Featured post

خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید

یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22 قرآن) جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور...

قوم پرستی اور اسلام Nationalism and Islam

آجکل نسلی عصبیت پرفخرکرنےکا بہت رواج ہے-

لوگ سندھی، بلوچی، پنجابی ، مہاجر پختون ہونے پرفخرکرتےہیں- تاریخ ظاہرکرتی ہے کہ اس خطہ میں جن لوگوں نے کوئی قابل ذکر کام کیا وہ اکثر مسلمان کی حثیت سے تھا ناکہ نسلی برتری پر اگرچہ قومی روایت کا بھی اہم کردارتھا-

قوم پرست (nationalist) کے معنی ایک ایسا فرد ہے جو کہ اپنی قوم سے محبت رکھتا ہے اور اس کو آزاد اور خوشحال اور برسر ترقی دیکھنا چاہتا ہے۔
اکثر مسلم مفکرین قوم پرستی کو انسانیت کے لئے زہر قاتل قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر قوم پرستی کا جذبہ صرف اپنی قوم کی ترقی تک محدود ہوتا تو یہ ایک شریفانہ جذبہ ہوتا، لیکن درحقیقت یہ محبت سے زیادہ عداوت، نفرت اور انتقام کے جذبات اس کو جنم دیتا ہے۔
قوم پرست کے جذبات اپنی قوم کے مجروح اور کچلے ہوئے جذبات یا بعض اوقات زیادتیوں یا مظالم سے بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس کا آغاز اپنی قوم کے خلاف ہونے والی ناانصافیوں سے ہوتا ہے۔ اس کے مقاصد اول ان بے انصافیوں کی تلافی کرنا ہوتا ہے جو کسی دوسری قوم نے واقعی یا خیالی طور پر برپا کررکھی ہوں۔
اس جذبہ کر کوئی اخلاقی ہدایت، کوئی روحانی تعلیم، یا شریعت الٰہی رہنمائی اور ہدایت فراہم نہیں کررہی ہوتی لہٰذا یہ جذبہ معاشی قوم پرستی، نسلی منافرت کا باعث بنتا ہے۔ اس جذبہ کےباعث بدامنی، جنگ اور قتل و غارت گری تاریخ میں ملتی ہے۔
جنوبی ایشیا میں مسلم قوم پرستی سے مراد وہ تمام سیاسی اور تہذیبی اقدامات ہیں جن کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں اسلام کی بنیاد پر مسلمانوں کاالگ تشخص قائم کرنا تھا۔
مسلم قوم پرستی کی سوچ دہلی کے سلاطین اور مغل شہنشاہوں کے اس زمانے میں رائج ہوئی جب یہاں اُن کا راج تھا اور یہاں پر وسطی ایشیائی ریاستوں سے لوگ آکر آباد ہونا شروع ہوئے-

پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا- یعنی ہندوستان میں صف دو قومیں ہیں 1)  مسلمان  2) غیر مسلم (ہندو اور دوسرے ). 
جنگ آزادی 1857ء کے دس سال بعد علی گڑھ مکتبہ فکر کے بانی سرسید احمد خان نے ہندی اردو جھگڑے کے باعث 1867ء میں جو نظریہ پیش کیا ، اسے ہم دو قومی نظریے کے نام سے جانتے ہیں۔ اس نظریے کی آسان تشریح یوں کی جاسکتی ہے کہ اس کے مطابق نہ صرف ہندوستان کے متحدہ قومیت کے نظرئیے کو مسترد کیا گیا بلکہ ہندوستان ہی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو علیحدہ اورکامل قومیں قراردیا گیا۔ انڈین نیشنل ازم پر یقین رکھنے والوں کے لیے دو قومی نظریہ صور اسرافیل بن کر گونجا ۔ ہماری شاہراہ آزادی پر دو قومی نظریہ وہ پہلا سنگ میل ہے جسے مشعل راہ بنا کر مسلمانان ہند بالآخر 1947ء میں اپنی منزل مقصد کو پانے میں سرخرو ہوئے۔

اسلام نسل ، زبان، علاقہ کی بنیاد پر قوم پرستی کو مسترد کرتا ہے- لہٰذا قوم پرست افراد اسلام کے اصولوں کے خلاف کام کرتے ہیں. ہم سب سے پہلے انسان پھر مسلمان (بنی آدم) پھر قبیلہ یا گروہ صرف پہچان کے لیے نہ کہ برتری کے لیے- اسلام میں تمام انسان برابر ہیں ، برتری صرف ایمان و تقویٰ اور اچھے اعمال کی بنیاد پر:

يٰـاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰـکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَـآئِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اﷲِ اَتْقٰـکُمْ ط اِنَّ اﷲَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ.
الحجرات، 49 : 13

’’اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ با عزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہو، بیشک اللہ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
:﴿وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُکُمْ﴾(انفال،آيت ٤٦)؛ "خبر دار آپس ميں لڑائي جھگڑے سے دور رہنا ورنہ کمزور پڑ جائو گے اور تمہاري بني ہوئي يہ ہوا اکھڑ جائے گي تمہارا شيرازہ بکھر جائے گا"۔
واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا (آل عمران ١٠٣)
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو
اور کبھی سارے مسلمانوں کو ایک جٹ ہو کر صلح وآشتی کے ساتھ رہنے کی تاکید کی :
فاتقوااللہ واصلحو اذات بینکم (انفال ١)
تقویٰ الٰہی اختیار کرو اور آپس میں صلح و بھائی چارگی کا برتائو کرو .
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ مسلمانوں کے درمیا ن عقد اخوت قائم کیا یعنی ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی بنایا جسکے بعد قرآن مجید کی یہ آیت بھی نازل ہو گئی : انما المؤ منون اخوة
سارے صاحبان ایمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں ۔
گویا عقد اخوت رسول ہی کے زمانے کے لئے نہیں تھا ، یہ ایک دائمی حکم اور عہد وپیمان ہے جو ہمیشہ بر قرار رہے گا قرآن کی رو سے ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور رہے گا ، رنگ و نسل ، قوم وقبیلہ کی کوئی تفریق نہیں ، معیار فقط اسلام ہے اور بس .
ولا تنازعوافتفشلوا و تذہب ریحکم (انفال ٤٦)
خبر دار آپس میں لڑائی جھگڑے سے دور رہنا ورنہ کمزور پڑ جائو گے اور تمہاری بنی ہوئی یہ ہوا اکھڑ جائے گی تمہارا شیرازہ بکھر جائے گا .

یہی حقائق جو قرآن میں بیان فرمائے گئے ہیں، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ان کو مختلف خطبات میں مختلف مواقع پر تفصیلاً بیان فرمایا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر فرمایا۔
ألحمد ﷲ الذی أذهب عنکم عيبة الجاهلية و تکبرها. بأباها الناس رجلان برتقی کريم  صلی الله عليه وآله وسلم  علی اﷲ وفاجر شقی هين علی اﷲ، والناس بنو آدم و خلق اﷲ آدم من تراب.
سيوطی، الدر المنثور، 7 : 579
’’شکر ہے اس خدا کا جس نے تم سی جاہلیت کا عیب اور غرور دور فرمایا، لوگو! تمام انسان صرف دو قسم کے ہیں۔ ایک نیک، پرہیزگار، اللہ کی نگاہ میں عزت والا۔ دوسرا فاجر بدبخت جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہوتا ہے۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے بنایا‘‘۔
حجۃ الوادع کے موقع پر فرمایا :
يٰا أيّها الناس ان ربکم واحد لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لأسود علی أحمر ولا لا حمر علی أسود إلا بالتقوی إن أکر مکم عند اﷲ أتقٰــکم ألا هل بلغت؟ قالوا بلی يا رسول اﷲ قال فليبلغ الشاهد الغائب.
بيهقی، شعب الايمان، 4 : 289، الرقم :  5137
’’لوگو! سن لو، تمہارا خدا ایک ہے کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی کالے کو سرخ اور کسی سرخ کو کالے پر تقوی کے سوا کوئی فضیلت نہیں۔ بے شک تم میں اللہ کے نزدیک معزز وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔سنو! کیا میں نے تمہیں بات پہنچا دی؟ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ہاں! فرمایا تو جو آدمی یہاں موجود ہے وہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچا دے جو موجود نہیں‘‘۔
ایک حدیث میں ہے :
إن اﷲ لا ينظر إلی صورکم وأموالکم ولکن ينظر إلی قلوبکم و أعما لکم.
ابن ماجه ، السنن ،2 : 1388، الرقم :  4143
’’بے شک اللہ تمہاری صورتیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دل اور تمہارے عمل دیکھتا ہے‘‘۔

یہ تعلیمات صرف الفاظ کی حد تک ہی محدود نہیں بلکہ اسلام نے ان کے مطابق اہل ایمان کی ایک عالمگیر برادری عملاً قائم کر کے دکھا دی ہے۔ جس میں رنگ، نسل، زبان، وطن اور قومیت کی کوئی تمیز نہیں۔ جس میں چھوت چھات اور تفریق و تعصب کا کوئی تصور موجود نہیں۔ جس میں شریک ہونے والے تمام انسان خواہ کسی قوم، نسل، وطن، رنگ اور زبان سے تعلق رکھنے والے ہوں، بالکل مساویانہ حقوق کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں۔ اسلام کے مخالفین تک کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ انسانی مساوات اور وحدت کے اصولوں کو جس طرح کامیابی کے ساتھ مسلم معاشرے میں عملی صورت دی گئی ہے، اس کی کوئی نظیر دنیا کے کسی ملک، کسی دین اور کسی نظام میں کہیں نہیں پائی گئی۔ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جس نے دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے مختلف قبیلوں اور قوموں کو ملا کر ایک امت بنا دیا ہے۔
پنجاب ، سندھ ،بلوچ، انڈیا اور پختون اکثریت کے مسلمانوں نے  پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا- خیبر پختون خواہ (سابقہ صوبۂ سرحد) کے غیور مسلمانوں نے ہندوستان کی تقسیم کے وقت ،ریفریڈم میں اسلامک ریپبلک پاکستان کے حق میں ووٹ دے کر پختون قوم پرستی کوہمیشہ ہمیشہ کے لینے مسترد کردیا-  اب پنجابی ، سندھی، بلوچی، پختون یا مہاجر قوم پرستی پر سیاست صرف انتشار، فساد اور پاکستان دشمن قوتوں کی مدد کے مترادف ہے- ہان اپنی برادری کے فایدہ، حقوق اور ترقی کے لیے کام کرنے پر کون اعتراض کر سکتا ہے؟
قرآن و حدیث کے واضح احکام کے بعد بھی اگر ہم نسل ، زبان کی بنیاد پر قوم پرستی کا پرچار کریں اور اپنے آپ کو مسلمان بھی کہیں یہ کیسے ممکن ہے ؟ 
قوم پرستی کی ابتداء:
 قوم پرستی کی ابتداء قدیم دور یا قدیم جاہلیت کے دور سے ہی ہوئی ہے۔ زمانہ قدیم میں انسان کے جذبات قوم کی جگہ نسل یا قبیلہ سے وابستہ تھے۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے اس دور میں قوم پرستی کے بجائے نسل پرستی کا دور تھا۔ اس نسلی عصبیت میں بڑے بڑے فلسفی بھی مبتلا تھے۔ 
قوم پرستی کی تاریخ:
یہ قوم پرستی کی ابتداء تھی جس نے بعد میں یورپ میں ترقی کی منازل طے کیں۔ قوم پرستی کے جراثیم کی نشوونما کو ایک طویل عرصہ تک مسیحیت کی طاقت نے روکے رکھا۔ جو اس امر کی جانب اشارہ ہے کہ ایک نبی کی تعلیم اگرچہ وہ کیسی ہی بگڑی ہوئی صورت میں موجود ہووہ بہرحال قوم پرستی اور نسل پرستی کی جگہ ایک وسیع انسانی نقطہ نظر رکھتی ہے۔
قوم پرستی کی روک تھام میں رومن ایمپائر (رومی سلطنت) کی قوت نے بھی کردار ادا کیا اور بہت سے چھوٹی قوموں کو ایک مشترکہ اقتدار کا مطیع و فرمانبردار بنا کر قومی اور نسلی تعصبات کی شدت کو کم کیا۔
مذہبی اور سیاسی وحدت کا تعلق ٹوٹنے کے بعد جب قومیں ایک دوسرے سے الگ ہوئیں تو ان کی جدا جدا خود مختار قومی ریاستیں وجود میں آنے لگیں۔ ہر قوم کی زبان اور لٹریچر نے الگ الگ ترقی کرنی شروع کی۔ لہٰذا ہر قوم کے معاشی مفاد دوسری ہمسایہ قوموں سے مختلف ہوتے گئے۔ اس طرح نسلی، سیاسی، معاشی اور تہذیبی بنیادوں پر قومیت کا ایک نیا تصور پیدا ہوا جس نے عصبیت کے قدیم جاہلی تصور کی جگہ لے لی۔ پھر مختلف قوموں میں نزاع، چشمک اور مسابقت Competition کا سلسلہ شروع ہوا۔
لڑائیاں ہوئیں ایک قوم نے دوسری قوموں کے حقوق پر ڈاکے ڈالے۔ ظلم اور شقاوت کے بدترین مظاہرے کئے گئے۔ جن کی وجہ سے قومیت کے جذبات میں روز بروز تلخی پیدا ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ قومیت کا احساس رفتہ رفتہ ترقی کرکے قوم پرستی میں تبدیل ہوگیا۔
یورپ میں قوم پرستی
مغربی اقوام میں قوم پرستی ہمسایہ قوموں کے ساتھ مسابقت اور تصادم سے پیدا ہوئی ہے۔ اس لئے اس میں چار عناصر پائے جاتے ہیں۔
جذبہِ افتخار
اپنی قوم پر فخر یا افتخار کا جذبہ اپنی قوم کی روایات اور خصوصیات کی محبت کو پرستش کی حد تک لے جاتا ہے اور اپنی قوم کے اوصاف میں مبالغہ آرائی کرنے لگتا ہے یعنی دیگر تمام قوموں کے مقابلے میں انسان اپنی قوم کو بالاتر اور برتر سمجھتا ہے۔ پھر ہر طرح کے اصلی اور جعلی تفاخر انسان اپنی قوم کے لئے مخصوص کرتا ہے جیسا کہ مصطفٰی کمال پاشا کے دور میں ترکی میں بچوں کو ابتدائی تعلیم کے نصاب میں بچوں کو سکھایا گیا کہ حضرت آدم علیہ السلام ترک تھے۔
جذبہِ حمیت
چاہے انسان پر حق ہو یا ناحق پر مگر قوم پرستی اسے اپنی قوم کی طرفداری پر مائل کرتی ہے۔ قومی حمیت یا غیرت کا جذبہ انسان کو ہر حال میں اپنی قوم کی حما یت اور اپنی قوم کا ساتھ دینے پر آمادہ کرتا ہے۔ آدمی حق و انصاف کے سوال کر نظر انداز کرکے صرف اپنی قوم کی طرفداری کرتا ہے۔
جذبۂ قومی تحفظ
قومی تحفظ کا جذبہ قوم کے حقیقی اور غیر حقیقی و خیالی مفادات کی حفاظت کےلئے قوموں کو ایسے اقدامات و تدابیر اختیار کرنے پر آمادہ کرتا ہے جو مدافعت سے شروع ہوکر دوسری قوموں پر حملہ پر ختم ہوتی ہیں۔
طاقتور بننے کا جنون
استیلا و استکبار یعنی aggrandizement کا جذبہ ترقی یافتہ اور طاقت ور قوموں میں یہ خواہش پیدا کرتا ہے کہ وہ دوسروں کی دولت اور خرچ پر اپنی خوشحالی بڑھائیں۔ اسی کے باعث وہ پسماندہ اقوام میں اپنی تہذیب پھیلانے، ان پر غالب ہونے اور ان کی قدرتی دولت سے استفادہ کرنے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ اسی جذبہ کے تحت مغربی ممالک "امریکہ خدا کا اپنا ملک ہے"، "جرمنی سب سے اوپر"، " اٹلی ہی مذہب ہے“، اور "حکومت کرنا برطانیہ کا حق ہے“ جیسے نظریات رکھتے ہیں۔ ہر قوم پرست ملک یہ سمجھتا ہے کہ "سب سے پہلے میرا وطن“ چاہے وہ حق پر ہو یا ناحق پر۔
مفکرینِ مغرب
فرانسس کوکر قوم پرستی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ "بعض قوم پرست اہل قلم دعوٰی کرتے ہیں کہ آزادانہ زندگی بسر کرنے کا حق دنیا کی صرف ترقی یافتہ قوموں کو ہے۔ ان قوموں کو جو ایسا اعلیٰ درجہ کا تہذیبی اور روحانی سرمایہ رکھتی ہیں جو اس کا مستحق ہے کہ دنیا میں باقی رکھا جائے اور پھیلایا جائے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ ایک اعلیٰ درجہ کی مہذب قوم کا حق اور فریضہ صرف یہی نہیں ہے کہ وہ اپنی آزادی کی حفاظت کرے اور اپنے اندرونی معاملات کو دوسروں کی مداخلت کے بغیر سرانجام دے، بلکہ اس کا حق اور فرض یہ بھی ہے کہ اپنے دائرہ کو ان قوموں پر پھیلائے جو نسبتاََ پسماندہ ہیں۔ خواہ اس کے لیئے قوت ہی کیوں نہ استعمال کرنی پڑے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک اونچے درجے کی قوم اپنا ایک عالمگیر منصب رکھتی ہے“۔
فرانسس کوکر مزید لکھتا ہے کہ " یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ایک بڑی قوم صرف یہی حق نہیں رکھتی کہ وہ اپنے ہونے والے براہ راست حملہ کی مدافعت کرے، اپنی سرحدوں کی حفاظت کرے، اپنی عزت کو پامال نہ ہونے دے بلکہ وہ اس کو مزید آگے بڑھنا چاہئے، پھیلنا چاہئے، اپنی فوجی طاقت بڑھانی چاہئے، اپنا قومی دبدبہ قائم کرنا چاہئے، ورنہ وہ رفتہ رفتہ گرتی چلی جائے گی اور بالآخر قوموں کی مسابقت میں اس کا وجود محو ہوکر رہ جائے گا۔
جنگ قومی توسیع کا فطری ذریعہ ہے، اور جنگ میں فتح یاب ہونا قوم کے اصلح Fittest ہونے کی دلیل ہے“۔
ڈاکٹر بیچ ہاٹ کے بقول وہ جنگ ہی جو قوموں کو بناتی ہے۔
ارنسٹ ہیکل جو جرمنی میں ڈارونیت کا پہلا اور سب سے بااثر پیغمبر گزرا ہے، خود پرستی اور خود غرضی کو عالمگیر قانون حیات قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ قانون انسانی سوسائٹی کے اندر ایک طرح کی نسلی مردم خوری کی صورت جاری ہوتا ہے۔ اس کے خیال میں زمین ان تمام نسلی گروہوں کے لئے کافی سامانِ زندگی نہیں رکھتی جو اس کی آغوش میں جنم لیتے ہیں۔ لہٰذا کمزور گروہ فنا ہوجاتے ہیں۔ ایک تو اس وجہ سے کہ زمین کے محدود وسائلِ زندگی سے سے فائدہ اٹھانے کے لئے جو تنازع برپا ہوتا ہے اس میں وہ دوسرے گروہوں کا کامیاب مقابلہ نہیں کرسکتے۔ دوسرا اس لئے کہ زیادہ طاقتور گروہوں کے فاتحانہ اقدامات کی مدافعت کا کس بَل ان میں نہیں ہوتا۔

پاکستان میں  کچھ لوگ پشتون، پختون، بلوچ ، سندھی اور مہاجر قوم پرستی کی سیاست کر رہے ہیں کیونکہ ملکی لیول پر وہ عوام سے دھوکہ کی سیاست سے ووٹ نہیں کے سکتے لہٰذا  جاہلیت کے دور کی نسلی قوم پرستی ایک قبائلی جہالت زدہ معاشرہ میں  ان کی سیاسی زنندگی ہے-
-----------------------------------------------------


شتر مرغ 

تمام انسانوں کے حقوق محترم ہیں۔ تمام علاقوں اور لسانی گروپوں کے لیے حکمت سے کام لیا جانا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو‘ نرمی سے ۔ وہ قوم مگر کبھی سرسبز نہیں رہ سکتی‘ جو غداروں کو معاف کر دے۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپا لے۔
ٹیپو سلطان دانا‘ حکیم اور ہر دلعزیز تھا۔ ٹوٹ کر لوگ اس سے محبت کرتے تھے۔ ایک جنگ میں شکست ہوئی اور سوا دو کروڑ تاوان کا معاہدہ ہوا۔ سلطان آزردہ تھا ۔پھر اس نے دیکھا کہ جلے ہوئے دیہات سے مخلوق امڈ کر آئی‘ اس کی غیر مسلم رعایا۔ جو کچھ ان کے پاس بچ رہا تھا‘ انہوں نے اپنے بادشاہ کے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔ ایک آدھ ناکامی کی بات دوسری ہے‘ وگرنہ کمانڈر وہ ایسا تھا کہ جس انگریز جنرل کو اس نے خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا‘ واٹرلوکے میدان میں اسی نے نپولین کو شکست سے دوچار کیا تھا۔
ایک کمزوری البتہ ایسی تھی کہ جس کا کبھی کوئی علاج نہ تھا۔ وہ ایک ترس کھانے والا آدمی تھا۔ ایک سے زیادہ بار غداروں کو اس نے معاف کیا۔ بالآخر وہی اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے۔
سلطان شہید ہوا تو بادل گھر آئے۔ میسور کے آسمان پر بجلی چمکنے لگی۔ انگریز سپاہ‘ جسے نظام حیدر آباد اور مرہٹوں کی مدد حاصل تھی‘جشن کی تیاریوں میں مگن تھی۔ تجہیز و تکفین کی ذمہ داری انہی غداروں میں سے ایک ‘میر غلام علی لنگڑا کو سونپی گئی۔ اچانک انگریز میجر نے ایک سسکی کی آواز سنی۔ برق چمکی تو اس نے دیکھا کہ غلام علی لنگڑا کے چہرے پر آنسوئوں کی لکیریں بہہ رہی تھیں What happened Mir Sahib? ''میر صاحب کیا ہوا؟‘‘ اس نے پوچھا۔ میر نے کہا : ایں صاحب شمانہ کشتہ اید ‘ما کشتہ ایم۔ ان صاحب کو آپ نے نہیں مارا‘ ہم نے مار ڈالا۔
سب جانتے ہیں کہ قانون کی گرفت قائم نہ رہے تو خودرو جھاڑیوں کی طرح ہر طرح کا جرم پنپنے لگتا ہے۔ خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ خوف مجرموں کے دلوں میں بیٹھ جائے۔ پچیس ہزار انگریزوں کے ساتھ‘ برطانیہ نے مدتّوں برصغیر پر حکومت کی۔ ایک کے بعد دوسرا علاقہ وہ فتح کرتے رہے۔ امیر علی کی قیادت میں منظم بنارسی ٹھگوں سمیت‘ جو ایک لشکر کی طرح منظم تھے‘ ایک ایک قانون شکن گروہ کا بتدریج انہوں نے خاتمہ کر دیا۔
ایک گیت بہت دنوں سے گایا جا رہا ہے کہ غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم نہ کئے جائیں۔ جی ہاں‘ جی ہاں! یہ ایک سنگین الزام ہے اور اسی پر عائد ہونا چاہیے‘ جو اس کا مستحق ہو۔ حکومت کا مخالف اکثرریاست کا دشمن نہیں ہوتا۔ اپنے مخالفین پر اہل اقتدار غدّاری کے مقدمات قائم کرتے رہے ہیں۔ خلق خدا ان کی تائید نہیں کرتی اور عدالتیں بھی شاذ ہی ان پر مہر لگاتی ہیں۔ اپنے اوّلین دور میں میاں محمد نوازشریف نے ملیحہ لودھی اور نجم سیٹھی پر بغاوت کے مقدمات قائم کئے تھے۔ وقت گزرا اور دھول بیٹھ چکی تو نجم سیٹھی ان کے قریبی مشیر ہو گئے۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنی پسند کا الیکشن کمشن بنایا تو انہی صاحب کو 60 فیصد آبادی کے سب سے بڑے صوبے کا نگران وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ وہاں سے فراغت پائی تو کرکٹ بورڈ ان کے حوالے کر دیا گیا‘ جہاں اربوں کی آمدن اور اخراجات ہوتے ہیں۔ ملیحہ لودھی کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کر دیا گیا۔ ثانی الذکر کے کردار پر کبھی شکوک و شبہات کا اظہار نہیں کیا گیا۔ وہ خارجہ امور کی ماہر ہیں اور عرق ریزی کی شہرت رکھتی ہیں۔ کچھ بھی ہو غداری کے سرٹیفکیٹ بھی میاں صاحب ہی 
نے تقسیم کئے۔ پھر ریاست کے نازک معاملات کی ذمہ داری بھی انہی کے سپرد کر دی۔ خاص طور پر اول الذکر کو جو بھارت جاتے رہتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ میاں صاحب کے مشیر ہیں‘ ان کے ایما پر پیغام رسانی کرتے ہیں۔

اپنے وطن سے الطاف حسین کے اظہار نفرت پر اٹھنے والی بحث میں عبدالغفار خان‘ عبدالولی خان‘ غوث بخش بزنجو‘ جی ایم سید اور عبدالصمد اچکزئی اور ان کے فرزند ارجمند کا ذکر بھی آیا۔

2011ء کے موسم خزاں میں ‘عمران خان کے گھر پر بلوچستان کے سرداروں سے ان کی ایک ملاقات یاد آتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل کوئٹہ میں ایک جلسہ عام ہوا تھا‘ جس میں اپوزیشن کے اکثر لیڈرشریک تھے۔ زیادہ تر سامعین محمود اچکزئی کے اہتمام سے آئے تھے۔ سارا وقت وہ بلوچستان زندہ باد‘ پختون خوا زندہ باد اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ نون لیگ کی رہنما تہمینہ دولتانہ نے اپنی نحیف آواز میں سامعین کا غصہ فرو کرنے اور سمجھانے کی کوشش کی تو ان کا مذاق اڑایا گیا۔ انہیں ہوٹ کر دیا گیا۔ اس زمانے میں عمران خان یہ کہا کرتے تھے کہ اگر وہ بلوچ ہوتے تو وہ بھی پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں میں شامل ہوتے۔ 
اندیشوں سے بھرے بلوچ سرداروں نے کہا کہ قومی رہنمائوں کے اسی طرزعمل نے ملک سے بے وفائی کرنے والوں کے حوصلے بلند کئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی پے در پے زیادتیوں اور بلوچستان کے عوام کو نظرانداز کرنے پر وہ بھی ناخوش ہیں۔ مگر پاکستان مردہ باد کا نعرہ بلند کرنے کا مطلب کیا ہے؟ اختلاف کچھ لوگوں سے ہے‘ حکمرانوں سے ہے‘ پاکستان سے کیا اختلاف ہے! 
یہ بات اس کی سمجھ میں آ گئی؛ چنانچہ کوئٹہ کے تاریخی جلسہ عام میں پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا۔ بلوچستان کے پیکر پر لگے زخموں اور اس سرزمین کی محرومیوں کا ذکر تو اسی شد و مد سے ہوا‘ جیسا کہ چاہیے تھا‘ مگر پاکستان کا پرچم بلند رکھا گیا...یہی متوازن اور معقول طرزعمل ہے۔

عبدالصمد اچکزئی نے پاکستان کو دل سے قبول نہ کیا تھا اور یہ بات ان کے فرزند ارجمند کے طرزعمل سے بھی آشکار ہے۔ جی ایم سید پاکستان توڑنے کی بات کرتے رہے اور ان کے بعض حامیوں نے بھارت میں اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت پائی تھی۔ عبدالغفار خان پاکستان سے اس قدر نفرت کرتے تھے کہ انہوں نے یہاں دفن ہونا بھی پسند نہ کیا۔ بلوچستان کو الگ ریاست بنانے کی تگ و دو میں‘ خان آف قلات کے ایما پر غوث بخش بزنجو 1948ء میں بلوچ سرداروں کا ایک وفد لے کر بھارت گئے ۔ پنڈت جواہر لعل نہرو سے تو ان کی ملاقات نہ ہو سکی مگر وہ مولانا ابوالکلام آزاد سے ملے۔ آنجناب کی تجاویز سن کر وہ ششدر رہ گئے اور انہوں نے کہا : آپ عجیب لوگ ہیں۔ اپنا وطن آپ حاصل کر چکے۔ اب آپ کس چیز کی تلاش میں سرگرداں ہیں؟ خان آف قلات نے ایسے ہی وفد ایران اور افغانستان بھی بھیجے تھے۔ ایران نے جواب دینا بھی گوارا نہ کیا۔ افغانستان اس قابل تھا ہی نہیں کہ ان کی مدد کرے۔ شرارت وہ کر سکتا تھا۔ 
اقوام متحدہ میں پاکستانی رکنیت کی مخالفت سے لے کر آج تک وہ اسی روش پر گامزن ہے۔ ماضی میں اس سے وہ کچھ حاصل کر سکا اور نہ مستقبل میں پا سکے گا۔1974 ء میں اے این پی میں نوجوانوں کے شعبے''پختون زلمے‘‘ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں کارکنوں کو گوریلا جنگ کی تربیت کے لیے افغانستان بھیجا گیا۔ عبدالولی خان اور عبدالغفار خان نے پختون خوا کو پاکستان سے الگ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ بھارت اور سوویت یونین کی ہمدردیاں بھی انہیں حاصل تھیں۔ تفصیلات جمعہ خاں صوفی کی کتاب ''فریبِ ناتمام‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی نفرت میں اپوزیشن پارٹیاں ولی خان کا دفاع کرتی رہیں۔
خان آف قلات کو قائداعظمؒ بیٹا کہا کرتے ۔ یہ اعزاز ان کے سوا کسی کو حاصل نہ ہوا۔ وہ ان کے گھر میں ٹھہرا کرتے اور انہیں کوئی اعلیٰ سرکاری عہدہ عطا کرنے کے آرزومند تھے۔ پیمان کر کے انہوں نے توڑ ڈالا اور ملک کے خلاف سازش کی تو قائداعظمؒ نے فوج کشی کا حکم دیا۔ علیحدگی کی تحریک جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ آئندہ عشروں میں ایک ایک کر کے پختونستان‘ سندھو دیش اور آزاد بلوچستان کی تحریکیں بھی دم توڑ گئیں۔ آشکار ہے کہ الطاف حسین کا انجام بھی یہی ہو گا۔
تمام انسانوں کے حقوق محترم ہیں۔ تمام علاقوں اور لسانی گروپوں کے لیے حکمت سے کام لیا جانا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو‘ نرمی سے ۔ وہ قوم مگر کبھی سرسبز نہیں رہ سکتی‘ جو غداروں کو معاف کر دے۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپا لے۔
(ہارون الرشید )
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
شیرشاہ سوری

پٹھان بہت گزرے مگر شیرشاہ سوری جوکہ مسلمان تھا ہندوستان کے اچھے حکمران کےطور پر تاریخ میں نام چھوڑ گیا- وہ اپنی نسلی عصبیت سے بلند ہوکر ہندوستان کاحکمران بنا- پاکستان میں بھی پٹھان حکمران گزرے ہیں- اچھے کام سے نام بنتاہے ناکہ نسلی عصبیت سے-
جن رہنماووں نے نسل، زبان کی بنیاد پر سیاست کی ان کا کردار محدود رہا- اب بھی جو ایسا کررہے ہیں وہ صرف اپنی ذات، فیملی یا قبیلہ کی برتری یا فایدہ کے لیے ، ان کو حکمرانی کے موقع ملا توعوام کی حالت مینن کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ ہوئی مگر ان کی پراپرٹی اوردولت میں ملک اور بیرون ملک بہت اضافہ ہوا- وہ دوسری اقوام یانسل کو الزام دیتے ہیں کہ وہ چھوٹے اقوام کےحقوق پرڈاکہ ڈالتے ہیں مگر اپنی حکمرانی میں عوام کو تعلیم، روزگار، صحت، سیکورٹی ، پولیس، بیوروکرسی کے ظلم سے نجات نہ دلا سکے الزام دوسروں پر- کس نے سکول ، صاف پانی، صحت، پولیس ، نظام حکومت کو بہتر کرنے سےروکا ہے؟
در اصل صرف دو بڑے طبقات ہیں:
 ١) ظالم
 ٢) مظلوم 
کچھ درمیان میں جو ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی- ہر عصبیت میں یہ طبقات موجود ہیں- کیا پنجاب میں کوئی مظلوم نہیں؟ کیا وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہ رہی ہیں؟ 
جاگیر دار ، ملک، سردار ، چودھری ، وڈیرے جو اشرافیہ حکمران ہیں ہر صوبۂ میں اپنے ہی ہم قوم افراد کا استحصال اور ظلم کر رہے ہیں- یہ نظام صدیوں سے ایسے ہی ہے اس کو صرف اسلام کا نظام جو انصاف کی بنیاد پر ہے کنٹرول کر سکتا ہے- اس لیے عصبی نعرہ بازی سے عوام بیوقوف نہ بنیں- ظالموں کے اصل روپ کو پہچانیں اور ان کے شر سے محفوظ ہوں- 
مغربی سرمایہ دارانہ نظام اور سامراج پاکستان جیسے اسلامی ممالک کے ٹکڑے کرکہ چھوٹے یونٹ بنا کر ان پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے- لسانی ، عصبیت اور قومی جذبات کو ابھر کر اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے ایسے عصبی نسل پرستانہ نعروں سے قومی اتحاد کو ختم کرنا چاہتا ہے- عراق ، لیبیا ، شام ، یمن، شام میں جو کچھ ہو رہا ہے ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے-  ہماری بقا باہمی صرف اتحاد سے ہے- 

لودھی اورسوری ہندوستان کی پٹھان سلطنتیں تھیں- شیرشاہ سوری کا نام تاریخ میں سنہری حروف سےکیوں لکھاجاتا ہے؟ 
شیرشاہ سوری ایک ایسا حکمران جس پرپٹھان، پشتون، پختون بطورمسلمان بجاطورپرفخرکرسکتےہیں.
Image result for sher shah suri empire 



شیرشاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا۔ 1486ء میں پیدا ہوئے جونپور میں تعلیم پائی ۔21 سال والد کی جاگیر کا انتظام چلایا پھر والئ بہار کی ملازمت کی۔ جنوبی بہار کے گورنر بنے۔ کچھ عرصہ شہنشاہ بابر کی ملازمت کی بنگال بہاراور قنوج پر قبضہ کیا مغل شہنشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان پر اپنی حکمرانی قائم کی۔


Image result for sher shah suri coins

اپنے تعمیری کاموں کی وجہ سے ہندوستان کے نپولین کہلائے سنار گاؤں سے دریائے سندھ تک ایک ہزار پانچ سو کوس لمبی جرنیلی سڑک تعمیر کروائی جو آج تک جی ٹی روڈ کے نام سے موجود ہے۔
Image result for sher shah suri grand trunk road


شہنشاہ اکبر مملکت کا انتظام چلانے میں شیرشاہ سے بڑا متاثر تھا۔ 22 مئی 1545ء میں بارود خانہ کے اچانک پھٹ جانے سے وفات پائی۔

Image result for sher shah suri

تاریخ دان شیر شاہ سوری کو برصغیر کی اسلامی تاریخ کا عظیم رہنما, فاتح اور مصلح مانتے ہیں۔ اردو ادب میں شیر شاہ سوری سے متعلق کئی مثالی قصے ملتے ہیں۔
شیر شاہ سوری (1476ء تا 1545ء) ایسا فرماں روا تھا جس کی ستائش نامور مؤرخین اور عالمی مبصرین کرتے رہے ہیں۔

وہ ہندوستان کا پہلا حکمران تھا جس نے عوامی فلاح کی جانب اپنی بھرپور توجہ دی اور ایسے ایسے کارنامے انجام دیے جو تاریخ کی کتب میں سنہرے حروف میں تو لکھے ہی گئے، ان کے نقوش آج تک موجود ہیں۔

ساڑھے پانچ سو سال قبل اس نے زرعی اصلاحات کا کام شروع کروا دیا تھا، جس کی پیروی بعد کے حکمرانوں نے کی۔ شیر شاہ نے سہسرام سے پشاور تک گرینڈ ٹرنک روڈ یعنی جرنیلی سڑک کی تعمیر کروائی تھی اور اس کے کنارے کنارے سایہ دار اور پھل دار اشجار لگوائے، سرائیں تعمیر کروائیں اور
سب سے پہلا ڈاک کا نظام نافذ کیا تھا۔
اگرچہ فرید خان سور المعروف شیر شاہ ایک معمولی جاگیردار کا بیٹا تھا۔ اس کے والد حسن خان سور کا خاندان افغانستان سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے اور وہ بابر کے معمولی جاگیردار تھے لیکن دلیر پرجوش اور جواں مرد اور اول العزم شیر شاہ نے مغل سلطنت کے بنیاد گزار بابر کے صاحبزادے ہمایوں کو ایک بار نہیں دو دو بار شکست دی۔ پہلی بار چوسہ کے میدان میں اور دوسری بار قنّوج کے میدان میں۔ اُس کے بعد ہمایوں کو برسوں دربدری کی زندگی گزارنی پڑی اس دربدری کے دور میں ہی اکبر کی پیدائش ہوئی تھی جو بعد میں تاریخ کا اکبر اعظم بنا۔
اپنی جدوجہد سے شیر شاہ نے عظیم سلطنت قائم کی تھی۔ لیکن اس نے اپنی آخری آرام گاہ کے طور پر سہسرام کو ہی پسند کیا تھا اس لیے اپنی زندگی میں ہی کیمور کی پہاڑی پر مقبرہ تعمیر کروایا تھا جس کے چاروں جانب جھیل پھیلی ہوئی ہے۔


.....................................
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall near 3 Million visits/hits

Drugs, Intoxicants Forbidden

.ہر قسم کا نشہ اور جواء حرام 
  يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۰۰۹۰اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِي الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ وَ يَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ۰۰۹۱وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ( المائدہ 5: 90-92)
Drugs, intoxication are forbidden (Haram) in Islam: Keep reading  》》》》

Drugs edicts rehabilitation 《 centres 》》
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ شراب (نشہ) اور جُوا اور یہ آستانے اور پانسے،یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، اُمیّد ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جُوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہوگے؟ اللہ اور اُس کے رسول ؐ کی بات مانو اور باز آجاوٴ، لیکن اگر تم نے حکم عدُولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسُول ؐ پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمّہ داری تھی۔( المائدہ 5: 90-92)
اِس آیت میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کی گئی ہیں۔ ایک شراب۔ دوسرے قمار بازی ۔ تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا کسی دُوسرے  کی عبادت کرنے یا خدا کے سوا کسی اَور کے نام پر قربانی اور نذر  و نیاز چڑھانے کے لیے مخصُوص کیے گئے ہوں۔ چوتھے پانسے (جوا )۔ 

شراب و نشہ کے متعلق احکام 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حُرمت کے اس حکم کو تمام اُن چیزوں پر عام قرار دیا جو نشہ پیدا کرنے والی ہیں۔ چنانچہ حدیث میں حضُور کے یہ واضح ارشادات ہمیں ملتے ہیں کہ کل مسکر خمر و کل مسکر حرام۔”  ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہرنشہ آور چیز حرام ہے“۔کل شراب ٍ اسکر فھو حرام۔” ہر وہ مشروب جو نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے“۔وانا انھی عن کل مسکرٍ۔”اور میں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں“۔ حضرت عمر ؓ نے جُمعہ کے خطبہ میں شراب کی یہ تعریف بیان کی تھی کہ  الخمر ما خامر العقل ۔”خمر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانک لے“۔
اس میں آج کے دور میں مختلف قسم کی تمام نشہ آور ڈرگ بوثیاں شامل ہیں۔


نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اُصُول بیان فرمایا کہ   ما اسکر کثیرہ فقلیْلہ حرام ۔” جس چیز کی کثیر مقدار نشہ پیدا کر ے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے“۔ اور  ما اسکر الفرق منہ مفلٔ الکف منہ حرام ۔” جس چیز کا ایک پُورا قرابہ نشہ پیدا کرتا ہو اس کا  ایک چُلّو پینا بھی حرام ہے“۔
منشیات سے بحالی علاج کے《《《 ادارے 》》》







~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall near 3 Million visits/hits

Wake Up Now ! جاگو جاگو جاگو امت مسلمہ

Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism, ignorance and intolerance have threatened the peace, tarnishing the image of religion. These circumstances demand special response from the people who are deeply concerned about well being of humanity. Objective of this wakeup call is to draw the attention towards pressing issues which need urgent resolution. With persistent efforts we can get out of of this quagmire.
(1) Read online or dowlnoad E Book, pdf at https://goo.gl/9S1cpe or
(2) Keep reading at this page (Web link: http://goo.gl/S26GhY ) or
(3) Read in Urdu: http://goo.gl/reWFXA اردو میں پڑھیں


آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں. ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے. آپ کیتوجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکلا ل سکیں.  


          
بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاتة!
علماء دین کی اسلام اور مسلمانوں کے لیے سینکڑوں سال کی خدمات  کو نظر انداز کرنا زیادتی ہو گی. آج دنیا میں 1.6 ارب سے زیادہ کلمہ گو مسلم دین اسلام کے بنیادی ارکان کا اقرارکرتے ہیں الله کی عبادات کرتے ہیں یہ آبادی میں اضافہ کے علاوہ مسلمانوں اور علماء اسلام  کی کاوشوں ،تبلیغ و دعوہ کی وجہ سے ہے. الله سبحان تعالیٰ نے مسلمانوں کی دینی تعلیم و تربیت کی ذمہ دای خاص طور پر علماء اسلام کی جماعت پر ڈالی اور مسلمانوں کو اجتماعی طور پر قرآن کا وارث قرار دیا.
 وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
اور یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تمام اہلِ ایمان نکل کھڑے ہوں تو ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ کہ ہر جماعت میں سے کچھ لوگ نکل آئیں تاکہ وہ دین میں تفقہ (دین کی سمجھ بوجھ) حاصل کریں اور جب (تعلیم و تربیت کے بعد) اپنی قوم کے پاس لوٹ کر آئیں۔ تو اسے (جہالت بے ایمانی اور بد عملی کے نتائج سے) ڈرائیں تاکہ وہ ڈریں۔ (٩:١٢٢ التوبة)
اوردعوت اور تبلیغ اسلام کا طریقه واضح کر دیا کہ  حکمت اور اچھی نصیحت کا  ذریعہ اختیار کریں (٢) (النحل 16:125).
آج کے حالت میں ہمارا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ اور کنفیوژن کا شکار ہے مادہ پرستی، دہریت کا دوردورہ ہے. ایسے مخصوص حالات مخصوص عمل اور طریقه کارکا تقاضا کرتے ہیں.
ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے الفاظ میں؛"علماء اسلام نے ایک بحری جہاز کے لنگر کی مانند اسلام کے جہاز کو1400سال تک ڈولنےنہ دیا مگر اس جہاز کو آگےبھی جانے بھی نہ دیا". نتیجہ آج کے جدید دور میں فکری جمود کی وجہ سے امت مسلمہ ترقی کی دوڑ میں دوسری اقوام سے پیچھے رہ گیئی اگرچہ اسلام تمام انسانیت کے لیے ہر دور، ہر زمانہ کے لیے تا قیامت ہدایت اور روشنی ہے. مسئلہ اسلام میں نہیں اس کے پیرو کاروں، ہم میں ہے.

ہمارے موجودہ مسائل کی بڑی وجہ دین اسلام  سے عملی دوری ہے. ہم زبان سے کہتے ہیں:
لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ
دین اسلام سے محبت کا بہت دعوی کرتے ہیں مگر عملی طور پر دین سے دور ہیں.مسمان جہالت کے گڑھے میں گرے ہیں. ان کو دین کی تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے. جو لوگ یعنی علماء کرام ، مسلمانوں کو دین کے قریب لا سکتےہیں اور یہ ان کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے (٩:١٢٢ التوبة)  جہاں بہت علماء اپنے دینی فریضہ میں خاموشی سے مشغول ہیں وہاں بہت بڑی تعداد فروہی مسائل کی طرف مائل ہنے.
موجودہ حالت میں ضروری ہے کہ:
  • جائزہ لیا جائے کہ کہاں غلطی ہوئی؟
  • کہاں عملی حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے ؟
  • بہتری کی طرف سفر شروع کیا جائے.
تلخ حقائق ناگوار محسوس ہوں گے مگر مقصد ہرگز تنقید برائے تنقید نہیں اور نہ دل آزاری ہے بلکہ مقصد صرف پاکیستان اور مسلمانوں کے ضروری حل طلب مسائل کی طرف توجه مبذول کرانا ہے. یہ کھلا خط اسی سلسلے میں لکھا ہے . آپ کی توجہ اور رہنمائی سے ہم سب مل جل کر ان مسایل کو حل کر نےکی کوشس کر سکتے ہیں :
پچھلے 600 ٠ سال سے مسلمان سیاسی افراتفری اور سا مراجییت کا شکار ہو گئے زوال کا آغاز حصول علم کو صرف دین تک محدود  کر دیا. مگرمغربی اقوام نے مسلم ہسپانیا اسپین(Spain) اور بغداد کے علم کے خزانوں سے فائدہ حاصل کیا اوریورپ کی نشاط ثانیہ(Renaissance) ترقی کا آغاز ہوا. اقوام مغرب نے علم سائنس کے زریعے صنعتی انقلاب برپا کیا اور اقوام عالم کوبشمول اکثریت مسلمانوں کو غلامی میں جکڑ لیا. ان کی زبان ، تہذیب ،معاشرت، ثقافت، سماج غرض کہ ہر شعبہ زندگی پر مغربیت اثر انداز ہوئی. مگر علماء اسلام نے اسلام کی بنیادی اقدار اور ایمان کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائی اورمسلمانوں کے دل میں ایمان کا چراغ روشن رکھا. الله نے قرآن(٩:١٢٢ التوبة،  آل عمران 3:104) میں جو ذمہ داری علماء اسلام پر ڈالی انہوں نے وہ ذمہ داری کافی حد تک نبھائی.
انگریزوں سے آزادی کی جدو جہد میں علماء کا  کیا کردار رہا ؟ اس تاریخی حقیقت پر ایک طائرانہ نظر:
بہت  علماء نے ہندو کانگریس کا ساتھ دیا جس میں دارلعلوم  دیوبند پیش پیش تھا، (سواے مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شببراحمد عثمانی اور ان کے ساتھیوں کے) مگر  اکثریت جن میں مجلس احرارلأسلام  سب سےآگے تھی نے ڈٹ کر قیام پاکستان کی مخالفت کی. وقت نے ثابت کیا کیہ یہ ان کی بڑی سیاسی غلطی تھی جوان میں سیاسی بصیرت کے فقدان کو ظاہرکرتی ہے.
لیکن اس سیاسی غلطی کی وجہ سے  دارلعلوم  دیوبند کی اسلام کے لیےگراں قدر دینی خدمات کونظر انداز نہیں کیا جا سکتا.
مگر واضح ہے کہ غلطیوں سے  ساکھ (credibility) پر منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں جو اصل قرآنی مقصد (٩:١٢٢ التوبة، دینی تعلیم و رہنمائی) کے حصول میں منفی اثر پیدا کرتے ہیں.
جنگ آزادی میں مدارسِ اسلامیہ کے علماء کرام نے قربانیاں دیں جو قابل تعریف ہیں.
افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردوں (طالبان) کا فکری  تعلق بھی انہی سے مل جاتا ہے اگرچہ دارلعلوم  دیوبند نے دہشت گردی کے خلاف  (2008) بلآخر میں فتویٰ جاری کیا.
ضروری ہے کہ مقتدر ذمہ داران غور کریں کہ آخرمخصوص مکتبہ فکر کے ہی لوگ دہشت گردی، ان کی فکری،مالی، مادی  امداد، سہولت کاری میں کیوں ملوث پایے جاتے ہیں؟ ضروری اقدام کی سخت ضرورت ہے.
محمّد علی جناح اور علامہ اقبال پر کفر کے فتوے بھی لگے مگر وہ اوران کے ساتھی، مسلمانوں کے لیے علیحدہ آزاد وطن، پاکستان حاصل کرنے کے عزم پر ڈٹ گیئے.
تحریکِ پاکستان کی مکمل حمایت کرنے کے لئے سنی  اور بریلوی صوفی علماء کرام نے شرکت کی۔ محدث کچھوچھوی صدر آل انڈیا بنارس کانفرنس سید اشرفی جیلانی "اہل سنت" کے بہت بڑے رہبرورہنما تھے۔  کرسٹوف اپنی کتاب پاکستان اور اس کے ماخذ کی تاریخ میں لکھتا ہے کہ بریلوی علماء، تحریکِ پاکستان کے روحِ رواں تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے 1948ء میں "جمیعت علمائے پاکستان" کی بنیاد رکھی، جو ٹکڑوں می بٹ گیئ.
[مولانا فضل الرحمان کی "جمیعت علمائے پاکستان" الگ ہے]
مسلمانان ہند کی اکثریت نے بغیر فرقہ واریت کے قائداعظم محمّد علی جناح کی قیادت پر مکمل اعتماد کیا جو کلین شیو(clean shaved) مغریبی تعلیم یافتہ،انگریزی سوٹ  میں ملبوس،انگریزی میں یا ٹوٹی پھوٹی اردو میں تقریر کرتا تھا.(اسماعیلی شیعہ، بعد میں اثنا عشری) وہ ایک ایمان دار، سچا اور مخلص شخص تھا. وہ علماء کے مسلمانی کے معیارپر پورا نہیں اترتا تھا, اس کے باوجود اگر اہل مذہب کے ایک بڑے طبقے نے قائد اعظم کو اپنی سیاسی قیادت کے لیے منتخب کیا تو کیوں؟ اس کا جواب جماعت علی شاہ صاحب نے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مسلمان قوم کو ایک مقدمہ درپیش ہے اور اسے ایک وکیل کی ضرورت ہے۔ وکیل میں یہ صفات ہونی چاہئیں کہ وہ دیانت دار ہو اور اہل ہو۔ قائد اعظم میں یہ دونوں خصوصیات موجود ہیں۔
90% کلمه گو بھی علماء کے معیارمسلمانی پر پورا نہیں اترسکتے.80% لوگ پانچ وقت نماز (صلاه) ادا نہیں کرتے، اکثریت ہفتہ میں ایک مرتبہ جمعہ کی نماز ادا کرتی ہے، کچھ لوگ صرف عید کے عید.
خواتین جو کہ آبادی کا پچاس فیصد ہیں ان کا  مذھب  کی طرف کم رجحھان ہے. برقع مذہب سے زیادہ معاشرتی، ثقافتی علامت ہے. بازار میں اذان کے بعد کوئی برقع پوش یا سادہ لباس والی خاتون نماز پڑھنے کی تیاری میں نظر نہیں آے گی. مساجد میں خواتین کے لیے کوئی انتظام نہیں(یا بہت کم)، کیا 50% آبادی کونماز معاف ھے؟
الله تعالیٰ نے مسلمانوں کوقران کا وارث قرار دیا اور ان کو تین کیٹگری (زمرے) میں تقسیم کیا:
ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ(32:35 فاطر)
پھر ہم نے اس کتاب (قرآن) کا وارث ایسے لوگوں کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چُن لیا (یعنی امّتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو)، سو ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے درمیان میں رہنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے اﷲ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے بھی ہیں، یہی  بڑا فضل ہے، (مزید تفصیل  تفسیر ابن کثیر)
1. مسلم قرآن پر ایمان لا یے.
2. قرآن کو سمجھے.
3. قرآن کو پڑ ہھے.
4. قرآن کی تعلیمات پر عمل کرے.
5. قرآن کی تعلیمات کو دوسرے لوگوں تک پہنچا ے.
کیا ہم قرآن کے حقوق پوری کر رہے ہیں؟
افسوس کہ اکثریت کا جواب نہیں میں ہوگا، ہم سب کو قرآن کے حقوق کو پوری طرح ادا کرنے کی کوشس شروع کرنا ہو گی ، ساری ذمہ داری علماء پر ڈال کر ہم اپنے فرض سے فارغ نہیں ہو سکتے. علماء سے دین اسلام کا علم حاصل کریں. عمل کرنا اور اس کو اگے پھیلانا ہمارا فرض ہے.
محمد علی جناح اور ان کے رفقاء نے مسلمانوں کے لیے ایک اسلامی ملک بنایا جہان پرتمام مسلمان بغیر مسلک، فرقہ کی تخصیص کے مکمل آزادی سے  ملک میں اسلامی اصولوں، قرآن و سنت کے مطابق رہ سکیں اور اقلیتیوں کو مکمل مذہبی آزادی ہو. ان کے ذہن میں "میثاق مدینه" کا ماڈل تھا.ملایت (Theocracy) نہیں کیونکہ اسلام میں ملایت کی گنجایش نہیں.
انہوں نے "لبرل ازم" یا "سیکولرازم" کے الفاظ کبھی استمال نہیں کیے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اسلام تمام دنیاوی نظاموں کی اچھی خوبیوں کا احاطہ کرتا ہے.
9 مارچ 1949 کو آہین ساز اسمبلی نے  (١٠)" قراداد مقا صد" پاس کی، وزیراعظم لیاقت لیاقت علی خان  نے تقریر  میں پاکستان کا نظریاتی ڈھا نچا پیش کیا.
قرارداد مقاصد کا متن:  (١٥)
  • اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیر حاکمِ مُطلَق ہے۔ اس نے جمہور کے ذریعے مملکت پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے، وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ مجلس دستور ساز نے جو جمہور پاکستان کی نمائندہ ہے، آزاد و خودمختار پاکستان کے لیے ایک دستور مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
  • جس کی رُو سے مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔
  • جس کی رُو سے اسلام کے جمہوریت، حریت، مساوات، رواداری اور عدلِ عمرانی کے اصولوں کا پورا اتباع کیا جائے گا۔
  • جس کی رُو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات ومقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں.
  • جس کی رُو سے اس امر کا قرار واقعی اہتمام کیا جائے گا کہ اقلیتیں اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھنے، عمل کرنے اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دینے کے لیے آزاد ہوں۔
  • جس کی رُو سے وہ علاقے جو اب تک پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں، ایک وفاق بنائیں گے جس کے صوبوں کو مقررہ اختیارات و اقتدار کی حد تک خود مختاری حاصل ہوگی۔
  • جس کی رُو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں جہاں تک قانون و اخلاق اجازت دیں، مساوات، حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، عمرانی، اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہارِ خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور جماعت سازی کی آزادی شامل ہوگی۔
  • جس کی رُو سے اقلیتوں اور پسماندہ، پست طبقوں کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا۔
  • جس کی رُو سے نظامِ عدل گستری کی آزادی پوری طرح محفوظ ہوگی۔
  • جس کی رُو سے وفاق کے علاقوں کی صیانت، آزادی اور جملہ حقوق، بشمول خشکی و تری اور فضا پر صیانت کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
  • تاکہ اہل پاکستان فلاح و بہبود کی منزل پا سکیں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز و ممتاز مقام حاصل کریں اور امنِ عالم اور بنی نوعِ انسان کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں‘‘۔‘
اب مسئلہ  اس پر اصل روح کے  مطابق عمل درآمد کا ہے.
اخلاقی اور سیاسی فلسفہ میں، "سماجی معاہدہ"  یا "سیاسی کنٹریکٹ"  ایک نظریہ یا نمونہ ہے.
یہ عام طور پر معاشرے  کی اصل بنیاد اور انفرادی سے زیادہ ریاست کی اتھارٹی کی قانونی حیثیت کے سوالات کا حل پیش کرتا ہے. افراد اپنی رضامندی سے اپنے کچھ حقوق حکومت یا ریاست کو تفویض کر دیتے ہیں. اس کے عوض حکومت، حکمران شہریوں کے باقی حقوق کی حفاظت کرتی ہیں.
اسلام کے آغازعرب قبائلی معاشرہ میں مروجہ طریقه قبائلی سرادروں اور معززین سے'بیعت' کا تھا. آج کے دور میں الیکشن سے حکمران کا چناؤہوتا ہے. یہ ایک "معاہدہ" ہے، 'عہد' ہے جوافراد کی اکثریت تمام شہریوں کی طرف سے اجتماعی طور پر قانونی مانا جاتا ہے. جیسے اسلام کے ابتدائی دور میں خلفائے راشدین اور حکمران کرتے تھے. حضرت محمّدﷺ  نے بھی 'بیعت' لی.
جب پاکستان وجود میں آیا تو پہلی آہین ساز اسمبلی، اور پرانا قانون لاگو ہوا. الیکشن کا سلسلہ اور حکمران بدلتے رہے جن کو سپریم کورٹ نے قانونی حیثیت دی.پھر 1956, 1962اور 1973کا آہین بنا. 1973 کے اسلامی جمہوری آیین پر اجماع امت ہوا. الیکشن ہویے. 'معاہدہ'، 'عہد' قائم ہے. کسی شخص یا گروپ کو اس اجتماعی'معاہدہ' کو توڑنے کا اختیار نہیں:
آج کے دور میں اقوام متحدہ کا ادارہ ہے جس کے چارٹر پر تمام دنیا کے ممالک بشامل پاکستان دستخط  کیۓ ہیں. حکومت اور افراد پر ان معاہدوں کی پابندی لازم ہے. اگر ایسا نہ کریں تو پابندیاں اور جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے.
صلح حدبیہ کے وقت حضرت ابوجندل مکہ سے فرار ہو کر آے مگر رسول الله نے ان کو کفار مکہ کو واپس کر دیا جو ان پر ظلم کر رہے تھے. یہ ہے معاہدہ کا احترم.(١١)
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولً
عہد کی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی ,(17:34) (7:32, 23:28)
"سماجی معاہدہ" کے مطابق شہری کا حکمران سے اجتمائی طور پر وفاداری کا عہد ہے.
اسلام میں الله، رسول ﷺ اور حکمران کی اطاعت کا حکم ہے(٤:٥٩)
حکمران جب تک نماز پڑھتا ہواس کی اطاعت کریں. اگر وہ الله کی نا فرمانی کا حکم دے اطاعت لازم نہی.
اگرحکمران کھلم کھلا کفر کرے پھر اطاعت لازم نہیں.(بخاری،مسلم )
الحمد لِلَّـهِ  پاکستان میں ا یسے حکمران نہ کبھی تھے نہ ہوں گے انشا الله.
اس لیےپاکستان میں اسلامی نظام (جبکہ آہین پاکستان اسلامی ہے ) یا کسی اور بہانےدہشت گردی، فساد برپا کرنا بغاوت کرنا غیر اسلامی عمل ہے، جس کی سخت سزا ہے (٥:٣٣ المائدة )
اوپر ذکر ہوا کہ مسلمانوں کی اکثریت دین کے معاملہ میں بے عملی کا شکار ہے. سوال ہے کہ علماءاسلام نے ان اکثریتی (ان کے بقول) نام نہاد مسلمانوں کو "مکمل مسلمان" بنانے کے لیے کیا کیا؟  گنہگار سمجھ کر نفرت سےنذر انداز کرنا حل نہیں ہے. ان کی اصلاح کی کوشس جاری رہنی چاہیے. ہدایت دینا اللہ کے اختیار میں ہے.
اگر وہ تبلیغ میں ناکام رہے تو اب قتل و غارت، ڈر، خوف، دہشت گردی سے ان کی داڑھیاں بڑھوانی ہیں؟
اگرصرف لمبی داڑھی، ٹخنوں سے اونچی شلوار/ زیر جامہ پہن کر ہی مسلمان ہوا جا سکتا ت (٧)"خوارج" کو جہنم کے کتے کیوں کہا  گیا؟
کیا اسلام صرف مخصوص ظاہری لباس اور ظہور (appearance)  کا نام ہے یا ایمان کے ساتھ ساتھ  "أَحْسَنُ عَمَلًا"اور "عمل صالح"(عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ) بھی ضروری ہیں؟
ان کا آپس میں کیا توازن ہےاورترجیحات کیا ہونی چاہیں؟
کلمہ گو مسلمان اگر اسلام کے ایمان کے 6 بنیادی ارکان اور 5 بنیادی ستون (٩) پر ایمان رکھتا ہے مگر عمل میں  کا ہل، سست ہے، کیا اس کو دعوت و تبلیغ سے عمل کی طرف لا یا جائے یا اسلام سے خا رج،  تکفیر اورپھر قتل؟
کیا علماء کا مسلمانوں سے درشت اورسنگدل رویہ  قرآن (٣:١٥٩ ،آل عمران) کے خلاف تو نہیں؟
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (٣:١٥٩ ،آل عمران)
"(اے محمدﷺ) یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے اتنے نرم مزاج ہو۔ ورنہ اگر تم درشت مزاج اور سنگدل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد و پیش سے منتشر ہو جاتے۔ انہیں معاف کر دیا کریں۔ ان کے لیے دعائے مغفرت کیا کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ بھی لے لیا کریں۔ مگر جب کسی کام کے کرنے کا حتمی ارادہ ہو جائے تو پھر خدا پر بھروسہ کریں بے شک اللہ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔" (٣:١٥٩ ،آل عمران)
پاکستان میں یا کہیں  بھی  نفاذ اسلام کی بات کر تے ہوے ان حقائق کومد نظررکھنا بہت ضروری ہے.  
بحر حال قیام پاکستان کے بعد ان میں سے بہت علماء پاکستان تشریف لاے اور اسلامی پاکستان کے لیے مل جل کر جدوجہد کا آغاز کیا. آیین پاکستان کا اسلامی تشخص، قرارداد مقاصد (Objective Resolution ) ان کی کوششوں سےآیین میں شامل ہوا.قادیانوں کوآیین پاکستان میں غیر مسلم قرار دینے میں ان کا اہم کردار تھا.1973 کے اسلامی جمہوری آیین پر اجماع امت ہوا. مفتی تقی عثمانی  نے اسلامی بنکا ری کے نظام کی ابتدا کی جو تیزی سے پھیل رہا ہے.
مذہبی شدت پسندی کا عنصر 80ء کے عشرے میں بڑھا، فرقہ وارانہ تنظیمیں بھی باقاعدہ طور پر وجود میں آئیں۔ ان کی وجوہ سب کے سامنے ہیں۔ ایران کا انقلاب، اسے ایکسپورٹ کرنے کی مبینہ کوشش اور اس پر ہونے والا مقامی ردعمل، سب سے بڑھ کر افغانستان میں روسی قبضے کے خلاف دس سال تک جاری رہنے والی تحریک مزاحمت ۔ غیر ریاستی عسکری تنظیمیں اس ملک میں پہلی باربنائی گئیں۔ نوے کی دہائی میں ان تمام تنظیموں کا رخ مغرب کے بجائے مشرق کی جانب ہوگیا۔ پوسٹ نائن الیون منظرنامہ ایک اور طرح سے قیامت خیز ہوا، جب ان جہادی تنظیموں میں سپلنٹر گروپ پیدا ہوئے جو خود پاکستانی اداروں اور ریاست پر حملہ آور ہوگئے - (١٥)
سیاسی سوچ رکھنا ہر باشعور انسان کا حق ہے علماء اس سے مستثنیٰ نہیں. سیاست کے لحاظ سے علماء  اور ان کے پیروکاروں  کو پانچ بڑی اقسام میں تقسیم کیا ہ سکتا ہے .
1. غیر سیاسی علماء : بہت سے علماء سیاست میں حصہ لینے کی مخالف ہیں ، وہ مذہبی سیاسی  جماعتوں  سے علیحدہ  قرآن کے حکم کے مطابق (٩:١٢٢ التوبة،  آل عمران 3:104) دین اسلام کی تعلیم اورعوام کی دینی تربیت، دعوت ، تبلیغ و اصلاح میں مصروف ہیں. اگرچہ ذاتی طور پر سیاسی خیالات رکھتے ہیں مگر مسجد کے ممبر کا تقدس بحال رکھے ہوۓ صرف  خالص مذہبی تعلیم  و تربیت اور اخلاق و عبادات پر زور دیتے ہیں. ( ان میں تمام مکاتب فکر کے علماء شامل ہین)  "تبلیغی جماعت"جو دیوبند  فکر رکھتی ہے ،بین القوامی لیول پر بہت اچھا کام کر رہی جس کوبنیاد پرست (Radical) عسکریت پسند دشت گرد نشانہ بناتے ہییں.بحر حال ان کی صفوں میں بنیاد پرست (Radical) عسکریت پسند افراد کی شمولیت  کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا.
1. سیاسی مذہبی تنظیموں کے علماء :یہ تنظیمین الیکشن میں حصّہ تو نہیں لیتی لیکن بظاھر پر امن جدوجہد سے اپنے نظریات کوفروغ کے لیےکم کرتی ہیں. جیسے ڈاکٹر اسرار احمد نے سیاسی جماعت کی بجاۓ اپنی الگ تنظیم بنا لی. مسجد کے ممبر کو  اپنے سیاسی نظریات  کے فروغ کے لیے استمال کیا. وہ موجودہ جمہوری نظام کو غیراسلامی قرار دیتے ہیں.  ان میں خاص طور مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے بین القوامی خلافت کا قیام، اسلامی شرعی نظام کا نفاذ مگر پرامن جدوجہد سے.  اسی قسم  کے نظریات کی حامل اور بھی بہت مذہبی تنظیمیں ہیں، کالعدم حزب التحرير جو بظاھر پرامن جدوجہد کا اظہار کرتی ہیں مگر اندرونی طور پرشائد بندوق کے استمال کو بھی ایک آپشن سمجھتی ہوں. ان تنظیمیوں کی صفوں میں بنیاد پرست (Radical) عسکریت پسند افراد کی شمولیت  کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا.
2. سیاسی جماعتوں کے علماء : باقاعدہ سیاسی مذہبی جماعت کے اراکین اور عھدے دار (تمام مکاتب فکر) جو براہ راست سیاست میں (actively) حصہ لےکربذریعہ الیکشن حکومت حاصل کر کہ اسلام کی خدمت کر سکیں.(ظاہر ہے کہ یہ اپنی اصل قرآنی ذمہ داری، تعلیم و تبلیغ سے انحراف اور توجہ میں کمی ہے). مذہبی  سیاسی جماعتین بن گییًں اس طرح علماء  طاقت کے غلیظ سیاسی کھیل میں شامل ہو گیۓ.ان  کی صفوں میں بنیاد پرست (Radical) عسکریت پسند افراد بھی گھس جاتے ہیں.
3. بنیاد پرست ،فرقہ پرست عسکریت پسند، دہشت گرد، تکفیری تنظیمں اور علماء:ان میں کالعدم  تحریک طالبان پاکستان (TTP) ایک تنظیم ہے جو پاکستان میں خود کش حملوں، دہشت گردی اور دیگر جرائم میں ملوث ہے۔""ضرب عذب" نے ان کی کمر توڑ دی ہے اور وہ بھاگ رہے ہیں.  پاکستان میں سرگرم کئی فرقہ وار  تنظیمیں بھی طالبان کا نام استعمال کرتی ہیں جو خودکش حملوں اور مسلح لڑائیوں میں ملوث ہیں۔
4. بنیاد پرست (Radical) اور فرقہ پرست عسکریت پسند علماء: علماء کی ایک بڑی تعداد نے سیاسی جماعتوں یا تنظیموں میں شامل ہوئے بغیر مسجد کے ممبر کو  مخصوص سیاسی نظریات کی تشہیر کے لیے استمال کرنا شروع کر دیا. وہ موجودہ جمہوری نظام کو غیراسلامی قرار دیتے ہیں.(جبکہ مذہبی سیاسی جماعتیں اسلامی مانتی ہیں؟ علماء کی اکثریت کا 'اسلامی جمہوریت' پراجماع ہے ) مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے بین القوامی خلافت کا قیام، اسلامی شرعی نظام اور ان سب کے لیے جہاد کی ضرورت اور فرض ہونا (بقول ان کے) قرار پایا. ارادی یا غیرارادی طور پر وہ کالعدم دشت گرد تنظیموں اور گروہوں کے آ لۂ کار بن گۓ.
حکومت اور عوام نے اس معاملہ کا کوئی خاصنوٹس نہ لیا. جب دہشت گردوں نے ساٹھ ھزار سے زیادہ معصوم لوگوں کو خود کش اور بم دھماکوں سے شہید کر دیا اور پشاور میں آرمی پبلک سکول کے درجنوں بچوں کا قتل عام کیا تو قوم جاگ اٹھی. پاک فوج نے آپریشن "ضرب عزب" شروع کیا مگر یہ حضرات مسلسل اپنے جمعہ کے خطبات کے ذریعےعوام کے ذہنوں کو پراگندہ کر رہے ہیں.
قوم کو ذہنی طور پر تقسیم کرکہ فسادی، تکفیری دشتگردوں کی حمایت کر کہ یہ اسلام کی اور مسلمانوں کی کیا خدمت کر رہے ہیں؟
یہ لوگ مذہبی سیاسی پارٹیوں سے زیادہ خطرناک ہیں کیوں کہ یہ ملک میں انتشار(Anarchy) اورفاشسٹ نظریات کو اسلام کے بہانے سے پھیلا کر عدم استحکام سے دوچارکرنا چاہتے ہیں.
یہ اسلام کی خدمت ہے یا مسلمانوں کی تباہی؟
مشرق وسطیٰ کے حالات ہمارے سامنے ہیں.اگرچہ حکومت نے اب دہشت گروں کے ہمدردوں اور سہولت کاروں کے لیے سخت قوانین نافذ کردیے ہیں جب تک عوام ان کو چیک نہیں کرے گی یہ لوگوں کو گمراہ کرتے رہیں گے.
جو علماء اور مسلمان اسلام اور پاکستان کو واقعی ترقی پر دیکھنا چاھتے ہیں، اور اسلام کو پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ اسلام دنیا میں غالب دین ہو جائے تو ان کو چاہیے کہ وہ بنیاد پرست (Radical) عسکریت پسند علماء کوچیک کریں ان کو روکیں ،جو مسلمانوں کو فساد کے ذریعے  تباہی اور بربادی کے راستے پر ڈالنا چاہتے ہیں. اور تیسری قسم یعنی سیاسی جماعتوں کے علماء کو مشورہ دیں کہ اپنے اصل قرآنی مشن  (٩:١٢٢ التوبة) پر کاربند ہوں.
علماء کو چاہے کہ مدارس میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ لازمی طور پر عصر حاضر کے افکار اور جدید علوم سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق اپنے علمی فرائض احسن طریقے سے ادا کر سکیں.  
سیاسی علماء فرماتے ہیں کہ کیا ہم ملک کو کرپٹ سیاست دنوں کے رحم پر چھوڑ دیں؟
امربا المعروف نہی المنکر ہما ری بھی ذمہ داری ہے  لیے ہم  حکومت  شامل ہوتے ہیں یہ ضروری ہے. مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ تاریخ اسلام میں علماء سیاست کے میدان میں ڈائریکٹ شامل نہ ہوے ہان حکمرانوں کی اسلامی اصولوں سے رہنمائی کی قید مصائب جھیلے. دنیا نے پریسٹ(priest)  سے چھٹکارا پا کر ترقی کی ہےاسلام میں تو ملایت کا کوئی تصور نہیں علماء یہ کام بخوبی حکومت سیاست سے با ہر ہو کر کر سکتے ہیں. علماء نے حکومت سے باہر رہ کرباشاہوں خلیفہ پر تنقید کی، قید کاٹی،امام ابو حنیفہ، مالک، حمبل، امام شافعی کی مثالیں موجود ہیں، آج تاریخ ان کی عزت کرتی ہے.
ایک اور نقطہ "اسلام مذہب نہیں بلکہ دین" ہے جو انسانی زندگی کے تمام . معاملات میں رہنمائی  کرتا ہے. سیاست دین سےعلیحدہ نہیں ہوسکتی.لہذا علماء سیاست میں داخل ہوں:
1400ساله اسلامی تاریخ میں، خلفائے راشدین کے علاوہ شاذ ہی کوئی مذہبی عالم حکمران گزرا ہو. اگرچہ بہت سے نیک دیندارحکمرانوں سے اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے.
ایران میں 1979کے انقلاب سے شیعہ ملایت قائم ہوئی، ہزاروں مارے گیے، عراق سے جنگ سے انقلاب کو خون ملا،فرقہ واریت، جنگ وجدل عراق اور اب شام میں عروج پر ہے. دا عش، فرقہ واریت کے رد عمل میں وجود پکڑ گئی.اقتصادی پابندیوں نے ایران کو نہ صرف بین الاقوامی تنہائی کا شکار کیا بلکہ معیشت تباہ کر دی. عوام غربت میں تباہ ہو گیے. موجودہ  اعتدال پسند قیادت نے مسایل کو کچھ کم کیا.اب الیکشن میں اعتدال پسند ریفا رمر(Reformers) آگےآرہےہیں.
سعودی ملوکیت، ملایت کے ساتھ اتحاد سے اپنے وجود کو جواز اورمذہبی و قانونی حیثیت حاصل کرتی ہے.(سہولت کی شادی-marriage of convenience).
بلکل درست ہے کہ اسلام مکمل دین ہے. انسانی زندگی کے بیشمار شعبے ہیں، انجینرنگ، میڈیکل، دفاع، سوشل سائنسز، بزنس، فزکس، کیمسٹری، وغیرہ وغیرہ. ہر شعبے کے ماہرین ہیں جو سالہا سال مخصوص تعلیم و تجربہ کے بعد ایکسپرٹ بنتے ہیں. کوئی مذہبی عالم صرف مذہبی تعلیم  کی وجہ سے خود بخود ان شعبوں میں ایکسپرٹ نہیں ہو جاتا.
دنیاوی علوم دینی علوم الگ ہیں. ہاں اگرکوئی دینی عالم میڈیکل کی تعلیم بھی حاصل کرلے تو سرجن بن کر آپریشن کر سکتا ہے. علماء تمام لوگوں کی دینی رہنمائی کرکے ان کو اچھا مسلمان بننے میں مدد کریں نہ کہ خود ہی ہر معاملہ میں دین کے نام سے دخل اندازی کو اپنا حق سمجھیں.
اسلام  وسیع ہے، اسلام مسلمان کی زندگی میں ہے سیاست میں بھی. ایک اچھا مسلمان ,اچھا سیاست دان, اچھا ڈاکٹر، اچھا انجنیئر ہو گا تو سارا معاشرہ اچھا ہو جائے گا. رسول الله صلعم نے جب مدینه میں زراعت پر مشورہ دیا، پھر جب کھجور کی فصل میں کمی ہو گیی  تو فرمایا کہ  (5) ایسے "دنیاوی معاملات" میں اپنے مروجہ طریقه پر چلو (حدیث مسلم، مفھوم) . اس وقع میں  اہل عقل کے لئے واضح سبق ہے.
قرآن ٥٩:٧ الحشر، وحی، شرعی، دینی احکام سے متعلق واضح ہے:"اور جو کچھ رسول تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو (اُس سے) رُک جایا کرو"
اگرکسی نے سیاست میں حصہ لینا ہے تو شوق سے لیں مگر دین اسلام کی اڑ میں نہیں اپنے عالم دین ھونے پر ووٹ کے لیے بھیک نہ مانگیں اپنے کردار سے اپنے آپ کواہل ثابت کرکہ شوق سے اقتدار میں آیئں  وعدہ کریں پورا کریں.
(اور میری آیتوں کو (دنیا کی) تھوڑی سی قیمت پر فروخت نہ کرو-قرآن ٢:٤١ )
کسی عالم کے لیے دین اسلام کے نام پر اپنے لیے ووٹ لینے کو مذہبی فریضہ قرار دینا دین کے ساتھ ظلم ہے.پاکستان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، آیین قانون اسلامی ہیں، کوئی غیر مسلم صدر ، وزیراعظم نہیں بن سکتا. مذہبی سیاسی جماعتوں کا کیا جواز؟  
علماء اکرام قرآن (٩:١٢٢ التوبة،  آل عمران 3:104) کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دیں.
علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ   (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.
مذہبی سیاسی جماعتوں کو عوام نے پزیرائی نہ دی، سیاسی کرپشن اور افرا تفری  کے دور میں مذہبی سیاسی جماعتوں نے مذہب اسلام کوخوب استمعال کیا.مگر کوئی قابل ذکر مفید کام نمونے کے طور پر پیش کرنے سے قاصر رہے. نفاذ شریعت صرف ایک مقبول نعرہ بن گیا ہے .
اب ہرمسئلے کا حل نفاذ شرعیت میں تلاش کرتے ہیں اورکچھ افراد (تکفیری طالبان) جن کو علماء نے آج کے خوارج قرار دیا ہے نفاذ شریعت کے نام پر قتل و غارت دہشت گردی سے معصوم لوگوں کو مارتے ہیں  خودکش حملوں کو جائز قرار دیتے ہیں اور ان غیر اسلامی اقدام کو قرآن و حدیث سے ثابت کرنے کی غلط تاویلین پیش کرتے ہیں.حکومت وقت (١٣) ، مسلمانوں کی ریاست  کے خلاف (فساد) بغاوت کو جائز کہتے ہیں جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا (١٣).  یہ سلسلہ افغانستان سے پاکستان، مشرق وسطیٰ(داعش) ، افریقۂ (نائجیریا، لیبیا) تک پھیل چکا ہے.مغربی اقوام اور امریکا نے اس بربادی میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ اس  آگ کو خوب بھڑکا کرثابت کیا کہ ان کے حکمران مسلمانوں کے کتنے خیرخواہ ہیں؟
افغانستان، عراق، شام،لیبیا تباہ ہوچکے ہیں، فاٹا کو پاکستان آرمی بحال کر رہی ہے. مصر، ترکی کے حالت خرابی کی طرف جا رہے ہیں. اسرائیل فلستینیوں پر ظلم ڈھا رہا ہے، بیت المقدس کو یہودیوں کی عبادت کے لیے کھول رہا ہے. مسمانوں کی تباہی کا فائدہ اسرائیل اور دشمن اٹھا رہے ہیں.
کوئی مستند عالم دین (بظاھر) ان دہشت گردوں کے ساتھ نہیں بلکہ وہ ان غیر اسلامی اقدام کو رد کرتے ہیں فساد فی ا لارض کو حرام کے فتوے جاری کئے.جید علماء کے علاوہ  بہت سے عام درجے کے  امام لاعلمی اور جہالت کی وجیہ سے اور ظالم کرپٹ  نظام، حکمرانوں کی وجہ سے ان سے دل میں ہمدری  رکھتے ہیں.اگر ظالم ،فاسق، فاجر حکمران  ہوں تو علماء اور مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہے؟ (٦،١٣)بغاوت نہیں یہاں پڑھیں)
بہت بڑا ظلم ہے کہ کسی اچھے مقصد کے نام پر غلط طریقه اختیار کیا جاے.اس قسم کے تمام لوگ جو خوارج دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں وہ لاکھوں بے گناہ انسانوں کے قتل میں حصہ دار ہیں، کونکہ الله تعالیٰ فرماتا ہے:
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا
جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے (قرآن ;4:85)
دہشت گردی، منظم پلان کے تحت مسلمانوں میں پھیلائی گیی ہے. جاہل لوگوں کو اسلام کے نام پردشمن قوتوں نے مسلمانوں کے خلاف استمال کیا اور کر رہے ہیں. ان کو ( Oded Yinon Plans & Bernard Lewis Plan) کا علم نہیں ، یہ ان کے خلاف کاونٹر پلان کیسے بنا سکتے ہیں؟ اسلامی دنیا تباہ ہو رہی ہے، اسرائیل اور اس کے مدگار خوشیاں منا رہے ہیں.
دہشت گردی سے لاکھوں مسلمان مار دیے  گیۓ. یہ الله  کے احکام کی نا  فرمانی ہے:
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ
اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا (قرآن ;17:33)
وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا
اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے(قرآن ;4:93)
وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۗ
فتنہ قتل سے بھی بڑا گناه ہے(قران ;2:217)
أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے.(قرآن ;18:105)
افسوس کا مقام ہے جب جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن صاحب دشت گردوں کو شہید کہتے ہیں اور عوام کے جان و مال کی حفاظت پر مامور افواج اور سرکاری اداروں کے افراد کو شہید کہنے سے انکاری ہیں.
دین کافر‘ فکر و تدبیر جہاد
دین مُلاّ‘ فی سبیل اللہ فساد
ضروری ہے کہ علماء اس شعرکوغلط ثا بت کریں تا کہ عوام کا ایسے دینی علماء یا سیاسی مذھبی لوگوں پر سے اعتبارنہ اٹھ جاے. وہ ان کے منہ سے اصل دین کی سچی باتوں پر اعتبار کرنے سے کتراتے ہیں.


ایک بڑی غلط فہمی جو صوفی، درویشی طریقه زندگی اور دوسرے مذاھب میں رہبانیت سے متاثر ہو کرپیدا ہوگیئ ہے کہ: "مسلمانوں کو اس دنیا کی بجاے،صرف آخرت کی فکر کرنا چاہے".  یہ اسلام کے پیغام کے برعکس ہے. اسلام سادگی کی تلقین کرتا ہی مگراس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مسلمان دوسری اقوام کی محکومیت میں ذلت کی زندگی گزاریں.


اسلام مسلمان سے یہ تقاضا نہیں کرتا کہ وہ یکسر دنیا سے لا تعلق ہو جائے. اور نہ یہ کہ مسجد میں جا بیٹھے اور پھر وہاں سے نہ نکلے. اور نہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان کسی غار میں جا کر پناہ گزین ہو جائے اور پوری زندگی وہیں گزاردے …. ہرگز نہیں!
بلکہ مسلمانوں سے اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنی  بہترین تہذیب اور بےمثال تمدن کو پوری طرح اپنائیں تاکہ مہذب اقوام عالم پر سبقت لے جائیں. مال ودولت کے اعتبارسے دنیا میں سب سے دولت مند ہوں. اور علم وحکمت کے لحاظ سے تمام علوم میں سب سے بڑے عالم ہوں.[شیخ علی طنطاوی' تعریف عام بدین الاسلام']  
"… جس رہبانیت کو ان لوگوں نے ازخود ایجاد کرلیا تھا اور اس سے رضائے خدا کے طلبگار تھے اسے ہم نے ان کے اوپر فرض نہیں قرار دیا تھا…" (قران57:27)
وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ أُولَـٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا ۚ وَاللَّـهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ ﴿٢٠٢﴾
ور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا (201) ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی (البقرة2:202 )
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّـهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿٣٢﴾ قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّـهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (الأعراف7:32-33)
پیغمبر آپ پوچھئے کہ کس نے اس زینت کو جس کو خدا نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ رزق کو حرام کردیا ہے ... اور بتائیے کہ یہ چیزیں روزِ قیامت صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جو زندگانی دنیا میں ایمان لائے ہیں .ہم اسی طرح صاحبان هعلم کے لئے مفصل آیات بیان کرتے ہیں



مسلمانوں کے دماغ میں ایک اور سوچ ڈال دی گیی ہے کہ جنگ و جدل، دہشت گردی سے بین الاقوامی مسلم خلافت قائم کر کہ ازمنہ وسطیٰ کی عظمت حاصل کی جا سکتی ہے. یہ غلط ماینڈ سیٹ تبدیل کرنے  کی ضرورت ہے. موجودہ نیشنل ازم کے دور میں یہ ممکن نہیں. امریکہ جیسی فوجی اور طاقتور معیشیت کی حامل سپر پاور کو ویتنام، کوریا،افغانستان، عراق سے جانا پڑا. اس سے قبل سوویت یونین ،افغانستان میں شکست کے بعد ٹکڑوں میں بٹ گیا، اب روس باقی رہ گیا. امریکہ، مغرب اور اب ابھرتی سپر پاور چین اپنی مضبوط معیشت،تیز رفتارصنعتی ترقی کے زور پر دنیا کو زیر اثر کر رہے ہیں. مسلمانوں نے بھی سینکڑوں برس فوجی قوت کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی اور بلند فکر و سوچ کے زور پر دنیا پر غلبہ قائم رکھا. اب جدید دور کے ہتھیار علم، سائنس اور ٹیکنالوجی ہیں، ان کے ساتھ صرف اسلام کا نظام عدل وانصاف اور روحانیت،بنی نوانسان کی مادی اور روحانی ضروریات کی تسکین کر سکتی ہے:
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ(آل عمران9:33)
اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اگرچہ مشرک نا پسندکریں (آل عمران9:33)
ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۙ وَأَنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (الأنفال 8:53)
یہ (عذاب) اس وجہ سے ہے کہ اللہ کسی نعمت کو ہرگز بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم پر اَرزانی فرمائی ہو یہاں تک کہ وہ لوگ اَز خود اپنی حالتِ نعمت کو بدل دیں (یعنی کفرانِ نعمت اور معصیت و نافرمانی کے مرتکب ہوں اور پھر ان میں احساسِ زیاں بھی باقی نہ رہے تب وہ قوم ہلاکت و بربادی کی زد میں آجاتی ہے)، بیشک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے، (الأنفال 8:53)
غیر مسلموں سے خواہ مخواہ کی دشمنی اور جنگ و جدل سے منع کیا گیا ہے:(الممتحنة 9-60:7)
لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّـهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ﴿٨﴾ إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّـهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَىٰ إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴿الممتحنة ٩﴾
اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگون نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے کہ تم ان کے ساتھ نیکی کرو اور ان کے ساتھ انصاف کرو بےشک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ اللہ تو صرف تمہیں ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے دین کے بارے میں تم سے جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکا لنے میں ایک دوسرے کی مدد کی اور جو ان سے دوستی کرے گا وہی ظالم ہیں۔ (الممتحنة 9-60:7)
عَسَى اللَّـهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةً ۚ وَاللَّـهُ قَدِيرٌ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٧﴾
بہت ممکن ہے کہ اللہ تمہارے درمیان اور ان لوگون کے درمیان جن سے (آج) تمہاری دشمنی ہے کبھی محبت پیدا کر دے اور اللہ بڑی قدرت والا ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔  (60:7 الممتحنة)
وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ(5:48 المائدة)
اگر خدا (زبردستی) چاہتا، تو تم سب کو ایک ہی (شریعت) کی ایک ہی امت بنا دیتا۔ مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں آزمائے (ان احکام میں) جو (مختلف اوقات میں) تمہیں دیتا رہا ہے بس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم سب کی بازگشت اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وہ تمہیں آگاہ کرے گا۔ ان باتوں سے جن میں تم اختلاف کرتے ہو۔ (5:48 المائدة)
مسلمانوں کو چاہیئے کہ نظریاتی بین الاقوامی سلطنت قائم کرنے کو اپنا مقصد بنائیں. یه ایسے ہی ممکن ہے جس طرح میڈیا، بزنس امپائر بن سکتی ہے. مسلمانوں کو موجودہ دور میں غلبہ اسلام کے لیے چاہے کہ:
1. اچھے حکمران منتخب کریں، برے حکمرانوں کو پر امن جمہوری طریقه سے ہٹائیں اور پریشر ڈال کر سیدھےراستے پر چلنے پر مجبور کریں. مسلمان اس دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی چاہتا ہے، جبکہ غیر مسلم  کو اپنے اچھے اعمال کا صلہ اسی دنیا میں ہے آخرت میں نہیں.
2. مسلمان حکومتوں کو مظبوط کریں، مظبوط جدید دفاعی قوت حاصل کریں، امن قایم کریں، دینی و دنیاوی علوم حاصل کریں اورترقی میں بھر پور حصہ لیں.
3. بین القوامی امن میں اقوام متحدہ کے چارٹرکے معاہدوں کےمطابق اپنا پرامن کردار ادا کریں.دشت گردی کو مسترد کریں.
4. غیر مسلمانوں کے ساتھ امن سے رہیں (الممتحنة 9-60:7)اور اچھے کاموں میں ان سے سبقت لیں.(5:48 المائدة). ان کومسلمانوں کے مقابلے ولی نہ بنایں مگر نارمل تعلقات میں کوئی حرج نہیں. تاریخ گواہ ہے کہ حنین سےعثمانیہ خلافت کے اختتام تک مسلمان حکومتوں ںیں غیر مسلمانوں سے اچھا سلوک کیا اور اچھے تعلقات رکھے.    
5. اسلام کی تبلیغ، دعوہ اورمسلمانوں کی اصلاح کے لیے علم اور جدید میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استمال کرنا چاہیے.
آیے تاریخ پر ایک نظر ڈالیں:-    
انڈونیشا (دنیا کا سب سے برا اسلامی ملک)، ملایشیا، برونائی ، شرق وسطیٰ میں کون سی اسلامی فوج حملہ آور  ہوئی؟
چین میں اسلام چودہ سو سال سے موجود ہے. حضرت سعد بن بی وقاص کوئی لشکر لے کر چین پر حملہ اور نہیں ہوے تھے.
افریقہ جہاں دنیا کے مسلمانوں کا ٣٣% حصہ ہے، سواہے شمالی افریقہ کے جو فتح کیا گیا، باقی افریقه میں اسلام تجارت اور تبلیغ سے پھیلا.
اور اسپین جہاں مسلمان ٨٠٠ سال تک حکمران رہنے کی بعد ایسے گیے کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا. اسلام تلوار کی طاقت سے نہیں بلکہ ایمان ، قرآن اور تبلیغ ودعوه کی طاقت سے پھیلتااور قائم رہتا ہے.  
آج یورپ اور امریکہ شامل،(دہشت گردی کے پروپیگنڈا کے با وجود) دنیا میں اسلام سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا دین ہے. کون سی افواج وہاں حملہ اور ہیں؟
اسلام اپنی نظریاتی اورفکری برتری کی وجہ سے تیزی سے پھیل رہا ہے.  ناکام مخالفین جھنجلاہٹ میں مسلمانوں کو تشدد اور داشت گردی کے راستے پر ڈال کر گمراہ کر کہ اسلام کے پھیلاؤ کو روکنا چاہتے ہیں. علماء اور مسلمانوں کو اس سازش کا شکار بن کر دشمنوں کے ہاتھ آلہ کار نہیں بننا چا ہے. پر امن طور پر اسلام کے پیغام کو پھلا یں، اپنے عمل سے امن کے پیغام بر بن جا ییں.
پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے ، کوئی قانون قرآن اور سنت کے خلاف نہیں بن سکتا ، وفاقی شرعی عدالتیں موجود ہیں. مگر حکمران نفاذ شریعت میں مخلص نہیں. کشمکش جاری ہے. عوام شریعت کے نظام کے زرییے استحصال سے پاک سماجی، معاشرتی، معاشی انصاف و عدل پر مبنی نظام کی خواہش رکھتے ہیں. صرف قانون کے نام کی تبدیلی نہیں.  
اگر عوام، حکمران اور مذھبی جماعتیں اسلامی شریعت کو نافذ کرنا چاہیں تو کیا رکاوٹ ہے؟
رکاوٹ یہ ہے کہ عوام اس کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں. شراب، نشہ کی مما نعت کے احکام قرآن نے بتد ریج نافذ کئے.
١٨٢٧ کوسید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں نے پشاور کے علاقے میں اسلامی حکومت قائم کی، ان کو امیر المومنین بنایا. مگر جلد ہی لوگوں نہیں ان کے علماء کو قتل کر دیا اور حکومت ختم ہو گیئ.
سوڈان میں ١٩٨٨ میں اخوان المسلمون کو موقع ملا کہ جعفر النمیری کے ساتھ حکومت بنیں مگر یہ تجربہ ناکام ہوا. ابھی مصر میں اخوان کے صدر مرسی کے ساتھ جو ہوا قابل افسوس ہے.حکومت کرنا اور سیاسی مخالفوں کو تدبر سے قابو میں رکھنا مشکل کام ہے جو علماء کے بس میں نہیں.
   
اسلامی مذہبی جماعتیں حکومت میں شامل رہتی ہیں اور سیاسی و مالی فوائد حاصل کرتی ہیں ان کی کرپشن کی داستانیں عام ہیں. خیبر پختون خواہ صوبہ میں پہلے مفتی محمود (١٩٧٠-٧١) کی حکومت پھر ان کے فرزند مولانا فضل ا لرحمان اور جماعت اسلامی (MMA) کے اتحاد نے صوبۂ سرحد اور بلوچستان میںپانچ سال تک حکومت  کی. ماسوا اشتہارات میں عورتوں کی تصویروں پر پینٹ ملنے کے انہوں نے کوئی خاص کام نہ کیا جومختلف یا اسلامی کہا جا سکے.مذہبی طبقہ کی طرف سے کوئی ایسا قابل ذکر پروجیکٹ جس سے معاشرہ میں بہتری نظر آے شاذ نذر آے گا. اگلے الیکشن میں عوام نے ان کو مسترد کرکہ سیکولر پارٹی (ANP ) کو منتخب کیا جو ان جیسے ہی کرپٹ اور نہ اہل تھے. پہلے جنرل ضیاء الحق (١٩٧٧-٨٨) کی اسلامی حکومت، عوام کو اسلام کے نام پر دھوکہ دے کر اسلام کی خدمت نہیں بلکہ نقصان دیا.
مذہبی سیاسی جماعتوں کے نوجوان پچھلے ٦٧ سال سے دیکھ رہے ہیں کہ قومی سطح پر ان کو کامیابی نہیں ملتی تو وہ مایوس ہو کربنیاد پرستی اور  تشدد کی طرف مائل ہو جاتے ہیں.یہ ایک بہت  منفی رجحان ہے. عدم برداشت اور غیر لچک رویہ جو خود کو مکمل طور پر حق پر سمجھنے کی وجہ سے مذہبی لوگوں میں پیدا ہو جاتا ہے ان کو سیاست جیسے ٹیڑہے،  پرپیچ، پیچیدہ، سازش اور جھوٹ سے بھر پور میدان میں علیہدہ کر دیتا ہے. وہ اگر ان سیاسی ہتھکنڈوں کو استمال کرتے ہیں توان کی مذہبی ساکھ  (credibility) متاثرہوتی ہے جونہ صرف ان کی ذات کے لیے بلکہ معاشرہ کے لیے سخت نقصان دہ ہے.
آپ نے میٹھا کھا رکھا تھا تو کسی کو کل آنے کا فرمایا، اگلے دن اس کو میٹھا کھانے سے منع فرما یا، اس شخص نے کہ یہ تو آپ پہلے بھی کہ سکتے تھے ، آپ نے فرمایا میں نے میٹھا کھا رکھا تھا تم کو کیسے منع کرتا.
اگر لوگوں کا علماء سے اعتبار اٹھ جاتا ہے تو پھر مذہبی رہنمائی کون کرے گا؟  اسی لیے الله تعالی کے فرمان پر غور کی ضرورت ہے :
"اور یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تمام اہلِ ایمان نکل کھڑے ہوں تو ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ کہ ہر جماعت میں سے کچھ لوگ نکل آئیں تاکہ وہ دین میں تفقہ (دین کی سمجھ بوجھ) حاصل کریں اور جب (تعلیم و تربیت کے بعد) اپنی قوم کے پاس لوٹ کر آئیں۔ تو اسے (جہالت بے ایمانی اور بد عملی کے نتائج سے) ڈرائیں تاکہ وہ ڈریں۔" (٩:١٢٢ التوبة)
مسلم امت کو جو حالت درپیش ہیں یہ اتنے سادہ نہیں کے صرف اسلامی قوانین نافذ کرنے سے سب ٹھیک ہو جائے گا. قوانین موجود ہیں مسئلہ بد نیتی،کرپشن، بد انتظامی ہے.
شریعت کیا صرف چند قوانین اور سزاؤں کا نام ہے ؟
شریعت  کا ایک حصہ ہر مسلمان کے نفس پر لاگو ہوتا ہے جو اس نے خود نافذ کرنا ہوتا ہے یہ علماء کا کام ہے کہ دعوہ سے تبلیغ سے مسلمانوں کو بیدار کریں ان  کا ایمان پختہ کریں جس کو آخرت پر یقیں ہو وہ غلط کم گناہ کرنے سے اجتناب کرے گا.
اگر سوسائٹی کی دینی تعلیم و تربیت درست ہو تو ہم کو اچھے سیاست دن اچھے حکمران اچھے تاجر اچھے پولیس الغرض ہر شعبے  میں اچھے لوگ مل جیئں گے.
اگر تبلیغ صرف اتمام حجت کے طور پرہواور اسلام کوزبردستی  قانون شریعت  یا طاقت سے نافذ کریں.
اسلام میں پا پیت (ملائیت) کا تصور نہیں.
تاریخ گواہ ہے کہ ایسا نظام دیر پا ثابت نہیں ہوتا. سید احمد شہید بریلوی، سوڈان، مصر میں اخوان، پاکستان میں ضیاء الحق، مفتی محمود، مولانا فضل ارحمان، جمت اسلامی کا اتحادی ٹولہ سیاسی ناکامیوں کی داستانیں ہیں اسلام کی ناکامی نہیں. علماء نے اسلام کے طریقے پر عمل نہ کر کہ انجام دیکھ لیا.
  کیا پیغمبر محمدﷺ  نے ایسا کیا ؟ مکّہ  میں ١٣ سال تبلیغ کی مدینہ طاقت سے فتح نہ کیا بلکہ تبلیغ سے. صلح حدبیہ کی خلاف درزی پر نوٹس دیا اور بغیر خون کے مکّہ فتح ہواعام معافی کا علان ہوا.
لوگوں کے ایمان کا یہ حال تھا  کہ زانی شخص رسول اللهﷺ سے سزا کا مطالبہ کرتا ہے آپ منہ پھیرتے ہیں مگر اسرار کرتا ہے تو رسول اللهﷺ حد جاری کرتے ہیں.
میثااق مدینه ایک ایسی سوسائٹی قائم کرتا ہے جو مختلف مذاھب کے افراد پر مشتمل تھی جس کی مثال قدیم  انسانی تاریخ میں نہیں ملتی.
اگرچہ پاکستان میں ٩٥ فیصد سے زائد مسلمان ہیں مگر زیادہ  لوگ صرف کلمہ پڑھنے اور اسلام کے نام پر مرنے ما رنے کی حد تک مسلمان ہیں. دنیا کی ہر برائی ہم میں موجود ہے. لہٰذا جب تک ایمان ہمارے اندر داخل نہیں ہو جاتا ہم کو اس قسم کا نظام چا یے جس سی امن رواداری کا ماحول ہو تاکہ دعوه تبلیغ سے لوگوں کو دین کی طرف لایا جائے اور اسلامی معاشرے کی بنیاد مضبوط کی جا سکے.
ایمان سب سے زیادہ ضروری ہے جب لوگ ایمان والے ہوں گے سب ٹھیک ہو جائے گا انصاف کا نظام شریعت نافذ ہو گا اور نافذ کرنے والے کرپٹ بے ایمان نہیں بلکہ ایمان دار مومن ہوں گے
آپ درجنوں قانون بنا لیں جب تک عمل کروانے والے ایمان دار مومن نہیں ہوں گے معاشرہ میں امن انصاف نہیں ہو سکتا.
الله تعالی نے علماء کو علم دین سے نوازا ہے یہ امانت عوام تک اس طرح  پہنچانا کہ ان کی دنیا اور آخرت سنور جائے علماء کی ذمہ داری ہے.
اگر چہ علماء اپنے طریقه سے اپنا فرض نبھانے کی کوشس کر رھیں ہیں مگر طریقه پر نظر ثانی ، کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے.
اصلاح نصاب درس نظامی کے لیے 1894 میں ندوة العلما لکھنونے علماء کی کمیٹی قائم کی کہ نصاب میں فلسفہ جدید کے جواب میں انگریزی کے ماہرین مسلمانوں سے ترجمہ کرا کر علماء سے جواب سلیبس میں داخل کریں تاکہ طلبہ اس سے فائدہ اٹھائیں. سو سال گزر گیۓ مگر کچھ نہ ہوا. اب مزید اصلاح جدید کی ضرورت ہے. (٣)
اصلاح نصاب درس نظامی سلسلے میں آج کل کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے. سلیبس میں تجدید کے علاوہ ضرورت اس بات کی ہے کہ طلباء کا مخصوس مائنڈ سیٹ (mindset)، بھی تبدیل کیا جائے. 'ہم' اور' وہ' کی تفریق بتدریج کم، پھر ختم کی جائے. مدارس کے طلباءعام معاشرہ کا حصہ نظرآیں، کم از کم ذہنی طور پر. تعلیم ختم ہونے پر وہ امام مسجد کے علاوہ کسی اور شعبہ میں بھی کام کرنے کے قا بل ہو. حتی کہ اگر کوئی کسی اور شعبہ میں مزید تعلیم حاصل کرنا چاہے تو کر سکے. اس کا بیس base اتنا مضبوط ہو. قدیم مدارس نے اس طرح معاشرہ کے ساتھ رابطہ رکھا اور مایہ  ناز سکالر پیدا کیے.انہوں نے معاشرہ میں شادیاں کیں، اور معاشرہ کا حصہ بن گیے. ہم ، تم کی تفریق نہیں تھی. اس پر بہت سا کام کی ضرورت ہے.اعلی پانے کی خواتین علماء کی شدید قلت ہے.  
کون لوگ ہیں جواسلامی نظام ، شریعت کو نافذ کریں گے ؟
1. کالعدم تحریک طالبان، داعش اور ان جیسی داشت گرد تکفیری تنظیمین جو پاکستان میں خود کش حملوں اور دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں.
2. سیاسی کرپٹ لوگ جو غیر ملکی مدد اور گارنٹیوں سے دھوکے کے الیکشن کے ذریعہ حکومت بناتے ہیں؟
3. مذہبی سیاسی لوگ جن کا اپنا سیاسی کردار مشکوک ہے؟
4. پرامن علماء ، خطیب، امام جو لوگوں کودین اسلام  کی تعلیم دیتے ہیں، نماز پڑھاتے ہیں اور خطبے دیتے ہیں موت پیدائش شادی پر رسومات ادا کرتے ہیں؟  
5. سول، ملٹری بیوروکریسی موجودہ نظام کا حصہ ہے اور قانونی آینی طور پر حکومت وقت کے طا بع ہے؟
6. پڑھے لکھے سیکولرمغرب زدہ لوگ جو دنیوی تعلیم میں ماہر ہیں، دین کو فرد کا ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں، دین سے لابلد؟
7. پڑھے لکھے لوگ جومختلف دنیاوی علوم کے ماہر ہیں  دینی علم میں ماہر تو نہیں مگر دین کی  سمجھ رکھتے ہیں، مضبوط ایمان ہے، اسلام کو راہ نجات سمجھتے ہیں؟
8. مظلوم عوام، جو ان تمام لوگوں  سے جھوٹی امیدیں لگاے بیٹھے ہیں.جو عوام کو اپنے مقاصد کے لیے استمال کرتے ہیں.
اگر  موجودہ حالات کا بغورعقلی جائزہ لیں تو عملی طور پر درج بالا لوگوں میں سے کوئی ایک گروپ تنہا اسلامی نظام نافذ نہیں کر سکتا.اگر کسی کے پاس علم ، تجربہ، خواہش ہے تو اس کے پاس  عمل درامد کے لیےقانونی، سیاسی طاقت نہیں. جن لوگوں کے پاس قانونی سیاسی طاقت ہے ان کے پاس  خواہش (political will) نہیں.
ممکن حل ہے کہ:
1. پاکستان کا آییین اسلامی جمہوری ہے ، تمام مکتبہ فکر کے علماء کا اس اسلامی جمہوری آیین پراجماع ہے.لہٰذا خلافت کے نام پر تفرقہ اجماع کے خلاف ہے. یھاں کوئی سیاسی جماعت جو آیین کے خلاف ہو وجود میں نہیں آ سکتی، لہٰذا الگ مذہبی ، سیاسی جماعتوں کا کوئی جواز نہیں.    
2. مذہبی سیاسی جماعتیں فوری طور پر عملی سیاست سے علیحدہ ہو کرکرپٹ نظام کی تبدیلی،حقیقی اسلامی نظام کے نفاذ کی مہم کا آغاز کریں. کسی حکومت میں شامل نہ ہوں سیاسی پریشر گروپ کا کم کریں. 67 سال ناکام مذہبی سیاست کر لی اب علماء اسلام قرآنی طریقے کو بھی موقع دیں.
3. تمام سیاسی جماتوں پر لازم ہو کہ وہ علماء کو مشاورت میں شامل کریں. اسسبلیوں اور سینیٹ میں علماء کے لیے کوٹہ مخصوص کیا جا سکتا ہے، جیسے خواتین اور ٹیکنوکریٹ کا ہے. اچھے علماء کی ہر فیلڈ میں ضرورت ہے مگر ان کو الیکشن کی سیاسی گندگی سے دور رکھیں.
4. علماء دین اپنے علم کے دائرۂ کو جدید حالا ت کے مطابق وسیع کریں تاکہ نئی نسل کی موثر رہنمائی کر سکیں.
5. عوام کی دینی رہنمائی، صبر، تحمل، برداشت سے مرحلہ وار آسان سے مشکل کی طرف کریں. ایمان اور نماز سے ابتدا کی جا سکتی ہے.
6. خواتین جو آبادی کا 50% ہیں اور نئی نسل کی تربیت کی ذمہ دار، ان کی دینی تعلیم و تربیت اور مساجد میں الگ نماز کا بندوبست کریں.
7. اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیے ان پر عمل درآمد کے لیے معاشرہ کو تیار کریں.(١)  
8. جہالت اور ثقافتی خرافات ، غیر اسلامی رسم و رواج جیسے جہیز ، ونی ، غیرت کے نام پر قتل، کرپشن وغیرہ کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کریں تا کہ معاشرہ ان خرافات سے پاک ہو.
9. تمام علماء دہشت گردی، خوارجیت ، تکفریت، فرقہ واریت  کو مسترد کریں. گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لایں.
10.جہاد بالسیف، قتال: تمام عالم اسلام اور پاکستان کے علماء کا اجماع ہے کہ جہاد قتال اسلامی حکومت کی زمہ داری ہے جو وہ  اقوامی معاہدوں کے مطابق اپنی افواج کے ذریعے کرے ، پرائیویٹ جہادی گروپ ممنوع. باغی فسادی افراد کو ساتھ سختی سے کچل دیا جائے. (٤) (المائدة 5:33)
11.جہاں مسلمان مظلوم ہیں حکومت وقت  کو واضح کریں کہ بین القوامی معاہدوں کے مطابق ان کی ہر طرح سے مدد کرے. اور تمام مسلمان ممالک کا (EU کی طرح) مضبوط اتحاد قائم کرنے کی کوشس کرے.
12.جہاد اکبر،رسول اللهﷺ کے فرمان کے مطابق، نفس کے خلاف جہاد کی ترویج کریں.
13.جِهَادًا كَبِيرًا: موجودہ دور کے جدید کمیونیکشن ٹولز کو استمال کریں اور اسلام کی اعلی اقدار پر نظریاتی انٹرنیشنل امپائر قائم کرنے کی جدو جہد کریں.اس طرح اسلام کا نظریہ تمام نظریات پر غالب آ سکتا ہے.الله فرماتے ہیں:
14.                    فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (٢٥:٥٢الفرقان)  "
15.                   پس (اے مردِ مومن!) تو کافروں کا کہنا نہ مان اور تو اس (قرآن کی دعوت اور دلائل) کے ذریعے ان کے ساتھ بڑا جہاد کر،"(٢٥:٥٢الفرقان) بنکنگ اور معاشی نظام کو 'الربا' سے مکمل پاک کرنے کے لیے اقدام تجویز کریں اور معاشرہ میں اسلامی بنکنگ کا شعور بیدار کریں.  اس لیے علماء کی ضروری تعلیم و تربیت کریں.
16.                   آج کا دور سائنس و ٹیکنالوجی، علم اور ماس میڈیا(mass media) کا ہے. افواج اور ہتھیاروں سے تباہی تو پھیلی جا سکتی ہے مگر ملک فتح کرکہ قبضہ زیادہ دیر نہیں قایم رہ سکتا.آج کا ہتھیارعلم اورجدید میڈیا ہے.
17.                   اس دور میں غلبہ اسلام کے لیے  تبلیغ، دعوه اور اصلاح  معاشرہ و انسانیت کے لیے علم ( سائنس و ٹیکنالوجی اور دین) اور جدید میڈیا کو استمال کرنا چاہیے. فوری طور پرترجیحات میں تھوڑا ردوبدل، جمعہ کے خطبہ کے موضوعات کے انتخاب میں ایمان اور  مسلم قرآن کے پانچ حقوق: قران پر ایمان، سمجھنا، پڑہھنا، تعلیمات پر عمل، اور قرآن کی تعلیمات کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے پر عمل درآمد شروع کرے.
18.                   عوام علماء، سیاست دانوں، حکمرانوں پرکڑی نظر رکھین تا کہ دھوکہ نہ کھائیں، ان پر پریشر ڈالیں، ان کو سیدھے رہتے پر مجبور کریں.
19.                   جب معاشرہ تیار ہو گا، سیاسی بیداری ہو گی ، عوام دیانت دار ، نیک مسمانوں کو الیکٹ کریں گے اسلامی انقلاب برپا ہو جائے گا. جیسے لوگ ویسے حکمران.(١٣)
یہ بحر حال ایک نقطہ نظر ہے جس میں مزید بہتری اور امپروومنٹ کی گنجائش ہے .انشا الله
 إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ﴿٦﴾
آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے (القصص 28:56)
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ ﴿١٩٩﴾
آپ درگزر کو اختیار کریں نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں (7:199 الأعراف)
الله ہم کو ھدایت دے اور صراط مستقیم پر چلنے میں رہنمائی فرماے اس تحریر میں کوئی غلطی نا دادستہ ہے اللہ معاف فرماے، اللہ  ہماری کوتاہوں کو معاف فرماے. آمین
والسلام
آفتاب احمد خان
 مسلم وعلماء کے نام کھلا خط 

View / Download as: <<PDF>>

View /Download as:  <<MS Word Docx>>


-  - - - - - -  -  - - -  - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -- - - - - -  -  -- - - - -
نوٹ :
١. مزید بہتری کے لیے آپ کی رائے ضروری ہے، اس کے لیے نیچے "Post Comments" خانہ استمال کریں.
٢. اس کو زیادہ سے افراد سے شیئر کریں، اور اسلام کے اصل پیغام امن کوپھیلانے میں اپنا حصّہ ڈالیں. الله کا فرمان ہے :
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا
جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے (قرآن ;4:85)  
- - - - - - -  -  - - -  - - - - - - - - - - - - - - - - -  - - - - - - - -  - - - - - - - - - - - -
حوالہ جات:References
(١)
علماء اسلام پرمسلمانوں کیتعلیم و تربیت کی ذمہ داری:
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ  (٩:١٢٢ التوبة،. مسلمان قرآن کے وارث (32:35 فاطر)
اور یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تمام اہلِ ایمان نکل کھڑے ہوں تو ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ کہ ہر جماعت میں سے کچھ لوگ نکل آئیں تاکہ وہ دین میں تفقہ (دین کی سمجھ بوجھ) حاصل کریں اور جب (تعلیم و تربیت کے بعد) اپنی قوم کے پاس لوٹ کر آئیں۔ تو اسے (جہالت بے ایمانی اور بد عملی کے نتائج سے) ڈرائیں تاکہ وہ ڈریں۔ (٩:١٢٢ التوبة،
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ  آل عمران 3:104)
اور تم میں سے ایک گروہ کو ایسا ہونا چاہئے جو خیر کی دعوت دے, نیکیوں کا حکم دے برائیوں سے منع کرے اور یہی لوگ نجات یافتہ ہیں آل عمران 3:104
تفہیم القرآن میں  (٩:١٢٢ التوبة) کی تفسی:
(٢) دعوت اور تبلیغ اسلام کا طریقه :
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ  (النحل 16:125)
آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دعوت دیں اور ان سے اس طریقہ سے بحث کریں جو بہترین طریقہ ہے کہ آپ کا پروردگار بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بہک گیا ہے اور کون لوگ ہدایت پانے والے ہیں  (النحل 16:125)
(٣) علماء اور دور جدید:
(٤) ملک میں فساد
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٣٣﴾
جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے
(المائدة 5:33)
(٥)  Date palms Pollination Hadith: http://en.islamtoday.net/node/1691
محمدﷺ
Related:
  1. https://ur.wikipedia.org/wiki/تبلیغی جماعت
  2. Pakistan-Islam &
  3. Open Letter to Muslims & Ulema:  مسلم وعلماء کے نام کھلا خط 
  4.  پاکستان - امن اور ترقی کا راستہ: http://pakistan-posts.blogspot.com/2013/11/pakistan-basic-issues-need-immediate.html 
  5. Short Web link: http://goo.gl/xNolSV  
  6. Google Document: https://goo.gl/xAtokS
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
.سم الله الرحمن الرحيم
 لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ
شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا. ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین  پر. جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا.
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits