگی گزار کر جائینگے-  اگر دنیا میں مختلف مذاھب کے ناموں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر مذاھب اپنی  بانی شخصیت کے نام سے منسوب ہیں- بدھ مت، گوتم بدھ کے نام پر، مسیحیت ، عیسایت، حضرت عیسی علیہ السلام، یہودی، یہودا(حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک فرزند) بنی اسرایئل کی نسل  کی شاخ،اسی طرح زرتشت ،بہائی مت، تاؤ مت، کنفیوشس مت وغیرہ- ہندو مت اور جین مت کا بانی کوئی ایک شخص نہیں، ہندومت کے پیروکار اِس کو"سناتن دھرم" (‘لازوال قانون) کہتے ہیں -قدیم ہندومذھب کتاب "ویدا" سے بھی منسوب ہے- لفظ "جین مت" سنسکرت کے ایک لفظ "جِن" سے لیا گیا ہے، جس کے معنی ہے(جذبات،نفس کا) فاتح  - بانی مذہبی شخصیات کے نام پر رواج کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو "محمدی" کہلوانا چاہیئے مگر ایسا نہیں ہوا اگرچہ مغربی مسیحی مستشقرین نے کوسش کی کہ Muhamddans کا نام تقویت پکڑے مگر کامیاب نہ ہو سکے- حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر خود کسی مذھب کے موجد ہوتے تو کسی انسان کے لیے اپنے نام سے بہتر اور کیا نام ہو سکتا ہے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ قرآن الله کی طرف سے نازل وحی ہے جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا نام صرف پانچ مرتبہ آیا- اللہ کا دین اور اس کو قبول کرنے والوں کا نام بھی الله کی طرف سے رکھا گیا- "اسلام" اور "مسلمان" (عربی : الْمُسْلِمِينَ) کی نسبت اس دین کے خالق سے ہے جس کا ایک صفاتی نام "السلام" ہے-

الله کے نزدیک صرف دین اسلام هے :
" ان الدین عندالله الاسلام " اس لئے تمام ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو اپنے اپنے زمانه میں قبول کیا اور احکام الہی کے پابند تھے  وه مسلمان تھے- پہلے کے تمام الہامی ادیان " اسلام" پر تھے، فرق صرف شریعت میں رکھتے هیں- قرآن مجید کی اصطلاح ( الْمُسْلِمِينَ)  میں، "مسلمان"  ہونے کا مطلب ہے کہ الله تعالی  کے فر مان ، اور هر قسم کے شرک سے پاک مکمل توحید کے سامنے مکمل طور پرسر تسلیم خم کرنا هے اور یهی وجه هے که قرآن مجید حضرت ابراھیم علیه السلام کو مسلمان کے نام سے متعارف کر تا هے- قرآن مجید کے مطابق الہامی ادیان کے تمام پیرو کار اپنے زمانه میں مسلمان تھے اور اس طرح عیسائی اور یهودی وغیره نئ وحی کے آنے سے پہلےان کا دین منسوخ نه هو نے تک مسلمان تھے ، کیونکه وه پرور دگار عالم کے حضور تسلیم هوئے تھے- بائبل کی موجودہ کتب میں اب بھی خدا کے احکامات کے آگے سر تسلیم کرنے کی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں:
"اور خدا ہمیں اپنی را ہیں بتا ئے گا،اور ہم اس کے راستو ں پر چلیں گے۔”(‏یسعیاہ 2:‏2)، ”‏اَے میرے خدا!‏ میری خوشی تیری مرضی پوری کرنے میں ہے بلکہ تیری شریعت میرے دل میں ہے۔‏“‏ (‏زبور ۴۰:‏۸‏)‏، ”‏میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُس کا کام پورا کروں۔‏“‏ (‏یوح ۴:‏۳۴؛‏ ۶:‏۳۸‏)
[“Surrender and obedience to the Will of God” in Bible: Psalm 40:8، 112:1, 148:8,103:20, Jeremiah 31:33, 1 John 2:1-29، 2:17، Matthew 12:50، 26:42، 6:10، John 5:30، 4:34 ، Acts 21:14، Romans 12:2، Hebrews 10:7] 

انھیں جو یهودی یا عیسائی کہا جاتا ہے، وه ان کے پیغمبروں کے ناموں سے لوگوں میں مشہور ہوا وہ نام الله کے عطا کردہ نہیں، مگر قرآن میں ان کا انہی مشھور ناموں سے تذکرہ کیا گیا تاکہ پڑھنے والے کو سمجھنے میں آسانی ہو- آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کے بعد وہ "اسلام " اور"مسلمان" کے اعزاز سے محروم ہو گیے-

اس دور میں"اسلام" کا اطلاق آخری رسول و نبی ، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی کی آخري الہامي کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے- اب "مسلمان" کا نام(عربی:الْمُسْلِمِينَ) ،خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم  جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، کی پیروی کرنے والوں پر لاگو هوتا هے- مسلمان، قرآن اور سنت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عمل کرنے والے کو کہا جاتا ہے-  ، کیونکه انهوں نے دین اسلام کو قبول کر کے اور تمام انبیاء اور آسمانی شریعتوں پر اعتقاد رکھ کر اللہ  کے حضور سر تسلیم خم هو نے کا اعلان کیا هے- حقیقی مسلمان وه هے جو احکام و دستورات الهی کو قول و فعل سے تسلیم کرتا ہو، یعنی زبان سے بھی اللہ کی وحدا نیت اور انبیاء علیهم السلام اور خاتم الانبیاء صلی الله علیه وآله وسلم کی رسالت کا اقرار کر ے اور عمل سے بھی دینی احکام اور دستورات ، من جمله دوسروں کے حقوق کی رعایت کرے جیسے اجتماعی قو انین اورشہادہ، نماز، روزه، زکات، حج وغیره جیسے انفرادی احکام کا پابند هو- قرآن مجید میں حقیقی مسلمان کو مومن کے نام سے بھی یاد کیاگیا هے اور بہت صفاتی ناموں سے بھی مگر "مسلمان" ہونے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، کیوں؟  اسلام میں اتحاد پر بہت زور دیا جاتا ہے، جس طرح نماز میں ایک اللہ کی عبادت ایک سمت (قبلہ) کی طرف منہ کرکہ ادا کی جاتی ہے اسی طرح ایک نام "مسلمان" (عربی:الْمُسْلِمِينَ) بھی اتحاد مسلمین کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے- نام سے فرق پڑتا ہے خاص طور پر جو نام الله تعالی نے خود عطا فرمایا ہو.... مکمل تفصیلات اس برقی کتاب پر پڑہیں... یا وزٹ کریں  ............  http://salaamone.com/muslim


  1. دین و مذھب کے نام کی اہمیت
  2. سلام ، اسلام ، مسلم ، مسلمان 
  3. دین اسلام اور مسلمین
  4. مسلمانوں کے صفاتی نام 
  5. قرآن میں "مسلمان" نام کی تاکید اور حکم (امر) ہے
  6. قرآن کو چھوڑنے والے بدترین علماء
  7. فرقہ واریت 
  8. قرآن ، اسلام اور مسلمان 
  9. قرآن کو 'حدیث' بھی کہا گیا
  10. قرآن کی عظمت، آیات کا منکر اورعذاب 
  11. أطِيعُوا الرَّسُولَ
  12. کلام الله پرایمان  عمل مسلمان پرفرض ہے
  13. قرآن و حدیث کی اہمیت 
  14. اہل حدیث 
  15. کتابت حدیث
  16. اسلام، مسلمان -  دین آیات
  17. قرآن ، اسلام، مسلمان -  دین آیات
  18. قرآن راہ ہدایت
  19. فرقہ واریت کی ممانعت
  20. 73 فرقوں والی حدیث
  21. اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان، مسلمان  فروعی اختلافات خارج نہیں کرتے:
  22. اہل ایمان کی بخشش 
  23. فرقہ واریت کا خاتمہ - پہلا قدم 
  24. گروپ ڈسکشن- صفحہ 36 سے آخر تک

وزٹ : 
http://salaamone.com/muslim
 

برقی کتاب پی ڈی ایف ، آن لائن پڑھیں یا ڈونلوڈ ، شئیر کریں

 http://bit.ly/2GMq4cb  : برقی کتاب - پی ڈی ایف لنک  

SalaamOneسلام  is a nonprofit e-Forum to promote peace among humanity, through understanding and tolerance of religions, cultures & other human values. The collection is available in the form of e-Books. articles, magazines, videos, posts at social media, blogs & video channels. .Explore the site English and Urdu sections at Index
علم اور افہام و تفہیم کے لئے ایک غیر منافع بخش ای فورم ہے. علم،انسانیت، مذہب، سائنس، سماج، ثقافت، اخلاقیات اورروحانیت امن کے لئے.اس فورم کو آفتاب خان،  آزاد محقق اور مصنف نے منظم کیا ہے. تحقیقی کام بلاگز، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیو چننل اور برقی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے.اس  نیٹ ورک  کو اب تک لاکھوں افراد وزٹ کر چکے ہیں, مزید تفصیلات>>>  Page Index - Salaam One 
 ..........................................................................
 مزید پڑھیں: 
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس <<< لنک پر پڑھیں>>
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

  3. خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید Reconstruction of Religious Thought in Islam-  http://goo.gl/lqxYuw
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

سلام - Salaam One

 English [Index ....... ]


علم اور افہام و تفہیم کے لئے [سلام SalaamOne]  ایک غیر منافع بخش ای فورم ہے، جو علم کے زریعہ انسانیت کو امن کے قریب لانے کی ایک کوشش ہے .اس فورم کو آفتاب خان نے منظم کیا ہے. تحقیقی کام بلاگز، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیو چننل اور برقی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے. اس Index - انڈیکس  پر منتخب پوسٹس کی مختصر لسٹ ہے ، مزید تفصیلات کے لیے "Search", Categories, Tabs" پر تلاش کریں -   نیٹ ورک  کو اب تک لاکھوں افراد وزٹ کر چکے ہیں, مزید تفصیلات .....

تفکر ، تحقیق و تجزیہ



  1. صیہونی مسیحیت Christian Zionism: پروٹسٹنٹ عیسائیت کے اندر سب سے بڑی، سب سے زیادہ متنازع اور سب سے زیادہ تباہ کن تحریک ہے- یہ مشرق وسطی میں کشیدگی کو برقرار رکھنے، اسرائیلی کے تمييز عنصريapartheid، استعمارپسندانہ ایجنڈا  اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کے عمل کوکمزورکرنے میں بنیادی طور پر ذمہ دارہے-امن عالم کے لیے یہ تحریک سب سے بڑا خطرہ ہے>>> صیہونی مسیحیت..]

  1.  خطبات اقبال – اسلام ، تفکر کا انداز جدید
  2. اقوام کے عروج و زوال کا قانون اور قرآن
  3. اسلامی دنیا کی تباہی کا منصوبہ – برنارڈ لوئس پلان 
  4. جاگو جاگو جاگو امت مسلمہ
  5. مسلمانوں کا نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور حل
  6. غیر مسلم معاشرے میں مسلمان
  7. دورجدید میں اسلامی تفکر
  8. عقل مذہب
  9. پاکستان- چلینجز اور راه حل 
  10. پاکستان – مسائل کی دلدل اور ترقی کا راستہ 
  11. دین اسلام کے نفاذ کی اسٹریٹجی 
  12. دہشت گردی: قومی بیانیہ ’’پیغام پاکستان‘‘
  13. اسلامی ریاست میں تصور اقامتِ دین  
  14. اسلام، جمہوریت اور کفر: تحقیقی جائزہ
  15. جمہوریت اورخلافت : تحقیقی جائزہ   
  16. ولایت فقه
  17. پاکستانی ’نیم جمہوریت‘ اور دنیا میں جمہوریت پر کم ہوتا اعتماد 
  18. ووٹ کی شرعی حیثیت
  19. جہاد اور فساد – تحقیقی جائزہ:  
  20. میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت
  21. مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے تعلقات 
  22. جمود
  23. درس نظامی کی تجدید نو
  24. نقاب ، حجاب
  25. علم حدیث , فرقہ واریت اورقران – تحقیقی مضامین 
  26. ختم نبوت اور قادیانی فتنه- تحقیقی جائزہ 
  27. تاریخی واقعات دین اسلام کی بنیاد ؟
  28. نیا فتنہ: شہداء کی ميتوں کو قبروں سے نکال کر کفارکو تبليغ:  
  29. سانحۂ کربلا – متوازن تحقیق و تجزیہ
....................................................

مذھب 

    1. خالق کائنات کون؟
    2. خدا کے وجود کے عقلی دلائل 
    3. خدا اور کائینات 
    4. توحید اور بائبل 
    5. مسیحی اور مسلمان کا خدا؟
    6. بائبل کے مطابق یسوع کون ہے؟ 
    7. خدا پر تنقید
    8. کوانٹم فزکس کے عجیب و غریب اسرار
    9.  قرآن – ابدی معجزہ
    10. قرآن حکیم سب سے بڑا معجزہ
    11. قران – راہ ھدایت و نجات 
    12. سیرت النبی  ﷺ
    13. رسول اللہ صلعم کا آخری خطبہ حج
    14. میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت
    15. قانون ہدایت و گمراہی
    16. اگراللہ گمراہ کرتا ہے، دلوں پر مہر کرتا ہے تو سزا کیوں؟
    17. نجات، بخشش، ایمان اور اعمال – مغالطے
    18. نماز کی اہمیت ، مسائل ، طریقه اور جمع بین الصلاتین
    19. اسلامی دعوت تبلیغ دین اور اس کے اصول
    20. فتنہ تکفیر و ارتداد
    21. نفاذ شریعت اور حکمران- مسئلہ تحکیم
    22. قیامت کب ؟
    23. قیامت اور قانون شفاعت 
    24. اہل ایمان کا صلہ: بشرط نیک اعمال  
    25. کفار کے رفاہی کاموں کا اجر 
    26. عمرہ کا طریقہ  
    27. جمعہ کی فضیلت 
    28. جمعہ کا خطبہ غیر موثر کیوں ہوتا ہے ؟ 
    29. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اجتہاد
    30. کیا کلمہ طیبہ پڑھ لینا ہی نجات کے لئے کافی ہے؟ 
    31. دنیا کا سب سے تیزی سے بڑھنے والا مذہب اسلام 
    32. اسلام پر چاليس(40) اعتراضات کے عقلی و نقلی جواب

فرقہ واریت 

  1. فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم
  2. مسلمان کون؟
  3. عمر ضائع کردی
  4. اختلاف فقه اور اتحاد مسلم
  5. بریلوی , دیو بندی‎‎ کون ہیں؟
  6. بدعت ، بدا، 1
  7. بدعت – اَحاديث و اَقوالِ اَئمہ -2
  8.    فرقہ وارانہ مذہبی بیانیوں پر مختصر تبصرہ
  9. فرقہ واریت – تاویلیں، دلائل اور تجزیہ
  10. تقلید کی شرعی حیثیت
  11. مقلدین اورغیر مقلدین
  12. اَہْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ‘‘ کون؟ 
  13. تاریخی واقعات دین اسلام کی بنیاد ؟
  14. شیعہ عقائد اور اسلام
  15. شیعیت-عقائد-و-نظریات
  16. تکفیری، خوارج فتنہ 
  17. انسداد فرقہ واریت 
  18. امام خامنہ ای – خونی ماتم ممنوع

اخلاقیات 

  1. کبیرہ گناہ اور قرآن
  2. رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی
  3. غیبت، جھوٹ اور بہتان بازی سنگین گناہ
  4. نجات، بخشش، ایمان اور اعمال – مغالطے
  5. بنی اسرائیل اور آج کے مسلمان
  6. نفس کی غلامی
  7. بچیوں کی حرمت - معاشرہ کی ذمہ داری  
  8. نقاب ، حجاب: قرآن , حدیث اور اجماع  
  9. نقاب ، حجاب  
  10. امر معروف 
  11. وفات، میت ، نماز جنازہ ، تعزیت
....................................................

 متفرق 

  1. فضول سوالات اور بحث 
  2. سوشل میڈیا :اسلام دشمن ڈسکشن 
  3. سوشل میڈیا پر ڈسکشن کے آداب
  4. خدا اور الحاد 
  5. عاصمہ جہانگیر 
  6. پاکستان نامہ 
  7. پاکستان کے روحانی پہلو 
  8. فری کتب  

امن اور جنگ 


  1. صیہونی مسیحیت Christian Zionism: پروٹسٹنٹ عیسائیت کے اندر سب سے بڑی، سب سے زیادہ متنازع اور سب سے زیادہ تباہ کن تحریک ہے- یہ مشرق وسطی میں کشیدگی کو برقرار رکھنے، اسرائیلی کے تمييز عنصريapartheid، استعمارپسندانہ ایجنڈا  اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کے عمل کوکمزورکرنے میں بنیادی طور پر ذمہ دارہے-امن عالم کے لیے یہ تحریک سب سے بڑا خطرہ ہے-
  1. آزادی فلسطین اور امن کی جدوجہد میں آپ کا کردار  
  2. امریکا افغان جنگ
  3.  مشرق وسطی جنگ اور ایران- سعودی کردار
  4. شرق وسطیٰ : امن میں ایران – پاکستان- ترکی اور سعودی کردار 
  5. بائبل آیات جنگ 
  6. اسلام اور دیگرسامی مذاہب میں تصور رواداری کا تحقیقی و تقابلی جائزہ
  7. مسئلہ کشمیر 
  8. اسلامی دنیا کی تباہی کا منصوبہ – برنارڈ لوئس پلان 
...........................................................

کیٹگریز 

  1. پاکستان  
  2. معاشرہ
  3. سیاست
  4. کرپشن
  5. اسلام
  6. قرآن
  7. محمد صلعم
  8. ختم نبوت
  9. مسلمان
  10. کشمیر
  11. جہاد
  12. فساد
  13. حدیث
  14. متفرق
  15. تجزیہ
SOCIAL MEDIA:
VIDEO CHANNELS:

نماز (الصَّلَاةَ) کی اہمیت


فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّاo إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْئًاo (قرآن ، مریم ١٩:٥٩،٦٠)

"پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گویا اسے) کھو دیا۔ اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے۔ سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی-ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو اسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا"(قرآن ، مریم ١٩:٥٩،٦٠)

الله تعالی نےپہلے (سورہ مریم کی آیات ٥٦،٥٧ ،٥٨) میں  نیک لوگوں کا خصوصا انبیاء کرام علیہم السلام جو حدود الہٰی کے محافظ ، نیک اعمال کے نمونے بدیوں سے بچتے ہیں  ذکر کرنے کے بعد یھاں برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بےپرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واہیات کی وہ کیا پرواہ کریں گے ؟ کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل وبہتر ہے- یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ کئے انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا بڑے گھاٹے میں رہیں گے-
نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑنا بیٹھنا ہے ۔ اسی لئے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور بہت سے سلف خلف کا مذہب ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے ۔ یہی ایک قول حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ بندے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے ۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ہم میں اور ان میں فرق نماز کا ہے جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا ۔ اس مسئلہ کو تقصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام نہیں یا نماز کے ترک سے مراد نماز کے وقتوں کی صحیح طور پر پابندی کا نہ کرنا ہے کیونکہ ترک نماز تو کفر ہے-

حضرت ابن مسعود (رض) سے دریافت کیا گیا کہ قرآن کریم میں نماز کا ذکر بہت زیادہ ہے ، کہیں نمازوں میں سستی کرنے والوں کے عذاب کا بیان ہے ، کہیں نماز کی مداوت کا فرمان ہے ، کہیں محافظت کا ۔ آپ نے فرمایا ان سے مراد وقتوں میں سستی نہ کرنا اور وقتوں کی پابندی کرنا ہے ۔ لوگوں نے کہا ہم تو سمجھتے تھے کہ اس سے مراد نمازوں کا چھوڑ دینا اور نہ چھوڑنا ہے- آپ نے فرمایا یہ تو کفر ہے-

حضرت مسروق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنے والا غافلوں میں نہیں لکھا جاتا ، ان کا ضائع کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے اور ان کا ضائع کرنا ان کے وقتوں کی پابندی نہ کرنا ہے ۔ خلیفۃ المسلمین امیرالمومنین حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ اس سے مراد سرے سے نماز چھوڑ دینا نہیں بلکہ نماز کے وقت کو ضائع کر دینا ہے۔ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ بدترین لوگ قریب بہ قیامت آئیں گے جب کہ اس امت کے صالح لوگ باقی نہ رہے ہوں گے اس وقت یہ لوگ جانوروں کی طرح کودتے پھاندتے پھریں گے ۔ عطابن ابو رباح رحمۃ اللہ علیہ یہی فرماتے ہیں کہ یہ لوگ آخری زمانے میں ہوں گے-

حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ اس امت کے لوگ ہوں گے جو چوپایوں اور گدھوں کی مانند راستوں میں اچھل کود کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو آسمان میں ہے بالکل نہ ڈریں گے اور نہ لوگوں سے شرمائیں گے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا یہ ناخلف لوگ ساٹھ سال کے بعد ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کر دیں گے اور شہوت رانیوں میں لگ جائیں گے اور قیامت کے دن خمیازہ بھگتیں گے ۔ پھر ان کے بعد وہ نالائق لوگ آئیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ۔ یاد رکھو قاری تین قسم کے ہوتے ہیں مومن منافق اور فاجر-
راوی حدیث حضرت ولید سے جب ان کے شاگرد نے اس کی تفصیل پوچھی تو آپ نے فرمایا ایماندار تو اس کی تصدیق کریں گے ۔ نفاق والے اس پر عقیدہ نہ رکھیں گے اور فاجر اس سے اپنی شکم پری کرے گا ۔
حضرت کعب بن احبار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم میں منافقوں کے وصف قرآن کریم میں پاتا ہوں ۔ یہ نشے پینے والے ، نمازیں چھوڑنے والے ، شطرنج چوسر وغیرہ کھیلنے والے ، عشا کی نمازوں کے وقت سو جانے والے ، کھانے پینے میں مبالغہ اور تکلف کرکے پیٹو بن کرکھانے والے ، جماعتوں کو چھوڑنے والے-

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مسجدیں ان لوگوں سے خالی نظر آتی ہیں اور بیٹھکیں بارونق بنی ہوئی ہیں ۔ ابو شہب عطا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت داؤد علیہ السلام پر وحی آئی کہ اپنے ساتھیوں کو ہوشیار کر دے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشوں سے باز رہیں جن کے دل خواہشوں کے پھیر میں رہتے ہیں ، میں ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیتا ہوں جب کوئی بندہ شہوت میں اندھا ہوجاتا ہے تو سب سے ہلکی سزا میں اسے یہ دیتا ہوں کہ اپنی اطاعت سے اسے محروم کر دیتا ہوں-
مسند احمد میں ہے مجھے اپنی امت میں دو چیزوں کا بہت ہی خوف ہے ایک تو یہ کہ لوگ جھوٹ کے اور بناؤ کے اور شہوت کے پیچھے پڑ جائیں گے اور نمازوں کو چھوڑ بیٹھیں گے ، دوسرے یہ کہ منافق لوگ دنیا دکھاوے کو قرآن کے عامل بن کر سچے مومنوں سے لڑیں جھگڑیں گے ۔ غیا کے معنی خسران اور نقصان اور برائی کے ہیں-
ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ غی جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور نہایت سخت عذابوں والی ۔ اس میں خون پیپ بھرا ہوا ہے-

پھر فرماتا ہے ہاں جو ان کاموں سے توبہ کرلے یعنی نمازوں کی سستی اور خواہش نفسانی کی پیروی چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گیا اس کی عاقبت سنوار دے گا اسے جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچائے گا ، توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کرا دیتی ہے ۔ اور حدیث میں ہے کہ توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے بےگناہ-  یہ لوگ جو نیکیاں کریں ان کے اجر انہیں ملیں گے کسی ایک نیکی کا ثواب کم نہ ہوگا ۔ توبہ سے پہلے کے گناہوں پر کوئی پکڑ نہ ہوگی ۔ یہ ہے کرم اس کریم کا اور یہ ہے حلم اس حلیم کا کہ توبہ کے بعد اس گناہ کو بالکل مٹا دیتا ہے ناپید کر دیتا ہے ۔ سورۃ فرقان میں گناہوں کا ذکر فرما کر ان کی سزاؤں کا بیان کر کے پھر استثنا کیا اور فرمایا کہ اللہ غفور ورحیم ہے ۔
(ماخوز تفسیر ابن کثیر)
Related image
Related image
.......................................


نماز کی اہمیت ، مسائل ، طریقه اور جمع بین الصلاتین
نماز( الصَّلٰوةَ)  ادا کرنے کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید میں کثرت سے نماز کا ذکر آیا ہے، کچھ درج ذیل  ہیں: 


باجماعت نماز





.........................................................


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:

Also Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
SalaamOne

Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
Web,Books, Articles, Magazines,, Blogs, Social Media,  Videos
Over 3 Million visits/hits