Showing posts with label Hadith Writing. Show all posts
Showing posts with label Hadith Writing. Show all posts

Why Hadees not compiled like Quran حدیث کی کتابت قران کی طرح خلفاء راشدین نے کیوں نہ کی ؟




احادیث کے وحی ہونے یا نہ ہونے کی جہت سے بعض علماءِ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے دو حصے مقرر کر دیئے اور کہا کہ آپؐ کا ہر قول و فعل تو وحی نہیں البتہ آپؐ جب بحیثیت رسول احکام دے رہے ہوتے تھے تو وہ وحی پر مبنی ہوتے تھے۔ اس طرح آپؐ بحیثیت انسان اور بحیثیت رسول دو الگ الگ حیثیتیں رکھتے تھے۔ جب بحیثیت انسان خطاب کر رہے ہوتے تھے تو اس وقت وحی کی زبان میں کلام نہیں کرتے تھے البتہ بحیثیت رسول آپؐ ہمیشہ وحی کی زبان میں ہی کلام کیا کرتے تھے اور یہی حصہ واجب الاطاعت ہے۔ لیکن یہ نظریہ خود اپنے اندر شدید تضاد (self-contradiction) رکھتا ہے۔ مثلاً حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ، حجۃ البالغہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
جاننا چاہیے کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اور کتبِ حدیث میں مدون کیا گیا ہے اس کی دو قسمیں ہیں:
۱۔ وہ امور جو امور تبلیغ رسالت سے علاقہ رکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: پیغمبر جو تم کو بتائے اس کی تعمیل کرو اور جس سے منع کرے اس سے باز آؤ۔ مَآ اٰتَکُمْ وَالرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْاط۔ ایسے امور میں سے ایک حصہ علومِ معاد اور عالمِ ملکوت کے عجیب عجیب حالات کا ہے۔ یہ سب امور بواسطہ وحی کے ہی ہوا کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کو ان میں کچھ دخل نہیں ہے اور انھی امور میں سے ایک حصہ احکامِ شرعی اور منافع کا وجود مذکورہ بالا میں سے کسی نہ کسی وجہ سے منضبط کرنے کا ہے۔ ان علوم میں سے بعض وحی کے ذریعے سے معلوم ہوتے ہیں اور بعض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد سے۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہاد بھی وحی کے درجہ میں ہے۔۱۴۰؂
دراصل واقعہ یہ ہے (صورتِ حال کی صحیح عکاسی محترم خرم مرادؒ نے کر دی ہے) کہ حضوؐر معلم بھی تھے‘ داعی اور قائد بھی تھے‘ حاکم اور سپہ سالار بھی تھے مگر آپؐ نے یہ سارے کام اپنے علم و فہم‘ عقل و شعور اور اپنے اصحاب کے مشورے سے کیے تھے لہٰذا آپؐ کے احکامات مبنی بروحی نہیں تھے۔ اب ہم مکمل طور پر اس نتیجے پر پہنچ جانے کے بعد کہ احادیث مبارکہ وحی نہیں ہیں جس طرح قرآن وحی ہے‘ ہم یہ دیکھیں گے کہ احادیث کی صحیح پوزیشن کیا ہے؟
احادیث کی حیثیت
اب آپ صرف خط کشیدہ جملوں کو ہی دیکھیے کہ ان میں کیا کہا گیا ہے؟ پہلے خط کشیدہ جملے سے معلوم ہوتا ہے وحی کچھ اور ہے اور حضوؐر کا اجتہاد کچھ اور۔ دوسرے خط کشیدہ جملے میں پہلے تو یہی دہرایا گیا کہ ان علوم میں سے بعض وحی کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں اور بعض حضوؐر کے اجتہاد سے۔ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وحی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد سے الگ چیز ہے مگر اسی جملے میں اس بات کا بھی اضافہ کیا گیا ہے کہ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہاد بھی وحی کے درجہ میں ہے۔ اس سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ حضوؐر کی شخصی اور پیغمبرانہ حیثیت میں فرق کرنے کا نظریہ خود اپنے اندر تضاد رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں:
یہ بات مسلمات شریعت میں سے ہے کہ سنت واجب الاطاعت صرف وہی اقوال و افعالِ رسول ہیں جو حضوؐر نے رسول کی حیثیت سے کیے ہیں۔ شخصی حیثیت سے جو کچھ آپؐ نے فرمایا یا عمل کیا ہے وہ واجب الاحترام تو ضرور ہے مگر واجب الاتباع نہیں ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے حجۃ البالغہ میں باب بیانِ اقسام علوم النبیؐ کے عنوان سے اس پر مختصر مگر بڑی جامع بحث کی ہے۔ صحیح مسلم میں امام مسلم نے ایک پورا باب ہی اس اصول کی وضاحت میں مرتب کیا ہے اور اس کا عنوان رکھا ہے۔ ’’اس باب کے بیان میں کہ واجب صرف اُن ارشادات کی پیروی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرعی حیثیت سے فرمائے ہیں نہ کہ اُن باتوں کی جو دنیا کے معاملات میں آنحضورؐ نے اپنی رائے کے طور پر بیان فرمائی ہے‘‘۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حضوؐر کی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت میں فرق کر کے یہ فیصلہ آخر کون کرے گا اور کیسے کرے گا کہ آپؐ کے افعال و اقوال میں سے سنت واجب الاتباع کیا چیز ہے اور محض ذاتی و شخصی کیا چیز؟ ظاہر ہے کہ ہم بطور خود یہ تفریق و تحدید کرلینے کے مجاز نہیں ہیں۔ یہ فرق دو ہی طریقوں سے ہو سکتا ہے یا تو حضوؐر نے اپنے کسی قول و فعل کے متعلق خود تصریح فرما دی ہو کہ وہ ذاتی و شخصی حیثیت میں ہے۔ یا پھر جو اصولِ شریعت آنحضوؐر کی دی ہوئی تعلیمات سے مستنبط ہوتے ہیں ان کی روشنی میں محتاط اہلِ علم یہ تحقیق کریں کہ آپؐ کے افعال و اقوال میں سے کس نوعیت کے افعال و اقوال آپؐ کی پیغمبرانہ حیثیت سے تعلق رکھتے ہیں اور کس نوعیت کی باتوں اور کاموں کو شخصی اور ذاتی قرار دیا جاسکتا ہے۔۱۴۱؂
اس میں پہلی بات تو یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ مولانا محروم کے پہلے خط کشیدہ جملے میں اس بات سے صاف انکار کیا گیا ہے کہ ہم بطور خود یہ تفریق و تحدید کرنے کے مجاز ہی نہیں ہیں کہ ہم یہ متعین کرسکیں کہ حضوؐر کے کون سے افعال وا قوال ذاتی نوعیت کے تھے اور دوسرے پیغمبرانہ نوعیت کیے۔ لیکن دوسرے خط کشیدہ جملے میں بہرحال یہ اختیار ’’محتاط اہلِ علم‘‘ کو مل جاتا ہے۔ اس تضاد کی دراصل مجبوری یہ ہے کہ آپؐ نے بہت کم اِکا دُکا معاملات میں۔۔۔ اپنے افعال و اقوال کے بارے میں یہ بتایا ہے کہ یہ ذاتی نوعیت کے ہیں یا نہیں۔ مثلاً جب آپؐ شرح زکوٰۃ مقرر فرما رہے تھے یا نصابِ زکوٰۃ کا تعین کر رہے تھے تو یقیناًآپؐ نے یہ نہیں بتایا کہ میں ذاتی حیثیت سے یہ کام کر رہا ہوں یا پیغمبر کی حیثیت سے۔ اسی طرح جب آپؐ نے حضرت زیدؓ کو حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دو تو یہ نہیںّ بتایا کہ میں یہ کام ذاتی حیثیت سے کر رہا ہوں یا رسول کی حیثیت سے۔ لہٰذا مجبوری ہے کہ اس نظریئے میں تضاد اُبھر آئے اور دوسری بات یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ یہ کوئی معمولی معاملہ تو نہیں۔ اُمت کی ہدایت و رہنمائی کا معاملہ ہے۔ اس کی فلاح و کامیابی کا معاملہ ہے۔ جب حضوؐر کوئی کام کر رہے تھے یا حکم دے رہے تھے تو یہ ذمہ داری آخر کس کی بنتی ہے کہ وہ بتاتا کہ حضوؐر کے یہ افعال و اقوال کس نوعیت کے تھے؟ ظاہر بات ہے کہ ہر معقول شخص یہی جواب دے گا کہ یہ ذمہ داری حضوؐر ہی کی بنتی ہے کہ وہی ہم کو بتا جاتے کہ ان کے فلاں حکم یا فعل کو یہ حیثیت دو کیونکہ ’’ہم تو اس کے مجاز ہی نہیں کہ بطور خود یہ تفریق کر سکیں‘‘۔ اور جب ہم مجاز ہی نہیں تو ’’محتاط اہلِ علم‘‘ کس طرح اس کے مجاز ہوگئے؟ وہ غالباً ہم میں سے ہی ہوں گے!
اب اگر احادیث وحی نہیں ہیں تو ان کی اصل حیثیت کیا ہے؟ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ اپنی کتاب ’’تدوین حدیث‘‘ میں لکھتے ہیں:
دنیا کی اسی تاریخ کے عظیم الشان‘ حیرت انگیز انقلابی حصہ کا نام‘ سچ پوچھیے تو حدیث ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ جن انقلابات و حو ادث سے گزر کر نسلِ انسانی موجودہ حالت تک پہنچی ہے‘ ان میں ایک ایسا واقعہ کسی خاص شعبۂ حیات ہی میں نہیں بلکہ مذہبی‘ سیاسی‘ معاشرتی اور اخلاقی ۔۔۔ تمام شعبوں میں انسانیت کا رُخ پلٹ دیا‘ جس سے زمین کا کوئی خاص حصہ نہیں بلکہ بلامبالغہ مشرق و مغرب دونوں متاثر ہوئے‘ ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ ماضی کے اس مدہش حیرت انگیز واقعہ کی تاریخ یا تفصیلی بیان کا نام حدیث ہے۔۱۴۲؂
چند صفحات کے بعد اس تاریخ کو مسلمانوں ہی کی تاریخ نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تاریخ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
آج جب علمی دنیا میں ’’فنِ تاریخ‘‘ ہر قسم کے احترام و اعزاز کا مستحق ہے تو ’’حدیث‘‘ جو صرف مسلمانوں ہی کی تاریخ نہیں بلکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا تمام دنیا کی انسانیت کے عظیم انقلابی عہدِآفریں دور کا ایک ایسا مکمل تاریخی مرقع ہے۔۔۔۱۴۳؂
اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے آگے لکھتے ہیں:
ماسوا اس کے سچ یہ ہے کہ بالکلیہ یہ میری تعبیر ہے بھی نہیں۔ فنِ حدیث کے سب سے بڑے امام‘ امام الائمہ حضرت امام بخاریؒ نے جو اپنی کتاب کا نام رکھا ہے اگر اسی پر غور کرلیا جائے تو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ جو میں نے کہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ امام بخاریؒ کی کتاب آج تو صرف ’’بخاری شریف‘‘ کے نام سے مشہور ہے لیکن یہ اس کتاب کا اصلی نام نہیں ہے بلکہ خود حضرت امامؒ نے اپنی کتاب کا نام ’’الجامعُ الصحیحُ المسند المختصرُ مِنْ اُمُورِ رسولِ اللّٰہِ صلی اللّٰہُ عَلَیہِ وسلم واَیَّامِہٖ‘‘ رکھا ہے۔ اس میں ’’امور‘‘ اور ’’ایام‘‘ کے الفاظ قابلِ غور ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کی صحیح تعریف امام بخاریؒ کے نزدیک ان تمام امور کو حاوی ہے جن کا کسی نہ کسی حیثیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق ہو۔ آگے ایام کے لفظ نے تو اس تعریف کو اور بھی وسیع کر دیا۔ یعنی وہی جات جو میں نے عرض کی تھی کہ فنِ حدیث دراصل اس عہد اور زمانہ کی تاریخ ہے جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جیسی ہمہ گیر‘ عالم پر اثرانداز ہونے والی ہستی انسانیت کو قدرت کی جانب سے عطا ہوئی۔ بہرکیف اگر اصطلاحی جھگڑوں سے الگ ہو کر پھل سے درخت کے پہچاننے کے اصول کو مدنظر رکھا جائے تو حدیث کے موجودہ ذخیرہ پر سرسری نظر ڈالنے کے بعد بھی ایک معمولی آدمی اس کا اندازہ کرسکتا ہے کہ حدیث کی صحیح حقیقت اور اس کی واقعی تعریف وہی ہو سکتی ہے جس کی طرف حضرت امام بخاریؒ نے اپنی کتاب کے نام میں اشارہ فرمایا ہے اور میں نے جس کی تشریح کی ہے۔ تاریخ کے اس حصہ کی تدوین کس طرح اور کس زمانہ میں عمل میں آئی؟ اسی سوال کے جواب میں آپ کے سامنے وہ امتیازات اور خصوصیات بھی آجائیں گے جو تاریخ کے اس حصہ کو دنیا کے دوسرے تاریخی ذخیروں سے ممتاز کرتے ہیں۔۱۴۴؂
اسی کتاب میں دو ٹوک اندازم یں حدیث کی صحیح حیثیت بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:
یہ کہنا یقیناً مبالغہ نہ ہوگا کہ عہدِنبوتؐ میں ہی ہماری وہ تاریخ جس کا نام حدیث ہے اس کے کامل و ناقص زندہ نسخوں اور اڈیشنوں (اصحابؓ رسولؐ) کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی تھی۔ کیا دنیا میں کوئی تاریخ یا کسی تاریخ کا کوئی حصہ ایسا موجود ہے جس کے عینی شاہد اتنی تعداد میں خود اس واقعہ کے مجسم آئینے بن کر دنیا کے سامنے پیش ہوئے ہوں؟۱۴۵؂
ان چاروں اقتباسات سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ احادیث کو ’’تاریخ‘‘کا مقام اور درجہ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ تاریخ اگر عہدنبوتؐ میں ہی لکھ لی جاتی یا اس کی عمومی اشاعت ہوجاتی تو قرآن اور اس تاریخ کے احکامات میں کوئی فرق باقی نہ رہ جاتا اس لیے مصلحتاً اس کی تدوین کو مؤخر کر دیا گیا۔ مثلاً وہ فرماتے ہیں:
اگر نبوت ہی کے عہد میں اس کثرت سے ان کے مکتوبہ مجموعے تیار ہوجائیں گے تو بتدریج ان حدیثوں سے پیدا ہونے والے احکام و نتائج میں اور قرآنی آیات سے پیدا ہونے والے احکام و نتائج میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔۱۴۶؂

اب اگر احادیث تاریخِ اسلام یا زیادہ صحیح الفاظ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک کی تاریخ ہے تو وحی خفی کی کیا حقیقت ہے اور یہ کہاں پائی جاتی ہے؟ یا احادیث کے علاوہ بھی وحی خفی کہیں پائی جاسکتی ہے؟

وحی کی کئی قسمیں ہیں۔ وحی انبیاء علیہم السلام کے علاوہ‘ عام انسانوں‘ جانوروں اور دوسری مخلوقات پر بھی نازل ہوتی ہے۔ اصطلاحی یا شرعی لحاظ سے تو وحی جو کتابی شکل میں محفوظ ہے‘ اب صرف قرآن مجید میں پائی جاتی ہے اور یہ وحی انسانی ہدایت کے لیے نازل کی گئی اور قیامت تک کے لیے ہر قسم کی تحریف سے پاک ہے۔ وحی خفی‘ وحی کی وہ قسم ہے جس کا ہدایت عامہ سے کوئی تعلق نہیں‘ جو نبی پر بھی نازل ہو سکتی ہے‘ انسان۔۔۔ جانور اور غیرعاقل مخلوقات مثلاً زمین اور آسمان‘ سب ہی پر نازل کی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن شاہد ہے۔ اس کے بارے میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے (رسائل و مسائل‘ حصہ سوم ص ۳۴۸) میں ارشاد فرمایا کہ ’’یہ وحی انسانوں سے بڑھ کر جانوروں پر اور شاید اُن سے بھی بڑھ کر نباتات و جمادات پر ہوتی ہے‘‘۔ وحی خفی کے نام پر خواہ مخواہ اعتراض کرنا یا سرے سے حدیث کے پورے ذخیرے ہی کو ’’عجمی سازش‘‘ قرار دینا کوئی صحت مندانہ اندازِ فکر نہیں۔ درست رویّہ یہ ہے کہ تاریخ کسی کے ہاتھ سے بھی مرتب ہو جائے ایک قابلِ تحسین قدم ہے چاہے مرتب کرنے والا عربی ہے یا عجمی۔ البتہ وحی کی دوسری اقسام کا تعلق سراسر اسی خاص فرد‘ جانور یا غیرعاقل مخلوق سے ہوتا ہے جس کی رہنمائی مقصود ہوتی ہے۔ اس کی حیثیت قرآن کی طرح ہو ہی نہیں سکتی اس لیے یہ قرآن میں لکھی ہی نہیں گئی۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے تفہیمات (جلد اول) میں ایک مضمون لکھا ہے جس کا عنوان ہے: ’’رسالت اور اس کے احکام‘‘۔ یہ مضمون دراصل محترم غلام احمد پرویز مرحوم کے ایک سوال کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ مضمون کی نوعیت اسی طرح کی ہے جو ایک بحث مباحثے میں ہوجایا کرتی ہے۔ تاہم اس میں وحی خفی کی حقیقت پر مولانا مرحوم نے اظہارِخیال کیا ہے۔ آپ ارشاد فرماتے ہیں:

قرآن مجید سے ثابت ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر صرف کتاب ہی نازل نہیں کی جاتی تھی بلکہ ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ ہمیشہ وحی نازل کرتا رہتا تھا اور اسی وحی کی روشنی میں وہ سیدھی راہ چلتے تھے‘ معاملات میں صائب رائے قائم کرتے تھے اور تدبیریں عمل میں لاتے تھے۔* مثال کے طور پر دیکھیے:
نوح علیہ السلام طوفان کی پیش بندی کے لیے اللہ کی نگرانی میں وحی کے ماتحت کشتی بناتے ہیں (ہود:۳۷)۔ حضرت ابراہیم ؑ کو ملکوت سموات وارض کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے اور مُردوں کو زندہ کرنے کی کیفیت دکھائی جاتی ہے۔

اسی طرح کی بہت سی مثالیں دینے کے بعد پوچھتے ہیں:

کیا ان میں سے کوئی بھی وحی ایسی ہے جو کتاب کی صورت میں ہدایت عامہ کے لیے نازل ہوئی ہو؟ یہ مثالیں اس امر کے ثبوت میں کافی ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی طرف اللہ تعالیٰ متوجہ رہتا ہے اور ہر ایسے موقع پر جہاں بشری فکرورائے کی غلطی کرنے کا امکان ہو اپنی وحی سے ان کی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔ اور یہ وحی اس وحی سے ماسوا ہوتی ہے جو ہدایت عام کے لیے ان کے واسطہ سے بھیجی جاتی اور کتاب میں ثبت کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کے لیے ایک الٰہی ہدایت نامے اور دستور العمل کا کام دے۔
ایسی ہی وحی غیرمتلو اور وحی خفی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اشارے کیے گئے ہیں۔۱۴۷؂

اس کے بعد مولانا محترم نے قرآن مجید سے متعدد مثالیں دی ہیں۔ ہمیں مولانا محترم کی تحریر کے اس حصے سے مکمل اتفاق ہے۔ ہم سمجھتے ہیں جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں پر وحی ہو سکتی ہے‘ شہد کی مکھی پر وحی ہوسکتی ہے‘ زمین اور آسمان پر وحی ہوسکتی ہے‘ اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ وحی کی ان اقسام سے ہدایت عامہ مقصود نہیں‘ تو یہ بات مان لینے میں قطعاً کوئی حرج نہیں کہ چند مواقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی آپؐ کی رہنمائی کے لیے اسی طرح کی ’’وحی خفی‘‘ نازل ہوئی ہو۔ اب چونکہ اس طرح کی وحی کا ہدایت عامہ سے کوئی تعلق نہیں‘ اسے انسانوں کے لیے ہدایت نامہ اور دستور العمل بننا ہی نہ تھا اس لیے اس کو کتاب میں ثبت نہیں کیا گیا۔ جس وحی کو انسانوں کے لیے ہدایت اور دستور العمل بننا تھا وہ قرآن مجید میں درج کی جاچکی ہے۔
اس طرح کی وحی خفی کی مثالیں احادیث میں بھی مل جائیں گی اور چند موقعوں پر قرآن مجید سے بھی اشارات مل جائیں گے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ احادیث کا سارا ذخیرہ اورآپؐ کے سارے احکامات ہی وحی خفی پر مشتمل ہیں۔ وحی خفی وہی ہو سکتی ہے جس کے لیے آپؐ نے خود تصریح کی ہو یا جس کی شہادت قرآن مجید دے رہا ہو۔ لیکن اس کی بھی حیثیت ہدایت عامہ کی نہیں ہوتی جیسا کہ خود مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ صرف انبیاء علیہم السلام کی ذاتی رہنمائی کے لیے ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ ہر جگہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عقل و فہم‘ شعور و ادراک اور اپنے اصحاب کے مشورے کے بعد فیصلہ فرمایا۔ قرآن مجید کے مجمل احکام کی تفصیلات طے کیں اور بعض نئے احکام دیے‘ یہ سارے احکام اپنی ضروریات‘ یعنی ظروف و احوال اور زمان و مکان کے تقاضوں کے مطابق تھے اور ان کا وحی سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا ان کو ہم ’’وحی خفی‘‘ یا ’’وحی غیرمتلو‘‘ کا نام نہیں دے سکتے۔ ایسے کلام‘ احکام اور قوانین کے متعلق بالکل درست فرمایا ہے جناب مولانا محمد ادریس میرٹھی نے۔ اپنی کتاب’’سنت کی تشریحی حیثیت‘‘ میںآپ لکھتے ہیں:

اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ظاہر ہے کہ ایک بشر کا کلام ہے جو ظروف و احوال کی قیود اور زمان و مکان کی حدود سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ اس میں نہ وہ وسعت اور جامعیت ہوسکتی ہے نہ وہ احاطہ و استقصا۔ اس کا لازمی نتیجہ وضاحت و تفصیل ہے۔۱۴۸؂

نتیجۂ بحث: تغیر احوال و تغیر احکام

یہ تو طے ہے کہ وحی میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے وحی پر مبنی صرف وہ اصول و جزئیات مقرر کیے گئے ہیں جن پر زمان و مکان اور ظروف و احوال کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان ہی اصول و جزئیات کو قرآن میں درج کیا گیا اور اس کے بعد صرف قرآن کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تاکہ اس میں کسی قسم کی تحریف ممکن نہ ہو سکے اور وہ تمام جزئیات قرآن سے باہر رکھی گئیں جو وحی پر مبنی نہیں تھیں۔ یہ اس لیے ہوا کہ زمان و مکان کے بدل جانے سے ان جزئیات کو حسبِ ضرورت تبدیل کیا جا سکے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو ممکن تھا کہ زندگی میں جمود طاری ہوجاتا۔ ظروف و احوال کا تقاضا کچھ اور ہوتا لیکن ہم ماضی میں سانس لے رہے ہوتے۔ چونکہ ایسا ناممکن ہے اس لیے یہ تضاد ہمیں زیادہ عرصہ جینے نہ دیتا اور سچ پوچھیے تو جمود موت ہی کا دوسرا نام ہے اور زندگی حرکت کا۔ اس کی وضاحت ایک مثال سے ہو سکے گی۔ قرآن مجید میں بیسیوں مرتبہ زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے مگر ایک دفعہ بھی نصابِ زکوٰۃ کا تعین کیا گیا نہ شرح زکوٰۃ مقرر کی گئی۔ آخر کیوں؟ کیا نعوذ باللہ خالقِ کائنات سے کوئی بھول ہوگئی تھی یا اس میں کوئی مصلحت پوشیدہ تھی؟ آخر اس میں کیا امر مانع تھا کہ صرف ایک آیت میں نصابِ زکوٰۃ اور شرحِ زکوٰۃ کا ذکر کر دیا جاتا۔ اس سے قرآن کی ضخامت پر کوئی بھی اثر نہ پڑتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یقیناًخداوندعالم سے سہو و نسیان نہیں ہوا۔ اس میں حکمت و مصلحت ہے۔
اس مسئلے پر علمائے کرام کا اتفاق ہے (یا کم از کم ان کا عدمِ اتفاق ہمارے علم میں نہیں) کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصابِ زکوٰۃ مقرر کرتے وقت اشیاء میں مساوات (parity) کو مدنظر رکھا تھا۔ مثلاً حضوؐر کے زمانے میں ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت ساڑھے سات تولے سونے کے برابر تھی۔ اس لیے آپؐ نے انھیں نصابِ زکوٰۃ قرار دیا۔ اور مسئلہ یہ ٹھہرا کہ ایک شخص کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونا ہو تو وہ صاحبِ نصاب ہوگا۔ اب آج صورت حال ملاحظہ ہو۔ ایک شخص کے پاس سات تولے سونا‘ جس کی قیمت تقریباً ساٹھ‘ ستر ہزار روپے ہے‘ ہو تو یہ شخص زکوٰۃ نہیں ادا کرے گا کیونکہ وہ صاحبِ نصب نہیں۔ اس کے برعکس دوسرا شخص جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی‘ جس کی قیمت دس ہزار روپے سے بھی کم ہے‘ ہو تو وہ زکوٰۃ ادا کرنے کا پابند ہے کیونکہ ڈیڑھ ہزار سال قبل نصاب یہی تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قیامت تک غریب تو زکوٰۃ ادا کرتا رہے مگر اس سے زیادہ امیر اس فرض کی ادایگی سے ’’محفوظ‘‘ قرار پائے۔
یہ صورت حال اس لیے پیدا ہوئی کہ زمانے کے تغیر و تبدل نے سونے اور چاندی کی شرح مبادلہ (rate of exchange) میں تبدیلی پیدا کر دی۔ اب اگر یہ نصاب قرآن میں مذکور ہوتا‘ یعنی نصاب کا تعین وحی کے ذریعے سے کر دیا گیا ہوتا‘ تو اس میں تبدیلی ممکن نہ تھی اور حکومتِ وقت قیامت تک غریب سے زکوٰۃ لیتی رہتی اور امیر کو نہ چھیڑتی۔* یہی وجہ ہے کہ یہ جزئیہ قرآن مجید میں درج نہیں ہوا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عملی انسان کی حیثیت سے اپنے زمانے کے حالات کے تحت‘ اپنے ہی زمانے کی شرح مبادلہ کے مطابق نصابِ زکوٰۃ اور شرحِ زکوٰۃ مقرر کر دیا۔ اسی سے یہ ثابت ہوا کہ حضوؐر کے احکام ظروف و احوال کی قیود اور زمان و مکان کی حدود سے ماورا نہیں ہو سکتے۔ فلہٰذا وحی نہیں قرار دیے جا سکتے۔ تغیر احوال کا لازمی نتیجہ تغیر احکام ہے۔ اس سے انکار ممکن ہی نہیں۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ حضوؐر کے عہدمبارک میں تو تغیر احوال کی وجہ سے تغیر احکام‘ جسے نسخ بھی کہا جاتا ہے‘ ہوتا رہے مگر اس کے بعد صدیوں تک بلکہ قیامت تک تغیر احوال کا تصور ہی نہ ہو! یا اگر تغیر احوال کو تو مانا جائے مگر اس کے لازمی نتیجے یعنی تغیر احکام کا انکار کر دیا جائے!! اس ضمن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے تغیر احوال کی وجہ سے اور تو اور تعبُّدی امور میں بھی عہدِصحابہؓ میں ردّ و بدل اور کمی و بیشی کی کئی مثالیں پیش کی ہیں۔ ہم صرف ایک کا ذکر کریں گے۔(پوری بحث کے لیے دیکھیے رسائل و مسائل‘ حصہ پنجم‘ص ۲۱۴ تا ۲۳۷۔ از سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ )
مولانا محترم لکھتے ہیں:

بخاری‘ نسائی‘ ابوداؤد‘ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سائبؓ بن یزید کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکرؓ و عمرؓ کے عہد میں جمعے کی پہلی اذان اسی وقت دی جاتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا۔ پھر جب حضرت عثمانؓ کا زمانہ آیا اور آبادی بڑھ گئی تو انھوں نے تیسری اذان (پہلی دو۔ اذان اور تکبیر اقامت کہلاتی تھیں) یعنی وہ اذان جو امام کے منبر پر آنے سے پہلے دی جاتی ہے‘ کا حکم دیا جو زَوْراء کے مقام پر دی جاتی تھی۔
بخاری کی ایک اور روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ جمعہ کے روز تیسری اذان کا اضافہ کرنے والے حضرت عثمانؓ تھے‘ جبکہ اہلِ مدینہ کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ طبرانی کی روایت ہے کہ حضرت عثمانؓ نے حکم دیا کہ پہلی اذان اس مقام پر دی جائے جس کا نام زَوْراء تھا۔ پھر جب وہ منبر پر بیٹھ جاتے تھے تو اُن کا موذن اذان دیتا تھا اور جب وہ منبر سے اُترتے تھے تو مؤذن تکبیر اقامت کہتا تھا۔ یہ تعبُّدی امور کے دائرے میں ماثور و مسنون عمل پر ایک صریح اضافہ تھا جو خلیفۂ برحق نے ایسے زمانے میں کیا تھا جبکہ صحابہؓ و تابعینؒ سے دنیائے اسلام بھری پڑی تھی مگر اس کی مخالفت تو کیا ہوتی‘ اسلامی دنیا کے بلاد و امصار میں وہ مقبول ہوگئی۔۱۴۹؂

اس اقتباس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیکی زمانے میں بھی حالات میں تبدیلی آگئی تھی اور اتنی تبدیلی بہرحال آگئی تھی کہ خلیفۂ برحق کو حضور اکرمؐ کے حکم‘ وہ بھی تعبُّدی حکم‘ میں اپنے زمانے کے حالات کے مطابق تبدیلی کرنی پڑی۔ اب کیا یہ ذہن میں آنے والی بات ہے کہ عہدرسالتؐ میں اور عہدصحابہؓ میں، یعنی تقریباً تین دہائیوں تک تو حالات میں تبدیلیاں آتی رہیں‘ لیکن اس کے بعد پندرہ سو سال کا عرصہ گزر چکا لیکن زمانہ اور حالات وہیں کے وہیں رہیں اور ہم زبانِ حال اور زبانِ قال سے یہ اعلان کرتے رہیں کہ اب تغیرات نہیں آتے!!
بہرحال اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ نے اپنے حالات کے تحت حضور اکرمؐ کے جس حکم کو تبدیل کیا تھا وہ وحی پر مبنی نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ جزئیات میں تبدیلی صرف اسی صورت میں جائز ہے جب حالات میں تبدیلی آچکی ہو ورنہ وہی جزئیہ نافذ العمل رہے گا۔ اسی سے تغیر و ثبات کا حسین امتزاج قائم رہ سکتا ہے۔ قرآنی احکام و اوامر زمانے کے ہر دور کے لیے ہیں کیونکہ وحی پر مبنی ہیں (ملاحظہ ہو‘ حوالہ نمبر ۱۳۷)۔ قرآن سے باہر جزئیات وحی پر مبنی نہیں ہیں اس لیے اگر حالات میں تبدیلی آجائے تواِن میں تبدیلی ناگزیر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ نے یہی کیا۔ حضرت عمرؓ کے عہدِمبارک میں تو درجنوں معاملات میں ایسی جزئیات میں تبدیلیاں لائی گئی تھیں جو اوّلیات عمرؓ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان میں سے صرف چند کا ذکر کرنا کافی ہوگا۔
مولانا خلیل احمد حامدیؒ ،جو پاکستان کی تحریکِ اسلامی کے قائد اور عربی زبان کے نامور عالم تھے‘ اپنے ایک اہم مضمون ’’اسلام کا نظامِ قضا‘‘ میں لکھتے ہیں:

اسی طرح طلاق ثلاثہ کا حکم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے چلا آ رہا تھا۔ آپؓ (حضرت عمرؓ) نے اس کے برعکس ایک ہی وقت میں تین طلاق دینے کو ایک ہی طلاق کے بجائے اسے تین طلاق ہی شمار کیا۔۱۵۰؂

مولانا نجیب اللہ ندوی لکھتے ہیں:

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شرابی لایا گیا تو آپؐ نے اس کو کھجور کی چھال یا ریشے کی بنی ہوئی چھڑی یا کوڑے سے تقریباً چالیس ضرب ماری۔ یہی طرزعمل حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی اختیار کیا مگر حضرت عمرؓ نے اسّی کر دیا۔ ۱۵۱؂

اسی طرح عہدنبویؐ میں امہات اولاد کی فروختگی پر پابندی‘ اور صبح کی اذان میں ’’الصلوٰۃ خیر من النوم‘‘ کے جملے کا اضافہ‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن شرائط پر باشندگان نجران سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ وہاں رہ سکتے ہیں‘ بعد میں حضرت عمرؓ کے حکم سے ان کی جلاوطنی‘ ان چند اولیاتِ عمرؓ میں شامل ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ان احکامات میں تبدیلی صرف اس لیے ہی ممکن ہو سکی تھی کہ حالات کا تقاضا تھا‘ اور یہ احکامات وحی پر مبنی نہیں تھے۔ اس کی وجہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں کہ:

تمام زمانی و مکانی قیود سے آزاد اگر کوئی ہے تو وہ صرف خداوند عالم ہے جس کے پاس حقیقی علم ہے اور جس علم میں زمانہ کے تغیرات سے ذرہ برابر کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا۔۱۵۲؂

مولانا مرحوم اپنے ایک مضمون ’’تدوین جدید اور اس کے تقاضے‘‘ جو ’’چراغِ راہ‘‘ کے اسلامی قانون نمبر میں شائع ہوا تھا‘ لکھتے ہیں:

اسلامی قانون کوئی ساکن اور منجمد (static) قانون نہیں ہے کہ ایک خاص زمانہ اور خاص حالات کے لیے اس کو جس صورت پر مدون کیا گیا ہو اس صورت پر وہ ہمیشہ قائم رہے اور زمانہ اور حالات اور مقامات کے بدل جانے پر بھی اس صورت میں کوئی تغیر نہ کیا جا سکے۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں بلکہ ہم کہیں گے کہ وہ اسلامی قانون کی روح ہی کو نہیں سمجھے ہیں۔۱۵۳؂

مولانا محترم کا یہ اقتباس ہم نے محض اس بات کی تائید کے لیے پیش کیا ہے کہ زمانہ‘ حالات اور مقامات کے بدل جانے سے کوئی قانون ہمیشہ کے لیے باقی نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ ’’تمام زمانی و مکانی قیود سے آزاد صرف خداوندعالم ہے‘‘۔ ہم نے یہ اقتباس اس لیے نہیں پیش کیا کہ مولانا محترم بھی اس بات کے قائل تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی متعین کردہ جزئیات میں تبدیلی جائز ہے۔ سنت کی آئینی حیثیت میں مولانا محترم نے بڑا واضح اسٹینڈ لیا ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کہنے کے بعد کہ تمام زمانی و مکانی قیود سے آزاد صرف خداوند عالم ہے اور نیز یہ کہ کسی خاص زمانہ کے لیے کسی قانون کا مدون کیا جانا اور ہر دور کے لیے اسے اسی صورت پر قائم رکھنے پر اصرار کرنا جبکہ زمانہ‘ حالات اور مقامات بدل چکے ہوں‘ اسلامی قانون کی روح سے ناواقفیت کی دلیل ہے‘ مولانا محترم کا وہ اسٹینڈ جو انھوں نے سنت کی آئینی حیثیت میں لیا ہے‘ خاصا کمزور ہوجاتا ہے۔ بہرحال ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا محترم کے مندرجہ بالا دونوں اقتباسات ہر لحاظ سے درست اور قرآنی تعلیمات کے عین مطابق ہیں۔ لیکن اس کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ حضوؐر کی متعین کردہ جزئیات میں بھی تبدیلی جائز اور ممکن ہے کیونکہ آپؐ تو بہرحال زمانی و مکانی قیود سے آزاد نہیں ہو سکتے تھے۔
اسلام کی اسی خصوصیت کی وجہ سے یہ آفاقی دین قرار دیا جا سکتا ہے‘ جس کا کسی خاص علاقے‘ زبان‘ نسل یا زمانے سے تعلق نہ ہو اور ہر دور کے لوگ اپنے اپنے معروضی حالات کے مطابق قرآنی اصولوں کی روشنی میں تفصیلی قانون سازی کر سکتے ہوں۔
یہ ایک حقیقت ہے جس سے منہ موڑنا تقریباً ناممکن ہے کہ قرآن کی اسپرٹ اور اصول غیرمتبدل ہیں۔ لیکن عملی زندگی کے احوال تغیر پذیر ہیں لہٰذا ان اصولوں کا انطباق ہمیشہ احوال کے تغیر کے ساتھ بالکل اسی طرح بدلنا ضروری ہے جس طرح عہدنبویؐ میں اور دورِصحابہؐ میں ان اصولوں کو منطبق کرتے ہوئے گذشتہ عہد کی جزئیات حسبِ حال تبدیل کی جاتی رہیں ورنہ وہ جمود جو ہمارے علوم اور قوانینِ حیات پر طاری ہے مزید مستحکم ہوتا چلا جائے گا۔ ماضی کو یاد تو کیا جا سکتا ہے‘ اس کی تحسین بھی کی جاسکتی ہے مگر ماضی میں رہا نہیں جاسکتا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اس حقیقت کو ۱۹۳۷ء میں ہی سمجھ لیا تھا۔ وہ چودھری نیاز علی خاں صاحب کو ایک مکتوب* میں لکھتے ہیں:

ہم خالص قرآن کی بنیاد پر اسلام کی (renaissance) نشاۃِ جدیدہ چاہتے ہیں۔ قرآن کی اسپرٹ اور اسلام کے اصول ہمارے نزدیک غیرمتبدل ہیں۔ مگر افکار اور معلومات کی ترتیب اور عملی زندگی کے احوال پر اس روح اور ان اصولوں کا انطباق ہمیشہ احوال کے تغیر اور علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ بدلنا ضروری ہے۔ متقدمین اسلام اس چیز کو سمجھتے تھے۔ انھوں نے اپنے زمانہ میں عملاً اس کو برتا مگر متاخرین یہ سمجھے کہ اصول اور اسپرٹ کی طرح ان کا انطباق بھی غیرمتبدل ہے۔ اس چیز نے وہ جمود پیدا کیا جو سات سو برس سے ہمارے علوم اور ہمارے قوانینِ حیات پر طاری ہے۔۱۵۴؂

مولانا محترم نے یہ خط ۱۲ محرم ۵۶ھ بمطابق ۲۶ مارچ ۱۹۳۷ء کو لکھا تھا۔ اس وقت اُن کے نزدیک یہ بالکل واضح تھا مگر اس کے ساتھ ہی وہ اس کو کوئی آسان کام بھی نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ اسی خط میں آپ نے یہ بھی لکھا کہ:

یہ کام بالکل نیا ہے اور ماضی و حال دونوں میں اس کے لیے پہلے سے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ اس لیے اِس نتیجہ کو اکثر لوگ مشکوک ہی پائیں گے اور خود آپ کو بھی اس کے لیے صحیح راستہ متعین کرنے میں دقتیں پیش آئیں گی مگر چونکہ مقصود بالکل واضح طور پر ہمارے سامنے متعین ہوچکا ہے اس لیے تمام مشکلات کے باوجود سیدھا راستہ ہم کو ضرور مل جائے گا۔۱۵۵؂

اگر یہ بات درست ہے (اور ہمارے نزدیک تو یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے) کہ احادیث نبوی یا۔۔۔ اسوۂ رسول۔۔۔ وحئ خداوندی نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذاتی بصیرت کا نتیجہ ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو حالات عہدِرسالتؐ میں دنیائے اسلام کے تھے اگر ان میں تبدیلی آگئی ہو تو ان تبدیل شدہ حالات کے مطابق احکام میں تبدیلی ضروری ہے اور یہ عین اسوۂ رسولؐ ہے۔ اس موضوع کو ہم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ہی کے اقتباس پر ختم کرتے ہیں:

یہ حقیقت یقیناً ناقابلِ انکار ہے کہ شارع نے غایت درجہ کی حکمت اور کمال درجے کے علم سے کام لے کر اپنے احکام کی بجاآوری کے لیے زیادہ تر ایسی ہی صورتیں تجویز کی ہیں جو تمام زمانوں اور تمام مقامات اور تمام حالات میں اس کے مقاصد کو پورا کرتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بکثرت جزئیات ایسے بھی ہیں جن میں تغیر حالات کے لحاظ سے احکام میں تغیر ہونا ضروری ہے۔ جو حالات عہدِرسالتؐ اور عہدِصحابہؓ میں عرب اور دنیائے اسلام کے تھے‘ لازم نہیں کہ بعینہٖ وہی حالات ہر زمانے اور ہر ملک کے ہوں۔ لہٰذا احکامِ اسلام پر عمل کرنے کی جو صورتیں اُن حالات میں اختیار کی گئیں تھیں‘ ان کو ہوبہو تمام زمانوں اور تمام حالات میں قائم رکھنا اور مصالح و حکم کے لحاظ سے ان کے جزئیات میں کسی قسم کا ردّ و بدل نہ کرنا ایک طرح کی رسم پرستی ہے جسے روحِ اسلامی سے کوئی علاقہ نہیں۔ ایک موٹی سی مثال لے لیجیے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے سورج کی حرکت کے لحاظ سے اوقات مقرر فرمائے ہیں۔ اس لیے کہ عرب اور ربع مسکوں کے بیشتر حصوں کے لیے تعین اوقات کی یہی صورت مناسب ہے لیکن اگر کوئی شخص قطب شمالی کے قریب رہنے والوں کے لیے بھی نمازوں کے اوقات معین کرنے میں وہی سورج کے طلوع و غرب اور سایہ کے اُتار چڑھاؤ کا لحاظ کرے تو بظاہر یہ شارع کے منصوص احکام کی حرف بحرف پیروی ہوگی‘ مگر درحقیقت اس سے شارع کا اصل مقصد فوت ہوجائے گا اور اس کا شمار خلاف ورزی احکام میں ہوگا کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ ترک صلوٰۃ اور اسقاطِ فرض ہے۔ پس معلوم ہوا کہ جزئیات میں دلالۃ النص اور اشارۃ النص تو درکنار‘ صراحتہ النص کی پیروی بھی تفقہ کے بغیر درست نہیں ہوتی۔ اور تفقہ کا اقتضا یہ ہے کہ انسان ہر مسئلہ میں شارع کے مقاصد اور مصالح پر نظر رکھے اور انھی کے لحاظ سے جزئیات میں تغیر احوال کے ساتھ ایسا تغیر کرتا رہے جو شارع کے اصولِ تشریح پر مبنی اور اس کے طرزِ عمل سے اقرب ہو۔۱۵۶؂؂

حاصل بحث

۱۔ انسانی علم محض اندازوں پر قائم ہے۔ پوری انسانی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ قطعی حقیقت کا ادراک ممکن ہی نہیں جب تک کہ تمام محسوس کائنات کا علم نہ حاصل ہوجائے۔ انسانی علم کے پاس صداقت کی کوئی کسوٹی ہے نہ معروضی پیمانہ جس کے مطابق کسی کے بارے میں بھی کوئی حتمی رائے قائم کی جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے انسانیت کے لیے کوئی ضابطۂ حیات دینے سے بالکل معذوری کا اظہار کر دیا ہے۔ مجبوراً مغربی مفکرین تک کو یہ کہنا پڑا کہ ہمیں یہ بات اب قبول کرلینی چاہیے کہ جس طرح مثالی حکمرانوں کا کوئی وجود نہیں اسی طرح علم کے مثالی ذرائع بھی موجود نہیں لہٰذا انسانی مسائل کے لیے ایسے علم کی ضرورت ہے جو ماورائے بشر ہو۔
۲۔ انسانوں ہی کے طبقہ میں ایک گروہ ایسے متحد الخیال افراد کا گزرا ہے جو اگرچہ مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے مگر اس کے باوجود بنیادی امور میں متفق تھے۔ اُن کا دعویٰ یہی تھا کہ اُن کے پاس جو علم آیا ہے اس کا انسانی حواس سے کوئی تعلق نہیں‘ وہ ماورائے بشر ہے۔ اس علم کو وحی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
ہر دور اور ہر قوم میں ایسے افراد آتے رہے جو انسانوں کو رشد و ہدایت کی تعلیم دیتے رہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جو وحی انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوتی تھی وہ محدود طبقے اور محدود زمانے کے لیے تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وعدہ نہیں فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی زمانے میں ایک سے زیادہ انبیائے کرام مبعوث ہوتے رہے کیونکہ ذرائع رسل و رسائل کی عدم موجودگی میں یہ ممکن ہی نہ تھا کہ کوئی ایک عالمگیر وحی نازل کرکے اس کی حفاظت کی جاتی۔ ممکن ان معنوں میں کہ بہرحال اللہ اس دنیا میں اسباب کے ذریعے ہی کاروبارِ حیات کا انتظام کرتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ زبور‘ تورات اور انجیل میں تحریف ممکن ہوسکی۔
۳۔ آخری نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی‘ اس کو چونکہ قیامت تک کے لیے ہدایت عامہ کا ذریعہ بننا تھا اس لیے اس کی حفاظت کا براہِ راست اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا۔ اس کی حفاظت کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ ایک طرف تو ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اس وحی کو اپنے سینوں میں محفوظ کرلیا تو دوسری طرف اللہ کے نبیؐ نے اس وحی کو لکھوا کر محفوظ کروایا۔ اللہ کی وحی پر مبنی یہ وہ واحد کتاب ہے جو حضوؐر کے عہدِمبارک سے لے کر آج تک ہر دور میں ہر قسم کے تغیرات سے پاک رہی ہے۔ انسانی تاریخ میں کوئی دوسری کتاب ایسی نہیں پائی جاتی جو اس قدر قطعی الثبوت ہو۔
۴۔ چونکہ اس کتاب کو قیامت تک کے لیے واجب الاطاعت اور رشد و ہدایت کا ذریعہ بننا تھا‘ مگر ارتقائے زمانے کے ساتھ ساتھ اس کے اقتضاء ات و مصالح میں گوناگوں تغیرات و اختلافات ناگزیر ہیں‘ اس لیے یہ ضروری تھا کہ دائرہ کے نقطہ کی طرح قرآنی احکام و اوامر اپنی جگہ ثابت رہتے‘ لیکن اس قیام و ثبات کے باوجود ان میں جمود و تعطل نہ ہوتا بلکہ زمانے کے اقتضاء ات و تغیرات کے ساتھ وہ حرکت پذیر رہتے اور یہ اسی صورت میں ممکن تھا جب قرآن میں صرف ان ہی اصول و کلیات پر اکتفا کیا جاتا جن کے دامن میں قیامت تک کی جزئیات سمٹی ہوئی ہیں‘ مگر ان جزئیات کو قرآن میں درج نہ کیا جاتا اور یہی قرآن نے کیا ہے۔
۵۔ قرآن چونکہ وحی الٰہی پر مشتمل ہے‘ اس لیے اس کے اصول و جزئیات غیرمتبدل ہیں۔ مگر افکار اور معلومات کی ترتیب اور عملی زندگی کے احوال پر قرآنی روح اور ان اصولوں کا انطباق ہمیشہ احوال کے تغیر اور علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ بدلنا ضروری ہے۔ چنانچہ وہ جزئیات جن پر زمان و مکان اور تغیر احوال کے اثرات پڑسکتے تھے‘ قرآن میں نہیں رکھی گئیں۔ ایسا کرنا کسی بھول چوک یا سہو کا نتیجہ نہیں تھا‘ بلکہ مبنی برمصلحت تھا اور وہ مصلحت یہی ہو سکتی ہے کہ وحی میں تو چونکہ تبدیلی ممکن نہیں‘ اس لیے ان جزئیات کو وحی نہیں قرار دیا گیا۔ لہٰذا اب ایسی جزئیات جو قرآن میں نہیں تغیر احوال کے مطابق ان میں تغیر ممکن اور لازمی ہے۔
۶۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں ایک عملی انسان ہونے کے ناطے یہی کیا۔ آپؐ نے قرآنی اصولوں کو اپنے ملک اور عہد کے خصوصی حالات کے مطابق منطبق کیا اور صرف وہ جزئیات مقرر فرمائیں جن کی ضرورت تھی۔ آپؐ آنے والے زمانے اور حالات کے متعلق جزئیات متعین نہیں فرما سکتے تھے کیونکہ تمام زمانی و مکانی قیود سے آزاد اگر کوئی ہے تو وہ صرف خداوندِعالم ہے جس کے پاس حقیقی علم ہے اور جس کے علم میں زمانہ کے تغیرات سے ذرہ برابر کوئی تغیر نہیں ہوتا‘‘۔لیکن چونکہ ’’اسلامی قانون کوئی ساکن اور منجمد(static) قانون نہیں ہے کہ ایک خاص زمانہ اور خاص حالات کے لیے اس کو جس صورت پر مدون کیا گیا ہو اس صورت پر وہ ہمیشہ قائم رہے اور زمانہ اور حالات اور مقامات کے بدل جانے پر بھی اس صورت میں کوئی تغیر نہ کیا جا سکے‘‘، اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مقرر کردہ جزئیات کو‘ وحی نہ ہونے کی وجہ سے قرآن میں تو خیر درج کروا ہی نہیں سکتے تھے‘ الگ ایک مجموعے کی صورت میں بھی لکھوا کر اُمت کو سپرد کیے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
۷۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تغیر احوال کے مطابق تغیر احکام ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عہدرسالت اور عہدصحابہ میں عرب اور دنیائے اسلام کے جو حالات تھے وہ بعینہٖ ہر دور اور ہر ملک کے نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا احکام اسلام پر عمل کرنے یا قرآنی اصولوں کو اُس دور پر منطبق کرنے کی جو صورتیں اُن حالات میں اختیار کی گئی تھیں اُن کو ہوبہو تمام زمانوں اور تمام حالات میں قائم رکھنا اور مصالح و حکم کے لحاظ سے ان جزئیات میں کسی قسم کا ردّ و بدل نہ کرنا اسوہ رسول کی پیروی نہیں بلکہ محض ایک طرح کی رسم پرستی ہے اور یہی چیز اس دور میں اسلامی نظام کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

۸۔ لہٰذا انسانیت کی فلاح اور بقا کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ بنی نوع انسان لپک کر وحی خداوندی کو سینوں سے لگا لیں۔ یہ وحی اپنی اصل حالت میں اب صرف قرآن مجید میں محفوظ ہے جو ہدایت عامہ کے لیے خداوندعالم کا عظیم تحفہ ہے۔
ہٰذا ما عندی والعلم عند اللّٰہ ، علیہ توکلت والیہ انیب


حوالہ جات

۱۴۰۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ : حجۃ البالغہ (اردو) مترجم مولانا عبدالحق حقانی‘ ص ۲۰۷
۱۴۱۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : سنت کی آئینی حیثیت‘ ص ۵۳۔۵۴
۱۴۲۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ : تدوینِ حدیث‘ ص ۴۔۵
۱۴۳۔ ایضاً‘ ص ۷۔۸
۱۴۴۔ ایضاً‘ ص ۹۔۱۰
۱۴۵۔ ایضاً‘ ص ۴۴
۱۴۶۔ ایضاً ‘ ص ۲۴۲

* اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات انبیاء علیہم السلام کی اس معنی میں رہنمائی کرتا ہو جب وہ کوئی غلط کام کربیٹھیں۔ یا جب کوئی بالکل ہی نئی بات سمجھانے کی نوبت آجائے مثلاً حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم۔ مگر یہ کہنا درست نہیں ان کی ہدایت کے لیے ہمیشہ وحی نازل کی جاتی تھی تاکہ وہ سیدھی راہ چلیں‘ تدبریں عمل میں لائیں یا معاملات میں صائب رائے قائم کریں۔ نعوذباللہ کیا انبیاء ؑ عام انسانوں سے بھی کم عقل و فہم رکھتے تھے کہ ہر قدم پر ان کو انگلی پکڑ کر چلانے کی نوبت آتی؟ ان حالات میں ہمارے لیے انبیاء ؑ کو اسوہ بنانا تو ناممکن ہوگا کیونکہ وہ سیدھی راہ تو اس لیے چلے کہ ان پر وحی آتی تھی۔ معاملات میں صائب رائے اس لیے قائم کرتے تھے کہ اُن پر ہمیشہ وحی نازل ہوتی تھی۔ ہم تو عام انسان ہیں۔ دعوت و عزیمت کی راہ میں‘ اقامت دین کی جدوجہد میں ہم تو کسی ایسے ہی انسان کو نمونہ بنا سکتے ہیں جو انسان ہوتے ہوئے یہ سارے کام کرتا رہا ہو نہ کہ سیدھی راہ پر چلنے یا صائب رائے قائم کرنے کے لیے بھی بیرونی سہارے کا محتاج رہا ہو۔ مزید دیکھیے حوالہ نمبر۱۳۹
۱۴۷۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : تفھیمات‘ حصہ اول‘ ص ۳۰۶۔۳۰۷
۱۴۸۔ مولانا محمد ادریس میرٹھی: سنت کا تشریعی مقام‘ ص ۱۶۳

* اس مثال کو ہم آج ان تمام معاشی‘ معاشرتی یا سیاسی مسائل پر‘ جن میں زمانی و مکانی بعد کی وجہ سے تبدیلیاں آچکی ہیں‘ منطبق کرسکتے ہیں۔
۱۴۹۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : رسائل و مسائل‘ حصہ پنجم‘ ص ۲۲۵
۱۵۰۔ مولانا خلیل حامدی: اسلام کا نظامِ قضا‘ چراغِ راہ‘ اسلامی قانون نمبر‘ ص ۲۰۰
۱۵۱۔ مولانا نجیب اللہ ندوی: اجتہاد اور تبدیلئ احکام، چراغِ راہ‘ اسلامی قانون نمبر‘ ص ۲۰۲
۱۵۲۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : تنقیحات‘ ص ۱۸۳
۱۵۳۔ " تدوینِ جدید اور اس کے تقاضے‘ چراغِ راہ‘ اسلامی قانون نمبر‘ جلد دوم‘ ص ۱۱

* یہ اقتباس وثائقِ مودودی‘ ص ۸۲ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
۱۵۴۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : اقبال‘ دارالاسلام اور مودودی‘ مکتوب نمبر ۹‘ ص ۱۲۷
۱۵۵۔ ایضاً‘ ص ۱۲۷۔
۱۵۶۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ : تفھیمات‘ حصہ دوم‘ ص ۳۸۸۔۳۸۹
http://www.javedahmadghamidi.com/books/view/ahadees-part-seven

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~



مزید پڑھیں:

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہاٹس اپپ"یا SMS کریں   
  

کتابت حدیث کی تاریخ - نخبة الفکر - ابن حجرالعسقلانی - ایک علمی جایزہ Hadith Writing History - An Overview

اسلام ؛ قرآن اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔اسلام کی بنیاد صرف رسول اللہﷺ سے نقل وسماع ہے، قرآن کریم بھی رسول اللہﷺ ہی کے ذریعہ ملا ہے؛ انھوں نے ہی بتلایا اور آیات کی تلاوت کی ،جوبطریقۂ تواتر ہم تک پہنچا ہے-

تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿٦﴾
 یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم حق کے ساتھ آپ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں تو آخر اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد وہ کونسی (حدیث) بات ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے؟ (45:6 الجاثية)

کتاب اللہ کے بعد رسول اللہؐ کی سنت شریعت کا دوسرا سرچشمہ اور اصل واساس ہے، یہ قرآن کریم کی تشریح اور اس کے اصول کی توضیح اور اجمال کی تفصیل ہے-قرآن میں کئی جگہ واضح طور پر رسول اللہﷺ کی اطاعت کا حکم ہے، جیسے ایک آیات:

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿٧﴾
جو کچھ رسولؐ تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے (سورة الحشر 59:7)

آپ نے فرمایا کہ:
"تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَاتَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُوْلہِ"۔(مشکوٰۃ شریف:۲۹)”
میں تمہارے درمیان دوچیزوں کو چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں کومضبوطی سے تھامے رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ہے۔ “

احادیث سے مراد وہ تمام اقوال ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں۔ احادیث کو لکھنے اور یاد کرنے کا کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے شروع ہو گیا تھا۔ عربوں کو چونکہ اپنے حافظہ پر ناز تھا اس لیے وہ تمام باتوں کو یاد کر لیتے تھے۔
قران کی طرح احادیث کی کتابت کا اہتمام خلفاء راشدین اور ان کے بعد کی صدی تک کے حکمرانوں نے بوجوہ نہ کیا- حضرت عمر فاروق رضی الله نے سختی سے احادیث کو لکھنے سے منع فرمایا ، جس پر بعد میں بھی کوئی تبدیلی نہ ہوئی- اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے-
موجودہ دور میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے ایک صحیفہ ہمام بن منبہ کے نام سے جرمنی کے میوزم سے دریافت کیا ہے جسے حضرت ابوہریرہ کے شاگرہ سے لکھا تھا۔ اس میں حضرت ابو ہریرہ کے ارشادات نقل کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد کئی سو سالوں تک احادیث کو جمع کرنے کا کام کیا جاتا رہا ہے۔ احادیث کے مجموعے مختلف اصحاب و علماء و محدثین کے ناموں سے مشہورہویے- صحاح ستہ؛ یعنی کہ چھ مستند کتابیں (١)صحیح بخاری (٢) صحیح مسلم(٣) سنن نسائی(٤) سنن ابی داؤد (٥) سنن ابن ماجہ(٦) سنن ابن ماجہ صحاح ستہ (٢٢٥ -٣٠٣ ھ) کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان چھ کتابوں میں جتنی روایات ہیں، سب صحیح ہیں اور نہ یہ نظریہ درست ہے کہ صرف ان ہی کتبِ ستہ کی روایات صحیح ہیں۔ باقی کتب حدیث کی روایات درجہٴ صحت تک نہیں پہنچتی ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ نہ صحاح ستہ کی ہر حدیث صحیح ہے اور نہ اُن سے باہر کی ہر حدیث ضعیف ہے حقیقت یہ ہے کہ ان کتابوں کی روایات زیادہ تر صحیح ہیں، اس لیے انہیں صحاح ستہ کہا جاتا ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: ”چھ کتابیں جو اسلام میں مشہور ہیں، محدثین کے مطابق وہ صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ ہیں۔ ان کتابوں میں حدیث کی جتنی قسمیں ہیں صحیح، حسن اور ضعیف، سب موجود ہیں اور ان کو صحاح کہنا تغلیب کے طور پر ہے۔“ محدثین کی ان کتابوں میں ایک طرف دینی معلومات جمع کی گئیں اور دوسری طرف ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے کے صحیح تاریخی واقعات جمع کیے گئے ہیں۔ اس طرح احادیث کی یہ کتابیں دینی و تاریخی دونوں اعتبار سے قابل بھروساہو سکتی ہیں-

"کتابت حدیث" - " نخبة  الفکر" کی شرح  کے خلاصہ و  ترجمہ  سے  انتخاب  ہے  جو  حدیث  کی کتابت  سے متعلق  اصحابہ کرام رضی الله کی  دو  مختلف  آراء  پر  روشنی  ڈالتا  ہے - " نخبة  الفکر" علامہ ابن حجرالعسقلانی کی تصنیف ہے- قرون وسطیٰ کے  محدثین میں  علامہ ابن حجرالعسقلانی کا نام سر  فہرست ہے ، آپ کا عہد چودہویں صدی عیسوی کے نصفِ اول کے آخرسے لے کر پندرہویں صدی عیسوی کے نصفِ اول تک کا ہے۔ آپ نامور مؤرخ ، فقیہ تھے۔مصر میں پیدا ہوئے۔ علوم حدیث میں سند شمار ہوتے ہیں۔ آپ کو شیخ الاسلام کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی کتابوں کی تعداد 150 سے اوپر بتائی جاتی ہے۔ مشہور کتابوں  میں  الاصابہ فی تمييز الصحابہ : اصحاب رسول کے متعلق ایک جامع انسائیکلوپیڈیا ہے جو اب اُردو میں بھی شائع ہوچکا ہے۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری : علامہ ابن حجر عسقلانی یہ عظیم تصنیف ایک شاہکار سمجھی جاتی ہے، یہ کتاب عقائد، فقہ، اور حدیث کا شاہکار ہے۔
" نخبة  الفکر"  اقتباسات :
















--------------------------------------------------
کتابت  حدیث - ایک علمی جایزہ 

کتابت  حدیث کا تاریخی و دینی جایزہ، ابن حجرالعسقلانی کی شہرہ آفاق کتاب "نخبة  الفکر"کی شرح سے پڑھنے کے بعداب رسول الله صلی علی وسلم  کے فرامین کی روشنی میں ان کے قریب ترین ساتھیوں ، اصحاب ، خلفه راشدین راضی الله عنہ اجمعین کے اقدام کا جایزہ لیتے ہیں تاکہ دین اسلام کے صحیح راستہ سے بھٹک نہ جاییں. اس سلسلے میں حضرت ابو بکر صدیق اورحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے  اقدامات پرخصوصی توجہ کی ضرورت ہے خاص طور پر  حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ...خلاصہ ، تفصیل کے لیے <<یھاں کلک کریں >>

 فرمانِ رسالت مآب ﷺ ہے :

” انما انا بشر اذا امرتکم بشئ من دینکم فخذوا به و اذا امرتکم بشئ من رائ فانما انا بشر۔”
” بلاشبہ میں انسان ہوں اگر میں دین میں کسی بات کا حکم دوں کو اسے مضبوطی سے تھام لو ، لیکن اگر اپنی رائے سے فیصلہ دوں تو میں انسان ہی ہوں۔”
 (صحیح مسلم ٦٠٢٢، کتاب الفضائل ، بَاب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ  ما ذکره من معایش الدنیا علی سبیل)

اسی طرح ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

” انما ظننت ظنا و لا تواخذنی باظن و لکن اذا حدثتکم عن الله شیئاً فخذوا به فانی لم اکذب علی الله۔” 
” میں نے ایک گمان کیا تھا ، اس لیے میرے گمان پر نہ جاؤ لیکن جب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات کہوں تو اس کو لازم پکڑو کیونکہ میں اللہ پر جھوٹ نہیں باندھتا۔”( صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، بَاب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ  ما ذکره من معایش الدنیا علی سبیل)

 رسول اللہ ﷺ نے خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنے کا حکم دیا ہے ، اور حضرت عمر رضی الللہ عنہ بلا شبہ خلیفہ راشد تھے۔  فرمان رسالت مآب ﷺ ہے :

” فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بعدی فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا ، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ ۔”  (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)
” تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔  پس میری سنت اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو ۔ اس سے تمسک کرو اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لو۔ خبردار ( دین میں )  نئی باتوں سے بچنا کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے۔”  (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)

مزید فرمایا :
” ان الله یکره فوق سمائه ان یخطا ابوبکر۔” 
” اللہ تعالیٰ آسمان پر اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ ابوبکر سے خطا ہو۔”
[ تاریخ الخلفاء میں یہ روایت طبرانی کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔ ( 1/42)]
نصِ قرآنی کے مطابق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اللہ اور اس کے رسول کی معیت میں داخل ہو چکے تھے۔ لَا تَحۡزَنۡ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَاۖ ( التوبۃ : 40 ) کہہ کر زبان رسالت ﷺ نے صدیق اکبر کو اللہ اور اپنی دائمی معیت کی سند عطا کر دی-

 رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر ہی کی جانب رجوع کرنے کا حکم دیا۔ نام لے کر صرف یہ دو صحابی ہی ہیں جن کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے-
(صحیح ابن ماجہ#٩٧،و انظر الحدیث ٤٠٦٩ ، صحیح ااصحیحہ ١٢٣٣، و تراجیع البانی ٣٧٧، صحیح الضعیف سنن ترمزی #٣٨٠٥)
 سیدنا صدیق اکبر کے بعد امت کی راہنمائی کا فریضہ سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے انجام دیا۔ 

"میں نے اپنے والد (علی رضی اللہ عنہ) سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل صحابی کون ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میں نے پوچھا پھر کون ہیں؟ انہوں نے بتلایا، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ مجھے اس کا اندیشہ ہوا کہ اب (پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد؟) کہہ دیں گے کہ عثمان رضی اللہ عنہ اس لیے میں نے خود کہا، اس کے بعد آپ ہیں؟ یہ سن کر وہ بولے کہ میں تو صرف عام مسلمانوں کی جماعت کا ایک شخص ہوں(صحیح بخاری :٣٦٧١)

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر کا مقام کیا ہے۔ ایک روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

” لو کان بعدی نبیا لکان عمر۔” 

اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے۔”
( یہ حدیث مسند احمد ، ترمذی اور حاکم میں روایت ہوئی ہے۔ حاکم کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے لیکن ان کے تساہلِ حدیث سے حدیث کے طالب علم بخوبی واقف ہیں۔ ترمذی کے مطابق حسن غریب ہے ، البانی حسن قرار دیتے ہیں ، بعض نے حسن لذاتہ قرار دیا ہے اور بعض اہل علم نے اس حدیث کے بعض راویوں کو منکر اور سخت ضعیف قرار دیا ہے۔ تاہم یہ ایک ایسی ضعیف حدیث ہے جس کے شواہد و متابعات موجود ہیں جس کی وجہ سے ترمذی کی اصطلاح کے مطابق یہ حدیث حسن غریب اور عام اصطلاح کے مطابق حسن لذاتہ کے درجے تک پہنچتی ہے۔ مناقب میں اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے۔)

گو یہ روایت استنادی اعتبار سے بعض کے نزدیک ضعیف ہے تاہم اسے فضائل و مناقب کے باب میں روایت کیا جاتا ہے۔ ایک صحیح روایت میں نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے :

” لقد کان فیمن كان قبلکم من بني اسرائيل رجال ، یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء ، فان یکن من امتی منهم احد فعمر۔” 
” تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن سے ( پردہ غیب سے ) کلام ہوا کرتا تھا ، اگرچہ وہ نبی نہیں تھے اگر میری امت ایسا کوئی ہوا تو وہ عمر  ہوں گے۔” ( صحیح بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ ، باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اگرچہ خود بہت بڑے فقیہ و مجتہد اور بزبانِ رسالت محدث و ملہم تھے۔ انہیں منصب خلافت بھی حاصل تھی تنہا ان کی رائے بھی فتویٰ کے لیے کافی ہو سکتی تھی۔ لیکن مفادِ عامہ اور احتیاط کے پیشِ نظر وہ اکثر مسائل کو عموماً صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں پیش کرتے تھے اور ان مسائل پر نہایت آزادی ، دقت نظری اور نکتہ سنجی کے ساتھ بحثیں ہوتی تھیں۔ بقول علامہ بلاذری : حضرت عمر  نے کسی ایسے مسئلہ کو جو ان سے پہلے طے نہیں ہوا تھا، بغیر صحابہ کے مشورہ کے فیصلہ نہیں کیا   ( کتاب الاشراف)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں : ” کان من سیرة عمر انه کان یشاور الصحابة و یناظر هم حتی تنکشف الغمة و یاتیه الثلج فصار غالب قضایاه و فتاواه متبعةً مشارق الارض و مغاربها۔“ 
” حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے مشورہ اور مناظرہ کرتے تھے یہاں تک کہ پردہ اٹھ جاتا تھا اور یقین آ جاتا تھا۔ اسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے فتوؤں کی تمام مشرق و مغرب میں پیروی کی گئی ہے۔” ( حجۃ اللہ البالغہ)

حضرت صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کے اجتہادات کو صحابہ کرام کی کثیر تعداد نے قبول کیا۔ بعض اجتہادات سے اصحاب کرام نے اختلاف بھی کیا اور انہیں اس اختلاف کا حق بھی حاصل تھا ، اور یہ وہی اختلاف ہے جو امت کے حق میں رحمت کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن جن مسائل میں اختلاف ہوا وہ خالصتاً اجتہادی نوعیت کے امور تھے ، جن میں ایک سے زائد رائیں ممکن تھیں جن امور کا تعلق تکمیلِ شریعت سے تھا اس پر تمام صحابہ یک زبان و ہمنوا تھے-

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ مبارکہ میں ہے : آپ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفید کپڑا اوڑھے سو رہے تھے۔ میں دوبارہ حاضر ہوا اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے۔ پس میں تیسری بار حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص لا الٰہ الا اﷲ کہے، اسی اعتقاد پر اس کا خاتمہ ہو جائے تو وہ جنت میں جائے گا۔
مسلم، الصحيح، کتاب الايمان، باب من مات لا يشرک باﷲ شيئًا دخل الجنة و من مات مشرکا دخل النار، 1 : 95، رقم : 94
لیکن اس حدیث میں کلمہ طیبہ پڑھنے سے مراد احوال و اعمال کی اصلاح کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھنا ہے۔ کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد احوال و اعمال کی اصلاح کو نظرانداز کرنا اﷲ کی گرفت کا باعث بنتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلاَ يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللّهِ وَلِيًّا وَلاَ نَصِيرًاo

’’جو کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کی سزا دی جائے گی اور نہ وہ اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی پائے گا اور نہ مددگارo‘‘( النساء، 4 : 123)

ایک حدیث مسلم بمطابق حضرت ابوحریرہ ، جس میں رسول اللہﷺ دل سے کلمہ گو (مسلمانوں) کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں، حضرت عمر(رضی اللہ)   کی درخواست پر کہ مسلمان ظاہری الفاظ سے غلط مطلب سمجھ لیں گنے، ان کو اچھے اعمال کرنے دیں، آپ نے فرمایا کرنے دیں (اچھے عمل کرنے دیں) (مسلم حدیث 50  ، کتاب الایمان).  حضرت عمر(رضی اللہ)   کی اس پیغام کو عام کرنے سے منع کرنے کی درخواست رسول اللہﷺ نے قبول کر لی.

رسول اللہﷺ نے جس بات کو عام کرنے سے منع فرما دیا پھر  رسول اللہﷺ کے ارشاد کے خلاف آج تک اس کی تشسہیرکرکہ کنفیوژن پھیلایا جاتا ہے؟
حدثنا إسماعيل ،‏‏‏‏ قال حدثني مالك ،‏‏‏‏ عن عمرو بن يحيى المازني ،‏‏‏‏ عن أبيه ،‏‏‏‏ عن أبي سعيد الخدري ،‏‏‏‏ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏ ‏ يدخل أهل الجنة الجنة ،‏‏‏‏ وأهل النار النار ،‏‏‏‏ ثم يقول الله تعالى أخرجوا من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان‏.‏ فيخرجون منها قد اسودوا فيلقون في نهر الحيا ـ أو الحياة ،‏‏‏‏ شك مالك ـ فينبتون كما تنبت الحبة في جانب السيل ،‏‏‏‏ ألم تر أنها تخرج صفراء ملتوية ‏ ‏‏.‏ قال وهيب حدثنا عمرو ‏ ‏ الحياة ‏ ‏‏.‏ وقال ‏ ‏ خردل من خير ‏ ‏‏.‏(صحیح بخاری #22)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ اللہ پاک فرمائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو۔ تب (ایسے لوگ) دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر زندگی کی نہر میں یا بارش کے پانی میں ڈالے جائیں گے۔ (یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ اوپر کے راوی نے کون سا لفظ استعمال کیا) اس وقت وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے جس طرح ندی کے کنارے دانے اگ آتے ہیں۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے۔ وہیب نے کہا کہ ہم سے عمرو نے ( «حياء» کی بجائے) «حياة»،‏‏‏‏ اور ( «خردل من ايمان») کی بجائے (خردل من خير») کا لفظ بیان کیا۔ ‏(صحیح بخاری #22)
اس حدیث سے ظاہر ہے کہ گنہگاروں کو سزا ملے گی ، جو کہ قران سے بھی ظاہر ہے-حضرت عمر (رضی اللہ) نے جس خدشہ کا اظھار کیا تھا وھی کھلم کھلا ہو رہا ہے.لوگ ظاہری طور پر اپنی مرضی کا مطلب نکال کر اچھےاعمال کرنا ضروری نہیں سمجھتے بس کلمہ ادا کرنا نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں جو درست نہیں.  کیا یہ اللہ کے فرمان  (سورة الحشر 59:7) کی کھلی خلاف درزی نہیں؟
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ(29:2 سورة العنكبوت) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ "ہم ایمان لائے " اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟(29:2 سورة العنكبوت)

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿٧﴾
جو کچھ رسولؐ تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے (سورة الحشر 59:7)
 سنت اور حدیث کی اہمیت اور فرق :

 اسلام ؛ قرآن اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔اسلام  کی بنیاد صرف رسول اللہﷺ سے نقل وسماع ہے، قرآن کریم بھی رسول اللہﷺ ہی کے ذریعہ ملا ہے؛ انھوں نے ہی بتلایا اور آیات کی تلاوت کی ،جوبطریقۂ تواتر ہم تک پہنچا ہے-
کتاب اللہ کے بعد رسول اللہؐ کی سنت شریعت کا دوسرا سرچشمہ اور اصل واساس ہے، یہ قرآن کریم کی تشریح اور اس کے اصول کی توضیح اور اجمال کی تفصیل ہے- آپ نے فرمایا کہ: "تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَاتَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُوْلہِ"۔(مشکوٰۃ شریف:۲۹)” :میں تمہارے درمیان دوچیزوں کو چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں کومضبوطی سے تھامے رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ہے۔ “

جب حج الوداع کے موقع پر المائدہ کی آیات ٣ ،  نازل ہوئی جس میں دین کے کامل ہونے کا اعلان کر دیا گیا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ 
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کامل کر دیا ہے اور اپنے نبی اور مومنوں کو اس کا کامل ہونا خود اپنے کلام میں فرما چکا ہے اب یہ رہتی دنیا تک کسی زیادتی کا محتاج نہیں ، اسے اللہ نے پورا کیا ہے جو قیامت تک ناقص نہیں ہوگا۔ اس سے اللہ خوش ہے اور کبھی بھی ناخوش نہیں ہونے والا ۔ حج اکبر والے دن جبکہ یہ آیت اتری تو حضرت عمر رونے لگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب دریافت فرمایا تو جواب دیا کہ ہم دین کی تعمیل میں کچھ زیادہ ہی تھے ، اب وہ کامل ہو گیا اور دستور یہ ہے کہ کمال کے بعد نقصان شروع ہو جاتا ہے ، آپ نے فرمایا سچ ہے ، اسی معنی کی شہادت اس ثابت شدہ حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ اسلام غربت اور انجان پن سے شروع ہوا اور عنقریب پھر غریب انجان ہو جائیگا ، پس غرباء کیلئے خوشخبری ہے۔
امام مالک نے کہا ابن شہاب زہری کے پاس ایک ایک کتاب کے سوا جس میں ان کی قوم کا نسب لکھا تھا کوئی کتاب نہ تھی۔ لوگوں میں لکھنے کا نہیں، حفظ کرنے کا رواج تھا، جو لکھتا تھا وہ حفظ کرنے کی نیت سے لکھتا تھا جب حفظ کر لیتا تحریر مٹا دیتا ۔

[ابن عبد البر، جامع بيان العلم و فضله، 1 : 77]
اس وقت قرآن اور سنت  رسول اللہﷺ  تواتر میں  موجود تھی مثلاً نماز، روزہ ، زکات ، حج اور دوسرے احکام و معاملات  پر لاکھوں مسلمان عمل درآمد کر رہے تھے، قران حفاظ  صحابہ اکرام کے دماغ میں اور مختلف طریقوں پر تحریر کی شکل میں موجود تھا جس کو کتاب کی شکل میں اکٹھا کر دیا گیا، اور پھر حضرت عثمان رضی الله نے تو سرکاری طور پر اس قرآن کوتحقیق کے بعد اہل قریش کی قرات میں  تحریرکروا کرعالم اسلام میں بھجوا دیا اور باقی ذاتی  غیر سرکاری نسخوں کو جلا دیا-  نماز میں قران مسلسل  تلاوت کیا جاتا تھا- پوری توجہ قرآن پر تھی- ٩٠ سال گزر گئے .....

حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عہدِ خلافت میں تدوینِ حدیث اورامام ابوحنیفہ:

خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز ( ۶۱ھ-۱۰۱ھ) کے خاص اہتمام سے وقت کے دو جید محدِّث شیخ ابوبکر بن الحزم (متوفی ۱۲۰ھ) اور محمد بن شہاب زُہری (متوفی ۱۲۵ھ) کی زیر نگرانی احادیثِ رسول کو کتابی شکل میں جمع کیا گیا؛ اب تک یہ احادیث منتشر حالتوں میں سینوں میں محفوظ چلی آرہی تھیں۔ اسلامی تاریخ میں ان ہی دونوں محدث کو حدیث کا مدوِّنِ اوَّل کہا جاتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں عمومی طور پر احادیث لکھنے سے منع فرمادیا تھا؛تاکہ قرآن وحدیث ایک دوسرے سے مل نہ جائیں؛ البتہ بعض فقہاءِ صحابہ (جنہیں قرآن وحدیث کی عبارتوں کے درمیان فرق معلوم تھا) کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں بھی احادیث لکھنے کی محدود اجازت تھی۔ خلفاء راشدین کے عہد میں جب قرآن کریم تددین کے مختلف مراحل سے گزرکر ایک کتابی شکل میں امتِ مسلمہ کے ہر فرد کے پاس پہونچ گیاتو ضرورت تھی کہ قرآنِ کریم کے اصل مفسر و خاتم النّبیین وسید المرسلین حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احایث کو بھی مدون کیا جائے؛ چنانچہ احادیثِ رسول کا مکمل ذخیرہ جو منتشر اوراق اور زبانوں پر جاری تھا، انتہائی احتیاط کے ساتھ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی عہدِ خلافت (۹۹ھ-۱۰۱ھ)میں مرتب کیا گیا۔ احادیثِ نبویہ کے اس ذخیرہ کی سند میں عموماًدو راوی تھے ایک صحابی اور تابعی، بعض احادیث صرف ایک سند یعنی صحابی سے مروی تھیں۔ ان احادیث کے ذخیرہ میں ضعیف یا موضوع ہونے کا احتمال بھی نہیں تھا۔ نیز یہ وہ مبارک دور تھا، جس میں اسماء الرجال کا علم باضابطہ وجود میں نہیں آیا تھا اور نہ اس کی ضرورت تھی؛ کیونکہ حدیثِ رسول بیان کرنے والے صحابہٴ کرام اور تابعین عظام یا پھر تبع تابعین حضرات تھے اور ان کی امانت ودیانت اور تقوی ٰ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم (سورہٴ التوبہ آیت نمبر ۱۰۰) میں فرمایا ہے۔
حضرت امام ابوحنیفہ کو انھیں احادیث کا ذخیرہ ملا تھا؛ چنانچہ انہوں نے قرآنِ کریم اور احادیث کے اس ذخیرہ سے استفادہ فرماکر امتِ مسلمہ کو اس طرح مسائلِ شرعیہ سے واقف کرایا کہ ۱۳۰۰ سال گزرجانے کے بعد بھی تقریباً ۷۵ فیصد امت مسلمہ اس پر عمل پیرا ہے اور ایک ہزار سال سے امتِ مسلمہ کی اکثریت امام ابوحنیفہ کی تفسیر وتشریح اور وضاحت وبیان پر ہی عمل کرتی چلی آرہی ہے۔ امام ابوحنیفہ کو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم صرف دو واسطوں (صحابی اور تابعی) سے ملی ہیں؛ بلکہ بعض احادیث امام ابوحنیفہ نے صحابہٴ کرام سے براہ راست بھی روایت کی ہیں۔ دو واسطوں سے ملی احادیث کو احادیث ثنائی کہا جاتا ہے، جو سند کے اعتبار سے حدیث کی اعلیٰ قسم شمار ہوتی ہے۔ بخاری ودیگر کتبِ حدیث میں ۲ واسطوں کی کوئی بھی حدیث موجود نہیں ہے، ۳ واسطوں والی یعنی احادیث ثلاثیات بخاری میں صرف ۲۲ ہیں، ان میں سے ۲۰احادیث امام بخاری نے امام ابوحنیفہ کے شاگردوں سے روایت کی ہیں۔

حجت دین کے بارے میں قرآن و حدیث میں فرق یہ ہے کہ قرآن کی نقل بہ طریقۂ تواتر ہے، جوہرطرح کے شک وشبہ سے بالاتر ہے اور علم قطعی کی موجب ہے اور حدیث اس حیثیت سے کہ ارشاد رسول اللہﷺ ہے، حجت قطعی ہے؛ البتہ رسول اللہﷺ سے ہم تک پہونچنے میں جودرمیانی وسائط ہیں، ان کی وجہ سے احادیث کا ثبوت اس درجہ قطعی نہیں ہے، جس درجہ کی قطعیت قرآن کو حاصل ہے۔

اسی لیے احادیث کے مختلف درجات ہیں، صحیح، مرسل، ضعیف ، مگر قرآن کی آیات محکم ہیں ان کے متعلق ارشاد ہے :

ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ (2:1)یہ (قرآن) وہ کتاب ہے جس (کے کلام اللہ ہونے) میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ مگرکیا حدیث کی کسی کتاب کے لیے ایسا دعوی کیا جا سکتا ہے؟ سنت کیوں کہ تواترسے لا تعداد افراد کی وساطت عمل سے منتقل ہوئی اس لیے اس کی درجہ بندی حدیث کی طرح نہیں-
 اس کی مختلف وجوہات بیان کی جاتی ہیں جو ایک طویل بحث ہے-
 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا‫:
‫’حسبنا کتاب اللہ‘ یعنی ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔
‫(‬ بحوالہ : صحیح بخاری ، کتاب المرضی ، باب قول المريض قوموا عني ، حدیث : 5731 ‫)
امام مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حدیثیں یا ان کی کتابیں لکھنے کا ارادہ کیا، پھر فرمایا کتاب اللہ کے ساتھ کوئی کتاب تحریر نہیں ہوسکتی۔

 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فضیلت، بصیرت  اور ان کے متعلق رسول اللہﷺ  کے ارشادات کی وجہ سے ان کے اس فیصلے کی اہمیت کو نظر انداز کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے- 
قرآن اور روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کلام بھی شرع بیان کرنے کے لیے کیا ہے وہ حق ہے، حجت ہے، وحی ہے اور قابل اتباع ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ آپ کا ہر قول کسی شرعی حکم کو بیان کرنے کے لیے نہیں ہوتا تھا۔ بعض اوقات آپ ہماری طرح دنیاوی اُمور میں بھی گفتگو کرتے تھے اور آپ کایہ کلام کسی شرعی حکم کے استنباط کے لیے مصدر کی حیثیت نہیں رکھتا ہے ۔الدکتور عبد الکریم زیدان لکھتے ہیں : وأقوال النبی نما تکون مصدرا للتشریع، اذا کان المقصود بھا بیان الأحکام أو تشریعھا، أما ذا کانت فی أمور دنیویة بحتہ لا علاقة لھا بالتشریع، ولا مبنیة علی الوحی، فلا تکون دلیلا من أدلة الأحکام، و لا مصدرا تستنبط منہ الأحکام الشرعیة، و لا یلزم اتباعھا، ومن ذلک ما روی: أنہ علیہ السلام رأی قوما فی المدینة یؤبرون النخل،فأشار علیھم بترکہ، ففسد الثمر،فقال لھم: ((اَبِّرُوْا' اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاُمُوْرِ دُنْیَاکُمْ)) (٢٣) ''اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال صرف اُس وقت مصدرِ شریعت ہوں گے جب ان سے آپ کامقصود احکامِ شرعیہ کو بیان کرنا ہو۔لیکن اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دنیاوی امور کے بارے میں کچھ گفتگوایسی فرمائی جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہ ہو تو آپ کا ایسا کلام احکامِ شرعیہ کے لیے کوئی دلیل نہیں بنے گا اور نہ ہی وہ مصدر شریعت ہو گاکہ جس سے احکام نکالے جائیں،اور نہ ہی آپ کے ایسے اقوال کی پیروی لازمی ہے ۔اس کی ایک مثال یہ روایت ہے کہ آپ نے مدینہ کے بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ نر کھجور کے ساتھ مادہ کھجور کی پیوند کاری کرتے تھے ۔آپ نے لوگوں کو ایسا کرنے سے اشارتاً منع کر دیا جس کہ وجہ سے اگلی فصل کم ہوئی تو آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ :''پیوند کاری کرو ،کیونکہ دنیاوی امور کو تم زیادہ بہتر جانتے ہو''۔ اس موضوع پر کہ ''آپ کا ہر قول ہمارے لیے شریعت نہیں ہے '' شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ' حجة اللہ البالغة' میں ' المبحث السابع: مبحث استنباط الشرائع من حدیث النبی' کے تحت مختصر لیکن بہت عمدہ بحث کی ہے ۔
شاہ ولی اللہ صاحب کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اقوال جو تبلیغِ رسالت کے باب سے نہیں ہیں(یعنی دنیاوی امور سے متعلق ہیں) ، بعض حضرات کے مناقب سے متعلق اقوال،طب سے متعلق بعض اقوال ،آپ کے دور میں کسی جزئی مصلحت کے حصول کے لیے آپ کے جاری کردہ احکامات،آپ کے عادی امور، آپ کے فیصلے(یعنی قضاء) اور آپ کے بعض احکامات کا آپ کی قوم کے بعض لوگوں کے لیے خاص ہوناوغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔

شاہ صاحب نے اس موقف کی دلیل کے طور پرکہ آپ کاہر قول ہمارے لیے شریعت نہیں ہے، ایک حدیث کو بیان کیا ہے۔حضرت خارجہ بن زید بن ثابت سے روایت ہے: دَخَلَ نَفَر عَلٰی زَیْدٍ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالُوْا حَدِّثْنَا بَعْضَ حَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَقَالَ وَمَا أُحَدِّثُکُمْ؟ کُنْتُ جَارُہ فَکَانَ ِذَا نَزَلَ الْوَحْیُ أَرْسَلَ ِلَیَّ فَکَتَبْتُ الْوَحْیَ وَکَانَ ِذَا ذَکَرْنَا الْآخِرَةَ ذَکَرَھَا مَعَنَا وَذَا ذَکَرْنَا الدُّنْیَا ذَکَرَھَا مَعَنَا وَذَا ذَکَرْنَا الطَّعَامَ ذَکَرَھُ مَعَنَا' فَکُلُّ ھٰذَا أُحَدِّثُکُمْ عَنْہُ؟ (٢٤)
''اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال صرف اُس وقت مصدرِ شریعت ہوں گے جب ان سے آپ کامقصود احکامِ شرعیہ کو بیان کرنا ہو۔لیکن اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دنیاوی امور کے بارے میں کچھ گفتگو ایسی فرمائی جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہ ہو تو آپ کا ایسا کلام احکامِ شرعیہ کے لیے کوئی دلیل نہیں بنے گا اور نہ ہی وہ مصدر شریعت ہو گاکہ جس سے احکام نکالے جائیں، اور نہ ہی آپ کے ایسے اقوال کی پیروی لازمی ہے ۔اس کی ایک مثال یہ روایت ہے کہ آپ نے مدینہ کے بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ نر کھجور کے ساتھ مادہ کھجور کی پیوند کاری کرتے تھے ۔آپ نے لوگوں کو ایسا کرنے سے اشارتاً منع کر دیا جس کہ وجہ سے اگلی فصل کم ہوئی تو آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ :''پیوند کاری کرو ،کیونکہ دنیاوی امور کو تم زیادہ بہتر جانتے ہو''۔ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے اس روایت کو 'حسن' کہا ہے۔(٢٥)امام ابن حجررحمہ اللہ نے اس روایت کو'حسن' کہا ہے۔(٢٦) حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت سے حجت پکڑی ہے ۔جبکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو 'ضعیف 'کہا ہے(٢٧)۔ 'سنن البیہقی' کی ایک روایت میں 'أَوَکُلَّ ھٰذَا نُحَدِّثُکُمْ عَنْہُ'؟ کے الفاظ بھی ہیں ۔ بعض دوستوں کا خیال یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول پر عمل ضروری ہے ۔ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ قرآن میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا گیا اور آپ کی اطاعت اُمت پر لازم ہے،لہٰذا جہاں بھی آپ کا کوئی قول آ جائے، چاہے وہ دنیا سے متعلق ہو یا دین سے ، تو اس پر عمل کرنا لازم ہو گا،کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال آپ کی اطاعت میں داخل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا گیا اور آپ کی اطاعت ہر اُمتی پر فرض ہےلیکن کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ہر قول یا ہر ہر بات، چاہے وہ دین سے متعلق ہو یا دنیا سے ، اطاعت کی تعریف میں داخل ہے ؟ اگر کوئی شخص ایسا سمجھتا ہے تو یہ موقف درست نہیں ہے۔
حدیث اور سنت میں فرق:
کچھ لوگوں میں عام غلط فہمی ہے کہ حدیث اور سنت ایک ہی چیز ہے۔ فی الحقیقت ؛ حدیث اور سنت دونوں ایک دوسرے سے ناصرف لسانی اعتبار سے بلکہ شریعت میں اپنے استعمال کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
  1. اسلام ؛ قرآن اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔ سنت کی تشکیل میں احادیث اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن سنت صرف احادیث سے نہیں بنی ہوتی ہے؛ سنت میں رسول اللہﷺ کی زندگی کا وہ حصہ بھی شامل ہے جو الفاظ کی شکل میں نہیں مثال کے طور پر تقریر اور یا کسی عبادت کا طریقہ ، تقریر کو محدثین حدیث میں بھی شمار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سنت میں قرآن اور حدیث میں بیان کردہ ہدایات پر عمل کرنے کا نمونہ پایا جاتا ہے؛ یہ طریقہ یا عملی نمونہ محمد رسول اللہﷺ کے زمانے میں موجود اس عہد کی نسل سے اجتماعی طور پر اگلی اور پھر اگلی نسل میں منتقل ہوتا رہتا ہے اور اس کی اس اجتماعی منتقلی کی وجہ سے اس میں نقص یا ضعف آجانے کا امکان حدیث کی نسبت کم ہوتا ہے کیونکہ حدیث ایک راوی سے دوسرے راوی تک انفرادی طور پر منتقل ہوتی ہے اور اس منتقلی کے دوران اس راوی کی حیثیت ، اعتبار اور اس کی یاداشت کا دخل ہوتا ہے۔
  2. نکاح کرنا سنّت ہے، حدیث نہیں؛ قربانی کرنا سنّت ہے، حدیث نہیں؛ مسواک کرنا سنّت ہے، حدیث کوئی نہیں کہتا. کسی حدیث کو سنت سے پرکھا جا سکتا ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " سَيَأْتِيكُمْ عَنِّي أَحَادِيثُ مُخْتَلِفَةٌ , فَمَا جَاءَكُمْ مُوَافِقًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَهُوَ مِنِّي , وَمَا جَاءَكُمْ مُخَالِفًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي " 
    [(١) سنن الدارقطني: كِتَابٌ فِي الأَقْضِيَةِ وَالأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، كتاب عمر رضي الله عنه إلى أبي موسى الأشعري، رقم الحديث: ٣٩٢٦(٤٤٢٧) ؛
    حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ، نبی صلے الله علیہ وسلم سے مروی ہیں کہ میری طرف سے کچھ اختلافی احادیث آئینگی، ان میں سے جو "کتاب الله" اور "میری سنّت" کے موافق ہونگی، وہ میری طرف سے ہونگی. اور جو "کتاب الله" اور "میری-سنّت" کے خلاف ہونگی وہ میری طرف سے نہیں ہونگی.
     (٢) الكفاية في علم الرواية للخطيب:التَّوَثُّقُ فِي اسْتِفْتَاءِ الْجَمَاعَةِ، رقم الحديث: ٣١١(٥٠٠٤)؛ (٣) ذم الكلام وأهله لعبد الله الأنصاري:الْبَابُ التَّاسِعُ، بَابٌ : ذِكْرُ إِعْلَامِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ ...رقم الحديث: ٥٨٩(٦٠٦)؛ (٤) الأباطيل والمناكير والمشاهير للجورقاني: كِتَابُ الْفِتَنِ، بَابُ : الرُّجُوعِ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ رقم الحديث:٢٧٧(٢٩٠ ٥) الكامل في ضعفاء الرجال » من ابتداء أساميهم صاد » من اسمه صالح؛ رقم الحديث: 4284 ٦) التَّوَثُّقُ فِي اسْتِفْتَاءِ الْجَمَاعَةِ » التَّوَثُّقُ فِي اسْتِفْتَاءِ الْجَمَاعَةِ؛ رقم الحديث: ٣١١] دلیل_فقہ ١) کھڑے ہوکر پیشاب کرنا[صحیح بخاری، کتاب الوضو، حدیث#٢٢١] اور کھڑے ہوکر پانی پینا [صحيح البخاري » كِتَاب الْأَشْرِبَةِ » باب الشُّرْبِ قَائِمًا، رقم الحديث: ٥٢١٣(٥٦١٥)] حدیث سے ثابت ہے، مگر یہ سنّت (عادت) نہ تھی، بلکہ سنّت (عادت) بیٹھکر پیشاب کرنا [صحيح البخاري » كِتَاب الْوُضُوءِ » بَاب التَّبَرُّزِ فِي الْبُيُوتِ، رقم الحديث: ١٤٧(١٤٩)] اور بیٹھکر پانی پینا تھی، کھڑے ہوکر پینے سے منع فرمایا.[صحيح مسلم » كِتَاب الْأَشْرِبَةِ » بَاب كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا، رقم الحديث: ٣٧٧٨(٢٠٢٥)] 

    سنت کا نمونہ رسول اللہﷺ نے پیش کیا اور پھر اس کے بعد اصحاب اکرام اور تابعین سے ہوتا ہوا موجودہ زمانے تک پہنچا ہے اسی ليے اس میں امت کے اجتماعی درست طریقۂ کار یا راہ کا مفہوم بھی شامل ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ عموماً اس کے ساتھ الجماعت کا لفظ لگا کر سنت و الجماع بھی کہا جاتا ہے۔
    حدیث اور سنت کا فرق مفہوم کے لحاظ سے اسلامی شریعت میں پایا جاتا ہے لیکن اس فرق سے کسی ایک کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ دونوں ہی اپنی جگہ مسلم ہیں اور حدیث کے بغیر سنت اور شریعت کا علم ، دونوں سے کوئی ایک تشکیل نہیں پاسکتا۔ حدیث کو رد کرنے کا رحجان مغرب کی استعماریت سے مقابل آنے کے ليے اس سے متصادم اسلامی نظریات کو رد کرنے والے جدت پسندوں کی جانب سے بیسویں صدی کے اوائل میں بھی سامنے آیا، ان ہی میں سے ایک شخص عبداللہ چکرالوی نے احادیث کو یکسر رد کر کہ اہل القرآن کی بنیاد ڈالی۔ دوسری جانب اہل حدیث بھی انتہا پر پہنچے ہوۓ ہیں؛ ان کے نزدیک حدیث کی متابعت ، قرآن شریف کی آیات کے اتباع کے برابر ہے کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے خود رسول اللہﷺ (کی دین سے متعلق) ہر بات کو اللہ کی اجازت سے ہونے کی ضمانت دی ہے اور اس سلسلے میں سورت النجم کی ابتدائی 15 آیات بکثرت حوالے کے طور پیش کی جاتی ہیں، اس سورت کے حوالے میں ایک قابل غور بات یہ ہے کہ سورت میں اللہ تعالٰیٰ کا اشارہ ، محمد رسول اللہﷺ کے اس قول کی جانب ہے جو قرآن کی صورت نازل ہو رہا تھا۔

    سنت اور حدیث کا لفظ امامیان اور وفقہا مختلف مفہوم رکھتا ہے؛ حدیث ، سنت کا حصہ ہوتی ہے لیکن سنت صرف حدیث نہیں ہوتی۔ امام شافعی رح نے کہا: "میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو تمام سنت اور احادیث کو جانتا ہو۔ اگر احادیث کا علم رکھنے والے علما کے علم کو یکجا کیا جاۓ تو صرف اسی حالت میں تمام سنت آشکار ہوسکتی ہے۔ چونکہ ماہرین حدیث دنیا کے ہر گوشے میں پھیلے ہیں اس وجہ سے بہت سی احادیث ایسی ہوں گی جن تک ایک عالم حدیث کی رسائی نہ ہوگی لیکن اگر ایک عالم ان سے نا آشنا ہے تو دوسروں کو ان کا علم ہوگا" قران و سنت کے علاوہ اسلام کی تیسری اور چوتھی اصل وبنیاد، اجماع امت اور قیاس ہے اور ان چاروں اصولوں کا مرجع خود رسول اللہﷺ کی ذاتِ گرامی ہے-




    New Work on Hadith in Turkey:

     ترکی میں احادیث کی جدید تحقیق اور ترتیب

    متعلقه تحریریں :
    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    سوال: جس زمانے میں احادیث کی کتابت منع تھی، کیا اس زمانے میں احادیث دین نہیں ہوا کرتی تھیں؟ کیا اب اجازت عام ہے کہ کتابت احادیث کی جائے؟ 
    جواب: اس زمانے میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگوؤں میں دین ہی بیان کرتے ہوں گے۔ منع کرنے کی وجہ قرآن کی حفاظت ہے۔ جب یہ مقصد حاصل ہو گیا، پھر اس پابندی کی کوئی وجہ نہیں تھی۔احادیث میں دین کا بیان ہوناایک الگ امر ہے اور ان کا دین کا ماخذ ہونا ایک دوسری چیز ہے۔ چونکہ انھیں دین کے ماخذ کی حیثیت حاصل نہیں ہونا تھی، اس لیے ان کی حفاظت کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ (لنک)
    ------------------------------------------------------------
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حدیث لکھنے کی ممانعت
    اعتراض:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود احادیث لکھنے سے منع فرمایا تھا اس بناپر موجودہ کتب حدیث عجمی سازش کا نتیجہ ہیں-

    جواب: 

    بلاشبہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "میری طرف سے کچھ نہ لکھو اور جس نے قرآن کے سوا کچھ لکھا ہو تو وہ اسے مٹادے-"

    (صحیح مسلم،الزھد، باب التثبت فی الحدیث و حکم کتابہ العلم، حدیث:3004)


    کیا منکریں حدیث کو اپنے عقیدے کی رو سےبطور دلیل حدیث پیش کرنا جائز ہے؟ کیا وہ اپنے اس فعل پر شرم محسوس نہیں کرتے؟ اپنی مقصد برآری کے لیے حدیث پیش کرنا جائز لیکن اتباع رسول میں حدیث کی طرف رجوع ناجائز- آخر یہ کہاں کا انصاف ہے؟


    تاہم واضح رہے کہ کتابت حدیث کی ممانعت ابتدائے اسلام میں تھی تاکہ احادیث تاکہ احادیث کا مضمون قرآن کریم کے مصامین سے خلط ملط نہ ہوجائے- چنانچہ ایک روایت میں اس کی وضاحت موجود ہے- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات قلمبند کررہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےتشریف لائے، دریافت فرمایا:


    " تم کیا لکھ رہے ہو؟" ہم نے عرض کیا وہی کچھ جو ہم آپ سے سنتے ہیں- 

    آپ نے فرمایا:


    " کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ ایک اور کتاب بھی لکھی جارہی ہے اللہ کی کتاب کو علحیدہ کرلو اور اسے خالص رکھو-"

    (مسند احمد: 3/12، حدیث:11092)


    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو ایک ساتھ لکھنے کی ممانعت تھی تاکہ احادیث قرآن سے خلط ملط نہ ہوجائيں- جب یہ خطرہ ٹل گیا تو ممانعت بھی ختم ہوگئی، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جم غفیر کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اور آپ کی وفات کے بعد احادیث تحریر کرنا متعدد احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ پہلے عرض ہوچکا ہے-

    پھر اس حدیث کے آگے یہ الفاظ بھی ہیں:


    [ تحدّثو عنّی ولا حرج] 

    "مجھ سے احادیث بیان کرو اس میں چنداں حرج نہیں"-


    اس جملے سے واضح ہوا کہ حدیث کو قرآن کے ساتھ مخلوط کرنے سے روکا جارہا تھا، حدیث بیان کرنے سے منع نہیں کیا جارہا تھا بلکہ احادیث بیان کرنے کا حکم دیا جارہا تھا، اب یہ کہاں کی دیانت اور قرآنی اتباع ہے کہ ایک ہی روایت کا وہ حصہ تو بیان کردیا جائے جس سے اپنا مطلب برآمد ہو اور باقی حصہ اس لیے نظر انداز کردیا جائے کہ وہ ان کے باطل عقیدے کی نفی کرتا ہے-


    باقی موجود کتب حدیث پر عجمی سازش کی پھبتی بھی خوب ہے! صدیوں کے بعدان حضرات نے اس سازش کا سراغ لگایا ہے لیکن یہ سازش کہاں تیار ہوئی؟ کس نے تیار کی؟ اس بارے میں یہ لوگ کوئی مدلل بات نہیں بتاتے- 

    بتا بھی نہیں سکتے کیونکہ یہ من گھڑت بات ہے، اسی لیے اس بارے میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے- شاید یہ حصرات خود کسی سازش کا شکار ہیں- 
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ   (007:157)

    ‏ وہ جو (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی جو نبی امی ہیں پیروی کرتے ہیں۔ جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام تھیراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سے) پر (اور گلے میں) تھے اتار تے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی وہی مراد پانے والے ہیں ۔ ‏
    تفسیر ابن كثیر
    مسند احمد میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جب تم میری کسی حدیث کو سنو جسے تمہارے دل پہچان لیں تمہارے جسم اس کی قبولیت کے لئے تیار ہو جائیں اور تمہیں یہ معلوم ہو کہ وہ میرے لائق ہے تو میں اس سے بہ نسبت تمہارے زیادہ لائق ہوں اور جب تم میرے نام سے کوئی ایسی بات سنو جس سے تمہارے دل انکار کریں اور تمھارے جسم نفرت کریں اور تم دیکھو کہ وہ تم سے بہت دور ہے پس میں بہ نسبت تمھارے بھی اس سے بہت دور ہوں ۔ اس کی سند بہت پکی ہے ۔ اسی کی ایک اور روایت میں حضرت علی کا قول ہے کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول کوئی حدیث سنو تو اس کے ساتھ وہ خیال کرو جو خوب راہ والا بہت مبارک اور بہت پرہیزگاری والا ہو  (تفسیر ابن کثیر)
      
    ہ حدیث شریف میں ہے کہ میں ایک طرف آسان دین دے کر معبوث کیا گیا ہوں ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل کو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم یمن کا امیر بنا کر بھیجتے ہیں تو فرماتے ہیں تم دونوں خوش خبری دینا، نفرت نہ دلانا ، آسانی کرنا، سختی نہ کرنا، مل کر رہنا ، اختلاف نہ کرنا ۔ آپ کے صحابی ایوبرزہ اسلمی فرماتے ہیں میں حضور کے ساتھ رہا ہوں اور آپ کی آسانیوں کا خوب مشاہدہ کیا ہے پہلی امتوں میں بہت سختیاں تھیں لیکن پروردگار عالم نے اس امت سے وہ تمام تنگیاں دور فرما دیں ۔ آسان دین اور سہولت والی شریعت انہیں عطا فرمائی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت کے دلوں میں جو وسوسے گذریں ان پر انہیں پکڑ نہیں جب تک کہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ لائیں ۔ فرماتے ہیں میری امت کی بھول چوک اور غلطی سے اور جو کام ان سے جبراً کئے کرائے جائیں ان سے اللہ تعالٰی نے قلم اٹھا لیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس امت کو خود اللہ تعالٰی نے یہ تعلیم فرمائی کہ کہو کہ اے ہمارے پروردگار تو ہماری بھول چوک پر ہماری پکڑ نہ کر ۔ اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ لاؤ جو ہم سے پہلوں پر تھا۔ اے ہمارے رب ہمیں ہماری طاقت سے زیادہ بوجھل نہ کر ۔ ہمیں معاف فرما ، ہمیں بخش ، ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا کار ساز مولیٰ ہے ۔ پس ہمیں کافروں پر مدد عطا فرما ۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمانوں نے یہ دعائیں کیں تو ہر جملے پر اللہ تعالٰی نے فرمایا میں نے یہ قبول فرمایا ۔ پس جو لوگ اس نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کا ادب عزت کریں اور جو وحی آپ پر اتری ہے اس نور کی پیروی کریں وہی دنیا آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر)

      
    مزید پڑھیں:

    Also Related:
    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
    Humanity, Religion, Culture, Science, Peace
    A Project of Peace Forum Network: Overall 3 Million visits/hits