Featured post

فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم

آج کے دور میں مسلمان کئی فرقوں میں بٹ چکے ہیں اگرچہ ان کی اکثریت اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات پر متفق ہے مگر فروعی اختلافا...

Is Prophet Muhammad (pbuh) alive in grave عقیدۂ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم


بزرگ  کہا کرتے تھے کہ فضول کاموں میں مشغول ہونے سے بچو۔ لایعنی باتیں کرنا یعنی وقت گزاری کیلئے فضول گفتگو ، بےمقصد ناول اور جھوٹی گھڑی ہوئی کہانیاں پڑھنا ، یہ سب فضول کام ہیں۔  مگر آج کے تیز رفتار سائینسی دور میں جب لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں ہے تو بےمقصد گفتگو یا فضول کتب کے مطالعہ کا ذکر ہی غلط ہوجاتا ہے۔
لیکن کیا ہماری زندگیوں سے فضول کام ختم ہو گئے ہیں؟

سچ بات تو یہ ہے کہ فضولیات آج بھی جاری و ساری ہیں بس ان کی نوعیت بدل گئی ہے۔
 آج لوگ اگر معلومات کے حصول کی خاطر انٹرنیٹ پر بیٹھتے ہیں تو ان کی اکثریت اپنا زیادہ تر وقت فضولیات میں ہی ضائع کرتی ہے۔
o بےکار بےمقصد کی چیٹنگ
o فضول بحث و مباحثہ
o غیبت و چغلی کہ فلاں جگہ یہ ہوا ، فلاں پر یہ گزری
o پردے کی آڑ میں دونوں اصناف کا قلمی اختلاط
o سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھانا
o ایک دوسرے کی نکیر
o اپنی پسندیدہ شخصیات کو چڑھانا اور ناپسندیدہ کو گرانا
o فضول قسم کے سوالات اور مسائل میں الجھنا
oo وغیرہ وغیرہ

چند مشھور مذہبی ڈسکشن کے ٹوپک کچھ اس طرح ہیں:

  1. کیا وہ قبر میں زندہ ہیں؟
  2. ہم درود وسلام پڑھتے ہیں کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے سنتے ہیں؟ 
  3. حیات بعد از موت کا تصور کا ہے؟
  4. حضرت محممد نوری تھے یا خاکی ؟ 
  5. حضرت علی (رضی اللہ عنہ) اور حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) میں کون حق پر تھا؟
  6. خلافت پر پہلا حق کس کا تھا؟
  7. اہل بیت میں کون کون شامل اور کون شامل نہیں؟
  8. قبروں کی زیارت کا معاملہ؟ 

 ایک بزرگ نے ان سوالوں کا  جواب  اس طرح دیا :" میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ قیامت کے دن تم سے اس کے متعلق کوئی سوال نہ ہوگا"۔
درج بالا سوالات کے جوابات میں علماء کا اختلاف ہے- سب علماء قرآن اور حدیث سے دلائل دیتے ہیں، جسکی عقل کو جو جواب قرآن و حدیث کے قریب لگے تسلیم کرے- مگرمخالف پر تنقید سے پہلے 'بزرگ' کا اوپر بیان کردہ جواب یاد رکھیں-
یہاں مختلف مکتبہ فکر کے علماء کے جوابات کے ریفرنس پیش ہیں جن سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے:(فلحال صرف ایک موضوع، ١،٢،٣، باقی آیندہ ....)
حیات النبی صلی  اللہ علی وسلم:


حیات بعد الوفات (برزخ ) کا عقیدہ ضروریاتِ دین اور مسلمات اسلام میں سے ہے، کتاب اللہ کی درجنوں آیاتِ قطعیہ اور احادیثِ متواترہ سے حیاتِ قبر ثابت شدہ حقیقت ہے اور اس پر اجماعِ اُمت مستزاد ہے، آج تک کسی سنی مسلمان عالمِ دین نے قبر کی زندگی کا انکار نہیں کیا، اور یہ حیاتِ قبر درجہ بدرجہ ہر انسان کو حاصل ہوتی ہے اور یہی حیات قبر کے سوال و جواب، ثواب و عقاب جیسی کارروائی کی بنیاد قرار پاتی ہے۔ اگر حیات بعد الوفات نہ ہو تو یہ سارے اُمور لایعنی بن کر رہ جائیں گے، قبر کی زندگی کا سب سے اعلیٰ اور اُونچا مقام حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کو حاصل ہوتا ہے، بالخصوص ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات بعد از وفات سب سے ممتاز اور سب سے ارفع ہے، اور اِس بات پر بھی پوری اُمتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰة والسلام کا اتفاق ہے کہ یہ حیات دُنیا والے جسدِ عنصری کو بہ تعلق روح حاصل ہوتی ہے، اسی پر کتاب و سنت کی نصوصِ قطعیہ شاہد ہیں، اور اِس پر بھی اتفاق ہے کہ قبر کی یہ زندگی غیب کی چیز ہے جس پر بِن دیکھے ایمان لانا موٴمن کی شان ہے اور اہلِ علم و دانش جانتے ہیں کہ عقیدہٴ حیات الانبیاء، حیاتِ قبر کے عقیدے کی ایک مخصوص شاخ اور ایک امتیازی شعبہ ہے۔ مندرجہ بالا تمام اُمور پر اجماع اور اتفاق کے بعد علمائے اسلام نے عقیدہٴ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف تعبیرات سے ادا کیا ہے اور مختلف الفاظ میں بیان کیا ہے، مثلاً بعض علمائے اسلام نے فرمایا کہ: حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحِ اقدس کو آپ کے جسدِ اطہر سے دُخول و حلول کا تعلق ہے، اور بعض نے فرمایا کہ: اتصال کا تعلق ہے، بعض نے فرمایا کہ: اشراق کا تعلق ہے، بعض نے انعکاس کا تعلق بتایا، بعض علماء نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ قبر کو حیاتِ برزخیہ سے تعبیر کیا، اور بعض نے حیاتِ دُنیوی کا لفظ استعمال فرمایا، اور بعض نے حیاتِ برزخیہ اور حیاتِ دُنیویہ دونوں کو جمع فرمایا، اور کسی نے حیاتِ دُنیوی کی بظاہر نفی کرکے برزخی سے تعبیر کیا، اور بعض علمائے اسلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ قبر کو حسی اور جسمانی قرار دیا اور بعض علماء نے حیاتِ روحانی اور روح کی حیات سے تعبیر فرمایا، اور بعض حضرات نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ قبر بہ تعلق روح مع الجسد العنصری پر ایمان رکھ کر اِس سے آگے والی تفصیلات میں نہ جانا چاہئے، کیونکہ نجات کے لئے اتنا عقیدہ رکھنا کافی ہے، باقی رہیں اگلی تفصیلات، تو وہ اہلِ علم ہی کا کام ہے، ہم جیسوں کے لئے اِن باتوں میں پڑنا مناسب نہیں ہے۔
Alive -زندہ ہیں


Not Alive -زندہ نہیں ہیں
برزخ عالم 
    ہم درود وسلام پڑھتے ہیں کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے سنتے ہیں؟

    مختصر : درود پڑھنے کا حکم قرآن میں موجود ہے ، مسلمان اس پر عمل کرتے ہیں باقی کام الله کے سپرد، ہم نے حکم پر عمل کردیا -

     

    ایک درمیانی پوزیشن بھی ہے: 
    انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سمیت تمام مخلوقات کو موت آتی ہے، البتہ موت کے بعد ہر انسان کو برزخی زندگی سے واسطہ پڑتا ہے، برزخی زندگی کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان کی رُوح کا اس کے جسم سے کسی قدر تعلق رہتا ہے، یہ تعلق عام انسانوں میں بھی ہوتا ہے، مگر اتنا کم کہ اس کے اثرات محسوس نہیں ہوتے۔ شہداء کی ارواح کا تعلق ان کے جسم سے عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے اس لئے قرآنِ کریم نے انہیں احیاء قرار دیا ہے،(۱) اور انبیائے کرام کا درجہ شہداء سے بھی بلند ہے، اس لئے احادیث کے مطابق ان کی ارواح کا تعلق جسم سے سب سے زیادہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ ان کی میراث بھی تقسیم نہیں ہوتی اور ان کے ازواج کا نکاح بھی دُوسرا نہیں ہوسکتا، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے،(۲) چونکہ ان کی ارواح کا تعلق سب سے زیادہ ہوتا ہے، اس لئے شہداء کی طرح انہیں بھی احیاء قرار دیا گیا ہے، مگر یہ حیات اس طرح کی نہیں ہے جیسی انہیں موت سے پہلے حاصل تھی، نیز قرآن و سنت میں اس کی بھی کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس حالت میں انبیائے کرام علیہم السلام کو دُوسروں پر تصرف کا کوئی اختیار حاصل ہے، اگر کسی نے کبھی اس قسم کا کوئی واقعہ دیکھا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی صورتِ مثالی ہوسکتی ہے جس کا ان کو علم ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ واللہ اعلم(لنک)
    عربی کا مقولہ ہے -- الاهم فالاهم ، یعنی -- اہم ترین زیادہ مقدم ہوتا ہے
    بات صرف اتنی ہے کہ انسان میں حکمت و سلیقہ ہونا چاہئے۔ اگر یہ چیز موجود ہے تو آدمی کو خود بخود محسوس ہو جاتا ہے کہ کون سا کام مقدم ہے ، کس کی زیادہ ضرورت ہے ، کس کی کم؟ زیادہ اہم کام کی موجودگی میں اہم کام ترک کرنا لازم ہو جاتا ہے۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ کلام کی کثرت دل کو سخت کر دیتی ہے اور زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔
     علمائے کرام اس کی شرح میں بیان کرتے ہیں کہ "لایعنی باتوں" سے دل مردہ ہو جاتا ہے اور نور جاتا رہتا ہے۔ نورِ قلب زائل ہونے سے طاعت کا شوق کم ہوتا ہے اور ہمت میں پستی آ جاتی ہے۔ اور جہاں شوق اور ہمت میں کمی آتی ہے وہیں سے گناہ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ گناہوں سے بچنے کیلئے انہی دو چیزوں (شوق اور ہمت) کی ضرورت ہوتی ہے۔
     ہم نمازیں بھی پڑھتے ہیں ، روزہ زکوٰۃ بھی ، حیا پردہ بھی -- مگر گناہ بھی ساتھ ساتھ سرزد ہوتے جاتے ہیں۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ نماز اور وضو سے قلب میں جو نور پیدا ہوتا ہے وہ "لایعنی امور" سے زائل ہو جاتا ہے۔
    اللہ کریم ہم سب کو مفید کاموں میں مشغول رکھے اور لایعنی باتوں سے بچائے ، آمین۔

    مزید پڑھیں:
    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

    انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
    بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
    سلام فورم نیٹ ورک  
    Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
    Salaamforum.blogspot.com 
    سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہاٹس اپپ"یا SMS کریں   
         
      
    Facebook.com/AftabKhan.page

    No comments: