Featured post

خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید

یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22 قرآن) جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور...

Sectarianism in Islam اسلام میں فرقہ واریت - تاویلیں، دلائل اور تجزیہ


هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  ( سورة الحج22:78)
اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ -

 رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ﴿١٢٦ سورة الأعراف
 اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اِس حال میں کہ ہم مسلمان  ہوں" (7:126)

 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ  (سورة المائدة 5:3)
آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کر لیا ہے (سورة المائدة 5:3)

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّـهُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٧١سورة التوبة﴾ 
 مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ومعاون اور) دوست ہیں، وه بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نمازوں کو پابندی سے بجا ﻻتے ہیں زکوٰة ادا کرتے ہیں، اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے واﻻ حکمت واﻻ ہے (9:71 سورة التوبة )

وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴿١١٥﴾ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١١٦سورة النساء

مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بد ترین جائے قرار ہے  اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہوسکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا (4:115,116سورة النساء)  

اسلام میں مذاہب اور شاخیں: 
اسلام فرقہ پرستی کو رد کرتا ہے، اتحاد پر زور دیتا ہے- ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘ ( آل عمران، 3 : 103)

 اللہ کی رسی سے مراد قرآنِ مجید ہے جو دین اسلام کی بنیاد ہے، قرآن پر سب مسلمان متفق ہیں ، اس کی ہر آیات صحیح ہے کچھ ضعیف نہیں-
 "قرآن کو رسی سے تشبیح کیوں دی گئی" 
گڑھے اور پستیوں میں گرے ہوۓ شخص کو نکالنے کیلئے رسی لٹکائی جاتی ہے جسکو وہ مظبوطی سے تھام لے تو باہر نکال لیا جاتا ہے اسی طرح گمراہیوں کی پستیوں میں گرا ہوا شخص قرآن کریم  کے عقائد و نظریات کو مظبوطی سے تھام لے تو وہ گمراہیوں سے نکال لیا جاتا اس مختصر سی وضاحت سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رسی کو تھامنے والا اہل ایمان ہے اور اسکو چھوڑ دینے والا تفرقہ پرور ہے یعنی تفرقہ کرنے والا ہے- عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ایک حدیث میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کتاب اللہ اللہ تعالیٰ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے۔  قرآن یا دین کو رسی سے اس لئے تعبیر کیا گیا کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہلِ ایمان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان لانے والوں کو باہم ملا کر ایک جماعت بناتا ہے۔  یعنی ہرانسان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نظامِ حیات یعنی قرآن پر مضبوطی سے عمل کرے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان باہم متفق و متحد اور منظم ہو جائیں گے۔ جس طرح کسی بلندی پر چڑھتے وقت ایک مضبوط رسی کو پکڑ لیں توہلاکت سے محفوظ رہیںگے اسی طرح اگر سب مل کر اللہ کی رسی یعنی قرآن کو پوری قوت سے پکڑے رہو گے تو کوئی شیطان شر انگیزی میں کامیاب نہ ہوسکے گا اور انفرادی زندگی کی طرح مسلمانوں کی اجتماعی قوت بھی ناقابلِ تسخیر ہوجائے گی۔ اور اس سے ہٹ کر قومی و اجتماعی زندگی تو تباہ ہوہی جائیگی اور اس کے بعد انفرادی زندگی کی بھی خیر نہیں جس کا عملی نمونہ آج ہمیں ہر طرف نظر آرہا ہے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرقہ پرستی کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
يَدُ اﷲِ مَعَ الجَمَاعَةِ، وَ مَنْ شَذَّ شَذَّ اِلَی النَّارِ.
’’اجتماعی وحدت کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے، جو کوئی جماعت سے جدا ہو گا وہ دوزخ میں جا گرے گا۔‘‘
 ترمذی، السنن، کتاب الفتن عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، باب ما جاء فی لزوم الجماعة، 4 : 39 - 40، رقم : 2167
اسلام انسانیت کی بقاء، معاشرے میں امن و سلامتی، اتحاد، اخوت اور بھائی چارے کا ضامن ہے۔ اس میں فرقہ پرستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں جو فرمایا، وہ اوپر پیش کر دیا گیا-
ملی شیرازہ کو تفرقہ و انتشار کے ذریعے تباہ کرنے والوں کے لئے  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتہائی سخت احکامات صادر فرمائے:
’’جو شخص بھی تمہاری جماعت کی وحدت اور شیرازہ بندی کو منتشر کرنے کے لئے قدم اٹھائے اس کا سر قلم کر دو۔‘‘
 مسلم، الصحيح، کتاب الامارة، باب حکم من فرق امر المسلمين و هو مجتمع، 3 : 478، رقم : 1852
گویا مذکورہ بالا قرآنی آیت اور حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اسلام میں فرقہ بندی اور تفرقہ پرستی کی کوئی گنجائش نہیں۔
قرآن کے واضح احکام کے باوجود مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ گیے - اسلام سے منسوب مختلف فرقوں اور فقہی مذاہب کی لمبی لسٹ ہے۔ تمام شاخیں صرف اللہ وحدہُ لا شریک کو معبود برحق قرآن کو آخری الہامی کتاب اور محمد رسول اللہ ﷺ کو آخری رسول مانتی ہیں جبکہ باقی حکام میں انکا اختلاف ہے۔ مزید تفصیلات اس لنک پر ملاحظہ کریں :https://ur.wikipedia.org/wiki/اسلام_میں_مذاہب_اور_شاخیں

"This day I have perfected for you your religion, and have bestowed upon you My bounty in full measure, and have been pleased to assign for you Islam as your religion."[Qur'an;5:3]

The followers of Islam have been facing many challenges to their unity and faith like the polytheism (shirk), deviations (bid’ah), recently sectarianism, extremism, militancy and intolerance has become a major threat to the peaceful coexistence. Quran calls its followers as Muslims, but unfortunately Muslims have added many other titles which is the greatest deviation (bidah) even by those who claim to following the original teachings of Islam. Keep reading >>>>

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~


تحقیقی سرچ کے دوران ایک لنک ملا، کھولنے پر دلچسپ سوالا ت اور جوابات مکالمہ کی صورت میں ملے- زیادہ اہم معاملہ یہ ہے کہ دور جدید کے معروف اور مشہورعا لم،  شیخ ﻣﺤﻤﺪ ﻧﺎﺻﺮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ کا نام موجود پایا- اس فس بک کی پوسٹ میں شیخ ﻣﺤﻤﺪ ﻧﺎﺻﺮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ سے منسوب سوالات اور جوابات کا مکالمہ  ان کی علمی حثیت سے تقابل نہیں رکھتا، میرے جیسے مذھب کے طالب علم کے لیئے اس پر یقین کرنا مشکل ہے کہ ایک نامور عالم دین خود فرقہ کا نام تجویز کرے  اور قرآن کے واضح احکام کے خلاف دلائل بھی دے؟
مگر کیونکہ پوسٹ میں ان کی گفتگو کا ریفرنس موجود ہے اور یہ پوسٹ ان کے مقلدین(یا follower)  (جا معہ امام بخاری کشن گنج بہار انڈیا) کے فیس بک پیج سے حاصل ہوئی جو کہ .... فرقہ  کے جواز میں دلیل کے طور پر پیش ہے اس لیئے اس پر شک کی گنجائش بہت کم ہے- (دوسرے فرقوں کے علماء بھی شائید ایسی دلیل پر ہوں). مزید تحقیق سے اور لنک بھی مل گیا :

یهاں کسی اور فرقہ کا ابطال و  تنقید یا کسی خاص فرقہ کے حق میں دلائل دینا مقصود ہیں ہے- بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں فرقہ واریت کے متعلق احکام کو واضح کرنا ہے-  اگر ہم آج سے صرف اللہ کی طرف سے دیئے گئے نام "مسلمان" کا استعمال شروع کر دیں اور اضافی لیبلوں سے چھٹکارہ پالیں تو محبت بھائی چارہ امن و سلامتی اور اللہ کی خوشنودی حاصل ہو گی۔
(تمام فرقے اتحاد مسلمین کے حق میں اور فرقہ واریت کے خلاف بلند بانگ دعوے کرتے ہیں،  لیکن اپنے لیبل کو اتار کر اپنے آپ کو صرف 'مسلمان' کہنے کو تیار نہیں - ان کے دعوے صرف دکھاوا معلوم ہوتا ہے ، ان کے لنک آخر میں موجود ہیں)
...................................................



ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﻠﻔﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮩﯿﮟ؟

ﺍﺱ ﺷﺒﮧ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﻧﺎﺻﺮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﺩﯾﺎ۔
ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﭘﺮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﯽ ﺗﮭﯽﺟﻮ ﮐﮧ ﮐﯿﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﮨﮯ"ﻣﯿﮟ ﺳﻠﻔﯽ ﮨﻮﮞ"۔
ﮨﻢ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﯿﺴﭧ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﮨﻢ ﺣﺼﮯ ﮐﺎ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺷﯿﺦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽؒ:
 ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﭖ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭ ﮔﮯ؟

ﺳﺎﺋﻞ: ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻢ ﮨﻮﮞ۔

ﺷﯿﺦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽؒ: ﯾﮧ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

ﺳﺎﺋﻞ: ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﻣﺴﻠﻢ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﯽ: ﻫُﻮَ ﺳَﻤَّﺎﻛُﻢُ ﺍﻟْﻤُﺴْﻠِﻤِﻴﻦَ (ﺳﻮﺭﮦ ﺣﺞ۔ 78) ﺍﺳﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ۔

ﺷﯿﺦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽؒ:
 ﺁﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻭﻝ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ، ﻗﺒﻞﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮧ ﻓﺮﻗﮯ ﺍﭨﮭﺘﮯ، ﮔﺮﻭﮦ ﺑﻨﺪﯾﺎﮞ ﮨﻮﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭﭘﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﯽ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﻮ ﻓﺮﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮ، ﺟﻦ ﺳﮯﮨﻢ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ 
ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﻭﮦ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﮯ ﮔﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﺷﯿﻌﮧﺭﺍﻓﻀﯽ، ﺧﺎﺭﺟﯽ، ﻧﺼﯿﺮﯼ،ﻋﻠﻮﯼ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﺝ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ ﮐﮧ "ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﮞ"۔

ﺳﺎﺋﻞ: ﺟﺐ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ( ﮔﻤﺮﺍﮦ ﻓﺮﻗﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ) ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ، ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﮞ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺳﻨﺖ ﭘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔

ﺷﯿﺦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽؒ: ﯾﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ۔

ﺳﺎﺋﻞ: ﮐﯿﻮﮞ؟

ﺷﯿﺦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽؒ:
 ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﻥ ﻓﺮﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﺗﮯ ﮨﻮ ﺟﻮ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﻮ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺳﻨﺖ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ (ﮨﺮ ﻓﺮﻗﮧ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﮯ، ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺳﻨﺖ ﭘﺮ ﮨﮯ)۔ 
ﯾﮩﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺷﯿﺦ ﻧﮯ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺳﻨﺖ ﮐﻮﺳﻠﻒ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﯾﺎ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﭘﺮ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮈﺍﻟﯽ۔

ﺳﺎﺋﻞ:
 ﺟﺐ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ( ﯾﻌﻨﯽ ﮨﺮ ﻓﺮﻗﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ) ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ " ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥﮨﻮﮞ، ﺳﻠﻒ ﺻﺎﻟﺤﯿﻦ ﮐﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﺳﻨﺖ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ"۔

ﺷﯿﺦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽؒ: 
ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﯾﮩﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ؟

ﺳﺎﺋﻞ: ﺟﯽ ﮨﺎﮞ

ﺷﯿﺦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽؒ :
 ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺍﺱ ﻟﻤﺒﮯ ﻓﻘﺮﮦ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﻢ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ " ﺳﻠﻔﯽ "

( ﺍﺱ ﺷﺒﮧ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﯾﮩﺎﮞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺍ )

Link Reference:  An Unofficial Page For Jamia Imam Bukhari Kishanganj, Bihar, INDIA.

.......................................................................................
قرآن کے بنیادی احکام ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیتیں، فرقہ بازی کی ممانعت: http://salaamforum.blogspot.com/2016/10/fundamentals-commandments-of-islam-for.html
.......................................................................................

تبصرہ :

اگر گستاخی معاف فرمایئں تو عرض ہے کہ جب الله نے دین کا نام   اسلام اور اس پر عمل کرنے والے کو مسلمان  کہا ، اس کے پیغمبر ،  ﺭﺳﻮﻝﷺ اور صحابہ اکرام اور سلف نے بھی یہی کیا تو اب کیا یہ بدعت نہ ہوگی کہ ایک نیا نام رکھ لیا جایے؟
بدعت کی مشهور تعریف جس کو آپ نہیں مانتے :
 ابنِ حجر عسقلانی، بدعت کی لُغوی تعریف یوں کرتے ہیں :
البدعة أصلها : ما أحدث علی غير مثال سابق.
’’بدعت کی اصل یہ ہے کہ اسے بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ایجاد کیا گیا ہو۔‘‘ ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 4 : 253
ہر وہ نئی چیز، جو شریعت کے کسی اصول کے خلاف جا رہی ہو، وہ بدعت کے زمرے میں آتی ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی حدیث ہے کہ ہر وہ عمل، جو کسی سنت کو ختم کر دے، وہ بدعت (سنتِ سئیہ) کے زمرے میں آجائے گا۔
ما احدث قوم بذعۃ ال رفع مثلھا من السنۃ

جب کوئی قوم بدعت ایجاد کرتی ہے تو اسی کی مثل سنت ختم ہو جاتی ہے۔ (مشکوۃ، ص ۳۱)
" دین میں وہ نیا عمل جو شرعیت (قرآن و سنت) کے خلاف ہو بدعت (سنتِ سئیہ) کے زمرے میں آجائے گا۔ 
مگر قرآن کے احکام واضح ہیں کہ فرقہ واریت منع ہے، اس کی اجازت کسی تاویل سے دینا قرآن کی مخالفت ہے-

 یہ فرمان کہ آج کے دور میں سب لوگ سب فرقے اپنے آپ کو قرآن و سنت پر عمل کرنے والا کہتے ہیں مگر آپ کے خیال میں ایسا نہیں تو فرق واضح کرنے کے لینے سلفی یا کچھ اور کہنا (دیوبندی ، بریلوی ، شیعہ، سنی ، وغیرہ وغیرہ ) کہنا ضروری ہوا - سبحان الله ! دوسرے لوگ آپ کے متعلق بھی ایسی رائے رکھ سکتے ہیں ؟  یہ فرقہ واریت کو فروغ دینے کا زریعہ ہے - کون قرآن و سنت پر عمل کر رہا ہے اور کون نہیں اس کا فیصلہ کا حق صرف الله کے پاس ہے - معاملہ الله پر چھوڑ دیں ، اپنا جج خود نہ بنیں : الله فرماتا ہے :

 إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ( ١٥٩ سورة الأنعام)

ترجمہ : "جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے-

لہٰذا ہم سب کو اپنے آپ کو صرف مسلمان کہنا ہے ، الله اور ﺭﺳﻮﻝﷺ کا حکم ماننا ہے کسی دوسرے کا نہیں ، ہم کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی دوسرا کیا کہتا ہے کرتا ہے ، وہ ٹھیک ہے یا میں غلط؟ 

الله شرک کو پسند نہیں کرتا ، الله کی جگہ جج بننا شرک نہیں تو کیا ہے؟ 
جب کہ الله نے حکم دیا ہے کہ :
" ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے-" 

آیے فرض کریں کہ ہم سب اپنے آپ کو الله کے حکم کے مطابق صرف "" مسلمان " کہ رھے ہوتے ، فقہی اختلافات کے باوجود تو کیا ہمارے اسلام یا مسلمان ہونے میں کوئی فرق پڑتا ؟
 اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ ٹھیک ہے اور آپ غلط تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ 

الله کو معلوم ہے کون ٹھیک ہے کون غلط - کیا ہم کو آخرت اور الله پر ایمان اتنا کمزور ہے کہ ہم اپنے حق پر ہونے کا لیبل لگانا ضروی سمجھتے ہیں؟

وہ لیبل جو قرآن کے حکم کے خلاف ہے ، الله ہم کو معاف فرمایے -

یہ لیبل صرف دنیا داری کے خود ساختہ تقاضے ہیں جو فرقہ واریت کی بنیاد ہیں- 

صحابہ اکرام میں بھی فقہی اختلاف ہوتا تھا مگر انہوں نے ایسے فرقہ وارانہ لیبل، غلط بدعت ایجاد نہ کییں-  سورة النور,24:31 کی تفسیر پر حضرت عبدللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہ  اور حضرت عبدللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  میں اختلاف ہے کہ عورت چہرہ کھلا رکھے یا کوور کرے ، بہت بنیادی اختلاف ہے مگر کیا انہوں نہے عباسی اور مسعودی فرقے بنا لیے؟ تاکہ معلوم ہو کون صحیح قرآن و سنت پر عمل کر رہا ہے اور کون نہیں؟

مشھور چار 4 سنی کہلانے والے مذھب اپنے آپ کو صرف سنی کہتے ہوں شافی، حنفی ، ملکی ، ہمبلی بھی کہتے ہیں مگر ایک دوسرے کو کفر یا گمراہی پر نہیں کہتے - اس مثال سے بہت سبق حاصل کیا جا سکتا ہے ، مگر پھر بہت دوکانیں بند ہو جائیں گی - 
یہودیوں اور عیسایوں  کے علماء آیات کو گھما پھرا کر اپنا مطلب نکلتے تھے:
" یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیے اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اُس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں، اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں" (5:13قرآن )  (2:159,174)
انہوں نے تاویلیں گھڑھ کر سبت کا قانون توڑا تھا، ان کا انجام دردناک ہوا:
"پھر تمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قصہ تو معلوم ہی ہے جنہوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندر بن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے" (2:65قرآن)
جب تک علماء قرآن و سنت کے مطابق چلیں تو ان کی بات مانیں، جب وہ واضح طور پر قرآن و سنت کے خلاف بات کریں تو رد کریں- آیے فیصلہ کر لیں کہ الله کا حکم ماننا ہے یا کسی شیخ ، امام  کا ؟

 اپنے آپ کو صرف "مسلمان" کہیں ، ہاتھ باندھ کر یا چھوڑ کرنماز پڑھیں، 'امین' بلند آواز سے یا اہستہ کہیں جو آپ سمجھتے ہیں قرآن و سنت سے ثابت ہے اس پر عمل کریں مگر  یہ نقلی لیبل جن کی قرآن و سنت سے دلیل نہیں بلکہ قرآن و سنت کے خلاف ہیں ان کو پھینک ڈالو کوڑے دان میں ... مسلمان صرف الله، اور  ﺭﺳﻮﻝﷺ کے حکم پر چلتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿١٠٢﴾ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿١٠٣﴾ وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿١٠٤﴾ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿١٠٥﴾ 
سورة آل عمران
 اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا (102) اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ (103) تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے، اور یہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں (104) تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈاﻻ، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے (3:105)
واللہ اعلم 

هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  ( سورة الحج22:78)
اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ -

 رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ﴿١٢٦ سورة الأعراف
 اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اِس حال میں کہ ہم مسلمان  ہوں" (7:126)

 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ  (سورة المائدة 5:3)

آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کر لیا ہے (سورة المائدة 5:3)
 ------------------------------------------

عمر ضائع کردی:
مفتی محمد شفیع (رحمت اللہ علیہ)  فرماتے ہیں کہ میں حضرت مولانا سید محمد انور کاشمیری(رحمت اللہ علیہ) کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوے بہت غم زدہ بیٹھے ہیں- میں نے پوچھا "مزاج کیسا ہے؟" انہوں نے کھا مزاج کیا پوچھتے ہو، عمر ضائع  کر دی….
میں نے عرض کیا:حضرت! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت میں اور دین کی اشاعت  میں گزری ہے- ہزاروں آپ کے شاگرد علماء ہیں جو آپ سے مستفید ہوۓ اور خدمت دین میں لگے ہوے ہیں- آپ کی عمراگرضائع ہوئی تو کس کی  عمر کام میں لگی؟
حضرت نے فرمایا "ہماری عمروں کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کوششوں کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفی مسلک کی ترجیح  قائم کریں، امام ابو حنیفہ (رحمت اللہ علیہ) کے مسائل کے دلائل تلاش کریں- یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور علمی زندگی کا!
..... اب غور کرتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی!" پھر فرمایا "ارے میاں اس بات کا کہ کون سا مسلک صحیح تھا اور کون سا خطا پر، اس کا راز تو کہیں حشر میں بھی نہیں کھلے گا اور نہ دنیا میں اس کا فیصلہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی قبر میں منکر نکیر پوچھیں گے کہ'رفع یدین' حق تھا 'ترک رفع یدین' حق تھا،(نماز میں) 'آمین' زور سے کہنا حق تھا یا آھستہ کہنا حق تھا- برزخ  میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہو گا-
 روز محشر اللہ تعالی نہ امام شافعی رح کی رسوا کرے گا نہ امام ابے حنیفہ (رحمت اللہ علیہ) کونہ امام احمد بن حمبل(رحمت اللہ علیہ) کو …. اور نہ میدان حشر میں کھڑا کر کہ یہ معلوم کرے گا کہ امام ابو حنیفہ (رحمت اللہ علیہ) نے صحیح کھا تھا یاامام شافعی(رحمت اللہ علیہ) نے غلط کھا تھا، ایسا نہیں ہو گا- تو جس چیز کا نہ دنیا کہیں نکھرنا ہے، نہ برزخ میں، نہ محشر میں، اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے عمر ضائع کر دی اور جو "صحیح اسلام" کی دعوت تھی، جو سب کے نزدیک مجمع علیہ اور وہ مسائل جو سبھی کےنزدیک متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیاءکرام  ص لے کر آیےتھے، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہم کو حکم دیا گیا تھا، وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گیئ تھی، آج اس کی دعوت ہی نہی دی جا رہی-
 یہ ضروریات دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہیں اور اپنے اور اغیار سبھی دین کے چہرے کو مسخ کر رہے ہیں اور وہ منکرات جن مٹانے میں ہمیں لگے ہونا چاہیے تھا، وہ پھیل رہے ہیں- گمراہی پھیل رہی ہے، الحاد آرہا ہے، شرک و بت پرستی چلی آرہی ہے، حلال و حرام کا امتیاز اٹھ رہا ہے لیکن ہم لگے ہوے ہیں ان فرعی و فروعی بحثوں میں! ….. اس لئے غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمرضائع  کر دی"
" وحدت امت"- مفتی مولانا  محمد شفیع (رحمت اللہ علیہ)
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیتیں:

 ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت کو دیکھنا چاہتا ہو جو آپ کی آخری وصیت تھی تو وہ ان آیتوں (6:151-153 الانعام) کو (تتقون) تک پڑھے ، ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورۃ انعام میں محکم آیتیں ہیں پھر یہی آیتیں (6:151-153 الانعام) 
 آپ نے تلاوت فرمائیں:


قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (6:151) 

‏ ‏ کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سُناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کی ہیں کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ سے (بد سلوکی نہ کرنابلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا (کیونکہ) تم کو اور ان کو ہمیں رزق دیتے ہیں۔ اور بےحیائی کا کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا۔ اور کسی جان (والے کو) جس کے قتل کو خدا نے حرام کردیا ہے قتل نہ کرنا۔ مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں تاکید فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ ‏ (6:151)  

وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى ۖ وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ۚ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (6:152)

‏  اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو۔ یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو۔ ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہو اور خدا کے عہد کو پُورا کرو۔ ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو(6:152) 

وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ۚ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (6:153)

‏ ‏ اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور راستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے راستے سے الگ ہو جاؤ گے۔ ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پر ہیزگار بنو۔ (6:153)  

ایک مرتبہ حضور نے اپنے اصحاب سے فرمایا ، تم میں سے کوئی شخص ہے جو میرے ہاتھ پر ان تین باتوں کی بیعت کرے، پھر آپ نے یہی آیتیں (6:151-153 الانعام)  تلاوت فرمائیں اور فرمایا جو اسے پورا کرے گا، وہ اللہ سے اجر پائے گا اور جو ان میں سے کسی بات کو پورا نہ کرے گا تو دنیا میں ہی اسے شرعی سزا دے دی جائے گی اور اگر سزا نہ دی گئی تو پھر اس کا معاملہ قیامت پر ہے اگر اللہ چاہے تو اسے بخش دے چاہے تو سزا دے (مسند ، حاکم)

 فرقہ سازی کی شیطانی راہیں:

شیطانی راہیں فرقہ سازی  یہ اور ان جیسی آیتوں کی تفسیر میں ابن عباس کا قول تو یہ ہے کہ اللہ تعالٰی مومنوں کو باہم اعتماد کا حکم دیتا ہے اور اختلاف و فرقہ بندی سے روکتا ہے اس لئے کہ اگلے لوگ اللہ کے دین میں پھوٹ ڈالنے ہی سے تباہ ہوئے تھے مسند میں ہے کہ اللہ کے نبی نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا اللہ کی سیدھی راہ یہی ہے پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچ کر اور فرمایا ان تمام راہوں پر شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہا ہے پھر آپ نے اس آیت کا ابتدائی حصہ تلاوت فرمایا ۔ اسی حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جو مسند وغیرہ میں حضرت جابر سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو آپ نے اپنے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا یہ شیطانی راہیں ہیں اور بیچ کی لکیر پر انگلی رکھ کر اس آیت کی تلاوت فرمائی ۔ اسی حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جو مسند وغیرہ میں حضرت جابر سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو آپ نے اپنے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا یہ شیطانی راہیں ہیں اور بیچ کی لکیر پر انگلی رکھ کر اس آیت کی تلاوت فرمائی ۔

ابن ماجہ میں اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے ابن مسعود سے کسی نے پوچھا صراط مستقیم کیا ہے؟ آپ نے فرمایا جس پر ہم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا اسی کا دوسرا سرا جنت میں جا ملتا ہے اس کے دائیں بائیں بہت سی اور راہیں ہیں جن پر لوگ چل رہے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی طرف بلا رہے ہیں جو ان راہوں میں سے کسی راہ ہو لیا وہ جہنم میں پہنچا پھر آپ نے (6:151-153 الانعام) اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔

حضور فرماتے ہیں اللہ تعالٰی نے صراط مستقیم کی مثال بیان فرمائی ۔ اس راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں جن میں بہت سے دروازے ہیں اور سب چوپٹ کھلے پڑے ہیں اور ان پر پردے لٹکے ہوئے ہیں اس سیدھی راہ کے سرے پر ایک پکارنے والا ہے پکارتا رہتا ہے کہ لوگو تم سب اس صراط مستقیم پر آ جاؤ راستے میں بکھر نہ جاؤ، بیچ راہ کے بھی ایک شخص ہے ، جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے خبردار اسے نہ کھول، کھولو گے تو سیدھی راہ سے دور نکل جاؤ گے ۔ پس سیدھی راہ اسلام ہے دونوں دیواریں اللہ کی حدود ہیں کھلے ہوئے دروازے اللہ کی حرام کردہ چیزیں ہیں نمایاں شخص اللہ کی کتاب ہے اوپر سے پکارنے والا اللہ کی طرف کا نصیحت کرنے والا ہے جو ہر مومن کے دل میں ہے (ترمذی)

اس نکتے کو نہ بھولنا چاہئے کہ اپنی راہ کیلئے سبیل واحد کا لفظ بولا گیا اور گمراہی کی راہوں کے لئے سبل جمع کا لفظ استعمال کیا گیا اس لئے کہ راہ حق ایک ہی ہوتی ہے اور ناحق کے بہت سے طریقے ہوا کرتے ہیں جیسے آیت (اللہ ولی الذین امنوا) میں (ظلمان) کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے-

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ (قل تعالوا) سے تین آیتوں (6:151-153 الانعام)  تک تلاوت کر کے فرمایا تم میں سے کون کون ان باتوں پر مجھ سے بیعت کرتا ہے؟ پھر فرمایا جس نے اس بیعت کو اپنا لیا اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جس نے ان میں سے کسی بات کو توڑ دیا اس کی دو صورتیں ہیں یا تو دنیا میں ہی اس کی سزا شرعی اسے مل جائے گی یا اللہ تعالٰی آخرت تک اسے مہلت دے پھر رب کی مشیت پر منحصر ہے اگر چاہے سزا دے اگر چاہے تو معاف فرما دے ۔
 (تفسیر ابن كثیر سے ماخوز http://www.fiqhulhadith.com/ibn-e-kaseer/book.php?page=1292)
---------------------------------

--------------------------------------------------------
...

خلاصہ فکر:

میں نے مسلم فرقوں اور مسالک کا مطالعہ کیا۔میں نے بلا تعصب ہر بڑے عالم کو سنا اور پڑھا۔ جس سے براہ راست استفادہ کرنا ممکن تھا، استفادہ کیا۔ ان کے دلائل سمجھے۔ قرآن کی کسوٹی پر انہیں پرکھا۔لوگوں کے رویے کو سیرت حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے آئینے میں جانچا۔جو اس کسوٹی پر پورا اترا اسے ہر پسند و خواہش کے برخلاف بھی قبول کیا۔اور جواس کسوٹی پر پورا نہ اترااسے دل و دماغ سے کھرچ کر پھینک دیا۔ا س سفر میں آج تک اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر قدم پر دستگیر ی کی ہے وہ ایک الگ داستان ہے۔مگراس کی تفصیل چونکہ اصل موضوع سے متعلق نہیں اس لیے اسے چھوڑ رہا ہوں ۔
تاہم اس سفر کے نتائج فکر اس طرح بیان کروں گاکہ میں نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی سچائی باقی رکھنے کا طریقہ یہ اختیار کیا ہے کہ اصل حفاظت قرآن اور دین کے عملی ڈھانچے یعنی سنت کی ہے۔ ان دونوں کو اس نے مسلمانوں کی اکثریت جو مسلمانوں کا مین اسٹریم بھی ہے اس میں اس طرح جاری کردیاہے کہ اصل دین ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا ہے۔یہ مین اسٹریم کسی ایک خاص مکتب فکر میں نہیں ہے بلکہ ان تمام کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان کے تمام تر فروعی اختلافات کے باوجود اصل دین اعتقادات اور عمل کی سطح پر الحمدللہ سب جگہ متفقہ طور پر موجود ہے۔اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سبھی مانتے ہیں کہ اللہ تعالی ایک ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں اور سبھی آخرت میں اللہ تعالی کے حضور جواب دہی پر یقین رکھتے ہیں۔ سبھی مانتے ہیں کہ تکبر، حسد، تعصب اور بددیانتی بڑے جرم ہیں اور سبھی مانتے ہیں کہ اخلاص، توبہ، انابت، صبر، شکر، عجز و انکسار بڑی نیکیاں ہیں۔ سبھی نماز، روزہ، حج، زکوۃ، نکاح، طلاق، معیشت، سیاست، معاشرت سے متعلق دین کی بنیادی باتوں پر متفق ہیں۔

 اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے د وسرا اہتمام یہ کیا ہے کہ وہ مسلسل ایسے اہل علم پیدا کرتارہتا ہے جو اس اصل دین کی شرح و وضاحت بھی کرتے رہتے ہیں اور کوئی گمراہی اور بدعت در آنے کی کوشش کرے تو بڑے سلیقے اور واضح دلائل کے ساتھ اس کی غلطی واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اصل ماخذ محفوظ ہیں اس لیے وہ اکثر اس کوشش میں کامیاب ہوتے ہیں اور اگر کوئی افراط و تفریط پیدا ہوتو کوئی اور عالم تصحیح کردیتا ہے۔ اس اہتمام کے نتیجے میں عملی انحراف پیدا بھی ہوجائے تو وہ کبھی مسلمانوں کا اجتماعی عمل نہیں بن پاتا۔
مسلمانوں کے تمام اہل علم کا احترام کرنا بھی یہیں سے میں نے سیکھا۔کیونکہ اب میں یہ سمجھ سکتا تھا کہ کسی کو غلطی لگی ہے تو کہاں سے لگی ہے۔ اسی احترام کی بنا پر کم و بیش ہر مسلک اور ہر فکر کے عالم سے بلا تعصب میں نے استفادہ کیا اور کبھی کسی تعصب کو حصول علم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنایا۔ میں اگر ان اہل علم کے نام لکھوں جن سے میں نے استفادہ کیا ہے تو لوگ حیران رہ جائیں گے کہ جس دور میں لوگ صرف ایک عالم اور ایک فرقے کے اسیر ہوتے ہیں کوئی شخص اس قدرمتضاد خیالات کے اہل علم سے بیک وقت کیسے استفادہ کرسکتا ہے۔
 یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص مولانا احمد رضا خان بریلوی سے بھی عقیدت و محبت رکھتا ہو اور اس شخصیت یعنی مولانا اشرف علی تھانوی سے بھی کسب فیض کیا ہو جن پرمولانا رضا نے باقاعدہ کفر کا فتویٰ دیا ۔ایک شخص مولانا مودودی سے بھی دین سیکھتا ہو اور ان کے سب سے بڑے ناقد مولانا وحید الدین خان کا بھی معترف ہو۔ڈاکٹر اسرار کی نشستوں میں بھی برسوں بیٹھ کر قرآن کریم سمجھا ہو اور علامہ جاوید احمد غامدی سے بھی استفادہ کیا ہو، اہل تصوف سے وابستگی بھی جس کی اٹھان کا حصہ ہو اور ان کے بدترین ناقد اہل حدیث افکار بھی اس کے علم کا حصہ ہوں، اہل تشیع کے تصورات کو بھی جس نے تحمل سے سمجھا اور اہل سنت کے نقطہ نظرسے بھی واقف ہو،جدید دور کے اہل علم کے کام سے بھی واقف ہو اور اسلاف کی علمی روایت کی بھی جسے خبر ہو۔الحاد کے علمبرداروں کے اعتراضات کو بھی جو براہ راست سمجھتا ہو اور مذہب کے استدلال سے بھی بخوبی واقف ہو۔

یہ ہمہ گیر استفادہ صرف اسی وقت ممکن ہوا جب دل سے نفرت اور تعصب ختم ہوگیا۔نفرت اور تعصب کے ساتھ انسان صرف کنویں کا مینڈک بن جاتا ہے۔ اس کے ذہن میں لاوا پکتا ہے اور زبان سے زہر اگلتا ہے۔قلم میں سیاہی کی جگہ پوٹاشیم سائنائڈ بھر جاتا ہے اور دل غضب کے شعلوں کا الاؤ  بھڑکاتا ہے۔یوں نفرت کا مریض صرف نفرت تقسیم کرتا ہے جبکہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی انسان کو وسعت اور تحمل دیتی ہے۔ دل میں محبت پیدا ہوتی ہے اور یہی محبت انسان دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔یوں محبت کا درد رکھنے والے صرف محبت تقسیم کرتے ہیں جبکہ نفرت اور تعصب کی گود میں پلنے والے صرف نفرت تقسیم کرسکتے ہیں۔

نفرت اور تعصب کا نتیجہ
 اس طول بیانی سے میرا اصل مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ مسلمانوں کے باہمی فرقہ وارانہ اختلاف اور تعصبات پرمبنی دینداری کس طرح نوجوانوں میں یا تو نفرت اور انتہا پسندی پیدا کرتی ہے یا پھران کو دین اسلام سے برگشتہ کرنے کا سبب بنتی ہے۔خاص کر انٹرنیٹ اور کیبل کے اس دور میں جب اسلام کے خلاف ہر طرح کا مواد انٹر نیٹ پر بآسانی دستیاب ہے یہ عمل کتنا تیز ہوچکا ہوگا۔ میرے پاس بہت سے نوجوان یہی مسائل اور الجھنیں لے کر آتے ہیں لیکن پروردگارکی عنایت سے میں اب اس قابل ہوں کہ ہر سوال کا جواب دے سکوں۔ لیکن جو لوگ تعصبات پر مبنی دینداری اختیار کرتے ہیں درحقیقت آج بھی وہ جانے انجانے میں باشعورلوگوں کو دین سے دور کرنے کا سبب بن رہے ہیں اور برٹینڈ رسل یا موجودہ دور میں رچرڈ ڈاکنز جیسے ملحدین کی سچائی کا زندہ ثبوت بن کر مذہب کا کفن بُن رہے ہیں۔
  (ابو یحیی، www.inzaar.org 
http://www.mubashirnazir.org/PD/Urdu/PU02-0085-Bias.htm


-----------------------------------------
فرقے اور فرقہ واریت


فرقے اور فرقہ واریت دنیا کے تقریباً تمام ہی مذاہب کیلئے ایک معمہ اور جھگڑے فساد کا سبب رہی ہے - تقریباً تمام ہی مذاہب میں فرقے اور ذیلی فرقے موجود ہیں - یہ سب ایک تاریخی مظہر ہیں اور تمام ہی تواریخ میں ان کا وجود نظر آتا ہے -

فرقے اور فرقہ واریت کم و بیش دنیا کے تمام مذاہب کیلئے ایک بڑا چیلنج رہی ہے- ان پر نہ صرف دانشوروں نے بحث و تمحیص کی ہے بلکہ یہ جھگڑے فساد کی و جہ بھی بنتے آئے ہیں - چنانچہ اسے اگر ایک تاریخی حقیقت بھی تسلیم کر لیا جائے تو کیا اس مسئلہ کو امن و آشتی کے ساتھ حل کیا جاسکتا ہے؟ یا پھر ہم صدیوں تک ان مسائل پراسی طرح ایک دوسرے سے جھگڑتے رہینگے؟

تاریخی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو مذہب / کمیونٹی کی جانب سے فرقوں کی مذمت ہی کی گئی ہے اور ان کے وجود کو منفی معنوں میں لیا گیا ہے- تاہم ، دور جدید کے بعد کی دنیا نے ایک متبادل طرز فکر اختیار کیا ہے اور بجائے اسکے کہ کسی خاص دور سے متعلق ایک معین نقطہء نظرکو اختیار کیاجائے، ان کی کثیرالطرفہ زاویوں سے تشریح کی جارہی ہے-

دور جدید کی دنیا میں بنیادی عقائد کی مختلف اور متبادل تشریح ، مذاہب کے ارکان، اقدار، مذہبی رسومات، ثقافت اور تاریخ کو کسی مذہب کی کمزوری نہیں بلکہ اس کا اثاثہ سمجھا جاتا ہے- مذاہب کی مختلف تشریح کرنے والوں سے نفرت نہیں کی جاتی بلکہ انھیں سراہا جاتا ہے ایک دوسرے سے رواداری برتنے اور ایک دوسرے کی تقریبات میں حصہ لینے کی ہمت افزائی کی جاتی ہے-

اگر ہم لفظ فرقہ، کو انحراف یا آزاد خیالی سے مراد لیں تو پھر ہمارے رویوں کا انداز بالکل مختلف ہوگا- تاریخ میں اسکی بہت سی مثالیں ملتی ہیں اور یہ بھی مختلف گروہوں کے درمیان فرقہ وارانہ جھگڑوں کی ایک وجہ رہی ہے -

اس رویہ کے نتیجے میں ایک فرقہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہی " حتمی سچ " ہے یا یہ کہ الله تعالیٰ صرف اسی کا حامی وناصر ہے ، اور صرف انہی کے فرقے کے لوگ جنت میں جائینگے اور باقی کا مقدر دوزخ ہے -

عموماً صرف اپنے فرقے کے لوگوں کو ہم مذہب " بھائی " جبکہ " دوسروں " کودشمن سمجھا جاتا ہے -

اس قسم کا رویہ رکھنے والے دوسروں کی توضیح و تشریح کو' انحراف ' یا ' آزادخیالی ' ( سچے عقیدے سے انحراف) تصور کرتے ہیں - اس طرز فکر کو فرقہ بندی یا فرقہ پرستی سے تعبیرکیا جاسکتا ہے - اس طرز فکر کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ باقی سب سے الگ ہیں ( یاجیت یا ہارکی ذہنی کیفیت)

دوسرا رویہ وہ ہے جس میں دیگر فرقوں کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ ان کے " متبادل " عقائد یا خیالات ہیں ( بشرطیکہ وہ انتہاپسند یا عسکریت پسند نہ ہوں ، اور تباہی کے راستے پر گامزن نہ ہوں) یہ رویہ ' دوسروں ' کی جانب مثبت طرز فکر کا حامل ہے -

مسلم معاشروں میں ' فرقہ ' کا لفظ مستعمل ہے جس کے لغوی معنی ' شاخ ' کے ہیں - یہ ایک طاقتور استعارہ ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق ایک قوی الجثہ درخت سے ہے - ایک تنومند درخت جیسے جیسے بڑھتا جاتا ہے اس سے کئی کئی شاخیں پھوٹتی ہیں - اسی طرح ایک عظیم مذہب یا روایت کے بھی کئی مفہوم ہوسکتے ہیں - اگر کسی روایت کی تعبیرصدیوں تک ایک ہی مفہوم میں کی جائے تووہ ایک کمزور روایت ہوگی - ایسی صورت میں اسے درخت کی خوبی قرار نہیں دیا جاسکتا - یہ ایک متنازعہ سونچ ہوگی -

اگر ہم دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کے پس منظر میں اس استعارہ کا جائزہ لیں تویہ ہمیں اوربھی خوبصورت نظر آئیگا - ان مذاہب میں بھی تقسیم عمل میں آئی اور ان کے بہت سے مفاہیم پیش کئے گئے اور ان میں سے ہر ایک اپنے لحاظ سے قابل قدر ہے - بہت سے مسلمان مفکروں اورصوفیائے کرام نے بھی مسلم معاشروں میں ہم آہنگی اوریکجہتی اورتنوع وگوناگونی کے معاملات پر دانشورانہ انداز میں غوروفکرکیا ہے - رومی نے اس مسئلہ پرمختلف زاویوں سے روشنی ڈالی ہے - اپنی مثنوی میں انہوں نے ایک ہاتھی اور نابینا انسان کا استعارہ استعمال کیا ہے جس کے ذریعے وہ ہمیں بتانا چاہتے ہیں کہ انسانی تجربات داخلی نوعیت کے ہوتے ہیں اور اسی لئے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کے تجربات اور ان کی تشریحات کا احترام کریں -

خوش قسمتی سے دنیا بھر کے دانشور فرقوں کی تقسیم ( فرقہ واریت نہیں) کو مثبت انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں - بہت سے دانشوروں کی کوشش ہے کہ نہ صرف مختلف کمیونٹیز کے اندربلکہ دیگر کمیونٹیز کے درمیان حائل خلیج کو پاٹا جائے ، بلکہ تہذیبوں کے درمیان فاصلوں کو بھی مٹایا جائے اور تواریخ اور روایت کاتجزیہ کرکے ایسی بامعنی افہام و تفہیم کو فروغ دیا جائے جس سے نہ صرف ایک مذہب کے مختلف فرقوں کے مابین بلکہ دیگر مذاہب کے ساتھ بھی مفاہمت پیدا ہو - ڈاکٹر فرہاد دفتری عصرحاضر کے ایک معروف مسلم دانشور ہیں اور وہ بجا طور پر اُمّہ کوتشریح و توضیح کی کمیونٹیز ( کمیونٹیز آف انٹرپریٹیشنز) کہتے ہیں - ان کا کہنا ہے کہ یہ کمیونٹیز ایک ہی عقیدے کی مختلف انداز میں تشریح کرتی ہیں جس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے چند تاریخی ، سیاسی ، معاشی اور ثقافتی نوعیت کی ہیں -

کسی نہ کسی سبب کی بنا پر ہر کمیونٹی کا تشریح کا اپنا انداز ہے۔ اس کا تعلق اس کے پس منظر سے ہے جب کہ سب کا ایمان ایک ہے - چنانچہ اس تنوع اور رنگارنگی کو ایک خوبی سمجھنے کی بجائے ہم چند سیاسی ، معاشی ، نسلی اور مقامی و علاقائی وجوہات کی بنا پر اس تنوع کو خرابی سے تعبیر کرنے لگے ہیں - ہم اس رویہ کے نتائج سے بھی آگاہ ہیں- لیکن خوش قسمتی سے تکثیریت کا نظریہ پھل پھول رہا ہے جس کے نتیجے میں فرقوں یا مذاہب کے درمیان تنازعات کو روکا جاسکتاہے - لیکن اس کیلئے ہمیں جہالت کے دروازوں کو بند کرنا ہوگا -

فرقوں اور مذاہب کے درمیان ہونے والی جنگوں کے نتیجے میں لاکھوں انسان اپنی زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور اگر ہم اسی طرح ایک ہی مذہب یا مختلف مذاہب کی تشریح و تفہیم کے مسئلہ پر جھگڑتے رہینگے تو یہ بات افسوسناک ہوگی - ہمیں چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ان مسائل کو حل کریں ، اپنے وسائل کو مل جل کر استعمال کریں اور اپنے لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کریں -

آج جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مختلف فرقوں کے درمیان اور سرحدوں کے پار مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے عقائد کو رکاوٹ بنائے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تو ہماری امید کا چراغ روشن ہو جاتا ہے -

مختصر یہ کہ فرقے مسلم معاشروں کی چودہ سو سالہ تاریخ کا ناگزیر حصہ رہے ہیں - جو قدم ہمیں اٹھانا ہے وہ یہ ہے کہ ہم ایک مثبت رویہ اپنائیں جس کے نتیجے میں ہم میں یکجہتی پیدا ہوسکتی ہے اور ہم اسلامی عقائد کی مختلف تشریحات کا احترام کرنا سیکھ سکتے ہیں -

تاہم جس چیز کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے فرقہ پرستی کیونکہ اس کے نتیجے میں ہم میں علیحدگی ، خودنمائی اور دوسروں کے خلاف جن کے عقائد ہم سے مختلف ہیں تشدد کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں-

جان عالم خاکی، ترجمہ: سیدہ صالحہ
http://www.dawnnews.tv/news/87587
.................................................

Search Results

فرقہ واریت -

https://ur.wikipedia.org/wiki/فرقہ_واریت
فرقہ کے معنی جماعت یا گروہ کے ہیں. ... دوسرے الفاظ میں فرقہ کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ فرقہ کسی بھی مذہب ... اسلام میں فرقہ واریت کی حیثیت[ترمیم].
makarem.ir/main.aspx?typeinfo=23&lid=4&catid=24896...
اسلام میں فرقہ واریت کی لہر کس زمانہ سے شروع ہویی ؟

مذہبی فرقہ واریت: اسباب، نقصانات اور....اصلاحی تجاویز | محدث ...

forum.mohaddis.com › فورم › قرآن وحدیث › حدیث وعلومہ

آج اس امت میں جو تفرقہ سب سے زیادہ اور سب سے خطرناک ہے وہ دینِ اسلام کے نام پر ہے، جس میں ایک فرقہ اپنے مخالف فرقے پر سب و شتم، دشمنی، یہاں تک کہ قتل و ...

Religion Articles : Hamariweb.com - مذہبی فرقہ واریت :اسباب،نقصانات ...

www.hamariweb.com › Urdu Articles › Religion Articles

Jan 20, 2014 - قرآنِ کریم میں فرقہ واریت کے لئے لفظ تفرق استعمال ہوا ہے۔ .... یعنی توحید پر مبنی دین اسلام سے اختلاف کرنے والوں کا یہ اختلاف غلط فہمی اور ...

فرقہ واریت کا خاتمہ کیونکر ممکن ہے؟ - تحریک منہاج القرآن

www.minhaj.org/ur.php?tid=322
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دینِ اعتدال کی حیثیت سے اسلام زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف اور میانہ روی کا داعی ہے۔ شدت پسندی اور انتہا پسندی جہاں بھی اور جس ...

مذاہب اربعہ کی تاریخ اور فرقہ واریت کی وجوہات و نقصانات | القلم ...

alqlm.org › ... › تعلیمات اسلامی › اسلامی مکاتب فکر
مذاہب اربعہ کی تاریخ اور فرقہ واریت کی وجوہات و نقصانات ..... شک نہیں کہ دوسری صدی میں جب مختلف فقہی مکاتب سامنے آئے اس سے بہت پہلے ہی اسلام میں انتشار و ...

میں فرقہ واریت میں یقین نہیں رکھتا | اردو محفل فورم - UrduWeb

www.urduweb.org › ... › فورم › حالات حاضرہ › اسلام اور عصر حاضر

کیا پوری دینی تعلیمات میں فرقہ واریت کا کوئی تصور ملتا ہے؟ کیا ابتدائی زمانے میں امت مسلمہ مختلف عقائد اور مسالک میں بٹ گئی تھی؟ کیا ابتداء اسلام کے ...

اسلام میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں'فیض الرحمن درانی ڈاکٹر ...

urdupoint.com/n/728262 - لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23ستمبر ۔2016ء )امیر تحریک منہاج القرآن صاحبزادہ فیض الرحمن درانی نے کہا ہے کہ اسلام میں فرقہ واریت کی ...

فرقہ واریت اور گروہی تعصب : کچھ عملی مسائل

www.mubashirnazir.org/PD/Urdu/PU02-0085-Bias.htm
فرقہ واریت اور گروہی تعصب کس طرح پیدا کیا جاتا ہے اور اس سے کیسے بچا ..... پوری دیانت داری اور علمی طور پر یہ سمجھنا چاہا کہ ان تمام مذاہب اور اسلام میں کیا پہلو ...
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS
Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page