Showing posts with label Sects. Show all posts
Showing posts with label Sects. Show all posts

کیا تاریخی واقعات دین اسلام کی بنیاد ہو سکتے ہیں؟


قرآن کے تین بڑے دعوے دنیا میں کوئی کتاب نہیں کرسکتی: (١)قرآن اللہ کا کلام ہے جس میں کوئی شک نہیں اور(٢) ہدایت کی کتاب ہے (٣)اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ نے لیا ہے-
الله کا فرمان ہے: ذلِکَ الکِتبُ لَا رَیبَ فِیہِ ھُدَی للمُتَّقِینَ۔ (سورۃبقرہ 2:2)
" یہ وہ کتاب ہے جس میں کو شک کی گنجائش نہیں(الله سے) ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (سورۃاالبقرہ 2:2)
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ﴿٩﴾
"ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں (21:9 الحجر) 
قرآن کو رسول اللہﷺ پر نازل فرمایا جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، اس لیے رسول الله کی سنت دین اسلام کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے-
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا (٣٣:٢١ الاحزاب )
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے (٣٣:٢١ الاحزاب )
مسلمان قرآن و سنت کی اہمیت سے اچھی طرح سے اگاہ ہیں، قرآن تاریخ کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے تاکہ پرانے لوگوں اور انبیا کی امتوں کے واقعات سے سبق حاصل کریں-

قرآن اور تاریخ :
قرآن کی نظر میں تاریخ حصول علم و دانش اور انسانوں کے لیے غور و فکر کے دیگر ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ قرآن نے انسانوں کو غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے غور و فکر کے منابع بھی ان کے سامنے پیش کیے ہیں۔ قرآن نے مختلف آیات میں انسانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ گزشتہ اقوام کی زندگی کا مطالعہ کریں۔ ان کی زندگی کے مفید نکات پیش کرنے کے بعد انہیں یہ دعوت دی کہ وہ باصلاحیت افراد کو اپنا ہادی و رہنما بنائیں اور ان کی زندگی کو اپنے لیے نمونہ سمجھیں۔ قرآن مجید میں کچھ پیغمبروں کی زندگی کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ ہم ہدایت اور نصحت پکڑیں ( هود، 120، 87 غافر، نساء، 164)
لَقَدْ كانَ في‏ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبابِ ما كانَ حَديثاً يُفْتَرى‏ وَ لكِنْ تَصْديقَ الَّذي بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصيلَ كُلِّ شَيْ‏ءٍ وَ هُدىً وَ رَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ. (یوسف، 111)
" یقینا ان کے واقعات میں صاحبان عقل کے لئے سامان عبرت ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے گڑھ لیا جائے یہ قرآن پہلے کی تمام کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں ہر شے کی تفصیل ہے اور یہ صاحبان ایمان قوم کے لئےھدایت اور رحمت بھی ہے۔" (یوسف، 111)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ فرماتا ہے:
قد کان لکم اسوة حسنة فی ابراھیم والذین معہ (سورة الممتحنة 60:4)
”تم لوگوں کے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔“
اسی طرح رسول اکرم کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:
لقد کان لکم (رضی اللہ ) رسول اللہ اسوة حسنة (٣٣:٢١ الاحزاب )
”درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے۔“
حدیث و سنت نبوی کی رفتار و گفتار امت مسلمہ کے لیے حجت قاطع اور سند محکم ہیں۔ سیرت نبوی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہمارا اخلاق و کردار نبی کی سیرت کے مطابق ہونا چاہیے جس کی تفصیلات حدیث کی کتب میں موجود ہے-
علم 'تاریخ' :
قرآن میں تاریخ کی حیثیت اور اہمیت واضح ہے- "تاریخ" جدید علوم کا اہم حصہ ہے- تاریخ کے اصطلاحی معانی بیان کرتے ہوئےسکالرز نے اس کی مختلف تعریفیں کی ہیں:
١. تاریخ وہ علم ہے کہ جس کے ذریعے انسانی معاشروں میں ارتقاء کے ذریعہ تبدیلی واقع ہوئی اور وہ کس طرح ایک مرحلے سے گزر کر دوسرے مرحلے تک پہنچے اور اس ارتقاء پذیر حالت کے وقت ان میں کون سے قوانین کارفرما ہیں۔
٢.کسی ایسے قدیم اور مشہور واقعہ کی مدت ابتداء معین کرنا، جو عہد گذشتہ میں رونما ہوا ہو اور دوسرا واقعہ اس کے بعد ظہور پذیر ہو۔
٣. سرنوشت یا قابل ذکر ایسے اعمال و افعال نیز حادثات اور واقعات کا ذکر جنہیں زمانے کی ترتیب کے لحاظ سے منظم و مرتب کیا گیا ہو۔
٤.عہد حاضر کی وضع و کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ واقعات و حادثات اور عہد ماضی کے انسانوں کی حالت اور کیفیت بیان کرنا۔
اس میں سوانح عمری، فتح نامے اور سیرت کی وہ کتابیں شامل ہیں جو تمام اقوام میں لکھی گئی ہیں اور اب بھی لکھی جا رہی ہیں۔
تاریخ کی خصوصیات:
(١) تاریخ جزئی ہوئی ہے، مجموعی اور کلی نہیں۔
(٢)تاریخ محض منقول ہے اور اس میں عقل و منطق کا داخل نہیں ہوتا۔
(٣)ان واقعات کا تعلق ماضی سے ہوتا ہے حال ، مستقبل سے نہیں۔
علمی اور بیانیہ تاریخ کی تشکیل چونکہ ان واقعات کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے جو عہد ماضی میں گزر چکے ہیں اس لیے محققین یہ طے نہ کرسکے کہ یہ واقعات کس حد تک معتبر یا غیر معتبر ہوسکتے ہیں۔ 
بعض محققین کی رائے یہ ہے کہ قدماء کی کتابوں میں بیانیہ تاریخ سے متعلق جو کچھ درج کیا گیا ہے اسے بیان اور قلمبند کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے واقعات کو اغراض کی بنیاد، شخصی محرکات، قوت تعصبات یا اجتماعی و عقیدتی وابستگی کی بنیاد پر نقل کیا ہے اور اس میں تصرف و تحریف کرکے واقعات کو اپنی منشاء کے مطابق پیش کیا ہے یا انہوں نے واقعات کو اس طرح لکھا ہے جس سے ان کے اغراض و مقاصد پورے ہوتے تھے اور ان کے عقائد کے منافی بھی نہیں تھے۔
بیانیہ تاریخ کے بارے میں یہ بدبینی بے سبب نہیں ہے، بلکہ اس کا سرچشمہ تاریخ کی کتابوں کی کیفیت اور مورخین کے مزاج کو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود تاریخ بھی دیگر علوم کی طرح مسلمہ حقائق و واقعات پر مبنی ایک سلسلہ ہے جو کہ حتمی نہیں مگراس کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک محقق شواہد و قرائن کی بنیاد اور اپنی اجتہادی قوت کے ذریعہ سراغ لگا سکتا ہے کہ حوادث و واقعات میں کس حد تک صحت و سقم ہے اور انہی کی اساس پر وہ بعض نتائج اخذ کرسکتا ہے۔مگر یہ شریعت کی بنیاد نہیں بن سکتے جب تک قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو-
تاریخ اسلام کی اہمیت اور قدر و قیمت
جن مسلم اور غیر مسلم محققین اور دانشوروں نے تاریخ خصوصاً تاریخ اسلام اور سیرت النبی کے بارے میں تحقیق کی ہے انہوں نے اس کی اہمیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر اس کی قدر و قیمت کا اعتراف کیا ہے۔
جرح و تعدیل:
علماء نے تاریخی روایات سے استفادے کیلئے جو نظام تشکیل دیا اسے ” جرح و تعدیل ” کے نام سے پہچانا جاتا ہے جسکی بنیاد اس نص قرآنی پر ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے:
"اے اہل ایمان! اگر آپ لوگوں کے پاس کوئی فاسق خبر لے آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کسی گروہ کو جہالت میں نقصان پہنچا بیٹھیں اور پھر اپنے فعل پر نادم ہوں۔ "(الحجرات 49:6)
اس جرح و تعدیل کے ماہر حضرات مورخین و محدثین ہیں اسکی نص بھی قرآن سے بیان ہوتی ہے ۔
ترجمہ :" اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن یا خوف کی تو اس کو مشہور کرديتے ہیں اور اگر اس کو پہنچا ديتے رسولؐ تک اور اپنے اولو الامر (علماء و حکام) تک تو جان لیتے اس (کی حقیقت) کو جو ان میں قوتِ استنباط (حقیقت نکالنے کی اہلیت) رکھتے ہیں اس کی اور اگر نہ ہوتا فضل ﷲ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پيچھے ہو ليتے شیطان کے سواۓ چند (اشخاص) کے۔(النساء:83)
علما امت نے مستقل تاریخ اسلامی سے متعلق ایسی کتب لکھی ہیں جن میں تاریخی روایت کے نتیجے میں پیدہ ہونے والے اشکالات کا حل موجود ہے۔ ابن تیمیہ رح کی منہاج السنہ ، ابن العربی رح کی العواصم من القواصم، حضرت شاہ ولی الله دھلوی رح کی ازالة الخفاء عن خلافت الخلفاء وغیرہ۔ اسی طرح ماضی قریب اس موضوعات پر سینکڑوں کتابیں لکھی گئی-
تنقید:
"تاریخ کو حدیث سے کہیں زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ تاریخی واقعات نقل کرنے والے راویوں کی معرفت حاصل کی جائے کیونکہ جھوٹ اورتساہل کا وجود تاریخ میں بہت زیادہ ہے"۔[علم الرجال وأهميته للمعلمی ص: 257] یہ قول ہے علامہ معلمی رحمہ اللہ کا (المتوفی1386) جن کو امیرالمؤمنین فی الجرح والتعدیل ، فقیہ اسماء الرجال کھا جاتا ہے-
عام طوریہ سمجھا جاتا ہے کہ جس اسلوب میںعلماء احادیث رسولؐ کی چھان بین کرتے ہیں اسی انداز میں تاریخ کی بھی کرنی چاہیے۔ لیکن اسکی ضرورت نہیں کیونکہ:
(١) احادیث کے مقاصد تاریخ کے مقاصد میں بہت فرق ہے- احادیث سے تو دین کا ثبوت ہوتا ہے جبکہ تاریخ شریعت کے اصولوں میں شامل نہیں۔ تاریخ کے مقاصد فرق ہیں اور وہ گزرے ہوئے حالات اور معاملات کی فہمی اور اس سے عبرت ہے۔
(٢) ایک رائے کے مطابق اسلامی تاریخ کی حیثیت ویسی ہی ہے جوکہ تفسیر میں اسرائیلیات کی ہے۔ یعنی کسی واقعہ کو تفصیلا سمجھنے کے لیے تاریخ کی مدد لی جاسکتی ہے ورنہ شرعی استدلال "اسرائیلیات" سے درست نہیں الا یہ کہ وہ بذات خود شریعت سے ثابت ہو۔
(٣) اسی طرح تاریخ سے ایک عمومی بات کو تو قبول کیا جاسکتا ہے لیکن تفاصیل کو نہیں کیونکہ تفاصیل میں ہر مؤرخ اپنے بیان میں منفرد ہوتا ہے۔
(٤) تاریخ کی انتہاء نہیں جبکہ شریعت مکمل ہوچکی ہے۔ تاریخ تو آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک چلتی آرہی ہے جبکہ جس شریعت کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے اسکی ابتدا اللہ کے رسول (ص) کی نبوت سے ہوئ اور آپؐ کی وفات کے ساتھ تکمیل بھی۔ اس لیے تمام تاریخ کو احادیث کے معیار پر پرکھنا نہ صرف وقت کا ضیاء ہے بلکہ ناممکن بھی۔ اسی لیے ہمیں احادیث کی اسناد کی چھان بین کرنے والے تو بہت ملیں گے لیکن تاریخ کے کم۔ 
(٥) اہل علم نے بھی تاریخ کو اس طرح اہمیت نہیں دی اسی لیے ہمیں نامور مؤرخین میں ایسے بھی مل جائیں گے جوکہ 'جرح و تعدیل' کے معیار پر تو کمزور ہیں لیکن تاریخ میں انکا اپنا مقام ہے۔ اگر تاریخ کو انہیں معیارات پر پرکھنا شروع کردیا جائے جس پر احادیث کو کیا جاتا ہے تو تاریخ کا اکثر حصہ فارغ ہوجائے گا۔
(٦)اگر معترض یہ سوال کرے کہ صحابہ کی طرف بعض لوگ غلط باتیں منسوب کرتے ہیں تو کیا اب ہم اسکو قبول کرلیں؟ تو ممکنہ جواب ہو گا کہ ہر وہ چیز جسکا تعلق دین سے ہو وہ بغیر سند کے قبول نہیں کی جائے گی لیکن جسکا تعلق دین سے نہیں اسکواس طرح پرکھنے کی ضرورت نہیں۔
تاریخ اسلام
تاریخ کے جتنے بھی منابع و ماخذ موجود ہیں ان میں تاریخ اسلام سب سے زیادہ معلومات سے لبریز اور مالا مال ہے چنانچہ جب کوئی محقق تاریخ اسلام لکھنا شروع کرتا ہے اور اسے تاریخی واقعات وافر مقدار میں بصورت دقیق مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخ اسلام میں بمقابل دوسری تواریخ جس قدر مستند و باریک نیز روشن نکات موجود ہیں وہ دیگر تواریخ میں نظر نہیں آتے۔
ان خصوصیات کا سرچشمہ سیرت اور سنت رسول (ص) ہے اور یہ مسلمانوں کے لیے قطعی حجت و دلیل ہے چنانچہ وہ انہی کی پیروی کرتے ہیں۔
پیغمبر اسلام اور مذہب اسلام کو دیگر مذاہب پر فوقیت حاصل ہے، کیونکہ آپ کی تاریخ روشن و مستند ہے۔ اس اعتبار سے دنیا کے دیگر رہبر و راہنما ہماری برابری نہیں کرسکتے چنانچہ پیغمبر اسلام کی زندگی کی دقیق باتیں اور اس کے جزئیات آج بھی ہمارے پاس قطعی اور مسلم طور پر احادیث کی کتب میں موجود و محفوظ ہیں۔ آپ کا سال ولادت ماہ ولادت روز ولادت یہاں تک کہ ہفتہ ولادت بھی تاریخ کے سینے میں درج ہے۔ دوران شیرخوارگی، وہ زمانہ جو آپ نے صحراء میں بسر کیا، وہ دور جب آپ سن بلوغ کو پہنچے، وہ سفر جو آپ نے ملک عرب سے باہر کیے، وہ مشاغل جو آپ نے مبعوث بہ رسالت ہونے سے پہلے انجام دیئے ہیں وہ ہمیں بخوبی معلوم ہیں۔ آپ نے کس سال شادی کی اور اس وقت آپ کا سن مبارک کیا تھا؟ آپ کی ازواج کے بطن سے کتنے بچوں نے ولادت پائی اور کتنے بچے آپ کی رحلت سے قبل اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ وفات کے وقت آپ کی کیا عمر تھی؟ یہ واقعات مبعوث برسالت ہونے کے وقت تک ہیں، اس کے بعد کے واقعات اور دقیق ہو جاتے ہیں۔ تفویض رسالت، جیسا عظیم واقعہ کب پیش آیا وہ پہلا شخص کون تھا جو مسلمان ہوا، اس کے بعد کون شخص مشرف با اسلام ہوا۔ آپ کی لوگوں سے کیا گفتگو ہوئی؟ آپ نے کیا کارنامے انجام دیئے اور کیا راہ و روش اختیار کی سب دقیق طور پر روشن و عیاں ہیں۔
سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پیغمبر اکرم کی تاریخ میں زمانہٴ ”وحی“ کے دوران تحقیق ثبت کی گئی۔ تئیس سالہ عہد نبوت کا ہر واقعہ وحی آسمان کے نور سے منور ہوا، اور اسی کی روشنی میں اس کا تجزیہ کیا گیا، قرآن مجید میں جو واقعات درج ہیں ان میں اکثر و بیشتر وہی مسائل و واقعات ہیں جو عہد نبوت کے دوران پیش آئے۔ ہر وہ واقعہ جسے قرآن نے بیان کیا ہے بے شک وہ خداوند عالم الغیب والشہادہ نے ہی بیان کیا ہے۔ قرآن کی رو سے تاریخ بشر اور اس کا ارتقاء اصول و ضوابط کی بنیاد کے سلسلے پر قائم ہے، عزت و ذلت، کامیابی و ناکامی فتح و شکست اور بدبختی و خوش نصیبی کے واقعات دقیق و منظم حساب کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ان اصول و ضوابط اور قوانین کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کو رسول اللہ (ص) اور اصحابہ کرام کیتاریخ کوقرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا جائے اور اس کے ذریعے اپنی ذات نیز معاشرے کو فائدہ پہنچایا جائے۔
تاریخ میں مثبت اور منفی واقعات کو سمجھ کر اس سے سبق حاصل کیا جا سکتا:
قد خلت من قبلکم سنن فسیروا فی الارض فانظر واکیف…
”تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں، زمین میں چل پھر کر دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے اللہ کے احکامات اور ہدایات کو جھٹلایا۔“
اس میں شک نہیں کہ تاریخ اسلام کا شمار دنیا کی اہم ترین تواریخ عامہ میں ہوتا ہے، کیونکہ مذکورہ تاریخ نے قرون وسطیٰ سے متعلق پوری دنیا کی تاریخ تمدن کا احاطہ کرلیا ہے۔ بالفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ اسلام زنجیر کی وہ کڑی ہے جس نے دنیائے قدیم کی تاریخ کو جدید تاریخ سے متصل کیا ہے۔ یہ تاریخ اسلام ہے جس سے جدید تمدن کا آغاز اور قدیم تمدن کا اختتام ہوتا ہے ۔ لیکن تاریخ شریعت کی بنیاد نہیں مددگار ہو سکتی ہے قرآن و سنت کی روشنی میں-
دین اسلام میں تاریخ کی حثیت:
جب ہم تاریخ کو دین کا جزو سمجھ کر نتائج اخذ شروع کر تے ہیں تو بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں-اس طرح بہت بڑی غلط فہمیان پیدا ہوتی ہیں- قاری جس کسی مورخ کی تحریر پڑھے گا اس سے اثر قبول کرکہ اپنا نظریہ بنا کر اس کے دفاع میں لگ جایئے گا- دو مخالف افراد کی بحث ایک دائرہ کی شکل اختیار کرکہ گھومنا شروع کرتی ہے جس کا کوئی اختتام نہیں ہوتا- اللہ کا فرمان بار بار دہرانے کی ضرورت ہے :
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو (سورة الحجرات49:6)
مورخین اکثر خود واقعات کے چشم دید گواہ نہیں ہوتے وہ سنی سنائی روایت کو لکھ دیتے ہیں- تاریخ بطور "موضوع" ایک سائنس ہے اور سائنسی تجزیہ، عقیدے، جذبات اور تعصب سے ماورا ہوتا ہے- ہم اگر تاریخِ اسلام کوکسی مخصوص مسلمان فرقہ کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے نظریات مسلط کرکہ نتائج اخذ کریں گے- لیکن اگر سیکولر ، مغرب سٹنڈرڈ سے دیکھیں تو معاملہ کچھ اور ہو گا جو شاید ہما رے عقائد سے ٹکراتا ہواس لیے ضروری ہے کہ تاریخ اسلام کو عقائد کی بنیاد بنانے سے پرہیز جائے-
کتابت احادیث:
احادیث سے مراد وہ تمام اقوال ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں۔ احادیث کو لکھنے اور یاد کرنے کا کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے شروع ہو گیا تھا۔ عربوں کو چونکہ اپنے حافظہ پر ناز تھا اس لیے وہ تمام باتوں کو یاد کر لیتے تھے۔ قران کی طرح احادیث کی کتابت کا اہتمام خلفاء راشدین اور ان کے بعد کی صدی تک کے حکمرانوں نے بوجوہ نہ کیا- حضرت عمر فاروق رضی الله قرآن پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے تھے انہوں نے سختی سے احادیث کو لکھنے سے منع فرمایا ، جس پر بعد میں بھی کوئی تبدیلی نہ ہوئی- اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے- کئی سو سالوں تک احادیث کو جمع کرنے کا کام کیا جاتا رہا ہے۔ احادیث کے مجموعے مختلف اصحاب و علماء و محدثین کے ناموں سے مشہورہویے- چھ مستند کتابیں صحاح ستہ (٢٢٥ -٣٠٣ ھ) (١)صحیح بخاری (٢) صحیح مسلم(٣) سنن نسائی(٤) سنن ابی داؤد (٥) سنن ابن ماجہ(٦) سنن ابن ماجہ ہیں-حدثین کی ان کتابوں میں ایک طرف دینی معلومات جمع کی گئیں اور دوسری طرف ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے کے صحیح تاریخی واقعات جمع کیے گئے ہیں۔ اس طرح احادیث کی یہ کتابیں دینی و تاریخی دونوں اعتبار سے قابل بھرو سہ ہو سکتی ہیں- 
حدیث کے معاملہ میں اگرچہ بہت احتیاط برتی گئی مگر پھر بھی اسناد، تصدیق اور دوسری اہم وجوہات کے لحاظ احادیث کومختلف کیٹیگریز میں رکھنا ضروی ھوا- سب سے مستند "صحیح" اور نچلے درجہ میں ضعیف، موضوع وغیرہ- علم حدیث کو علم تاریخ سے علیحدہ رکھنا چاہیے-
تکمیل دین اسلام:
جب حج الوداع کے موقع پر المائدہ کی آیات ٣ ، نازل ہوئی جس میں دین کے کامل ہونے کا اعلان کر دیا گیا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ( المائدہ: 5:3) 
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ "اس دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کامل کر دیا ہے" اور اپنے نبی اور مومنوں کو اس کا کامل ہونا خود اپنے کلام میں فرما چکا ہے اب یہ رہتی دنیا تک کسی زیادتی کا محتاج نہیں ، اسے اللہ نے پورا کیا ہے جو قیامت تک ناقص نہیں ہوگا۔ اس سے اللہ خوش ہے اور کبھی بھی ناخوش نہیں ہونے والا ۔
اس وقت قرآن اور سنت رسول اللہﷺ تواتر میں موجود تھی مثلاً نماز، روزہ ، زکات ، حج اور دوسرے احکام و معاملات پر لاکھوں مسلمان عمل درآمد کر رہے تھے، قران حفاظ صحابہ اکرام کے دماغ میں اور مختلف طریقوں پر تحریر کی شکل میں موجود تھا جس کوحضرت عمر (رضی اللہ) کے اصرار پر حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ) کے دور میں اکٹھا کر دیا گیا، اور پھر حضرت عثمان رضی الله نے تو سرکاری طور پر اس قرآن کو اہل قریش کی قرات میں تحریرکروا کرعالم اسلام میں بھجوا دیا اور تمام غیر سرکاری نسخوں کو جلا دیا- نماز میں قران مسلسل تلاوت کیا جاتا تھا- پوری توجہ قرآن پر تھی- 
تکمیل دین اسلام (حج الوداع) کے اعلان کے 51 سال بعد 61 ہجری میں سانحہ کربلا پیش آیا اور 200 سال بعد احادیث کی مشہور کتب کی تدوین شروع ہوئی۔ جب اسلام کی تکمیل 10 ہجری کو ہو چکی تھی۔ اسلام کے اراکین پر عمل ہو رہا تھا مسلسل نماز ، روزہ ، زکات، حج ۔۔ ایمان سب کچھ معلوم تھا جو سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہو رہا تھا۔ پھر بہت تاریخی واقعات پیش آئیے۔۔ ان سے کوئی اسلام کے ارکان میں یا دین میں اضافہ یا کمی ممکن نہ تھی اللہ کا فرمان دیں کی تکمیل اور قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی۔ 
ہم کو تاریخ کو تاریخ سمجھ کر پڑہنا چاہیئے تاریخ دین کی بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور سنت دیں کی بنیاد ہے۔ 
ہم آج بھی 70 سال بعد بحث کرتے ہیں کہ قائد اعظم سیکولر پاکستان بنانا چاہتے تھے یا اسلامی ۔۔ دونوں طرف سے دلائل موجود ہیں ، تقریروں کی ریکارڈنگ ۔۔ اخباروں کے تراشے اور چشم دید گوایان کے بیانات اور کتابیں تک موجود ہیں مگر اس جدید میڈیا کے دور میں تاریخی اختلاف ختم نہیں ہو رہا-
مقدمہ ابن خلدون:
ابن خلدون (وفات؛ 1406ء،808 ہجری ) ایک مشہور مورخ، فقیہ ، فلسفی اور سیاستدان تھا-ا بن خلدون کو تاریخ اور عمرانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا کارنامہ" مقدمتہ فی التاریخ" ہے جو "مقدمہ ابن خلدون" کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تاریخ، سیاست ، عمرانیات ، اقتصادیات اور ادبیات کا گراں مایہ خزانہ ہے۔ تاریخ کو باقاعدہ ایک سائنسی علم کا درجہ ابن خلدون نے دیا آج سے 600 سال قبل-
تاریخ طبری:
ابن خلدون 800 ہجری کا مورخ ہے جس نے تاریخ کے اصول بنایے- تاریخ طبری" بہت زیادہ مشہور و معروف ہےجس کو بہت سے محقق ریفر کرتے ہیں- علامہ ابن جریر بن یزید طبری (المتوفی: ۳۱۰ھ) سانحہ کربلا کے چشم دید گواہ نہیں وہ تو ٢٠٠ سال بعد کی پیدائش ہیں - اکثر لوگوں کو علم نہیں کہ اسی نام کا دوسرا شخص شیعہ عالم تھا، جس کی بہت ساری تصانیف بھی ہیں- دونوں کا نام ولدیت اور کنیت ایک جیسی ہے؛ اس لیے بہت سارے خواص بھی اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں،پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں کے دادا کا نام جدا جدا ہے،سنی ابن جریر کے داد کا نام یزید ہے اور شیعہ ابن جریر کے دادا کا نام رستم ہے- اسی تشابہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعہ علماء نے ابن جریر (شیعی) کی بہت ساری کتابوں کی نسبت ابن جریرسنی کی طرف کرنے کی کوشش کی ہے-
تاریخ طبری میں جگہ جگہ حضرات صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ایسی بے بنیاد اور جھوٹی روایات مروی ہیں، جن کی کوئی معقول و مناسب توجیہ نہیں کی جاسکتی ہے- روایات پر کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ تاریخ طبری میں بڑے بڑے دروغ گو ، کذّاب اور متہم بالکذب راویوں کی روایات بھی جگہ جگہ موجود ہیں۔ طبری اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
مقدمہ تاریخ طبری:
"میں نے اس کتاب میں جو کچھ ذکر کیا ہے ا س میں میرا اعتماد اپنی اطلاعات اور راویوں کے بیان پر رہا ہے نہ کہ عقل و فکر کے نتائج پر ، کسی پڑھنے والے کو اگر میری جمع کردوں خبروں اور روایتوں میں کوئی چیز اس وجہ سے ناقابل فہم اور ناقابل قبول نظر آئے کہ نہ کوئی اسکی تک بیٹھتی ہے اور نہ کوئی معنی بنتے ہیں تو اسے جاننا چاہیے کہ ہم نے یہ سب اپنی طرف سے نہیں لکھا ہے بلکہ اگلوں سے جو بات ہمیں جس طرح پہنچی ہے ہم اسی طرح آگے نقل کردی ہے"۔ [علامہ ابن جریر بن یزید طبری (المتوفی: ۳۱۰ھ)]
راوی ابومحنف اور ہشام بن محمد سائب بھی ہیں۔ لیکن وہ قابل اعتبار نہیں۔ ابومحنف راوی اپنی طرف سے باتیں بنا لیتا ہے۔ اسی طرح کے راویوں کی روایت کی بنیاد پراگر ایک نیا مذہبی بیانیہ ترتیب دیا جائےتو اس کی کیا حثیت ہو گی ، کوئی بھی اندازہ کر سکتا ہے!
صحابہ اکرام:
ابتدائ تاریخ اسلام کو سمجھنے کے لئے، صحابہ کرام کا مزاج سمجھنا ضروری ہے ۔ تاریخِ اسلام سے رغبت رکھنے والوں کو پہلے صحابہ کے زمانہ کے رواج اور اس پاک جماعت کے مجموعی کردار کو سمجھنے کی ضرورت ہے- "حیات الصحابہ" نامی کتاب کا مطالعہ کیجئے- اس مقبول عام کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ مصنف نے صحابہ بارے سب میسر احادیث کو مختلف عنوانات میں جمع کر لیا ہے اور فیصلہ قاری کے ذہن اور ایمان پہ چھوڑ دیا ہے۔ لنک آخر میں-
صحابہ اکرام انسان تھے ان میں اختلاف ، رنجش اور لڑائ ہوئی تھی مگر اتنے قتل اور مظالم بہرحال نہیں ہوئے جو تاریخ نے "ریکارڈ" فرمائے ہیں-اس سلسلے میں کچھ ضروری باتوں کا خیال رکھنا چاہیے : 
1- ممکن ہے کہ دو گروہ آپس میں اختلاف کریں اور دونوں حق پہ ہوں (بلکہ اختلاف تو ہوتا ہی اہل حق میں ہے جنکا کوئ نظریہ ہو، اہل باطل کا کیا اختلاف ہو گا جنکا ہدف کسی طریقے سے پیٹ بھرنا ہو- قرآن بتاتا ہے کہ موسٰی اور ہارون، موسٰی اور خضر میں اختلاف ہوا-
2- دونوں اہل حق میں ایک ہی زیادہ حق پر ہو گا مگر اس سے دوسرے کی شان میں کمی نہیں آتی- قرآن بتاتا ہے کہ داؤد نے فیصلہ کیا مگر انکے بیٹے سلمان نے انکے برخلاف فیصلہ کیا جو کہ زیادہ درست تھا- دونوں نبی رہے اور کسی کو معزول نہیں کیا گیا-
3- حضرت امر معاویہ (رضی اللہ ) اور حضرت علی (رضی اللہ ) کی فوج میں موجود صحابی، کیا ایک دوسرے کو قتل کر کے بھی جنت جائیں گے؟- جی ہاں، ام حارثہ کی حدیث یاد کیجئے-
حارثہ کو حضور کے سامنے، مسلمان کے تیر نے شہید کیا اور سرکار نے انکے لئے جنت کی بشارت دی-
4- حضرت امر معاویہ (رضی اللہ ) اور حضرت علی (رضی اللہ ) کے علاوہ بھی صحابہ میں آپس میں رنجش ہو جایا کرتی تھی کہ یہ انسانی فطرت ہے- قرآن میں آیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں جائیں گے تو انکے دلوں کو اس کینے سے پاک کیا جائے گا جو دنیا میں تھا- اسکا مطلب ہے مومنین میں آپس میں رنجش اور خفگی ہو جایا کرتی ہے-
یہ حیران کن ہے ہے کہ اس دور کے کچھ علماء حضرات، صحابہ کے فیصلوں کی غلطیاں نکال کر، انکی نیتوں پہ حملے کرتے ہیں- فارسی میں ایک مثال ہے "امور مملکت را خسرواں می دانند"- عثمان، علی اور معاویہ، جو کچھ بھی تھے، اپنے زمانے کے حمکران تھے اور موجودہ کئ کئ ممالک پہ مشتمل علاقہ انکے زیرنگیں تھا- کسی حمکران کی پالیسی کا تجزیہ کوئ حمکران یا علوم سیاسیات کا ماہر ایکسپرٹ ہی کر سکتا ہے مگر افسوس کہ ایسے لوگ جو اپنے گھر، محلہ کو نہیں سنبھال سکتے وہ انکے طرز حکمرانی میں کیڑے نکالتے ہیں اور بزعم خود، انکو صحیح فیصلے سجھانے کی کوشش کرتے ہیں-
مختصر بات ہے کہ تاریخ کے دھارے میں، عقائد کو سنبھال کر بہت احتیاط سے چلنا ہو گا بالخصوص ان حالات میں جب جھوٹ کی گرد نےراستہ پر مٹی ڈال دی ہو- صحابہ اکرام کے متعلق سوچ کر بات کریں ،ایسا نہ ہو کہ بعد می پچھتاوا ہو:
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو(سورة الحجرات49:6)
حاصل کلام :
تاریخ بطور "علم " ایک سائنس ہے اور سائنسی تجزیہ، عقیدے، جذبات اور تعصب سے ماورا ہوتا ہے- ہم اگر تاریخِ اسلام کوکسی مخصوص مسلمان فرقہ کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے نظریات مسلط کرکہ نتائج اخذ کریں گے- لیکن اگر سیکولر ، مغرب سٹنڈرڈ سے دیکھیں تو معاملہ کچھ اور ہو گا جو شاید ہما رے عقائد سے ٹکراتا ہو- تاریخ مستند اور غیر مستند روایت کا مجموعہ ہوتا ہے، جس میں سچ اور جھوٹ کی پہچان بہت مشکل ہے- اسلام کی بنیاد قرآن ہے جو اللہ کا کلام ہے جس میں کوئی شک نہیں اوریہ ہدایت کی کتاب ہے قرآن کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ نے لیا ہے- قرآن رسول اللہﷺ پر نازل ہوا جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، اس لیے رسول الله کی سنت دین اسلام کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے- قرآن تاریخ کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے تاکہ ہم انبیا، پرانی امتوں اور اقوام کے واقعات سے سبق حاصل کریں اور نصحت پکڑیں- تاریخ ایک تغیر پزیر اور ترقی پزیرانسانی علم ہے جس سے دوسرے علوم کی طرح فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے مگر تاریخ کوٹھوس اسلامی عقائد کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا- 
(تحقیق و ترتیب : آفتاب خان)
..................................................

سانحۂ کربلا کی تاریخی اہمیت و حیثیت:مفصل تحققیق پڑھیں.. لنک ….
مزید تحقیق لنک
..................................................
اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، کیا تاریخی  واقعات بھی دین اسلام کی بنیاد بن سکتے ہیں؟
................................................

لنکس /ریفرنس


……………………………………………………..

حیاۃ الصحابہ رضی اللہ عنہ (اردو)
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین دین کی اساس اور اس کے اولین مبلغ ہیں۔انہی لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھا اور ہم تک پہنچایا۔یہ وہ مبارک جماعت ہے جسے خداوند عالم نے اپنے پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم  کی مصاحبت کےلیے چنا اور ان کے ایمان کو ہمارے لیے ایک نمونہ قراردیا ۔حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی زندگی حضرت رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا اعلیٰ ترین ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت سے ایسے  عظیم الشان لوگ تیار ہوئے جنہوں نے اطراف واکناف عالم میں خدا کے دین کو غالب کر دیا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے احوال زندگانی کا مطالعہ کیا جائے تاکہ دلوں میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جذبات بیدار ہو ں اور دین خداوندی کی خاطر کٹ مرنے کا داعیہ پیدا ہو۔سچ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے واقعات مسلمانوں کے لیے حیات نو کا پیغام اور تجدید دین کا سامان رکھتے ہیں ۔زیر نظر کتاب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے تذکرے پر مشتمل ہے اصل عربی کتاب مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے جو بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ کے فرزند ہیں۔یہ اس کا اردو ترجمہ ہے،جس سے اردو دان طبقے کے لیے استفادہ کی راہ آسان ہو گئی ہے۔ بحثیت مجموعی اس کا مطالعہ مفید رہے گا۔

..............................................................

مزید پڑھیں:

Also Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
SalaamOne سلام

Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
Web,Books, Articles, Magazines,, Blogs, Social Media,  Videos
Over 3 Million visits/hits

مسلمان کون؟ Who is real Muslim?

Image result for Muslim sects
وہ مذاھب جو کہ سنی اسلام میں سے نہیں ہیں ،کیا حقیقی اسلام کا جزو شمار ہوتے ہیں؟ دوسرے الفاظ میں ، کیا ھر وہ شخص جو اسلامی مذاھب یعنی اھل سنت کے چاروں مذاھب کے علاوہ مذھب ظاھری، مذھب جعفری، مذھب زیدی یا مذھب اباضی میں سے کسی ایک کی پیروی کرے اور اس کے احکام پر عمل کرے ، مسلمان ہے ؟
Image result for Muslim sects

اسلام ایک ایسا دین ہے جسے خدا نے پسند کیا ہے خاتم الانبیاء حضرت محمد (ص) اسے دنیا والوں کے لئے لائے ہیں تا کہ اس کے پیروکار قیامت کے دن تک دنیا و آخرت کی سعادت اور خوش بختی حاصل کر سکیں اور جو بھی اس سے منہ موڑ لے گا اور اس کو چھوڑ دیےگا ، گمراہی میں گرفتار ھو جائے گا اللہ تعالی کا ارشاد ھے :

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ اور جو بھی اسلام کے علاوہ کوئی دین اپنائے ھرگز اس سے قبول نھیں کیا جائے گا اور وہ شخص آخرت میں خاسرین گھاٹے میں رہنے والوں) میں سے ہے ۔ (۱)

اور یہ بھی ارشاد فرمایا : إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الإِسْلاَمُ بیشک خدا کے نزدیک دین ، اسلام ہی ہے ۔ (۲)

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پراستوار ہے ، عبداللہ بن عمر رض سے روایت ھے کہ پیغمبر خدا (ص) نے فرمایا : بني الاسلام علي خمس، شهادة ان لااله الاالله و ان محمداً رسول الله و اقام الصلاة و ايتاء الزکاة و الحج و صوم رمضان: ۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ھے ۔ لا الہ الا اللہ اور محمداً رسول اللہ کی گواھی دینا ، نماز قائم کرنا ، زکات دینا ، حج اور رمضان کے روزوں پر ۔

لا الہ الا اللہ کی گوای، توحید کا اثبات اور محمد رسول اللہ کی گواھی ، رسالت اور نبوت اور پیغمبر (ص) سے سنی ہوئی تمام چیزوں کا اثبات ہے جیسے : ملائکہ الٰھی ، کتابیں ، انبیاء ، قیامت کا دن اور مقدرات الٰھی چاہے خیر ہو یا شر ۔ عمر بن خطاب سے نقل ہوا ہے : ایک دن ھم نبی اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک مرد ہمارے پاس آیا جس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت کالے تھے ۔ سفر کا کوئی اثر اس کے ظاھر میں نہیں تھا اور ہم میں سے کوئی اس کو نہیں پہنچانتا تھا ۔ پیغمبر (ص) کے پاس بیٹھ گیا ۔ اس کے زانو رسول (ص) کے زانو سے ملے ہوئے تھے اور اس نے اپنا ہاتھ آپ (ص) کی ران پر رکھا اور عرض کیا : اے محمد ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ، نبی اکرم (ص) نے فرمایا :

الاسلام ان تشهد ان لااله الاالله و ان محمداً رسول الله و تقيم الصلاة و تؤتي الزکاة وتصوم رمضان و تحج البيت ان استطعت اليه سبيلاً، قال: صدقت. قال فعجبنا له يسأله و يصدقه. قال: فاخبرني عن الايمان. قال: ان تؤمن بالله و ملائکته و کتبه و رسله و اليوم الاخر وتؤمن بالقدر خيره و شره. قال: صدقت۔ ثم انطلق فلبثت مليا قال لي: يا عمراتدري من السائل؟ قلت: الله و رسوله اعلم. قال: فانه جبرئيل اتاکم يعلمکم دينکم.

اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ وحدہ لا شریک کے علاوہ کوئی خدا نھیں ہے اور محمد(ص) اس کے رسول ہیں اور نماز کو قائم کرو، زکات دو، رمضان میں روزہ رکھو اور اگر استطاعت ہو تو خانۂ کعبہ کا حج کرو ۔ اس مرد نے کہا: آپ نے سچ کہا ۔ ہم نے تعجب کیا کہ وہ کیسے سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے ۔ اس مرد نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتاؤ؟ آپ(ص) نے فرمایا: یہ کہ خدا اور اس کے ملائکہ، کتابیں، رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آؤ اور قدر پر ایمان رکھو چاہے خیر ہو چاہے شر۔ اس نے کہا: صحیح ہے، پھر چلا گیا ۔ میں سوچ میں پڑ گیا، آپ(ص) نے مجھ سے فرمایا: اے عمر! کیا جانتے ہو کہ سوال کرنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: وہ جبرئیل تھے جو آئے تھے تاکہ تمھارا دین تم کو سکھائیں ۔

نبی اکرم(ص) نے مسلمان ہونے کی حدود کو بیان فرمایا ہے۔ اس کے بعد کہ اسلام کی علامتوں کو واضح فرما دیا ہے۔ انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) نے نبی اکرم(ص) سے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: من شهد ان لااله الاالله و استقبل قبلتنا و صلي صلاتنا و اکل ذبيحتنا فهو المسلم، له ما للمسلم و عليه ما علي المسلم : جو بھی یہ گواہی دے کہ خدائے وحدہ لا شریک کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کرے اور ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے ذبیحہ(ذبح کئے گئے جانور) کو کھائے، تو وہ مسلمان ہے،ایک مسلمان کے جملہ حقوق اس کے لئے ہیں اور مسلمان کے تمام فرائض اس پر واجب ہیں ۔

" اھل سنت و جماعت " کی اصطلاح عباسی حکمرانوں کے دور کی ابتدا سے رائج ہوئی ہے ۔ اسلام اس سے زیادہ سابق اور جامع ہے اور کسی خاص مذھب تک محدود نہیں ہوتا ۔ بلکہ تمام سنی، ظاھری، جعفری و زیدی مذاھب، اسلام کے پرچم کے نیچے اور اس کے احکام کے تابع ہیں اور سارے وہ بزرگ پیشوا کہ جن سے یہ مذاھب منسوب ہیں، اسلام کے آستانے پر سر جھکاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک، ایسے مجتھدین مطلق ہیں کہ جن کے علمی مراتب کو اھل سنت قبول کرتے ہیں۔ منجملہ ائمہ اھل بیت اطھار میں سے امام زید بن علی (رضی اللہ عنہ)، کہ جن کی طرف مذھب زیدیہ کی نسبت دی جاتی ہے اور ان کے بھائی امام ابو جعفر محمد بن علی الباقر (رضی اللہ عنہ) اور آپ(ع) کے فرزند امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہ) کہ جن سے امام مالک (رضی اللہ عنہ) نے درس حاصل کیا ھے اور امام ابو حنیفہ (رضی اللہ عنہ) نے آپ سے روایت نقل کی ہے اور مذھب جعفری آپ(ع) کی طرف منتسب ہے ۔ ان پیشواؤں میں سے ہر ایک اجتھاد میں ایک خاص طریقہ رکھتے تھے ۔

صحابہ اور تابعین کے بعد، زید بن علی، امام محمد باقر(ع)، امام جعفر صادق(ع) کا (اھل سنت کے) پیشوا ابو حنیفہ، اوزاعی اور لیث بن سعد کے ساتھ اختلاف ہو گیا، اور ان کے بعد بھی شافعی کا اصحاب مالک و ابو حفینہ کے ساتھ اختلاف ہو گیا؛ لیکن یہ نظریوں کا اختلاف، دین خدا میں خصومت اور یقینی مسائل میں اختلاف کی صورت میں نہیں تھا، بلکہ فکری نظریہ کا اختلاف، دینی متون کی تفسیر اور اسلام کے حقیقی معانی کے ادراک میں تھا ۔ اسی لئے عمر بن عبد العزیز کہتے ھیں: رسول اللہ(ص) کے اصحاب کا اختلاف، سرخ اونٹوں کی طرح مجھے خوش کرتا ہے اس لئے کہ اگر ان کی رائے ایک ہوتی تو لوگ مشکل میں پڑ جاتے ۔

ہر مجتھد کو اس کا اپنا نصیب ملے گا چاہے وہ غلطی پر ہو ۔ اس لئے کہ نبی اکرم (ص) نے فرمایا ھے : اذا اجتھد الحاکم فاخطأ فلہ اجرو ان اجتھد فاصاب فلہ اجران ؛ اگر حاکم اپنے اجتھاد میں خطا کرے تو اس کو ایک اجر ملے گا اور اگر اس کا اجتھاد حق سے جاکر ملے تو اس کا دو اجر ہوگا ۔

ابن عباس، عطا، مجاھد اور مالک بن انس (رضی اللہ عنہ) سے نقل ھوا ھے: کہ " رسول خدا(ص) کے علاوہ لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نھیں ھے مگر یہ کہ ان کی بعض باتوں کو قبول کیا جاتا ھے اور بعض کو رد کر دیا جاتا ھے " ۔

ابو حنیفہ (رضی اللہ عنہ) کا بھی اس طرح کا قول ھے: " یہ میری رائے ھے اور یہ سب سے بھترین رائے ہے جسے میں نے چنا ہے، جو بھی اس سے بھتر رائے دے گا، میں اسے قبول کرلوں گا " ۔

امام مالک (رضی اللہ عنہ) نے کہا ہے: " میں ایک انسان ہوں میں کبھی صحیح راستہ پر چلتا ہوں اور کبھی مجھ سے غلطی بھی ہو جاتی ہے۔ میری رائے کو کتاب اور سنت کی کسوٹی پرپرکھو "۔

شافعی (رضی اللہ عنہ) بھی کہتے ہیں: " اگر کوئی صحیح حدیث تم کو ملے جو میرے نظریہ کے خلاف ھو، تو میرے نظریہ کو دیوار پر ماردو اور اگر کوئی حجت(کتاب و سنت) چاہے راستہ میں ھی تم کو ملے، تو میری رائے وہی ہے۔ میرا نظریہ صحیح ہے لیکن اس کے غلط ہونے کا احتمال بھی ہے اور دوسروں کی رائے غلط ہے لیکن اس کے صحیح ہونے کا احتمال بھی پایا جاتا ہے "!

ائمہ اھل بیت(علیھم السلام ) اصول سے تمسک کیلئے بھت اھتمام کرتے تھے اور دوسرے پیشواؤں کے ساتھ " گفتگو " فرماتے تھے، جیسا کہ امام باقر (رضی اللہ عنہ) کی گفتگو ابو حنیفہ (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ ۔ زیدی مذھب پر عقیدہ رکھنے والے بھی اھل بیت کے گزرے ھوئے لوگوں کا احترام کرتے تھے اور مختلف شھروں کے مذاھب کو بھی نظراندازنہیں کرتے تھے، اپنے آپ کو مذاھب اربعہ سے علاحدہ نھیں کیا اور ان پر جفا نھیں کی، بلکہ صحاح ستہ کو معتبر سمجھا اور اپنی کتابوں میں بغیر کسی تعصب کے دوسرے مذاھب کے علماء و مجتھدین کے نظریوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔

مذھب جعفری کے پیروکار بھی ارکان ایمان پر عقیدہ رکھتے ہیں اور ارکان اسلام کیلئے حرمت کے قائل ہیں اور اکثر فروع میں دوسرے مذاھب کے ساتھ ھم عقیدہ ہیں۔ اھل سنت کے ائمہ نے علم، ائمۂ شیعہ سے حاصل کیا ھے جیسا کہ بعض شیعہ علماءنے بھی اھل سنت کے علماء سے درس حاصل کیا ہے ۔ (۳)

یہ ایک تاکید ہے اس بات پر کہ وہ لوگ، اسلامی امت واحدہ کا ایک جزو ہیں ۔

اگر کوئی اختلاف ہے بھی تو تاریخی امور سے متعلق ہے کہ بعض لوگ اسے گہرا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کتنا بھتر ھوگا کہ ھم اس زمانہ میں، ان اختلافات سے عبور کریں(گزر جائیں) تاکہ امت کی وحدت کو حقیقت میں تبدیل کر سکیں اور سامنے آنے والے امتحانوں کے مقابلہ میں اپنے اتحادو یکجہتی کو تقویت پہنچائیں ۔

ہم کیوں اپنی مصلحتوں کے بارے میں نہیں سوچتے اور ماضی کےراستوں پر رک گئے ہیں اورگڑے مردرےاکھاڑنے میں لگے ھیں تاکہ ایک دوسرے سے گستاخی اور اختلاف کرسکیں؟! کیوں اپنے سلف صالح کا احترام نہیں کرتے ھیں؟ خدائے متعال فرماتا ھے:

تلکَ اُمّۃٌ قَد خَلَت لَھا ما کَسَبَت و لکم ما کَسَبتُم ولا تُسئَلونَ عَمّا کانوا یَعمَلونَ۔

یہ وہ قوم تھی جو گزر گئی، انھیں وہ ملے گا جو انھوں نے کمایا اور تمھیں وہ ملے گا جو تم کماؤگےاور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نھیں ھوگا ۔ (۴)

اور یہ بھی فرماتا ھے:

رَبَّنا اغفِرلَنا وَلاِِخوانِنا الذینَ سَبَقونا بِالایمانِ وَلا تَجعَل فی قُلوبِنا غِلّاً لِلّذینَ آمَنوا رَبَّنا اِنَّکَ رَؤوفٌ رَحیمٌ۔

خدایا! ھمیں معاف کردے اور ھمارے ان بھائیوں کو بھی جنھوں نے ایمان میں ھم پر سبقت کی ہے اور ہمارے دلوں میں صاحبان ایمان کے لئے کسی طرح کا کینہ قرار نہ دینا کہ تو بڑا مھربان اور رحم کرنے والا ھے ۔ (۵)

اور اباضیہ، عبداللہ بن اباض کے پیروکار ہیں اور خوارج میں سے سب سے معتدل گروہ اور جماعت مسلمین سے سب سے نزدیک ترین ہیں۔ اپنے مخالفین کو نعمت کا کافر سمجھتے ھیں عقیدہ کا کافر نھیں۔ اس لئے کہ وہ خدا کا انکار نھیں کرتے بلکہ خدا کے حضور میں کوتاھی کرتے ھیں ۔

اباضیہ، اپنے مخالفین کا خون محترم سمجھتے ھیں، ان کی سرزمین کو بادشاھوں کی جنگی چھاؤنی کے علاوہ، توحید اور اسلام کی سرزمین (دار الاسلام) سمجھتے ھیں، ، لیکن اس بات کو علنی طور پر نھیں کہتے ۔

ان کی باطنی رائے یہ ھے کہ ان کے مخالفین کی سرزمین اور خون حرام ہے، اگر کچھ مسلمان ان سے جنگ کریں تو گھوڑا اور اسلحہ اور جنگی آلات کے علاوہ، ان کی غنیمتیں حلال نہیں ہیں، لیکن سونا اور چاندی کو لوٹا دیتے ھیں ۔ ان کا فقہ بھی اسلامی مذاھب کے فقہ سے نزدیک ھے اور ایسا ھے کہ کوئی بھی مسلمان، شھادتیں پڑھنے والوں کو تکفیر نھیں کر سکتا جو قبلہ کی طرف رخ کرتے ھیں اور اھل سنت کے چاروں مذاھب، مذھب ظاھری، جعفری، زیدی اور اباضی کے پیروکار ان میں سے ھر ایک مسلمان ھے اور سب ظاھری طور پر شریعت پاک محمدی(ص) کے تابع ھیں، ان کے باطن کا بھی اللہ تعالیٰ ذمہ دار ہے ۔

ابن عباس (رضی اللہ عنہ) نقل کرتے ھیں: نبی اکرم(ص) نے ایک گروہ کو ایک قوم کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے بھیجا کہ جس میں مقداد بھی تھے ۔ لشکر اس وقت پھنچا جب سارے دشمن بھاگ چکے تھے، صرف ایک مالدار آدمی ان میں سے بچا تھا جس نے اسلام کے لشکر کو دیکھ کر کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ مقداد نے اسے قتل کر دیا، نبی اکرم(ص) نے ان سے فرمایا: کل لا الہ الا اللہ کے ساتھ کیا کروگے؟ اس کے بعد یہ آیت شریفہ نازل ھوئی:

یا ایَّھا الذینَ آمَنوا اِذا ضَرَبتُم فی سَبیلِ اللہِ فَتَبَیَّنوا وَلا تَقولوا لِمَن اَلقیٰ اِلَیکُمُ السَّلامَ لَستَ مؤمِناً۔  (4:94 النساء)

اے ایمان لانے والو! جب تم راہ خدا میں جھاد کیلئے سفر کرو تو پہلے تحقیق کر لو اور خبردار جو اسلام کی پیش کش کرے اس سے یہ نہ کہنا کہ تم مؤمن نھیں ہو ۔

دوسرا سوال: ھمارے زمانہ میں تکفیر کی حدیں کیا ھیں؟ کیا ایک مسلمان ان لوگوں کی تکفیر کر سکتا ھے جوروایتی اسلامی مذاھب میں سے کسی ایک کے یا اشعری مذھب کے پابند ھیں؟ اس کے علاوہ کیا حقیقی طریقت صوفیہ کے پیروکاروں کی تکفیر کی جا سکتی ھے؟

جواب: الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسولہ الامین محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین و بعد؛ آج کل بعض افراد کے نزدیک، غرور، تکبر اور تنگ نظری کی وجہ سے تکفیر کی کوئی حدود نہیں رہ گئي ہیں ؟ جبکہ یہ حق کے خلاف ہے ۔ امام ابو حنیفہ (رضی اللہ عنہ) کہتے ھیں: لوگوں میں سب سے زیادہ عالم شخص وہ ہے جو لوگوں کے فکری اختلافات کے بارے میں سب سے زیادہ عالم ہو ۔ کبھی کبھی تکفیر ھوا پرستی، فکری ونظری تعصب یا رد عمل کی صورت میں ھوتی ہے اور باعث ھوتی اے کہ اختلاف جو کہ صحت اور خیر کی علامت ھے، ایسی مخالفتوں میں تبدیل ھو جائے جو کہ شر اور برائی کا بیج ڈالتی ھیں اور دشمنی، خصومت، گالی گلوچ اور تھمت لگانے کا باعث ھو جاتی ھیں، یھاں تک کہ تکفیر تک پہنچ جاتی ھے ۔ اللہ سبحانہ فرماتا ھے:

اِنَّ الذینَ فَرَّقوا دینَھُم وَ کانوا شِیَعاً لَستَ مِنھُم فی شَیءٍ اِنَّما اَمرُھُم اِلی اللہِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُم بِما کانوا یَفعَلونَ ۔

بیشک جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ھو گئے ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے ، ان کا معاملہ خدا کے حوالے ہے ، پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں با خبر کرے گا ۔ (۷)

ابو ھریرہ سے نقل ہوا ہے: کہ نبی اکرم(ص) نے اس آیت ان الذین فرقوا دینھم کے بارے میں فرمایا:

ھُم اَھلُ البِدَعِ و الشُّبَھاتِ وَ اَھلُ الضَّلالَۃِ مِن ھٰذِہِ الاُمَّۃِ ۔

وہ لوگ جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا، اھل بدعت اور شبھات اور اس امت کے راستے سے گمراہ ہوگئے ۔

اور عمر بن خطاب سے نقل ھوا ہے کہ پیغمبر اعظم (ص) نے عائشہ سے فرمایا:

(ان الذین فرقوا دینھم و کانوا شیعاً)، اِنَّما ھُم اصحابُ البِدَعِ و اصحابُ الاھواءِ و اصحابُ الضلالَۃِ من ھٰذہِ الاُمَّۃِ یا عائشہ! اِنَّ لِکُلِ صاحِبِ ذَنبٍ بَراءٌ غَیرَ اَصحابِ البِدَعِ وَ اصحابُ الاھواءِ لَیسَ لَھم توبۃٌ و اَنا بَریءٌ منھم وھُم مِنّی بَراء ۔

جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ھو گئے، بیشک وہ اس امت کے اھل بدعت اور ھوس پرست اور گمراہ لوگ ھیں اے عائشہ! بیشک ھر گنھگار کیلئے [دوزخ کی آگ سے] برائت [نجات] ھے، اصحاب بدعت اور ھوس پرستوں کے علاوہ کہ جن کیلئے توبہ نھیں ھے اور میں ان سے بری [دور] ھوں اور وہ مجھ سے بری [دور] ھیں ۔

یہ آیت شریفہ نبی اکرم(ص)کی طرف اشارہ کرتی ھے کہ ان کا عذاب کرنا آپ (ص) کے ذمہ پر نھیں ھے آپ (ص) صرف انذار کرنے والے اور ڈرانے والے ھیں ۔

حضرت علی (رضی اللہ عنہ) فرماتے تھے: و اللہ ما فرقوہ و لکنھم فارقوہ: خدا کی قسم انھوں نے دین میں تفرقہ پیدا نھیں کیا بلکہ وہ دین سے جدا ھو گئے ۔

ابو ھریرہ، عائشہ اور ابو امامہ نے اس آیت کی تاویل میں کھا ھے: " یہ لوگ اس امت کے بدعت گزار اور منحرف لوگ ھیں " ۔

تکفیر ایک نہایت خطرناک امر ھے، اس لئے کہ اس کا نتیجہ مسلمانوں کے خون اور مال کو حلال سمجھنا اور اس کی کرامت کو پامال کرنا ھے اور اس کے عواقب قیامت کے دن تک باقی رھنے والے ھیں ۔ اس لئے کہ جھنم کی آگ میں ھمیشہ ھمیشہ رھنے کا سبب ھے ۔ تو تکفیر سے دوری کرنا جھاں تک ممکن ھو واجب ھے اور ان لوگوں کے خون اور مال کو مباح سمجھنا ایک بھت بڑی خطا ھے جو لوگ قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ھیں اور لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کھتے ھیں اور ھزار کافر کو زندہ رکھنے میں غلطی کرنا کسی مسلمان کے خون کا ایک قطرہ گرانے سے زیادہ آسان[اس سے کم اھمیت رکھنے والا] ھے ۔ پیغمبر اعظم(ص) نے فرمایا ھے:

اُمِرتُ اَن اُقاتِلَ الناسَ حَتّیٰ یَقولوا لا اِلہ اِلا اللہُ مُحَمَّدٌ رَسولُ اللہ فَاِذا قالوھا فَقَد عَصَموا مِنّی دِمائَھُم وَ اَموالَھُم اِلّا بِحَقِّھا۔

مجھے حکم ملا ھے کہ لوگوں کے ساتھ جنگ کروں یھاں تک کہ وہ کھیں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، جب ایسا کھہ لیں تو انھوں نے اپنے خون اور اموال کو میرے تعرض سے محفوظ کر لیا ھے،اس کے علاوہ کہ اس کاحق ھو ۔

یہ سب شرعی اور فقھی احکام کے مطابق ھے نہ کہ عقلی قواعد کے ۔

امام طحاوی(رحمۃ اللہ) نے کھا ھے: " ھم اھل قبلہ میں سے کسی ایک کو بھی گناہ کرنے کی وجہ سے تکفیر نھیں کرتے، الا یہ کہ گناہ کے حلال ھونے پر اعتقاد رکھتا ھو، ھم نھیں کھتے: گناہ، گنھگار کے ایمان کو نقصان نھیں پھنچاتا ھے" ۔

یہ اھل سنت کے عقیدہ کی توضیح اور خوارج کے عقائد کی تردید ھے جو کہ ھر گناہ کو کفر کا باعث سمجھتے تھے اور طحاوی نے " مالم یستحلہ " کی عبارت کے ذریعہ اسے مقید کردیا ھے ۔ یعنی گناہ اس وقت کفر کا باعث ھوگا کہ اس کے حلال ھونے کے عقیدہ کے ساتھ ھو ۔

اور(ھم نھیں کہتے کہ گناہ، گنھگار شخص کے ایمان کو نقصان نھیں پھنچاتا) کی عبارت مرجئہ کے عقائد کا رد ھے جو کھتے ھیں: " گناہ، ایمان کو نقصان پھنچاتا ھے جیسا کہ کافر کی اطاعت اسے کوئی فائدہ نھیں پھنچاتی ھے " ۔

علامہ صدر الدین علی بن علی بن محمد بن ابی العز حنفی، " شرح طحاویہ " میں مرجئہ کے شبھہ کے بارے میں کھتے ھیں: صحابہ کے زمانے میں ایک ماجرا واقع ھوا کہ جس کے عاملین کے قتل پر، توبہ نہ کرنے کی صورت میں، اصحاب نے اجماع [ایک ھونا] کیا اور وہ ماجرا یہ تھا: قدامہ بن مطعون اور ایک دوسرے گروہ نے شراب کے حرام ھونے پر علم حاصل کرنے کے بعد، شراب پی لی اور آس آیت شریفہ کو تأویل کیا:

لَیسَ عَلی الذینَ آمَنوا وَ عَمِلوا الصالِحاتِ جُناحٌ فیما طَعِموا اِذا ما اتَُقَوا و آمَنوا و عَمِلو الصّالِحاتِ ۔

ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیا کوئی حرج نھیں ھے ان چیزوں میں جسے [پھلے] کھا چکے ھیں اگر تقوا اختیار کریں اور ایمان لے آئیں اور عمل صالح انجام دیں ۔ (۸)

جب یہ خبر عمر بن خطاب تک پھنچی، تو وہ اور علی بن ابی طالب اور دوسرے اصحاب (رضی اللہ عنھم) نے ارادہ کیا کہ اگر وہ لوگ شراب کے حلال ھونے پر اصرار کریں، تو انھیں قتل کر دینا چاھئے عمر بن خطاب نے قدامہ سے کھا: تم نے غلطی کی ھے اور اپنے ھاتھوں اپنی قبر کھودلی ھے تم اگر پرھیزگار اور با ایمان ھوتے اور عمل صالح انجام دیتے تو شراب نھیں پیتے اس لئے کہ اس آیت کا نزول اس لئے تھا کہ جس وقت جنگ احد کے بعد خدا نے شراب کو حرام قرار دیا تو اس وقت بعض صحابہ (رضی اللہ عنھم) نے کھا: پھر ھمارے دوستوں کا کیا ھوگا؟ وہ تو شراب پیتے تھے اور مرچکے ھیں؟ خدا نے اس آیت کو نازل کیا تا کہ بتائے کہ تحریم شراب سے پھلے جن لوگوں نے شراب پی تھی، اگر وہ صالح اور پرھیزگار مؤمنین میں سے تھے تو ان پر کوئی گناہ نھیں ھے بالکل اس طرح کہ اس سے پھلے مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔

اس کے بعد یہ گروہ[قدامہ اور اس کے دوست] پشیمان ھوئے لیکن توبہ سے نا امید اور مایوس تھے ۔عمر نے قدامہ کو لکھا:

حٰم، تَنزیلُ الکِتابِ مِنَ اللہِ العَزیزِ العَلیم، غافِرِ الذَّنبِ وَ قابِلِ التَّوبِ شَدیدِ العِقابِ ۔

حم، اس کتاب کا نازل کرنا عزیز و علیم خدا کی طرف سے ھے،[جو کہ] گناہ بخشنے والا، توبہ قبول کرنے والا اور سخت سزا دینے والا ھے ۔ ھم نھیں جانتے کہ تمھاری کون سی گناہ زیادہ بڑی ھے؟ حرام الٰھی کا حلال سمجھنا یا پروردگار کی رحمت سے نا امید اور مأیوس ھونا؟

وہ چیز جس پر اصحاب اتفاق رکھتے ھیں، اس پر سارے مسلمان اتفاق رکھتے ھیں ۔

امام طحاوی (رح) کھتے ھیں: " کوئی بھی بندہ اھل ایمان کے دائرے سے خارج نھیں ھوتا، مگر اس چیز کے انکار سے جس نے اسے مسلمانوں کے گروہ میں شامل کیا ھے " اور یہ انھیں کے جملہ کی ایک دوسری تعبیر ھے کہ " ھم اھل قبلہ میں سے کسی کو بھی گناہ کی خاطر تکفیر نھیں کرتے مگر یہ کہ اس گناہ کو حلال سمجھے " ۔

امام علی (رضی اللہ عنہ) نے خوارج کی بیعت توڑنے کو ان کی بے ایمانی کا باعث نھیں سمجھا اور ان کی تکفیر نھیں کیا فرمایا: "کلمۃ حق یراد بھا الباطل" اور ان سے خطاب فرمایا:

لَکُم عَلَینا ثَلاثٌ، لا نَمنَعکُم مَساجِدَ اللہِ اَن تَذکُروا فیھا اسمَ اللہِ وَ لا نَبدَؤُکُم بِقِتالٍ و لا نَمنَعکُم الفَیء ما دامَت اَیدیکُم مَعَنا ۔

تم لوگوں کے ھم پر تین حق ھیں: ھم تمھیں خدا کی مساجد میں خدا کے نام کو یاد کرنے کیلئے حاضر ھونے سے منع نہ کریں اور تمھارے ساتھ جنگ شروع نہ کریں اور جب تک تمھارا ھاتھ ھمارے ساتھ ھے، ھم بیت المال کو تم سے نہ روکیں ۔

خوارج کے ساتھ آپ(ع) کا سلوک، آپ کا اھل اسلام جیسا سلوک تھا ۔

امام ابو الحسن اشعری (رح) کھتے ھیں: پیغمبر اکرم(ص) کے بعد مسلمانوں نے کچھ امور میں اختلاف کیا، ایک دوسرے کو گمراہ کیا، ایک دوسرے سے بیزاری کا اعلان کیا اور فرقوں میں تبدیل ھو گئے، لیکن اس سب کے باوجود اسلام ان کے بیچ جمع کرتا ھے(یعنی سب کے سب مسلمان ھیں)۔

بھت سے بزرگ علماء جھاں تک ھو سکتا ھے مسلمانوں کی تکفیر سے بچتے ھیں ۔

ابن نجیم نے، جو کہ حنفی مذھب کے بزرگ فقھاء میں سے ھیں، اپنے بھت سے تکفیری فتوؤں کو واپس لے لیا اور کھا: اگر کسی مسئلہ میں ننانوے وجھیں ھوں کہ جن کی وجہ سے تکفیر لازم ھو اور ایک وجہ ایسی ھو جس میں تکفیر لازم نہ ھو تو یہ ایک وجہ وہ ساری ننانوے وجھوں پر بھاری ھے اور رجحان رکھتی ھے اس کے بعد کس کی جرأت ھو سکتی ھے کہ بغیر شرعی حجت و دلیل کے کسی مسلمان کی تکفیر کرے؟ ۔

لیکن اشعری عقیدہ کے پیروکار اور حقیقی تصوف کی طریقت پر چلنے والے: امام محمد عبدہ رحمہ اللہ تعالی علیہ ان کے بارے میں لکھتے ھیں: وہ لوگ نبی اکرم(ص) اور ان کے اصحاب (رضی اللہ عنھم) کے احکام پر نھایت سختی سے عمل کرتے ھیں ۔

مذھب اشاعرہ، اھل سنت و جماعت کے مذاھب میں سے ایک ھے اور امام سفارینی حنبلی، کتاب لوامع الانوار میں کھتے ھیں: اھل سنت و جماعت تین فرقہ ھیں : اثریہ ، کہ جن کے امام احمد بن حنبل (رضی اللہ عنہ) ھیں، اشعریہ، کہ جن کے امام ابو الحسن اشعری (رحمہ اللہ) اور ما تردیدیہ، کہ جن کے امام ابو منصور ماتریدی (رح) ھیں ۔

اس بنا پر، مذاھب اھل سنت و جماعت، نقلی رجحان کے علاوہ عقلی رجحان کو بھی اپنے اندر شامل کرتے ھیں ۔ نقلی رجحان، " اثریہ " ،احمد بن حنبل کے پیروکاروں میں دیکھی جاتی ھے اور عقلی رجحان کی نمائندگی، متکلمین، اشعری مذھب کے علماء اور ما تریدیہ کرتے ھیں ۔ وھی لوگ جنھوں نے عقلی ادلہ کو وضع کرنے کیلئے اور اعتقادی شبھات کے مقابلے میں دفاع کرنے کیلئے قیام کیا اور ایسے گمراہ فرقوں کے ساتھ بحث اور مناقشہ کر کے ان کی مکرو فریب کو انھیں کو واپس لوٹا دیا جو کہ چاھتے تھے کہ مسلمانوں کی زندگی میں زھر گھول کر اپنے باطل عقائد کو منتشر کریں ۔

اس بناپر اھل سنت و جماعت، تین شاخوں کے ساتھ ایک متکامل مذھب ھے کہ جس نے عقلی و نقلی ادلہ کو ایک ساتھ اکٹھا کیا اور دینی عقائد پر یقین کو مسلمانوں کیلئے تحفہ کے طور پر لائے ۔ یہ سب کلیات میں، متفق القول ھیں اور بعض جزئیات میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ھیں ان فرقوں میں کوئی بھی صرف اپنے لئے صواب کا مدعی ھوکر دوسروں کی تکفیر نھیں کر سکتا اس لئے کہ اس اعتقاد پر مسلمانوں کے دل ایک دوسرے سے جڑے ھیں، بھت سی کتابیں قرآن کی تفسیر، سنت کی شرح، لغت اور ادب کے موضوعات میں لکھی گئی ھیں اور کروڑوں مسلمان، دنیا کے مشرق و مغرب میں اس پر عقیدہ رکھتے ھیں اور ھزاروں علماء نے، مختلف مکاتب و مذاھب اور مختلف شھروں میں سے، ان عقائد کی خدمت کیلئے کمر باندھ لی ھے ۔

اور صوفیہ: امام عبدالحلیم محمود رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے فتاوا میں ان کے بارے میں فرماتے ھیں: صافی صوفی جو کہ گفتار اور کردار میں، اخلاص کے ساتھ خدا کی کتاب اور رسول(ص) کی سنت پر پابند ھوں، اس اسلام کے سائے میں ھیں کہ جسے خدا نے اپنے بندوں کیلئے پسند کیا ھے اور اس کی بنیاد، خالص توحید اور ظاھر و باطن میں الٰھی مراقبت، خدا ترسی پر مبنی خود سازی، اور لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک اور حسن خلق پر ھے ۔ خدا نے ان کا قبلہ سب چیز میں قرار دیا ھے، دنیا ان کے لئے آخرت کی کھیتی ھے اور ان کے ھاتھ میں مال، لوگوں کو فائدہ پھنچانے کیلئے ھے اور ھرگز اس کی طرف دل نھیں لگایا ھے ۔

ظاھر سے پھلے صوفی لوگ، باطن کو پاک کرتے ھیں اور ان کاموں کو اولیت دیتے ھیں جن کا ربط دل سے ھے ۔ روحی اور اخلاقی تربیت کا اھتمام کرتے ھیں اور حقیقی و صافی صوفی، احکام شرع حنیف پر پابند اور رفتار و کردار میں بدعتوں اور انحرافات سے دور ھیں ۔

تیسرا سوال: اسلامی شریعت میں کس شخص کو حقیقی مفتی سمجھا جا سکتا ھے؟ امر افتاء کو اپنے ذمہ لینے کیلئے اور دین کو سمجھنے کیلئے اور شریعت اسلامی کی پیروی میں لوگوں کی ھدایت کیلئے اسلامی صلاحیتیں کیا ھیں؟

جواب: الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسولہ الامین محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین و بعد؛ مفتی کےلئے شرط ھے کہ:

۱۔ منابع و مصادر شرع پر احاطہ رکھتا ھو تاکہ اس کی صحیح تقدیم و تاخیر کوسمجھ کراسکی تحقیق کر کے اس حکم کا انتخاب کر سکے کہ جس کی صحت پر ظن قوی موجود ھے۔

۲۔ عادل ھو اور ان گناھوں سے اجتناب کرے جو کہ عدالت میں مانع ھیں۔ یہ شرط اس لئے ھے کہ اس کے فتوا پر اعتبار کیا جا سکے ۔ جو شخص عادل نہ ھو، اس کا فتوا قبول نھیں ھے، ھر چند کہ عدالت، فتوا دینے کی شرط نھیں ھے ۔ دوسرے لفظوں میں، عدالت فتوا کے قبول ھونے کی شرط ھے، صحت اجتھاد کی شرط نھیں ھے ۔ ابن قیم رحمہ اللہ کھتے ھیں: چونکہ الٰھی احکام کو پھنچانا، احکام پر علم اور کلام میں سچائی پر مبنی ھے، اس لئے روایت و فتوا کے مرتبۂ ابلاغ کو حاصل کرنا، علم اور سچائی رکھنے والے لوگوں کے علاوہ کسی اور کے لئے موزوں نھیں ھے ۔ مفتی جس چیز کی تبلیغ کرتا ھے اسے اس کا علم ھونا چاھئے اور اسے چاھئے کہ اپنے کلام میں سچا ھو اور نیک طریقہ اور پسندیدہ سیرت پر پرقائم رہے ؛ اپنے گفتار و کردار میں عادل اور اس کا ظاھر و باطن اور مدخل و مخرج یکساں ھو ۔

نووی (رح) کھتے ھیں: مفتی کی شرط یہ ھے: کہ بالغ، مسلمان، قابل اعتبار، امین اور اسباب گناہ اور خلف مروت سے پاک ھو، اور آگاہ دل، سالم ذھن، محکم فکر اور صحیح کردار بھی رکھتا ھو ۔ اسے چالاک ھونا چاھئے ۔ غلام اور آزاد، مرد اور عورت، اندھا اور بہرا اس کے نزدیک ایک جیسے ھوں ۔

شیخ ابو عمرو ابن صلاح (رح) کھتے ھیں: اسے چاھئے کہ ایک راوی کی طرح، رشتہ داری، دشمنی، منفعت طلبی اور دفع ضرر کے اثر کے تحت واقع نہ ھو، اس لئے کہ مفتی اپنے کام میں، حکم شرع کی خبر دیتا ھے، ایک ایسا حکم جو کسی خاص شخص سے مخصوص نھیں ھے ۔ اس کی مثال راوی کی طرح ھے نہ شاھد، اس کا فتواء حکم قاضی کے برخلاف الزام نھیں لاتا ۔ افتاء، اجتھاد سے اخص ھے ۔ اجتھاد، احکام کا استنباط ھے، چاھے کسی موضوع میں سوال کیا گیا ھو یا نھیں، بالکل اسی طرح کہ ابو حنیفہ اپنے درس میں عمل کرتے تھے اور مختلف فروع اور متنوع فروض کو ابھارتے تھے یا پھر مناسب قیاس کا انتخاب کرتے تھے تا کہ اس استنباط کی بنیاد پر، حکم دیں اور ان قیاسوں کی موزونیت اور اس کے اسباب کو پھچان لیں ۔

لیکن افتاء اس جگہ پر ھے کہ جھاں ایک ایسا امر واقع ھوا ھو کہ جس کا حکم فقیہ جانتا ھے ۔ سابق الذکر شرائط کے علاوہ مجتھد کے صحیح فتوا کے اور بھی شرائط ھیں اور وہ یہ ھیں: جس امر کے بارے میں پوچھا گیا ھے اس کی شناخت، سوال کرنے والے کی ذھنیات کی تحقیق اور اس معاشرہ کی شناخت کہ جس میں وہ رہ رھا ھے تاکہ اپنے فتوے کے منفی اور مثبت آثار کو جان لے اور اس کے فتوے کی وجہ سے، لوگ خدا کے دین کو کھیل تماشہ نہ بنالیں ۔

ابن قیم (رح) نے ابن عبداللہ بن بطہ (رح) سے اپنی کتاب میں خلع کے بارے میں امام احمد بن حنبل (رح) سے نقل کیا ھے کہ منصب افتاء کو سنبھالنا کسی کے لئے مناسب نھیں ھے، مگر یہ کہ اس کے اندر یہ پانچ صفات موجود ھوں:

۱۔ پاک نیت، جو کہ اگر اس میں نہ ھو، تو وہ خود اور اس کا کلام نورانیت سے خالی ھے ۔

۲۔ علم، حلم، وقار اور سکون ۔

۳۔ علمی طاقت اور کافی شناخت ۔

۴۔ زندگی میں کفایت شعاری، ورنہ لوگ اسے چبا جائیں گے ۔

۵۔ لوگوں کی شناخت ۔

توضیح: نیت، کام کی بنیاد اور اس کا ستون ھے ۔ ایک ایسی بنیاد اور جڑ ھے کہ جس پر کام مستحکم اور مضبوط ھوتا ھے ۔ نیت، عمل کی روح اور اس کا رھبر ھے، عمل، نیت کا تابع ھے ۔ اگر نیت صحیح ھو، تو عمل بھی صحیح ھے اور اگر فاسد ھو، تو عمل بھی فاسد ھے ۔ الٰھی توفیق، پاک نیت کا نتیجہ ھے ۔ حلم، وقار اور سکون، مفتی کے علم کا لباس اور اس کی خوبصورتی ھے ۔ اگر مفتی میں حلم اور وقار نہ ھو تو اس کی مثال اس بدن کی طرح ھے جو لباس نہ رکھتا ھو بعض گذشتہ لوگوں نے کھا ھے: کوئی چیز کسی دوسری چیز کے ھمراہ نھیں ھوئی ھے جو کہ بھتر ھو اس علم سے جو حلم کے ساتھ ھو اور لوگ اس اعتبار سے چار گروہ میں تقسیم ھوتے ھیں، ان میں سے بھترین وہ شخص ھے جو کہ علم کو حلم کے ساتھ رکھتا ھو اور بد ترین وہ شخص ھے جو کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی اس کے پاس نہ ھو ۔ تیسرا گروہ، وہ لوگ ھیں جو علم کے زیور سے آراستہ ھیں، لیکن بردباری کی صفت سے بے بھرہ ھیں اور چوتھا گروہ، تیسرے گروہ کے بر عکس ھے ۔

تو بردباری، علم کا زیور اور اس کی نورانیت اور جمال ھے اور اس کے مقابلے میں بیوقوفی، جلد بازی، غصہ اور ناپائیداری ھے ۔

وقار اور سکون، علم کا پھل اور اس کا نتیجہ ھے اور مفتی اس کا بھت محتاج ھے، اس لئے کہ اس کے قلب کے اطمینان اور اس کے سکون کا باعث ھے ۔ وقار کی جڑ دل میں اور اس کے آثار اعضاء و جوارح میں ھے ۔ وقار اور سکون دو قسم کا ھے: عام اور خاص، جیسے انبیاء کا سکون اور مومنین کا جو کہ انبیاء کے پیروکار ھیں ۔ اس فضیلت تک پھنچنے کیلئے، بندے کو چاھئے کہ ھمیشہ پروردگار کے حضور کو مد نظر رکھے، اس طرح سے کہ گویا اسے دیکھ رھا ھے، جتنا یہ خیال زیادہ ھوگا حیاء، سکون، محبت، خضوع، اور اس کی خوف رجاء زیادہ ھو جائے گی اور ھوشیاری کے بغیر ان میں سے کوئی ایک بھی حاصل نھیں ھوگا ۔

لیکن علمی توانائی؛ مفتی، علمی و عملی توانائی کا محتاج ھے ۔ حق کے کلام میں جب تک کلام کا نفوذ نہ ھو، تو وہ فائدہ مند نھیں ھو سکتا ۔

مادی بے نیازی اس لئے شرط ھے کہ مفتی، لوگوں کا محتاج نہ ھو اور ان کادست نگرنہ ھو ۔ بے نیاز عالم دین، اپنے عمل کو انجام دینے میں زیادہ طاقت رکھتا ھے اور جب لوگوں کا محتاج ھو جائے، تو اس کا عمل مرجاتا ھے اور وہ صرف نظارہ کرنے والا ھے ۔

لوگوں کی شناخت، ایک اھم اصل ھے کہ جس کا مفتی اور حاکم محتاج ھے ۔ اگر فقیہ، مردم شناس نہ ھو، تو ظالم اس کے نزدیک مظلوم اور مظلوم اس کی نظر میں ظالم کی طرح جلوہ کرے گا اور لوگوں کے مکرو فریب اس میں اثر کر جائیں گے ۔ وہ زندیق کو صدیق اور کاذب کو صادق دیکھے گا ۔ اسے چاھیئے کہ وہ لوگوں کی چال بازی کو سمجھنے میں بھی فقیہ ھو تاکہ ان کے مکر و فریب اور نیرنگ و سازش کو پھچان سکے ۔ اس لئے کہ فتوا، زمان و مکان اور مفادات و حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ بدلتا ھے اور یہ سب دین خدا کی تعالیم میں سے ھے ۔

وہ چیز جو فتوے میں مطلوب ھے، حق، اعتدال اور میانہ روی ھے ۔ حدیث میں آیا ھے:

سددوا و قاربوا و اغدوا و روحوا، شیء من الدلجۃ، القصد، القصد تبلغوا ۔

مستحکم اور مضبوط رھو اور ایک دوسرے سے نزدیک ھو جاؤ اور میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو تاکہ اپنے مقصد تک پھنچ جاؤ ۔

شاطبی (رح) کھتے ھیں: وہ مفتی جو کہ کمال کے سب سے اونچے درجے پر پھنچ چکا ھے، لوگوں کو بیچ کے راستے کی طرف لے جائے گا جو کہ لوگوں کےلئے موزوں ھے، نہ انھیں انتھاپسندی اور افراط کی طرف لے جائے گا اورنہ ھی لا ابالی پن اور لا پرواھی کی طرف ۔

اس طریقہ کے صحیح ھونے کی دلیل یہ ھے کہ شریعت نے اس کا حکم دیا ھے جیسا کہ پھلے بیان ھو چکا، مقدس شارع نے مکلفین سے، میانہ روی اور افراط و تفریط سے پرھیزکرنے کاحکم دیا ھے ۔ اگر مفتی اس طریقہ سے خارج ھو جائیں، تو وہ شارع کے مقصد سے باھر ھو گئے ھیں ۔ اسی لئے بیچ کے راستے سے نکل جانے والے، علم میں راسخین کے نزدیک مذموم ھیں ۔ اور یہ شیوہ بھی وھی ھے جو کہ رسول اللہ(ص) اور ان کے اصحاب کی سیرت سے استنباط کیا جاتا ھے، وھی کہ جس میں شرط ھے کہ تمام نیک صفات کو اپنے اندر رکھتا ھو، استاد نے، اس جگہ پر چالیس خصلت کو بیان کیا ھے منجملہ:

شرط ھے کہ مفتی بالغ ھو، اس لئے کہ بچہ اگر اجتھاد کے درجہ پر پھنچ بھی جائے اور احکام کو درک کر لیا ھو، اس کے رائے پر اعتماد نھیں کیا جاسکتا، لیکن بالغ کی رائے پر اعتماد ھے اور مناسب ھے کہ مفتی عربی زبان، قرآن، علم اصول، تاریخ(ناسخ و منسوخ)، علم حدیث، علم فقہ اور نفسیات کے علم کو جانتا ھے اور عدالت کی فضیلت بھی رکھتا ھو ۔ بعض علماء نے دوسری شخصی صفات کی طرف بھی اشارہ کیا ھے جو کہ اسلام، عقل، ذکاوت اور ذھانت ھے ۔

بشکریہ : مفتی کل سعید عبد الحفیظ حجاوی

۱۔آل عمران/۸۵، ۲۔آل عمران/۱۹، ۴۔ بقرہ/۱۳۴۔ ،۵۔ حشر/۱۰ ۔ ، ۶۔ نساء/۹۴ ۔، ۷۔ انعام/۱۵۹ ،  ۸۔ مائدہ/۹۳ ،  ۹۔ غافر/۱و ۲و ۳   : http://taghribnews.com/vdcdfs09.yt0ff6342y.html

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~


Muslim Only  مسلمان  صرف


   
هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  (سورة الحج22:78)
اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ . (سورة الحج22:78)
مسلمانوں میں فرقہ واریت کی لعنت کو اگرفوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا ، توابتدا میں قرآن کے حکم کے مطابق  صرف ایک درست عمل کی شروعات سے شدت اور منفی رجحانات کو کم کرکہ فرقہ واریت کے خاتمہ کے سفر کا آغاز کے آجاسکتا ہے, کچھ اہم اقدام :
1.ہرایک فقہ اور فرقہ کا دعوی ہے کہ وہ قرآن و سنت پر پر عمل پیرا ہیں، جس کو دوسرے قبول نہیں کرتے اور وہ خود دعوی دار ہیں کہ وہ حق پرہیں- ہم سب کو معلوم ہے کہ مسلمان کے علاوہ  تمام لیبل اور مذہبی القاب و نام بعد کے زمانہ کی ایجادات ہیں- تو ایک متفقہ نام "مسلمان" پر جو قرآن و سنت و حدیث اور تاریخ سے مسلسل پر ثابت ہے اور اور اب بھی ہماری اصل پہچان ہے، اس نام "مسلمان"  کو مکمل اصل حالت میں بحال کر دیں-
2. تمام مسلمان اپنے اپنے موجودہ فقہ و نظریات پر کاربند رہتے ہوۓ، الله تعالی کے عطا کردہ  ایک نام پر متفق ہو کر اپنے آپ کو صرف اور صرف “مسلمان” کے نام سے پکاریں، کسی اور نام کی جازت نہ  دیں،جو نام الله نے دیا وہ ہر طرح سے مکمل ہے،تعارف، شناخت یا کسی اور حجت کی وجہ سےفرقہ پرستی کو رد کریں- یہ پہلا قدم ہے- مسلمان کو کسی اکسٹرالیبل (extra label) کی ضرورت نہیں- جب کوئی آپ سے قریبی تعلقات یا رشتہ داری قائم کرنا چاہتا ہو تو تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہیں- اپنی مساجد، مدارس، گھروں اور اپنے ناموں کے ساتھ فرقہ وارانہ القاب لگانے سے مکمل اجتناب کریں- نفس کہتا ہے مشکل ہے، مگر اللہ کا حکم بھی ہے، فرمانبردار (مسلم) بن کر اس آزمائش سے گزریں، الله پرتوکل کریں-
3. یہ اقدام اسلام کے ابتدائی دور ، رسول الله ﷺ اور صحابہ اکرام کے زمانہ کے مطابق ہو گا، جس کی خواہش ہر مسلمان دل میں رکھتا ہے- الله اور رسولﷺ یقینی  طور پر آپ سے بہت خوش ہوں گے- اس احسن روایت، سنت کے دوبارہ اجرا پر الله ہم پر رحمتوں اور برکات کی بارش فرمایے گا- اس نیک عمل سے آپ دین و دنیا میں کامیابی کے راستے پر چل پڑیں گے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ (ماآنا علیہ واصحابی) یعنی وہ لوگ جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقے پر ہوں گے وہی جنتی ہیں۔ فیصلہ صرف  الله کا اختیار ہے- تہتر فرقوں والی حدیث مبارکہ میں امت مسلمہ کے اندر تفریق و گروہ بندی کی جو پیشن گوئی تھی وہ خبر،محض بطور تنبیہ و نصیحت کے تھی- بدقسمتی سے مسلمانوں کے مختلف فرقوں نے اس حدیث کو اپنے لئے ڈھال بنا لیا ہے اور (ماآنا علیہ واصحابی) کی کسوٹی سے صرف نظر کرتے ہیں اور ہر ایک گروہ اپنے آپ کو ناجی فرقہ کہتا ہے اور اپنے علاوہ دیگر تمام مکاتب فکر کو ضال و مضل اور بہتر (٧٢) فرقوں میں شمار کرتا ہے- حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ ان تمام گمراہ فرقوں کا شمار بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت میں کیا ہے وہ جہنم میں تو جائیں گے، مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، سزا کاٹ کر اس سے نجات پا جائیں گے (٧٣) واں فرقہ ہی اول وہلہ میں ناجی ہوگا کیونکہ یہی سنت پر ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔
4.کسی صورت میں کوئی گروہ دوسرے مسلمانوں کی تکفیر نہ کریں،یہ پلٹ کر تکفیر کرنے والے پر پڑتی ہے(مفھوم) [ابی داوود ٤٦٨٧] ہر حال میں اس شدت پسندی سے بچنا ہے- جنت ، جہنم کا فیصلہ صرف الله کا اختیار ہے- ہم کو اچھے اعمال میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرناہے-
5. تمام فقہ اور فرقوں کے علماء پر مشتمل ایک فورم تشکیل دیا جا ئے جہاں مسقل بنیاد پر پرکم از کم مشترکہ متفقہ اسلامی نظریات کو یکجا کے جا سکے[ Minimum Common Points of Agreement]. غیر اسلامی رسوم و رواج کو بتدریج  معاشرہ سے پاک کیا جائے- علماء کی جدید طریقه تعلیم اور ٹیکنولوجی سے مناسب تعلیم و تربیت اور معاشی سٹرکچر سرکاری طور پر نافذ کیا جاے- یہ تمام کام حکومت اور علماء کے تعاون سے سرانجام پا سکتے ہیں-
ایک کتاب یا ڈسکشن سیشن سےصدیوں پر محیط مائینڈ سیٹ کو تبدیل تو نہیں کیا جاسکتا مگر اہل عقل کے لیے غور فکر کےدروازے کھل سکتے ہیں ....
 إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الَّذِينَ كَفَرُوا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿ لأنفال: ٥٥﴾
یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں(9:55)
 إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ﴿٢٨﴾
 "اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے واﻻ ہے" (35:28)
"ملسمون" یا "مسلمین" کا اردو، ترجمہ "مسلمان" ہے. اس کے علاوہ اور نام جو اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں مسلمانوں  لیئے جو نام پسند فرمائے ہیں ان میں"یٰایھا الذین اٰمنوا" یعنی اے ایمان والو. واحد کے لیئے "مؤمن" جمع کے لیئے مؤمنون یا مؤمنین اور صفاتی القاب-  موجودہ مشہورمسلمان گروہوں اور فرقوں کے نام جو منہج کے نام پر بزرگ فقیہ وامام ، شہر ، یا کتاب سے منسوب ہیں قرآن و سنت سے ثابت نہیں، بلکہ قرآن کی روح کے خلاف ہیں- اس کا قرآن و سنت کی روشنی میں تحقیقی جائزہ لیا جا رہا ہے-
دین و مذھب کے نام کی اہمیت: 
 کچھ کوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نام سے کیا فرق پڑتا ہے اصل دین تو ایمان اور عمل کا نام ہے- بظاھر تو بات معقول لگتی ہے، آینے اس کا جائزہ لیتے ہیں- اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم  علیہ اسلام کو علم الاسماء  سکھایا ، یعنی ناموں کا علم ۔۔۔۔ نام انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے حضورکرام صلّی اللہ علیہ وسلم نے ایام جاہلیت کے مہمل نام تبدیل کروائے ۔ ترمذی میں ہے کہ  حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم برے ناموں کو بدل کر ان کے عوض اچھے نام رکھ دیا کرتے تھے ۔ (ترمذی111/2)- نام کسی انسان کی زندگی کا وظیفہ ہوتا ہے کیونکہ وہ بار بار پکارا جاتا ہے ۔ اگر آپ اپنے نام کی نسبت  سے کام کرینگے تو آپ کئی گُنا اضافی ملے گا اور اگر آپ کے مخالف چلیں گے توآپ ایک ناکام زندگی گزار کر جائینگے-  اگر دنیا میں مختلف مذاھب کے ناموں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر مذاھب اپنی  بانی شخصیت کے نام سے منسوب ہیں- بدھ مت، گوتم بدھ کے نام پر، مسیحیت ، عیسایت، حضرت عیسی علیہ السلام، یہودی، یہودا(حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک فرزند) بنی اسرایئل کی نسل  کی شاخ،اسی طرح زرتشت ،بہائی مت، تاؤ مت، کنفیوشس مت وغیرہ- ہندو مت اور جین مت کا بانی کوئی ایک شخص نہیں، ہندومت کے پیروکار اِس کو"سناتن دھرم" (‘لازوال قانون) کہتے ہیں -قدیم ہندومذھب کتاب "ویدا" سے بھی منسوب ہے- لفظ "جین مت" سنسکرت کے ایک لفظ "جِن" سے لیا گیا ہے، جس کے معنی ہے(جذبات،نفس کا) فاتح  - بانی مذہبی شخصیات کے نام پر رواج کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو "محمدی" کہلوانا چاہیئے مگر ایسا نہیں ہوا اگرچہ مغربی مسیحی مستشقرین نے کوسش کی کہ Muhamddans کا نام تقویت پکڑے مگر کامیاب نہ ہو سکے- حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر خود کسی مذھب کے موجد ہوتے تو کسی انسان کے لیے اپنے نام سے بہتر اور کیا نام ہو سکتا ہے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ قرآن الله کی طرف سے نازل وحی ہے جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا نام صرف پانچ مرتبہ آیا- اللہ کا دین اور اس کو قبول کرنے والوں کا نام بھی الله کی طرف سے رکھا گیا- "اسلام" اور "مسلمان" (عربی : الْمُسْلِمِينَ) کی نسبت اس دین کے خالق سے ہے جس کا ایک صفاتی نام "السلام" ہے-
الله کے نزدیک صرف دین اسلام هے :
" ان الدین عندالله الاسلام " اس لئے تمام ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو اپنے اپنے زمانه میں قبول کیا اور احکام الہی کے پابند تھے  وه مسلمان تھے- پہلے کے تمام الہامی ادیان " اسلام" پر تھے، فرق صرف شریعت میں رکھتے هیں- قرآن مجید کی اصطلاح ( الْمُسْلِمِينَ)  میں، "مسلمان"  ہونے کا مطلب ہے کہ الله تعالی  کے فر مان ، اور هر قسم کے شرک سے پاک مکمل توحید کے سامنے مکمل طور پرسر تسلیم خم کرنا هے اور یهی وجه هے که قرآن مجید حضرت ابراھیم علیه السلام کو مسلمان کے نام سے متعارف کر تا هے- قرآن مجید کے مطابق الہامی ادیان کے تمام پیرو کار اپنے زمانه میں مسلمان تھے اور اس طرح عیسائی اور یهودی وغیره نئ وحی کے آنے سے پہلےان کا دین منسوخ نه هو نے تک مسلمان تھے ، کیونکه وه پرور دگار عالم کے حضور تسلیم هوئے تھے- بائبل کی موجودہ کتب میں اب بھی خدا کے احکامات کے آگے سر تسلیم کرنے کی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں:
"اور خدا ہمیں اپنی را ہیں بتا ئے گا،اور ہم اس کے راستو ں پر چلیں گے۔”(‏یسعیاہ 2:‏2)، ”‏اَے میرے خدا!‏ میری خوشی تیری مرضی پوری کرنے میں ہے بلکہ تیری شریعت میرے دل میں ہے۔‏“‏ (‏زبور ۴۰:‏۸‏)‏، ”‏میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُس کا کام پورا کروں۔‏“‏ (‏یوح ۴:‏۳۴؛‏ ۶:‏۳۸‏)
[“Surrender and obedience to the Will of God” in Bible: Psalm 40:8، 112:1, 148:8,103:20, Jeremiah 31:33, 1 John 2:1-29، 2:17، Matthew 12:50، 26:42، 6:10، John 5:30، 4:34 ، Acts 21:14، Romans 12:2، Hebrews 10:7] 
انھیں جو یهودی یا عیسائی کہا جاتا ہے، وه ان کے پیغمبروں کے ناموں سے لوگوں میں مشہور ہوا وہ نام الله کے عطا کردہ نہیں، مگر قرآن میں ان کا انہی مشھور ناموں سے تذکرہ کیا گیا تاکہ پڑھنے والے کو سمجھنے میں آسانی ہو- آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کے بعد وہ "اسلام " اور"مسلمان" کے اعزاز سے محروم ہو گیے-
اس دور میں"اسلام" کا اطلاق آخری رسول و نبی ، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی کی آخري الہامي کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے- اب "مسلمان" کا نام(عربی:الْمُسْلِمِينَ) ،خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم  جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، کی پیروی کرنے والوں پر لاگو هوتا هے- مسلمان، قرآن اور سنت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عمل کرنے والے کو کہا جاتا ہے-  ، کیونکه انهوں نے دین اسلام کو قبول کر کے اور تمام انبیاء اور آسمانی شریعتوں پر اعتقاد رکھ کر اللہ  کے حضور سر تسلیم خم هو نے کا اعلان کیا هے- حقیقی مسلمان وه هے جو احکام و دستورات الهی کو قول و فعل سے تسلیم کرتا ہو، یعنی زبان سے بھی اللہ کی وحدا نیت اور انبیاء علیهم السلام اور خاتم الانبیاء صلی الله علیه وآله وسلم کی رسالت کا اقرار کر ے اور عمل سے بھی دینی احکام اور دستورات ، من جمله دوسروں کے حقوق کی رعایت کرے جیسے اجتماعی قو انین اورشہادہ، نماز، روزه، زکات، حج وغیره جیسے انفرادی احکام کا پابند هو- قرآن مجید میں حقیقی مسلمان کو مومن کے نام سے بھی یاد کیاگیا هے اور بہت صفاتی ناموں سے بھی مگر "مسلمان" ہونے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، کیوں؟  اسلام میں اتحاد پر بہت زور دیا جاتا ہے، جس طرح نماز میں ایک اللہ کی عبادت ایک سمت (قبلہ) کی طرف منہ کرکہ ادا کی جاتی ہے اسی طرح ایک نام "مسلمان" (عربی:الْمُسْلِمِينَ) بھی اتحاد مسلمین کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے- نام سے فرق پڑتا ہے خاص طور پر جو نام الله تعالی نے خود عطا فرمایا ہو.... مکمل تفصیلات اس برقی کتاب پر پڑہیں... یا وزٹ کریں  ............  http://salaamone.com/muslim
  1. دین و مذھب کے نام کی اہمیت
  2. سلام ، اسلام ، مسلم ، مسلمان 
  3. دین اسلام اور مسلمین
  4. مسلمانوں کے صفاتی نام 
  5. قرآن میں "مسلمان" نام کی تاکید اور حکم (امر) ہے
  6. قرآن کو چھوڑنے والے بدترین علماء
  7. فرقہ واریت 
  8. قرآن ، اسلام اور مسلمان 
  9. قرآن کو 'حدیث' بھی کہا گیا
  10. قرآن کی عظمت، آیات کا منکر اورعذاب 
  11. أطِيعُوا الرَّسُولَ
  12. کلام الله پرایمان  عمل مسلمان پرفرض ہے
  13. قرآن و حدیث کی اہمیت 
  14. اہل حدیث 
  15. کتابت حدیث
  16. اسلام، مسلمان -  دین آیات
  17. قرآن ، اسلام، مسلمان -  دین آیات
  18. قرآن راہ ہدایت
  19. فرقہ واریت کی ممانعت
  20. 73 فرقوں والی حدیث
  21. اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان، مسلمان  فروعی اختلافات خارج نہیں کرتے:
  22. اہل ایمان کی بخشش 
  23. فرقہ واریت کا خاتمہ - پہلا قدم 
  24. گروپ ڈسکشن- صفحہ 36 سے آخر تک
وزٹ : http://salaamone.com/muslim
 برقی کتاب  آن لائن پڑھیں یا ڈونلوڈ ، شئیر کریں
  ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
SalaamOneسلام  is a nonprofit e-Forum to promote peace among humanity, through understanding and tolerance of religions, cultures & other human values. The collection is available in the form of e-Books. articles, magazines, videos, posts at social media, blogs & video channels. .Explore the site English and Urdu sections at Index
علم اور افہام و تفہیم کے لئے ایک غیر منافع بخش ای فورم ہے. علم،انسانیت، مذہب، سائنس، سماج، ثقافت، اخلاقیات اورروحانیت امن کے لئے.اس فورم کو آفتاب خان،  آزاد محقق اور مصنف نے منظم کیا ہے. تحقیقی کام بلاگز، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیو چننل اور برقی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے.اس  نیٹ ورک  کو اب تک لاکھوں افراد وزٹ کر چکے ہیں, مزید تفصیلات>>>  Page Index - Salaam One 
 ..........................................................................
 مزید پڑھیں: 
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس <<< لنک پر پڑھیں>>
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

  3. خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید Reconstruction of Religious Thought in Islam-  http://goo.gl/lqxYuw
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~