وفات، میت ، نماز جنازہ ، تعزیت، ایصال ثواب ، مسائل

کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ
(قرآن ٣:٨٥)



مسلمان کی موت، غم  پر " اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ" کہنا معمول ہے- مسلمان کی تجہیز وتکفین اور تدفین میں شرکت کرنا فرضِ کفایہ ہے۔ فقہاء کرام ؒ صاحب میت کی تعزیت کے مستحب ہونے پر اپنے اس قول کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں'' وتسن تعزیۃ المصاب بالمیت''۔ لہٰذا تعزیت حسب حال مستحب، سنت مؤکدہ اور اگر رشتے دار ہوں تو واجب کے درجے میں ہے۔

تعزیت کے فضائل:
تعزیت کے فضائل میں متعدد احادیث وآثار منقول ہیں اور مسلمانوں کا اس پر عمل بھی ہے، تعزیت کے باب میں جو احادیث نقل کی گئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعزیت سنت مؤکدہ کے درجہ رکھتی ہے۔
ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
'' من عزى مصابا فله مثل أجره"
(ترجمہ )جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی تو اس کے لئے مصیبت زدہ کے برابر ثواب ملتا ہے۔
ابن ماجہ اور دیگر نے حضرت عمرو بن حزم سے نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"ما من مؤمن يعزي أخاه بمصيبه إلا كساه الله من حلل الكرامة يوم القيامة"
(ترجمہ )جو مومن اپنے بھائی کی مصیبت کے وقت اس کی تعزیت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت وشرف کا لباس پہنائیں گے۔
طبرانی اور دیگر محدثین نے نبی ﷺ کا یہ قول نقل کیا ہے: "جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی اللہ تعالیٰ اسے جنت کے کپڑوں میں سے ایسے دو جوڑے پہنائیں گے ، دنیامیں جو عدیم المثال ہے۔
تعزیت کے بارے میں مذکورہ فضائل اور اس کے ثواب کے علاوہ تعزیت کی سب بڑی فضیلت ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ عمل نبی ﷺ کی قولا، فعلا، اور حالا واقرارا سنت ہے۔

تعزیت کا طریقہ:
تعزیت کے لئے شریعت نے کوئی مخصوص طریقہ مقرر نہیں کیا ہے، ہاں تعزیت کی چند شکلیں ہیں جو ہم ذیل میں بیان کررہے ہیں:

۱)۔تعزیت کے لئے جائے تو میت کی مغفرت اور اس کے وارثین کو صبر پر اجر کی دعا کرے ، اور اس موقع پر سب سے بہتر دعا یہی ہوسکتی ہے، جسے نبی ﷺنے پڑھی ہے: " إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى " (ترجمہ) لی ہوئی چیز بھی اسی کی ہے اور دی ہوئی چیز بھی اسی کی تھی اور ہر چیز اس ذات کے پاس وقت مقررہ کے مطابق لکھی ہوئی ہے۔
اس موقع پر میت کے رشتے داروں اور اقرباء کو صبر وثواب کی امید کی ترغیب دی جائے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی کوجب ان کے محبوب کی وفات ہوئی تو حکم دیتے ہوئے فرمایا:
'' مرها فلتصبر ولتحتسب فإن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى '' [متفق عليه]
تعزیت کے موقع پر میت کے رشتے داروں کو یہ کلمات بھی کہے جاسکتے ہیں:
'' أحسَنَ اللهُ عَزَاءَكُم وَجَبرَ مُصَابَكُم وَغَفَرَ لمَِيتكُم" ۔
یا ان کلمات کی طرز پر کوئی مناسب دعائیہ کلمات جس میں میت کے لئے تسلی، صبر اور اجر وثواب ہو کہے جاسکتے ہیں۔

۲)۔ تعزیت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ میت کے گھر والوں کے لئے کھانے کا انتظام کرکے یا اس سلسلے میں ان کی ضرورتوں کو پوری کرکے انہیں تسلی دی جائے، نبی کریم ﷺ کو جب اپنے چچا حضرت جعفر بن ابی طالب کی جنگ موتہ میں شہادت کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اپنے گھر میں حکم دیا: '' اصنعوا لآل جعفر طعاما، فقد اتاھم ما يشغلهم (جعفر کے اہل خانہ کے لیے کھانا تیار کرو، غم کے سبب ان کے اہل خانہ یہ نہیں کرسکتے)

اہل میت اور تعزیت کرنے والوں کے لئے ان آداب کو ملحوظ رکھنا چاہیے:

۱)۔اہل میت کی نفسیاتی، اجتماعی اورمعاشی حالت کا خیال رکھنا ضروری ہے، باربار ان کے پاس آنے سے انھیں زحمت نہ ہو،ان کے پاس قیام کرنے سے ضیافت کا بوج نہ پڑے، اسی طرح گھر کی تنگی کے سبب تکلیف نہ ہو۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعزیت کے وقت اہل میت کی نفسیات کا خیال رکھا جائے اور اس موقع پر مناسب بات چیت کا بھی خیال رکھا جائے، ایسا نہ ہو کہ گفتگو سے ان کے غم میں مزید اضافہ ہو۔
خاص طور پر خواتین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ تعزیت کے موقع پر آوازوں کو بلند کرنے، چہروں کو نوچنے، کپڑوں کے پھاڑنے اور بالوں کو نوچنے یا میت کی خوبیوں کو بلند آواز کے ساتھ گنانے یا اس کے مناقب کو یاد کرکرکے رونے سے کلی طور پر پرہیز کریں کیونکہ یہ سب باتیں حرام نوحہ میں شامل ہیں۔نبی کریم ﷺ نے ان باتوں کو جاہلیت کے اعمال بتایا ہے۔

۲)۔ اہل میت اس موقع پر صبر، اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء، اس مصیبت میں ثواب کی امید،کثرت سے میت کے لئے دعا و استغفار،اگر میت پر کسی کے حقوق ہیں تو اس کی تلافی،اور اگر اس پر قرض ہیں تو غسل ونماز جنازے سے قبل ان کی ادائیگی کی کوشش کریں۔

۳)۔اسی طرح میت کے متعلقین کے لئے ضروری ہے کہ وہ کھیل کود، ہنسی مذاق،حرام مشروبات کے پینے اور حرام چیزوں کے کھانے سے قطعی طور پر پرہیز کریں۔

احادیث مبارکہ میں خاوند کے علاوہ میت کا تین دن سوگ کرنے کا ذکر ہے:

قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَی اُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ حِينَ تُوُفِّيَ اَبُوهَا اَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَدَعَتْ اُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ اَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَالله مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ اَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَاَةٍ تُوْمِنُ بِالله وَالْيَوْمِ الْآخِرِ اَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَـلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَعَشْرًا

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں حضورنبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ اُن کے والد ماجد حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو منگائی جس میں خلوق یاکسی اور چیز کی زردی تھی۔ انہوں نے وہ خوشبو ایک لڑکی کو لگائی اور تھوڑی سی اپنے رخسار پر بھی مل لی، اور فرمایا کہ خدا کی قسم! مجھے خوشبو کی حاجت نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کسی عورت کے لئے یہ جائز نہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو کہ تین دن سے زیادہ کسی میت کا سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے اُس کا سوگ چار ماہ دس دن ہے۔
بخاري، الصحیح، 5: 2042، رقم: 5024، دار ابن کثیر الیمامة بیروت
مسلم، الصحیح، 2: 1123، رقم: 1486، دار احیاء التراث العربي بیروت

قَالَتْ زَيْنَبُ فَدَخَلْتُ عَلَی زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ اَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ اَمَا وَالله مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ اَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله يَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَاَةٍ تُوْمِنُ بِالله وَالْيَوْمِ الْآخِرِ اَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَعَشْرًا

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اُم المؤمنین زینب بنتِ حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ ان کے بھائی کاانتقال ہوگیا تھا۔ انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں تھوڑی سی لگاکر فرمایا: خدا کی قسم! مجھے خوشبو کی حاجت نہیں ہے، لیکن میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عورت کے لیے یہ حلال نہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو کہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند کے کہ وہ چار ماہ دس دن ہے۔
بخاري، الصحیح، 1: 430، رقم: 1222
مسلم، الصحیح، 2: 1124، رقم: 1484

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے تین دن سوگ کرنے کا ثبوت تو واضح ہے لیکن تیسرا ، دسواں ، چالیسواں دن شرعاً ضروری نہیں۔ یہ عارضی طور پر اور انتظامی سہولت کے پیش نظر مقرر کیے جاتے ہیں۔ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر بہت سے حقوق ہوتے ہیں جن میں بیمار کی عیادت کرنا، مرجائے تو اس کے جنازہ میں شریک ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله لِلْمُوْمِنِ عَلَی الْمُوْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ اَوْ شَهِدَ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 ایک مومن کے دوسرے مومن پر چھ حق ہیں:
1.بیمار ہو تو عیادت کرے
2.مر جائے تو نماز جنازہ میں شامل ہو
3.دعوت دے تو قبول کرے
4.ملاقات کرے تو سلام کرے
5.اسے چھینک آئے توجواب دے۔یعنی یرحمک اللہ ( اللہ تجھ پر رحم فرمائے ) کہے
6.اس کی موجودگی و عدم موجودگی میں اس کی خیر خواہی کرے۔
ترمذي، السنن، 5: 80، رقم: 2737
نسائي، السنن الکبری، 1: 630، رقم: 2065، دار الکتب العلمیة بیروت

ایک اور روایت میں ہے:
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله لِلْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ سِتٌّ بِالْمَعْرُوفِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَتْبَعُ جَنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر نیکی میں چھ حقوق ہیں: جب ملاقات کرے تو سلام کہے، اس کی دعوت قبول کرے، چھینک کا جواب دے، بیمار ہو تو عیادت کرے، مر جائے تو اس کے جنازہ کے پیچھے چلے اور اس کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
احمد بن حنبل، 1: 88، رقم: 673
ترمذي، السنن، 5: 80، رقم: 2736
ابن ماجه، 1: 641، رقم: 1433، دار الفکر بیروت

عموماً مرنے والے کے عزیز، رشتہ دار اور دوست احباب ہوتے ہیں، ان میں کچھ تو جنازے میں شریک ہوجاتے ہیں، جبکہ کچھ بوجوہ شریک نہیں ہوسکتے۔ اب دو صورتیں بنتی ہیں: ایک تو وہ چپ کرکے بیٹھے رہیں اور آنے کی زحمت ہی نہ کریں، دوسرا یہ کہ وہ میت کے عزیز و اقارب کے پاس اظہار تعزیت کے لیے آئیں۔
بزرگوں نے چند دن اپنی اور آنے والوں کی سہولت کے لیے مخصوص کردئیے ( جن کی شرعی حیثیت تو نہیں مگر سوشل، کلچرل رواج ہے) تاکہ دونوں کو سہولت رہے، یہی دن بعد میں تیسرا یا چالیسواں کے نام سے مشہور ہوگئے جو جنازے سے رہ گیا وہ قل خوانی پر آجائے جو اس سے رہ گیا وہ دسواں یا چالیسویں میں شریک ہوجائے۔
مقرر کردہ دنوں میں اعزاء و اقارب کے جمع ہونے کے بعدگپ شپ کے بجائے تلاوت قرآن پاک، کلمہ طیبہ اور درود و سلام وغیرہ کا ورد کرنا یا حسب توفیق صدقہ و خیرات کرنا تاکہ جمع ہونے والوں اور اہل خانہ کی طرف سے مرحوم کو ثواب ارسال کردیا جائے اور دعائے مغفرت کی جائے، تو یہ باعث ثواب ہے اور میت کے لیے کار آمد ہے۔

مرنے کے بعد مردوں کو فائدہ پہنچانے والے اعمال:

انسان کی زندگی چند روزہ ہے ،اس زندگی کے اختتام کے بعد وہ برزخی زندگی میں قدم رنجہ ہوتا ہے ، جہاں پر انسان کے کئے ہوئے اعمال نعمت یا عذاب کی شکل میں اس کے سامنے آتے ہیں، اس زندگی میں قدم رکھنے کے بعد انسان نیک اعمال کرنے کی حسرت کے باوجود کچھ بھی نہیں کر سکے گا ۔ لیکن اﷲ تعالیٰ کا مومنوں پر یہ بھی بے پایاں کرم واحسان ہے کہ اس نے انہیں ثواب پہنچانے کی اجازت دے رکھی ہے جس سے انہیں قبر میں نعمتیں ملتی ہیں، درجات بلند ہوتے ہیں اور عذاب سے راحت ملتی ہے ۔ میت کو ثواب پہچانے کا موضوع زندوں اور فوت شدگان سب کے لیے اہم ہے، زندوں کے لیے  خصوصاً اس لیے کہ وہ اپنی عمر کے لمحات کو غنی مت جانیں اور دنیائے فانی سے اپنا حصہ حاصل کرتے ہوئے آخرت کے لیے عمل کریں ۔اور فوت شدگان کے لیے بھی اس معنی میں اہم ہے کہ ہر زندہ شخص کے کوئی نہ کوئی ایسے رشتہ دار مثلاً ماں باپ ، بہن بھائی وغیرہ ضرور موجودہیں جو اس سے پہلے انتقال کرچکے ہیں، تو انہی کی طرح اس کو بھی ایک نہ ایک دن اس دار فانی سے کوچ کرنا ہے ، اس لیے زندوں کوچاہیے کہ وہ ایسے کام کریں جو مرنے کے بعد بھی ان کے لیے نفع بخش ہوں ۔مثلاً صدقہ جاریہ اور علم نافع وغیرہ،تاکہ وہ ان اعمال صالحہ کے ساتھ قبر میں داخل ہو۔ اور زندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قریبی مرحوم بھائیوں کے لیے نیکی کریں ، اس لیے کہ جیسا عمل ہو گا ویسا ہی صلہ ملے گا ، اگر آپ نے اپنے مرحومین کے لیے کارِ خیر کیا تو آنے والی نسل آپ کے لیے نیک کام کرے گی ۔
 میت کے ایصالِ ثواب کی خاطر اتنے مسنون کام ہیں جو ہمیںہرقسم کے خرافات سے بے نیاز کرنے والے ہیں جن کے متعلق لوگوں کا گمان ہے کہ وہ میت کو فائدہ پہنچانے والے ہیں، جبکہ درحقیقت وہ میت کو فائدہ نہیں بلکہ اذیت پہنچانے والے ہیں ۔

 دوسروں کے عمل سے نفع پہنچانے والے کام

1. نمازِ جنازہ : 
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” جس مسلمان میت کی نمازِ جنازہ چالیس ایسے مسلمان ادا کریں جو اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے ،تو اﷲ تعالیٰ اس میت کے حق میں ان کی سفارش کو ضرور قبول فرماتاہے “ ۔ [مسلم ] دوسری روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” جس میت کی نمازِ جنازہ امت مسلمہ کے سو افرادادا کرکے اس کی شفاعت کرتے ہیں تو ان کی سفارش اس میت کے حق میں قبول کی جاتی ہے “۔ [مسلم]
امام ابن قیم رحمہ اﷲ فرماتے ہیں : ” نمازِ جنازہ کا مقصد میت کے لیے دعا ہے “ ۔ [ زاد المعاد :1/505]

2. قبر کے پاس کھڑے ہوکر دعا اور طلبِ مغفرت کرنا :
 حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کو قبر میں رکھتے تو فرماتے :(بِسمِ اﷲِ وَعَلٰی سُنَّةِ رَسُولِ اﷲِ) :” اﷲ تعالیٰ کے نام سے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر “۔ [رواہ ابوداؤد وصححہ البانی ]
نیز حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ :” جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میت کی تدفین سے فارغ ہوتے تو قبر پر کھڑے ہوکر فرماتے : ” اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو، اور اس کے لیے ( اﷲ تعالیٰ سے ) ثابت قدمی مانگو ، اس لیے کہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا “ ۔ [ ابوداؤد ، اورعلامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ]

3. قبرستان کی زیارت اور میت کے لیے دعائے مغفرت:
 رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب قبرستان تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے :اَلسَّلاَمُ عَلٰی اَھلِ الدِّیَارِ مِنَ المؤُ مِنِینَ وَالمُسلِمِینَ وَیَرحَمُ اللّٰہُ المُستَقدِمِینَ مِنَّا وَالمُستَاخِرِی وَاِنَّا اِن شَائَ اللّٰہُ بِکُم لاَحِقُونَ ۔
ترجمہ :”سلامتی ہو اِن گھروں میں رہنے والے مومنوں اور مسلمانوںپر، اوراللہ تعالی رحم کرے ہم سے پہلے فوت ہونے والوں پر اور پیچھے رہنے والوں پر۔ اور ہم بھی اگراﷲ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔“[رواہ مسلم]
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” تمام علماءکا اس بات پر اتفاق ہے کہ دُعا مُردوں کے لیے فائدہ مند ہے اور اس کا ثواب انہیں پہنچتا ہے “
شیخ جما ل الدین القاسمی  فرماتے ہیں : ” دوستی اور بھائی چارگی کا حق یہ ہے کہ میت کی زندگی اور وفات کے بعد بھی اس کے لیے ہر اس چیزکی دعا کرے جسے انسان اپنے آپ ، اہل وعیال اور اپنے متعلقین کے لیے پسند کرتا ہے ، اور اسی طرح دعا کرے جس طرح وہ اپنے لیے کرتا ہے “۔

4. میت کے حق میں مسلمانوں کی دعا :
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”ایک مسلمان کی دعا،اپنے مسلمان بھائی کے لیے، اس کی عدم موجودگی میںمقبول ہوتی ہے ، اس کے پاس ایک فرشتہ متعین کردیا جاتا ہے ، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے کسی بھلائی کی دعا کرتا ہے تو متعین فرشتہ آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تجھے بھی اسی طرح ملے “۔[رواہ مسلم]
بلکہ نمازجنازہ خود اس کی سب سے بڑی مثال ہے ، اس لیے کہ اس کا اکثر حصہ میت کے حق میں دعا اور استغفار پر مشتمل ہے ۔

5. میت کے قرض کی ادائےگی : 
رسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے : ” مومن کی روح اسکے قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے ، حتی کہ اس کی جانب سے وہ قرض ادا کردیا جائے “ [ بخاری ]
اور حضرت ابو قتادة رضی اللہ عنہ کی روایت جو ایک میت کی جانب سے قرض کی ادائیگی کے بارے میں ہے ، جب انہوں نے اس کی جانب سے اس کا قرض ادا کردیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب اس پر اس کی چمڑی ٹھنڈی ہوگئی “۔ ( یعنی اب اس کے جسم کو سکون ملا ہے ) [ رواہ الحاکم وصححہ البانی ]
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں : ”اس حدیث سے  معلوم ہوا کہ قرض کسی بھی شخص کی جانب سے ادا کیا جاسکتا ہے ، قرض کی ادائیگی اولاد ہی کے لیے مخصوص کرنا ضروری نہیں“۔[ مجموع الفتاویٰ : 24/311]

6. نذر اور روزہ وغیرہ کی قضا :
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” جو شخص اس حال میں انتقال کرجائے کہ اس کے ذمہ روزے ہوں، تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزہ رکھے گا “ ۔ [ متفق علیہ]

 7. میت کی جانب سے صدقہ ادا کرنا :
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے : ” ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : ”میری ماں کا اچانک انتقال ہوگیا ، اور وہ وصیت نہیں کرسکی ، اور مجھی یقین ہے کہ اگر اسے بات کرنے کا موقعہ ملتا تو وہ ضرور صدقہ کرتی، اگر میں اس کی جانب سے صدقہ کروں تو کیا اسے اور مجھے ثواب ملے گا ؟“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ! “ پھرانہوں نے اپنی ماں کی جانب سے صدقہ کیا “۔ [ متفق علیہ]

8 میت کی جانب سے غلام یا لونڈی آزاد کرنا :
” عتق“سے مراد غلام یا لونڈی کو غلامی سے آزادی دلاناہے ۔حدیث میں ہے کہ : ” جو شخص کسی مومن کی گردن کو آزاد کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کردےتا ہے ، حتی کہ اس کے ہاتھ کے بدلے ہاتھ ، پاوں کے بدلے پاوں اور شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ “۔[ متفق علیہ ]

9.میت کی جانب سے حج کرنا :
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت نے پوچھا تھا : ” میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی ، لیکن وہ وفات تک حج نہیں کرسکی، کیا میں اس کی طرف سے حج کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کی طرف سے حج کرو ، پھر فرمایا : ذرا بتلا ! اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں ؟ اﷲ کا حق ادا کرو ، کیونکہ اﷲ زیادہ حقدار ہے کہ اس کا حق ادا کیا جائے “۔ [ متفق علیہ]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : ” ایک عورت نے کہا : ”یا رسول اﷲ ! میری ماں کا انتقال ہوگیا اور وہ حج نہیں کرسکی، اگر میں اس کی جانب سے حج کروں تو اس کی جانب سے حج ادا ہوجائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں “۔ [مسلم]

 اپنے اعمال سے حاصل ہونے والے فوائد

1. میت کے نیک اثرات اور صدقہ جاریہ:
فرمانِ الٰہی ہے : ﴾ وَ نَکتُبُ مَاقَدَّمُوا وَآثَارَہُم ﴿ [یسین: 12]ترجمہ : ” اور جو کام انہوں نے کیے ہےں اور جو کچھ آثار انہوں نے پےچھے چھوڑے ہےں ، وہ سب ہم لکھتے جارہے ہیں “۔
امام ابن کثیررحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : ” جو کام انہوں نے خود کئے ہیں اور جن کاموں کے اثرات انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ، وہ سب ہم لکھتے جارہے ہیںاور اسی پر ہم انہیں بدلہ دیں گے ، اگر اچھے ہوں تو اچھا ، اگر برے ہوں تو برا بدلہ دیا جائے گا “۔
2. نیک اولاد کے اعمال ِ صالحہ :
نیک اولاد جو نیک اعمال کرتی ہیں ان کے ثواب میں کمی کئے بغیر ا ن کے والدین کو بھی ان ہی کے برابر ثواب دیا جائے گا، اس لیے کہ اولاد بھی والدین کی کوشش اور کمائی کا ایک حصہ ہیں ، جےسا کہ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴾ وَ اَن لَیسَ لِلاِنسَانِ اِلاَّ مَا سَعٰی ﴿[النجم : 39] :” اور يہ کہ انسان کو صرف اسی کے عمل کا بدلہ ملے گا“۔
اور رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے : ” سب سے پاکےزہ مال وہ ہے جو انسان اپنی کمائی سے کھاتا ہے اور اس کی اولاد بھی اسی کی کمائی کا اےک حصہ ہے “۔[ ابوداؤد : اور علامہ البانی  نے اس روایت کوصحیح قرار دیاہے]

3. صدقہ جاریہ ، علمِ نافع ، اور دعا کر نے والی نیک اولاد :
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
 ” جب انسان مرجاتا ہے تو اس سے اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے ، سوائے تےن چےزوں کے :صدقہ جاریہ یا وہ علم جس کے ذریعے [ مخلوق کو ) فائدہ حاصل ہو یا اس کے لیے دعا کر نے والا نیک لڑکا “۔ [ مسلم ]

4. قرآن مجید وقف کرنا، مسجدیں اورسرائے تعمیر کرنااور نہریں جاری کرنا:
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ” مومن کو اس کی موت کے بعد اس کے جس عمل اور جن نیکیوں کا ثواب ملتا رہے گا( وہ یہ ہیں ) : علم ، جو اس نے سکھایا اور اسے پھیلایا ، یا نیک اولاد جسے اس نے اپنے پیچھے چھوڑا ، یا قرآن مجید جو ورثہ میں چھوڑا، یا مسجد کی تعمیر کی، یا مسافرخانہ بنایا، یا نہر جاری کی، یا اس نے اپنی زندگی میں صحت کی حالت میں کوئی صدقہ کیا ، اس کا اجر اس کی موت کے بعد بھی ملتا رہے گا “ ۔[ ابن ماجہ ، وحسّنہ الالبانی]

5. میت نے کسی نیک کام کی بناءڈالی ، یا دعوت ہدایت دی:
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ” جس نے اسلام میں کسی اچھے کام کی (بشرطےکہ وہ کتاب وسنت سے ثابت ہو ) بنیاد ڈالی ، اسے اس( نیک کام )کا بھی ثواب ملے گا، اور اس کے بعد اس کارِ خیر پر عمل کرنے والوں کے عمل کابھی، اوران کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی “۔[ مسلم]

6.پودا لگانا یا کھیتی کرنا :
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے  مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مسلمان کوئی پودا لگاتا، یا کھیتی کرتا ہے ، اس سے پرندے ، یا انسان ، یا جانور جو کچھ کھائیں گے ، اسکی وجہ سے ا سکو صدقہ کا ثواب ملے گا “ [متفق علیہ ]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے، تو اس درخت سے جو کچھ کھایا جائے گا اس کے حق میں صدقہ ہوگا ، اور جو اس سے چُرا یا جائے گا وہ بھی صدقہ، اوراس سے درندے جو کچھ کھائیں گے وہ بھی صدقہ ،اور جوکچھ پرندے کھائیں گے وہ بھی صدقہ، اور اس سے جو بھی کچھ لے گا تو وہ اسکے حق میں صدقہ ہوگا “ [ مسلم ]
وہ امور جو میت کے لیے بے فائدہ ہیں
تمام ایسے کام جن کی قرآن و سنت سے سند ثابت نہیں یا جن سے منع کیا گیا ہے-   گال پیٹنا اور گریبان چاک کرنا :رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے، جس نے (اظہارِ رنج کے لیے) گریبان کو چاک کیا ، اور گالوں کو پیٹا اور جاہلیت کی باتیں کیں“ ۔[ متفق علیہ]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ” میت کو اس پر نوحہ خوانی کی وجہ سے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے “ ۔[ مسلم ]
اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ میت کواپنے گھر والوں کے رونے کی آواز سن کر اذیت پہنچتی اور وہ رنج وغم میں مبتلا ہوتا ہے۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”اس معاملے میں آپ صلی اللہ کی عادتِ مبارکہ خاموشی اور اﷲ کی تقدیر پر رضا مندی، اور اﷲ کا شکر بجا لانا اور ”ا نّا ﷲ وانّا الیہ راجعون“ پڑھنا تھی اور آپ صلی للہ علیہ وسلم  ہر اس شخص سے اپنی لا تعلقی کا اظہار فرماتے جس نے مصیبت کی وجہ سے اپنے کپڑے پھاڑ ے ، یا نوحہ خوانی کرتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کیا ، یا اپنے سر کو منڈوالیا “ ۔ [ زاد المعاد : 1/527]

نمازِ جنازہ پڑھنے کا طریقہ 

نماز جنازہ فرض کفایہ ہے، اگر بعض لوگوں نے پڑھ لی تو سب سے فرض ساقط ہو جائے گا لیکن اگر کسی نے بھی نہ پڑھی تو سب گنہگار ہوں گے۔ اس کے ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ امام میت کے سینے کے مقابل کھڑا ہو۔ اگر میت بالغ ہو تو اس کی دعائے مغفرت کا ارادہ کرے اور اگر میت نابالغ ہو تو اسے اپنا فرط، اَجر و ذخیر اور شفاعت کرنے والا اور مقبولِ شفاعت بنانے کا ارادہ کرے۔ 
اس کے بعد نماز جنازہ کا فریضہ ادا کرنے کی نیت اِس طرح کرے :
چار تکبیریں نماز جنازہ فرضِ کفایہ، ثنا واسطے اﷲ تعالیٰ کے، درود شریف واسطے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے، دعا واسطے حاضر اس میت کے، منہ طرف کعبہ شریف کے (اور مقتدی یہ بھی کہے : ) پیچھے اِس امام کے۔ 
پھر رفع یدین کے ساتھ تکبیر تحریمہ کرکے زیرِ ناف ہاتھ باندھ لے اور یہ ثنا پڑھے:

سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَجَلَّ ثَنَاءُ کَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ.

دوسری تکبیر ہاتھ اٹھائے بغیر کہے اور یہ درود پاک پڑھے :

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّيْتَ وَسَلَّمْتَ وَبَارَکْتَ وَرَحِمْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.

پھر ہاتھ اٹھائے بغیر تیسری تکبیر کہے اور میت اور تمام مسلمانوں کے لیے دعائے مغفرت کرے۔ بالغ مرد و عورت دونوں کی نمازِ جنازہ کے لیے یہ دعا پڑھے :

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيْرِنَا وَکَبِيْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا. اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَه مِنَّا فَاَحْيِه عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَه مِنَّا فَتَوَفَّه عَلَی الإِيْمَانِ.
فتاویٰ عالمگيری، 1 : 164
’’یا اللہ! تو ہمارے زندوں کو بخش اور ہمارے مردوں کو، اور ہمارے حاضر شخصوں کو اور ہمارے غائب لوگوں کو اور ہمارے چھوٹوں کو اور ہمارے بڑوں کو اور ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو۔ یا اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے تو اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو ہم میں سے موت دے تو اس کو ایمان پر موت دے۔‘‘
اگر نابالغ لڑکے کا جنازہ ہو تو یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطاً وَّاجْعَلْهُ لَنَا اَجْرًا وَّذُخْرًا وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَّ مُشَفَّعًا.
فتاویٰ عالمگيری، 1 : 164
’’اے اللہ! اس بچہ کو ہمارے لیے منزل پر آگے پہنچانے والا بنا، اسے ہمارے لیے باعثِ اجر اور آخرت کا ذخیرہ بنا، اور اسے ہمارے حق میں شفاعت کرنے والا اور مقبولِ شفاعت بنا۔‘‘
نابالغ لڑکی کا جنازہ ہو تو یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطاً وَّ اجْعَلْهَا لَنَا اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّ اجْعَلْهَا لَنَا شَافِعَةً وَّ مُشَفَّعَةً.
’’اے اللہ! اس بچی کو ہمارے لیے منزل پر آگے پہنچانے والا بنا، اسے ہمارے لیے باعثِ اجر اور آخرت کا ذخیرہ بنا، اور اسے ہمارے حق میں شفاعت کرنے والا اور مقبولِ شفاعت بنا۔‘‘
اگر کسی کو ان دعاؤں میں سے کوئی دعا یاد نہ ہو تو یہ دعا پڑھ لینی چاہیے :

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَنَا وَلِوَالِدَيْنَا وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ.
’’اے اللہ! تو ہمیں ہمارے والدین اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔‘‘

اگر یہ دعا بھی یاد نہ ہو تو جو دعا یاد ہو وہی پڑھ سکتا ہے۔

پھر چوتھی تکبیر بغیر ہاتھ اٹھائے کہے اور بعد ازاں اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَةُ اﷲِ کہتے ہوئے دائیں بائیں سلام پھیر دے۔

https://www.kitabidunya.com.pk/shop/اسلام/دیگر.../مسائل-میت/
3 days ago - kitabidunya is the largest bookstore, you can buy books, novels, guides online. We have books on various topics and huge collection of ...

میّت کے اَحکام 

shaheedeislam.com/ap-kay-masail-vol-03-mayyat-kay-ahkaa

Aug 1, 2010 - جس میّت کا مذہب معلوم نہ ہو اُسے کس طرح کفن دفن کریں گے؟ ..... لیکن وہ خاتون مسئلے مسائل بتانے لگیں، مختصراً یہ 
کہ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں ...

احکام میت 

عبادات / احکام میت. اگر مصنوعی دانت لگے ہوں تو كیا نماز جنازہ نہیں ہوتی؟ ( Oct 18, 2017 ) · مردہ کے لیے ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعا کرنا ( Oct 22, 2017 ) · میت كو اپنے ...


مزید پڑھیں:

Also Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
SalaamOne سلام

Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
Web,Books, Articles, Magazines,, Blogs, Social Media,  Videos
Over 3 Million visits/hits

کیا تاریخی واقعات دین اسلام کی بنیاد ہو سکتے ہیں؟


قرآن کے تین بڑے دعوے دنیا میں کوئی کتاب نہیں کرسکتی: (١)قرآن اللہ کا کلام ہے جس میں کوئی شک نہیں اور(٢) ہدایت کی کتاب ہے (٣)اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ نے لیا ہے-
الله کا فرمان ہے: ذلِکَ الکِتبُ لَا رَیبَ فِیہِ ھُدَی للمُتَّقِینَ۔ (سورۃبقرہ 2:2)
" یہ وہ کتاب ہے جس میں کو شک کی گنجائش نہیں(الله سے) ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (سورۃاالبقرہ 2:2)
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ﴿٩﴾
"ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں (21:9 الحجر) 
قرآن کو رسول اللہﷺ پر نازل فرمایا جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، اس لیے رسول الله کی سنت دین اسلام کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے-
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا (٣٣:٢١ الاحزاب )
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے (٣٣:٢١ الاحزاب )
مسلمان قرآن و سنت کی اہمیت سے اچھی طرح سے اگاہ ہیں، قرآن تاریخ کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے تاکہ پرانے لوگوں اور انبیا کی امتوں کے واقعات سے سبق حاصل کریں-

قرآن اور تاریخ :
قرآن کی نظر میں تاریخ حصول علم و دانش اور انسانوں کے لیے غور و فکر کے دیگر ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ قرآن نے انسانوں کو غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے غور و فکر کے منابع بھی ان کے سامنے پیش کیے ہیں۔ قرآن نے مختلف آیات میں انسانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ گزشتہ اقوام کی زندگی کا مطالعہ کریں۔ ان کی زندگی کے مفید نکات پیش کرنے کے بعد انہیں یہ دعوت دی کہ وہ باصلاحیت افراد کو اپنا ہادی و رہنما بنائیں اور ان کی زندگی کو اپنے لیے نمونہ سمجھیں۔ قرآن مجید میں کچھ پیغمبروں کی زندگی کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ ہم ہدایت اور نصحت پکڑیں ( هود، 120، 87 غافر، نساء، 164)
لَقَدْ كانَ في‏ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبابِ ما كانَ حَديثاً يُفْتَرى‏ وَ لكِنْ تَصْديقَ الَّذي بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصيلَ كُلِّ شَيْ‏ءٍ وَ هُدىً وَ رَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ. (یوسف، 111)
" یقینا ان کے واقعات میں صاحبان عقل کے لئے سامان عبرت ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے گڑھ لیا جائے یہ قرآن پہلے کی تمام کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں ہر شے کی تفصیل ہے اور یہ صاحبان ایمان قوم کے لئےھدایت اور رحمت بھی ہے۔" (یوسف، 111)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ فرماتا ہے:
قد کان لکم اسوة حسنة فی ابراھیم والذین معہ (سورة الممتحنة 60:4)
”تم لوگوں کے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔“
اسی طرح رسول اکرم کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:
لقد کان لکم (رضی اللہ ) رسول اللہ اسوة حسنة (٣٣:٢١ الاحزاب )
”درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے۔“
حدیث و سنت نبوی کی رفتار و گفتار امت مسلمہ کے لیے حجت قاطع اور سند محکم ہیں۔ سیرت نبوی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہمارا اخلاق و کردار نبی کی سیرت کے مطابق ہونا چاہیے جس کی تفصیلات حدیث کی کتب میں موجود ہے-
علم 'تاریخ' :
قرآن میں تاریخ کی حیثیت اور اہمیت واضح ہے- "تاریخ" جدید علوم کا اہم حصہ ہے- تاریخ کے اصطلاحی معانی بیان کرتے ہوئےسکالرز نے اس کی مختلف تعریفیں کی ہیں:
١. تاریخ وہ علم ہے کہ جس کے ذریعے انسانی معاشروں میں ارتقاء کے ذریعہ تبدیلی واقع ہوئی اور وہ کس طرح ایک مرحلے سے گزر کر دوسرے مرحلے تک پہنچے اور اس ارتقاء پذیر حالت کے وقت ان میں کون سے قوانین کارفرما ہیں۔
٢.کسی ایسے قدیم اور مشہور واقعہ کی مدت ابتداء معین کرنا، جو عہد گذشتہ میں رونما ہوا ہو اور دوسرا واقعہ اس کے بعد ظہور پذیر ہو۔
٣. سرنوشت یا قابل ذکر ایسے اعمال و افعال نیز حادثات اور واقعات کا ذکر جنہیں زمانے کی ترتیب کے لحاظ سے منظم و مرتب کیا گیا ہو۔
٤.عہد حاضر کی وضع و کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ واقعات و حادثات اور عہد ماضی کے انسانوں کی حالت اور کیفیت بیان کرنا۔
اس میں سوانح عمری، فتح نامے اور سیرت کی وہ کتابیں شامل ہیں جو تمام اقوام میں لکھی گئی ہیں اور اب بھی لکھی جا رہی ہیں۔
تاریخ کی خصوصیات:
(١) تاریخ جزئی ہوئی ہے، مجموعی اور کلی نہیں۔
(٢)تاریخ محض منقول ہے اور اس میں عقل و منطق کا داخل نہیں ہوتا۔
(٣)ان واقعات کا تعلق ماضی سے ہوتا ہے حال ، مستقبل سے نہیں۔
علمی اور بیانیہ تاریخ کی تشکیل چونکہ ان واقعات کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے جو عہد ماضی میں گزر چکے ہیں اس لیے محققین یہ طے نہ کرسکے کہ یہ واقعات کس حد تک معتبر یا غیر معتبر ہوسکتے ہیں۔ 
بعض محققین کی رائے یہ ہے کہ قدماء کی کتابوں میں بیانیہ تاریخ سے متعلق جو کچھ درج کیا گیا ہے اسے بیان اور قلمبند کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے واقعات کو اغراض کی بنیاد، شخصی محرکات، قوت تعصبات یا اجتماعی و عقیدتی وابستگی کی بنیاد پر نقل کیا ہے اور اس میں تصرف و تحریف کرکے واقعات کو اپنی منشاء کے مطابق پیش کیا ہے یا انہوں نے واقعات کو اس طرح لکھا ہے جس سے ان کے اغراض و مقاصد پورے ہوتے تھے اور ان کے عقائد کے منافی بھی نہیں تھے۔
بیانیہ تاریخ کے بارے میں یہ بدبینی بے سبب نہیں ہے، بلکہ اس کا سرچشمہ تاریخ کی کتابوں کی کیفیت اور مورخین کے مزاج کو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود تاریخ بھی دیگر علوم کی طرح مسلمہ حقائق و واقعات پر مبنی ایک سلسلہ ہے جو کہ حتمی نہیں مگراس کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک محقق شواہد و قرائن کی بنیاد اور اپنی اجتہادی قوت کے ذریعہ سراغ لگا سکتا ہے کہ حوادث و واقعات میں کس حد تک صحت و سقم ہے اور انہی کی اساس پر وہ بعض نتائج اخذ کرسکتا ہے۔مگر یہ شریعت کی بنیاد نہیں بن سکتے جب تک قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو-
تاریخ اسلام کی اہمیت اور قدر و قیمت
جن مسلم اور غیر مسلم محققین اور دانشوروں نے تاریخ خصوصاً تاریخ اسلام اور سیرت النبی کے بارے میں تحقیق کی ہے انہوں نے اس کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر اس کی قدر و قیمت کا اعتراف کیا ہے۔
جرح و تعدیل:
علماء نے تاریخی روایات سے استفادے کیلئے جو نظام تشکیل دیا اسے ” جرح و تعدیل ” کے نام سے پہچانا جاتا ہے جسکی بنیاد اس نص قرآنی پر ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے:
"اے اہل ایمان! اگر آپ لوگوں کے پاس کوئی فاسق خبر لے آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کسی گروہ کو جہالت میں نقصان پہنچا بیٹھیں اور پھر اپنے فعل پر نادم ہوں۔ "(الحجرات 49:6)
اس جرح و تعدیل کے ماہر حضرات مورخین و محدثین ہیں اسکی نص بھی قرآن سے بیان ہوتی ہے ۔
ترجمہ :" اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن یا خوف کی تو اس کو مشہور کرديتے ہیں اور اگر اس کو پہنچا ديتے رسولؐ تک اور اپنے اولو الامر (علماء و حکام) تک تو جان لیتے اس (کی حقیقت) کو جو ان میں قوتِ استنباط (حقیقت نکالنے کی اہلیت) رکھتے ہیں اس کی اور اگر نہ ہوتا فضل ﷲ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پيچھے ہو ليتے شیطان کے سواۓ چند (اشخاص) کے۔(النساء:83)
علما امت نے مستقل تاریخ اسلامی سے متعلق ایسی کتب لکھی ہیں جن میں تاریخی روایت کے نتیجے میں پیدہ ہونے والے اشکالات کا حل موجود ہے۔ ابن تیمیہ رح کی منہاج السنہ ، ابن العربی رح کی العواصم من القواصم، حضرت شاہ ولی الله دھلوی رح کی ازالة الخفاء عن خلافت الخلفاء وغیرہ۔ اسی طرح ماضی قریب اس موضوعات پر سینکڑوں کتابیں لکھی گئی-
تنقید:
"تاریخ کو حدیث سے کہیں زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ تاریخی واقعات نقل کرنے والے راویوں کی معرفت حاصل کی جائے کیونکہ جھوٹ اورتساہل کا وجود تاریخ میں بہت زیادہ ہے"۔[علم الرجال وأهميته للمعلمی ص: 257] یہ قول ہے علامہ معلمی رحمہ اللہ کا (المتوفی1386) جن کو امیرالمؤمنین فی الجرح والتعدیل ، فقیہ اسماء الرجال کھا جاتا ہے-
عام طوریہ سمجھا جاتا ہے کہ جس اسلوب میںعلماء احادیث رسولؐ کی چھان بین کرتے ہیں اسی انداز میں تاریخ کی بھی کرنی چاہیے۔ لیکن اسکی ضرورت نہیں کیونکہ:
(١) احادیث کے مقاصد تاریخ کے مقاصد میں بہت فرق ہے- احادیث سے تو دین کا ثبوت ہوتا ہے جبکہ تاریخ شریعت کے اصولوں میں شامل نہیں۔ تاریخ کے مقاصد فرق ہیں اور وہ گزرے ہوئے حالات اور معاملات کی فہمی اور اس سے عبرت ہے۔
(٢) ایک رائے کے مطابق اسلامی تاریخ کی حیثیت ویسی ہی ہے جوکہ تفسیر میں اسرائیلیات کی ہے۔ یعنی کسی واقعہ کو تفصیلا سمجھنے کے لیے تاریخ کی مدد لی جاسکتی ہے ورنہ شرعی استدلال "اسرائیلیات" سے درست نہیں الا یہ کہ وہ بذات خود شریعت سے ثابت ہو۔
(٣) اسی طرح تاریخ سے ایک عمومی بات کو تو قبول کیا جاسکتا ہے لیکن تفاصیل کو نہیں کیونکہ تفاصیل میں ہر مؤرخ اپنے بیان میں منفرد ہوتا ہے۔
(٤) تاریخ کی انتہاء نہیں جبکہ شریعت مکمل ہوچکی ہے۔ تاریخ تو آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک چلتی آرہی ہے جبکہ جس شریعت کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے اسکی ابتدا اللہ کے رسول (ص) کی نبوت سے ہوئ اور آپؐ کی وفات کے ساتھ تکمیل بھی۔ اس لیے تمام تاریخ کو احادیث کے معیار پر پرکھنا نہ صرف وقت کا ضیاء ہے بلکہ ناممکن بھی۔ اسی لیے ہمیں احادیث کی اسناد کی چھان بین کرنے والے تو بہت ملیں گے لیکن تاریخ کے کم۔ 
(٥) اہل علم نے بھی تاریخ کو اس طرح اہمیت نہیں دی اسی لیے ہمیں نامور مؤرخین میں ایسے بھی مل جائیں گے جوکہ 'جرح و تعدیل' کے معیار پر تو کمزور ہیں لیکن تاریخ میں انکا اپنا مقام ہے۔ اگر تاریخ کو انہیں معیارات پر پرکھنا شروع کردیا جائے جس پر احادیث کو کیا جاتا ہے تو تاریخ کا اکثر حصہ فارغ ہوجائے گا۔
(٦)اگر معترض یہ سوال کرے کہ صحابہ کی طرف بعض لوگ غلط باتیں منسوب کرتے ہیں تو کیا اب ہم اسکو قبول کرلیں؟ تو ممکنہ جواب ہو گا کہ ہر وہ چیز جسکا تعلق دین سے ہو وہ بغیر سند کے قبول نہیں کی جائے گی لیکن جسکا تعلق دین سے نہیں اسکواس طرح پرکھنے کی ضرورت نہیں۔
تاریخ اسلام
تاریخ کے جتنے بھی منابع و ماخذ موجود ہیں ان میں تاریخ اسلام سب سے زیادہ معلومات سے لبریز اور مالا مال ہے چنانچہ جب کوئی محقق تاریخ اسلام لکھنا شروع کرتا ہے اور اسے تاریخی واقعات وافر مقدار میں بصورت دقیق مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخ اسلام میں بمقابل دوسری تواریخ جس قدر مستند و باریک نیز روشن نکات موجود ہیں وہ دیگر تواریخ میں نظر نہیں آتے۔
ان خصوصیات کا سرچشمہ سیرت اور سنت رسول (ص) ہے اور یہ مسلمانوں کے لیے قطعی حجت و دلیل ہے چنانچہ وہ انہی کی پیروی کرتے ہیں۔
پیغمبر اسلام اور مذہب اسلام کو دیگر مذاہب پر فوقیت حاصل ہے، کیونکہ آپ کی تاریخ روشن و مستند ہے۔ اس اعتبار سے دنیا کے دیگر رہبر و راہنما ہماری برابری نہیں کرسکتے چنانچہ پیغمبر اسلام کی زندگی کی دقیق باتیں اور اس کے جزئیات آج بھی ہمارے پاس قطعی اور مسلم طور پر احادیث کی کتب میں موجود و محفوظ ہیں۔ آپ کا سال ولادت ماہ ولادت روز ولادت یہاں تک کہ ہفتہ ولادت بھی تاریخ کے سینے میں درج ہے۔ دوران شیرخوارگی، وہ زمانہ جو آپ نے صحراء میں بسر کیا، وہ دور جب آپ سن بلوغ کو پہنچے، وہ سفر جو آپ نے ملک عرب سے باہر کیے، وہ مشاغل جو آپ نے مبعوث بہ رسالت ہونے سے پہلے انجام دیئے ہیں وہ ہمیں بخوبی معلوم ہیں۔ آپ نے کس سال شادی کی اور اس وقت آپ کا سن مبارک کیا تھا؟ آپ کی ازواج کے بطن سے کتنے بچوں نے ولادت پائی اور کتنے بچے آپ کی رحلت سے قبل اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ وفات کے وقت آپ کی کیا عمر تھی؟ یہ واقعات مبعوث برسالت ہونے کے وقت تک ہیں، اس کے بعد کے واقعات اور دقیق ہو جاتے ہیں۔ تفویض رسالت، جیسا عظیم واقعہ کب پیش آیا وہ پہلا شخص کون تھا جو مسلمان ہوا، اس کے بعد کون شخص مشرف با اسلام ہوا۔ آپ کی لوگوں سے کیا گفتگو ہوئی؟ آپ نے کیا کارنامے انجام دیئے اور کیا راہ و روش اختیار کی سب دقیق طور پر روشن و عیاں ہیں۔
سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پیغمبر اکرم کی تاریخ میں زمانہٴ ”وحی“ کے دوران تحقیق ثبت کی گئی۔ تئیس سالہ عہد نبوت کا ہر واقعہ وحی آسمان کے نور سے منور ہوا، اور اسی کی روشنی میں اس کا تجزیہ کیا گیا، قرآن مجید میں جو واقعات درج ہیں ان میں اکثر و بیشتر وہی مسائل و واقعات ہیں جو عہد نبوت کے دوران پیش آئے۔ ہر وہ واقعہ جسے قرآن نے بیان کیا ہے بے شک وہ خداوند عالم الغیب والشہادہ نے ہی بیان کیا ہے۔ قرآن کی رو سے تاریخ بشر اور اس کا ارتقاء اصول و ضوابط کی بنیاد کے سلسلے پر قائم ہے، عزت و ذلت، کامیابی و ناکامی فتح و شکست اور بدبختی و خوش نصیبی کے واقعات دقیق و منظم حساب کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ان اصول و ضوابط اور قوانین کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کو رسول اللہ (ص) اور اصحابہ کرام کیتاریخ کوقرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا جائے اور اس کے ذریعے اپنی ذات نیز معاشرے کو فائدہ پہنچایا جائے۔
تاریخ میں مثبت اور منفی واقعات کو سمجھ کر اس سے سبق حاصل کیا جا سکتا:
قد خلت من قبلکم سنن فسیروا فی الارض فانظر واکیف…
”تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں، زمین میں چل پھر کر دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے اللہ کے احکامات اور ہدایات کو جھٹلایا۔“
اس میں شک نہیں کہ تاریخ اسلام کا شمار دنیا کی اہم ترین تواریخ عامہ میں ہوتا ہے، کیونکہ مذکورہ تاریخ نے قرون وسطیٰ سے متعلق پوری دنیا کی تاریخ تمدن کا احاطہ کرلیا ہے۔ بالفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ اسلام زنجیر کی وہ کڑی ہے جس نے دنیائے قدیم کی تاریخ کو جدید تاریخ سے متصل کیا ہے۔ یہ تاریخ اسلام ہے جس سے جدید تمدن کا آغاز اور قدیم تمدن کا اختتام ہوتا ہے ۔ لیکن تاریخ شریعت کی بنیاد نہیں مددگار ہو سکتی ہے قرآن و سنت کی روشنی میں-
دین اسلام میں تاریخ کی حثیت:
جب ہم تاریخ کو دین کا جزو سمجھ کر نتائج اخذ شروع کر تے ہیں تو بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں-اس طرح بہت بڑی غلط فہمیان پیدا ہوتی ہیں- قاری جس کسی مورخ کی تحریر پڑھے گا اس سے اثر قبول کرکہ اپنا نظریہ بنا کر اس کے دفاع میں لگ جایئے گا- دو مخالف افراد کی بحث ایک دائرہ کی شکل اختیار کرکہ گھومنا شروع کرتی ہے جس کا کوئی اختتام نہیں ہوتا- اللہ کا فرمان بار بار دہرانے کی ضرورت ہے :
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو (سورة الحجرات49:6)
مورخین اکثر خود واقعات کے چشم دید گواہ نہیں ہوتے وہ سنی سنائی روایت کو لکھ دیتے ہیں- تاریخ بطور "موضوع" ایک سائنس ہے اور سائنسی تجزیہ، عقیدے، جذبات اور تعصب سے ماورا ہوتا ہے- ہم اگر تاریخِ اسلام کوکسی مخصوص مسلمان فرقہ کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے نظریات مسلط کرکہ نتائج اخذ کریں گے- لیکن اگر سیکولر ، مغرب سٹنڈرڈ سے دیکھیں تو معاملہ کچھ اور ہو گا جو شاید ہما رے عقائد سے ٹکراتا ہواس لیے ضروری ہے کہ تاریخ اسلام کو عقائد کی بنیاد بنانے سے پرہیز جائے-
کتابت احادیث:
احادیث سے مراد وہ تمام اقوال ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں۔ احادیث کو لکھنے اور یاد کرنے کا کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے شروع ہو گیا تھا۔ عربوں کو چونکہ اپنے حافظہ پر ناز تھا اس لیے وہ تمام باتوں کو یاد کر لیتے تھے۔ قران کی طرح احادیث کی کتابت کا اہتمام خلفاء راشدین اور ان کے بعد کی صدی تک کے حکمرانوں نے بوجوہ نہ کیا- حضرت عمر فاروق رضی الله قرآن پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے تھے انہوں نے سختی سے احادیث کو لکھنے سے منع فرمایا ، جس پر بعد میں بھی کوئی تبدیلی نہ ہوئی- اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے- کئی سو سالوں تک احادیث کو جمع کرنے کا کام کیا جاتا رہا ہے۔ احادیث کے مجموعے مختلف اصحاب و علماء و محدثین کے ناموں سے مشہورہویے- چھ مستند کتابیں صحاح ستہ (٢٢٥ -٣٠٣ ھ) (١)صحیح بخاری (٢) صحیح مسلم(٣) سنن نسائی(٤) سنن ابی داؤد (٥) سنن ابن ماجہ(٦) سنن ابن ماجہ ہیں-حدثین کی ان کتابوں میں ایک طرف دینی معلومات جمع کی گئیں اور دوسری طرف ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے کے صحیح تاریخی واقعات جمع کیے گئے ہیں۔ اس طرح احادیث کی یہ کتابیں دینی و تاریخی دونوں اعتبار سے قابل بھرو سہ ہو سکتی ہیں- 
حدیث کے معاملہ میں اگرچہ بہت احتیاط برتی گئی مگر پھر بھی اسناد، تصدیق اور دوسری اہم وجوہات کے لحاظ احادیث کومختلف کیٹیگریز میں رکھنا ضروی ھوا- سب سے مستند "صحیح" اور نچلے درجہ میں ضعیف، موضوع وغیرہ- علم حدیث کو علم تاریخ سے علیحدہ رکھنا چاہیے-
تکمیل دین اسلام:
جب حج الوداع کے موقع پر المائدہ کی آیات ٣ ، نازل ہوئی جس میں دین کے کامل ہونے کا اعلان کر دیا گیا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ( المائدہ: 5:3) 
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ "اس دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کامل کر دیا ہے" اور اپنے نبی اور مومنوں کو اس کا کامل ہونا خود اپنے کلام میں فرما چکا ہے اب یہ رہتی دنیا تک کسی زیادتی کا محتاج نہیں ، اسے اللہ نے پورا کیا ہے جو قیامت تک ناقص نہیں ہوگا۔ اس سے اللہ خوش ہے اور کبھی بھی ناخوش نہیں ہونے والا ۔
اس وقت قرآن اور سنت رسول اللہﷺ تواتر میں موجود تھی مثلاً نماز، روزہ ، زکات ، حج اور دوسرے احکام و معاملات پر لاکھوں مسلمان عمل درآمد کر رہے تھے، قران حفاظ صحابہ اکرام کے دماغ میں اور مختلف طریقوں پر تحریر کی شکل میں موجود تھا جس کوحضرت عمر (رضی اللہ) کے اصرار پر حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ) کے دور میں اکٹھا کر دیا گیا، اور پھر حضرت عثمان رضی الله نے تو سرکاری طور پر اس قرآن کو اہل قریش کی قرات میں تحریرکروا کرعالم اسلام میں بھجوا دیا اور تمام غیر سرکاری نسخوں کو جلا دیا- نماز میں قران مسلسل تلاوت کیا جاتا تھا- پوری توجہ قرآن پر تھی- 
تکمیل دین اسلام (حج الوداع) کے اعلان کے 51 سال بعد 61 ہجری میں سانحہ کربلا پیش آیا اور 200 سال بعد احادیث کی مشہور کتب کی تدوین شروع ہوئی۔ جب اسلام کی تکمیل 10 ہجری کو ہو چکی تھی۔ اسلام کے اراکین پر عمل ہو رہا تھا مسلسل نماز ، روزہ ، زکات، حج ۔۔ ایمان سب کچھ معلوم تھا جو سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہو رہا تھا۔ پھر بہت تاریخی واقعات پیش آئیے۔۔ ان سے کوئی اسلام کے ارکان میں یا دین میں اضافہ یا کمی ممکن نہ تھی اللہ کا فرمان دیں کی تکمیل اور قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی۔ 
ہم کو تاریخ کو تاریخ سمجھ کر پڑہنا چاہیئے تاریخ دین کی بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور سنت دیں کی بنیاد ہے۔ 
ہم آج بھی 70 سال بعد بحث کرتے ہیں کہ قائد اعظم سیکولر پاکستان بنانا چاہتے تھے یا اسلامی ۔۔ دونوں طرف سے دلائل موجود ہیں ، تقریروں کی ریکارڈنگ ۔۔ اخباروں کے تراشے اور چشم دید گوایان کے بیانات اور کتابیں تک موجود ہیں مگر اس جدید میڈیا کے دور میں تاریخی اختلاف ختم نہیں ہو رہا-
مقدمہ ابن خلدون:
ابن خلدون (وفات؛ 1406ء،808 ہجری ) ایک مشہور مورخ، فقیہ ، فلسفی اور سیاستدان تھا-ا بن خلدون کو تاریخ اور عمرانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ" مقدمتہ فی التاریخ" ہے جو "مقدمہ ابن خلدون" کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تاریخ، سیاست ، عمرانیات ، اقتصادیات اور ادبیات کا گراں مایہ خزانہ ہے۔ تاریخ کو باقاعدہ ایک سائنسی علم کا درجہ ابن خلدون نے دیا آج سے 600 سال قبل-
تاریخ طبری:
ابن خلدون 800 ہجری کا مورخ ہے جس نے تاریخ کے اصول بنایے- تاریخ طبری" بہت زیادہ مشہور و معروف ہےجس کو بہت سے محقق ریفر کرتے ہیں- علامہ ابن جریر بن یزید طبری (المتوفی: ۳۱۰ھ) سانحہ کربلا کے چشم دید گواہ نہیں وہ تو ٢٠٠ سال بعد کی پیدائش ہیں - اکثر لوگوں کو علم نہیں کہ اسی نام کا دوسرا شخص شیعہ عالم تھا، جس کی بہت ساری تصانیف بھی ہیں- دونوں کا نام ولدیت اور کنیت ایک جیسی ہے؛ اس لیے بہت سارے خواص بھی اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں،پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں کے دادا کا نام جدا جدا ہے،سنی ابن جریر کے داد کا نام یزید ہے اور شیعہ ابن جریر کے دادا کا نام رستم ہے- اسی تشابہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعہ علماء نے ابن جریر (شیعی) کی بہت ساری کتابوں کی نسبت ابن جریرسنی کی طرف کرنے کی کوشش کی ہے-
تاریخ طبری میں جگہ جگہ حضرات صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ایسی بے بنیاد اور جھوٹی روایات مروی ہیں، جن کی کوئی معقول و مناسب توجیہ نہیں کی جاسکتی ہے- روایات پر کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ تاریخ طبری میں بڑے بڑے دروغ گو ، کذّاب اور متہم بالکذب راویوں کی روایات بھی جگہ جگہ موجود ہیں۔ طبری اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
مقدمہ تاریخ طبری:
"میں نے اس کتاب میں جو کچھ ذکر کیا ہے ا س میں میرا اعتماد اپنی اطلاعات اور راویوں کے بیان پر رہا ہے نہ کہ عقل و فکر کے نتائج پر ، کسی پڑھنے والے کو اگر میری جمع کردوں خبروں اور روایتوں میں کوئی چیز اس وجہ سے ناقابل فہم اور ناقابل قبول نظر آئے کہ نہ کوئی اسکی تک بیٹھتی ہے اور نہ کوئی معنی بنتے ہیں تو اسے جاننا چاہیے کہ ہم نے یہ سب اپنی طرف سے نہیں لکھا ہے بلکہ اگلوں سے جو بات ہمیں جس طرح پہنچی ہے ہم اسی طرح آگے نقل کردی ہے"۔ [علامہ ابن جریر بن یزید طبری (المتوفی: ۳۱۰ھ)]
راوی ابومحنف اور ہشام بن محمد سائب بھی ہیں۔ لیکن وہ قابل اعتبار نہیں۔ ابومحنف راوی اپنی طرف سے باتیں بنا لیتا ہے۔ اسی طرح کے راویوں کی روایت کی بنیاد پراگر ایک نیا مذہبی بیانیہ ترتیب دیا جائےتو اس کی کیا حثیت ہو گی ، کوئی بھی اندازہ کر سکتا ہے!
صحابہ اکرام:
ابتدائ تاریخ اسلام کو سمجھنے کے لئے، صحابہ کرام کا مزاج سمجھنا ضروری ہے ۔ تاریخِ اسلام سے رغبت رکھنے والوں کو پہلے صحابہ کے زمانہ کے رواج اور اس پاک جماعت کے مجموعی کردار کو سمجھنے کی ضرورت ہے- "حیات الصحابہ" نامی کتاب کا مطالعہ کیجئے- اس مقبول عام کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ مصنف نے صحابہ بارے سب میسر احادیث کو مختلف عنوانات میں جمع کر لیا ہے اور فیصلہ قاری کے ذہن اور ایمان پہ چھوڑ دیا ہے۔ لنک آخر میں-
صحابہ اکرام انسان تھے ان میں اختلاف ، رنجش اور لڑائ ہوئی تھی مگر اتنے قتل اور مظالم بہرحال نہیں ہوئے جو تاریخ نے "ریکارڈ" فرمائے ہیں-اس سلسلے میں کچھ ضروری باتوں کا خیال رکھنا چاہیے : 
1- ممکن ہے کہ دو گروہ آپس میں اختلاف کریں اور دونوں حق پہ ہوں (بلکہ اختلاف تو ہوتا ہی اہل حق میں ہے جنکا کوئ نظریہ ہو، اہل باطل کا کیا اختلاف ہو گا جنکا ہدف کسی طریقے سے پیٹ بھرنا ہو- قرآن بتاتا ہے کہ موسٰی اور ہارون، موسٰی اور خضر میں اختلاف ہوا-
2- دونوں اہل حق میں ایک ہی زیادہ حق پر ہو گا مگر اس سے دوسرے کی شان میں کمی نہیں آتی- قرآن بتاتا ہے کہ داؤد نے فیصلہ کیا مگر انکے بیٹے سلمان نے انکے برخلاف فیصلہ کیا جو کہ زیادہ درست تھا- دونوں نبی رہے اور کسی کو معزول نہیں کیا گیا-
3- حضرت امر معاویہ (رضی اللہ ) اور حضرت علی (رضی اللہ ) کی فوج میں موجود صحابی، کیا ایک دوسرے کو قتل کر کے بھی جنت جائیں گے؟- جی ہاں، ام حارثہ کی حدیث یاد کیجئے-
حارثہ کو حضور کے سامنے، مسلمان کے تیر نے شہید کیا اور سرکار نے انکے لئے جنت کی بشارت دی-
4- حضرت امر معاویہ (رضی اللہ ) اور حضرت علی (رضی اللہ ) کے علاوہ بھی صحابہ میں آپس میں رنجش ہو جایا کرتی تھی کہ یہ انسانی فطرت ہے- قرآن میں آیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں جائیں گے تو انکے دلوں کو اس کینے سے پاک کیا جائے گا جو دنیا میں تھا- اسکا مطلب ہے مومنین میں آپس میں رنجش اور خفگی ہو جایا کرتی ہے-
یہ حیران کن ہے ہے کہ اس دور کے کچھ علماء حضرات، صحابہ کے فیصلوں کی غلطیاں نکال کر، انکی نیتوں پہ حملے کرتے ہیں- فارسی میں ایک مثال ہے "امور مملکت را خسرواں می دانند"- عثمان، علی اور معاویہ، جو کچھ بھی تھے، اپنے زمانے کے حمکران تھے اور موجودہ کئ کئ ممالک پہ مشتمل علاقہ انکے زیرنگیں تھا- کسی حمکران کی پالیسی کا تجزیہ کوئ حمکران یا علوم سیاسیات کا ماہر ایکسپرٹ ہی کر سکتا ہے مگر افسوس کہ ایسے لوگ جو اپنے گھر، محلہ کو نہیں سنبھال سکتے وہ انکے طرز حکمرانی میں کیڑے نکالتے ہیں اور بزعم خود، انکو صحیح فیصلے سجھانے کی کوشش کرتے ہیں-
مختصر بات ہے کہ تاریخ کے دھارے میں، عقائد کو سنبھال کر بہت احتیاط سے چلنا ہو گا بالخصوص ان حالات میں جب جھوٹ کی گرد نےراستہ پر مٹی ڈال دی ہو- صحابہ اکرام کے متعلق سوچ کر بات کریں ،ایسا نہ ہو کہ بعد می پچھتاوا ہو:
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو(سورة الحجرات49:6)
حاصل کلام :
تاریخ بطور "علم " ایک سائنس ہے اور سائنسی تجزیہ، عقیدے، جذبات اور تعصب سے ماورا ہوتا ہے- ہم اگر تاریخِ اسلام کوکسی مخصوص مسلمان فرقہ کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے نظریات مسلط کرکہ نتائج اخذ کریں گے- لیکن اگر سیکولر ، مغرب سٹنڈرڈ سے دیکھیں تو معاملہ کچھ اور ہو گا جو شاید ہما رے عقائد سے ٹکراتا ہو- تاریخ مستند اور غیر مستند روایت کا مجموعہ ہوتا ہے، جس میں سچ اور جھوٹ کی پہچان بہت مشکل ہے- اسلام کی بنیاد قرآن ہے جو اللہ کا کلام ہے جس میں کوئی شک نہیں اوریہ ہدایت کی کتاب ہے قرآن کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ نے لیا ہے- قرآن رسول اللہﷺ پر نازل ہوا جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، اس لیے رسول الله کی سنت دین اسلام کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے- قرآن تاریخ کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے تاکہ ہم انبیا، پرانی امتوں اور اقوام کے واقعات سے سبق حاصل کریں اور نصحت پکڑیں- تاریخ ایک تغیر پزیر اور ترقی پزیرانسانی علم ہے جس سے دوسرے علوم کی طرح فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے مگر تاریخ کوٹھوس اسلامی عقائد کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا- 
(تحقیق و ترتیب : آفتاب خان)
..................................................

سانحۂ کربلا کی تاریخی اہمیت و حیثیت:مفصل تحققیق پڑھیں.. لنک ….
مزید تحقیق لنک
..................................................
اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، کیا تاریخی  واقعات بھی دین اسلام کی بنیاد بن سکتے ہیں؟
................................................

لنکس /ریفرنس


……………………………………………………..

حیاۃ الصحابہ رضی اللہ عنہ (اردو)
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین دین کی اساس اور اس کے اولین مبلغ ہیں۔انہی لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھا اور ہم تک پہنچایا۔یہ وہ مبارک جماعت ہے جسے خداوند عالم نے اپنے پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم  کی مصاحبت کےلیے چنا اور ان کے ایمان کو ہمارے لیے ایک نمونہ قراردیا ۔حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی زندگی حضرت رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا اعلیٰ ترین ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت سے ایسے  عظیم الشان لوگ تیار ہوئے جنہوں نے اطراف واکناف عالم میں خدا کے دین کو غالب کر دیا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے احوال زندگانی کا مطالعہ کیا جائے تاکہ دلوں میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جذبات بیدار ہو ں اور دین خداوندی کی خاطر کٹ مرنے کا داعیہ پیدا ہو۔سچ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے واقعات مسلمانوں کے لیے حیات نو کا پیغام اور تجدید دین کا سامان رکھتے ہیں ۔زیر نظر کتاب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے تذکرے پر مشتمل ہے اصل عربی کتاب مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے جو بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ کے فرزند ہیں۔یہ اس کا اردو ترجمہ ہے،جس سے اردو دان طبقے کے لیے استفادہ کی راہ آسان ہو گئی ہے۔ بحثیت مجموعی اس کا مطالعہ مفید رہے گا۔

..............................................................

مزید پڑھیں:

Also Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
SalaamOne سلام

Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
Web,Books, Articles, Magazines,, Blogs, Social Media,  Videos
Over 3 Million visits/hits