Featured post

فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم

آج کے دور میں مسلمان کئی فرقوں میں بٹ چکے ہیں اگرچہ ان کی اکثریت اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات پر متفق ہے مگر فروعی اختلافا...

islam-democracy-kufir اسلامی جمہوریت یا کفر؟ تحقیقی جائزہ



جمہوریت کوئی الہامی نہیں بلکہ انسانی کوشش ہے جس کو بتدریج تجربہ کے بعد موجودہ شکل میں بہتر گوڈ گورننس کے لیے مفید پایا گیا ہے- مغرب اس کے فوائد میں اگے ہے مگر تیسری دنیا اور اسلامی ممالک اپنی پسماندگی، جہالت اور کرپشن کی وجہ سے کما حقه فوائد حاصل کرنے سے قاصر ہیں-یھاں جمہوریت صرف نام کی ہے مگر اپنی ناکامی کا ذمہ دار جمہوریت کو قرار دیا جاتا ہے- کچھ لوگ جمہوریت کو اسلام سے متصادم نظام کفر قرار دے کر مسلمانوں کی اکثریت کو خارج ازاسلام قرار دیتے ہیں اورخلافت متبادل حل پیش کرتے ہیں جوقدیم اسلامی عربی قبائلی معاشرہ میں کامیابی سے کچھ دیر چلا- ان میں شریعت، اسلام کے شوری اور انصاف کے اصول دائمی ہیں جو ہر معاشرہ اور ٹائم میں قیامت تک مشعل راہ ہیں-
اسلام نے کوئی بھی ایک مخصوص نظام حکومت مسلمانوں پر فرض قرار نہیں دیا اور نہ نفاذاسلام کا مطلب کسی مخصوص نظام کا قیام ہے بلکے نفاذ اسلام دراصل اسلامی قوانیں، اصول و ضوابط اور اسلامی تعلیمات کو نافذ کرنے کا نام ہے۔چنانچہ اگر ان جمہوری اصولوں کو جو اسلام سے متصادم ہیں کو اسلامی اصولوں سے بدل دیا جائے جیسے کے عوامی حاکمیت کے مغربی تصور کو ہمارے آئین میں رد کیا گیا ہے اور قانون سازی کا قران و سنت کے مطابق ہونا لازم قرار دیا گیا ہے تو جمہوریت نفاذاسلام میں کسی طور کوئی رکاوٹ نہیں ہے بلکے اگر خالص جمہوری اصولوں کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خود جمہوری اصولوں کا تقاضا ہے کہ ہمارے ہاں اسلامی نظام کا قیام عمل میں لایا جائے اسلیے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں پاکستان غالب مسلم اکثریت والا ملک اور عوام کی یہ اکثریت ملک میں ایک حقیقی اسلامی نظام کے نفاذ کی تمنا و خواہش ہی نہیں بلکے مستقل رائے بھی رکھتی ہے۔
تاریخ انسانی میں ریاست اور مملکت کے وجود کے ساتھ ہی ریاست کے بہترین انتظام،عوام کی فلاح و بہبود اور آزادی کے نئے نئے تصورات اور نظریات بھی عام ہونے شروع ہو گئے۔ انسانی فلاح و بہبود اور آزادی کے ہر تصور و نظریے میں اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ ریاست کا نظام ان خطوط پر استوار ہونا چاہئیے کہ جس میں ریاستی باشندوں کو ہر طرح کی سہولت اور آزادی فراہم کی جائے ، عوام کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔ جمہوریت بھی اسی غور و غوض کی داستان کا ایک باب ہے جو نہ صرف یہ کے اس وقت دنیا کا سب سے مقبول ترین نظام حکومت ہے بلکے آج کی تاریخ میں مختلف ریاستوں اور ممالک کے سفر انقلاب کو اگر ایک سطر میں بند کیا جائے تو وہ شخصی حکومت یعنی آمریت اور بادشاہت سے عوامی اقتدار یعنی جمہوریت کا سفر ہی ہے۔
جمہوریت کو سادہ الفاظ میں عوامی حکومت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جمہوری معاشرے میں اس بات کا دعویٰ کیا جاتا ہے اقتدار کی اصل مالک عوام ہے۔جمہوریت کی جائے ابتدا تو اگرچہ مغرب ہے لیکن جب یہ نظریہ اسلامی ممالک میں داخل ہوا تو جمعوریت کا ایک نیا ایڈیشن بھی سامنے آیا جسے اصطلاح میں اسلامی جمعوریت کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس وقت دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں اسلامی جمہوریت ہی رائج جس میں کے ایران اور پاکستان سر فہرست ہیں۔اسلامی معاشروں میں جمہوریت کی آمد کے ساتھ ہی جمعوریت کے اسلامی اور غیر اسلامی ہونے کی بحث کا بھی آغاز ہو گیا جو آج تک جاری وساری ہے۔
شوریٰ :
جمہوریت کے حوالے سے سورۂ شوریٰ (۴۲) میں اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک اسلوب میں فرمایا ہے:
''اور ان(مسلمانوں) کا نظام ان کے باہمی مشورے کی بنیاد سے چلتا ہے۔'' ( ۳۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں:
''میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے والا نہیں پایا۔''(ترمذی، کتاب الجہاد)
ہر معاملے میں عملی طور پر تمام مسلمانوں سے مشورہ لینا ناممکن ہے۔اس صورت حال میں مختلف طبقات کے نمائندہ افراد سے مشورہ لیا جا سکتا ہے۔ اصل میں مشاورت کے لیے کوئی طریق کا ر اختیار کرنے کا مسئلہ دینی نہیں، تمدنی ہے۔
اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جب مشورہ لیا جائے گا تو لوگ ایک دوسرے سے اختلاف بھی کریں گے۔ اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟ اس معاملے میں بھی دین نے ہدایت کر رکھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
''الجماعۃ (یعنی مسلمانوں کی ریاست) پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ چنانچہ جب کوئی اس سے الگ ہوتا ہے تو اسے شیاطین اچک لے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے جب تم لوگ کوئی بڑا اختلاف دیکھو، تو (عمل کے معاملے میں) اکثریتی گروہ کی پیروی کرو۔ کیونکہ جو ریاست سے الگ ہوا، اسے الگ کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔''(المستدرک، کتاب العلم)
اسی ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جب تم اختلافات دیکھو تو اکثریت کی رائے کی پیروی کرو۔'' (ابن ماجہ، کتاب الفتن)
ظاہر ہے کہ اختلافات کے باوجود نظام تو چلانا ہے، کاروبار زندگی تو معطل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس مسئلے کا اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ اکثریت کی بات پر عمل شروع کر دیا جائے۔ اس میں یہ ہو سکتا ہے کہ کبھی اکثریت کی بات صحیح نہ ہو، مگر اجتماعی شعور رکھنے والے جانتے ہیں کہ معاملات، بہرحال اسی بات کے مطابق چلانا ہوں گے۔ البتہ دوسری راے رکھنے والے اپنی راے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ دلیل اور تہذیب سے دوسروں کو قائل کر سکتے ہیں۔ اگر وہ اکثریت کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی رائے آپ سے آپ قانون بن جائے گی۔
ہمارے ہاں جمہوری نظام کو چار بنیادی اور اصولی نقات کی بنیاد پر اسلام سے متصادم قرار دیا جاتا ہے:
1. جمہوریت کفر و شرک؟
ان بنیادی نقات میں پہلا نقطہ یہ ہے کہ مغرب کے جمہوری نظام میں عوام کی حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے جبکے خالص اسلامی نظام میں حاکمیت کا اختیار فقط اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے اور اس میں کسی دوئی کو اسلام ہر گز قبول نہیں کرتا چنانچہ یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جسکی بنیاد پر جمہوریت کو کفر و شرک سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
مغربی طرز جمہوریت میں عوام کی حاکمیت سے مراد یہ ہے کہ جس بھی قانون کو عوام کی اکثریت کی تائید حاصل ہو جائے گی وہ اس ملک کا قانون قرار ے دیا جائے گا چاہے وہ تاریخی، معاشرتی، اخلاقی اور مذہبی روایت اور تعلیمات سے کتنا ہی متصادم کیوں نہ ہو، جبکے اسلامی نظام میں ایسا کوئی بھی اختیار نہ کسی فرد کو اور نہ کسی جماعت کو حاصل ہے کہ وہ اپنے انفرادی یا اجتماعی فیصلے سے اللہ کے اٹل قوانین کو تبدیل کردے۔ مغرب میں پارلیمنٹ ہم جنس پرستی اور شادی کو جائز قرار دیتی ہے مگر پاکستان کی پارلیمنٹ ایسا قانون جو قرآن و سنت کے خلاف ہو پاس نہیں کر سکتی اور نہ آیئن کی اسلامی تشخص کو تبدیل کر سکتی ہے چاہے ٢/٣ اکثریت ہو ، سپریم کورٹ اس کو کالعدم قرار دے گا کیونکہ یہ آئین کی اسلامی روح کے خلاف ہے-
2. اکثریت کی بات مانی جائے تو وہ اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیتے ہیں:
جمہوریت کو خلاف اسلام قرار دینے کا استدلال قرآن مجید کی حد تک ان دودلائل پر مبنی ہے:
ایک یہ کہ سورۂ انعام میں متنبہ کیا ہے کہ اگر لوگوں کی اکثریت کی بات مانی جائے تو وہ اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیتے ہیں۔ جمہوریت کا پورا نظام چونکہ اکثریت کی راے پر استوار ہے، اِس لیے یہ اپنی اساس ہی میں اسلام کے منافی ہے۔
دوسرے یہ کہ سورۂ نساء میں اور بعض دوسرے مقامات پر اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ انسانوں پر انسانوں کی راے کی نہیں، بلکہ قرآن و سنت کے احکام کی حکومت قائم ہے۔ جمہوریت، اس کے برعکس عوامی راے کی بالادستی کا نام ہے۔چنانچہ اِس طرز حکومت کو اختیارکرنے سے قرآن و سنت کی بالا دستی قائم نہیں رہتی۔
یہ دونوں، بلا شبہ قرآن مجید ہی کے ارشادات ہیں اور ہر لحاظ سے برحق اور واجب التعمیل ہیں، مگر اِن سے جمہوریت کی مخالفت پراستدلال درست نہیں ہے۔ سورۂ انعام میں ارشاد ہے:
وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِّلُوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلاَّ الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلاَّ یَخْرُصُوْنَ.(۶: ۱۱۶)
’’ اور اگر آپ روئے زمین کی اکثریت کا اتباع کرلیں گے تو یہ راسِ خدا سے بہکادیں گے.یہ صرف گمان کا اتباع کرتے ہیں اور صرف اندازوں سے کام لیتے ہی"(الانعام 6:116)
یہ آیت اصول کا نہیں، امر واقعی کا بیان ہے۔ اِس میں یہ حقیقت نمایاں کی گئی ہے کہ لوگوں کی اکثریت بالعموم گمراہی پر کھڑی ہوتی ہے، لہٰذا اگر اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اُن کی پیروی کی تو وہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ بیش تر لوگ رسوم و رواج کے پابند اور آبائی طور طریقوں کے پیرو ہوتے ہیں۔ وہ محکم دلائل پر کھڑے نہیں ہوتے، بلکہ قیاس آرائیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور علم و استدلال کے بجاے ظن و گمان کو بنیاد بناتے ہیں۔ اُن کے نظریات، اُن کے تصورات، اُن کے افکار، اُن کے اعمال، سب واہموں، اندازوں اور اٹکلوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ لہٰذا حق کے متلاشی کو یہ روش اختیار نہیں کرنی چاہیے کہ چونکہ زیادہ لوگ فلاں بات کہہ رہے ہیں، اِس لیے وہی صحیح اور لائق اتباع ہے۔ اِس کے بجاے اللہ کی ہدایت کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنانا چاہیے۔
قرآن کی یہ آیت سیاق و ثبات سے ہٹ کر (out of context) کوٹ کی جاتی ہے, جو تکفیری خوارج کا طریقه ہے:
” امام ا بو عبیدہ نے فضائل قرآن میں اور سعید بن منصور نے ابراہیم تمیمی سے بیان کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ بات سوچ رہے تھے کہ اس امت میں اختلاف کیسے واقع ہو سکتا ہے۔ پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کو بلوایا اور فرمایا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ اس امت کا نبی ایک، قبلہ ایک، کتاب ایک پھر یہ امت اختلاف میں کیسے پڑے گی ….؟ (یعنی بظاہر یہ ممکن نہیں۔ )- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا : اے امیر المومنین یہ قرآن ہم میں نازل ہوا ہم نے اسکو نبی سے پڑھا اور ہمیں معلوم ہے(کون سی آیات) کس بارے نازل ہوئی۔ جبکہ ہمارے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن انہیں یہ معلوم نہ ہو گا کہ کونسی آیت کس بارے نازل ہوئی اور وہ خود سے اس کے بارے رائے زنی کرینگے ۔ جب اپنی اپنی آراء پہ چلیں گے تو ان میں اختلاف ہو گا۔۔۔ [فضائل قرآن لابی عبیدۃ]- اسی پہ امام شاطبی فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا یہ فرمانا برحق ہے کہ جب آدمی کو علم ہو کہ یہ آیت کس بارے نازل ہوئی تو وہ اسکے ماخذ، تفسیر، اور شریعت کے مقصد کو معلوم کر لیتا ہے اور زیادتی کا شکار نہیں ہوتا تو جب کوئی آدمی اپنی نظر سے کئی احتمالات بنانا شروع کردیتا ہے تو ایسے لوگوں کے علم میں پختگی نہی ہوتی اور یہ لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ اسکی وضاحت اس واقع سے بھی ہوتی ہے جب سیدنا نافع رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ صحابی رسول عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کی حروریہ(خوارج)کے بارے کیا رائے ہے تو انہوں نے فرمایا : وہ انکو اللہ کی سب سے بدترین مخلوق سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خوارج کفار کے بارے نازل شدہ آیات کو مسلمانوں پہ فٹ کرتے ہیں۔
اس آیت (الانعام 6:116) میں گمراہ(کفار) اکثریت کا ذکر ہو رہا ہے جو کہ خود بھٹکے ہوے ہیں، آخرت پر یقین نہیں رکھتے، اسی لیےاکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگران کا کہا مان لیں تو وہ خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں-
اب دوسری طرف جب  مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو ان کا معاملہ جدا ہے، مسلمان ایمان رکھتے ہیں الله ، رسول ، کتاب (قرآن) اور آخرت پر، مسلمان توخود رسول الله صلعم اور قرآن سے ہدایت حاصل کرتے ہیں نہ کہ رسول الله صلعم ان سے؟ لہٰذا یہ مطلب نکلنا کہ رسول الله صلعم کو مسلمانوں کی اکثریت سے ھدایت حاصل کرنا، بے معنی معلوم ہوتا ہے- اسی طرح مسلمانوں کودین قرآن و سنت سے حاصل کرنا ہے نہ کہ کسی ملحد، کافر سے- اس وقت بھی دنیا میں اکثریت ملحد اور کفار کی ہے ان سے دین حاصل نہیں کیا جا سکتا اگر کوئی ایسا کرے گا تو گمراہ ہو جائے گا-
ایسے معاملات جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں نظم و ضبط ایڈمنسٹریشن سے تعلق ہے ان سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے- جیسے ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی کے آلات کی تعلیم اور استعمال ، بدر کے قیدیوں سے بچوں کو تعلیم دینے کا فدیہ لیا گیا ، کفار نے کوئی دینی تعلیم نہیں دی تھی- اب بھی مغرب سے اعلی ٹیکنولوجی اور علوم سے لے کر  ٹریفک کے قوانین سےتمام دنیا بشمول اسلامی ممالک  فائدہ اٹھا رہے ہیں- اسی طرح پہلے ہاتھ اٹھا کریا ہاتھ ملا کر اپنی حمایت کا اظھار کیا جاتا تھا ، پھر پرچی آ گئ اور اب ڈیجیٹل مشین انگوٹھہ سے تیزی سے کام ہوتا ہے- جمہوری طریقه میں مسلمان کفار کو نہیں بلکہ مسلمانوں کا چناؤ کرتے ہیں نہ وہ کفار سے ہدایت لیتے ہیں، یہ ایک چناؤکا اڈمنسٹریشن کاطریقه ہے جس سے ایمان و دین محفوظ ہے- مسلمان اگر کوئی بہتر طریقه ایجاد کر لیں تو سب اس پر عمل کرنا شروع کر دیں گے-
مسلمانوں کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ''الجماعۃ  پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ چنانچہ جب کوئی اس سے الگ ہوتا ہے تو اسے شیاطین اچک لے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے جب تم لوگ کوئی بڑا اختلاف دیکھو، تو (عمل کے معاملے میں) اکثریتی گروہ کی پیروی کرو۔ کیونکہ جو ریاست سے الگ ہوا، اسے الگ کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔''(المستدرک، کتاب العلم)- ''جب تم اختلافات دیکھو تو اکثریت کی رائے کی پیروی کرو۔'' (ابن ماجہ، کتاب الفتن)
درحقیقت آیت (الانعام 6:116) حق و باطل کے فیصلے سے متعلق ہے۔ یعنی اگر حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہوگا تو یقیننا اکثریت کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ مثلا ساری دنیا بھی مل کر اگر یہ کہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے تو بھی اسے ماننا ایک مسلمان کے لیے لازم نہ ہوگا۔ لہذا اگر آپ ایک سچ بات کو لے کر کھڑے ہیں تو چاہے ساری دنیا آپکےخلاف ہو جائےاسکی کوئی اہمیت نہیں ہوگی صحیح اور درست کا فیصلہ صرف دلیل کی بنیاد پر ہوگا اکثریت کے فیصلے پر نہیں۔ سورة الانعام کی یہ آیت درحقیقت اس حق و باطل کی نشاندہی کرتی ہے اور مسلمانوں کو بتاتی ہے کہ یہ سچائی کی دعوت ہے چاہے ساری دنیا اسکا انکار کیوں نہ کر دے۔ اس آیت کا درست سیاق و سباق جاننے کے لیے آیت نمبر 113 سے لے کر 116 تک ایک ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ یہاں طرز حکومت کی بات نہین ہو رہی: "اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو (112) اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں (113)(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا (114) اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے (115) اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں(116) تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہیں (6:117) مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی اِس آیت (6:116 )کی شرح میں لکھتے ہیں: ''یعنی بیش تر لوگ جو دنیا میں بستے ہیں، علم کے بجائے قیاس و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور ان کے عقائد، تخیلات، فلسفے،اصول زندگی اور قوانین عمل، سب کے سب قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں، بخلاف اس کے اللہ کا راستہ، یعنی دنیا میں زندگی بسر کرنے کا وہ طریقہ جو اللہ کی رضا کے مطابق ہے، لازماًصرف وہی ایک ہے جس کا علم اللہ نے خود دیا ہے نہ کہ وہ جس کولوگوں نے بطور خود اپنے قیاسات سے تجویز کر لیا ہے۔ لہٰذا کسی طالب حق کو یہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا کے بیش تر انسان کس راستہ پر جا رہے ہیں، بلکہ اسے پوری ثابت قدمی کے ساتھ اس راہ پر چلنا چاہیے جو اللہ نے بتائی ہے، چاہے اس راستہ پر چلنے کے لیے وہ دنیا میں اکیلا ہی رہ جائے۔ '' (تفہیم القرآن ۱/ ۵۷۵)

مدعا یہ ہے کہ کسی راے کی تائید میں لوگوں کی تعداد کی کثرت اُس کے مبنی بر حق ہونے کی دلیل نہیں ہے ، لہٰذا اُن کی اکثریت کو کبھی حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کا معیار نہیں بنانا چاہیے۔ یعنی کسی بات کے حق یا باطل اورصحیح یاغلط ہونے کا فیصلہ علم و استدلال کی بنیاد پر کرنا چاہیے ، اکثریت یا اقلیت کی بنا پر نہیں کرنا چاہیے۔

چنانچہ اگر کوئی انبوہِ کثیر کسی بات کا پرچار کر رہا ہو تو محض اُس کی کثرت کو دیکھتے ہوئے یہ یقین نہیں کر لینا چاہیے کہ اُس کی بات مبنی بر حق ہے، بلکہ اُسے دین و دانش کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے اور اُسی بات کو قبول کرنا چاہیے جو اللہ کی ہدایت کے مطابق ہو۔
مولانا امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:
''اکثریت کاغوغا اُس کے حق ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ اِس بھیڑ کو دیکھ کر کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ یہ پتا اللہ کو ہے کہ کون اُس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور کون ہدایت یاب ہیں۔'' (تدبر قرآن ۳/ ۱۴۵)

جمہوریت میں حق و باطل کے نہیں بلکہ نزاع کے فیصلے ہوتے ہیں:
یعنی یہ کہ لوگوں کا نظام کیسے چلے گا، لوگوں کے حقوق انہیں کیسے میسر ہونگے اور اس حوالے سے اگر اختلاف ہو جائے تو اسکا فیصلہ پر امن طریقے سے صرف اور صرف اکثریت کی رائے کی بنیاد پر ہوگا۔  اسی سے ایک متعلقہ اعتراض کثیر الجماعتی نظام پر بھی کیا جاتا ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے لوگوں کو صرف دو گرہوں یا جماعتوں یعنی مسلمان اور کافر میں تقسیم کیا ہے جبکہ جمہوریت میں مختلف جماعتیں ہوتی ہیں لیکن یہاں بھی وہی بات ہوگی کہ یہ حق و باطل کا فیصلہ نہیں بلکہ ملکی انتظام کو چلانے  اور نزاع کے فیصلوں کا معاملہ ہے۔ اور اگر  ان فیصلوں کو لوگوں کی اکثریت پر نہ چھوڑا جائے تو پھر  صرف بندوق و تلوار کا آپشن ہی باقی رہ جاتا ہے۔ لہذا سورة الانعام کی یہ آیت سورة الشوریٰ  کی آیت ۳۸ یعنی امرھم شوریٰ  بینھم سے بالکل مختلف بات بیان کر رہی ہے اور قرآن کو آیات کو سیاق و سباق سے باہر کردینے کا یہی نقصان ہوتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ حدیث کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ہم ایک مخصوص حالات میں کی گئی بات کو دین کا عمومی حکم بنا دیتے ہیں۔ مثلا روایتوں میں ذکر ملتا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا رات کو چراغ بچھا کر سویا کرو ، تو اب کیا ہم اسے دین کا حکم مان لیں اور کہیں کہ اگر رات کو بتی بجھا کر نہ سویا جائے تو  یہ گناہ ہو جائے گا؟ ظاہر ہے کہ یہ حکم ایک خاص دور سے متعلق تھا جب لوگوں خیموں میں رہتے تھے اور جہاں چراغ سے آگ لگنے کا خطرہ ہوتا تھا لہذا حکم دیا گیا کے سونے سے پہلے انہیں بجھا دیا کرو، لیکن آج جب ہمارے پاس بجلی کے بلب موجود ہیں تو اس ہدایت کے معنی بالکل ویسے نہیں لیے جائینگے۔

اسلامی جمہوریت پر امت  کی اکثریت کا اجماع ہے۔
آپ (صلى الله عليہ وسلم) کا ارشاد ہے: "عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَايَجْمَعُ أُمَّتِي أَوْقَالَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ"۔
انتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم از کم ایک شہادت کی ہے جس کا چھپانا بھی حرام ہے اور اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام، اس پر کوئی معاوضہ لینا بھی حرام، اس میں محض ایک سیاسی ہار جیت اور دنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے۔
آپ جس اُمیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شرعاً آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریے اور علم و عمل اور دیانت داری کی رُو سے اس کام کا اہل اور دوسرے اُمیدواروں سے بہتر ہے جس کام کے لیے یہ انتخابات ہورہے ہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیں تو اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں:
۱۔ آپ کے ووٹ اور شہادت کے ذریعے جو نمایندہ کسی اسمبلی میں پہنچے گا، وہ اس سلسلے میں جتنے اچھے یا بُرے اقدامات کرے گا اُن کی ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوگی۔ آپ بھی اس کے ثواب یا عذاب میں شریک ہوں گے۔
۲۔ اس معاملے میں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ شخصی معاملات میں کوئی غلطی بھی ہوجائے تو اس کا اثر بھی شخصی اور محدود ہوتا ہے، ثواب و عذاب بھی محدود۔قومی اور ملکی معاملات سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے، اس کا ادنیٰ نقصان بھی بعض اوقات پوری قوم کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے، اس لیے اس کا ثواب و عذاب بھی بہت بڑا ہے۔
۳۔ سچی شہادت کا چھپانا ازروے قرآن حرام ہے۔ آپ کے حلقۂ انتخاب میں اگر کوئی صحیح نظریے کا حامل و دیانت دار نمایندہ کھڑا ہے تو اس کو ووٹ دینے میں کوتاہی کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔
۴۔ جو اُمیدوار نظامِ اسلامی کے خلاف کوئی نظریہ رکھتا ہے، اس کو ووٹ دینا ایک جھوٹی شہادت ہے جو گناہِ کبیرہ ہے۔
۵۔ ووٹ کو پیسوں کے معاوضے میں دینا بدترین قسم کی رشوت ہے اور چند ٹکوں کی خاطر اسلام اور ملک سے بغاوت ہے۔ دوسروں کی دنیا سنوارنے کے لیے اپنا دین قربان کردینا کتنے ہی مال و دولت کے بدلے میں ہو، کوئی دانش مندی نہیں ہوسکتی۔ رسولؐ اللہ نے فرمایا ہے کہ ’’وہ شخص سب سے زیادہ خسارے میں ہے جو دوسرے کی دنیا کے لیے اپنا دین کھو بیٹھے‘‘۔
(بشکریہ مفتی محمد شفیع ؒ مرحوم ، پاکستان کے پہلے مفتی اعظم)

اب دوسری آیت کو لیجیے۔ سورۂ نساء میں ارشاد فرمایاہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ.(۴: ۵۹)
''ایمان والو ،اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔ پھر تمھارے درمیان اگر کسی معاملے میں اختلاف راے ہو تو اُسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔ ''
اِس آیت میں بجا طور پر اللہ اور رسول کے احکام کی بالادستی کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ اور رسول کی اطاعت دین کی اساس ہے۔ مسلمان جب تک مسلمان ہے، اِس سے انحراف نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اِس کا کوئی سوال ہی نہیں ہے کہ انسانوں کا کوئی ادارہ یا اُن کی کوئی جماعت یا اُن کی اکثریت یا تمام بنی نوع انسان اللہ اور رسول کے مقابلے میں اپنی اطاعت کا مطالبہ کریں اور وہ اسلام پر قائم رہتے ہوئے اُن کے اِس مطالبے کو تسلیم کر لے۔ ہر گز نہیں، یہ اُس کے ایمان کے منافی ہے ۔ چنانچہ اُسے اپنی انفرادی زندگی میں بھی اللہ اور رسول کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہے اور اجتماعی زندگی میں بھی اُن کی اطاعت کرنی ہے۔
اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کا حکم قیامت تک کے لیے ہے، لہٰذا مسلمانوں کے نظام حکومت پر اللہ اور رسول کے احکام کی مستقل بالادستی قائم ہے۔ حکومت کے تمام اداروں کے اختیارات اِس اطاعت کے ماتحت ہیں ۔ چنانچہ مسلمانوں کی حکومت کے نظام میں اِس کی قطعاً گنجایش نہیں ہے کہ اللہ اور رسول کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یا اُنھیں نظر انداز کر کے کوئی قانون وضع کیا جائے۔
یہ حکم اُس وقت دیا گیا جب قرآن نازل ہو رہا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس مسلمانوں کے درمیان موجود تھے اور وہ اپنے نزاعات کے لیے جب چاہتے ، آپ کی طرف رجوع کر سکتے تھے ۔ لیکن صاف واضح ہے کہ اللہ و رسول کی یہ حیثیت ابدی ہے ، لہٰذا جن معاملات میں بھی کوئی حکم اُنھوں نے ہمیشہ کے لیے دے دیا ہے ، اُن میں مسلمانوں کے اولی الامر کو، خواہ وہ ریاست کے سربراہ ہوں یا پارلیمان کے ارکان ، اب قیامت تک اپنی طرف سے کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ اولی الامر کے احکام اِس اطاعت کے بعد اور اِس کے تحت ہی مانے جا سکتے ہیں ۔اِس اطاعت سے پہلے یا اِس سے آزاد ہو کر اُن کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ چنانچہ مسلمان اپنی ریاست میں کوئی ایسا قانون نہیں بناسکتے جو اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ہو یا جس میں اُن کی ہدایت کو نظر انداز کر دیا گیا ہو ۔اہل ایمان اپنے اولی الامر سے اختلاف کا حق بے شک رکھتے ہیں، لیکن اللہ اور رسول سے کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا،بلکہ اِس طرح کا کوئی معاملہ اگر اولی الامر سے بھی پیش آ جائے اور اُس میں قرآن و سنت کی کوئی ہدایت موجود ہو تو اُس کا فیصلہ لازماً اُس ہدایت کی روشنی ہی میں کیا جائے گا۔''(۴۸۲)
چنانچہ یہ کہنا محض خلط مبحث اور سوء فہم ہے کہ جمہوریت کو اپنانے سے گمراہی کا راستہ کھلتا ہے اور قرآن و سنت کی بالادستی کا تصور قائم نہیں رہتا۔
جمہوریت بذاتِ خود 'اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ' (اُن کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے) کے قرآنی اصول پر مبنی ہے جس کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ اگر اجماع و اتفاق سے فیصلہ نہ ہو سکے تو اکثریت کی راے کو فیصلہ کن مان لیا جائے۔
چنانچہ اِس اصول کے تحت جمہوری طرزِ حکومت کو اختیار کرنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ عوام یا اُن کے نمایندوں کی اکثریت کے فیصلوں کو عین حق تسلیم کر لیا گیا ہے،بلکہ یہ ہیں کہ فصل نزاعات کے لیے عملاً اکثریتی راے کو فیصلہ کن مان لیا گیا ہے، اور ہر شخص کو یہ حق دیا گیا ہے کہ اُس سے اختلاف کا اظہار کرے اور اُس کے خلاف راے عامہ کو ہموار کرے ۔ اِسی طرح اِس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ قرآن وسنت سے بالاتر ہو کر یا اُنھیں نظر انداز کر کے قانون وضع کرے۔ وہ اگر مسلمانوں کی نمایندہ ہے تو اُسے لازماًاپنے اختیارات کو 'اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ' کے تحت استعمال کرنا ہو گا۔
اِس بات کو ایسے سمجھنا چاہیے کہ اگرایک عدالتی بینچ نے کسی مقدمے کا فیصلہ کثرت راے کی بنا پر کیا ہے تو اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اُس نے قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُس نے اختلاف کی صورت میں فیصلے کو روبہ عمل کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا ہے۔
یہی معاملہ مسلمانوں کی ریاست یا اُن کے اجتماعی نظام حکومت کا ہے۔ اِس میں جب شہریوں کی اکثریتی راے کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوتی ہے تو اِس کے معنی یہ ہرگز نہیں ہوتے کہ اِس کے نتیجے میں اُن کی راے کی برتری علم و استدلال اور قرآن وسنت پر بھی قائم ہوگئی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ قرآن و سنت کی بالادستی کو قائم رکھتے ہوئے متنازع اور اختلافی معاملات میں اکثریت کے فیصلے کو نافذ کیا گیا ہے۔
'اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ' کے اصول کا تقاضا صرف یہ ہے کہ فصل نزاعات کے لیے اکثریت کی راے کو عملاً فیصلہ کن مان لیا جائے۔ اِس کا ہرگز یہ تقاضا نہیں ہے کہ اُس راے کو صحیح بھی مانا جائے اور اُس کی غلطی لوگوں پر واضح کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ دنیا کے تمام دساتیر اور آئینی دستاویزات میں ترمیم کا حق اِسی لیے دیا جاتا ہے کہ اِ ن کی کوئی چیز صحیفۂ آسمانی نہیں ہوتی۔ اہل علم کا فرض ہے کہ برابر اِن کا جائزہ لیتے رہیں اور اگر کہیں کوئی غلطی ہو گئی ہے تو اُس کو درست کرانے کی جدوجہد کریں۔
3. ا ستثنیٰ :
جمہوریت اور اسلام میں دوسرا بنیادی فرق یہ کہ ہمارے جمہوری نظام میں مخصوص افراد کے لیے ا ستثنیٰ کا قانون موجود ہے جب کے اسلام میں ایسی کسی استثنائی صورت کی کوئی کنجائش نہیں ہے۔ اسلام میں قانون کی عملداری کا اندازہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان عالی شان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اگر محمدﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اسکا بھی ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔اسلام کا نظام عدل و انصاف اور احتساب تو اتنا واضح اور کھرا ہے کہ لاکھوں مربع میل پر حکومت کرنے والے وقت کے خلیفہ سے بھرے مجمع میں محض چند درہم کی چادر کا سوال کیا جا رہا ہے اور اور سوال کرنے والا کوئی جج،قاضی یا تفتیشی افسر نہیں ہے بلکے خلیفہ کی رعیت ہی کا ایک عام فرد ہے لیکن خلیفہ وقت بغیر کسی غضے اور غضب کے نہائیت اطمنان سے اپنی صفائی بیان کر رہا ہے۔
4. معافی:
اسلام اور جمہوریت کو باہم متضاد بنانے والا تیسرا نقطہ یہ کہ ہمارے جمہوری نظام میں صدر ریاست کو یہ خصوصی اختیار حاصل ہے کہ وہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں سے سزا پانے والے مجرم کو بغیر کسی وجہ کے معاف کر سکتا چاہے وہ کسی کا قاتل ہی کیوں نہ ہو جب کہ اسلام میں معافی کا اختیار فقط ورثا ء کوحاصل ہے۔
5.اکثریت کی حکومت :
مندرجہ بالا نکات میں آخری نکتہ یہ ہے کہ جمہوریت میں افراد کی اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا چنانچہ جمہوریت کے اس اصول کے تحت کوئی شخص کتنی ہی مبنی بر حقیقت بات کیوں نا کر رہا ہو لیکن اگر اسکے پاس اکثریت نہیں ہے تو وہ اپنی تمام تر صداقت کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکتا،جبکے اس کے برعکس ایک دوسرا شخص جو ایک جھوٹا دعوے لیکر سامنے آتا ہے اور محض طاقت، دولت، عہدے اور برادری کی بنیاد پر عوام کو جبری طور پر اپنے ساتھ ملا لیتا ہے تو مروجہ جمہوری اصولوں کے تحت وہ شخص کامیاب قرار پائے گا۔ جمہوریت کے اس نقص پر تقریبا تمام اہل دانش نے تنقید کی ہے اور اقبال نے بھی اس حقیقت کو یوں بیان کیا کہ:
جمعوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔
آیین پاکستان میں صادق امین کی شرط ہے 62,63 کی شکل میں اگر الیکشن کمیشن اس پر الیکشن سے پہلے سختی سے عمل درآمد کرے تو برے، ناہل لوگ پارلیمنٹ کے ممبر نہیں بن سکتے- ابھی سپریم کورٹ نے پرائم منسٹر کو ناہل قرار دیا اسی بنیاد پر- ایران نے ولایت فقہ کا ادارہ اسی بات کو چیک کرنے کے لیے بنایا ہے- ہم بھی ایک مستقل ادارہ بناین جو امیدواروں کے ریکارڈ کو بہت پہلے چیک کرے کہ وہ ممبر پارلیمنٹ بننے کے اہل ہیں یا نہیں- اس طرح ووٹر کا کام آسان ہو گا ، چند اچھے لوگوں میں سے بہترین کو منتخب کر سکے-
لوگوں کی تربیت کی ضرورت ہے کیونکہ ووٹ تین شرعی حیثیتیں رکھتا ہے:
1۔ شہادت (قابلیت، دیانت،امانت)
2۔ سفارش
3۔ حقوق مشترکہ میں وکالت۔
تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجبِ ثوابِ عظیم ہے اور اُس کے ثمرات اُس کو ملنے والے ہیں، اسی طرح نااہل یا غیرمتدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بُری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے تباہ کن اثرات بھی اُس کے نامۂ اعمال میں لکھے جائیں گے۔
تینوں حیثیتوں میں نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجبِ ثوابِ عظیم ہے اورنااہل یا غیرمتدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت,بُری سفارش اور ناجائز وکالت بھی اور اس کے تباہ کن اثرات بھی اُس کے نامۂ اعمال میں لکھے جائیں گے۔
تجزیہ:
جمہوریت کے ان نقائص پر ایک اجمالی تجزیے کے بعد یہ سوال لازما ہر ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان جمہوریاصولوں میں کسی طرح کا کوئی تغیر و تبدیلی ممکن بھی ہے یا نہیں؟
تو اسکا جواب نہ صرف یہ کے اثبات میں ہے بلکہ متذکرہ بالا نکات میں پہلےنکتہ کا مکمل سدباب آئین پاکستان کے ابتدائیہ میں ان الفاظ کے ساتھ کر دیا گیا ہے کہ:
١.
چونکہ اللہ تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلا شرکت غیر حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اسکی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق حاصل ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے۔
٢.
پاکستان کے جمہور کی منشاء ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں جمہوریت، آزادی،مساوات، اور عدل عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے تشریح کی ہے پوری طرح عمل کیا جائے گا۔
جس میں مسلمانوں کوانفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و متقضیات کے مطابق، جس طرح قران و سنت میں انکا تعین کیا گیا ہے ترتیب دے سکیں۔
٣.
نیز آئین کے ابتدائیہ میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں یہ الفاظ درج ہیں کہ: پاکستان عدل عمرانی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 2میں اسلام کو پاکستان کا مملکتی مذہب قرار دیا گیا اور 2 اے میں قرار داد مقاصد کو دستور کا مستقل حصہ قرار دیا گیا ہے۔
٤.
آئین کے آرٹیکل 31 کے تحت یہ حکومت پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ نا صرف ایسے اقدامات کرے گی کے عوام اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں بلکے ایسی سہولتیں مہیا کرنا جن کی مدد سے وہ قران پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں ،بھی حکومت کی آئینی ذمے داری ہے۔
٥.
دستور پاکستان میں عوام کی حاکمیت کے مغربی تصور کا رد آئین کے آرٹیکل 227 کے ان الفاظ کی شکل میں کر دیا گیا ہے کہ تمام موجودہ قوانین کو قران پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا۔۔۔ اور ایسا کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا جو اسلامی احکام کے منافی ہو۔
٦.
آرٹیکل 227 سے متصل بعد کے آرٹیکلز اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل اور اسکے فرائض منصبی سے متعلق ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل کا مقصد ایک ایسے ادارے کا وجود تھا کہ جو قوانین کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کرے چنانچہ کسی بھی قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے بارے میں اپنی رائے دینا اور سفارشات کا مرتب کرنا اسلامی نظریاتی کونسل کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔
ایران کا اسلامی جمہوری نظام :
اسلامی ممالک میں سر فہرست دوسرے ملک یعنی ایران کے پالیما نی وجمہوری نظام کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایران کا جمہوری نظام بھی دوسرے تمام جمہوری ممالک سے قدرے مختلف بلکے نئی بنیادوں پر قائم ہے۔
ایران میں اگرچہ جمہوریت ہے اور حسب دستور پارلیمنٹ کا ادارہ بھی موجود ہے،
لیکن پارلیمنٹ کے اس ادارے کے ساتھ ساتھ 88 ارکان پر مشتمل مجلس خبرگان رہبری بھی موجود ہے جس کے ارکان کا انتخاب بھی برائے راست عوام کے ووٹوں سے آٹھ سالوں کے لیے کیا جاتا ہیاور مجلس کے ارکان کو مجتہد کہا جاتا ہے،یہی مجلس ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب، نگرانی اور معزولی کا ختیار رکھتی ہے۔
ایران کی اس مجلس یعنی مجلس خبرگان رہبری کے ارکان کی اہلیت کا فیصلہ 12 رکنی شوری یعنی شوریٰ نگھبان کرتی ہے، جو بارہ ارکان پر مشتمل ہے جن میں 6ارکان کا فقیہ ہونا لازمی ہے جبکے دیگر 6 ارکان قوانین کے ماہر ہوتے ہیں۔
شوریٰ نگھبان آئین کی وضاحت،صدارتی انتخابات کی نگرانی ، مجلس خبرگان اور پارلیمنٹ کے ارکان کی منظوری اور پارلیمنٹ کی طرف سے کی جانی والی قانون سازی کا اسلامی اصولوں کے مطابق افادیت کا جائزہ لیتی ہے۔
حکیم الامت، شاعر مشرق اور بقول ڈاکٹر اسرار احمد مجدد تصور دین اسلام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی جمعوریت کے متعلق رائے کے بارے میں انکے فرزند جسٹس(ر) جاوید اقبال مرحوم اقبال کی سوانح حیات زندہ رود میں رقمطراز ہیں کہ: جمہوری طرز حکومت پر ایک مفکر کی حثیت سے انکا اعتراض خالصتا اخلاقی اور اصولی تھا کیونکہ اس میں انتخاب کی بنیاد ووٹروں کی گنتی پر رکھی جاتی ہے اور اس گنتی میں ایک صیح یا مناسب امیدوار محض ایک ووٹ کم پڑنے سے کسی غلط یا غیر مناسب امید وار کے مقابلے میں شکست کھا سکتا ہے۔۔۔۔
لیکن کسی بہتر طرز حکومت کی عدم موجودگی میں اقبال جمہوریتکو ہی موزوں طریق سمجھتے تھے۔اس مرحلے پر یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ اقبال نہ تو مغرب کے سکیولرجمہوری نظام کے حامی تھے، نہ آج کے دور میں اسلام کے روایتی تصور ریاست (خلافت) کو کوئی اہمیت دیتے تھے۔
انکے ذہن میں جو خاکہ تھا اسے جمہوریت کی بنیاد پر ایک جدید اسلامی دستور کا خاکہ سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ سنی ممالک کے جمہوری دساتیر میں میں مجلس آئین ساز کے اندر ولایت فقہ کے مستقل قیام کے حق میں نہ تھے۔
انکے خیال میں مجلس آئین ساز سے باہر نام زدگی کے اصول پر علماء کے بورڈ یا ان پر مشتمل کونسل کوجود میں لایا جا سکتا ہے جن کے اسلامی آئین ساز کے متعلق مشوروں سے منتخب اسمبلیوں کے اراکین استفادہ کر سکتے ہیں۔
مگر اقبال اس طریق کار کو بھی صرف عارضی طور پر اختیار کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ انکی رائے میں بہترین صورت یہی ہے کہ مجلس آئین ساز میں، جسے اقبال اجماع ملت کا اسٹیٹس دینا چاہتے تھے، ایسے وکلاء منتخب ہو کر آئیں جو جدید جورسپروڈنس سے شناسائی کے ساتھ ساتھ فقہ اسلامی کے اصولوں سے بھی واقفیت رکھتے ہوں تا کہ قانون سازی کا کام وقت کے جدید تقاضوں اور قوم کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق انجام دیا جا سکے۔
یہاں اس بات کا بیان بھی میں ضروری خیال کرتا ہوں کہ مجلس آئین ساز یعنی پارلیمنٹ کے اراکین کی اہلیت کے بارے میں یہی رائے میرے لاشعور میں بھی موجود تھی۔
ہمارے ہاں المیہ یہ ہے اراکین پارلیمنٹ کے لیے اہلیت کا ایسا کوئی معیار نہیں بلکے ہمارے ہاں تو ممبر پارلیمنٹ بننے کے لیے تعلیمی قابلیت کا بھی کوئی معیار نہیں جو کہ نہ صرف اسمبلی،پارلیمنٹ جسے ہمارے ہاں مجلس شوریٰ کہا جاتا ہے کی تضحیک ہے بلکے ایک اسلامی ریاست ساتھ مذاق بھی ہے ۔
چنانچہ اراکین اسمبلی کے بارے میں میری ذاتی رائے بھی یہی کہ اراکین اسمبلی کی اہلیت کے لیے باقاعدہ تعلیمی قابلیت کے ساتھ اسلامی اصولوں اور اسلامی قانون سازی سے بھی مناسب شناسائی لازم قرار دی جائے نیز انکی سیرت و کرادر اور ماضی کی شفافیت کو بھی لازم قرار دیا جائے۔
اب رہا یہ سوال کے جمہوریت کے چھوتے نقص کا حل کیونکر ممکن ہے تو اسکا حل یہ ہے جس طرح ہمارے ہاں قانون سازی کے لیے یہ لازم قرار دیا گیا کے تمام تر قوانین قران و سنت کے مطابق ہوں گیوہیں اگر اس بات کا اضافہ بھی کر دیا جائے کے کوئی سیاسی جماعت ایسا کوئی مطالبہ و منشور نہیں پیش کر سکتی جو کسی بھی اعتبار سے اسلام سے متصادم ہو اور امیداواروں کے لیے اہلیت و قابلیت کے معیارات بھی متعین کر دیے جائیں تو اسکا سدباب بھی ممکن ہے۔ چنانچہ یہی وہ جواز ہے جو ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اپنے مجوزہ نظام خلافت میں سیاسی پارٹیوں کے وجود کے لیے پیش کرتے ہیں۔
اسلام نے کوئی بھی ایک مخصوص نظام حکومت مسلمانوں پر فرض قرار نہیں دیا اور نہ نفاذاسلام کا مطلب کسی مخصوص نظام کا قیام ہے بلکے نفاذ اسلام دراصل اسلامی قوانیں، اصول و ضوابط اور اسلامی تعلیمات کو نافذ کرنے کا نام ہے۔چنانچہ اگر ان جمہوری اصولوں کو جو اسلام سے متصادم ہیں کو اسلامی اصولوں سے بدل دیا جائے جیسے کے عوامی حاکمیت کے مغربی تصور کو ہمارے آئین میں رد کیا گیا ہے اور قانون سازی کا قران و سنت کے مطابق ہونا لازم قرار دیا گیا ہے تو جمعوریت نفاذاسلام میں کسی طور کوئی رکاوٹ نہیں ہے بلکے اگر خالص جمہوری اصولوں کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خود جمہوری اصولوں کا تقاضا ہے کہ ہمارے ہاں اسلامی نظام کا قیام عمل میں لایا جائے اسلیے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں پاکستان غالب مسلم اکثریت والا ملک اور عوام کی یہ اکثریت ملک میں ایک حقیقی اسلامی نظام کے نفاذ کی تمنا و خواہش ہی نہیں بلکے مستقل رائے بھی رکھتی ہے۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کے نفاذ اسلام میں رکاوٹ نہیں ہے بلکے ہماری مذہبی جماعتوں کی اپنے اصل منشور و مقصد سے عدم دلچسپی اور انحراف اور اعلیٰ سطح کی اصولی قیادت جو وقتی مصلحتوں، ذاتی و سیاسی مفادات سے پاک اور باہمی اختلافات سے بالاتر ہو اور جس کو اسلام کے ضابطہ حیات سے مکمل شناسائی بھی ہو اور وہ نفاذ اسلام کے لیے پورے صدق دل سے پر عزم بھی ہو کا فقدان نفاذ اسلام کی راہ میں حائل ہے۔ ہمارے ہاں درجنوں مذہبی جماعتیں موجود ہیں جو مذہب ہی بنیاد پر قائم ہوئی ہیں اور ان تمام جماعتوں کا مقصد ومنشور ،مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک کے مصداق ملک میں نفاذ اسلام ہے لیکن در حقیقت کوئی ایک بھی جماعت اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے پورے عزم کے ساتھ کوشاں نہیں بلکے تمام تر جماعتوں کا انداز سیاست روایتی قومی و سیاسی جماعتوں کا سا ہے اور ظاہر ہے کہ اس طرز عمل سے اسلام کی کوئی خدمت ممکن نہیں ہے۔چنانچہ ایسی شخصیت جواس دور میں نفاذ اسلام کے لیے پوری طاقت، قوت کے ساتھ نفاذ اسلام کے لیے کوشش اور جہدو جہد کرے گی وہی دور حاضر کی عہد ساز شخضیت بلکے مُصلح وقت کہلائے اور ایسی جماعت ہی حقیقی معنوں میں ایک اسلامی اور انقلابی جماعت کہلائے گی۔
اس میں شبہ نہیں کہ ہمارے سیاست دانوں کی کا رکردگی اچھی نہیں رہی، لیکن سچ تو یہ ہے کہ معاشرے کے تمام شعبوں اور تمام طبقوں کایہی حال ہے۔ اہل مذہب کی دنیا، دفتروں کا ماحول، ٹریفک کی صورتِ حا ل دیکھ لیجیے۔ کبھی اس عورت کو دیکھیے، جو ساس بن چکی ہے۔ کبھی گزرنے والوں کا راستہ روک کر فٹ پاتھ پر چھابڑی لگائے ہوئے شخص کو دیکھیے جو شام کے گہرے سائے کا فائدہ اٹھا کر باسی اور گلے سڑے پھل بیچ رہا ہوتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ خرابیاں جو ہم سیاست دانوں کے ہاں دیکھتے ہیں وہ پوری شان کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر اور کسی نہ کسی صورت میں معاشرے کے تمام طبقات میں بھی نظر آ جائیں گی۔ یہ کڑوا سچ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہماری سیاسی برائیاں درحقیقت معاشرتی برائیاں ہی ہیں۔
جمہوری نظام کی خامیوں کی اصلاح مزید جمہوریت میں ہے ۔ اصلاح کا کام جمہوری عمل خود بھی انجام دے گا۔ جب بار باربہتر الیکٹورل پراسیس سے موجودہ الیکشن کے طریقه کر کو ریفارم کرکہ انتخابات کاانعقاد ہو گا تو یہ انتخابات چھلنی کا کردار ادا کرنا شروع کر دیں گے اور برے سیاست دانوں کو چھان کر الگ کر دیں گے ۔اس کے علاوہ اہل اصلاح و دعوت لوگوں کے شعور کوبہتر کریں۔ میڈیا جو اہل اقتدار کا احتساب کرتا ہے اس کے اپنے ثمرات ہوں گے۔
(بنیادی مواد ماخوزاعزاز احمد کیانی )
.....................................................
جمہوریت اور خلافت:
خلافت کو جمہوریت کے بالمقابل ایک نظام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافت اور جمہوریت اپنی نوع کے لحاظ سے دو جدا تصورات ہیں جو بالمقابل نہیں ہوسکتے۔
جمہوریت کااگر کوئی تقابل ہوسکتا ہے تو وہ بادشاہت اور آمریت ہے نہ کہ خلافت۔ یہ تینوں نظام دراصل ایک ہی سوال کا جواب دیتے ہیں، وہ یہ کہ:
وہ کیا بنیاد ہے جس پر کسی شخص کو ریاست کا حکمران بنایا جائے گا؟
1. بادشاہت کا جواب ہے کہ بادشاہ کا بیٹا بادشاہ بنے گا۔
2. آمریت کا جواب ہے کہ جو زیادہ طاقت ور ہوگا، وہ جبراً اقتدار پر قبضہ کرلے گا۔
3.جمہوریت کا جواب یہ ہے کہ جس کا انتخاب عوام الناس کریں گے، وہی حکمران بنے گا۔
4. خلافت ایسے کسی سوال کا جواب نہیں ہے،بلکہ مسلمانوں کی چودہ سو برس کی خلافت کی تاریخ میں تینوں طریقے ملتے ہیں۔ خلافت راشدہ میں اس دور میں جو عوامی راے عامہ کو جاننے کا ممکنہ طریقہ تھا، اس کے مطابق عوام کی مرضی کے عین مطابق، مشاورت (شوری) یعنی جمہوری طریقے پر خلفاے راشدین کا انتخا ب کیا گیا۔ جبکہ ان کے بعد ہمیں زبردستی اقتدار پر قبضہ کرنے والے لوگ بھی نظرآتے ہیں اور خاندانی بادشاہتیں بھی نظر آتی ہیں۔
اسی پس منظر میں جمہوریت کے مخالفین سے یہ معلوم کریں کہ وہ اپنے لیے اقتدار میں آنے کا کیا راستہ تجویز کرتے ہیں؟
1.وہ یقیناًعوام کی تائید سے اقتدار میں آنے کی بات تو کرنہیں سکتے، کیونکہ یہی جمہوریت ہے اور یہ ان کے نزدیک کفر ہے۔
2. اللہ تعالیٰ ان کے حق میں وحی اتاریں، اس کا بھی کوئی امکان اب باقی نہیں رہا ہے۔ اس لیے یہ دروازہ بھی بند ہوچکا ہے۔
3. طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کر لیا جائے اور پھر بزور قوت لوگوں پر اپنا خود ساختہ فہم اسلام نافذ کردیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جسے خلافت کے اکثر موئدین پیش کرتے ہیں۔
4.تبلیغ اور اصلاح معاشرہ کی کوشش تاکہ عوام اچھے مسلمان بن کر تبدیلی لایں،یہ بہت کم لوگ سوچتے ہیں-
طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کرنا ہے تو ضرور کیجیے۔ مگر اس حقیقت کو جان لیجیے کہ اسے آمریت کہتے ہیں۔ اسے استبداد کہتے ہیں۔ اسے ظلم کہتے ہیں۔
یہ نظریاتی آمریت وہ طریقہ ہے جسے اختیار کرکے کمیونسٹوں نے تمام وسط ایشیا کے مسلمانوں کو زبردستی کمیونزم کے شکنجے میں جکڑ دیا تھا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر کمال اتاترک نے ترکی کے مسلمانوں پر زبردستی سیکولرازم کو مسلط کیا تھا۔ کیا اس کے بعد ہمیں اس راستے کی شناعت اور غلط ہونے پر مزید کوئی تقریر کرنے کی ضرورت ہے؟
جو لوگ (حزب التحریر، تکفیری طالبان، داعیش وغیرہ) اس راستے کو درست سمجھتے ہیں، وہ دراصل پاکستان کی ہر اقلیت کو یہ اخلاقی جوازدے رہے ہیں کہ جس کو وہ حق سمجھتے ہیں، کسی بھی طرح اقتدار پر قبضہ کرکے اسے نافذ کردیں۔
آپ نے اگر اپنے آپ کو یہ حق دے دیا ہے تو دوسرے لوگوں کو یہ حق خود بخود مل چکا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں مختلف فرقوں کے لوگ بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں، ایسے کسی راستے کے جواز کی باتیں کرنا ایک خوف ناک قسم کے فساد کو جنم دینے کے مترادف ہے۔ ان کے لیے ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے معاشرہ کی تبدیلی، تیاری اور تبلیغ کا راستہ اختیار کیا، جو مناسب ہے-
جمہوریت کا نظام کفر ہونا:
ایک دوسری غلط فہمی جس کا تعلق دین کے غلط فہم سے ہے اورجس کی بنا پر جمہوریت کوبے دریغ کفر کہا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ؛ "جمہوریت میں قانون سازی کی آخری اور فیصلہ کن اتھارٹی چونکہ عوام کو حاصل ہے، اس لیے یہ نظام سراسرکفر و شرک پر مبنی ہے"- مغرب میں تو ایسا ہے مگرآئین پاکستان شریت میں قرارداد مقاصد موجود ہے, جو اسلامی تشخص کی ذمہ دار ہے، اس کے مطابق:
''اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیر حاکمِ مُطلَق ہے۔ اس نے جمہور کے ذریعے مملکت پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے، وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ مجلس دستور ساز نے جو جمہور پاکستان کی نمائندہ ہے، آزاد و خودمختار پاکستان کے لیے ایک دستور مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔ جس کی رُو سے اسلام کے جمہوریت، حریت، مساوات، رواداری اور عدلِ عمرانی کے اصولوں کا پورا اتباع کیا جائے گا۔ مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات ومقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔"
مزید یہ غلط فہمی قرآن مجید ، اس کی دعوت اور اس کے پیغام کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی بنا پر پیدا ہوتی ہے۔ قرآن مجید اس معاملے میں آخری درجے میں واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا انسانوں کے امتحان کے لیے پیدا کی ہے۔ اس امتحان میں اللہ تعالیٰ نے یہ حق انسانوں کو مکمل طور پر دے رکھا ہے کہ وہ چاہیں تو ایمان لائیں چاہیں تو کفر کریں، چاہیں تو عمل صالح کی زندگی گزاریں اور چاہیں تو فسق و فجور کو اپنا معمول بنائیں:
"حق تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے"(قرآن 18:29)
"دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ ہدایت گمراہی سے الگ واضح ہو چکی ہے"۔(قرآن2:256)
"اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرمانبردار ہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟ (99) کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا، اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیتا ہے (100) اِن سے کہو “زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اسے آنکھیں کھول کر دیکھو" اور جو لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے ان کے لیے نشانیاں اور تنبیہیں آخر کیا مفید ہو سکتی ہیں ( سورة يونس 10:101)
"اللہ نے انہیں ان کے کرتوتوں کی وجہ سے (ان کے کفر کی طرف) الٹا پھیر دیا ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اسے ہدایت دو جس سے اس کی بدعملی کی وجہ سے خدا نے توفیق ہدایت سلب کر لی ہے"۔ (قرآن4:88)
یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی بات، اپنی مرضی اور اپنی منشا پوری طرح واضح کرتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ نہ ماننے کے نتائج کیا نکلیں گے۔ یہ بتاتے ہیں کہ ماننے والوں پر خدا کی رحمت کیسے برسے گی۔ مگر لوگوں کو زبردستی مسلمان بنایا جائے، لوگوں سے اچھے کام زبردستی کرائے جائیں، یہ اللہ تعالیٰ کی اسکیم کا سرے سے حصہ ہی نہیں۔
جس جنت کا وعدہ وہ لوگوں سے کرتے ہیں، اس کی ساری قدر و قیمت ہی یہی ہے کہ لوگ اپنی مرضی سے اللہ کے سامنے سر جھکائیں اور جس جہنم کی وعیدیں سنائی گئی ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگ جانتے بوجھتے اور سمجھائے جانے کے باوجود ظلم و عصیان کے مرتکب ہوتے ہیں۔ جبر کسی پہلو سے اس اسکیم کا حصہ نہیں۔
یہ بات اگر واضح ہے تو اس کے بعد جمہوریت کے کفر والی بات بے معنی ہوجاتی ہے۔
جمہوریت انسانوں کو وہی اختیار دیتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔:
حکمرانوں کو منتخب کرنے کا اختیار آیئن ممبر پارلیمنٹ (حکمران) کے لیے صادق اور امین کی شرط رکھتا ہے- شریعت، اسلام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کاحصہ بنانے کا اختیار اور طریقه کار- لوگوں کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ مختلف دعوی داروں میں سے بہترین افراد کا انتخاب کر سکیں، اور ان کو اگلے الیکشن میں ان کو تبدیل کرنے کا اختیار-
اگر یہ حق نہیں دیا جائے گا تو ایک منافق قوم وجود میں آجائے گی جس کے آئین پر اللہ کی حاکمیت کی بات درج ہو گی، مگر جس کے حکمرانوں سے لے کر عوام اور جس کے دانشوروں سے لے کر مذہبی لیڈروں کی اکثریت اپنے اپنے مفادات ، خواہشات اور تعصبات کے پیرو ہوں گے۔ دنیا کے نقشے پر نگاہ ڈالیں آپ کو ایسی قوم کو تلاش کرنے میں زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔
دین کے اجتماعی احکام:
یہاں کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ دین کے اجتماعی احکام کی نفی کی جا رہی ہے۔ اس میں کسی شک کی گنجایش نہیں کہ جس طرح افراد کے لیے دین نے احکام دیے ہیں، ٹھیک ویسے ہی اس نے سیاست اور سماج کے پہلو سے بھی بہت سے احکام دیے ہیں۔ جہاد، حدود، نماز، زکوٰۃ اورامر بالمعروف و نہی عن المنکرکی ریاستی سطح پر ترویج اور ان جیسے اور بہت سے احکام ہیں جن کا تعلق ریاست سے ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ دین کے اجتماعی احکام اللہ تعالیٰ نے کیا حکمرانوں کو مخاطب کرکے دیے ہیں یا وہ اس لیے دیے گئے ہیں کہ کچھ لوگ زبردستی اقتدار پر قبضہ کرکے ان احکام کو اپنے فہم کے مطابق لوگوں پرزبردستی ٹھونس دیں؟
حقیقت یہ ہے کہ احکام اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دیے ہی اس وقت تھے جب وہ حکمران بن چکے تھے۔ پھر اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ احکام ان لوگوں کے لیے دیے گئے ہیں جنھوں نے پوری طرح ایمان کو سمجھ کر قبول کیا اور جو اپنی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق گزارنے کے لیے تیار ہیں۔ اسلام کے اجتماعی احکام ایسی رعایا کے حکمرانوں کو مخاطب کرکے دیے گئے ہیں۔ان احکام کا کوئی تعلق اس بات سے نہیں کہ ایک اقلیتی گروہ اقتدار پر قبضہ کرے اور اپنے تصورات کو جنھیں وہ حق سمجھتا ہو، اسے اکثریت پر نافذ کردے۔ اس طرح نہت سے گروہ کھڑے ہو جائیں گے اور ہر ایک دعوع کرے کہ وہ درست اسلام نافذ کر سکتے ہیں، پھر اپس میں جنگ کریں ، فساد فی الارض اور کیا ہے؟ یہ دین کے ساتھ کھیل عراق ، شام میں داعیش اور تکفیری طالبان فاٹا پاکستان میں کر چکے ہیں-
لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان احکام کو اجتماعی زندگی سے بالکل نکال کرپھینک دیا جائے اور ہم اپنے اجتماعی معاملات اللہ کو چھوڑ کر انسانوں کی مرضی کے مطابق چلائیں؟
ایسا ہرگز مدعا نہیں ہے، یہ یقین ہے کہ اسلام کی شریعت جس طرح آخرت میں فلاح کی ضامن ہے، وہ دنیا میں بھی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ جس طرح افراد کے بارے میں اس کی رہنمائی بہترین نتائج دیتی ہے، اسی طرح اجتماعی زندگی میں بھی اسلام کے قوانین ہی بے مثل ہیں۔ تاہم ان کو زندگی کا حصہ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اہل علم سماجی علوم او ردین میں گہرا تفقہ پیدا کردیں۔ دین میں تفقہ تو خود قرآن مجید کا تقاضا ہے اور سماجی علوم میں اس لیے کہ جدید سماج اپنے ارتقا کے بعد انتہائی پیچیدہ ہوچکا ہے۔ کم از کم اس کی مبادیات سے واقف ہونا لازمی ہے۔
اہل علم اور علما کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام اور خواص، دونوں کو دین کی تعلیم دیں، ان کے شبہات و سوالات کا جواب دیں ، انھیں خدا کے حضور پیشی سے ڈرائیں اور ان کو بتائیں کہ انھوں نے اللہ کی مرضی کے مطابق خودکو نہیں ڈھالاتو اس کے انتہائی بھیانک نتائج نکلیں گے۔ یہی اہل علم کے کرنے کا اصل کام ہے۔
علما میں سے کچھ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں نظام حکومت کو چلانے کی بہتر صلاحیت ہے۔ اور یہ کہ وہ دوسروں سے زیادہ بہتر انداز میں سیاست کے ذریعے سے دین کی خدمت کرسکتے ہیں تو ان کا حق ہے کہ خود کو عوام کے سامنے پیش کریں۔ جمہوری طریقے سے عوامی تائید سے منتخب ہوکر اقتدار حاصل کریں اور جو تبدیلیاں وہ لانا چاہتے ہیں، وہ لائیں۔ تاہم اگر عوام کی اکثریت ہی اسلام کی اجتماعی سطح پر نفاذکے قائل نہیں ہے اگرچہ بظاھر اسلام اسلام کا نام لیتے ہیں ، تو ان پر بالجبر اسلام مسلط کرنے کے بجاے انھیں اس پر قائل کرنے کی کوشش کریں- زبردستی کے تجربات کامیاب نہیں ہوے،سید احمد بریلوی شہید (پشاور) اور داعیش عراق،شام، لیبیا میںاندرونی مزاحمت سے بیرونی حملہ آوروں کے ہاتھ شکست پر اختتام ہوا-
اصلاح معاشرہ بذریعہ تبلیغ ہی درست راستہ ہے:
تاہم اس سب کے باوجود اگر کسی کی یہ راے ہے کہ عوامی خواہشات کے برخلاف کوئی چیز اپنی دانست میں حق سمجھ کر دوسروں پر اس کا مسلط کرنا درست ہے توپھر واضح کریں کہ اگرآج پاکستان کی کوئی اقلیت زبردستی اقتدار پر قبضہ کرکے اپنا نقطۂ نظر سب پر نافذ کردے تو یہ کیسے غلط ہوگا۔کیونکہ وہ تو اپنی بات کو حق ہی سمجھتے ہیں۔
بہرحالایک نقطۂ نظر ہے جسے دلیل کے ساتھ پیش کردیا۔ قبول کرنا یا نہ کرنا لوگوں کا کام ہے۔ ختم نبوت کے بعد اب دعوت کا راستہ ہی ہے کہ اپنا نقطۂ نظر دلیل سے پیش کریں اور بہتر حل کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں-
.................................
ایک مذہبی سیسی جماعت کا جمہوریت پر بیانیہ:
ایک بانی قائد کا بیان : "میں خود بھی جمہوریت کا قائل ہوں اور اس کے لیے میں نے خود بھی جدوجہد کی ہے لیکن ایک جمہوریت یورپ کی ہے اور ایک مسلمانوں کی جمہوریت ہے ،دونوں میں فرق ہے یورپ کے لوگ کہتے ہیں ،عوام کی حکومت ،عوام کے ذریعے ، عوام کے لیے۔ یعنی حاکم اعلی عوام ہے جبکہ اسلام کی جمہوریت میں حاکم اعلی خدا ہے۔ چنانچہ یورپ میں اگر عوام کے نمائندے سارے اکٹھے ہوجائیں ،پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کوئی بھی فیصلہ کریں ،وہ قانون بن جاتا ہے۔جیسا کہ یورپ کی پارلیمنٹ نے طے کر لیا کہ مرد مرد کے ساتھ جنسی تعلقات رکھ سکتا ہے اور شادی بھی کر سکتا ہے تو یہ وہاں کا قانون بن گیا مگر اسلامی جمہوریت میں حاکم اعلی خدا ہے۔ اب اگر صرف پاکستان کے نہیں بلکہ تمام دنیا کے ٦٠ یا ٧٠ کروڑ مسلمان بلکہ اگر سارے انسان اکٹھے ہوجائیں کہ شراب حلال ہے تو ان کا یہ فیصلہ غلط ہے ۔کیونکہ اللہ پاک نے قرآن میں اس کو حرام قرار دیاہے۔اسی طرح اگر عوام زنا کی حلت پر جمع ہوجائیں تو بھی زنا حرام ہے۔حاکم صرف اللہ ہے،اب اگر کوئی یہ کہہ دے کہ حاکم اللہ کے سوا عوام ہے تو اس نے شرک کیا (اقتباس از مفتی xx کی علمی ،دینی وسیاسی خدمات )
اس اقتباس سے
GOVERNMENT OF THE PEOPLE اور FREEDOM OF THE PEOPLE
کے بنیادی اعتراضات کو حل ہوجانا چاہیے ۔ رہا یہ سوال کہ جمہوری طرز حکومت منصوص نہیں یا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی تو اس حوالے سے گزارش ہے کہ ہمیں تسلیم ہے کہ عرب کا فطری مذاق جمہوری نہیں تھا ،مگر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا صدیق اکبر کا انتخاب کثرت رائے کی بنیاد پر ہوا تھااور حضرت عمر کے لاتعداد ریاستی اقدامات میں جمہوری روح نظر آتی ہے بلکہ علامہ شبلی نعمانی نے تو جمہوری حکومت کا بانی اول حضرت عمر ہی کو قرار دیا۔علامہ شبلی رحمہ اللہ کے نزدیک سیدنا صدیق اکبر کا انتخاب اگرچہ کثرت رائے کی بنیاد پر تھا مگر و ہ ایک فوری کارروائی تھی جسے معیار قرار نہیں دیاجا سکتا ۔مگر حضرت عمر کے دور میں اگرچہ وقت کے اقتضا ء سے اس کے تمام اصول و فروع مرتب نہ ہو سکے تاہم جو چیزیں جمہوری حکومت کی روح ہیں سب وجود میں آگئیں تھیں ۔
تاریخ طبری کی ایک روایت کے مطابق حضرت عمر جب کسی امر کو بحث طلب محسوس فرماتے تو لوگوں کو مسجد نبوی میں ایک منادی کی ندا ئالصلوة جامعة کے ذریعے جمع فرماتے اور نماز کے بعد بحث طلب امر پر مشورہ فرماتے ، آپ نے اصحاب الرائے اور اہل نظر صحابہ کرام پر مشتمل ایک شوری کونسل بھی قائم فرمائی جس سے مشورے کے بعد فیصلے صادر فرماتے ۔صاحب کنز العمال نے ان میں سے چھ صحابہ کرام کے نام بھی شمار کروائے ہیں ۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں بحوالہ کنز العمال حضرت عمر کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ لاخلافة الا عن مشورة جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر مشاورت کا یہ التزام بطور تبرع واستحسان کے نہیں بطور جزو خلافت کے فرماتے تھے ۔
کتاب الخراج میں امام ابو یوسف نے حضرت عمر کی ایک تقریر نقل فرمائی ہے جس سے ان کا التزام شورائیت معلوم ہوتا ہے ۔کتاب الخراج ہی کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ ، بصرہ اور شام کے عمال خراج وہاں کے لوگوں کی مرضی ومنشا کے مطابق مقرر کیے گئے ،اور اسی عوامی منشا کے پیش نظر حضرت عمر نے حضرت سعد بن ابی وقاص جیسے عظیم المرتبت صحابی کو کوفہ کی گورنری سے برطرف کر دیاتھا ۔ ارسطو نے درست کہا کہ freedom within law ضروری ہے مگر اس کی جتنی خوبصورت مثال حضرت عمر کے دور میں ملتی ہے تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ایک شخص بھری مجلس میں کھڑے ہو کر آپ سے امر سلطنت کے متعلق سوال کرتا ہے ،ایسی مثالوں سے دور فاروقی بھرا پڑا ہے اتق اللہ یاعمر '(اللہ سے ڈرو ا،ے عمر!)کی صدائوں کا جواب کتنے تحمل وشائستگی سے دیتے ،اللہ اکبر اسے پیرایہ بیاں دیا ہی نہیں جا سکتا ۔
ہمیں ان تاریخ حقائق کو سامنے رکھ کر علامہ شبلی نعمانی کے اس فرمان سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رومیوں کی سفارشات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے متعلق جو تقریر کی تھی وہ درحقیقت حکومت جمہوری کی اصل تصویر ہے اور حکومت جمہوری کی حقیقت آج بھی اس سے واضح تر وصحیح تر نہیں بیان کی جا سکتی (الفاروق ص١٨٤) حضرت عثمان کے طرز انتخاب میں حضرت عبد الرحمن بن عوف نے فرد فرد کی منشا ومرضی معلوم کرنے کے لیے گھر گھر بازار بازار کا دورہ کیا حتی کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پردہ نشیں عورتوں تک سے استفسار فرمایا ۔ معترضین جمہوریت کا مسئلہ مگر خلط مبحث ہے یعنی پیش نظر مغربی جمہوریت ہے اور فتوی اسلامی جمہوریت پر صادر فرما رہے ہیں ۔اقبال کی مخالفت کا تناظر بھی یہی ہے ۔جبکہ جمعیة علماء اسلام اس اسلامی جمہوریت کی علمبردار ہے جس کی جھلک ہمیں خلفاء راشدین کے ادوار میں ملتی ہے،لہٰذا اسلامی جمہوریت پر استدلالی پیرایہ بیاں کو مغربی جمہوریت کی وکالت نہ سمجھا جائے بلکہ جمعیة علماء اسلام اس مغربی جمہوریت کی خود بھی ناقد ہے.
،قائد ملت اسلامیہ مولانا نے مغربی جمہوریت کے دہرے معیار کو ہر فورم پر طشت ازبام فرمایا۔ طاغوتی حرکات کو جتنا جمعیت اور قائدجمعیت نے موضوع بحث بنایا کوئی سیاسی ومذہبی جماعت اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی ۔ اس لئے اس حلقہ فکر کو خلط مبحث کے اس فکری مغالطے سے بچتے ہوئے خود اور معاشرے کو اس علمی ابہام سے بچانا چاہیے ۔ جمہوریت کو غیر منصوص کہنے والوں کے پیش نظر رہنا چاہیے کہ شریعت میں کوئی طرز حکومت منصوص نہیں لہٰذا خلافت راشدہ کی ایسی ذومعنی جزئی امثلہ جس میں جمہوریت کا رجحان بھی نظر آتا ہے کو اپنے موقف پر قاطع اور حتمی قرار دے کر وہ علمی خدمت نہیں ،معاشرتی ابہام کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔
جمعیة کا تصور جمہوریت ایک ایسا مرکز جہد ومساعی ہے جس کی چھتری تلے وہ اقامت دین کی منزل تک رسائی پا سکتے ہیں ،بصورت دیگر دنیابھر کے داخلی منظر نامے میں انہیں اپنا سیاسی کردار اد ا کرنے کیلئے کوئی پلیٹ فارم نہ ملے گا ۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ مذہب کا جمہوریت وریاست سے کیا تعلق ہے؟ تو یہ طبقہ فکر دراصل ملک وریاست کو مذہب کی حدود وقیود سے آزاد دیکھنا چاہتا ہے ،علمی جواب تو اس طبقہ فکر کے لیے بھی وہی ہے جو ہم ما قبل میں بیان کر چکے ہیں مگر ارض وطن کے داخلی منظر نامے کے تناظر میں اسے ایک تاریخی مغالطہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ علامہ اقبال کا تصور پاکستان یا قائد اعظم کی جہد پاکستان ایک حادثاتی کاوش تھی۔ تحریک پاکستان دراصل ایک جذباتی تسلسل تھا۔چنانچہ علامہ اقبال نے ١٩٣٠ میں خطبہ الہ آباد میں فرمایا : میں صرف ہندوستاں میں اسلام کی فلاح وبہبود کے خیال سے ایک منظم اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہوں مارچ ١٩٤٤ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے واشگاف انداز میں فرمایا: پاکستان کے مطالبے کا محرک اور مسلمانوں کے لیے جداگانہ مملکت کی وجہ کیا تھی؟تقسیم ہند کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟ اس کی وجہ ہندئووں کی تنگ نظری ہے نہ انگریزوں کی چال ،یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے قیام پاکستان سے قبل تقریبا ١٠١ مرتبہ اور قیام پاکستان کے بعد ١٤ مرتبہ آن دی ریکارڈ قائد اعظم محمد علی جناح نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق چلنے والی ریاست ہوگی ۔تو جناب ارشاد فرمائیے کہ بانیان پاکستان کے ان ارشادات کا مطلب کیا ہے ؟اس حلقہ فکر سمیت ہر اس شخص کیلئے جو بانیان پاکستان کے ان ارشادات سے متفق نہیں پاکستان میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ۔ اس دھرتی کو اس کے تاسیسی مقاصد سے ہٹانے کی کسی ایسی کوشش کو جمعیة نے کامیاب ہونے دیا نہ ہونے دے گی ۔یہ امر ہر طاغوتی قوت کے پیش نظر رہنا چاہیے کہ جمعیت العلماء ملک میں اپنی سیاسی نقل وحرکت کو کسی طور غیر موثر نہیں ہونے دے گی،کیونکہ جمعیت یہ سمجھتی ہے کہ تنفیذ شریعت واقامت دین کی واحد صورت حکومت اسلامیہ کا قیام ہے جس کی ترغیب وتائید ہجرت کے فوری بعد سرور کائنات ۖ کی تشکیل ریاست مدینہ سے ملتی ہے ۔آپ نے حالات کی سنگینی کی طرف چنداں التفات نہیں فرمایا کہ جس کام کو کرنا ضروری ہے وہی اولاً ہونا چاہیے ،حالات کی نزاکت کو ذرا دیکھئے!حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں : لماقدم النبی ۖ واصحابہ المدینة واوتھم الانصار رمتھم العرب عن قوس واحدة فکانوا لایبیتون الا فی السلاح ولا یصبحون الا فیہ (کنز العما ل جلد نمبر ١ صفحہ نمبر ٣٥٩) آبادی دگنی ہونے کی وجہ سے معاشی نظم زبردست متاثر ہوا،حتی کہ ایک مکی صحابی خطبہ جمعہ کے دوران چلا کر فرمانے لگے یا رسول اللہ ! احرق بطوننا التمر (ہمارے پیٹوں کو کجھوروں نے جلا ڈالا )آپ ۖ نے ان تمام شدائد ،ہجرت کی صعوبتوں اور داخلی بد حالی کی تکالیف کو برداشت فرمایا ۔کیونکہ آپۖ سمجھتے تھے کہ اسلامی دعوت کے صحیح منہج کو تشکیل ریاست کے ذریعے ہی قائم کیا جا سکتا ہے ۔یہی وہ مذہبی بیانیہ وتجدیدی فکر ہے جو ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام کے پیش نظر ہے ۔ایسے حالات میں کہ جب امت ظلم کی آگ کا ایندھن بنے ہوئے اپنی آنکھوں سے اپنا شیرازہ بکھرتا دیکھ رہی ہے، ذاتی مفادات اور خود غرضانہ اقدامات کی سیاست صرف ارض وطن کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے نہایت سنگین ہے ۔اس لئے امت کو فرد کے خول سے نکل کر اجتماعیت کی طرف آنا ہوگا،ذات سے آگے بڑھ کر اسلام کو مطمح نظر بنانا ہوگااور اس زبوں حالی کا حل سوچنا ہوگا،اس کیلئے میری نظر میں جمعیةہی واحد پلیٹ فارم ہے جو ملت اسلامیہ کے دکھوں کا مداوا اور زخموں کا مرہم بن سکے زکی کیفی مرحوم تیرے حسن ذوق کو سلام ، کیا خوب فرمایا: اسلام کی بنیا دپہ یہ ملک بنا ہے اسلام ہی اس ملک کا سامان بقا ہے بنیاد پہ قائم نہ رہے گا تو فنا ہے دنیا کی نگاہوں سے نہیں بات یہ مستور ہم لائیں گے اس ملک میں اسلام کا دستور غیر فارمیٹ متن یہاں داخل کریں-
.........................
جماعت اسلامی اور جمہوریت:
جماعت اسلامی کو کیوں اصرار ہے کہ وہ جمہوری ذرائع سے ہی انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے اور غیرجمہوری ذرائع کے استعمال کی مخالف ہے؟ اس کو چند الفاظ میں بیان کیے دیتا ہوں۔ جماعت نے جو مسلک اختیار کیا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ کسی قسم کے تشدد کے ذریعے سے، یا کسی قسم کی سازشوں کے ذریعے سے انقلاب برپا نہیں کرنا چاہتی، بلکہ جمہوری ذرائع سے ہی انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے۔ یہ قطعاً اس لیے نہیں ہے کہ ہم اپنی صفائی پیش کرسکیں کہ ہم دہشت پسند نہیں ہیں، اور ہمارے اُوپر یہ الزام نہ لگنے پائے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلامی انقلاب اس وقت تک مضبوط جڑوں سے قائم نہیں ہوسکتا، جب تک کہ لوگوں کے خیالات نہ تبدیل کر دیے جائیں، جب تک لوگوں کے اَخلاق، لوگوں کی عادات کو تبدیل نہ کر دیا جائے۔ اگر کسی قسم کے تشدد کے ساتھ، یا کسی قسم کی سازشوں کے ساتھ، یا کسی قسم کی دھوکے بازیوں کے ساتھ اور جھوٹ اور اسی طرح کی مہم کے ساتھ انتخابات جیت بھی لیے جائیں، یا کسی طریقے سے انقلاب برپا کر بھی دیا جائے، تو چاہے یہ انقلاب کتنی دیر تک رہے، یہ اسی طرح اُکھڑتا ہے، جیسے اس کی کوئی جڑ ہی نہ ہو۔ آپ نے [فیلڈمارشل] ایوب خاں صاحب کا دور دیکھا کہ کوئی شخص تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اس شخص کو کوئی ہٹاسکے گا، لیکن جب وہ ہٹے تو یہ معلوم ہوا کہ ان کی کوئی جڑ ہی نہیں تھی۔ اس طرح سے جن لوگوں نے ناجائز ذرائع سے انتخابات جیت کر بظاہر جمہوری طریقے سے اقتدار حاصل کیا ہے، ان کی بھی حقیقت میں کوئی جڑ نہیں ہے۔ ان میں سے کوئی دو آدمی ایسے نہیں ہیں جو ایک دوسرے کے مخلص ہوں۔ ان کو اغراض نے ایک دوسرے کے ساتھ جمع کیا ہے اور اغراض ہی ان کو ایک دوسرے سے پھاڑتی ہیں۔
اب دوسرا کام جو آپ کے سامنے ہے اور بہت بڑا کام ہے، وہ یہ ہے کہ عام لوگوں کے خیالات کو تبدیل کیا جائے۔ عام لوگوں کے اندر اسلامی فکر اور اسلامی نظام کے بنیادی تصورات کو بٹھایا جائے، اور لوگوں کے اندر اخلاقی انقلاب برپا کیا جائے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ پچھلے [برسوں] میں جن لوگوں کے ہاتھ میں ملک کے اختیارات رہے ہیں، خواہ وہ سیاسی اختیارات ہوں، خواہ وہ معاشی اختیارات ہوں، خواہ وہ تعلیمی اختیارات ہوں، جن لوگوں کے ہاتھ میں بھی ملک کو چلانے کے اختیارات رہے ہیں، انھوں نے قوم کے ذہن کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے، اور اس کو اسلام سے دُور سے دُور تر کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخرکار مشرقی پاکستان، پاکستان سے الگ ہوگیا۔ وہاں یہ ذہن پیدا کیا گیا کہ بنگالی بولنے والا ہندو اور مسلمان ایک قوم ہیں اور جو بنگالی نہیں بولتا وہ دوسری قوم ہے۔ اور اب یہاں اس کفر کو پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہاں ملک کے اندر یہ ذہن پیدا کیا جارہا ہے، اور زبردستی پیدا کیا جارہا ہے کہ یہ پٹھان ہے، یہ بلوچی ہے، یہ سندھی ہے اور یہ پنجابی ہے۔ کیا یہ پاکستان کی بنیاد تھی؟ سارے ہندستان کے مسلمان یہ بھول گئے تھے کہ وہ مسلمان ہونے کے سوا بھی کچھ ہیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے انھوں نے کوشش کی اور متحدہ مطالبہ کیا، تب پاکستان وجود میں آیا۔ اگر گجراتی، مدراسی، سندھی، پٹھان اور پنجابی الگ الگ قوم رہتے اور الگ الگ اپنی قومیتوں کا تصور رکھتے تو پاکستان کبھی نہیں بن سکتا تھا۔
اس موقعے پر یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہاں جمہوریت کو کبھی چلنے نہیں دیا گیا اور جمہوری طریقے سے جب کبھی انتخابات ہوتے ہیں، وہ انتہائی بے ایمانی اور تشدد، اور انتہائی بددیانتی کے ذریعے سے ہوتے ہیں۔ ہمیں اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس کے لیے پوری جدوجہد کرنی ہوگی کہ جن لوگوں کے ہاتھوں سے یہ کام لیا جارہا ہے، ان کے ذہن کو تبدیل کیا جائے۔ ہمیں یہ کوشش کرنی ہے کہ انتخابات کے مراکز پر اگر کچھ لوگ بے ایمانیاں کرنا چاہیں بھی تو نہ کرسکیں۔
ایک وقت ایسا آتاہے جب یہ خیالات ملک کے اندر پوری طرح سے مضبوطی سے جم جاتے ہیں اور قوم کے اندر پورا ارادہ پیدا ہوجاتا ہے، تو پھر کوئی طاقت انقلاب آنے سے نہیں ک سکتی۔ یہ ہر راستے سے آتا ہے۔ ایسے راستے سے آتا ہے کہ جس کے بند کرنے کا خیال کوئی سوچ تک نہیں سکتا۔ آپ اس بات کی فکر نہ کریں کہ انقلاب کس راستے سے آئے گا۔ آپ صرف کام کریں۔ اپنی سیرت کو درست کریں۔ جب آپ اسلام کی طرف دعوت دینے اُٹھیں گے تو لوگ یہ دیکھیں گے کہ یہ دعوت دینے والے کیسے لوگ ہیں۔ (مولانا مودودی ،ہفت روزہ، ایشیا، لاہور، اپریل ۱۹۷۴ء)
.................................
اسلامی جمہوریت، مغربی جمہوریت سے مختلف ہے کہ حاکمیت اللہ کی اور قانون کی بنیاد شریعت (قرآن و سنت ) ہے-جمہوریت میں بہت خامیاں ہیںم جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے- دوسرا طریقه آمریت کا یا بزور طاقت حکومت پر اسلام یا نفاذ شریعت کے نام پر قبضہ کرنا ہے، جو اس زمانہ میں مشکل ہے اور فساد . قتل و غارت کا سبب ہے-
ایک طرف جمہوریت پر کفر کے فتوے اور دوسری طرف علماء اور عوام کی اکثریت اسلامی جمہوریت کو نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ اس میں شامل ہیں- امید ہے کہ تمام مسلمان فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کراپنی قوتوں کو منفی سمت کی بجایے نظام کی بہتری اور معاشرہ کی اخلا قی تربیت کی طرف مرکوز کرکہ اسلام اور ملک کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں-
..........................................
ضرور پڑھیں: خلافت اور شریعت، مگر کیسے؟ تحقیقی جائزہ: لنک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلام فورم نیٹ ورک - ٹاپ پاپولر/ منتخب پوسٹس:
~~~~~~~~~~~~~~~~~

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہاٹس اپپ"یا SMS کریں