Featured post

خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید

یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22 قرآن) جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور...

Sectarian Narratives::Review فرقہ وارانہ مذہبی بیانیوں پر مختصر تبصرہ

 یک چھوٹی سی الجھن ہے !
ایک محفل میں ایک حضرت نے میری ایک بات پر سوال کیا کہ
"آپ کا مسلک کیا ہے؟"
میں نے جواب دیا "کچھ نہیں"۔
کہنے لگے "پھر بھی"۔
میں نے کہا "الحمدللہ میں مسلمان ہوں اور یہ نام خدا کا دیا ہوا ہے۔
طنزیہ فرمانے لگے کہ "کہیں بھی جانا ہو، بندے کا کوئی ایک راستہ ہوتا ہے۔"
ادب سے عرض کی، "حضور میں پکی سڑک پر چلنا پسند کرتا ہوں، پگڈنڈیاں چھوڑ دیتا ہوں۔"
اور یہ صرف ایک دفعہ کی بات نہیں، اکثر لوگ اچھے بھلے سمجھدار اور پڑھے لکھے بھی یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں کہ دوسرا کسی مسلک کی پیروی نہیں کرتا۔

تو میری ایک چھوٹی سی الجھن ہے، آپ مدد کر دیجئے۔ خطبہ حجۃالوداع اورتاریخی موقعے کا ذکر تو آپ سب نے یقینا” پڑھا ہوگا۔ کوئی لاکھ سوا لاکھ کا مجمع تھا۔ کوئی مجھے بتائے گا کہ اس وقت موجود صحابہ اور نو مسلم شیعہ تھے یا سنی؟
میں جاننا چاہتا ہوں کہ
1703 سے پہلے جب عبدالوہاب نجدی،
1856 سے پہلے احمد رضا خان بریلوی،
1866 سے پہلے دارلعلوم دیوبند،
لگ بھگ 100 سال پہلے جب اہل حدیث اور سلفی تحریک جب وجود نہیں رکھتے تھے
تو عام سادہ مسلمانوں کو کیا کہا جاتا تھا اور کیا ان سب تحریکوں، مدرسوں اور شخصیات نے خود یا اپنے ماننے والوں کی وجہ سے ایک مسلک اور فرقوں کا روپ نہیں دھارا ؟
کیا ان سب نے مسلمانوں کو تقسیم کیا یا متحد کیا؟
رنگ، نسل، زبان، علاقے اور برادری کی تقسیم کیا ابھی مسلمانوں کے لئے ناکافی تھی کہ مذہب کے اندر فرقے متعارف کروائے گئے؟
کیا ہمارے قابل احترام اساتذہ، جن کو ہم آئمہ کرام کہتے ہیں، کیا ہم کو کبھی اپنی پوری زندگیوں میں ایک بار بھی حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، اور جعفریہ میں بٹنے کا درس دے کر گئے؟
تصوف کے نام پر جو سلسلے بنائے گئے اور راستے جدا کئے گئے ان کی تفصیل الگ ہے۔
میری یہ بھی رہنمائی کوئی فرما دے کہ اگر یہ محض فقہی، فکری اور علمی مسالک ہیں تو مسجدیں کیوں الگ ہیں؟
ڈاڑھی کا سائز، ٹوپی کا سٹائل، عمامے کا رنگ، جھنڈے کی شبیہ، نماز میں ہاتھ باندھنے کا طریقہ، اور مدرسے کا سلیبس کیوں الگ ہے؟
تقسیم اتنی خوفناک ہے کہ عقائد، رسومات، تہوار، بچے اوربچیوں کے نام، زمانے کے امام، حتی کہ صحابہ کرام تک بانٹ رکھے ہیں۔ یہاں شہہ دماغوں نے کالا، سفید، نارنجی، ہرا ،پیلا اور بھورا سب رنگ اپنے ساتھ مخصوص کر رکھے ہیں۔ سارا زور اس بات پر کیوں ہے کہ کوئی ہمیں جس ‘حالت‘میں بھی دیکھے پہچان جائے کہ ہم ‘الگ‘ ہیں اور فلانے ہیں۔ جناب والا مجھ کم علم اور کم عقل کو یہ بھی سمجھا دیں کہ مدرسوں، فتووں کی کتابوں اور لوگوں کی باتوں سے نکلا ہوا مسلک اور فرقہ موروثی کیسے ہو تا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ بھی کسی ملٹی نیشنل پراڈکٹ کی طرح لیبل لگا کر آتا ہے کہ ان کے سامنے ماڈرن کارپوریٹ کلچر، مارکیٹنگ اور برانڈنگ تو ابھی کل کی بات لگتی ہے۔
آج کے مقابلے میں تو اچھے دور تھے شائد وہ جب مناظرے اور چیلنج کیے جاتے تھے۔ اول اول بحث مباحثہ ہی تھا لیکن پھر بات آگے بڑھتی گئی۔ پہلے تو محض ایک دوسرے کو لعنت ملامت اور تبرے بھیج کر کام چلا لیا جاتا تھا، پھر کفر کے فتوے مارکیٹ میں آئے۔ بات جنت اور دوزخ کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے تک چلی گئی۔ پھر چند "جدت پسندوں" نے سیدھا وہاں تک پہنچانے کا کام بھی اپنے ذمہ بہ احسن و خوبی لے لیا۔ ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور یہ "سائینسدان" گروہ در گروہ لوگوں جنت بلکہ اپنی طرف سے دوزخ کو روانہ کرنے لگے۔ میرے رسول ہادی و برحق نے تو منع کرنے کے لئے اور ہماری پستی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بنی اسرائیل سے تقابلے میں ہمارے 73 فرقے کہے، ہم نے اس حدیث سے اپنے فرقے کے صحیح اور جنتی ہونے کا جواز گھڑ لیا، اور باقی سب کو ٹھکانے لگا دیا۔ اب ہوتے تو پتہ نہیں کیا کہتے،
لیکن نصف صدی پہلے ابن انشاء نے لکھا تھا،
"دائروں کی کئی اقسام ہیں۔ ایک دائرہ اسلام کا بھی ہے ۔ پہلے اس میں لوگوں کو داخل کیا جاتا تھا ۔ اب عرصہ ہوا داخلہ بند ہے صرف خارج کیا جاتا ہے ".
خدا نے تو کہا "اُن لوگوں میں سے نہ ہونا جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے" (سورہ الروم)۔
اور خدا یہ بھی تو کہتا ہے کہ "جن لوگوں نے دین کو فرقے کر دیا اور گروہوں میں بٹ گئے،(اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دو تمہارا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا" (سورہ الانعام)۔
یہ آیت بھی تو سب کو یاد ہی ہوگی کہ "سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور تفرقے میں نہ پڑنا" (سورہ آل عمران)۔
اور کیا خدا نے اپنے تقسیم کو اپنے عذاب سے تشبیہ نہیں دی؟ جب فرمایا کہ "کہہ دو کہ وہ قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں" (سورہ الانعام)۔
جو دین فرق مٹانے اور ایک لڑی میں پرونے آیا تھا،اس کو ہم نے بالکل الٹ بنا کر خانوں میں رکھ دیا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کوئی بھی فارم پر کرتے ہوئے جب میں مسلک کا خانے خالی چھوڑتا ہوں تو دوسرے کو اعتراض کیوں ہوتا ہے۔ جب کوئی تعارف کرواتا ہے تو اس کو صرف الحمدللہ میں مسلمان ہوں کہنے پر شرمندگی کیوں ہوتی ہے۔
کیا ہماری نظروں سے یہ آیت نہیں گزری کہ "اس (اﷲ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ یہ رسولِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو جائیں اور تم بنی نوع انسان پر گواہ ہو جاؤ’’۔ (سورہ الحج)۔
معاذاللہ،نعوذ باللہ ہم اور ہمارے تکبر کیا اتنے بڑے ہیں کہ ہم کو اسلام اور اللہ کے بیان میں کوئی کمی لگتی ہے اور ہم اللہ کے دیئے ہوئے نام یعنی صرف مسلم کے ساتھ شیعہ، سنی، وہابی، دیوبندی، سلفی، اہل حدیث یا بریلوی لگا کر پورا کرتے ہیں۔ ہم نے سب امامین کو زمانے کا استاد تسلیم کیوں نہیں کیا؟
اگر ایک ہی مسلے پر سپیشلسٹ ڈاکٹرز کا پینل اختلاف رائے کا اظہار کرتا ہے، اگر ایک ہی کیس میں سپریم کورٹ کے ججز اختلافی نوٹ لکھتے ہیں اور اگر ہی مظہر کائنات پر سائنسدان متنوع نظریات پیش کر سکتے ہیں تو ہم کبھی طب،قانون اور سائنس اور اس کے ماہرین پر انگلی نہیں اٹھاتے، ان کے پیچھے مسالک قائم نہیں کرتے اور ان کےمشترکہ نقائص نہیں نکالتے۔ بلکہ ایک طالب علم کی حیثیت سے سب کو مان کر اور پڑھ کر اپنے علم کی بنیاد رکھتے ہیں۔ تو پھر ہمیں کس چیز نے کاٹا ہے کہ ہم در بدر، رنگ برنگی دکانوں پر پھرتے ہیں اور اصل تو دور کی بات،کیوں نقل کے دھوکے میں خالی رنگین پیکنگ اٹھائے لئے پھرتے ہیں!
تو میری یہ چھوٹی سی الجھن ہے...
منقول
....................................,,,,,
فرقہ وارانہ مذہبی بیانیوں پر مختصر تبصرہ – عمار خان ناصر
daleel.pk
مذہبی تعبیرات کا اختلاف اور ان کی بنیاد پر معاشرتی تقسیم ہمارے ہاں کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ اس کا اظہار عموماً‌ فرقہ وارانہ اسالیب اور تکفیر و تضلیل کے فتاویٰ کی صورت میں ہوتا ہے۔ اسلام آباد کے ادارہ برائے امن وتعلیم نے گزشتہ دنوں اس موضوع پر ایک پانچ روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا اور اس میں ہونے والے تفصیلی بحث ومباحثہ کی روشنی میں فرقہ وارانہ بیانیے کے نمائندہ نکات مرتب کیے ہیں۔ یہ نکات تبصرے کے لیے مختلف حضرات کو بھیجے گئے ہیں۔ راقم الحروف نے چند اہم نکات پر مختصراً‌ جو کچھ عرض کیا، وہ عمومی دلچسپی کے تناظر میں یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔
بیانیہ:
’’ہمارےاکابر حق پر ہیں اور وہی اسلام کی مستند ترین تعبیر پیش کرتے ہیں۔‘‘
تبصرہ:
اسلامی تناظر میں کسی بھی فکر کے استناد اور قبولیت کا معیار مسلمانوں کی مجموعی علمی روایت ہے۔ مختلف فکری حلقے اپنے اپنے زاویے سے یہ تصور رکھ سکتے ہیں کہ انھی کے اکابر کی پیش کردہ تعبیر درست ترین اور حتمی ہے، تاہم اس یقین واذعان کا وزن آخری تجزیے میں مجموعی علمی روایت ہی طے کرتی ہے۔ جو فکری دھارے ہم عصر اور ایک دوسرے کے حریف ہوں، ان کی طرف سے اپنے اور مخالفین کے متعلق اس طرح کے دعووں کو زیادہ احتیاط ، بلکہ شک کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور کسی حتمی فیصلے کا کام فکری روایت کے جدلیاتی عمل کے سپرد کر دینا چاہیے۔
بیانیہ:
’’اسلام میں جدت پسندی کا تصور مغرب سے مرعوبیت کی علامت ہے۔‘‘
تبصرہ:
’’اسلام میں جدت پسندی‘‘ مصداق کے لحاظ سے ایک غیر واضح عنوان ہے۔ اسی طرح مرعوبیت کا تعین بہت حد تک ایک موضوعی چیز ہے۔ میرے نزدیک ’’اسلام میں جدت پسندی‘‘ کا یقینی مصداق یہ چیز ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد و تصورات اور اخلاقی اقدار کے فریم ورک میں تبدیلی کو ذہنی طور پر قبول کر لیا جائے۔ اگر جدید افکار یا تمدنی و تہذیبی مظاہر کو، چاہے تاریخی و واقعاتی طور پر ان کی پیش کاری ابتداء غیر اسلامی تناظر میں کی گئی ہو، اسلامی اقدار اور مقاصد کے تابع کر کے اور ان کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اسلامی فکری روایت کا حصہ بنانا مقصود ہو تو یہ ’’جدت پسندی‘‘ نہیں۔ اصولی طور پر بھی نہیں، اور عملاً‌ بھی نہیں، کیونکہ کوئی تہذیب یا فکری روایت گرد وپیش کی تبدیلیوں سے بے تعلق ہو کر ناک کی سیدھ پر تاریخ میں سفر جاری نہیں رکھ سکتی۔
بیانیہ:
اگر فلاں مسلک اپنے فلاں فلاں عقیدے سے رجوع کر لے تو مفاہمت ہو سکتی ہے۔
تبصرہ:
مذہبی اختلاف اس دنیا کی ایک ناقابل تردید اور ناقابل تبدیل حقیقت ہے۔ اس میں مفاہمت کا مطالبہ غیر حقیقی اور غیر اخلاقی ہے، البتہ دعوت اور مکالمہ کے ذریعے سے ایک دوسرے کے مذہبی خیالات ونظریات کو تبدیل کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ قرآن نے اعتقادی اختلافات کے باب میں حق وباطل کو آخری درجے میں واضح کرنے کے بعد بھی مخالف مذہبی گروہوں سے مفاہمت کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ یہ کہا کہ یہ اختلاف ایسے ہی برقرار رہیں گے اور ان کا فیصلہ قیامت کے روز خدا کی بارگاہ میں ہی ہوگا۔ دنیا میں بقائے باہم اور اخلاقی طرز زندگی کے لیے جو چیزیں مطلوب ہیں، وہ دو ہیں:
ایک، مخالف مذہبی عقائد کی صحیح اور دیانت دارانہ تعبیر کا اہتمام اور خود ساختہ تعبیرات کی نسبت سے گریز۔
اور دوسری، اختلاف کو رواداری کے ساتھ قبول کرنا اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات واحساسات کو ٹھیس پہنچانے سے اجتناب کرنا۔
بیانیہ:
مودودیت ایک گمراہ فرقہ ہے۔ غامدی صاحب ایک فتنہ ہیں اور اسلام کی تعلیمات کو بگاڑ رہے ہیں۔
تبصرہ:
مولانا مودودی اور غامدی صاحب نے دین کو براہ راست اصل مآخذ سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں مروجہ دینی تعبیرات سے کئی جگہ اہم اور بنیادی اختلاف بھی کیا ہے۔ ان کی پیش کردہ دینی فکر اور مذہبی تعبیرات میں قابل نقد اور کمزور باتیں بھی ہو سکتی ہیں جن پر علمی نقد لازماً‌ ہونا چاہیے، لیکن بحیثیت مجموعی ان کی دینی فکر کو فتنہ یا گمراہی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بیانیہ:
فلاں اور فلاں حضرات گستاخ رسول ہیں۔ انھوں نے توہین آمیز عبارات لکھی ہیں۔
تبصرہ:
کسی کلام کو توہین یا گستاخی قرار دینے کے لیے کلام کا سیاق و سباق اور متکلم کی نیت بنیادی چیز ہے۔ کوئی عبارت ظاہر کے لحاظ سے ایسا تاثر دیتی ہو تو اس پر نظرثانی کر لینی چاہیے، تاہم متکلم کی نیت اور عبارت کے مقصد کو نظر انداز کر کے اس پر گستاخانہ یا توہین آمیز ہونے کا فتویٰ جاری نہیں کیا جا سکتا۔
بیانیہ:
گستاخ رسول کو قتل کرنا غیرت ایمانی کا تقاضا ہےاور عین شریعت ہے۔
تبصرہ:
توہین رسالت کا کوئی بھی واقعہ رونما ہونے پر شرعی قانون یہ ہے کہ قائل کو عدالت کے سامنے اپنی بات کی وضاحت کا موقع دیا جائے۔ اگر واقعتاً‌ اس کی نیت توہین ہی کی ہو تو اسے توبہ اور رجوع کے لیے کہا جائے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر عدالت اس کے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے اسے قرار واقعی سزا دے جو بعض صورتوں میں موت بھی ہو سکتی ہے۔
بیانیہ:
پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔
تبصرہ:
فرقہ واریت کا منبع جہالت اور غلو کے ذہنی ونفسی رویے ہیں، اور ان ذہنی رویوں کو معاشرتی سوچ کا حصہ بنانے کا کردار مذہبی تعبیرات ادا کرتی ہیں۔ بیرونی ہاتھ اور سیاسی عوامل صرف اس کو بڑھانے اور کوئی مخصوص رخ دینے کے ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں اور یہ خارجی عوامل اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کسی معاشرے میں ذہنی ونفسی سطح پر اور مذہبی تعبیرات کے دائرے میں ان کے لیے زمین تیار نہ کر دی گئی ہو۔
بیانیہ:
دوسرے مسالک کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ہماری راہ میں ہمارےمسلک کے ہی شدت پسند عناصر رکاوٹ بنتے ہیں۔
تبصرہ:
یہ بات درست ہے۔ اس کا مقابلہ صرف عزم مصمم اور بلندی کردار سے کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت فرقہ واریت سے تنگ ہے اور اس سے نجات چاہتی ہے، لیکن اقلیتی گروہوں کے بلند آہنگ ہونے جبکہ سنجیدہ وفہمیدہ طبقات کے غیر فعال بلکہ منفعل ہونے کی وجہ سے اکثریت، اقلیت کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ہر مسلکی حلقے میں اگر ایسے پر عزم افراد سامنے آئیں جو یہ طے کر لیں کہ وہ ہر حال میں وحدت امت کی بات کریں گے اورکسی مصلحت یا مفاد کی خاطر یا کسی خوف کے تحت فرقہ وارانہ گروہ بندی کا حصہ نہیں بنیں گے اور اس کے لیے مقبولیت یا عوامی قبولیت کی بھی پروا نہیں کریں گے تو ان شاء اللہ بہت کم عرصے میں فضا بدلی جا سکتی ہے۔
http://daleel.pk/2016/08/24/5518

Don't probe too much فضول سوالات اور بحث

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ ﴿5:101﴾

‏ مومنو ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتں) تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ اور اگر قرآن نازل کے زمانے میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔ (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے ۔
‏ تفسیر ابن كثیر

قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ ﴿5:102﴾ ‏

‏ اسی طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہوگئے ۔

‏ اللہ تعالٰی اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ بےفائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید میں نہ پرو، ایسے نہ ہو کہ پھر ان کا جواب اور ان امور کا اظہار تم پر شاق گزرے ، صحیح حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کوئی کسی کی برائی کی بات نہ پہنچائے ، میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف اس حالت میں آؤں کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی برائی نہ ہو ، صحیح بخاری شریف میں حصرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سنایا ، ایسا بےمثل کہ ہم نے کبھی ایسا خطبہ نہ سنا تھا اسی میں فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے، یہ سن کر اصحاب رسول منہ ڈھانپ کر رونے لگے اسی اثنا میں ایک شخص آپ سے پوچھ بیٹھا کہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا فلاں ، اس پر یہ آیت اتری بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے حضور سے بہ کثرت سوالات شروع کر دیئے چنانچہ آپ منبر پر آ گئے اور فرمایا آؤ اب جس کسی کو جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو جو پوچھو گے جواب پاؤ گے، صحابہ کانپ اٹھے کہ ایسا نہ ہو اس کے پیچھے کوئی اہم امر ظاہر ہو جتنے بھی تھے سب اپنے اپنے چہرے کپڑوں سے ڈھانپ کر رونے لگے، ایک شخص تھے جن سے مذاق کیا جاتا تھا اور جنہیں لوگ ان کے باپ کے سوا دو سرے کی طرف نسبت کر کے بلاتے تھے اس نے کہا حضور میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا خزافہ ، پھر حضرت عمر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ کے سوال ہونے پر راضی ہو گئے ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، آپ نے فرمایا آج کی طرح میں نے بھلائی برائی کبھی نہیں دیکھی جنت دوزخ میرے سامنے اس دیوار کے پیچھے بطور نقشے کے پیش کر دی گئی تھی اور روایت میں ہے یہ سوال کرنے والے حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ ان سے ان کی والدہ نے کہا تجھ سے بڑھ کر ماں باپ کا نافرمان میں نے نہیں دیکھا ۔ تجھے کیا خبر تھی جاہلیت میں کس چیز کا پرہیز تھا ۔ فرض کرو اگر میں بھی کسی معصیت میں اس وقت آلودہ ہو گئی ہوتی تو آج اللہ کے رسول کی زبانی میری رسوائی ہوتی اور سب کے سامنے بےآبروئی ہوتی ، آپ نے فرمایا سنو ماں اگر رسول اللہ کی زبانی مجھے معلوم ہوتا کہ فلاں حبشی غلام کا میں بیٹا ہوں تو واللہ میں اسی سے مل جاتا ، ابن جریر میں ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے کی حالت میں آئے منبر پر جڑھ گئے آپ کا چہرہ مبارک اس وقت سرخ ہو رہا تھا ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا میں کہاں جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا جہنم میں دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا حذافہ، حضرت عمر نے کھڑے ہو کر فرمایا ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر ، قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ جاہلیت اور شرک میں ہم ابھی ابھی آپ کی طرف آئے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے آباؤ اجداد کون ہیں؟ اس سے آپ کا غصہ کم ہوا اور یہ آیت اتری، ایک مرسل حدیث میں ہے کہ اس دن حضور نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا جو چاہو پوچھو، جو پوچھو گے، بتاؤں گا، یہ شخص جس نے اپنے باپ کا نام پوچھا تھا یہ قریش کے قبیلے بنو سہم میں سے تھا، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جناب عمر نے حضور کے قدم چوم کر یہ عرض کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ ہم سے درگزر فرمائیے اللہ تعالٰی آپ سے درگزر فرمائے، اسی دن حضور نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا تھا کہ اولاد اسے ملے گی جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زانی کو پتھر ملیں گے، بخاری شریف میں ہے کہ بعض لوگ از روئے مذاق حضور سے اپنے باپ کا نام اور اپنی گم شدہ اونٹینیوں کی جگہ وغیرہ دریافت کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری ، مسند احمد میں ہے کہ جب آیت (وللہ علی الناس حج البیت من اسطاع الیہ سبیلا) نازل ہوئی یعنی صاحب مقدور لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ خاموش ہو رہے انہوں نے پھر دوبارہ یہی سوال کیا آپ نے پھر سکوت فرمایا انہوں نے تیسری دفعہ پھر یہی پوچھا آپ نے فرمایا ہر سال نہیں اور اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہو جاتا اور تم ادا نہ کر سکتے ، پس اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری ، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ روایت اس سند سے غریب ہے اور میں نے امام بخاری سے سنا ہے کہ اس کے راوی ابو الخجزی نے حضرت علی سے ملاقات نہیں کی ، ابن جریر کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میری ہاں کے بعد اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یقینات کافر ہو جاتے ، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پوچھنے والے محصن اسدی تھے، دوسری روایت میں ان کا نام عکاشہ بن محصن مروی ہے ، یہی زیادہ ٹھیک ہے اور روایت میں ہے کہ سائل ایک اعرابی تھے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تم سے اگلے لوگ ائمہ حرج کے ایسے ہی سوالوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے واللہ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ساری زمین تمہارے لئے حلال کر دوں اور صرف ایک موزے کے برابر کی جگہ حرام کر دوں تو تم اسی حرمت والی زمین پر گرو گے ، اس کی سند بھی ضعیف ہے ، ظاہر آیت کے الفاظ کا مطلب تو صاف ہے یعنی ان باتوں کا پوچھنا منع ہے جن کا ظاہر ہونا برا ہو ، پس اولی یہ ہے کہ ایسے سوالات ترک کر دیئے جائیں اور ان سے اعراض کر لیا جائے ، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور نے اپنے صحابہ سے فرما دیا دیکھو مجھے کسی کی کوئی برائی نہ پہنچائے میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ لے کر آؤں ، پھر فرماتا ہے کہ جن چیزوں کے سوال سے تمہیں روکا جا رہا ہے اگر تم نے ان کی بابت پوچھ گچھ کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ وحی نازل ہو رہی ہے تو تمہارے سوالات کا جواب آ جائے گا اور جس چیز کا ظاہر ہونا تمہیں برا معلوم ہوتا تھا وہ ظاہر ہو جائے گی ، اس سے پہلے کے ایسے سوالات سے تو اللہ تعالٰی نے درگزر فرما لیا ۔ اللہ ہے ہی بخشش والا اور حلم و بردباری والا۔ مطلب یہ ہے کہ سوالات ترک کردو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے کوئی آسانی سختی میں بدل جائے۔ حدیث شریف میں ہے مسلمانوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جس نے کسی چیز کی نسبت دریافت کیا جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام ہو گئی ، یہ بات اور ہے کہ قرآن شریف میں کوئی حکم آئے اس میں اجمال ہو اس کی تفصیل دریافت کی جائے ، اللہ تعالٰی نے جس چیز کا ذکر اپنی پاک کتاب میں نہیں کیا اس سے خود اس نے درگزر فرما لیا ہے ، پس تمہیں بھی اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیے جیسے کہ خود اللہ تعالٰی نے کی ہے ، صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، یاد رکھو کہ تم سے اگلے لوگوں کی حالت کی وجہ صرف کثرت سوال اور انبیاء پر اختلاف ہی ہوئی ہے اور حدیث میں ہے اللہ تعالٰی نے فرائض مقرر کر دیئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو حدیں باندھ دی ہیں انہیں نہ توڑو، جو چیزیں حرام کر دی ہیں ان کی حرمت کو سنبھالو جن چیزوں سے خاموشی کی ہے صرف تم پر رحم کھا کر نہ کہ بھول کر تم بھی اس کو پوچھ گچھ نہ کرو، پھر فرماتا ہے ایسے ہی مسائل تم سے اگلے لوگوں نے بھی دریافت کئے انہیں بتائے گئے پھر وہ ان پر ایمان نہ لائے بلکہ ان کے باعث کافر بن گئے ان پر وہ باتیں بیان کی گئیں ان سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان کے سوال ہی سرکشی پر تھے نہ کہ سمجھنے اور ماننے کیلئے ، ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کیا پھر فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے تم پر حج فرض کر دیا ہے ، بنو اسد قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال ؟ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہدیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر ایسا ہوتا تو اس پر عمل تمہاری طاقت سے باہر تھا اور جب عمل نہ کرتے تو کافر ہو جاتے پس جب تک میں نہ کہوں تم بھی نہ پوچھو میں خود جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ، پاس اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ کو ممانعت کر دی کہ کہیں وہ بھی نصرانیوں کی طرح آسمانی دستر خوان طلب نہ کریں جس کے طلب کرنے کے بعد اور آنے کے بعد پھر وہ کافر ہو گئے پس منع کر دیا اور صاف فرما دیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر قرآن میں ان کی بابت سخت احکام نازل ہوں تو تمہیں برے لگیں بلکہ تم منتظر رہو قرآن اتر رہا ہے جو پوچھنا چاہتے ہو سب کا بیان اس میں پاؤ گے ۔

Image result for useless discussions

اہلحدیث کے عقائد و نظریات Beliefs of Ahle Hadith


اہلحدیث کے عقائد و نظریات 

موجودہ اہلحدیث غیرمقلد


اہل حدیث سے مراد

اہل حدیث ، بنیادی طور پر ایک عمومی مفہوم رکھنے والی اصطلاح ہے کیونکہ کوئی گروہ بھی مسلمانوں کا سواۓ اہل القران کے ایسا نہیں جو حدیث کا منکر ہو اور اس لحاظ سے تمام مسلمان ہی اہل حدیث کہے جاسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود متعدد سیاسی و جغرافیائی عوامل کی وجہ سے آج یہ اصطلاح ان لوگوں کے ليے ہی مخصوص کی جاچکی ہے کہ جو غیر مقلد ہیں۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ RAHMAT.PNG کے مطابق
ہم اہل حدیث سے صرف حدیث لکھنے اور سننے اور روایت کرنے والا ہی مراد نہیں لیتے ، بلکہ ہر وہ شخص جس نے حدیث کی حفاظت کی ،اس پرعمل کیا اوراس کی ظاہری وباطنی معرفت حاصل کی ، اور اسی طرح اس کی ظاہری اورباطنی طور پر اتباع وپیروی کی تو وہ اہل حديث کہلا نے کا زيادہ حقدار ہے ۔اوراسی طرح قرآن پرعمل کرنے والا بھی وہی ہے ۔اوران کی سب سے کم خصلت یہ ہے کہ وہ قرآن مجید اورحدیث نبویہ سے محبت کرتے اوراس کی اور اس کے معانی کی تلاش میں رہتے ہیں، اوراس کے موجبات پرعمل کرتے ہیں
موجودہ زمانے میں غیر مقلد کہلانے والےوہ لوگ ہیں جنہوں نے انگریزوں سے وفاداری کے نتیجہ میں اپنا نام وہابی(عبد الوہاب کے پیروکار) سے تبدیل کروا کر اہلحدیث رکھوا لیا اس سلسلہ میں محمد حسین بٹالوی نے جنگ آزادی (1857ء) کے موقع پرایک کتاب الاقتصاد فی المسائل الجہاد لکھی جس میں انگریزوں سے وفاداری کا اظہار کرتے ہوئےجہاد کی ممانعت ثابت کی اور پھر اس کےصلہ میں اپنا نام وہابی سے اہلحدیث رکھوایا ایوب قادری لکھتے ہیں انہوں (محمد حسین بٹالوی) نے ارکان جماعت اہلحدیث کی ایک دستخطی درخواست لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کے ذریعے سے وائسرائے ہند کے نام روانہ کردی اس درخواست پر سر فہرست شمس العلما ءمیاں نذیر حسین کے دستخط تھے ۔گورنر پنجاب نے وہ درخواست اپنی تائیدی تحریر کے ساتھ گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیج دی۔وہاں سے حسب ضابطہ منظوری آگئی کہ آئیندہ وہابی کی بجائے اہلحدیث کا لفظ استعمال کیا جائے مزید پڑھیں 》》》》》》
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:

Also Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Religion, Culture, Science, Peace
A Project of Peace Forum Network: Overall 3 Million visits/hits

Fall of Baghdad and Ainul Jalut سقوط بغداد اور عین الجالوت

جنگ عین جالوت 3 ستمبر 1260ء (658ھ) میں مملوک افواج اورمنگولوں کے درمیان تاریخ کی مشہور ترین جنگ جس میں مملوک شاہسیف الدین قطز اور اس کے مشہور جرنیل رکن الدین بیبرس نے منگول افواج کو بدترین شکست دی۔ یہ جنگ فلسطین کے مقام عین جالوت پر لڑی گئی۔ اس فتح کے نتیجے میں مصر، شام اور یورپ منگولوں کی تباہ کاریوں سے بچ گئے۔ جنگ میں ایل خانی حکومت کے منگول بانی ہلاکو خان کا سپہ سالار کتبغا مارا گیا۔
مختصر تفصیل:goo.gl/ejxAUt
تاتاریوں کا نظام احتساب: https://goo.gl/c1hQbX

1260ء کے موسم بہار میں جب قاہرہ کے شہری روزمرہ کی زندگی میں مصروف تھے تو مملوک سلطان مظفر سیف الدین قطز کو اک ایسے خطرے کا سامنا تھا، جس سے اس وقت کے حاکم تھر تھر کانپتے تھے، منگول!!
مملوک سلطان اور اس کے جرنیلوں کے سامنے منگول حکمران ہلاکو خان کے چار ایلچی کھڑے تھے۔ انہوں نے قطز کو ایک خط دیا، جس میں سفارتی آداب کی قطعاً کوئی پروا نہ کی گئی تھی اور یہ اس لہجے میں نہیں لکھا گیا تھا جو کسی سلطنت کا حاکم اپنے کسی ہم منصب کو بھیجتا تھا:
مشرق و مغرب کے بادشاہوں کے بادشاہ خانِ خانان کی طرف سے قطز مملوکی کے لیے، جو ہماری تلواروں کی دستبرد سے بچ نکلا۔ تمہیں سوچنا چاہیے تھا کہ ہم نے دیگر ملکوں کے ساتھ کیا کیا ۔۔۔ اور اس کو دیکھتے ہوئے ہمارے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا چاہیے تھا۔ تم نے سنا ہوگا کہ ہم نے کس طرح پے در پے فتوحات کے ذریعے اک عظیم سلطنت بنائی ہے اور دنیا کو ان تمام نافرمانیوں سے پاک کیا ہے جس نے اس کے چہرے کو داغدار کر دیا تھا۔ ہم نے وسیع علاقوں کو فتح کیا ہے، وہاں کے لوگوں کا قتل عام کیا ہے۔ تم ہماری افواج کی دہشت ناک قوت سے راہِ فرار نہیں اختیار کر سکتے۔ تم بھاگ کر آخر کہاں جاؤ گے؟ تمہیں ہمارے سامنے فرار کی کون سی راہ نظر آتی ہے؟ ہمارے گھوڑے برق رفتار ہیں، ہمارے تیر تیز، ہماری تلواریں بجلی کی کوند، ہمارے دل چٹانوں کی طرح سخت اور ہمارے فوجی اتنے کثیر التعداد جتنی کہ ریت۔ قلعے ہمیں نہیں روک سکتے اور نہ ہی کوئی بازو ہمیں روکنے کی قوت رکھتا ہے۔ خدا سے تمہاری دعائیں ہمارے خلاف کچھ کام نہ آئیں گی۔ نہ ہی ہمیں آنسو کچھ اثر کرتے ہیں اور نہ آہ و فغاں۔ صرف وہی محفوظ رہے گا جو گڑگڑا کر ہماری حفاظت طلب کرے گا۔ جواب دینے میں جلدی کرو اس سے قبل کہ جنگ کا الاؤ جل اٹھے ۔۔۔ اور جان لو کہ اگر مزاحمت کی تو عبرت ناک حالات کا سامنا کرو گے۔ ہم تمہاری مسجدوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور تمہارے خدا کی کمزوری دنیا پر عیاں کر دیں گے۔ اور تمہارے بچوں اور بوڑھوں کو بھی نہ چھوڑیں گے اور انہیں تہہ تیغ کریں گے۔ اس وقت صرف تم ہی وہ دشمن ہو جس کے خلاف ہم پیش قدمی کر رہے ہیں۔
قطز نےاپنے جرنیلوں سے فوری طور پر جنگی مشاورت طلب کی۔
سات سال قبل، 1253ء میں، ہلاکو خان، خانِ خانان مونگ کے خان کا بھائی اور چنگیز خان کا پوتا، نے اپنی افواج کو جمع کر کے شام کی جانب “مصر کی سرحدوں تک” جانے کا حکم دیا تھا۔ ان کا ہدف چنگیز خان کے خواب یعنی ‘عالمی منگول اقتدار’ کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے ایک قدم مزید آگے بڑھنا تھا، یعنی ان علاقوں کو فتح کر کے منگول اقتدار کا حصہ بنانا۔
محققین ہلاکو کی افواج کی درست تعداد پر اختلاف رکھتے ہیں، لیکن وہ اپنے وقت کے حساب سے بہت بڑی تعداد تھی۔ اس کا لشکر تقریباً تین لاکھ جنگجوؤں پر مشتمل تھا، جو بلا کے شہسوار اور تیر انداز تھے۔ ان کی تربیت، نظم و ضبط، مشاہدہ، نقل و حرکت اور رابطہ کسی بھی ہم عصر فوج سے کہیں زیادہ زبردست تھا۔ ان کی برق رفتاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا تھا کہ وہ ایک دن میں 100 میل کا سفر بھی کر لیتے تھے۔ خواتین، بچوں اور دیگر غیر عسکری اراکین کو بھی ملایا جائے تو ان کی کل تعداد تقریباً 20 لاکھ بنتی تھی۔
منگول 1256ء میں فارس میں وارد ہوئے، دہشت و ہیبت کی علامت حشاشین کے خاتمے کے لیے، جنہوں نے خانِ خانان تک کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔ اس دھمکی کا بدلہ انہوں نے دو سال میں شمالی ایران، شام اور ایران میں حشاشین کے 200 قلعوں کو فتح کر کے لیا۔ الموت کے مرکزی قلعے کی طرز پر یہ قلعے پہاڑوں کی چٹانوں پر بنائے جاتے اور ناقابل تسخیر شمار ہوتے تھے لیکن منگولوں نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ وہ شمال مشرقی ایران کے کوہ البرز سے نمودار ہوئے اور کمال ہوشیاری سے قلعے پر قلعے فتح کرتے چلے گئے۔ چینی انجینئر محاصرے کے لیے ہتھیار تیار کرتے اور “شاہینوں کے یہ قلعے” گرتے چلے گئے اور حشاشین کی کمر ٹوٹ گئی۔
پھر ہلاکو نے اپنی توجہ مابین النہرین (موجودہ عراق) اور خلافت عباسیہ کے دارالحکومت بغداد کی جانب مبذول کی۔ گو کہ وہ اس وقت بلادِ اسلامیہ کا سیاسی مرکز نہیں تھا، جو قاہرہ منتقل ہو چکا تھا، لیکن پھر بھی دارالخلافہ ہونے کی وجہ سے اسلام کا قلب تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن اس کو تہس نہس کر دیا گیا: فروری 1258ء میں اسے اپنے عہد کی بدترین فتوحات میں کچل ڈالا گیا۔ اسلامی دنیا کو منگولوں کی دیگر تمام حرکات سے کہیں زیادہ سقوطِ بغداد نے ہلا کر رکھ دیا۔ ہلاکو تبریز جا کر ٹھہرا، جہاں مقامی حاکموں کے علاوہ دیگر منگول سردار بھی اس کے پاس اطاعت کا دم بھرنے کے لیے آئے۔
ان میں اتحاد کی پیشکش کرنے والے آرمینیہ کے عیسائی بادشاہ ہیتون بھی تھے۔ ہیتون نے منگول جارحیت کو بیت المقدس کو مسلمانوں سے آزادکرانے کے لیے نئی صلیبی جنگ تصور کیا۔ مسلمانوں نے حال ہی میں، 1244ء میں، عیسائیوں سے شہر واپس چھینا تھا۔ اس کے عمل کو ہلاکو کے سپہ سالار کتبغا کی حوصلہ افزائی ملی جو خود بھی عیسائی تھا۔ ہلاکو خان سے ملنے کے بعد ہیتون نے اپنے عیسائی پڑوسیوں کو پیغامات بھیجے کہ ہلاکو عیسائیت قبول کرنے والا ہے، اور سب سے مطالبہ کیا کہ سب خود کو نئی قوت کے ساتھ منسلک کر لیں اور اس نادر موقع کو ایک صلیبی جنگ میں بدل دیں۔
ستمبر 1259ء میں ہلاکو نے ایک مرتبہ پھر اپنی افواج کو حرکت دی، اور دریائے دجلہ کے مشرق میں پورے بین النہرین کو مطیع کر ڈالا۔ پھر اس نے فرات پار کیا اور شام میں داخل ہو گیا۔ شام کے ایوبی سلطان الملک الناصر نے اطاعت چاہی، لیکن پیشکش بری طرح ٹھکرا دی گئی۔ انہوں نے پہلے حلب کے دفاع کا انتظام کیا، لیکن پھر پسپائی اختیار کرتے ہوئے دمشق کو بچانے کی لاحاصل کوشش کی۔ 3 لاکھ کے منگول ٹڈی دل نے 13 جنوری 1260ء کو حلب کا محاصرہ کیا اور چند ہی دنوں میں شہر ان کی جھولی میں تھا۔ حلب کا نصیب بھی بغداد جیساقرار پایا۔ اس صورتحال میں دمشق کے شہریوں نے ناصر کو غیر مشروط اطاعت قبول کرنے کے لیے پیغام بھیجنے پر مجبور کر دیا۔ یوں ہلاکو شہر میں کتبغا، ہیتون اور انطاکیہ کے صلیبی شہزادے بوہیمنڈ چہارم کے ساتھ فاتحانہ انداز میں داخل ہوا۔ الناصر مصر کی جانب بھاگا، لیکن غزہ کے قریب منگول فوجیوں کے ہاتھوں پکڑا گیا اور زنجیروں میں جکڑ کر ہلاکو کے سامنے لایا گیا۔
یہی وہ وقت تھا جب ہلاکو نے قاہرہ کے مملوک سلطان کو ڈرانے کے لیے اپنے ایلچی بھیجے۔
قطز ایک مملوک تھا، جو بحیثیت ایک جنگجو ہی پروان چڑھا تھا۔ لیکن وہ ایک حقیقت پسند بھی تھا۔ اس نے اپنے جرنیلوں کے سامنے اقرار کیا کہ مملوکوں کے پاس منگولوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اس کے سالاروں نے تائید کی اور تجویز پیش کی کہ اطاعت قبول کر لی جائے۔
لیکن قطز کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ وہ بغیر جنگ کے ہتھیار ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ قطز نے اپنے محافظوں کو حکم دیا کہ ایلچیوں کو قتل کر دیا جائے، اور جرنیلوں کو حکم دیا کہ وہ شہر کا دفاع کرنے کی تیاری کریں۔
ہلاکو کی عظیم فوج مصر کی جانب پیشقدمی کی منتظر تھی۔ تعداد میں وہ 20 ہزار مملوک فوج کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی، یعنی 15 منگولوں کے مقابلے میں ایک مملوک ۔ قاہرہ کی بقا، اور شاید تہذیب اسلامی کی تقدیر، اب مملوک افواج کے ہاتھ میں تھی۔
پھر مسلمانوں کی خوش قسمتی رنگ لے آئی۔
یک قاصد ہلاکو کے پاس پیغام لے کر حاضر ہوا کہ خانِ خانان مونگ کے قراقرم میں چل بسے ہیں اور منگول روایات کے پیش نظر ہلاکو سمیت تمام شہزادوں کو اس کے جانشیں کے انتخاب کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ ہلاکو نے اپنی افواج کو واپس مراغہ میں بلایا اور فتح کے یقین کے باعث کتبغا کو حکم دیا کہ مصر پر دباؤ رکھنے کے لیے 20 ہزار افراد کے ساتھ شام میں مقیم رہے۔
کچھ ہفتے بعد قطز کو مخالف مملوک گروپ کے سربراہ بیبرس کی صورت میں ایک اتحادی ملا۔ بیبرس اور اس کے ساتھی شام میں مقیم تھے، جہاں سے وہ مصر پر حملے کرتے لیکن بیبرس نے اس صورتحال میں یہ جانا کہ قطز کی شکست اس کی آرزوؤں کا بھی خاتمہ کر سکتی ہے، اس لیے جب دمشق کا سقوط ہوا، بیبرس نے قطز کو مدد کی پیشکش کی۔
دوسری جانب کتبغا نے ایک حملہ آور دستہ فلسطین بھیجا، جس نے نابلوس سے غزہ تک کے علاقے کو تاخت و تاراج کا نشانہ بنایا، لیکن ساحل کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کی زیر قبضہ مختصر پٹی کو کچھ نہ کہا۔ منگول افواج کے مقابلے میں کسی قابل ذکر مزاحمت کے قابل نہ ہونے کے باعث صلیبی اب مزید پریشان ہو گئے کہ وہ ان حملہ آوروں کا ساتھ دیں یا نہ دیں۔ کتبغا یہی سمجھتا رہا کہ ان کے علاقوں پر حملے نہ کرنا منگولوں کے حق میں جائے گا، لیکن وہ غلط تھا۔
دو صلیبی رہنماؤں جان آف بیروت اور جولین آف صیدون نے منگولوں کے نئے قبضہ شدہ علاقوں پر جوابی حملے شروع کر دیے۔ جس کے جواب میں کتبغا نے صیدون کے خلاف دستہ بھیجا، جس نے شہر کو ملیامیٹ کر کے اس کے شہریوں کا قتل عام کیا۔ منگول عیسائی تعلقات کی گرمجوشی یکدم ٹھنڈی پڑ گئی، اور جب پولینڈ پر منگولوں کے حملے کی خبریں ملیں تو گویا یہ معاملہ مکمل طور پر سرد ہو گیا۔
انہی ایام میں منگولوں کے لیے فرانسیسی صلیبی بادشاہ لوئی نہم کے سفیر ولیم آف روبرک منگولیا سے مکمل رپورٹ کے ساتھ واپس پہنچے۔ اسے پڑھنے کے بعد پوپ الیگزینڈر چہارم نے پورے ملکِ نصاریٰ میں یہ اعلان کر دیا کہ منگولوں کے ساتھ اتحاد کرنے والا کافر قرار دیا جائے گا۔ منگول کو اب عیسائیوں کی جانب سے کوئی مدد نہیں ملنے والی تھی۔
جب ہلاکو کی قراقرم واپسی کی خبر قطز کو ملی، تو اس نےفوری طور پر اندازہ لگا لیا کہ عسکری لحاظ سے اب صورتحال اس کے حق میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اس نے دفاع کی تیاریوں کو فوری طور پر روکنے اور منگول افواج کے خلاف پیشقدمی کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ ایک اور دلیرانہ قدم اٹھاتے ہوئے قطز نے عکہ کے صلیبی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے محفوظ راستہ دیں اور رسد خریدنے کی اجازت بھی۔
فرنگیوں کے لیے یہ مطالبہ مخمصے میں ڈالنے والا تھا۔ انہيں اندازہ تھا کہ قطز کے ساتھ تعاون انہیں منگولوں کا صریح دشمن بنا دے گا، اور انہیں بدنام زمانہ منگول افواج کے رحم و کرم پر ڈال دے گا؛ لیکن دوسری جانب قطز خطے کو منگولوں سے چھٹکارہ دلانے کی آخری امید بھی تھا۔ طویل بحث مباحثے کے بعد انہوں نے قطز کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔
26 جولائی 1260ء کو مصری افواج نے شمال مشرق کی جانب پیشقدمی کا آغاز کیا۔ غزہ کے قریب بیبرس کے ہراول دستے نے گشت کرنے والے ایک منگول دستے کو شکست دی تو کتبغا نے بعلبک میں اپنے ٹھکانے سے قدم نکالا اور بحیرۂ طبریہ کے مشرقی کناروں کے ساتھ ساتھ جنوب کی جانب پیشقدمی کا آغاز کیا۔
عکہ کے قریب، جب عیسائیوں کے پریشان رہنما مملوک افواج کو شہر کے سامنے اپنے خیمے نصب کرتے دیکھ رہے تھے، قطز نے رسد خریدی اور اگلی چال کی منصوبہ بندی کی۔ جلد ہی اطلاع ملی کہ منگول اور جبری بھرتی کی گئی شامی فوج نے بحیرۂ طبریہ کو گھیر لیا ہے، اور وہ دریائے اردن کی جانب پہنچ رہے ہیں۔ قطز نے اپنی فوج کو جنوب مشرق کی جانب پیشقدمی کا حکم دیا تاکہ منگول افواج سے ٹکراؤ ہو جائے۔
3 ستمبر کو کتبغا نے مغرب کا رخ کیا اور مرج ابن عامر کی سطح مرتفع پر پہنچا۔ قطز نے اپنی پوزیشن ‘عین جالوت’ میں سنبھالی۔ یہاں سطح مرتفع صرف پانچ کلومیٹر کی رہ جاتی ہے، اور جنوب کی جانب ڈھلان اور شمال کی جانب کوہ جلیل کی وجہ سے مملوک دستوں کو حفاظت ملی۔ قطز نے مملوک رسالے کو قریبی پہاڑیوں پر تعینات کیا اور بیبرس اور ہراول دستے کو ایسے دشمن کی جانب پیشقدمی حکم دیا جس نے کبھی شکست کا ذائقہ نہ چکھا تھا۔
بیبرس جلد ہی کتبغا کی افواج سے جا ٹکرایا، جو عین جالوت کی طرف ہی آ رہی تھی۔ قطز کی توقع کے عین مطابق کتبغا نے غلطی سے اس لشکر کو پوری مملوک فوج سمجھ لیا، اور عام حملے کا حکم دے ڈالا اور اس حملے کی قیادت بھی خود کی۔ دونوں افواج ٹکرائیں اور ایک دوسرے کے زور بازو کا اندازہ لگانے کے لیے گھمسان کا رن پڑا؛ اور پھر منصوبے کے عین مطابق بیبرس نے اپنے لشکر کو پسپائی کا حکم دیا۔ منگول پورے اعتماد کے ساتھ اُن کے تعاقب میں دوڑے، فتح ان کو اپنی گرفت میں نظر آتی تھی۔
لیکن جب مقررہ مقام پر پہنچ کر بیبرس نے اپنی افواج کو پلٹ کر دشمن کا سامنا کرنے کا حکم دیا، تب کہیں جا کر منگولوں کو حقیقت کا علم ہوا کہ وہ آج خود اسی چال کا شکار ہو گئے جو وہ ہمیشہ آزماتے آئے ہیں، یعنی جھوٹ موٹ کی پسپائی اختیار کر کے دشمن کو اچانک گھیر لینا۔ جب بیبرس کے دستے دوبارہ منگول افواج پر حملہ آور ہوئے، قطز نے رسالے کو پہاڑی دامن سے نکل کر منگول افواج کے پہلوؤں پر حملہ کرنے کا حکم صادر کر دیا۔
دوسری جانب کتبغا نے مملوک افواج کے بائیں پہلو پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ بہت خطرناک حملہ تھا، ایسا لگتا تھا کہ مملوک افواج کی صف بندی ٹوٹ جائے گی اور وہ کچل دیے جائیں گے۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے قطز خود اس مقام پر پہنچا، اپنا خود اٹھا کر پھینک دیا تاکہ پوری فوج اس کی شکل پہچان لے اور تین مرتبہ نعرہ لگایا “اے مسلمانو!”۔ فوج میں زبردست جوش و خروش پیدا ہو گیا اور منگول حملہ پسپا کر دیا گیا۔ صف بندی مستحکم ہونے کے بعد قطز نے جوابی حملہ کر کے منگولوں کو دھکیلنے کی ٹھانی۔
مملوک دباؤ کے باوجود کتبغا پیشقدمی جاری رکھے ہوئے تھا کہ اچانک ایک تیر اس کے گھوڑے کو آ لگا اور وہ زمین پر آ رہا۔ قریبی مملوک فوجیوں نے اسے گرفتار کر کے قطز کے روبرو پیش کیا اور قتل کر دیا گیا۔
سالار کے قتل کے بعد پسپا ہوتے منگولوں کا 12 کلومیٹر تک مملوک افواج نے تعاقب کیا۔ بچ جانے والی منگول فوج مشرق میں دریائے فرات کے پار تک چلی گئی۔ چند ہی دنوں میں قطز دمشق میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوا، اور مملوک حلب اور شام کے دیگر اہم شہروں کو آزاد کرانے کے لیے آگے بڑھے۔
مملوک اور منگول افواج کا عین جالوت میں ٹکراؤ عالمی تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں شمار ہوتا ہے — جس کا تقابل میراتھن، سلامز، لپانٹو، کالونز اور طوغ – کی جنگوں سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس جنگ نے اسلامی و مغربی تہذیب کے مستقبل کا تعین کیا۔ اگر منگول مصر فتح کرنے میں کامیاب ہو جاتے، تو وہ بلاشبہ ہلاکو کی واپسی کے بعد مشرقی افریقہ میں آبنائے جبرالٹر تک پیش قدمی کرتے۔ یوں یورپ پولینڈ سے ہسپانیہ تک منگولوں کے گھیرے میں آ جاتا۔ ان حالات میں کیا یورپ میں نشاۃ ثانیہ واقع ہوتا؟ اگر ہوتا تو اس کی بنیادیں بلاشبہ کہیں زیادہ کمزور ہوتیں اور دنیا ممکنہ طور پر آج ایک کہیں مختلف مقام ہوتی۔
مملوکوں نے نہ صرف مغرب کی جانب منگول پیشقدمی کو روکا، بلکہ منگولوں کے ناقابل شکست ہونے کے بت کو بھی توڑا۔ منگول دوبارہ پھر کبھی ویسی خود اعتمادی کے حامل نہ رہے، اور یوں عین جالوت نے خطے میں منگول پیشقدمی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔
قاہرہ کو بغداد جیسے حال سے بچانے کے بعد جنگ عین جالوت نے نسبتاً کمزور صلیبی ریاستوں کی قسمت کا بھی فیصلہ کر دیا۔ مملوک مصر اسلامی سیاسی، عسکری و ثقافتی قوت کے عروج پر پہنچ گیا، یہ مقام عثمانیوں کے ظہور تک اگلے 200 سال تک اس کے پاس رہا۔
لیکن قطز کے ہاتھوں سے اس فتح کے ثمرات جلد ہی چھین لیے گئے۔ حلب کو دوبارہ حاصل کرنے کے بعد بیبرس نے کہا کہ اس مہم میں خدمات کے پیش نظر اسے اس خطے کی کمان دی جائے۔ قطز نے انکار کر دیا اور جب قاہرہ میں فاتحانہ واپسی میں چند روز باقی تھے، قطز مارا گیا۔ یوں منگول خطرے کو ٹالنے کے لیے قاہرہ سے نکلنے والا تو قطز تھا لیکن فاتحانہ انداز سے داخل ہونے والا بیبرس تھا۔ جو ملک الظاہر رکن الدین بیبرس کے نام سے تختِ قاہرہ پر بیٹھا۔
یہ مضمون ڈیوڈ ڈبلیو شانز کا تحریر کردہ ہے، جنہوں نے تاریخ اور طب کے دو بالکل مختلف موضوعات میں تعلیم حاصل کی اور سعودی ارامکو میڈیکل سروسز سے منسلک ہیں۔ آپ عسکری تاریخ کے جریدے “Havoc!” کے ایڈیٹر ہیں اور عسکری تاریخ میں طب کی حیثیت پر خاص جریدے COMMAND کے لیے بھی مدیر کی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں
ان کا یہ مضمون سعودی ارامکو ورلڈ میگزین کے جولائی/اگست 2007ء شمارے میں شایع ہوا تھا، جس کا ترجمہ یہاں پیش کیا گیا ہے
http://urdu.microiways.com/Islam_JEEM/battle-of-ain-jalut.aspx
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب شاندار فتح کی خبر دمشق اور گرد ونواح پہنچی تو مسلمان خوشی سے سرشار ہوگئے انہوں نے تاتاریوں پر حملے شروع کردیے اور اسی سال منگولوں کو حمص سے بھی بے دخل کردیا۔
ساتویں صدی ہجری میں تاتاریوں نے مسلمانوں کی سرزمین پر عظیم جارحیت کا ارتکاب کیا اور نتیجتاً مسلمانوں کا خلیفہ مستعصم باللہ ہلاک ہوگیا اور دارالحکومت بغداد سمیت مسلمانوں کی تین چوتھائی سرزمین تاتاریوں کے قبضہ میں چلی گئی۔
سقوط بغداد کے بعد خلافت عباسیہ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا جس کے بعد مسلمانوں کو شکست در شکست کا سامنا کرناپڑا۔ منگولوں نے سارے عراق پر قبضہ کرنے کے بعد شام کی سرزمیں پر جارحیت کا ارتکاب کیا اور یہاں ظلم و ستم کا بازار گرم کردیا کیونکہ اس علاقے کے لوگوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا تھا۔
سقوط دمشق کے بعد تاتار مصر اور مراکش کی طرف بڑھے جو مسلمانوں کے آخری مضبوط گڑھ رہ گئے تھے اور اگر یہ بھی منگولوں کے قبضے میں چلے جاتے تو تمام مسلم امہ تباہ ہوجاتی۔
جنگ عین جالوت میں شکست کے بعد تاتاریوں کو اندازہ ہوا کہ ان کی حکومت مشرقی اسلامی سرزمین پر کمزور ہورہی ہے اور مسلمانوں نے اپنی قوت بحال کرلی ہے تو وہ اپنے وطن کی طرف بھاگے جس کی وجہ سے مملوکوں نے آسانی سے شام کو کچھ ہی ہفتوں میں آزاد کرانے میں کامیاب رہا۔
مزید:
https://goo.gl/yNqvdj
  Download book,  تاتاریوں کی یلغار۔ ولیم لیم

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:

Also Related:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Religion, Culture, Science, Peace
A Project of Peace Forum Network: Overall 3 Million visits/hits