Showing posts with label Works. Show all posts
Showing posts with label Works. Show all posts

نجات، بخشش، ایمان اور اعمال - مغالطے Salvation, Faith, Works and Illusions

قرآن کی  معتد د آیات میں واضح ہے کہ نجات، بخشش صرف ایمان اور اچھے اعما ل کی بنیاد پر ہو گی:
(قرآن ; 103:2-3, 32:19, 42:22, 30:45, 31:8-9, 47:12, 18:107, 5:11, 22:23, 56,40)
اس کے ساتھ اللہ کا انصاف ، رحم ، فضل اور شفاعت (صرف اللہ  کی اجازت سے).
امام شا فعئی سوره العصرکو قرآن کا خلاصہ قرار دیتے ہیں. آپ نے فرم یا کہ اگر صرف سوره العصر (١٠٣) نازل ہوتی تو بھی کافی تھی:
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
وَالْعَصْرِ ﴿١﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ﴿٢﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴿٣﴾
زمانے کی قسم (1) انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے (2) سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے (103:3)
  
بہت سے احادیث سے یہ تاثرملتا ہے کہ نجات، بخشش کے  لیےصرف ایمان ہی کافی ہے. تمام کلمہ گو (مسلمان)، حضرت محمدﷺ کی امت کے لوگ  جنت میں جاییں گنے چاہے وہ کتنے ہی گناہ گار ہوں.
<<کتابت حدیث >>
کلمہ طیبہ پڑھنے سے انسان دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے اور اسے ایمان کی دولت میسر آ جاتی ہے۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ مبارکہ میں ہے : آپ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفید کپڑا اوڑھے سو رہے تھے۔ میں دوبارہ حاضر ہوا اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے۔ پس میں تیسری بار حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص لا الٰہ الا اﷲ کہے، اسی اعتقاد پر اس کا خاتمہ ہو جائے تو وہ جنت میں جائے گا۔ مسلم، الصحيح، کتاب الايمان، باب من مات لا يشرک باﷲ شيئًا دخل الجنة و من مات مشرکا دخل النار، 1 : 95، رقم : 94 لیکن اس حدیث میں کلمہ طیبہ پڑھنے سے مراد احوال و اعمال کی اصلاح کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھنا ہے۔ کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد احوال و اعمال کی اصلاح کو نظرانداز کرنا اﷲ کی گرفت کا باعث بنتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلاَ يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللّهِ وَلِيًّا وَلاَ نَصِيرًاo
’’جو کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کی سزا دی جائے گی اور نہ وہ اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی پائے گا اور نہ مددگارo‘‘( النساء، 4 : 123)
اگر کسی کلمہ گو شخص نے اپنے گناہوں پر توبہ کی اور اس کی توبہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہوگئی تو وہ کلمہ گو شخص جنت میں جائے گا۔ یا اﷲ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو پھر وہ کلمہ گو اپنے گناہوں کی سزا پانے کے بعد جنت میں جائے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔ http://www.thefatwa.com/urdu/questionID/221/
ایک مشہور حدیث کے مطابق اگرچہ مسلمان زانی یا چورہو! (زنا اور چوری گناہ کبیرہ ہیں) پھر بھی وہ جنت میں جائے گا.
اب ایک طرف قرآن کی واضح آیات بہت بڑی تعداد میں ہیں اور دوسری طرف احادیث جو بظاھر قرآن کی واضح آیات کو منسوخ کرتی نظر آتی ہیں. یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ مذھب اسلام کی بنیاد کا معاملہ ہے.
علماء کے مطابق احادیث کو قران کی روشنی میں سمجھنا چاہیے. دل سے کلمہ پڑھنے کا مطلب ہے کہ اسلام کے احکام پر دل و جان سے عمل کرے صرف زبانی اقرار کافی نہیں.
اگر صرف کلمہ زبان سے ادا کیا جائے تو یہ کافی نہیں.دنیاوی، قانونی طور پر وہ مسلمان سمجھا جایے گا مگر اس کو اپنے عمل سے بھی مسلمان ثابت کرنا ہو گا.
گناہ، ثواب ، حلال ، حرام ،آخرت ، حساب کتاب ، جزا ، سزا . انصاف ، حقوق اللہ ، حقوق العباد وغیرہ ایک طرف اور ایمان (زبانی اقرار، کلمہ شہادہ) دوسری طرف اسلام کے چھ  بنیادی عقاید، اورپانچ ستون پر عمل کرنا ہو گا.  
تحقیق سے معلوم ہوا کہ علماء مختلف تاویلیں پیش کرتے ہیں - کچھ  تاویلیں عقل ودانش کے سادہ معیار سے بھی بعید معلوم ہوتی ہیں.


حدیث مسلم بمطابق حضرت ابوحریرہ ، جس میں رسول اللہﷺ دل سے کلمہ گو (مسلمانوں) کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں، حضرت عمر(رضی اللہ)   کی درخواست پر کہ مسلمان ظاہری الفاظ سے غلط مطلب سمجھ لیں گنے، ان کو اچھے اعمال کرنے دیں، آپ نے فرمایا کرنے دیں (اچھے عمل کرنے دیں) (مسلم حدیث 50  ، کتاب الایمان).  حضرت عمر(رضی اللہ)   کی اس پیغام کو عام کرنے سے منع کرنے کی درخواست رسول اللہﷺ نے قبول کر لی.
رسول اللہﷺ نے جس بات کو عام کرنے سے منع فرما دیا پھر  رسول اللہﷺ کے ارشاد کے خلاف آج تک اس کی تشسہیرکرکہ کنفیوژن پھیلایا جاتا ہے؟

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلَاتُ ۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَى ظُلْمِهِمْ ۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ  (13:6 الراعد)
" اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار (یعنی طالب عذاب ہیں) حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہو چکے ہیں۔ اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود انکی بے انصافیوں کے معاف کرنے والا ہے اور بیشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے۔ ‏"  (13:6 الراعد)

ابن ابی حاتم میں ہے اس میں ہے اس آیت کے اترنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ تعالٰی کا معاف فرمانا اور درگزر فرمانا نہ ہوتا تو کسی کی زندگی کا لطف باقی نہ رہتا اور اگر اس کا دھمکانا ڈرانا اور سما کرنا نہ ہوتا تو ہر شخص بےپرواہی سے ظلم وزیادتی میں مشغول ہو جاتا. (تفسیر ابن كثیر)
<<ملاحظہ ... کتابت حدیث >>
حضرت عمر (رضی اللہ) نے جس خدشہ کا اظھار کیا تھا وھی کھلم کھلا ہو رہا ہے.لوگ ظاہری طور پر اپنی مرضی کا مطلب نکال کر اچھےاعمال کرنا ضروری نہیں سمجھتے بس کلمہ ادا کرنا نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں جو درست نہیں.  
کیا یہ اللہ کے فرمان  (سورة الحشر 59:7) کی کھلی خلاف درزی نہیں؟
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ(29:2 سورة العنكبوت)
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ "ہم ایمان لائے " اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟(29:2 سورة العنكبوت)


وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿٧﴾
جو کچھ رسولؐ تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے (سورة الحشر 59:7)


إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ﴿٢٢﴾
یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22)


مسیحیت میں نجات کے کیے "ایمان" کو کافی سمجھا جاتا ہے. (ان کے ایمان کی تفصیل معلوم  ہے).یہودی اپنے آپ کو اللہ کی خاص قوم اور جنت کا حقدار سمجھتے ہیں. اگر عذاب آیا  بھی تو صرف تھوڑا.
اسلام "ایمان اور اعما ل" نجات کی بنیاد کی وجہ سے مسیحیت سے مختلف ہے.
جب قران کی واضح تعلیمات اور احکام کے خلاف صرف ایمان کی بنیاد پر نجات کا نظریہ پیش کیا جاتا ہے تو عام مسلمان اس کو کامیابی اور جنت کی کنجی سمجھ کر گناہ کرنے کو معیوب نہیں سمجھتا. دانشور اور علماء عوام کو نادانستہ طور پر گناہ اور تباہی کی دنیا میں دھکیل رہے ہیں.


قرآن واضح کرتا ہے کہ جو شخص اللہ کی خوشنودی  اور دنیا و آخرت میں کامیابی چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اسلام کی تمام بنیادی نظریات کو دل سے قبول کرے اور پوری دیانت داری سے ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے. اللہ  اور رسولﷺ کی کی نافرمانی سے بچے. اس کو چاہے کہ اس دنیا کی بجایے آخرت کی فکر کرے. اللہ کی کتاب ایسے لوگوں کو آخرت میں کامیابی کی ضمانت نہیں دیتی جو ان شرایط پر پورا نہیں اترتے، اللہ کا ارشاد ہے:


"پھر جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا  اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا جنت اس کا ٹھکانا ہوگی " ( سورة النازعات 79:35-41)
مسلمانوں کو چاہے کہ گمراہ کن نظریات سے با ھر نکلیں اور اپنی طرف سے پوری کوشش کریں کہ آخرت میں کامیاب ٹھریں اور اس کے لیے ایمان کے ساتھ نیک اعمال کریں، پھر بھی اگر کچھ کمی کوتاہی کی وجہ سے رہ جائے تو اللہ کی رحمت اور بخشش کا طلبگار ہو، یقینا اللہ ایسے ایمان والوں کو مایوس نہیں کرے گا-
-----------------
حق گوئی۔ ان الدین یکتمون ما انزلنا ۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ حق تعالی فرماتے ہیں کہ جو لوگ شرعی مسائل اور حق کی باتوں کو جان بوجھکر چھتاتے ہیں اس پر لعنت ہے ۔
حدیث شریف میں ہے کہ فرمایا رسول مقبول ﷺ نے کہ اگر کوئی شرعی مسئلہ کو جانتے ہوئے بھی نہ بتلائے ، قیامت کے دن اس کو آگ کی لگام پہنائی جائیگی۔ حضرت ابو حریرہ فرماتے ہیں کہ اگریہ آیت کریمھ نہ ہوتی تو تو میں ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا۔ حق بات اور شرعی مسئلہ بیان کرنے والے پر جن و انس ، چرند و پرند غرضیکہ سب مخلوق مغفرت کی دعائیں مانگتی ہیں۔ حضور ﷺ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا کسی شخص کو لوگونکی ہیبت حق بات کہنے سے نہ روکے ۔

مزید تفصیلات کے لیے اس لنک پر ملاحضہ کریں:
 Reference: 
-------------------------------------------
کیا کلمہ پڑھنے والا جنتی ہے ؟

اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ یہ حدیث بالکل صحیح ہےیہ حدیث صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ جو شخص‘‘لا الہ الا اللہ’’دل کے اخلاص کے ساتھ پڑھےگاوہ جنت میں داخل ہوگا خواہ ابتداءیا پھر کبیرہ گناہوں کی سزاپانے کے بعد‘‘لا الہ الا اللہ’’کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان الفاظ مبارکہ کہنے والاپکاموحد ہو اورشرک سے بالکلیہ اجتناب کرنے والا ہواس کی تائید قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات سے ہوتی ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ‌ أَن يُشْرَ‌كَ بِهِ وَيَغْفِرُ‌ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾ (النساء:۴۸)
‘‘یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ شرک معاف نہیں فرمائے گا ہاں شرک کے علاوہ دیگر گناہ(کبیرہ)  جسے چاہےمعاف فرمادے ۔’’
اس  سے معلوم ہوا کہ جو شخص بھی مشرک نہیں وہ اللہ تعالی کی مغفرت سے بالکل مایوس نہیں گناہ کبیرہ کی قیداس لیے لگائی گئی ہے کہ قرآن کریم میں ہے کہ:
﴿إِن تَجْتَنِبُوا۟ كَبَآئِرَ‌ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ‌ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ﴾ (النساء:٣١)
‘‘یعنی اگرآپ لوگ ان کبیرہ گناہوں سے جن کے ارتکاب سے تمہیں روکاگیا ہے بچتے رہوگے توہم تمہاری چھوٹی چھوٹی برائیوں کو مٹادیں گے۔’’
اورابتداء یا کچھ سزاپانےکی بات اس لیے کہی گئی اگر﴿وَيَغْفِرُ‌ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾کامطلب یہ لیے جائے کہ شرک کے علاوہ دیگر گناہوں میں کچھ گناہ اللہ سبحانہ وتعالی اصلاکبھی بھ معاف نہیں فرمائے گاتوپھر شرک اوردیگرگناہوں میں کچھ فرق نہ رہا۔یعنی اگرکچھ گنہگاروں کو جہنم میں خلوداورابدی سزاملے گی اورکبھی بھی انہیں اس سے نکلنا نصیب نہ ہوگاتوپھر شرک اوروہ کبیرہ گناہ سزاکے اعتبارسےبرابرہوئے نہ مشرک کی مغفرت اورنہ ہی(مشرک کے علاوہ)دیگرمرتکبین کبیرہ کی مغفرت ان کے لیے بھی ابدی سزااوران کے لیےبھی ابدی سزا۔لہذا﴿وَيَغْفِرُ‌ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾کاصاف اورواضح مطلب ہے کہ شرک کے علاوہ دیگر کبیرہ گناہوں کے مرتکبین میں سے کچھ کو توابتداہی میں معافی مل جائے گی اورکچھ (جن کے لیے اللہ سبحانہ وتعالی کی حکمت وعدل کا تقاضا ہے کہ انہیں سزاملنی چاہیئے)اپنے گناہوں کی سزاپاکربلآخران کی بخشش ہوجائے گی اورانہیں جہنم سے نکال کرجنت میں داخل کردیا جائے گا۔انہیں جہنم کی ابدی سزانہیں ملے گی۔اس بارے میں صحیحین دیگر کتب احادیث میں بے شماراحادیث مروی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بالآخروہ سب لوگ جہنم سے نکالے جائیں گے جنہوں نے کوئی بھی نیکی اصلا نہ کی ہوگی اورایسی روایات حدتواترکوپہنچتی ہیں جن کا انکارنہیں کیا جاسکتا۔
علاوہ ازیں قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت کریمہ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿إِنَّهُ مَن يُشْرِ‌كْ بِاللَّـهِ فَقَدْ حَرَّ‌مَ اللَّـهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ﴾ (المائدۃ:۷۲)
‘‘یعنی جو شخص اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرےگاتواللہ تعالیٰ اس پر جنت کوحرام قراردے دیا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔’’
اس آیت کریمہ میں بھی اشارہ ہے کہ غیر مشرک کے لیے جنت ہمیشہ کے لیے حرام نہیں اگرچہ مشیت ایزدی کے مطابق کچھ وقت کے  لیے جہنم میں چلا بھی گیالیکن بالآخر اللہ تعالی کے فضل وکرم سے جنت میں داخل ہوجائے گااس کے لیے جنت ہمیشہ کے لیے حرام نہیں۔
بہرحال جنت ہمیشہ کے لیے حرام صرف مشرکین کے لیے ہے۔
یہ حقیقت بھی پیش  نظر رہنی چاہیئے کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ﴾  (النحل:۴۴)
‘‘اورہم نے تیری  طرف کتاب اتاری ہے تاکہ لوگوں کو کھول کھول کربیان کرے جوان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔’’
یعنی قرآن حکیم کی تبیین اورتوضیح اللہ سبحانہ وتعالی کے رسول اکرمﷺکے سپردکی ہے ۔لہذا مذکوربالااحادیث مبارکہ سورہ نساء اورمائدہ کی آیات کی ہی تشریح وتوضیح ہیں لہذاانہیں قبول کرنا ضروری ولازمی ہے۔باقی رہی یہ بات کہ ‘‘لا الہ الا اللہ’’کا مطلب کیا ہے؟توحید کا مفہوم کیا اورشرک کسے کہتے ہیں یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سمجھنی چاہیئے اس کے لیےذیل  میں کچھ تفصیل سے وضاحت کی  جارہی ہے۔بعون الله سبحانه وتعالي وحسن توفيقه-
‘‘لا الہ الا اللہ’’كا مطلب ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی بھی معبود برحق نہیں اورپوری مخلوق میں کوئی بھی ہستی ایسی نہیں چاہے وہ فرشتہ ہویا نبی یا کوئی اورمخلوق جواللہ سبحانہ وتعالی  کے ساتھ ذات میں صفات میں ،افعال واختیارات میں اورکائنات کے نظام کو چلانے میں شریک وندنہیں اورنہ  ہی اللہ تعالی کا کوئی کفووہم پلہ ہے اورنہ ہی اللہ تعالی کی مثل کوئی چیز ہے۔
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ (الشوری: ۱۱)
‘‘اس کے مثل کوئی چیز نہیں وہ سننے والا دیکھنے والاہے۔’’
﴿وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ (الاخلاص:۴)
‘‘اورنہ  ہی اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔’’
صحیح معنی میں‘‘لا الہ الا اللہ’’پر کامل ایمان رکھنے والاوہ شخص ہے جو اللہ تعالی پر ایمان اس طرح رکھے کہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنی ذات وصفات واسماء وافعال کے اعتبارسے وحدہ لاشریک لہ ہے،یعنی خالق مالک رازق اولا عطاکرنےوالابیماری سے شفایاب کرنے والا،عالم الغیب ،ہرشے پر قادرجس کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔کسی چیز کو حرام یا حلال قراردینے کا اختیاررکھنے والا،بندوں کی دعاوں کو قبول کرنے والا،عبادات کی جمیع انواع واقسام کا مستحق ،مرادیں پوری کرنے والا،نفع ونقصان اورزندگی وموت کا مالک ،ہر لمحہ اپنی مخلوق کی ہر ضرورت کو پوراکرنےوالا،ان کا محافظ ونگہبان وغیرہ وغیرہ صفات صرف اورصرف اللہ تعالی کے ساتھ ہی خاص  ہیں کوئی بھی ہستی اس کائنات میں ان صفات میں اللہ  تعالی کی شریک وثانی نہیں ہے۔اس طرح موحد ہونے اورشرک سے براءت کے لیے یہ بات بھی ضروری ہے کہ وہ موحد اللہ تعالی سبحانہ وتعالی کی تقدیر(یعنی اللہ کو ماضی،حال ،مستقبل،سب کا علم ہے جو کچھ ہوچکا اورجوہورہا ہےاورجو آئندہ ہوگا سب کچھ جانتا ہے اورجوکچھ ہوایا ہوگا سب ہی اس کے بنائے ہوئے منصوبہ کے مطابق عمل میں آرہا ہے۔)پرایمان رکھتاہواسی طرح تمام انبیاءورسل اورکتب سماوی پر ایمان رکھے کہ اللہ تعالی ابتداءہی سے انبیاء ورسل اورکتب کو بھیج رہا ہے اوریہ سلسلہ سیدنا وامامنامحمدرسول اللہﷺاورقرآن کریم پر آکرختم ہوا ہے اسی طرح آخرت کے دن پرایمان بھی ضروری ہے یعنی ایک دن سب انسان زندہ ہوکراللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اوراپنے اعمال کے مطابق جزوسزاپائیں گے نتیجہ جنت یا جہنم کی صورت میں ان کے سامنے واضح ہوجائے گا۔اسی طرح ایک موحد کو ملائکہ علیہم السلام پر ایمان لانا لازمی امر ہے۔اسی طرح جن اشیاء یا اوامروعبادات کو اللہ تعالی نے فرض قراردیاہے ان کی فرضیت پرایمان رکھتا ہو،مثلا نماز،روزہ وغیرہ اورجن اشیاء کو اس نے حرام وناجائزقراردیا ہے ان کو حرام اورناجائزسمجھتارہے۔یہ سب امورتوحید اورایک موحد کے لیے لازمی ہیں ان میں سے اگرکسی ایک کا بھی انکارکرتاہے یا اللہ تعالی کی صفات جو اس کے ساتھ خاص ہیں ان میں کسی کو شریک سمجھتا ہے۔مثلا اللہ سبحانہ وتعالی کے علاوہ کسی اورکو عالم الغیب یامشکل کشاسمجھتا ہے تووہ مشرک ہے موحد ہرگزنہیں ،اس کا‘‘لا الہ الا اللہ’’پر عمل نہیں۔اللہ تعالی کے ساتھ ذات صفات میں کسی کو شریک کرنے والے کامشرک ہونا توظاہروعیاں  ہے لیکن انبیاء ورسل ،کتب ،ملائکہ علیہم السلام اورتقدیراوربعث بعدالموت،جزاوسزا،جنت وجہنم ان پر ایمان نہ رکھنے والے اورانکارکرنے والے اوراسی طرح فرائض کی فرضیت کا انکارکرنے والے یا حرام کو حلال جاننے والے یا حرام نہ سمجھنے والے کو مشرک اس لیے کہا جاتاہے کہ رسل وپیغمبروں اورکتابوں کے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں انہیں بھیجتارہاہوں اوریہ سلسلہ میں نے محمد رسول اللہﷺاورقرآن پر ختم کردیا۔
فرشتوں کے متعلق فرمایا:یہ اللہ تعالی کی ایسی برگزیدہ مخلوق ہیں جہ ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں اورنافرمانی نہیں کرتے ،اسی طرح تقدیر کے متعلق بے شمارآیات واحادیث وارد ہوئی ہیں لیکن یہاں ایک ہی آیت پر اکتفاکیا جاتا ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـٰهُ بِقَدَرٍ‌﴾ (القمر:٤٩)
‘‘بے شک ہم نے ہرچیز کو ایک مقرراندازے پر پیداکیا ہے۔’’
اورآخرت کے متعلق بھی پورے قرآن مجید میں جابجاوعظ ونصیحتیں موجود ہیں بعینہ اسی طرح نماز،روزہ وغیرہ کے متعلق قرآن کریم میں موجود ہے کہ یہ فرائض ہیں۔حرام اشیاءکی مکمل توضیح قرآن کریم اوراحادیث مبارکہ میں موجودہے اب اگرکوئی شخص ان کو ماننے سےانکارکرتا ہے تواس کا صاف مطلب ہےکہ وہ اللہ تعالی کو (معاذاللہ ثم معاذاللہ)جھوٹا سمجھتاہےاورجھوٹ نقص،عیب وخامی ہے اوراللہ سبحانہ وتعالی ہرعیب ونقص سےقطعاپاک ہےاسماء الحسنی میں ایک اسم‘‘السلام’’ہےاورایک اسم مبارک‘‘القدوس’’بھی ہےجن کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی ہرعیب ونقص سے باعتبارذات وصفات پاک ہے۔عیب اورنقص مخلوقات کاخاصہ ہے لہذا جوشخص
اللہ تعالی کو نعوذ باللہ جھوٹا سمجھتا ہے تو اس نے واضح طورپر اللہ تعالی کومخلوق کے ساتھ مشابہ قراردیا اوریہی توشرک ہے اس پر خوب غوروتدبرکریں۔ہاں جو شخص مذکورہ بالاصفات وغیرہ وغیرہ سب پر ایمان رکھتا ہے اورفرائض کی فرضیت بھی تسلیم کرتا ہے اورتمام ممنوعات وناجائز کاموں کو حرام وناجائز جانتا ہے لیکن بتقاضائے بشریت فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی وسستی کاارتکاب کرتا ہے یا محرمات میں سے کسی حرام کام ارتکاب کربیٹھتاہے یہ مشرک نہیں بلکہ موحد ہی ہے ،البتہ اسے فاسق وگنہگارکہا جائے گااورایساشخص اگرتوبہ نصوحہ کرتا ہے اوراپنے کیئے پر نادم ہوتا ہے اورآئندہ بازرہتا ہے اورمزید اپنی اصلاح کرتاہے تو اس کا وہ گناہ اللہ تعالی کے ارشادموجب معاف ہوجاتا ہے لیکن اگرکوئی شخص بغیر معافی طلب کیے اس دنیا سے رخصت ہوگیا توپھراللہ تعالی کی مشیت کے ماتحت رہے گا چاہے اسےاپنے فضل عظیم سے معاف کردے اورجنت میں داخل کردے یا چاہے اسے گناہوں سےپاک صاف کرنے کے لیے کچھ وقت جہنم میں داخل کرے پھر اپنی نظر کرم سے معاف کرکےجنت میں داخل کردے۔یہ ہے صحیح مطلب ‘‘لا الہ الا اللہ’’کا اوریہی ہے صحیح وحقیقی موحد اورشرک سے بیزاراوربری باقی عوام بلکہ کچھ خواص بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اس حدیث شریف کا مطلب ہے کہ صرف زبان سے یہ الفاظ ‘‘لا الہ الا اللہ’’اداکردینے سے آدمی پکاموحد بن جاتا اوراس کے لیے جنت میں جانے کے لیے بھی الفاظ ادااکردینے کافی ہیں‘‘لا الہ الا اللہ’’کا زبان سے ورد کرنے کے بعدچاہے وہ پیروں کی پوجا کرے اورقبوں قبروں کاطواف کرتا پھرے اوران پرسجدہ کرتا رہے اورمردوں سے مرادیں مانگتا پھرے نماز وغیرہ کی فرضیت کا انکارکرتا رہے،محرمات،زنا،چوری ،شراب نوشی،جوا،سود،رشوت وغیرہ وغیرہ کوحلال سمجھتا رہے اورایمان کے اجزاءکاانکارکرےپھر بھی وہ موحد ہے اورجنت کا ٹھیکیدارہےتویہ احمقوں کی دنیا میں رہتا ہے آج کل کے نام نہاد مسلمان بزرگوں کی قبروں کی پوجاکرنےکے بعد بھی اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں۔حالانکہ مکہ مکرمہ کے کفاربتوں کی پرستش کرتےتھے اورجن بتوں کی پوجاکرتے وہ صلحاء وبزرگان دین کے مجسمےتھے وہ ان کے پوجنے سےیہ سمجھتے تھے کہ ان مجسمین کی ارواح خوش ہوکراللہ تعالی کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔
﴿وَيَقُولُونَ هَـٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّـهِ﴾ (یونس:۱۸)
‘‘اوروہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔’’
یعنی اس وقت کے کفارصالحین کے مجسموں کی پرستش کرتے تھے اورآج کل کےمسلمان انہی صالحین کی قبروں کو پوجتے ہیں خداراسوچیں کہ ان دونوں میں آخر کیا فرق ہے؟
لیکن وہ کفاراوریہ مسلمان فیاللعجب،اس کے برعکس اگران الفاظ (یعنی جس نے‘‘لا الہ الا اللہ’’کہا وہ جنت میں داخل ہوگا)کا مطلب یہی ہے کہ صرف زبان سے یہ الفاظ اداکردیئے جائیں باقی جومن میں آئے کرتا پھرے وہ مسلمان ہے اورپکا موحد ہے اورجنت کی ٹکٹ اس کے ہاتھ لگ گئی ہے توپھر سوچنے کی زحمت کی جائے کہ پھر ایسے آسان وسہل اسلام لانے سے ابولہب ،ابوجہل اوردیگر کفارکوکیا چیز مانع تھی جب کہ وہ انہیں تویہی الفاظ اداکردینے تھے باقی من مانیاں کرنے سے کوئی چیز انہیں مانع نہ تھی بلکہ جو کچھ بھی کرتے پھرتےان کے اسلام پر ذرابھربھی کوئی اثرنہ پڑتابلکہ جنت میں جانا بھی ان کے لیے آسان تھا پھرآخر وہ یہ الفاظ کہہ کردائرہ اسلام میں کیونکر داخل نہ ہوئے؟اصل حقیقت یہ ہے  کہ ان کی زبان عربی تھی ‘‘لا الہ الا اللہ’’کے معنی ومفہوم کو خوب جانتے تھے اوران کے تقاضوں کو بھی سمجھتے تھے کہ صرف یہ الفاظ کہنے کافی نہیں بلکہ ان الفاظ کے کہنے کے بعد ان کے معنی ومفہوم پر کام یقین واعتقادرکھنا ہوگااوراپنی زندگی انہی کلمات کے معنی ومفہوم پر عمل کرتے ہوئے اوران کی تقاضائے ومتمنات کو پوراکرتے ہوئے گزارنی پڑے گی اوریہی وہ بات تھی جو ان کے لیے مشکل تھی جو وہ نہ کرسکے اس وجہ سے وہ اسلام وایمان سے محروم رہے آخر ہمارےآج کل کے مسلمان نے جنت کو اتنا سستا کس بناپرسمجھ رکھا ہے ۔هَاتُوا۟ بُرْ‌هَـٰنَكُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ!
خلاصہ کلام:۔۔۔۔۔۔کہ ایک موحد کا جو صحیح طور پر توحید پر مستقیم ہے وہ خواہ صالح ہویاگنہگارلیکن جنت میں بہرحال ضرورداخل ہوگا خواہ ابتداءبغیر کسی سزاوعذاب کے بھگتنے کے خواہ بالآخر مقررہ مدت کے عذاب بھگتنے کے بعد لیکن یہ بات ہرسچے مومن کو ذہن میں رکھنی چاہیئےکہ جہنم کی آگ کی حرارت وتپش اس
دنیا وی  آگ سے کئی گنا زیادہ ہے ارشادربانی ہے:
﴿قُلْ نَارُ‌ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّ‌ۭا﴾ (التوبه:٨١)
‘‘یعنی آپ کہہ دیں کہ جہنم کی آگ سخت گرم ہے۔’’
اس کی تشریح صحیح بخاری میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایاکہ تمہاری یہ دنیا والی آگ جہنم کی آگ کا ستروں حصہ ہے۔ صحيحبخاري:كتاب بدءالخلق’باب صفة الناروانهامخلوقة’رقم الحديث٢٣٦٥.
یعنی جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے اونہتر درجے زیادہ گرم ہے پھر جب اس دنیا کی آگ میں آدمی ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتا توپھر اس آگ میں جواونہترمرتبہ زیادہ گرم ہے کس طرح رہ سکتا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے سبب اس میں داخل ہوگا اگرچہ اس میں رہنے کی مدت کتنی کم کیوں نہ ہو؟اس لیے نفس کو دھوکے میں رہنے نہ دیا جائے بلکہ اس زندگی میں اللہ سبحانہ وتعالی کی بارگاہ میں اپنے گناہوں پر پشیمان ہوکر پکی وسچی توبہ کرکے اعمال صالحہ کے ذریعےاپنی اصلاح کی جائے تاکہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنے فضل وکرم سے اسے نواز دے اوراپنی مغفرت میں اسے داخل کردے اوربغیر کسی عذاب کے اسے جنت میں داخل کردے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/15319/54/23
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
بسم الله الرحمن الرحيم
 لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ
شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا. ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین  پر. جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا.
مزید پڑھیں:
<<کتابت حدیث >>
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits

Why Friday Khutbah (Sermons) are ineffective ?جمعہ کا خطبہ غیر موثر کیوں ہوتا ہے ؟

بسم الله الرحمن الرحيم
لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ
شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس ہٹ دھرم کو وہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا. ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین  پر.
------------------------------------------
عالم اسلام (مسلمان ) تنزلی کا شکار ہے، جدید علوم کے حصول سے بیگانگی اور ماضی میں گم رہنے کی عادت اور سنہری دور کے حصول کی خواہش نے نوجوان نسل کو فرسٹیشن  کا شکار بنا دیا ہے- مولانا حضرات حقیقت پسندی کی بجائے شارٹ کٹ (دہشت گردی) سے عظیم مقاصد کا حصول اور مسمانوں کی سربلندی چاہتے ہیں- بڑی خواہشات اور خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں- اگر محمّد ﷺ کی زندگی اور جدوجہد پر ایک نگاہ ڈال لیں تو راستہ واضح ہو جائے گا- 13 سال کی مسلسل تبلیغ کے بعد اہل مدینہ کو اسلام کی طرف مائل کر سکے ، مکہ میں بہت تھوڑے لوگ مسلمان ھوئے- مدینہ کو حملہ کرکہ فتح نہ کیا ، لوگوں کے دل فتح کر لئے- پھر مکہ جنگ کے بغیر فتح ہوا- خلفاء راشدین کے دور کی تین دھایئوں وں میں انصاف کا نظام اپنی مثال آپ تھا- پھر تنزلی شروع ہو گیی- اسلام کے پہلے پچاس سال کی تاریخ میں بہت اسباق موجود ہیں- دنیا اچانک خود بخد سر نگوں نہیں ہوئی، نہ آج ہو گی جب تک ہم تاریخ سے سبق حاصل کرکہ اپنے رویہ نہ بدلیں- آج کے حقائق کا تجزیہ کریں اور محنت سے اگے بڑھئیں-
معاشرہ تنزلی کی گہرایوں کو چھورہا ہے، بے ایمانی، کرپشن، فحاشی کا دور دورہ ہے. ہر باضمیر مسلما ن کا دل کڑھتا ہے مگر وہ مجبور ہے لا چار ہے، سوچتا ہے کہ وہ کیا کر سکتا ہے سواۓ اللہ سے دعا کے. نماز پڑھ کر اللہ سے گڑگڑاکر دعا مانگتا ہے. مگر حالات بہتری کی بجائے خرابی کی طرف گامزن ہیں. وہ سمجھتا ہے کہ اس نے توبہت کوشش کی دعا بھی کی مگر قوم اس قدر بگڑ چکی ہے کہ اللہ کا عذاب اس پرنازل ہو رہا ہے:
اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدلتی(3:11،8:53)
Image result for ‫حکمت قرآن‬‎

ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری معاشرے کی تنزلی کی اصل وجہ مادہ پرستی اور دین اسلام سےبتدریج دوری ہے.اس کےسدباب کےلیے حکومت اور ارباب اختیار طویل مدتی اقدامات کر سکتے ہیں. مگر آپ اور ہم بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں اگر حقیقت میں ہم مخلص ہیں.
مسجد جو مسلمان کی زندگی میں مرکزی کردار کر سکتی ہے. ہم نے اس کو صرف عبادت گاہ تک محدود کر دیا ہے.اسلام میں عبادت کا نظریہ دوسرے مذاہب کے مقابلے میں بہت وسیع ہے. مسجد ایک  ادارے کے طور پر مسلمانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے استمال ہوتا رہا اس کردارکو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت ہے.اندازہ ہے کہ ایک مسلمان اپنی زندگی میں 40 یا 50 سال تک مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے جاتا ہو گا. یعنی وہ 2000 سے  2500 مرتبہ تو مسجد ضرور جاتا ہو گا سال میں 50- 52 مرتبہ.
Image result for friday sermon madina

زیادہ بڑے، لمبے چوڑے پلان کی ضرورت نہیں. اگر صرف جمعہ مبارک کو خطبہ سے قبل آدھ گھنٹہ دینی تعلیم و تربیت کے لیے استمعال کر لیا جائے تو بہت مفید نتائج حاصل ہو سکتے ہیں.

تبلیغ و اصلاح ، مسلمانوں کی اجتمائی ذمہ داری ہے. تبلیغی جماعت کے افراد سینکڑوں اور  ہزاروں میل کاسفر کرتے ہیں اس نیک مقصد کے لیے. مگرہم سب کے پاس ایک اچھا موقع موجود ہے. اگرچہ مسلمانوں کی اکثریت نماز سے غافل ہے مگر بہت بڑی تعدادکوشش کرکہ جمعہ کی نماز کے لیے مسجد پہنچ جاتی ہے. مگر افسوس اس قیمتی وقت کا مؤثر استعمال نہ ہونے کی وجہ سے وہ پھر اگلے جمعہ تک مسجد سے غائب ہو جاتے ہیں. کیوں کہ اکثروہاں ان کو خوب جھاڑ پچھاڑ کی جاتی ہے. ان کوبار باربتایا جاتا ہے کہ وہ گنہگار جہنمی ہیں کیوں کہ ان کی اکثریت مسلمان نظرنہیں آتی.ان کی مسجد انےکی حوصلہ افزائی کی بجائےان کو خوف اور ڈراوے سے بھگا دیا جاتا ہے- تمام علماء ایک جیسے نہیں، بہت سے میانہ روی، پیار اور اخلاق سے بھی کام لیتے ہیں-
اکثر موضوع ایسے ہوتے ہیں جن کا موجودہ حالات سے کم تعلق ہوتا ہے اور اگر تعلق ہو، تو انداز کسی پولیس والے سے کم نہیں.مولانا صاحبان کا غصہ بھی کسی حد تک جائزہو سکتا ہے کیوں کہ ان کی باتیں لوگ سن لیتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے.  لگتا ہے کہ خطیب صاحب اورسامعین دو مختلف مخلوقات ہیں.ایک جنتی اور دوسری جہنمی. زیادہ لوگ ڈانٹ ڈپٹ  سے بچنے کے لیے دیرسے آتے ہیں عربی خطبہ سن کر نماز ادا کرکہ چلے جاتے ہیں.

رسول اللہ ﷺ کے صبراور ہمت کی داد دینی پڑتی ہے:
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (٣:١٥٩ ،آل عمران)
"(اے محمدﷺ) یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے اتنے نرم مزاج ہو۔ ورنہ اگر تم درشت مزاج اور سنگدل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد و پیش سے منتشر ہو جاتے۔ انہیں معاف کر دیا کریں۔ ان کے لیے دعائے مغفرت کیا کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ بھی لے لیا کریں۔ مگر جب کسی کام کے کرنے کا حتمی ارادہ ہو جائے تو پھر خدا پر بھروسہ کریں بے شک اللہ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔" (٣:١٥٩ ،آل عمران)

کیا یہ ممکن ہے کہ تھوڑی سی کوشش سے، انداز بدلنے سے ہم جیسے گنہگار عام مسلمانوں کے دل میں نماز میں دلچسپی پیدا ہو سکے اور وہ مسجد انے کی کوشش کریں؟    
ھدایت تو اللہ کے اختیار میں ہے، ایک کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں. صرف ایک کام کرنا ہوگا، مولانا صاحب کے ساتھ بیٹھ کر موضوعات کی لسٹ بنا کر ان کی ایک ترتیب سے درجہ بندی کر لی جائے. سال میں پچاس یا باون تک  موضوعات ہو سکتے ہیں. ان موضوعات کی لسٹ کومسجد انتظامی کمیٹی اچھی طرح جانچ پڑتال کرے. موضوعات ایسے ہوں جو آج کے دور کے متعلق ہوں. ایسے متروک موضوع جیسے لونڈیاں، غلام وغیرہ پر زیادہ وقت صرف کرنے کی بجاتے،ایمانیات، اسلام کے بنیادی ستون و ارکان، خاص طور پرتوحید، رسالت، آخرت، جزاؤ سزا، صلاہ (نماز)، اخلاقیات، سچ و جھوٹ، رزق حلال، ایفاءعہد، قومی و بین الاقوامی ذمہ داریاں، جہالت، دینی ودنیاوی حصول علم، عمل صالح، حقوق العباد، حقوق نسواں، اقلیتوں کے حقوق، برداشت، صبر، دین و کلچر، امن و سلامتی، دہشت گردی، انسانی جان کی حرمت، خودکشی، فساد فی الارض، اور بہت سے موضوع.

اکثر دیکھا گیا ہے کہ مولانا صاحبان ظاہری آؤٹ لک (outlook، appearance) پر بہت زور دیتے ہیں. کوئی شک نہیں کہ ظاہر کا باطن پراثر ہوتا ہے، مگر شدت سےاس پر اصرارکے باوجود آج کےدورمیں مشاہدہ مختلف ہے. خوارج اور طالبان دھشتگردوں کے"ظاہر" کا ان کے "اندر"اسلام سے کوئی تعلق نہیں. آج کل بہت لوگ دکھاوے کو بظاہر مذہبی  مولانا لگتے ہیں مگر ان کا کردار دھوکہ ہے. بحرحال اچھے دین دارلوگ بھی ہیں جن کا ظاہر اور باطن مکمل اسلامی ہے اگرچہ تعداد میں کم.
سب سے زیادہ زورنماز پر ہونا چاہیے، باقی اقدام خود بخودظاہر ہوں گے. کچھ حضرات کو30، 40 سال سے با جماعت نماز ادا کرتےدیکھا پہلی صف میں، مگرابھی کچھ عرصہ قبل ہی انہوں نےسنت رسولﷺ  داڑھی رکھ لی۔ میں ذاتی طور پرکچھ کوجانتا ہوں وہ بہت اچھے کردار کے مثالی مسلمان تھے بغیر داڑھی کے اور اب تو مزید ماشااللہ  داڑھی کے ساتھ. سنت رسول ﷺ کی عظمت اور احترام لازم مگر اس پر عمل درآمد کے لیے پہلا بنیادی قدم نماز… نماز ….نماز…. .
     
پاکستان ایک اسلامی جمہوریت ہےموجودہ اسلامی آہین مذہبی سیاسی جماعتوں کی مشاورت اوراتفاق کے بعد ان کے دستخطوں سے نافذ ہوا.اس کے عملی اقدامات پر بحث ہوتی رہتی ہے. یہ کام سیاست دانوں،پارلیمنٹ، اسلامی نظریاتی کونسل وفاقی شرعی عدالت پر چھوڑدیں. متنازعہ موضوعات (topics) جن پرتمام لوگ متفق نہیں ہو سکتے جیسے سیاست و حکومت، فرقہ واریت اور  دہشت گردتنظیموں کی(covert, veiled) خفیہ طریقه سے حمایت سے اجتناب کیا جاے، قوم  پہلے ہی 70,000 سے زیادہ معصوم قیمتی جانوں کی قربانی دےچکی ہے. پاکستان کے دو سو سے زاید علماء، دارلعلوم دیوبند، سعودی اور عالم اسلام کے جید علماء کا متفقہ فتوی ہے آج کل اسلام کے نام پر جاری فساد کے خلاف کہ یہ جہاد نہیں اور یہ کہ جہاد بالسیف صرف حکومت وقت کی ذمہ داری ہےافراد اورگروہوں کی نہیں. خطیب صاحبان کو یہ واضح کرنے سے شرمانے کی ضرورت نہیں.جو  شخص اب بھی دہشت گردی کودل میں جہاد سمجھتا ہے خاموشی سے ان کو سپورٹ کرتا ہے،کھل کر مذمت نہیں کرتا اس سے بڑاجاہل اورمنافق کون ہوگا؟ ایسے لوگ رجوع کریں، اللہ سے معافی مانگیں.
ضرب عضب جاری ہے، فوجی اپنی جانیں قربان کر کہ عوام کی حفاظت کر رہے ہیں، ان کی کامیابی کی کھلے الفاظ میں دعا اور دشت گردوں، غیر ملکی دشمن کے ایجنٹوں کی بربادی کی کھلے الفاظ میں بدعا. گول مول ذومعنی الفاظ صرف دھوکہ ہے.اخبارات اور میڈیا سیاست سے بھرا ہے مسجد کواسلام کی آڑمیں مخصوص سیاسی نظریات کی تشہیر سے دور رکھنا چاہیے.
جب جہاد قتال حکومت کی ذمہ داری ٹھہری توعلماء رسول اللهﷺ کے فرمان کے مطابق جہاد اکبر، نفس کے خلاف جہاد کی ترویج کریں. فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا : پس (اے مردِ مومن!) تو کافروں کا کہنا نہ مان اور تو اس (قرآن کی دعوت اور دلائل) کے ذریعے ان کے ساتھ (جِهَادًا كَبِيرًا) بڑا جہاد کر،"(٢٥:٥٢الفرقان)
مسلمانوں پر قرآن کے حقوق ہیں : (1) قرآن پر ایمان(2) قرآن کو سمجھے(3) قرآن کو پڑ ہھے(4) قرآن کی تعلیمات پر عمل (5) قرآن کی تعلیمات کو دوسرے لوگوں تک پہنچا ے. مسجد کو اس مقصد کے لیے بھر پور طریقه سے استمال کرنا چاہیے.مسجد میں  قرآن کی تفسیر کی کلاس اچھا قدم ہے مگر بچوں، خواتین اور نوجوانوں کے لیے بھی کچھ سوچنا ہو گا.
موضوعات کی سلیکشن کے بعد ہر موضوع کے اہم نقاط (talking points) لکھ کر "صدرمسجد کمیٹی" سے  (Vet) کروایا جائے تاکہ موضوع سے ہٹ کر ادھر ادھر کی غیر ضروری باتوں میں وقت ضا یع نہ ہو.
اس طریقه میں آہستہ آہستہ ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کی جائیں تاکہ مطلوبہ مقاصد حاصل ہو سکیں.نتیجہ نمازیوں کی تعداد میں اضافہ سے ظاہر ہوگا. یہ عام لیول پرمخلصانہ کوشس ہوگی، دین اسلام کی ترویج کے لیے. اس تجریے کو ماڈل کے طور پر ہر جگہ، مساجد میں با آسانی عمل میں لایاجا سکتا ہے. مولانا صاحب کو اعتمادمیں لینا ضروری ہے وہ اس کو اپنے اوپر پابندی نہ سمجھیں بلکہ مدد سمجھیں اور اعلی مقصد کو مد نظر رکھیں. 20 کروڑ ابادی میں اگر ١٠٠٠ پر ایک مسجد ہو تو دو لاکھ مساجد ہوں گی، بڑی مساجد کے علا وہ لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ مساجد میں اگر ایسا کیا جائے تو جلد معاشرہ بہتری کی طرف سفر شروع کر لیے گا.  اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کی بہتری کی کوششوں میں برکت ڈالے انشااللہ.
آفتاب اجمد خان      
http://aftabkhan-net.page.tl
مزید پڑھیں:
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل



~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Why Friday Khutbah (Sermons) are ineffective ?


Every Friday millions of Muslims visit the nearby main mosque and listen to the Friday sermon (Khutbah, discourse) by the Khateeb (imam, Mullah). The Khutba is delivered in two parts, firstly the discourse delivered in the local language followed by a short 3 to 5 minutes Arabic fixed discourse comprising verses from Quran and Hadith repeated as a ritual. It is followed by Jumah Salah (prayer). Keep reading >>>>
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits