Showing posts with label Faith. Show all posts
Showing posts with label Faith. Show all posts

کیا تاریخی واقعات دین اسلام کی بنیاد ہو سکتے ہیں؟


قرآن کے تین بڑے دعوے دنیا میں کوئی کتاب نہیں کرسکتی: (١)قرآن اللہ کا کلام ہے جس میں کوئی شک نہیں اور(٢) ہدایت کی کتاب ہے (٣)اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ نے لیا ہے-
الله کا فرمان ہے: ذلِکَ الکِتبُ لَا رَیبَ فِیہِ ھُدَی للمُتَّقِینَ۔ (سورۃبقرہ 2:2)
" یہ وہ کتاب ہے جس میں کو شک کی گنجائش نہیں(الله سے) ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (سورۃاالبقرہ 2:2)
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ﴿٩﴾
"ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں (21:9 الحجر) 
قرآن کو رسول اللہﷺ پر نازل فرمایا جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، اس لیے رسول الله کی سنت دین اسلام کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے-
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا (٣٣:٢١ الاحزاب )
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے (٣٣:٢١ الاحزاب )
مسلمان قرآن و سنت کی اہمیت سے اچھی طرح سے اگاہ ہیں، قرآن تاریخ کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے تاکہ پرانے لوگوں اور انبیا کی امتوں کے واقعات سے سبق حاصل کریں-

قرآن اور تاریخ :
قرآن کی نظر میں تاریخ حصول علم و دانش اور انسانوں کے لیے غور و فکر کے دیگر ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ قرآن نے انسانوں کو غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے غور و فکر کے منابع بھی ان کے سامنے پیش کیے ہیں۔ قرآن نے مختلف آیات میں انسانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ گزشتہ اقوام کی زندگی کا مطالعہ کریں۔ ان کی زندگی کے مفید نکات پیش کرنے کے بعد انہیں یہ دعوت دی کہ وہ باصلاحیت افراد کو اپنا ہادی و رہنما بنائیں اور ان کی زندگی کو اپنے لیے نمونہ سمجھیں۔ قرآن مجید میں کچھ پیغمبروں کی زندگی کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ ہم ہدایت اور نصحت پکڑیں ( هود، 120، 87 غافر، نساء، 164)
لَقَدْ كانَ في‏ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبابِ ما كانَ حَديثاً يُفْتَرى‏ وَ لكِنْ تَصْديقَ الَّذي بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصيلَ كُلِّ شَيْ‏ءٍ وَ هُدىً وَ رَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ. (یوسف، 111)
" یقینا ان کے واقعات میں صاحبان عقل کے لئے سامان عبرت ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے گڑھ لیا جائے یہ قرآن پہلے کی تمام کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں ہر شے کی تفصیل ہے اور یہ صاحبان ایمان قوم کے لئےھدایت اور رحمت بھی ہے۔" (یوسف، 111)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ فرماتا ہے:
قد کان لکم اسوة حسنة فی ابراھیم والذین معہ (سورة الممتحنة 60:4)
”تم لوگوں کے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔“
اسی طرح رسول اکرم کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:
لقد کان لکم (رضی اللہ ) رسول اللہ اسوة حسنة (٣٣:٢١ الاحزاب )
”درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے۔“
حدیث و سنت نبوی کی رفتار و گفتار امت مسلمہ کے لیے حجت قاطع اور سند محکم ہیں۔ سیرت نبوی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہمارا اخلاق و کردار نبی کی سیرت کے مطابق ہونا چاہیے جس کی تفصیلات حدیث کی کتب میں موجود ہے-
علم 'تاریخ' :
قرآن میں تاریخ کی حیثیت اور اہمیت واضح ہے- "تاریخ" جدید علوم کا اہم حصہ ہے- تاریخ کے اصطلاحی معانی بیان کرتے ہوئےسکالرز نے اس کی مختلف تعریفیں کی ہیں:
١. تاریخ وہ علم ہے کہ جس کے ذریعے انسانی معاشروں میں ارتقاء کے ذریعہ تبدیلی واقع ہوئی اور وہ کس طرح ایک مرحلے سے گزر کر دوسرے مرحلے تک پہنچے اور اس ارتقاء پذیر حالت کے وقت ان میں کون سے قوانین کارفرما ہیں۔
٢.کسی ایسے قدیم اور مشہور واقعہ کی مدت ابتداء معین کرنا، جو عہد گذشتہ میں رونما ہوا ہو اور دوسرا واقعہ اس کے بعد ظہور پذیر ہو۔
٣. سرنوشت یا قابل ذکر ایسے اعمال و افعال نیز حادثات اور واقعات کا ذکر جنہیں زمانے کی ترتیب کے لحاظ سے منظم و مرتب کیا گیا ہو۔
٤.عہد حاضر کی وضع و کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ واقعات و حادثات اور عہد ماضی کے انسانوں کی حالت اور کیفیت بیان کرنا۔
اس میں سوانح عمری، فتح نامے اور سیرت کی وہ کتابیں شامل ہیں جو تمام اقوام میں لکھی گئی ہیں اور اب بھی لکھی جا رہی ہیں۔
تاریخ کی خصوصیات:
(١) تاریخ جزئی ہوئی ہے، مجموعی اور کلی نہیں۔
(٢)تاریخ محض منقول ہے اور اس میں عقل و منطق کا داخل نہیں ہوتا۔
(٣)ان واقعات کا تعلق ماضی سے ہوتا ہے حال ، مستقبل سے نہیں۔
علمی اور بیانیہ تاریخ کی تشکیل چونکہ ان واقعات کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے جو عہد ماضی میں گزر چکے ہیں اس لیے محققین یہ طے نہ کرسکے کہ یہ واقعات کس حد تک معتبر یا غیر معتبر ہوسکتے ہیں۔ 
بعض محققین کی رائے یہ ہے کہ قدماء کی کتابوں میں بیانیہ تاریخ سے متعلق جو کچھ درج کیا گیا ہے اسے بیان اور قلمبند کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے واقعات کو اغراض کی بنیاد، شخصی محرکات، قوت تعصبات یا اجتماعی و عقیدتی وابستگی کی بنیاد پر نقل کیا ہے اور اس میں تصرف و تحریف کرکے واقعات کو اپنی منشاء کے مطابق پیش کیا ہے یا انہوں نے واقعات کو اس طرح لکھا ہے جس سے ان کے اغراض و مقاصد پورے ہوتے تھے اور ان کے عقائد کے منافی بھی نہیں تھے۔
بیانیہ تاریخ کے بارے میں یہ بدبینی بے سبب نہیں ہے، بلکہ اس کا سرچشمہ تاریخ کی کتابوں کی کیفیت اور مورخین کے مزاج کو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود تاریخ بھی دیگر علوم کی طرح مسلمہ حقائق و واقعات پر مبنی ایک سلسلہ ہے جو کہ حتمی نہیں مگراس کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک محقق شواہد و قرائن کی بنیاد اور اپنی اجتہادی قوت کے ذریعہ سراغ لگا سکتا ہے کہ حوادث و واقعات میں کس حد تک صحت و سقم ہے اور انہی کی اساس پر وہ بعض نتائج اخذ کرسکتا ہے۔مگر یہ شریعت کی بنیاد نہیں بن سکتے جب تک قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو-
تاریخ اسلام کی اہمیت اور قدر و قیمت
جن مسلم اور غیر مسلم محققین اور دانشوروں نے تاریخ خصوصاً تاریخ اسلام اور سیرت النبی کے بارے میں تحقیق کی ہے انہوں نے اس کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر اس کی قدر و قیمت کا اعتراف کیا ہے۔
جرح و تعدیل:
علماء نے تاریخی روایات سے استفادے کیلئے جو نظام تشکیل دیا اسے ” جرح و تعدیل ” کے نام سے پہچانا جاتا ہے جسکی بنیاد اس نص قرآنی پر ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے:
"اے اہل ایمان! اگر آپ لوگوں کے پاس کوئی فاسق خبر لے آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کسی گروہ کو جہالت میں نقصان پہنچا بیٹھیں اور پھر اپنے فعل پر نادم ہوں۔ "(الحجرات 49:6)
اس جرح و تعدیل کے ماہر حضرات مورخین و محدثین ہیں اسکی نص بھی قرآن سے بیان ہوتی ہے ۔
ترجمہ :" اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن یا خوف کی تو اس کو مشہور کرديتے ہیں اور اگر اس کو پہنچا ديتے رسولؐ تک اور اپنے اولو الامر (علماء و حکام) تک تو جان لیتے اس (کی حقیقت) کو جو ان میں قوتِ استنباط (حقیقت نکالنے کی اہلیت) رکھتے ہیں اس کی اور اگر نہ ہوتا فضل ﷲ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پيچھے ہو ليتے شیطان کے سواۓ چند (اشخاص) کے۔(النساء:83)
علما امت نے مستقل تاریخ اسلامی سے متعلق ایسی کتب لکھی ہیں جن میں تاریخی روایت کے نتیجے میں پیدہ ہونے والے اشکالات کا حل موجود ہے۔ ابن تیمیہ رح کی منہاج السنہ ، ابن العربی رح کی العواصم من القواصم، حضرت شاہ ولی الله دھلوی رح کی ازالة الخفاء عن خلافت الخلفاء وغیرہ۔ اسی طرح ماضی قریب اس موضوعات پر سینکڑوں کتابیں لکھی گئی-
تنقید:
"تاریخ کو حدیث سے کہیں زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ تاریخی واقعات نقل کرنے والے راویوں کی معرفت حاصل کی جائے کیونکہ جھوٹ اورتساہل کا وجود تاریخ میں بہت زیادہ ہے"۔[علم الرجال وأهميته للمعلمی ص: 257] یہ قول ہے علامہ معلمی رحمہ اللہ کا (المتوفی1386) جن کو امیرالمؤمنین فی الجرح والتعدیل ، فقیہ اسماء الرجال کھا جاتا ہے-
عام طوریہ سمجھا جاتا ہے کہ جس اسلوب میںعلماء احادیث رسولؐ کی چھان بین کرتے ہیں اسی انداز میں تاریخ کی بھی کرنی چاہیے۔ لیکن اسکی ضرورت نہیں کیونکہ:
(١) احادیث کے مقاصد تاریخ کے مقاصد میں بہت فرق ہے- احادیث سے تو دین کا ثبوت ہوتا ہے جبکہ تاریخ شریعت کے اصولوں میں شامل نہیں۔ تاریخ کے مقاصد فرق ہیں اور وہ گزرے ہوئے حالات اور معاملات کی فہمی اور اس سے عبرت ہے۔
(٢) ایک رائے کے مطابق اسلامی تاریخ کی حیثیت ویسی ہی ہے جوکہ تفسیر میں اسرائیلیات کی ہے۔ یعنی کسی واقعہ کو تفصیلا سمجھنے کے لیے تاریخ کی مدد لی جاسکتی ہے ورنہ شرعی استدلال "اسرائیلیات" سے درست نہیں الا یہ کہ وہ بذات خود شریعت سے ثابت ہو۔
(٣) اسی طرح تاریخ سے ایک عمومی بات کو تو قبول کیا جاسکتا ہے لیکن تفاصیل کو نہیں کیونکہ تفاصیل میں ہر مؤرخ اپنے بیان میں منفرد ہوتا ہے۔
(٤) تاریخ کی انتہاء نہیں جبکہ شریعت مکمل ہوچکی ہے۔ تاریخ تو آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک چلتی آرہی ہے جبکہ جس شریعت کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے اسکی ابتدا اللہ کے رسول (ص) کی نبوت سے ہوئ اور آپؐ کی وفات کے ساتھ تکمیل بھی۔ اس لیے تمام تاریخ کو احادیث کے معیار پر پرکھنا نہ صرف وقت کا ضیاء ہے بلکہ ناممکن بھی۔ اسی لیے ہمیں احادیث کی اسناد کی چھان بین کرنے والے تو بہت ملیں گے لیکن تاریخ کے کم۔ 
(٥) اہل علم نے بھی تاریخ کو اس طرح اہمیت نہیں دی اسی لیے ہمیں نامور مؤرخین میں ایسے بھی مل جائیں گے جوکہ 'جرح و تعدیل' کے معیار پر تو کمزور ہیں لیکن تاریخ میں انکا اپنا مقام ہے۔ اگر تاریخ کو انہیں معیارات پر پرکھنا شروع کردیا جائے جس پر احادیث کو کیا جاتا ہے تو تاریخ کا اکثر حصہ فارغ ہوجائے گا۔
(٦)اگر معترض یہ سوال کرے کہ صحابہ کی طرف بعض لوگ غلط باتیں منسوب کرتے ہیں تو کیا اب ہم اسکو قبول کرلیں؟ تو ممکنہ جواب ہو گا کہ ہر وہ چیز جسکا تعلق دین سے ہو وہ بغیر سند کے قبول نہیں کی جائے گی لیکن جسکا تعلق دین سے نہیں اسکواس طرح پرکھنے کی ضرورت نہیں۔
تاریخ اسلام
تاریخ کے جتنے بھی منابع و ماخذ موجود ہیں ان میں تاریخ اسلام سب سے زیادہ معلومات سے لبریز اور مالا مال ہے چنانچہ جب کوئی محقق تاریخ اسلام لکھنا شروع کرتا ہے اور اسے تاریخی واقعات وافر مقدار میں بصورت دقیق مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخ اسلام میں بمقابل دوسری تواریخ جس قدر مستند و باریک نیز روشن نکات موجود ہیں وہ دیگر تواریخ میں نظر نہیں آتے۔
ان خصوصیات کا سرچشمہ سیرت اور سنت رسول (ص) ہے اور یہ مسلمانوں کے لیے قطعی حجت و دلیل ہے چنانچہ وہ انہی کی پیروی کرتے ہیں۔
پیغمبر اسلام اور مذہب اسلام کو دیگر مذاہب پر فوقیت حاصل ہے، کیونکہ آپ کی تاریخ روشن و مستند ہے۔ اس اعتبار سے دنیا کے دیگر رہبر و راہنما ہماری برابری نہیں کرسکتے چنانچہ پیغمبر اسلام کی زندگی کی دقیق باتیں اور اس کے جزئیات آج بھی ہمارے پاس قطعی اور مسلم طور پر احادیث کی کتب میں موجود و محفوظ ہیں۔ آپ کا سال ولادت ماہ ولادت روز ولادت یہاں تک کہ ہفتہ ولادت بھی تاریخ کے سینے میں درج ہے۔ دوران شیرخوارگی، وہ زمانہ جو آپ نے صحراء میں بسر کیا، وہ دور جب آپ سن بلوغ کو پہنچے، وہ سفر جو آپ نے ملک عرب سے باہر کیے، وہ مشاغل جو آپ نے مبعوث بہ رسالت ہونے سے پہلے انجام دیئے ہیں وہ ہمیں بخوبی معلوم ہیں۔ آپ نے کس سال شادی کی اور اس وقت آپ کا سن مبارک کیا تھا؟ آپ کی ازواج کے بطن سے کتنے بچوں نے ولادت پائی اور کتنے بچے آپ کی رحلت سے قبل اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ وفات کے وقت آپ کی کیا عمر تھی؟ یہ واقعات مبعوث برسالت ہونے کے وقت تک ہیں، اس کے بعد کے واقعات اور دقیق ہو جاتے ہیں۔ تفویض رسالت، جیسا عظیم واقعہ کب پیش آیا وہ پہلا شخص کون تھا جو مسلمان ہوا، اس کے بعد کون شخص مشرف با اسلام ہوا۔ آپ کی لوگوں سے کیا گفتگو ہوئی؟ آپ نے کیا کارنامے انجام دیئے اور کیا راہ و روش اختیار کی سب دقیق طور پر روشن و عیاں ہیں۔
سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پیغمبر اکرم کی تاریخ میں زمانہٴ ”وحی“ کے دوران تحقیق ثبت کی گئی۔ تئیس سالہ عہد نبوت کا ہر واقعہ وحی آسمان کے نور سے منور ہوا، اور اسی کی روشنی میں اس کا تجزیہ کیا گیا، قرآن مجید میں جو واقعات درج ہیں ان میں اکثر و بیشتر وہی مسائل و واقعات ہیں جو عہد نبوت کے دوران پیش آئے۔ ہر وہ واقعہ جسے قرآن نے بیان کیا ہے بے شک وہ خداوند عالم الغیب والشہادہ نے ہی بیان کیا ہے۔ قرآن کی رو سے تاریخ بشر اور اس کا ارتقاء اصول و ضوابط کی بنیاد کے سلسلے پر قائم ہے، عزت و ذلت، کامیابی و ناکامی فتح و شکست اور بدبختی و خوش نصیبی کے واقعات دقیق و منظم حساب کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ان اصول و ضوابط اور قوانین کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کو رسول اللہ (ص) اور اصحابہ کرام کیتاریخ کوقرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا جائے اور اس کے ذریعے اپنی ذات نیز معاشرے کو فائدہ پہنچایا جائے۔
تاریخ میں مثبت اور منفی واقعات کو سمجھ کر اس سے سبق حاصل کیا جا سکتا:
قد خلت من قبلکم سنن فسیروا فی الارض فانظر واکیف…
”تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں، زمین میں چل پھر کر دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے اللہ کے احکامات اور ہدایات کو جھٹلایا۔“
اس میں شک نہیں کہ تاریخ اسلام کا شمار دنیا کی اہم ترین تواریخ عامہ میں ہوتا ہے، کیونکہ مذکورہ تاریخ نے قرون وسطیٰ سے متعلق پوری دنیا کی تاریخ تمدن کا احاطہ کرلیا ہے۔ بالفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ اسلام زنجیر کی وہ کڑی ہے جس نے دنیائے قدیم کی تاریخ کو جدید تاریخ سے متصل کیا ہے۔ یہ تاریخ اسلام ہے جس سے جدید تمدن کا آغاز اور قدیم تمدن کا اختتام ہوتا ہے ۔ لیکن تاریخ شریعت کی بنیاد نہیں مددگار ہو سکتی ہے قرآن و سنت کی روشنی میں-
دین اسلام میں تاریخ کی حثیت:
جب ہم تاریخ کو دین کا جزو سمجھ کر نتائج اخذ شروع کر تے ہیں تو بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں-اس طرح بہت بڑی غلط فہمیان پیدا ہوتی ہیں- قاری جس کسی مورخ کی تحریر پڑھے گا اس سے اثر قبول کرکہ اپنا نظریہ بنا کر اس کے دفاع میں لگ جایئے گا- دو مخالف افراد کی بحث ایک دائرہ کی شکل اختیار کرکہ گھومنا شروع کرتی ہے جس کا کوئی اختتام نہیں ہوتا- اللہ کا فرمان بار بار دہرانے کی ضرورت ہے :
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو (سورة الحجرات49:6)
مورخین اکثر خود واقعات کے چشم دید گواہ نہیں ہوتے وہ سنی سنائی روایت کو لکھ دیتے ہیں- تاریخ بطور "موضوع" ایک سائنس ہے اور سائنسی تجزیہ، عقیدے، جذبات اور تعصب سے ماورا ہوتا ہے- ہم اگر تاریخِ اسلام کوکسی مخصوص مسلمان فرقہ کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے نظریات مسلط کرکہ نتائج اخذ کریں گے- لیکن اگر سیکولر ، مغرب سٹنڈرڈ سے دیکھیں تو معاملہ کچھ اور ہو گا جو شاید ہما رے عقائد سے ٹکراتا ہواس لیے ضروری ہے کہ تاریخ اسلام کو عقائد کی بنیاد بنانے سے پرہیز جائے-
کتابت احادیث:
احادیث سے مراد وہ تمام اقوال ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں۔ احادیث کو لکھنے اور یاد کرنے کا کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے شروع ہو گیا تھا۔ عربوں کو چونکہ اپنے حافظہ پر ناز تھا اس لیے وہ تمام باتوں کو یاد کر لیتے تھے۔ قران کی طرح احادیث کی کتابت کا اہتمام خلفاء راشدین اور ان کے بعد کی صدی تک کے حکمرانوں نے بوجوہ نہ کیا- حضرت عمر فاروق رضی الله قرآن پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے تھے انہوں نے سختی سے احادیث کو لکھنے سے منع فرمایا ، جس پر بعد میں بھی کوئی تبدیلی نہ ہوئی- اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے- کئی سو سالوں تک احادیث کو جمع کرنے کا کام کیا جاتا رہا ہے۔ احادیث کے مجموعے مختلف اصحاب و علماء و محدثین کے ناموں سے مشہورہویے- چھ مستند کتابیں صحاح ستہ (٢٢٥ -٣٠٣ ھ) (١)صحیح بخاری (٢) صحیح مسلم(٣) سنن نسائی(٤) سنن ابی داؤد (٥) سنن ابن ماجہ(٦) سنن ابن ماجہ ہیں-حدثین کی ان کتابوں میں ایک طرف دینی معلومات جمع کی گئیں اور دوسری طرف ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے کے صحیح تاریخی واقعات جمع کیے گئے ہیں۔ اس طرح احادیث کی یہ کتابیں دینی و تاریخی دونوں اعتبار سے قابل بھرو سہ ہو سکتی ہیں- 
حدیث کے معاملہ میں اگرچہ بہت احتیاط برتی گئی مگر پھر بھی اسناد، تصدیق اور دوسری اہم وجوہات کے لحاظ احادیث کومختلف کیٹیگریز میں رکھنا ضروی ھوا- سب سے مستند "صحیح" اور نچلے درجہ میں ضعیف، موضوع وغیرہ- علم حدیث کو علم تاریخ سے علیحدہ رکھنا چاہیے-
تکمیل دین اسلام:
جب حج الوداع کے موقع پر المائدہ کی آیات ٣ ، نازل ہوئی جس میں دین کے کامل ہونے کا اعلان کر دیا گیا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ( المائدہ: 5:3) 
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ "اس دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کامل کر دیا ہے" اور اپنے نبی اور مومنوں کو اس کا کامل ہونا خود اپنے کلام میں فرما چکا ہے اب یہ رہتی دنیا تک کسی زیادتی کا محتاج نہیں ، اسے اللہ نے پورا کیا ہے جو قیامت تک ناقص نہیں ہوگا۔ اس سے اللہ خوش ہے اور کبھی بھی ناخوش نہیں ہونے والا ۔
اس وقت قرآن اور سنت رسول اللہﷺ تواتر میں موجود تھی مثلاً نماز، روزہ ، زکات ، حج اور دوسرے احکام و معاملات پر لاکھوں مسلمان عمل درآمد کر رہے تھے، قران حفاظ صحابہ اکرام کے دماغ میں اور مختلف طریقوں پر تحریر کی شکل میں موجود تھا جس کوحضرت عمر (رضی اللہ) کے اصرار پر حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ) کے دور میں اکٹھا کر دیا گیا، اور پھر حضرت عثمان رضی الله نے تو سرکاری طور پر اس قرآن کو اہل قریش کی قرات میں تحریرکروا کرعالم اسلام میں بھجوا دیا اور تمام غیر سرکاری نسخوں کو جلا دیا- نماز میں قران مسلسل تلاوت کیا جاتا تھا- پوری توجہ قرآن پر تھی- 
تکمیل دین اسلام (حج الوداع) کے اعلان کے 51 سال بعد 61 ہجری میں سانحہ کربلا پیش آیا اور 200 سال بعد احادیث کی مشہور کتب کی تدوین شروع ہوئی۔ جب اسلام کی تکمیل 10 ہجری کو ہو چکی تھی۔ اسلام کے اراکین پر عمل ہو رہا تھا مسلسل نماز ، روزہ ، زکات، حج ۔۔ ایمان سب کچھ معلوم تھا جو سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہو رہا تھا۔ پھر بہت تاریخی واقعات پیش آئیے۔۔ ان سے کوئی اسلام کے ارکان میں یا دین میں اضافہ یا کمی ممکن نہ تھی اللہ کا فرمان دیں کی تکمیل اور قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی۔ 
ہم کو تاریخ کو تاریخ سمجھ کر پڑہنا چاہیئے تاریخ دین کی بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور سنت دیں کی بنیاد ہے۔ 
ہم آج بھی 70 سال بعد بحث کرتے ہیں کہ قائد اعظم سیکولر پاکستان بنانا چاہتے تھے یا اسلامی ۔۔ دونوں طرف سے دلائل موجود ہیں ، تقریروں کی ریکارڈنگ ۔۔ اخباروں کے تراشے اور چشم دید گوایان کے بیانات اور کتابیں تک موجود ہیں مگر اس جدید میڈیا کے دور میں تاریخی اختلاف ختم نہیں ہو رہا-
مقدمہ ابن خلدون:
ابن خلدون (وفات؛ 1406ء،808 ہجری ) ایک مشہور مورخ، فقیہ ، فلسفی اور سیاستدان تھا-ا بن خلدون کو تاریخ اور عمرانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ" مقدمتہ فی التاریخ" ہے جو "مقدمہ ابن خلدون" کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تاریخ، سیاست ، عمرانیات ، اقتصادیات اور ادبیات کا گراں مایہ خزانہ ہے۔ تاریخ کو باقاعدہ ایک سائنسی علم کا درجہ ابن خلدون نے دیا آج سے 600 سال قبل-
تاریخ طبری:
ابن خلدون 800 ہجری کا مورخ ہے جس نے تاریخ کے اصول بنایے- تاریخ طبری" بہت زیادہ مشہور و معروف ہےجس کو بہت سے محقق ریفر کرتے ہیں- علامہ ابن جریر بن یزید طبری (المتوفی: ۳۱۰ھ) سانحہ کربلا کے چشم دید گواہ نہیں وہ تو ٢٠٠ سال بعد کی پیدائش ہیں - اکثر لوگوں کو علم نہیں کہ اسی نام کا دوسرا شخص شیعہ عالم تھا، جس کی بہت ساری تصانیف بھی ہیں- دونوں کا نام ولدیت اور کنیت ایک جیسی ہے؛ اس لیے بہت سارے خواص بھی اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں،پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں کے دادا کا نام جدا جدا ہے،سنی ابن جریر کے داد کا نام یزید ہے اور شیعہ ابن جریر کے دادا کا نام رستم ہے- اسی تشابہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعہ علماء نے ابن جریر (شیعی) کی بہت ساری کتابوں کی نسبت ابن جریرسنی کی طرف کرنے کی کوشش کی ہے-
تاریخ طبری میں جگہ جگہ حضرات صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ایسی بے بنیاد اور جھوٹی روایات مروی ہیں، جن کی کوئی معقول و مناسب توجیہ نہیں کی جاسکتی ہے- روایات پر کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ تاریخ طبری میں بڑے بڑے دروغ گو ، کذّاب اور متہم بالکذب راویوں کی روایات بھی جگہ جگہ موجود ہیں۔ طبری اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
مقدمہ تاریخ طبری:
"میں نے اس کتاب میں جو کچھ ذکر کیا ہے ا س میں میرا اعتماد اپنی اطلاعات اور راویوں کے بیان پر رہا ہے نہ کہ عقل و فکر کے نتائج پر ، کسی پڑھنے والے کو اگر میری جمع کردوں خبروں اور روایتوں میں کوئی چیز اس وجہ سے ناقابل فہم اور ناقابل قبول نظر آئے کہ نہ کوئی اسکی تک بیٹھتی ہے اور نہ کوئی معنی بنتے ہیں تو اسے جاننا چاہیے کہ ہم نے یہ سب اپنی طرف سے نہیں لکھا ہے بلکہ اگلوں سے جو بات ہمیں جس طرح پہنچی ہے ہم اسی طرح آگے نقل کردی ہے"۔ [علامہ ابن جریر بن یزید طبری (المتوفی: ۳۱۰ھ)]
راوی ابومحنف اور ہشام بن محمد سائب بھی ہیں۔ لیکن وہ قابل اعتبار نہیں۔ ابومحنف راوی اپنی طرف سے باتیں بنا لیتا ہے۔ اسی طرح کے راویوں کی روایت کی بنیاد پراگر ایک نیا مذہبی بیانیہ ترتیب دیا جائےتو اس کی کیا حثیت ہو گی ، کوئی بھی اندازہ کر سکتا ہے!
صحابہ اکرام:
ابتدائ تاریخ اسلام کو سمجھنے کے لئے، صحابہ کرام کا مزاج سمجھنا ضروری ہے ۔ تاریخِ اسلام سے رغبت رکھنے والوں کو پہلے صحابہ کے زمانہ کے رواج اور اس پاک جماعت کے مجموعی کردار کو سمجھنے کی ضرورت ہے- "حیات الصحابہ" نامی کتاب کا مطالعہ کیجئے- اس مقبول عام کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ مصنف نے صحابہ بارے سب میسر احادیث کو مختلف عنوانات میں جمع کر لیا ہے اور فیصلہ قاری کے ذہن اور ایمان پہ چھوڑ دیا ہے۔ لنک آخر میں-
صحابہ اکرام انسان تھے ان میں اختلاف ، رنجش اور لڑائ ہوئی تھی مگر اتنے قتل اور مظالم بہرحال نہیں ہوئے جو تاریخ نے "ریکارڈ" فرمائے ہیں-اس سلسلے میں کچھ ضروری باتوں کا خیال رکھنا چاہیے : 
1- ممکن ہے کہ دو گروہ آپس میں اختلاف کریں اور دونوں حق پہ ہوں (بلکہ اختلاف تو ہوتا ہی اہل حق میں ہے جنکا کوئ نظریہ ہو، اہل باطل کا کیا اختلاف ہو گا جنکا ہدف کسی طریقے سے پیٹ بھرنا ہو- قرآن بتاتا ہے کہ موسٰی اور ہارون، موسٰی اور خضر میں اختلاف ہوا-
2- دونوں اہل حق میں ایک ہی زیادہ حق پر ہو گا مگر اس سے دوسرے کی شان میں کمی نہیں آتی- قرآن بتاتا ہے کہ داؤد نے فیصلہ کیا مگر انکے بیٹے سلمان نے انکے برخلاف فیصلہ کیا جو کہ زیادہ درست تھا- دونوں نبی رہے اور کسی کو معزول نہیں کیا گیا-
3- حضرت امر معاویہ (رضی اللہ ) اور حضرت علی (رضی اللہ ) کی فوج میں موجود صحابی، کیا ایک دوسرے کو قتل کر کے بھی جنت جائیں گے؟- جی ہاں، ام حارثہ کی حدیث یاد کیجئے-
حارثہ کو حضور کے سامنے، مسلمان کے تیر نے شہید کیا اور سرکار نے انکے لئے جنت کی بشارت دی-
4- حضرت امر معاویہ (رضی اللہ ) اور حضرت علی (رضی اللہ ) کے علاوہ بھی صحابہ میں آپس میں رنجش ہو جایا کرتی تھی کہ یہ انسانی فطرت ہے- قرآن میں آیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں جائیں گے تو انکے دلوں کو اس کینے سے پاک کیا جائے گا جو دنیا میں تھا- اسکا مطلب ہے مومنین میں آپس میں رنجش اور خفگی ہو جایا کرتی ہے-
یہ حیران کن ہے ہے کہ اس دور کے کچھ علماء حضرات، صحابہ کے فیصلوں کی غلطیاں نکال کر، انکی نیتوں پہ حملے کرتے ہیں- فارسی میں ایک مثال ہے "امور مملکت را خسرواں می دانند"- عثمان، علی اور معاویہ، جو کچھ بھی تھے، اپنے زمانے کے حمکران تھے اور موجودہ کئ کئ ممالک پہ مشتمل علاقہ انکے زیرنگیں تھا- کسی حمکران کی پالیسی کا تجزیہ کوئ حمکران یا علوم سیاسیات کا ماہر ایکسپرٹ ہی کر سکتا ہے مگر افسوس کہ ایسے لوگ جو اپنے گھر، محلہ کو نہیں سنبھال سکتے وہ انکے طرز حکمرانی میں کیڑے نکالتے ہیں اور بزعم خود، انکو صحیح فیصلے سجھانے کی کوشش کرتے ہیں-
مختصر بات ہے کہ تاریخ کے دھارے میں، عقائد کو سنبھال کر بہت احتیاط سے چلنا ہو گا بالخصوص ان حالات میں جب جھوٹ کی گرد نےراستہ پر مٹی ڈال دی ہو- صحابہ اکرام کے متعلق سوچ کر بات کریں ،ایسا نہ ہو کہ بعد می پچھتاوا ہو:
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو(سورة الحجرات49:6)
حاصل کلام :
تاریخ بطور "علم " ایک سائنس ہے اور سائنسی تجزیہ، عقیدے، جذبات اور تعصب سے ماورا ہوتا ہے- ہم اگر تاریخِ اسلام کوکسی مخصوص مسلمان فرقہ کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے نظریات مسلط کرکہ نتائج اخذ کریں گے- لیکن اگر سیکولر ، مغرب سٹنڈرڈ سے دیکھیں تو معاملہ کچھ اور ہو گا جو شاید ہما رے عقائد سے ٹکراتا ہو- تاریخ مستند اور غیر مستند روایت کا مجموعہ ہوتا ہے، جس میں سچ اور جھوٹ کی پہچان بہت مشکل ہے- اسلام کی بنیاد قرآن ہے جو اللہ کا کلام ہے جس میں کوئی شک نہیں اوریہ ہدایت کی کتاب ہے قرآن کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ نے لیا ہے- قرآن رسول اللہﷺ پر نازل ہوا جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، اس لیے رسول الله کی سنت دین اسلام کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے- قرآن تاریخ کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے تاکہ ہم انبیا، پرانی امتوں اور اقوام کے واقعات سے سبق حاصل کریں اور نصحت پکڑیں- تاریخ ایک تغیر پزیر اور ترقی پزیرانسانی علم ہے جس سے دوسرے علوم کی طرح فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے مگر تاریخ کوٹھوس اسلامی عقائد کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا- 
(تحقیق و ترتیب : آفتاب خان)
..................................................

سانحۂ کربلا کی تاریخی اہمیت و حیثیت:مفصل تحققیق پڑھیں.. لنک ….
مزید تحقیق لنک
..................................................
اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، کیا تاریخی  واقعات بھی دین اسلام کی بنیاد بن سکتے ہیں؟
................................................

لنکس /ریفرنس


……………………………………………………..

حیاۃ الصحابہ رضی اللہ عنہ (اردو)
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین دین کی اساس اور اس کے اولین مبلغ ہیں۔انہی لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھا اور ہم تک پہنچایا۔یہ وہ مبارک جماعت ہے جسے خداوند عالم نے اپنے پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم  کی مصاحبت کےلیے چنا اور ان کے ایمان کو ہمارے لیے ایک نمونہ قراردیا ۔حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی زندگی حضرت رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا اعلیٰ ترین ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت سے ایسے  عظیم الشان لوگ تیار ہوئے جنہوں نے اطراف واکناف عالم میں خدا کے دین کو غالب کر دیا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے احوال زندگانی کا مطالعہ کیا جائے تاکہ دلوں میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جذبات بیدار ہو ں اور دین خداوندی کی خاطر کٹ مرنے کا داعیہ پیدا ہو۔سچ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے واقعات مسلمانوں کے لیے حیات نو کا پیغام اور تجدید دین کا سامان رکھتے ہیں ۔زیر نظر کتاب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے تذکرے پر مشتمل ہے اصل عربی کتاب مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے جو بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ کے فرزند ہیں۔یہ اس کا اردو ترجمہ ہے،جس سے اردو دان طبقے کے لیے استفادہ کی راہ آسان ہو گئی ہے۔ بحثیت مجموعی اس کا مطالعہ مفید رہے گا۔

..............................................................

مزید پڑھیں:

Also Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
SalaamOne سلام

Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
Web,Books, Articles, Magazines,, Blogs, Social Media,  Videos
Over 3 Million visits/hits

نجات، بخشش، ایمان اور اعمال - مغالطے Salvation, Faith, Works and Illusions

قرآن کی  معتد د آیات میں واضح ہے کہ نجات، بخشش صرف ایمان اور اچھے اعما ل کی بنیاد پر ہو گی:
(قرآن ; 103:2-3, 32:19, 42:22, 30:45, 31:8-9, 47:12, 18:107, 5:11, 22:23, 56,40)
اس کے ساتھ اللہ کا انصاف ، رحم ، فضل اور شفاعت (صرف اللہ  کی اجازت سے).
امام شا فعئی سوره العصرکو قرآن کا خلاصہ قرار دیتے ہیں. آپ نے فرم یا کہ اگر صرف سوره العصر (١٠٣) نازل ہوتی تو بھی کافی تھی:
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
وَالْعَصْرِ ﴿١﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ﴿٢﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴿٣﴾
زمانے کی قسم (1) انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے (2) سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے (103:3)
  
بہت سے احادیث سے یہ تاثرملتا ہے کہ نجات، بخشش کے  لیےصرف ایمان ہی کافی ہے. تمام کلمہ گو (مسلمان)، حضرت محمدﷺ کی امت کے لوگ  جنت میں جاییں گنے چاہے وہ کتنے ہی گناہ گار ہوں.
<<کتابت حدیث >>
کلمہ طیبہ پڑھنے سے انسان دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے اور اسے ایمان کی دولت میسر آ جاتی ہے۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ مبارکہ میں ہے : آپ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفید کپڑا اوڑھے سو رہے تھے۔ میں دوبارہ حاضر ہوا اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے۔ پس میں تیسری بار حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص لا الٰہ الا اﷲ کہے، اسی اعتقاد پر اس کا خاتمہ ہو جائے تو وہ جنت میں جائے گا۔ مسلم، الصحيح، کتاب الايمان، باب من مات لا يشرک باﷲ شيئًا دخل الجنة و من مات مشرکا دخل النار، 1 : 95، رقم : 94 لیکن اس حدیث میں کلمہ طیبہ پڑھنے سے مراد احوال و اعمال کی اصلاح کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھنا ہے۔ کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد احوال و اعمال کی اصلاح کو نظرانداز کرنا اﷲ کی گرفت کا باعث بنتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلاَ يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللّهِ وَلِيًّا وَلاَ نَصِيرًاo
’’جو کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کی سزا دی جائے گی اور نہ وہ اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی پائے گا اور نہ مددگارo‘‘( النساء، 4 : 123)
اگر کسی کلمہ گو شخص نے اپنے گناہوں پر توبہ کی اور اس کی توبہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہوگئی تو وہ کلمہ گو شخص جنت میں جائے گا۔ یا اﷲ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو پھر وہ کلمہ گو اپنے گناہوں کی سزا پانے کے بعد جنت میں جائے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔ http://www.thefatwa.com/urdu/questionID/221/
ایک مشہور حدیث کے مطابق اگرچہ مسلمان زانی یا چورہو! (زنا اور چوری گناہ کبیرہ ہیں) پھر بھی وہ جنت میں جائے گا.
اب ایک طرف قرآن کی واضح آیات بہت بڑی تعداد میں ہیں اور دوسری طرف احادیث جو بظاھر قرآن کی واضح آیات کو منسوخ کرتی نظر آتی ہیں. یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ مذھب اسلام کی بنیاد کا معاملہ ہے.
علماء کے مطابق احادیث کو قران کی روشنی میں سمجھنا چاہیے. دل سے کلمہ پڑھنے کا مطلب ہے کہ اسلام کے احکام پر دل و جان سے عمل کرے صرف زبانی اقرار کافی نہیں.
اگر صرف کلمہ زبان سے ادا کیا جائے تو یہ کافی نہیں.دنیاوی، قانونی طور پر وہ مسلمان سمجھا جایے گا مگر اس کو اپنے عمل سے بھی مسلمان ثابت کرنا ہو گا.
گناہ، ثواب ، حلال ، حرام ،آخرت ، حساب کتاب ، جزا ، سزا . انصاف ، حقوق اللہ ، حقوق العباد وغیرہ ایک طرف اور ایمان (زبانی اقرار، کلمہ شہادہ) دوسری طرف اسلام کے چھ  بنیادی عقاید، اورپانچ ستون پر عمل کرنا ہو گا.  
تحقیق سے معلوم ہوا کہ علماء مختلف تاویلیں پیش کرتے ہیں - کچھ  تاویلیں عقل ودانش کے سادہ معیار سے بھی بعید معلوم ہوتی ہیں.


حدیث مسلم بمطابق حضرت ابوحریرہ ، جس میں رسول اللہﷺ دل سے کلمہ گو (مسلمانوں) کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں، حضرت عمر(رضی اللہ)   کی درخواست پر کہ مسلمان ظاہری الفاظ سے غلط مطلب سمجھ لیں گنے، ان کو اچھے اعمال کرنے دیں، آپ نے فرمایا کرنے دیں (اچھے عمل کرنے دیں) (مسلم حدیث 50  ، کتاب الایمان).  حضرت عمر(رضی اللہ)   کی اس پیغام کو عام کرنے سے منع کرنے کی درخواست رسول اللہﷺ نے قبول کر لی.
رسول اللہﷺ نے جس بات کو عام کرنے سے منع فرما دیا پھر  رسول اللہﷺ کے ارشاد کے خلاف آج تک اس کی تشسہیرکرکہ کنفیوژن پھیلایا جاتا ہے؟

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلَاتُ ۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَى ظُلْمِهِمْ ۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ  (13:6 الراعد)
" اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار (یعنی طالب عذاب ہیں) حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہو چکے ہیں۔ اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود انکی بے انصافیوں کے معاف کرنے والا ہے اور بیشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے۔ ‏"  (13:6 الراعد)

ابن ابی حاتم میں ہے اس میں ہے اس آیت کے اترنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ تعالٰی کا معاف فرمانا اور درگزر فرمانا نہ ہوتا تو کسی کی زندگی کا لطف باقی نہ رہتا اور اگر اس کا دھمکانا ڈرانا اور سما کرنا نہ ہوتا تو ہر شخص بےپرواہی سے ظلم وزیادتی میں مشغول ہو جاتا. (تفسیر ابن كثیر)
<<ملاحظہ ... کتابت حدیث >>
حضرت عمر (رضی اللہ) نے جس خدشہ کا اظھار کیا تھا وھی کھلم کھلا ہو رہا ہے.لوگ ظاہری طور پر اپنی مرضی کا مطلب نکال کر اچھےاعمال کرنا ضروری نہیں سمجھتے بس کلمہ ادا کرنا نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں جو درست نہیں.  
کیا یہ اللہ کے فرمان  (سورة الحشر 59:7) کی کھلی خلاف درزی نہیں؟
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ(29:2 سورة العنكبوت)
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ "ہم ایمان لائے " اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟(29:2 سورة العنكبوت)


وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿٧﴾
جو کچھ رسولؐ تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے (سورة الحشر 59:7)


إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ﴿٢٢﴾
یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22)


مسیحیت میں نجات کے کیے "ایمان" کو کافی سمجھا جاتا ہے. (ان کے ایمان کی تفصیل معلوم  ہے).یہودی اپنے آپ کو اللہ کی خاص قوم اور جنت کا حقدار سمجھتے ہیں. اگر عذاب آیا  بھی تو صرف تھوڑا.
اسلام "ایمان اور اعما ل" نجات کی بنیاد کی وجہ سے مسیحیت سے مختلف ہے.
جب قران کی واضح تعلیمات اور احکام کے خلاف صرف ایمان کی بنیاد پر نجات کا نظریہ پیش کیا جاتا ہے تو عام مسلمان اس کو کامیابی اور جنت کی کنجی سمجھ کر گناہ کرنے کو معیوب نہیں سمجھتا. دانشور اور علماء عوام کو نادانستہ طور پر گناہ اور تباہی کی دنیا میں دھکیل رہے ہیں.


قرآن واضح کرتا ہے کہ جو شخص اللہ کی خوشنودی  اور دنیا و آخرت میں کامیابی چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اسلام کی تمام بنیادی نظریات کو دل سے قبول کرے اور پوری دیانت داری سے ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے. اللہ  اور رسولﷺ کی کی نافرمانی سے بچے. اس کو چاہے کہ اس دنیا کی بجایے آخرت کی فکر کرے. اللہ کی کتاب ایسے لوگوں کو آخرت میں کامیابی کی ضمانت نہیں دیتی جو ان شرایط پر پورا نہیں اترتے، اللہ کا ارشاد ہے:


"پھر جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا  اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا جنت اس کا ٹھکانا ہوگی " ( سورة النازعات 79:35-41)
مسلمانوں کو چاہے کہ گمراہ کن نظریات سے با ھر نکلیں اور اپنی طرف سے پوری کوشش کریں کہ آخرت میں کامیاب ٹھریں اور اس کے لیے ایمان کے ساتھ نیک اعمال کریں، پھر بھی اگر کچھ کمی کوتاہی کی وجہ سے رہ جائے تو اللہ کی رحمت اور بخشش کا طلبگار ہو، یقینا اللہ ایسے ایمان والوں کو مایوس نہیں کرے گا-
-----------------
حق گوئی۔ ان الدین یکتمون ما انزلنا ۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ حق تعالی فرماتے ہیں کہ جو لوگ شرعی مسائل اور حق کی باتوں کو جان بوجھکر چھتاتے ہیں اس پر لعنت ہے ۔
حدیث شریف میں ہے کہ فرمایا رسول مقبول ﷺ نے کہ اگر کوئی شرعی مسئلہ کو جانتے ہوئے بھی نہ بتلائے ، قیامت کے دن اس کو آگ کی لگام پہنائی جائیگی۔ حضرت ابو حریرہ فرماتے ہیں کہ اگریہ آیت کریمھ نہ ہوتی تو تو میں ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا۔ حق بات اور شرعی مسئلہ بیان کرنے والے پر جن و انس ، چرند و پرند غرضیکہ سب مخلوق مغفرت کی دعائیں مانگتی ہیں۔ حضور ﷺ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا کسی شخص کو لوگونکی ہیبت حق بات کہنے سے نہ روکے ۔

مزید تفصیلات کے لیے اس لنک پر ملاحضہ کریں:
 Reference: 
-------------------------------------------
کیا کلمہ پڑھنے والا جنتی ہے ؟

اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ یہ حدیث بالکل صحیح ہےیہ حدیث صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ جو شخص‘‘لا الہ الا اللہ’’دل کے اخلاص کے ساتھ پڑھےگاوہ جنت میں داخل ہوگا خواہ ابتداءیا پھر کبیرہ گناہوں کی سزاپانے کے بعد‘‘لا الہ الا اللہ’’کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان الفاظ مبارکہ کہنے والاپکاموحد ہو اورشرک سے بالکلیہ اجتناب کرنے والا ہواس کی تائید قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات سے ہوتی ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
﴿إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ‌ أَن يُشْرَ‌كَ بِهِ وَيَغْفِرُ‌ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾ (النساء:۴۸)
‘‘یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ شرک معاف نہیں فرمائے گا ہاں شرک کے علاوہ دیگر گناہ(کبیرہ)  جسے چاہےمعاف فرمادے ۔’’
اس  سے معلوم ہوا کہ جو شخص بھی مشرک نہیں وہ اللہ تعالی کی مغفرت سے بالکل مایوس نہیں گناہ کبیرہ کی قیداس لیے لگائی گئی ہے کہ قرآن کریم میں ہے کہ:
﴿إِن تَجْتَنِبُوا۟ كَبَآئِرَ‌ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ‌ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ﴾ (النساء:٣١)
‘‘یعنی اگرآپ لوگ ان کبیرہ گناہوں سے جن کے ارتکاب سے تمہیں روکاگیا ہے بچتے رہوگے توہم تمہاری چھوٹی چھوٹی برائیوں کو مٹادیں گے۔’’
اورابتداء یا کچھ سزاپانےکی بات اس لیے کہی گئی اگر﴿وَيَغْفِرُ‌ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾کامطلب یہ لیے جائے کہ شرک کے علاوہ دیگر گناہوں میں کچھ گناہ اللہ سبحانہ وتعالی اصلاکبھی بھ معاف نہیں فرمائے گاتوپھر شرک اوردیگرگناہوں میں کچھ فرق نہ رہا۔یعنی اگرکچھ گنہگاروں کو جہنم میں خلوداورابدی سزاملے گی اورکبھی بھی انہیں اس سے نکلنا نصیب نہ ہوگاتوپھر شرک اوروہ کبیرہ گناہ سزاکے اعتبارسےبرابرہوئے نہ مشرک کی مغفرت اورنہ ہی(مشرک کے علاوہ)دیگرمرتکبین کبیرہ کی مغفرت ان کے لیے بھی ابدی سزااوران کے لیےبھی ابدی سزا۔لہذا﴿وَيَغْفِرُ‌ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾کاصاف اورواضح مطلب ہے کہ شرک کے علاوہ دیگر کبیرہ گناہوں کے مرتکبین میں سے کچھ کو توابتداہی میں معافی مل جائے گی اورکچھ (جن کے لیے اللہ سبحانہ وتعالی کی حکمت وعدل کا تقاضا ہے کہ انہیں سزاملنی چاہیئے)اپنے گناہوں کی سزاپاکربلآخران کی بخشش ہوجائے گی اورانہیں جہنم سے نکال کرجنت میں داخل کردیا جائے گا۔انہیں جہنم کی ابدی سزانہیں ملے گی۔اس بارے میں صحیحین دیگر کتب احادیث میں بے شماراحادیث مروی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بالآخروہ سب لوگ جہنم سے نکالے جائیں گے جنہوں نے کوئی بھی نیکی اصلا نہ کی ہوگی اورایسی روایات حدتواترکوپہنچتی ہیں جن کا انکارنہیں کیا جاسکتا۔
علاوہ ازیں قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت کریمہ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿إِنَّهُ مَن يُشْرِ‌كْ بِاللَّـهِ فَقَدْ حَرَّ‌مَ اللَّـهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ﴾ (المائدۃ:۷۲)
‘‘یعنی جو شخص اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرےگاتواللہ تعالیٰ اس پر جنت کوحرام قراردے دیا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔’’
اس آیت کریمہ میں بھی اشارہ ہے کہ غیر مشرک کے لیے جنت ہمیشہ کے لیے حرام نہیں اگرچہ مشیت ایزدی کے مطابق کچھ وقت کے  لیے جہنم میں چلا بھی گیالیکن بالآخر اللہ تعالی کے فضل وکرم سے جنت میں داخل ہوجائے گااس کے لیے جنت ہمیشہ کے لیے حرام نہیں۔
بہرحال جنت ہمیشہ کے لیے حرام صرف مشرکین کے لیے ہے۔
یہ حقیقت بھی پیش  نظر رہنی چاہیئے کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ﴾  (النحل:۴۴)
‘‘اورہم نے تیری  طرف کتاب اتاری ہے تاکہ لوگوں کو کھول کھول کربیان کرے جوان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔’’
یعنی قرآن حکیم کی تبیین اورتوضیح اللہ سبحانہ وتعالی کے رسول اکرمﷺکے سپردکی ہے ۔لہذا مذکوربالااحادیث مبارکہ سورہ نساء اورمائدہ کی آیات کی ہی تشریح وتوضیح ہیں لہذاانہیں قبول کرنا ضروری ولازمی ہے۔باقی رہی یہ بات کہ ‘‘لا الہ الا اللہ’’کا مطلب کیا ہے؟توحید کا مفہوم کیا اورشرک کسے کہتے ہیں یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سمجھنی چاہیئے اس کے لیےذیل  میں کچھ تفصیل سے وضاحت کی  جارہی ہے۔بعون الله سبحانه وتعالي وحسن توفيقه-
‘‘لا الہ الا اللہ’’كا مطلب ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی بھی معبود برحق نہیں اورپوری مخلوق میں کوئی بھی ہستی ایسی نہیں چاہے وہ فرشتہ ہویا نبی یا کوئی اورمخلوق جواللہ سبحانہ وتعالی  کے ساتھ ذات میں صفات میں ،افعال واختیارات میں اورکائنات کے نظام کو چلانے میں شریک وندنہیں اورنہ  ہی اللہ تعالی کا کوئی کفووہم پلہ ہے اورنہ ہی اللہ تعالی کی مثل کوئی چیز ہے۔
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ (الشوری: ۱۱)
‘‘اس کے مثل کوئی چیز نہیں وہ سننے والا دیکھنے والاہے۔’’
﴿وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ (الاخلاص:۴)
‘‘اورنہ  ہی اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔’’
صحیح معنی میں‘‘لا الہ الا اللہ’’پر کامل ایمان رکھنے والاوہ شخص ہے جو اللہ تعالی پر ایمان اس طرح رکھے کہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنی ذات وصفات واسماء وافعال کے اعتبارسے وحدہ لاشریک لہ ہے،یعنی خالق مالک رازق اولا عطاکرنےوالابیماری سے شفایاب کرنے والا،عالم الغیب ،ہرشے پر قادرجس کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔کسی چیز کو حرام یا حلال قراردینے کا اختیاررکھنے والا،بندوں کی دعاوں کو قبول کرنے والا،عبادات کی جمیع انواع واقسام کا مستحق ،مرادیں پوری کرنے والا،نفع ونقصان اورزندگی وموت کا مالک ،ہر لمحہ اپنی مخلوق کی ہر ضرورت کو پوراکرنےوالا،ان کا محافظ ونگہبان وغیرہ وغیرہ صفات صرف اورصرف اللہ تعالی کے ساتھ ہی خاص  ہیں کوئی بھی ہستی اس کائنات میں ان صفات میں اللہ  تعالی کی شریک وثانی نہیں ہے۔اس طرح موحد ہونے اورشرک سے براءت کے لیے یہ بات بھی ضروری ہے کہ وہ موحد اللہ تعالی سبحانہ وتعالی کی تقدیر(یعنی اللہ کو ماضی،حال ،مستقبل،سب کا علم ہے جو کچھ ہوچکا اورجوہورہا ہےاورجو آئندہ ہوگا سب کچھ جانتا ہے اورجوکچھ ہوایا ہوگا سب ہی اس کے بنائے ہوئے منصوبہ کے مطابق عمل میں آرہا ہے۔)پرایمان رکھتاہواسی طرح تمام انبیاءورسل اورکتب سماوی پر ایمان رکھے کہ اللہ تعالی ابتداءہی سے انبیاء ورسل اورکتب کو بھیج رہا ہے اوریہ سلسلہ سیدنا وامامنامحمدرسول اللہﷺاورقرآن کریم پر آکرختم ہوا ہے اسی طرح آخرت کے دن پرایمان بھی ضروری ہے یعنی ایک دن سب انسان زندہ ہوکراللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اوراپنے اعمال کے مطابق جزوسزاپائیں گے نتیجہ جنت یا جہنم کی صورت میں ان کے سامنے واضح ہوجائے گا۔اسی طرح ایک موحد کو ملائکہ علیہم السلام پر ایمان لانا لازمی امر ہے۔اسی طرح جن اشیاء یا اوامروعبادات کو اللہ تعالی نے فرض قراردیاہے ان کی فرضیت پرایمان رکھتا ہو،مثلا نماز،روزہ وغیرہ اورجن اشیاء کو اس نے حرام وناجائزقراردیا ہے ان کو حرام اورناجائزسمجھتارہے۔یہ سب امورتوحید اورایک موحد کے لیے لازمی ہیں ان میں سے اگرکسی ایک کا بھی انکارکرتاہے یا اللہ تعالی کی صفات جو اس کے ساتھ خاص ہیں ان میں کسی کو شریک سمجھتا ہے۔مثلا اللہ سبحانہ وتعالی کے علاوہ کسی اورکو عالم الغیب یامشکل کشاسمجھتا ہے تووہ مشرک ہے موحد ہرگزنہیں ،اس کا‘‘لا الہ الا اللہ’’پر عمل نہیں۔اللہ تعالی کے ساتھ ذات صفات میں کسی کو شریک کرنے والے کامشرک ہونا توظاہروعیاں  ہے لیکن انبیاء ورسل ،کتب ،ملائکہ علیہم السلام اورتقدیراوربعث بعدالموت،جزاوسزا،جنت وجہنم ان پر ایمان نہ رکھنے والے اورانکارکرنے والے اوراسی طرح فرائض کی فرضیت کا انکارکرنے والے یا حرام کو حلال جاننے والے یا حرام نہ سمجھنے والے کو مشرک اس لیے کہا جاتاہے کہ رسل وپیغمبروں اورکتابوں کے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں انہیں بھیجتارہاہوں اوریہ سلسلہ میں نے محمد رسول اللہﷺاورقرآن پر ختم کردیا۔
فرشتوں کے متعلق فرمایا:یہ اللہ تعالی کی ایسی برگزیدہ مخلوق ہیں جہ ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں اورنافرمانی نہیں کرتے ،اسی طرح تقدیر کے متعلق بے شمارآیات واحادیث وارد ہوئی ہیں لیکن یہاں ایک ہی آیت پر اکتفاکیا جاتا ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـٰهُ بِقَدَرٍ‌﴾ (القمر:٤٩)
‘‘بے شک ہم نے ہرچیز کو ایک مقرراندازے پر پیداکیا ہے۔’’
اورآخرت کے متعلق بھی پورے قرآن مجید میں جابجاوعظ ونصیحتیں موجود ہیں بعینہ اسی طرح نماز،روزہ وغیرہ کے متعلق قرآن کریم میں موجود ہے کہ یہ فرائض ہیں۔حرام اشیاءکی مکمل توضیح قرآن کریم اوراحادیث مبارکہ میں موجودہے اب اگرکوئی شخص ان کو ماننے سےانکارکرتا ہے تواس کا صاف مطلب ہےکہ وہ اللہ تعالی کو (معاذاللہ ثم معاذاللہ)جھوٹا سمجھتاہےاورجھوٹ نقص،عیب وخامی ہے اوراللہ سبحانہ وتعالی ہرعیب ونقص سےقطعاپاک ہےاسماء الحسنی میں ایک اسم‘‘السلام’’ہےاورایک اسم مبارک‘‘القدوس’’بھی ہےجن کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی ہرعیب ونقص سے باعتبارذات وصفات پاک ہے۔عیب اورنقص مخلوقات کاخاصہ ہے لہذا جوشخص
اللہ تعالی کو نعوذ باللہ جھوٹا سمجھتا ہے تو اس نے واضح طورپر اللہ تعالی کومخلوق کے ساتھ مشابہ قراردیا اوریہی توشرک ہے اس پر خوب غوروتدبرکریں۔ہاں جو شخص مذکورہ بالاصفات وغیرہ وغیرہ سب پر ایمان رکھتا ہے اورفرائض کی فرضیت بھی تسلیم کرتا ہے اورتمام ممنوعات وناجائز کاموں کو حرام وناجائز جانتا ہے لیکن بتقاضائے بشریت فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی وسستی کاارتکاب کرتا ہے یا محرمات میں سے کسی حرام کام ارتکاب کربیٹھتاہے یہ مشرک نہیں بلکہ موحد ہی ہے ،البتہ اسے فاسق وگنہگارکہا جائے گااورایساشخص اگرتوبہ نصوحہ کرتا ہے اوراپنے کیئے پر نادم ہوتا ہے اورآئندہ بازرہتا ہے اورمزید اپنی اصلاح کرتاہے تو اس کا وہ گناہ اللہ تعالی کے ارشادموجب معاف ہوجاتا ہے لیکن اگرکوئی شخص بغیر معافی طلب کیے اس دنیا سے رخصت ہوگیا توپھراللہ تعالی کی مشیت کے ماتحت رہے گا چاہے اسےاپنے فضل عظیم سے معاف کردے اورجنت میں داخل کردے یا چاہے اسے گناہوں سےپاک صاف کرنے کے لیے کچھ وقت جہنم میں داخل کرے پھر اپنی نظر کرم سے معاف کرکےجنت میں داخل کردے۔یہ ہے صحیح مطلب ‘‘لا الہ الا اللہ’’کا اوریہی ہے صحیح وحقیقی موحد اورشرک سے بیزاراوربری باقی عوام بلکہ کچھ خواص بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اس حدیث شریف کا مطلب ہے کہ صرف زبان سے یہ الفاظ ‘‘لا الہ الا اللہ’’اداکردینے سے آدمی پکاموحد بن جاتا اوراس کے لیے جنت میں جانے کے لیے بھی الفاظ ادااکردینے کافی ہیں‘‘لا الہ الا اللہ’’کا زبان سے ورد کرنے کے بعدچاہے وہ پیروں کی پوجا کرے اورقبوں قبروں کاطواف کرتا پھرے اوران پرسجدہ کرتا رہے اورمردوں سے مرادیں مانگتا پھرے نماز وغیرہ کی فرضیت کا انکارکرتا رہے،محرمات،زنا،چوری ،شراب نوشی،جوا،سود،رشوت وغیرہ وغیرہ کوحلال سمجھتا رہے اورایمان کے اجزاءکاانکارکرےپھر بھی وہ موحد ہے اورجنت کا ٹھیکیدارہےتویہ احمقوں کی دنیا میں رہتا ہے آج کل کے نام نہاد مسلمان بزرگوں کی قبروں کی پوجاکرنےکے بعد بھی اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں۔حالانکہ مکہ مکرمہ کے کفاربتوں کی پرستش کرتےتھے اورجن بتوں کی پوجاکرتے وہ صلحاء وبزرگان دین کے مجسمےتھے وہ ان کے پوجنے سےیہ سمجھتے تھے کہ ان مجسمین کی ارواح خوش ہوکراللہ تعالی کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔
﴿وَيَقُولُونَ هَـٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّـهِ﴾ (یونس:۱۸)
‘‘اوروہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔’’
یعنی اس وقت کے کفارصالحین کے مجسموں کی پرستش کرتے تھے اورآج کل کےمسلمان انہی صالحین کی قبروں کو پوجتے ہیں خداراسوچیں کہ ان دونوں میں آخر کیا فرق ہے؟
لیکن وہ کفاراوریہ مسلمان فیاللعجب،اس کے برعکس اگران الفاظ (یعنی جس نے‘‘لا الہ الا اللہ’’کہا وہ جنت میں داخل ہوگا)کا مطلب یہی ہے کہ صرف زبان سے یہ الفاظ اداکردیئے جائیں باقی جومن میں آئے کرتا پھرے وہ مسلمان ہے اورپکا موحد ہے اورجنت کی ٹکٹ اس کے ہاتھ لگ گئی ہے توپھر سوچنے کی زحمت کی جائے کہ پھر ایسے آسان وسہل اسلام لانے سے ابولہب ،ابوجہل اوردیگر کفارکوکیا چیز مانع تھی جب کہ وہ انہیں تویہی الفاظ اداکردینے تھے باقی من مانیاں کرنے سے کوئی چیز انہیں مانع نہ تھی بلکہ جو کچھ بھی کرتے پھرتےان کے اسلام پر ذرابھربھی کوئی اثرنہ پڑتابلکہ جنت میں جانا بھی ان کے لیے آسان تھا پھرآخر وہ یہ الفاظ کہہ کردائرہ اسلام میں کیونکر داخل نہ ہوئے؟اصل حقیقت یہ ہے  کہ ان کی زبان عربی تھی ‘‘لا الہ الا اللہ’’کے معنی ومفہوم کو خوب جانتے تھے اوران کے تقاضوں کو بھی سمجھتے تھے کہ صرف یہ الفاظ کہنے کافی نہیں بلکہ ان الفاظ کے کہنے کے بعد ان کے معنی ومفہوم پر کام یقین واعتقادرکھنا ہوگااوراپنی زندگی انہی کلمات کے معنی ومفہوم پر عمل کرتے ہوئے اوران کی تقاضائے ومتمنات کو پوراکرتے ہوئے گزارنی پڑے گی اوریہی وہ بات تھی جو ان کے لیے مشکل تھی جو وہ نہ کرسکے اس وجہ سے وہ اسلام وایمان سے محروم رہے آخر ہمارےآج کل کے مسلمان نے جنت کو اتنا سستا کس بناپرسمجھ رکھا ہے ۔هَاتُوا۟ بُرْ‌هَـٰنَكُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ!
خلاصہ کلام:۔۔۔۔۔۔کہ ایک موحد کا جو صحیح طور پر توحید پر مستقیم ہے وہ خواہ صالح ہویاگنہگارلیکن جنت میں بہرحال ضرورداخل ہوگا خواہ ابتداءبغیر کسی سزاوعذاب کے بھگتنے کے خواہ بالآخر مقررہ مدت کے عذاب بھگتنے کے بعد لیکن یہ بات ہرسچے مومن کو ذہن میں رکھنی چاہیئےکہ جہنم کی آگ کی حرارت وتپش اس
دنیا وی  آگ سے کئی گنا زیادہ ہے ارشادربانی ہے:
﴿قُلْ نَارُ‌ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّ‌ۭا﴾ (التوبه:٨١)
‘‘یعنی آپ کہہ دیں کہ جہنم کی آگ سخت گرم ہے۔’’
اس کی تشریح صحیح بخاری میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایاکہ تمہاری یہ دنیا والی آگ جہنم کی آگ کا ستروں حصہ ہے۔ صحيحبخاري:كتاب بدءالخلق’باب صفة الناروانهامخلوقة’رقم الحديث٢٣٦٥.
یعنی جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے اونہتر درجے زیادہ گرم ہے پھر جب اس دنیا کی آگ میں آدمی ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتا توپھر اس آگ میں جواونہترمرتبہ زیادہ گرم ہے کس طرح رہ سکتا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے سبب اس میں داخل ہوگا اگرچہ اس میں رہنے کی مدت کتنی کم کیوں نہ ہو؟اس لیے نفس کو دھوکے میں رہنے نہ دیا جائے بلکہ اس زندگی میں اللہ سبحانہ وتعالی کی بارگاہ میں اپنے گناہوں پر پشیمان ہوکر پکی وسچی توبہ کرکے اعمال صالحہ کے ذریعےاپنی اصلاح کی جائے تاکہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنے فضل وکرم سے اسے نواز دے اوراپنی مغفرت میں اسے داخل کردے اوربغیر کسی عذاب کے اسے جنت میں داخل کردے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/15319/54/23
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
بسم الله الرحمن الرحيم
 لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ
شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا. ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین  پر. جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا.
مزید پڑھیں:
<<کتابت حدیث >>
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits