Featured post

خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید

یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22 قرآن) جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور...

Sectarian Narratives::Review فرقہ وارانہ مذہبی بیانیوں پر مختصر تبصرہ


فرقہ وارانہ مذہبی بیانیوں پر مختصر تبصرہ – عمار خان ناصر
daleel.pk
مذہبی تعبیرات کا اختلاف اور ان کی بنیاد پر معاشرتی تقسیم ہمارے ہاں کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ اس کا اظہار عموماً‌ فرقہ وارانہ اسالیب اور تکفیر و تضلیل کے فتاویٰ کی صورت میں ہوتا ہے۔ اسلام آباد کے ادارہ برائے امن وتعلیم نے گزشتہ دنوں اس موضوع پر ایک پانچ روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا اور اس میں ہونے والے تفصیلی بحث ومباحثہ کی روشنی میں فرقہ وارانہ بیانیے کے نمائندہ نکات مرتب کیے ہیں۔ یہ نکات تبصرے کے لیے مختلف حضرات کو بھیجے گئے ہیں۔ راقم الحروف نے چند اہم نکات پر مختصراً‌ جو کچھ عرض کیا، وہ عمومی دلچسپی کے تناظر میں یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔
بیانیہ:
’’ہمارےاکابر حق پر ہیں اور وہی اسلام کی مستند ترین تعبیر پیش کرتے ہیں۔‘‘
تبصرہ:
اسلامی تناظر میں کسی بھی فکر کے استناد اور قبولیت کا معیار مسلمانوں کی مجموعی علمی روایت ہے۔ مختلف فکری حلقے اپنے اپنے زاویے سے یہ تصور رکھ سکتے ہیں کہ انھی کے اکابر کی پیش کردہ تعبیر درست ترین اور حتمی ہے، تاہم اس یقین واذعان کا وزن آخری تجزیے میں مجموعی علمی روایت ہی طے کرتی ہے۔ جو فکری دھارے ہم عصر اور ایک دوسرے کے حریف ہوں، ان کی طرف سے اپنے اور مخالفین کے متعلق اس طرح کے دعووں کو زیادہ احتیاط ، بلکہ شک کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور کسی حتمی فیصلے کا کام فکری روایت کے جدلیاتی عمل کے سپرد کر دینا چاہیے۔
بیانیہ:
’’اسلام میں جدت پسندی کا تصور مغرب سے مرعوبیت کی علامت ہے۔‘‘
تبصرہ:
’’اسلام میں جدت پسندی‘‘ مصداق کے لحاظ سے ایک غیر واضح عنوان ہے۔ اسی طرح مرعوبیت کا تعین بہت حد تک ایک موضوعی چیز ہے۔ میرے نزدیک ’’اسلام میں جدت پسندی‘‘ کا یقینی مصداق یہ چیز ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد و تصورات اور اخلاقی اقدار کے فریم ورک میں تبدیلی کو ذہنی طور پر قبول کر لیا جائے۔ اگر جدید افکار یا تمدنی و تہذیبی مظاہر کو، چاہے تاریخی و واقعاتی طور پر ان کی پیش کاری ابتداء غیر اسلامی تناظر میں کی گئی ہو، اسلامی اقدار اور مقاصد کے تابع کر کے اور ان کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اسلامی فکری روایت کا حصہ بنانا مقصود ہو تو یہ ’’جدت پسندی‘‘ نہیں۔ اصولی طور پر بھی نہیں، اور عملاً‌ بھی نہیں، کیونکہ کوئی تہذیب یا فکری روایت گرد وپیش کی تبدیلیوں سے بے تعلق ہو کر ناک کی سیدھ پر تاریخ میں سفر جاری نہیں رکھ سکتی۔
بیانیہ:
اگر فلاں مسلک اپنے فلاں فلاں عقیدے سے رجوع کر لے تو مفاہمت ہو سکتی ہے۔
تبصرہ:
مذہبی اختلاف اس دنیا کی ایک ناقابل تردید اور ناقابل تبدیل حقیقت ہے۔ اس میں مفاہمت کا مطالبہ غیر حقیقی اور غیر اخلاقی ہے، البتہ دعوت اور مکالمہ کے ذریعے سے ایک دوسرے کے مذہبی خیالات ونظریات کو تبدیل کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ قرآن نے اعتقادی اختلافات کے باب میں حق وباطل کو آخری درجے میں واضح کرنے کے بعد بھی مخالف مذہبی گروہوں سے مفاہمت کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ یہ کہا کہ یہ اختلاف ایسے ہی برقرار رہیں گے اور ان کا فیصلہ قیامت کے روز خدا کی بارگاہ میں ہی ہوگا۔ دنیا میں بقائے باہم اور اخلاقی طرز زندگی کے لیے جو چیزیں مطلوب ہیں، وہ دو ہیں:
ایک، مخالف مذہبی عقائد کی صحیح اور دیانت دارانہ تعبیر کا اہتمام اور خود ساختہ تعبیرات کی نسبت سے گریز۔
اور دوسری، اختلاف کو رواداری کے ساتھ قبول کرنا اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات واحساسات کو ٹھیس پہنچانے سے اجتناب کرنا۔
بیانیہ:
مودودیت ایک گمراہ فرقہ ہے۔ غامدی صاحب ایک فتنہ ہیں اور اسلام کی تعلیمات کو بگاڑ رہے ہیں۔
تبصرہ:
مولانا مودودی اور غامدی صاحب نے دین کو براہ راست اصل مآخذ سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں مروجہ دینی تعبیرات سے کئی جگہ اہم اور بنیادی اختلاف بھی کیا ہے۔ ان کی پیش کردہ دینی فکر اور مذہبی تعبیرات میں قابل نقد اور کمزور باتیں بھی ہو سکتی ہیں جن پر علمی نقد لازماً‌ ہونا چاہیے، لیکن بحیثیت مجموعی ان کی دینی فکر کو فتنہ یا گمراہی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بیانیہ:
فلاں اور فلاں حضرات گستاخ رسول ہیں۔ انھوں نے توہین آمیز عبارات لکھی ہیں۔
تبصرہ:
کسی کلام کو توہین یا گستاخی قرار دینے کے لیے کلام کا سیاق و سباق اور متکلم کی نیت بنیادی چیز ہے۔ کوئی عبارت ظاہر کے لحاظ سے ایسا تاثر دیتی ہو تو اس پر نظرثانی کر لینی چاہیے، تاہم متکلم کی نیت اور عبارت کے مقصد کو نظر انداز کر کے اس پر گستاخانہ یا توہین آمیز ہونے کا فتویٰ جاری نہیں کیا جا سکتا۔
بیانیہ:
گستاخ رسول کو قتل کرنا غیرت ایمانی کا تقاضا ہےاور عین شریعت ہے۔
تبصرہ:
توہین رسالت کا کوئی بھی واقعہ رونما ہونے پر شرعی قانون یہ ہے کہ قائل کو عدالت کے سامنے اپنی بات کی وضاحت کا موقع دیا جائے۔ اگر واقعتاً‌ اس کی نیت توہین ہی کی ہو تو اسے توبہ اور رجوع کے لیے کہا جائے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر عدالت اس کے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے اسے قرار واقعی سزا دے جو بعض صورتوں میں موت بھی ہو سکتی ہے۔
بیانیہ:
پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔
تبصرہ:
فرقہ واریت کا منبع جہالت اور غلو کے ذہنی ونفسی رویے ہیں، اور ان ذہنی رویوں کو معاشرتی سوچ کا حصہ بنانے کا کردار مذہبی تعبیرات ادا کرتی ہیں۔ بیرونی ہاتھ اور سیاسی عوامل صرف اس کو بڑھانے اور کوئی مخصوص رخ دینے کے ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں اور یہ خارجی عوامل اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کسی معاشرے میں ذہنی ونفسی سطح پر اور مذہبی تعبیرات کے دائرے میں ان کے لیے زمین تیار نہ کر دی گئی ہو۔
بیانیہ:
دوسرے مسالک کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ہماری راہ میں ہمارےمسلک کے ہی شدت پسند عناصر رکاوٹ بنتے ہیں۔
تبصرہ:
یہ بات درست ہے۔ اس کا مقابلہ صرف عزم مصمم اور بلندی کردار سے کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت فرقہ واریت سے تنگ ہے اور اس سے نجات چاہتی ہے، لیکن اقلیتی گروہوں کے بلند آہنگ ہونے جبکہ سنجیدہ وفہمیدہ طبقات کے غیر فعال بلکہ منفعل ہونے کی وجہ سے اکثریت، اقلیت کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ہر مسلکی حلقے میں اگر ایسے پر عزم افراد سامنے آئیں جو یہ طے کر لیں کہ وہ ہر حال میں وحدت امت کی بات کریں گے اورکسی مصلحت یا مفاد کی خاطر یا کسی خوف کے تحت فرقہ وارانہ گروہ بندی کا حصہ نہیں بنیں گے اور اس کے لیے مقبولیت یا عوامی قبولیت کی بھی پروا نہیں کریں گے تو ان شاء اللہ بہت کم عرصے میں فضا بدلی جا سکتی ہے۔
http://daleel.pk/2016/08/24/5518

Don't probe too much فضول سوالات اور بحث

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ ﴿005:101﴾
‏ مومنو ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتں) تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ اور اگر قرآن نازل کے زمانے میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔ (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے ۔
‏ تفسیر ابن كثیر
قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ ﴿005:102﴾ ‏
‏ اسی طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہوگئے ۔
‏ اللہ تعالٰی اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ بےفائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید میں نہ پرو، ایسے نہ ہو کہ پھر ان کا جواب اور ان امور کا اظہار تم پر شاق گزرے ، صحیح حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کوئی کسی کی برائی کی بات نہ پہنچائے ، میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف اس حالت میں آؤں کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی برائی نہ ہو ، صحیح بخاری شریف میں حصرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سنایا ، ایسا بےمثل کہ ہم نے کبھی ایسا خطبہ نہ سنا تھا اسی میں فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے، یہ سن کر اصحاب رسول منہ ڈھانپ کر رونے لگے اسی اثنا میں ایک شخص آپ سے پوچھ بیٹھا کہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا فلاں ، اس پر یہ آیت اتری بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے حضور سے بہ کثرت سوالات شروع کر دیئے چنانچہ آپ منبر پر آ گئے اور فرمایا آؤ اب جس کسی کو جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو جو پوچھو گے جواب پاؤ گے، صحابہ کانپ اٹھے کہ ایسا نہ ہو اس کے پیچھے کوئی اہم امر ظاہر ہو جتنے بھی تھے سب اپنے اپنے چہرے کپڑوں سے ڈھانپ کر رونے لگے، ایک شخص تھے جن سے مذاق کیا جاتا تھا اور جنہیں لوگ ان کے باپ کے سوا دو سرے کی طرف نسبت کر کے بلاتے تھے اس نے کہا حضور میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا خزافہ ، پھر حضرت عمر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ کے سوال ہونے پر راضی ہو گئے ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، آپ نے فرمایا آج کی طرح میں نے بھلائی برائی کبھی نہیں دیکھی جنت دوزخ میرے سامنے اس دیوار کے پیچھے بطور نقشے کے پیش کر دی گئی تھی اور روایت میں ہے یہ سوال کرنے والے حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ ان سے ان کی والدہ نے کہا تجھ سے بڑھ کر ماں باپ کا نافرمان میں نے نہیں دیکھا ۔ تجھے کیا خبر تھی جاہلیت میں کس چیز کا پرہیز تھا ۔ فرض کرو اگر میں بھی کسی معصیت میں اس وقت آلودہ ہو گئی ہوتی تو آج اللہ کے رسول کی زبانی میری رسوائی ہوتی اور سب کے سامنے بےآبروئی ہوتی ، آپ نے فرمایا سنو ماں اگر رسول اللہ کی زبانی مجھے معلوم ہوتا کہ فلاں حبشی غلام کا میں بیٹا ہوں تو واللہ میں اسی سے مل جاتا ، ابن جریر میں ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے کی حالت میں آئے منبر پر جڑھ گئے آپ کا چہرہ مبارک اس وقت سرخ ہو رہا تھا ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا میں کہاں جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا جہنم میں دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا حذافہ، حضرت عمر نے کھڑے ہو کر فرمایا ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر ، قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ جاہلیت اور شرک میں ہم ابھی ابھی آپ کی طرف آئے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے آباؤ اجداد کون ہیں؟ اس سے آپ کا غصہ کم ہوا اور یہ آیت اتری، ایک مرسل حدیث میں ہے کہ اس دن حضور نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا جو چاہو پوچھو، جو پوچھو گے، بتاؤں گا، یہ شخص جس نے اپنے باپ کا نام پوچھا تھا یہ قریش کے قبیلے بنو سہم میں سے تھا، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جناب عمر نے حضور کے قدم چوم کر یہ عرض کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ ہم سے درگزر فرمائیے اللہ تعالٰی آپ سے درگزر فرمائے، اسی دن حضور نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا تھا کہ اولاد اسے ملے گی جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زانی کو پتھر ملیں گے، بخاری شریف میں ہے کہ بعض لوگ از روئے مذاق حضور سے اپنے باپ کا نام اور اپنی گم شدہ اونٹینیوں کی جگہ وغیرہ دریافت کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری ، مسند احمد میں ہے کہ جب آیت (وللہ علی الناس حج البیت من اسطاع الیہ سبیلا) نازل ہوئی یعنی صاحب مقدور لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ خاموش ہو رہے انہوں نے پھر دوبارہ یہی سوال کیا آپ نے پھر سکوت فرمایا انہوں نے تیسری دفعہ پھر یہی پوچھا آپ نے فرمایا ہر سال نہیں اور اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہو جاتا اور تم ادا نہ کر سکتے ، پس اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری ، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ روایت اس سند سے غریب ہے اور میں نے امام بخاری سے سنا ہے کہ اس کے راوی ابو الخجزی نے حضرت علی سے ملاقات نہیں کی ، ابن جریر کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میری ہاں کے بعد اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یقینات کافر ہو جاتے ، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پوچھنے والے محصن اسدی تھے، دوسری روایت میں ان کا نام عکاشہ بن محصن مروی ہے ، یہی زیادہ ٹھیک ہے اور روایت میں ہے کہ سائل ایک اعرابی تھے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تم سے اگلے لوگ ائمہ حرج کے ایسے ہی سوالوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے واللہ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ساری زمین تمہارے لئے حلال کر دوں اور صرف ایک موزے کے برابر کی جگہ حرام کر دوں تو تم اسی حرمت والی زمین پر گرو گے ، اس کی سند بھی ضعیف ہے ، ظاہر آیت کے الفاظ کا مطلب تو صاف ہے یعنی ان باتوں کا پوچھنا منع ہے جن کا ظاہر ہونا برا ہو ، پس اولی یہ ہے کہ ایسے سوالات ترک کر دیئے جائیں اور ان سے اعراض کر لیا جائے ، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور نے اپنے صحابہ سے فرما دیا دیکھو مجھے کسی کی کوئی برائی نہ پہنچائے میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ لے کر آؤں ، پھر فرماتا ہے کہ جن چیزوں کے سوال سے تمہیں روکا جا رہا ہے اگر تم نے ان کی بابت پوچھ گچھ کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ وحی نازل ہو رہی ہے تو تمہارے سوالات کا جواب آ جائے گا اور جس چیز کا ظاہر ہونا تمہیں برا معلوم ہوتا تھا وہ ظاہر ہو جائے گی ، اس سے پہلے کے ایسے سوالات سے تو اللہ تعالٰی نے درگزر فرما لیا ۔ اللہ ہے ہی بخشش والا اور حلم و بردباری والا۔ مطلب یہ ہے کہ سوالات ترک کردو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے کوئی آسانی سختی میں بدل جائے۔ حدیث شریف میں ہے مسلمانوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جس نے کسی چیز کی نسبت دریافت کیا جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام ہو گئی ، یہ بات اور ہے کہ قرآن شریف میں کوئی حکم آئے اس میں اجمال ہو اس کی تفصیل دریافت کی جائے ، اللہ تعالٰی نے جس چیز کا ذکر اپنی پاک کتاب میں نہیں کیا اس سے خود اس نے درگزر فرما لیا ہے ، پس تمہیں بھی اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیے جیسے کہ خود اللہ تعالٰی نے کی ہے ، صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، یاد رکھو کہ تم سے اگلے لوگوں کی حالت کی وجہ صرف کثرت سوال اور انبیاء پر اختلاف ہی ہوئی ہے اور حدیث میں ہے اللہ تعالٰی نے فرائض مقرر کر دیئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو حدیں باندھ دی ہیں انہیں نہ توڑو، جو چیزیں حرام کر دی ہیں ان کی حرمت کو سنبھالو جن چیزوں سے خاموشی کی ہے صرف تم پر رحم کھا کر نہ کہ بھول کر تم بھی اس کو پوچھ گچھ نہ کرو، پھر فرماتا ہے ایسے ہی مسائل تم سے اگلے لوگوں نے بھی دریافت کئے انہیں بتائے گئے پھر وہ ان پر ایمان نہ لائے بلکہ ان کے باعث کافر بن گئے ان پر وہ باتیں بیان کی گئیں ان سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان کے سوال ہی سرکشی پر تھے نہ کہ سمجھنے اور ماننے کیلئے ، ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کیا پھر فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے تم پر حج فرض کر دیا ہے ، بنو اسد قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال ؟ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہدیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر ایسا ہوتا تو اس پر عمل تمہاری طاقت سے باہر تھا اور جب عمل نہ کرتے تو کافر ہو جاتے پس جب تک میں نہ کہوں تم بھی نہ پوچھو میں خود جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ، پاس اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ کو ممانعت کر دی کہ کہیں وہ بھی نصرانیوں کی طرح آسمانی دستر خوان طلب نہ کریں جس کے طلب کرنے کے بعد اور آنے کے بعد پھر وہ کافر ہو گئے پس منع کر دیا اور صاف فرما دیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر قرآن میں ان کی بابت سخت احکام نازل ہوں تو تمہیں برے لگیں بلکہ تم منتظر رہو قرآن اتر رہا ہے جو پوچھنا چاہتے ہو سب کا بیان اس میں پاؤ گے ۔

Fall of Baghdad and Ainul Jalut سقوط بغداد اور عین الجالوت

جنگ عین جالوت 3 ستمبر 1260ء (658ھ) میں مملوک افواج اورمنگولوں کے درمیان تاریخ کی مشہور ترین جنگ جس میں مملوک شاہسیف الدین قطز اور اس کے مشہور جرنیل رکن الدین بیبرس نے منگول افواج کو بدترین شکست دی۔ یہ جنگ فلسطین کے مقام عین جالوت پر لڑی گئی۔ اس فتح کے نتیجے میں مصر، شام اور یورپ منگولوں کی تباہ کاریوں سے بچ گئے۔ جنگ میں ایل خانی حکومت کے منگول بانی ہلاکو خان کا سپہ سالار کتبغا مارا گیا۔
مختصر تفصیل:goo.gl/ejxAUt
تاتاریوں کا نظام احتساب: https://goo.gl/c1hQbX

1260ء کے موسم بہار میں جب قاہرہ کے شہری روزمرہ کی زندگی میں مصروف تھے تو مملوک سلطان مظفر سیف الدین قطز کو اک ایسے خطرے کا سامنا تھا، جس سے اس وقت کے حاکم تھر تھر کانپتے تھے، منگول!!
مملوک سلطان اور اس کے جرنیلوں کے سامنے منگول حکمران ہلاکو خان کے چار ایلچی کھڑے تھے۔ انہوں نے قطز کو ایک خط دیا، جس میں سفارتی آداب کی قطعاً کوئی پروا نہ کی گئی تھی اور یہ اس لہجے میں نہیں لکھا گیا تھا جو کسی سلطنت کا حاکم اپنے کسی ہم منصب کو بھیجتا تھا:
مشرق و مغرب کے بادشاہوں کے بادشاہ خانِ خانان کی طرف سے قطز مملوکی کے لیے، جو ہماری تلواروں کی دستبرد سے بچ نکلا۔ تمہیں سوچنا چاہیے تھا کہ ہم نے دیگر ملکوں کے ساتھ کیا کیا ۔۔۔ اور اس کو دیکھتے ہوئے ہمارے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا چاہیے تھا۔ تم نے سنا ہوگا کہ ہم نے کس طرح پے در پے فتوحات کے ذریعے اک عظیم سلطنت بنائی ہے اور دنیا کو ان تمام نافرمانیوں سے پاک کیا ہے جس نے اس کے چہرے کو داغدار کر دیا تھا۔ ہم نے وسیع علاقوں کو فتح کیا ہے، وہاں کے لوگوں کا قتل عام کیا ہے۔ تم ہماری افواج کی دہشت ناک قوت سے راہِ فرار نہیں اختیار کر سکتے۔ تم بھاگ کر آخر کہاں جاؤ گے؟ تمہیں ہمارے سامنے فرار کی کون سی راہ نظر آتی ہے؟ ہمارے گھوڑے برق رفتار ہیں، ہمارے تیر تیز، ہماری تلواریں بجلی کی کوند، ہمارے دل چٹانوں کی طرح سخت اور ہمارے فوجی اتنے کثیر التعداد جتنی کہ ریت۔ قلعے ہمیں نہیں روک سکتے اور نہ ہی کوئی بازو ہمیں روکنے کی قوت رکھتا ہے۔ خدا سے تمہاری دعائیں ہمارے خلاف کچھ کام نہ آئیں گی۔ نہ ہی ہمیں آنسو کچھ اثر کرتے ہیں اور نہ آہ و فغاں۔ صرف وہی محفوظ رہے گا جو گڑگڑا کر ہماری حفاظت طلب کرے گا۔ جواب دینے میں جلدی کرو اس سے قبل کہ جنگ کا الاؤ جل اٹھے ۔۔۔ اور جان لو کہ اگر مزاحمت کی تو عبرت ناک حالات کا سامنا کرو گے۔ ہم تمہاری مسجدوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور تمہارے خدا کی کمزوری دنیا پر عیاں کر دیں گے۔ اور تمہارے بچوں اور بوڑھوں کو بھی نہ چھوڑیں گے اور انہیں تہہ تیغ کریں گے۔ اس وقت صرف تم ہی وہ دشمن ہو جس کے خلاف ہم پیش قدمی کر رہے ہیں۔
قطز نےاپنے جرنیلوں سے فوری طور پر جنگی مشاورت طلب کی۔
سات سال قبل، 1253ء میں، ہلاکو خان، خانِ خانان مونگ کے خان کا بھائی اور چنگیز خان کا پوتا، نے اپنی افواج کو جمع کر کے شام کی جانب “مصر کی سرحدوں تک” جانے کا حکم دیا تھا۔ ان کا ہدف چنگیز خان کے خواب یعنی ‘عالمی منگول اقتدار’ کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے ایک قدم مزید آگے بڑھنا تھا، یعنی ان علاقوں کو فتح کر کے منگول اقتدار کا حصہ بنانا۔
محققین ہلاکو کی افواج کی درست تعداد پر اختلاف رکھتے ہیں، لیکن وہ اپنے وقت کے حساب سے بہت بڑی تعداد تھی۔ اس کا لشکر تقریباً تین لاکھ جنگجوؤں پر مشتمل تھا، جو بلا کے شہسوار اور تیر انداز تھے۔ ان کی تربیت، نظم و ضبط، مشاہدہ، نقل و حرکت اور رابطہ کسی بھی ہم عصر فوج سے کہیں زیادہ زبردست تھا۔ ان کی برق رفتاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا تھا کہ وہ ایک دن میں 100 میل کا سفر بھی کر لیتے تھے۔ خواتین، بچوں اور دیگر غیر عسکری اراکین کو بھی ملایا جائے تو ان کی کل تعداد تقریباً 20 لاکھ بنتی تھی۔
منگول 1256ء میں فارس میں وارد ہوئے، دہشت و ہیبت کی علامت حشاشین کے خاتمے کے لیے، جنہوں نے خانِ خانان تک کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔ اس دھمکی کا بدلہ انہوں نے دو سال میں شمالی ایران، شام اور ایران میں حشاشین کے 200 قلعوں کو فتح کر کے لیا۔ الموت کے مرکزی قلعے کی طرز پر یہ قلعے پہاڑوں کی چٹانوں پر بنائے جاتے اور ناقابل تسخیر شمار ہوتے تھے لیکن منگولوں نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ وہ شمال مشرقی ایران کے کوہ البرز سے نمودار ہوئے اور کمال ہوشیاری سے قلعے پر قلعے فتح کرتے چلے گئے۔ چینی انجینئر محاصرے کے لیے ہتھیار تیار کرتے اور “شاہینوں کے یہ قلعے” گرتے چلے گئے اور حشاشین کی کمر ٹوٹ گئی۔
پھر ہلاکو نے اپنی توجہ مابین النہرین (موجودہ عراق) اور خلافت عباسیہ کے دارالحکومت بغداد کی جانب مبذول کی۔ گو کہ وہ اس وقت بلادِ اسلامیہ کا سیاسی مرکز نہیں تھا، جو قاہرہ منتقل ہو چکا تھا، لیکن پھر بھی دارالخلافہ ہونے کی وجہ سے اسلام کا قلب تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن اس کو تہس نہس کر دیا گیا: فروری 1258ء میں اسے اپنے عہد کی بدترین فتوحات میں کچل ڈالا گیا۔ اسلامی دنیا کو منگولوں کی دیگر تمام حرکات سے کہیں زیادہ سقوطِ بغداد نے ہلا کر رکھ دیا۔ ہلاکو تبریز جا کر ٹھہرا، جہاں مقامی حاکموں کے علاوہ دیگر منگول سردار بھی اس کے پاس اطاعت کا دم بھرنے کے لیے آئے۔
ان میں اتحاد کی پیشکش کرنے والے آرمینیہ کے عیسائی بادشاہ ہیتون بھی تھے۔ ہیتون نے منگول جارحیت کو بیت المقدس کو مسلمانوں سے آزادکرانے کے لیے نئی صلیبی جنگ تصور کیا۔ مسلمانوں نے حال ہی میں، 1244ء میں، عیسائیوں سے شہر واپس چھینا تھا۔ اس کے عمل کو ہلاکو کے سپہ سالار کتبغا کی حوصلہ افزائی ملی جو خود بھی عیسائی تھا۔ ہلاکو خان سے ملنے کے بعد ہیتون نے اپنے عیسائی پڑوسیوں کو پیغامات بھیجے کہ ہلاکو عیسائیت قبول کرنے والا ہے، اور سب سے مطالبہ کیا کہ سب خود کو نئی قوت کے ساتھ منسلک کر لیں اور اس نادر موقع کو ایک صلیبی جنگ میں بدل دیں۔
ستمبر 1259ء میں ہلاکو نے ایک مرتبہ پھر اپنی افواج کو حرکت دی، اور دریائے دجلہ کے مشرق میں پورے بین النہرین کو مطیع کر ڈالا۔ پھر اس نے فرات پار کیا اور شام میں داخل ہو گیا۔ شام کے ایوبی سلطان الملک الناصر نے اطاعت چاہی، لیکن پیشکش بری طرح ٹھکرا دی گئی۔ انہوں نے پہلے حلب کے دفاع کا انتظام کیا، لیکن پھر پسپائی اختیار کرتے ہوئے دمشق کو بچانے کی لاحاصل کوشش کی۔ 3 لاکھ کے منگول ٹڈی دل نے 13 جنوری 1260ء کو حلب کا محاصرہ کیا اور چند ہی دنوں میں شہر ان کی جھولی میں تھا۔ حلب کا نصیب بھی بغداد جیساقرار پایا۔ اس صورتحال میں دمشق کے شہریوں نے ناصر کو غیر مشروط اطاعت قبول کرنے کے لیے پیغام بھیجنے پر مجبور کر دیا۔ یوں ہلاکو شہر میں کتبغا، ہیتون اور انطاکیہ کے صلیبی شہزادے بوہیمنڈ چہارم کے ساتھ فاتحانہ انداز میں داخل ہوا۔ الناصر مصر کی جانب بھاگا، لیکن غزہ کے قریب منگول فوجیوں کے ہاتھوں پکڑا گیا اور زنجیروں میں جکڑ کر ہلاکو کے سامنے لایا گیا۔
یہی وہ وقت تھا جب ہلاکو نے قاہرہ کے مملوک سلطان کو ڈرانے کے لیے اپنے ایلچی بھیجے۔
قطز ایک مملوک تھا، جو بحیثیت ایک جنگجو ہی پروان چڑھا تھا۔ لیکن وہ ایک حقیقت پسند بھی تھا۔ اس نے اپنے جرنیلوں کے سامنے اقرار کیا کہ مملوکوں کے پاس منگولوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اس کے سالاروں نے تائید کی اور تجویز پیش کی کہ اطاعت قبول کر لی جائے۔
لیکن قطز کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ وہ بغیر جنگ کے ہتھیار ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ قطز نے اپنے محافظوں کو حکم دیا کہ ایلچیوں کو قتل کر دیا جائے، اور جرنیلوں کو حکم دیا کہ وہ شہر کا دفاع کرنے کی تیاری کریں۔
ہلاکو کی عظیم فوج مصر کی جانب پیشقدمی کی منتظر تھی۔ تعداد میں وہ 20 ہزار مملوک فوج کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی، یعنی 15 منگولوں کے مقابلے میں ایک مملوک ۔ قاہرہ کی بقا، اور شاید تہذیب اسلامی کی تقدیر، اب مملوک افواج کے ہاتھ میں تھی۔
پھر مسلمانوں کی خوش قسمتی رنگ لے آئی۔
یک قاصد ہلاکو کے پاس پیغام لے کر حاضر ہوا کہ خانِ خانان مونگ کے قراقرم میں چل بسے ہیں اور منگول روایات کے پیش نظر ہلاکو سمیت تمام شہزادوں کو اس کے جانشیں کے انتخاب کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ ہلاکو نے اپنی افواج کو واپس مراغہ میں بلایا اور فتح کے یقین کے باعث کتبغا کو حکم دیا کہ مصر پر دباؤ رکھنے کے لیے 20 ہزار افراد کے ساتھ شام میں مقیم رہے۔
کچھ ہفتے بعد قطز کو مخالف مملوک گروپ کے سربراہ بیبرس کی صورت میں ایک اتحادی ملا۔ بیبرس اور اس کے ساتھی شام میں مقیم تھے، جہاں سے وہ مصر پر حملے کرتے لیکن بیبرس نے اس صورتحال میں یہ جانا کہ قطز کی شکست اس کی آرزوؤں کا بھی خاتمہ کر سکتی ہے، اس لیے جب دمشق کا سقوط ہوا، بیبرس نے قطز کو مدد کی پیشکش کی۔
دوسری جانب کتبغا نے ایک حملہ آور دستہ فلسطین بھیجا، جس نے نابلوس سے غزہ تک کے علاقے کو تاخت و تاراج کا نشانہ بنایا، لیکن ساحل کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کی زیر قبضہ مختصر پٹی کو کچھ نہ کہا۔ منگول افواج کے مقابلے میں کسی قابل ذکر مزاحمت کے قابل نہ ہونے کے باعث صلیبی اب مزید پریشان ہو گئے کہ وہ ان حملہ آوروں کا ساتھ دیں یا نہ دیں۔ کتبغا یہی سمجھتا رہا کہ ان کے علاقوں پر حملے نہ کرنا منگولوں کے حق میں جائے گا، لیکن وہ غلط تھا۔
دو صلیبی رہنماؤں جان آف بیروت اور جولین آف صیدون نے منگولوں کے نئے قبضہ شدہ علاقوں پر جوابی حملے شروع کر دیے۔ جس کے جواب میں کتبغا نے صیدون کے خلاف دستہ بھیجا، جس نے شہر کو ملیامیٹ کر کے اس کے شہریوں کا قتل عام کیا۔ منگول عیسائی تعلقات کی گرمجوشی یکدم ٹھنڈی پڑ گئی، اور جب پولینڈ پر منگولوں کے حملے کی خبریں ملیں تو گویا یہ معاملہ مکمل طور پر سرد ہو گیا۔
انہی ایام میں منگولوں کے لیے فرانسیسی صلیبی بادشاہ لوئی نہم کے سفیر ولیم آف روبرک منگولیا سے مکمل رپورٹ کے ساتھ واپس پہنچے۔ اسے پڑھنے کے بعد پوپ الیگزینڈر چہارم نے پورے ملکِ نصاریٰ میں یہ اعلان کر دیا کہ منگولوں کے ساتھ اتحاد کرنے والا کافر قرار دیا جائے گا۔ منگول کو اب عیسائیوں کی جانب سے کوئی مدد نہیں ملنے والی تھی۔
جب ہلاکو کی قراقرم واپسی کی خبر قطز کو ملی، تو اس نےفوری طور پر اندازہ لگا لیا کہ عسکری لحاظ سے اب صورتحال اس کے حق میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اس نے دفاع کی تیاریوں کو فوری طور پر روکنے اور منگول افواج کے خلاف پیشقدمی کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ ایک اور دلیرانہ قدم اٹھاتے ہوئے قطز نے عکہ کے صلیبی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے محفوظ راستہ دیں اور رسد خریدنے کی اجازت بھی۔
فرنگیوں کے لیے یہ مطالبہ مخمصے میں ڈالنے والا تھا۔ انہيں اندازہ تھا کہ قطز کے ساتھ تعاون انہیں منگولوں کا صریح دشمن بنا دے گا، اور انہیں بدنام زمانہ منگول افواج کے رحم و کرم پر ڈال دے گا؛ لیکن دوسری جانب قطز خطے کو منگولوں سے چھٹکارہ دلانے کی آخری امید بھی تھا۔ طویل بحث مباحثے کے بعد انہوں نے قطز کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔
26 جولائی 1260ء کو مصری افواج نے شمال مشرق کی جانب پیشقدمی کا آغاز کیا۔ غزہ کے قریب بیبرس کے ہراول دستے نے گشت کرنے والے ایک منگول دستے کو شکست دی تو کتبغا نے بعلبک میں اپنے ٹھکانے سے قدم نکالا اور بحیرۂ طبریہ کے مشرقی کناروں کے ساتھ ساتھ جنوب کی جانب پیشقدمی کا آغاز کیا۔
عکہ کے قریب، جب عیسائیوں کے پریشان رہنما مملوک افواج کو شہر کے سامنے اپنے خیمے نصب کرتے دیکھ رہے تھے، قطز نے رسد خریدی اور اگلی چال کی منصوبہ بندی کی۔ جلد ہی اطلاع ملی کہ منگول اور جبری بھرتی کی گئی شامی فوج نے بحیرۂ طبریہ کو گھیر لیا ہے، اور وہ دریائے اردن کی جانب پہنچ رہے ہیں۔ قطز نے اپنی فوج کو جنوب مشرق کی جانب پیشقدمی کا حکم دیا تاکہ منگول افواج سے ٹکراؤ ہو جائے۔
3 ستمبر کو کتبغا نے مغرب کا رخ کیا اور مرج ابن عامر کی سطح مرتفع پر پہنچا۔ قطز نے اپنی پوزیشن ‘عین جالوت’ میں سنبھالی۔ یہاں سطح مرتفع صرف پانچ کلومیٹر کی رہ جاتی ہے، اور جنوب کی جانب ڈھلان اور شمال کی جانب کوہ جلیل کی وجہ سے مملوک دستوں کو حفاظت ملی۔ قطز نے مملوک رسالے کو قریبی پہاڑیوں پر تعینات کیا اور بیبرس اور ہراول دستے کو ایسے دشمن کی جانب پیشقدمی حکم دیا جس نے کبھی شکست کا ذائقہ نہ چکھا تھا۔
بیبرس جلد ہی کتبغا کی افواج سے جا ٹکرایا، جو عین جالوت کی طرف ہی آ رہی تھی۔ قطز کی توقع کے عین مطابق کتبغا نے غلطی سے اس لشکر کو پوری مملوک فوج سمجھ لیا، اور عام حملے کا حکم دے ڈالا اور اس حملے کی قیادت بھی خود کی۔ دونوں افواج ٹکرائیں اور ایک دوسرے کے زور بازو کا اندازہ لگانے کے لیے گھمسان کا رن پڑا؛ اور پھر منصوبے کے عین مطابق بیبرس نے اپنے لشکر کو پسپائی کا حکم دیا۔ منگول پورے اعتماد کے ساتھ اُن کے تعاقب میں دوڑے، فتح ان کو اپنی گرفت میں نظر آتی تھی۔
لیکن جب مقررہ مقام پر پہنچ کر بیبرس نے اپنی افواج کو پلٹ کر دشمن کا سامنا کرنے کا حکم دیا، تب کہیں جا کر منگولوں کو حقیقت کا علم ہوا کہ وہ آج خود اسی چال کا شکار ہو گئے جو وہ ہمیشہ آزماتے آئے ہیں، یعنی جھوٹ موٹ کی پسپائی اختیار کر کے دشمن کو اچانک گھیر لینا۔ جب بیبرس کے دستے دوبارہ منگول افواج پر حملہ آور ہوئے، قطز نے رسالے کو پہاڑی دامن سے نکل کر منگول افواج کے پہلوؤں پر حملہ کرنے کا حکم صادر کر دیا۔
دوسری جانب کتبغا نے مملوک افواج کے بائیں پہلو پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ بہت خطرناک حملہ تھا، ایسا لگتا تھا کہ مملوک افواج کی صف بندی ٹوٹ جائے گی اور وہ کچل دیے جائیں گے۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے قطز خود اس مقام پر پہنچا، اپنا خود اٹھا کر پھینک دیا تاکہ پوری فوج اس کی شکل پہچان لے اور تین مرتبہ نعرہ لگایا “اے مسلمانو!”۔ فوج میں زبردست جوش و خروش پیدا ہو گیا اور منگول حملہ پسپا کر دیا گیا۔ صف بندی مستحکم ہونے کے بعد قطز نے جوابی حملہ کر کے منگولوں کو دھکیلنے کی ٹھانی۔
مملوک دباؤ کے باوجود کتبغا پیشقدمی جاری رکھے ہوئے تھا کہ اچانک ایک تیر اس کے گھوڑے کو آ لگا اور وہ زمین پر آ رہا۔ قریبی مملوک فوجیوں نے اسے گرفتار کر کے قطز کے روبرو پیش کیا اور قتل کر دیا گیا۔
سالار کے قتل کے بعد پسپا ہوتے منگولوں کا 12 کلومیٹر تک مملوک افواج نے تعاقب کیا۔ بچ جانے والی منگول فوج مشرق میں دریائے فرات کے پار تک چلی گئی۔ چند ہی دنوں میں قطز دمشق میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوا، اور مملوک حلب اور شام کے دیگر اہم شہروں کو آزاد کرانے کے لیے آگے بڑھے۔
مملوک اور منگول افواج کا عین جالوت میں ٹکراؤ عالمی تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں شمار ہوتا ہے — جس کا تقابل میراتھن، سلامز، لپانٹو، کالونز اور طوغ – کی جنگوں سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس جنگ نے اسلامی و مغربی تہذیب کے مستقبل کا تعین کیا۔ اگر منگول مصر فتح کرنے میں کامیاب ہو جاتے، تو وہ بلاشبہ ہلاکو کی واپسی کے بعد مشرقی افریقہ میں آبنائے جبرالٹر تک پیش قدمی کرتے۔ یوں یورپ پولینڈ سے ہسپانیہ تک منگولوں کے گھیرے میں آ جاتا۔ ان حالات میں کیا یورپ میں نشاۃ ثانیہ واقع ہوتا؟ اگر ہوتا تو اس کی بنیادیں بلاشبہ کہیں زیادہ کمزور ہوتیں اور دنیا ممکنہ طور پر آج ایک کہیں مختلف مقام ہوتی۔
مملوکوں نے نہ صرف مغرب کی جانب منگول پیشقدمی کو روکا، بلکہ منگولوں کے ناقابل شکست ہونے کے بت کو بھی توڑا۔ منگول دوبارہ پھر کبھی ویسی خود اعتمادی کے حامل نہ رہے، اور یوں عین جالوت نے خطے میں منگول پیشقدمی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔
قاہرہ کو بغداد جیسے حال سے بچانے کے بعد جنگ عین جالوت نے نسبتاً کمزور صلیبی ریاستوں کی قسمت کا بھی فیصلہ کر دیا۔ مملوک مصر اسلامی سیاسی، عسکری و ثقافتی قوت کے عروج پر پہنچ گیا، یہ مقام عثمانیوں کے ظہور تک اگلے 200 سال تک اس کے پاس رہا۔
لیکن قطز کے ہاتھوں سے اس فتح کے ثمرات جلد ہی چھین لیے گئے۔ حلب کو دوبارہ حاصل کرنے کے بعد بیبرس نے کہا کہ اس مہم میں خدمات کے پیش نظر اسے اس خطے کی کمان دی جائے۔ قطز نے انکار کر دیا اور جب قاہرہ میں فاتحانہ واپسی میں چند روز باقی تھے، قطز مارا گیا۔ یوں منگول خطرے کو ٹالنے کے لیے قاہرہ سے نکلنے والا تو قطز تھا لیکن فاتحانہ انداز سے داخل ہونے والا بیبرس تھا۔ جو ملک الظاہر رکن الدین بیبرس کے نام سے تختِ قاہرہ پر بیٹھا۔
یہ مضمون ڈیوڈ ڈبلیو شانز کا تحریر کردہ ہے، جنہوں نے تاریخ اور طب کے دو بالکل مختلف موضوعات میں تعلیم حاصل کی اور سعودی ارامکو میڈیکل سروسز سے منسلک ہیں۔ آپ عسکری تاریخ کے جریدے “Havoc!” کے ایڈیٹر ہیں اور عسکری تاریخ میں طب کی حیثیت پر خاص جریدے COMMAND کے لیے بھی مدیر کی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں
ان کا یہ مضمون سعودی ارامکو ورلڈ میگزین کے جولائی/اگست 2007ء شمارے میں شایع ہوا تھا، جس کا ترجمہ یہاں پیش کیا گیا ہے
http://urdu.microiways.com/Islam_JEEM/battle-of-ain-jalut.aspx
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب شاندار فتح کی خبر دمشق اور گرد ونواح پہنچی تو مسلمان خوشی سے سرشار ہوگئے انہوں نے تاتاریوں پر حملے شروع کردیے اور اسی سال منگولوں کو حمص سے بھی بے دخل کردیا۔
ساتویں صدی ہجری میں تاتاریوں نے مسلمانوں کی سرزمین پر عظیم جارحیت کا ارتکاب کیا اور نتیجتاً مسلمانوں کا خلیفہ مستعصم باللہ ہلاک ہوگیا اور دارالحکومت بغداد سمیت مسلمانوں کی تین چوتھائی سرزمین تاتاریوں کے قبضہ میں چلی گئی۔
سقوط بغداد کے بعد خلافت عباسیہ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا جس کے بعد مسلمانوں کو شکست در شکست کا سامنا کرناپڑا۔ منگولوں نے سارے عراق پر قبضہ کرنے کے بعد شام کی سرزمیں پر جارحیت کا ارتکاب کیا اور یہاں ظلم و ستم کا بازار گرم کردیا کیونکہ اس علاقے کے لوگوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا تھا۔
سقوط دمشق کے بعد تاتار مصر اور مراکش کی طرف بڑھے جو مسلمانوں کے آخری مضبوط گڑھ رہ گئے تھے اور اگر یہ بھی منگولوں کے قبضے میں چلے جاتے تو تمام مسلم امہ تباہ ہوجاتی۔
جنگ عین جالوت میں شکست کے بعد تاتاریوں کو اندازہ ہوا کہ ان کی حکومت مشرقی اسلامی سرزمین پر کمزور ہورہی ہے اور مسلمانوں نے اپنی قوت بحال کرلی ہے تو وہ اپنے وطن کی طرف بھاگے جس کی وجہ سے مملوکوں نے آسانی سے شام کو کچھ ہی ہفتوں میں آزاد کرانے میں کامیاب رہا۔
مزید:
https://goo.gl/yNqvdj
  Download book,  تاتاریوں کی یلغار۔ ولیم لیم

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:

Also Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Religion, Culture, Science, Peace
A Project of Peace Forum Network: Overall 3 Million visits/hits

World without Muslims دنیا مسلمانوں کے بغیر

Here's what the world would look like without Muslims》》》

تعصب زدہ ذہن، نفرت کا پرچار کرتی زبانیں، نائن الیون کی برسی کے ہنگام مسلمانوں کے خلاف نئی لہر اٹھائی گئی ہے۔ زہر کا تریاق ہے لیکن تعصب کا بھی کوئی تریاق ہوا کرتا ہے؟ وہ تعصب جو جسموں میں نہیں، ذہنوں میں سرایت کر جاتا ہے۔
مغرب کے تنگ نظر اور تنگ دل، ایک بار پھر سرگرم ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی پھر سے ایک مہم برپا ہے۔ نفرتوں کے بیج بوتی اس مہم کا عنوان ہے: ''Imagine a world without Muslims‘‘ یعنی ''تصورکریں مسلمانوں کے بغیر دنیا کیسی ہوتی‘‘۔ اس عنوان کے تحت، مسلمانوں کے خلاف زہر آلود پیغامات پھیلائے گئے‘ ان پر طنز کے تیر برسائے گئے اور انہیں تحقیر کا نشانہ بنایا گیا۔ اس مہم میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ مسلمان نہ ہوتے تو دنیا کتنی پُرامن ہوتی، کبھی کوئی دنگا فساد ہوتا نہ قتل و غارت، دھماکے ہوتے نہ خون کی ہولی کھیلی جاتی، یعنی مسلمانوں نے دنیا میں فساد پھیلانے کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔ یہ تاثر دیا گیا کہ اسلام امن و سلامتی، علم و حکمت اور انسانیت کا نہیں، جنگ و جدل اور خونریزی کا دین ہے۔ اس نفرت انگیز مہم کے مدلل اور دلچسپ جواب مسلمان دانشوروں، خود مغربی مصنفوں، تاریخ دانوں اور میڈیا نے دیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اگر مسلمان نہ ہوتے تو دنیا میں ہسپتالوں کا تصور نہ ہوتا۔ پہلا ہسپتال 872ء میں احمد ابن طولون کی سلطنت میں قاہرہ میں قائم کیا گیا۔ اس ہسپتال میں نرسنگ کی تربیت گاہ بھی تھی۔ یہاں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا۔ اسی ہسپتال کو ماڈل بنا کر دنیا میں جدید ہسپتالوں کی بنیاد رکھی گئی۔ اگر مسلمان نہ ہوتے تو ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبے کہاں ہوتے؟ یہ الخوارزمی ہی تھے جنہوں نے الجبرا متعارف کرایا۔ آج ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبے الجبرا کی بنیاد پر ہی کھڑے ہیں۔ دنیا بھر کی ترقی انہی شعبوں کی مرہون منت ہے۔ ابن الہیثم وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے یونانی ماہرین کے اس نظریے کو مسترد کیا کہ آنکھوں سے مخصوص شعاعیں خارج ہوتی ہیں‘ جن کی مدد سے انسان دیکھتا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ دراصل یہ روشنی ہے جو خود ہماری آنکھوں میں داخل ہوتی ہے اور ہم دیکھ پاتے ہیں۔ اسی نظریے کی بنیاد پر کیمرہ ایجاد ہوا۔ انہیں جدید عدسوں کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ جدید جیومیٹری بھی انہی کے نظریات اور تجربات پر کھڑی ہے۔ جابر بن حیان ہی وہ مسلمان کیمیادان تھے جنہیں بابائے کیمسٹری کہا جاتا ہے۔ انہوں نے جدید کیمسٹری کی بنیاد رکھی۔ انہی کے فارمولوں پر ہزاروں ادویات بنائی گئیں۔ اسماعیل الجزری وہ مسلمان سائنسدان تھے جنہیں روبوٹ سائنس کا بانی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے سو سے زیادہ تکنیکی آلات ایجاد کیے۔ ان میں زمین سے پانی نکالنے والی مشینیں، خودکار دروازے، فراہمی آب کا نظام، خودکار فوارے اور میوزیکل روبوٹ بینڈز بھی شامل ہیں۔ جدید دور کے غسل خانوں میں لگے آلات بھی پہلی بار انہوں نے ہی بنائے۔ دسویں صدی میں پیدا ہونے والے ابوالقاسم کو بابائے سرجری کہا جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف سب سے پہلے سرجری کے آلات بنائے بلکہ سرجری کے طریقہ ہائے کار بھی متعارف کرائے۔ ابوالقاسم نے ہی زخم میں ٹانکے لگانے کا طریقہ دریافت کیا۔ انہیں عالمی سطح پر چیف آف سرجنز یعنی تمام سرجنز کا سربراہ مانا جاتا ہے۔ ان کی کتابوں کا یورپ میں ترجمہ کیا گیا‘ جو آج بھی پڑھایا جاتا ہے۔ موجودہ سپین میں ان کے گھر کو تاریخی ورثے کے طور پر محفوظ کیا گیا ہے۔
دنیا میں یونیورسٹی کا تصور بھی مسلمانوں نے ہی دیا۔ زمین پر پہلی یونیورسٹی مسلمان تاجر کی صاحبزادی فاطمۃ الفھریہ نے سن 859ء میں مراکش کے شہر فاس میں قائم کی۔ اس یونیورسٹی سے پہلی بار ڈگریوں کا اجرا شروع کیا گیا۔ یہ یونیورسٹی آج بھی '' University of Al Quaraouiyine‘‘ کے 
نام سے موجود ہے۔ اسی یونیورسٹی میں دنیا کی قدیم ترین لائبریری بھی قائم ہے۔ فضا میں اڑنے کا پہلا تجربہ نویں صدی میں پیدا ہونے والے مسلمان موجد اور انجینئر عباس ابن فرناس نے کیا۔ انہوں نے اڑان بھرنے کے لیے پر اور دیگر آلات تخلیق کیے اور کچھ فاصلے تک پرواز بھی کی۔ ان کے پیش کئے گئے تصور پر ہی بعد میں ہوائی جہاز بنے۔ انہیں اڑنے والی مشین کا موجد قرار دیا جاتا ہے۔ دنیا میں ٹوتھ برش یعنی دانت صاف کرنے والے برش کا تصور بھی مسلمانوں نے دیا۔ نبی اکرمﷺ نے مسواک کا باقاعدگی سے استعمال کیا اور صحابہ کرام کو بھی اس کا استعمال کرنے کی تعلیم دی۔ انہی کے ادوار میں مسواک کا تصور دنیا بھر میں پھیلا اور بعد میں ٹوتھ برش بنائے گئے۔ دنیا بھر کا پسندیدہ مشروب کافی بھی مسلمانوں نے ہی سب سے پہلے بنایا۔ کافی پہلی بار نویں صدی میں یمن میں کشید کی گئی۔ تیرہویں صدی میں کافی ترکی پہنچی اور سولہویں صدی میں یورپ میں اس کا استعمال شروع کیا گیا۔ آج یہ مشروب پورے مغرب کی زندگی کا جزو بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ نظام الاعداد، پن چکی، وِنڈِ مل، کاسمیٹکس، فاونٹین پین، پنڈولم، پلاسٹک سرجری اور ٹِرگنومیٹری کے تصورات بھی سب سے پہلے مسلمانوں نے ہی پیش کیے۔ ان پر تجربات کے لیے 
آلات بنائے اور انہیں کامیابی سے استعمال کیا۔ مصنفین نے مسلمانوں کے ان تاریخی کارناموں کا ذکر کرکے مغرب کو یہ سمجھانے کی کوشش کہ اسلام اور مسلمانوں نے دنیا اور انسانیت کی کتنی خدمت کی۔ علم و حکمت، فلسفہ اور دانشوری ان کی میراث رہی اور اب بھی ہے۔ آج مٹھی بھر دہشت گردوں کو تمام مسلمانوں اور دین اسلام سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ امریکی شہر اوکلاہاما میں 1995ء میں بم حملوں میں 168 افراد ہلاک اور 680 زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے میں 324 عمارتیں تباہ اور بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔ یہ حملے کسی مسلمان نے نہیں بلکہ دو امریکیوں ٹموتھی اور ٹیری نکولس نے کیے تھے۔نائن الیون سے پہلے اسے امریکی تاریخ کی بدترین دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔ 22 جولائی 2011ء کو ناروے میں سفید فام ''Anders Behring‘‘ نے بم حملے اور فائرنگ کرکے 77 افراد کو قتل کر ڈالا۔ جس طرح اوکلاہاما اور ناروے میں ہونے والے حملوں اور اس طر ح کے درجنوں واقعات کو تمام سفید فاموں اور کسی مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا، اسی طرح امریکا، فرانس، بیلجیئم اور دیگر ممالک میں ہونے والی دہشت گردی کا ذمہ دار ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں مسلمانوں کی نمائندہ نہیں، ان کی کارروائیوں سے سب سے زیادہ متاثر کوئی اور نہیں خود مسلمان ہیں۔ تعصب زدہ ذہنوں میں اگرچہ یہ باتیں کم ہی آتی ہیں۔ سوچنے، سمجھنے اور غور کرنے کی زحمت یہ کم ہی کرتے ہیں
- See more at: http://m.dunya.com.pk/index.php/author/ibrahim-raja/2016-09-18/16863/94347273#sthash.vc3kW70r.dpuf
.....................
Would without Muslims.... EDUCATION, SCIENTIFIC LEARNING 
Islam is the complete way of life, (Din), encompassing spiritual, as well as social, political, economic and all other aspects of human life. Early Muslims excelled in knowledge in all the fields. They not only translated the Greek, Indian and other sources of knowledge but made significant additions and transferred to Europe through Muslim Spain. The main reason of decline of Muslim civilization is their lack on interest in learning and scholarship. Muslims are  now found to be mostly illiterate and ignorant. They are backward despite possessing treasures of rich culture, history, energy and other natural resources in abundance. 

This book is aimed to highlight the importance, which Islam attaches to attainment of knowledge so that Muslims may endeavour to regain their place among community of nations. 》》》http://justonegod.blogspot.com/2015/05/education-scientific-learning-in-islam.html

~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:

Also Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Religion, Culture, Science, Peace
A Project of Peace Forum Network: Overall 3 Million visits/hits

عیدالاضحی Eid ul Adha


شوال کے مہینے کی پہلی تاریخ کو عید الفطر اور ذی الحجہ کی ۱۰ تاریخ کو عید الاضحی یعنی قربانی کی عید منائی جاتی ہے۔ یہ دونوں دن اسلام میں خوشی کے دن ہیں، جن میں دودو رکعت نماز بطور شکر کے پڑھی جاتی ہے۔
زمانۂ جاہلیت میں اہل مدینہ کے لیے دو دن خوشی کے مقرر تھے جن میں وہ لہو ولعب میں مشغول ہوتے تھے اور خوشیاں منایا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک دن ’’نو روز‘‘کا تھا اور دوسرا دن ’’مہرجان ‘‘کا ۔ نو روز کے دن آفتاب برج حمل میں جاتا ہے اور مہر جان کے دن برج میزان میں داخل ہوتا ہے ۔ ان دونوں دنوں میں آب وہوا چونکہ معتدل ہوتی ہے اور رات دن برابر ہوتے ہیں، اس لیے ان دنوں کو لوگوں نے خوشی منانے کے لیے مقرر کر رکھا تھا۔ جب اہل مدینہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھیں ان دنوں سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان دنوں سے بہتر دن عنایت فرمائے ہیں ، تم عیدین کے ان بابرکت دنوں میں خوشی مناسکتے ہو۔
عید الاضحی یعنی قربانی کی عید کا فلسفہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے خواب کو حکم خداوندی سمجھتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے پر تیار ہوگئے ۔سورۂ صا فا ت میں ہے:

’’پس جب وہ اس کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچا اس نے کہا ،اے میرے بیٹے ، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تم کو ذبح کررہا ہوں تو غور کر لو تمھاری کیا رائے ہے۔ اس نے جواب دیاکہ اے میرے باپ ، آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے اس کی تعمیل کیجیے۔آپ ان شاء اللہ مجھے ثابت قدم پائیں گے۔پس جب دونوں نے اپنے تئیں اپنے رب کے حوالے کر دیا اور ابراہیم نے اس کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا اور ہم نے اس کو آواز دی:اے ابراہیم ،بس، تم نے خواب سچ کر دکھایا۔بے شک ہم خوب کاروں کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں۔بے شک یہ کھلا ہوا امتحان تھا اور ہم نے اس کی ملت پر پچھلوں میں ایک گروہ کو چھوڑا۔ سلامتی ہو ابراہیم پر اسی طرح ہم خوب کاروں کو صلہ دیتے ہیں۔‘‘ (۱۰۲ ۔ ۱۱۰)
حضرت ابراہیم کی اس امتحان میں کامیابی کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے ۔ اس کی تحسین اللہ تعالیٰ نے ’’قد صدقت الرؤیا‘‘ کے شان دار الفاظ سے کی۔ہم مسلمان اپنے جدامجد کی اپنے رب کے حضور تسلیم ورضا کی علامتی پیروی میں ہر سال اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کرتے ہیں ۔ اس موقع پر یہ لازم ہے کہ اپنے رب کے آگے تسلیم ورضا کے تجدیدعہد کے لیے ہم شعوری طور پر ایسا کریں۔
عید الفطر کے موقع پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم طاق عدد میں کھجوریں کھاتے تھے ، البتہ عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے بعد کچھ تناول فرماتے، کیونکہ غربا ومساکین کو گوشت تو قربانی کے بعد ملتا ہے ، اس لیے نبی کریم خود بھی کھانے پینے میں تاخیر کرتے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کے پس ماندہ طبقے کی عزت و احترام اور دل جوئی اسلام کی اولین ترجیح ہے۔ احادیث نبوی کی روشنی میں ہم نماز عیداور قربانی کے بارے میں ضروری باتیں یہاں درج کر رہے ہیں :

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدکے دن عید گاہ تشریف لے جاتے تو واپس دوسرے راستے سے آتے تھے۔‘‘ (دارمی)
عید گاہ جاتے ہوئے راستے میں تکبیر یعنی ’اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر ، لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد‘ پڑھتے رہنا چاہیے۔
حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عبداللہ سے روایت ہے :

’’نہ عیدالفطر کی نماز کی اذان دی جاتی ہے اور نہ بقر عید کی نماز کی۔‘‘ (مسلم)
عیدین کی نماز دو رکعت ہے جس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ نماز پڑھنے والا پہلی رکعت میں تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ لے اور ثنا پڑھ کر تین تکبیریں کہے ،تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ کر سورۂ فاتحہ اور کوئی دوسری سورہ پڑھے۔ دوسری رکعت میں رکوع میں جانے سے پہلے تین تکبیریں کہے اور چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور دوسری رکعت مکمل کر لے۔عیدین کی نماز میں خطبہ نماز کی ادائیگی کے بعد ہوتا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو جمعہ اور عیدین کی نماز میں شریک ہونے کی بہت تلقین کی ہے اور کسی عذر کے لاحق ہونے کی صورت میں فرمایا کہ کم از کم خطبہ ہی سن لیا کرو ، اس طرح دین کے بارے میں آگہی پیدا ہوتی ہے۔
حضرت جابر بیان کرتے ہیں :

’’ میں عید کے دن حضور اکرم کے ہمراہ نماز میں شریک ہوا ،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان وتکبیر کے بغیر خطبہ سے پہلے نماز شروع فرمائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو (خطبہ کے لیے) حضرت بلال کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وتسبیح بیان فرمائی ۔ لوگوں کو نصیحت کی اور انھیں عذاب وثواب (کے احکام ) یاد دلائے اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے کی ترغیب دلائی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی جماعت کی طرف متوجہ ہوئے حضرت بلال بھی آپ کے ساتھ تھے ۔آپ نے عورتوں کو اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا،ان کو نصیحت کی اور انھیں عذاب وثواب (کے احکام )یاد دلائے۔ ‘‘ ( نسائی)
قربانی چونکہ خدا کے سامنے تسلیم ورضا اور اس کی اطاعت کا علامتی اظہار ہے ، اس لیے ان احساسات کو شعوری طور پر الفاظ میں بھی ادا کرنا چاہیے۔قرآن مجید میں ہے :
’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون ، بلکہ اس کو صرف تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘ (الحج۲۲: ۲۲۔۳۷)
حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کے دن دودنبے ذبح کرنا چاہے ۔ آپ نے ان کا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ دعا پڑھی:
انی وجھت وجھی للذی فطر السموات والارض علی ملۃ ابراھیم حنیفاً وما انا من المشرکین ان صلاتی ونسکی و محیای ومماتی للّٰہ رب العالمین لا شریک لہ و بذلک امرت وانا من المسلمین اللھم منک ولک . (ابو داؤد)
’’میں اپنا منہ اس ذات کی طرف متوجہ کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا،اس حال میں کہ میں دین ابراہیم پر ہوں جو توحیدکو ماننے والے تھے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ بلاشبہ میری نماز،میری تمام عبادتیں، میری زندگی،اور میری موت (سب کچھ) اللہ ہی کے لیے ہے جوتمام جہانوں کا پروردگار ہے اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں۔اے اللہ یہ قربانی تیری عطا سے ہے اور خالص تیری ہی رضا کے لیے ہے۔‘‘
اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کے لیے بہترین جانور کا انتخاب کرنا چاہیے۔حضرت علی فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قربانی کے جانورکی )آنکھ اور کان کو اچھی طرح دیکھ لیں(کہ ایسا کوئی عیب اور نقص نہ ہوجس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو)۔‘‘ (ترمذی)
عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے جانور کو نماز کی ادائیگی کے بعد ہی ذبح کرنا چاہیے، نماز سے پہلے جانور کوذبح کرنا جائز نہیں ہے ۔ اس سلسلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت ہے:
’’حضرت جندب ابن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں عید قربان کے موقع پر نبی کریم کے ساتھ (عید گاہ ) حاضر ہوا ،ابھی آپ نمازاور خطبہ سے پوری طرح فارغ نہیں ہوئے تھے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ قربانی کا گوشت رکھا ہے اور نماز پڑھنے سے پہلے ہی قربانی ہوگئی ہے ، آپ نے فرمایاکہ جس نے قبل اس کے کہ نمازپڑھے ،(جانور) ذبح کردیا ، اسے چاہیے کہ وہ اس کے بدلے میں دوسرا جانور ذبح کرے۔‘‘ (مسلم)
عیدالاضحی کے موقع پر سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دیا جاسکتا ہے؟
قربانی کا گوشت معاشرے کے تمام غربا ،مساکین ،اور مستحق لوگوں کو دیا جاسکتا ہے ، چاہے وہ مسلم ہوںیا غیر مسلم کیونکہ غیر مسلم بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔قرآن مجید اور احادیث میں جہاں بھی صدقہ و خیرات کی ترغیب دی گئی ہے ، وہاں مسلم اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ۔سورۂ بقرہ میں ہے:

’’وہ اپنے مال ،اس کی محبت کے باوجود،قرابت مندوں،یتیموں،مسکینوں،مسافروں،سائلوں اور گردنیں چھڑانے یعنی (غلام آزاد )کرنے پر خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (۲: ۱۷۷)
جب ہم اس طرح کسی غیر مسلم کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں گے تو ان کے دل میں قربانی کے فلسفے کو جاننے اور اسلام کے پیغا م سمجھنے کی ترغیب پیدا ہو گی۔ اور یہ چیز اسلام کی طرف دعوت دینے کا محرک بھی بن سکتی ہے۔
بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اگر قربانی کا جانور ذبح کرنے کے بجائے اتنے ہی پیسے کسی غریب کو دے دیں تو اس میں کیا قباحت ہے ؟ اس بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ صدقہ وخیرات کے لیے پورا سال ہوتا ہے ،جب بھی کوئی ضرورت مند ہمارے سامنے آئے،ہمیں اپنے حالات ووسائل کے مطابق اس کی مددکرنی چاہیے۔اس کا اللہ کے ہاں بڑا اجر ہے،قربانی تو در حقیقت حضرت ابراہیم کی سنت کی پیروی میں تجدید عہد ہے کہ ہم اپنے رب کی اطاعت اور تسلیم ورضا کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔
                                                                      کوکب شہزاد
_______

~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:

Also Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Religion, Culture, Science, Peace
A Project of Peace Forum Network: Overall 3 Million visits/hits