Showing posts with label e Book. Show all posts
Showing posts with label e Book. Show all posts

(9)Creator-Conclusion خالق کائنات کون؟ اختتامیہ




اختتامیہ
انسانوں کے گروہوں کے خدا یا دیوتاؤں کے ساتھ تعلق کوعمومی طور پر'مذہب' کے طور پر جانا جاتا ہے. خدا کی عبادت مذہب کا بنیادی حصہ ہے , مذہب مختلف سوالات کے جوابات مہیا کرنے کی کوشش کرتا ہے، مثلآ؛ خداکا وجود، کائنات اور انسانیت کی تخلیق، انسانی  دکھ اور تکالیف، برائی، موت اور حیات بعد از موت-  آسما نوں اور زمین کے عظیم خالق اور حاکم کا تصور انسانی فطرت کے حصہ ہے-  الله  کو خدا (God) بھی کہا جاتا ہے، تمام خوبصورت اعلی کمال کی خصوصیات والے نام اس کے ہیں جو کسی بھی زبان میں ہوں (الله صرف واحد ہے)- سب سے اہم مسئلہ  ہے کہ  کس طرح عقل سے خدا کے وجود کو ثابت کیا جائے؟
خدا لا محدودہے اس کی ذات کا براہ راست فہم انسانی حواس سے ماوراہے- اس کو اس کی نشانیوں سے پہچانا جا سکتا ہے-   عام طور پر خدا کے وجود کے ثبوت میں جو دلائل فلاسفہ کی  طرف سے مہیا کیےگئے ہیں  ان میں دلائل وجوہات (Priori Argument)، تجربے سے دلائل (Posteriori Argument)،  'کائناتی  دلائل (Cosmological Argument)، ڈیزائن سے دلیل (Teleological Argument)،خدا کے تصور سے خدا کی حقیقت(Ontological Arguments)، اخلاقیات اور احتمال دلائل  (Morality and Probability Arguments) وغیرہ شامل ہیں- عصر حاضر کے مغربی فلسفہ میں خدا کے وجود پر 'مذہبی تجربے' سے ثبوت اور دوسرے  دلائل تجویز کیے گئے جن کا ذکر ہو چکا.
حضرت ابراہیم ( علیہ السلام)   کے پیروکار ہونے کا دعوی کرنے والے  توحید پر بہت  زوردیتے ہیں، لیکن  صرف اسلام کے پیروکار  ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیش کردہ  توحید کی  میراث کے حقیقی وارث ہونے کا دعوی کر سکتےہیں.
مسیحیت کی طرف سے پیچیدہ نظریہ تثلیث کو 'تثلیث توحید' کے طور پرپیش کیا جاتا ہے، جس کے مطابق تین ؛ ایک باپ (خدا)، بیٹا (عیسی علیہ السلام)، اور روح القدس ایک ہیں- یہ نظریہ  مکمل طور پر حضرت ابراہیم کی طرف سے پیش کیے گئے نظریہ توحید کے الٹ ہے. کئی فرقوں اورعیسائت کی بنیاد پرقائم مذاہب مثلا آریانزم، 'یہوواہ کے گواہوں' اور کچھ 'موحدين' کے پیروکاروں کی طرف سے'تثلیث توحید' کو رد کر دیا ہے ۔
توحید کے برعکس شرک (خدا کے ساتھ شراکت داری) ہے، شرک بت پرستی کا ماخذ ہے . اسلام شرک کو کفر کے مترادف سمجھ کر مسترد کرتا ہے. مسلمان سختی سے اللہ (ایک خدا) رب العالمین پر ایمان رکھتے ہیں اور بغیرکسی  شبیه کے صرف اس کی عبادت کرتے ہیں-
خدا کی صفات مثلاً  پیدا کرنے والا خالق ، نہایت مہربان، منفرد، اور مزید بہت صفات  قرآن اور بائبل میں درج ہیں ۔ اگرچہ خدا انسانی نظر سے  دیکھا نہیں جا سکتا مگر اس کےموجود ہونے کے ثبوت اورعلامات کائنات اور انسانی تخلیق میں  محسوس کیئے جا سکتے ہیں ، لیکن سرکش لوگوں کو اس میں سے  کچھ  حاصل نہیں ہوتا کیونکہ انہوں نے عقل اورحکمت  کے دروازے بند کر رکہے ہوتے ہیں-
پچھلے رسولوں کومعجزات  عطا ہوئے مگر ان  پر ان کے اثرات دیر تک قائم نہ رہ سکے۔ حضرت موسیٰ نے (عليہ السلام) بنی اسرائیل کو مصر سے فرعون کے چنگل سے حیران کن معجزوں کے بعد نکال کر لا ئے لیکن اس کے بعد فوری طور پر اسرائیلی حدود سے تجاوز کر گینے اور بچھڑے کی پرستش میں مشغول ہو گئے-  یسوع مسیح  (عليہ السلام) نے  بہت سے معجزات دکھا ئے مگر یہودیوں نے ان کو مسترد کر دیا-
اسلام استدلال، مباحثے اور مکالمے کی حوصلہ افزائی کرتا  ہے. اللہ نے اپنی حکمت سے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قرآن عطا فرمایا جو ایک  زندہ معجزہ ہے جسے کوئی بھی شخص خود پڑھ کر اس کے ذریعے حکمت اور رہنمائی حاصل کر سکتا ہے- قرآن مکمل طور پر اللہ کی طرف سے حکمت اور رہنمائی سے بھرپور سچا کلام  ہے- سائنس قرآن کا موضوع نہیں مگر قرآن کی بہت سی آیات  ضرورت کے مطابق سائنس کے مختلف مضامین کا حوالہ دیتی ہیں لیکن وہ سائنس کے  مصدقہ اصولوں کے ساتھ متصادم نہیں ، بلکہ سائنس ان کی تائید کرتی نظر آتی ہے. قرآن انسانیت کو درپیش تمام مسائل کا حل فراہم کرتا ہے اورانسان کے دماغ میں اٹھنے والے  بنیادی سوالات کے جوابات مہیا کرتا ہے مثلا؛ خد کا وجود ، کائنات اور انسانیت کی تخلیق اور وجوہ، انسانی دکھ درد، خیر و شر ، موت ، بعد از موت وغیرہ. قرآن عقلی دلائل سے انسان کی ہدایت و رہنمائی کرتا ہے، اس کو ظلمت کے اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتا ہے، یہ  اس  کی سچائی اور اللہ کی اپنے بندوں پر رحمت  کا کھلا ثبوت ہے -
استشراق اور مشرق وسطیٰ  پر دنیا کی معروف اتھارٹی، پرنسٹن پروفیسر فلپ .کے .ٹی اپنی کتاب؛ "اسلام، زندگی کا ایک طریقہ" میں لکھتا ہے؛ " 'قرآن پاک (اللہ کی طرف سے) لکھایا گیا ہے- قرآن سے کوئی بھی آیت یا حوالہ لیں، تو اس کا تعارف اس طرح شروع کیا جا سکتا؛ "اللہ نے فرمایا!"
اب بنی نوع انسان کا اپنا انتخاب ہےکہ وہ تحریف شدہ قدیم صحیفوں پر عمل کرنا چاہتے ہیں یا اپنی رہنمائی کے لیئے خالص اصلی حالت میں محفوظ اور دستیاب آخری پیغام،  قرآن پر عمل کرتے ہیں!
خدا واحد پر ایمان کا مطلب ہے کہ اس کی رہنمائی کے مطابق زندگی بسر کی جائے، الله کے آخری رسول  نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر قرآن نازل فرمایا جو انسانیت کے لئے ابدی ہدایت کا سرچشمہ ہے – ایمان کی جھلک انسان کے اعمال سے نظر آنی چاہئیے. عبادات کے علاوہ ،اچھا اخلاق ، حقوق العباد کا احترام  اور انسانیت کی خدمت  مومن کی چند  خصوصیات ہیں-بے عمل، بدقسمت لوگ  جو نفاق میں مبتلا ہیں اور قرآن کو نظرانداز کرتے ہیں ، بربادی کی طرف جا رہے ہیں:
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘( آل عمران،3 :103)
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ﴿سورة الفرقان25:30﴾
اور(روز قیامت) رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بےشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ﴿سورة الفرقان25:30﴾
"بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، اور وہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ہیں" (قرآن 7:177)
... رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿٢٨٦﴾
پروردگار! ہم جو کچھ بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے اس کا ہم سے مواخذہ نہ کرنا . خدایا ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈالنا جیسا پہلے والی امتوں پر ڈالا گیا ہے پروردگار ! ہم پر وہ بار نہ ڈالنا جس کی ہم میں طاقت نہ ہو . ہمیں معاف کردیناً ہمیں بخش دیناً ہم پر رحم کرنا توہمارا مولا اور مالک ہے اب کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما (قرآن 2:286)
خدا واحد پر ایمان انسان کی فطری جبلت ہے –تمام انسان کافر ہوں یا مومن ، عبادت گزار ہوں یا فاسق و فاجر اگر کسی سخت مصیبت میں پھنس جائیں تو وہ دنیا کی کسی مادی چیز کی پناہ تلاش نہیں کرتا بلکہ وہ کسی ایسی قوت کی پناہ چاہتا  ہے جو اس کائنات سے ماورا ہو، جسے وہ دیکھ تو نہیں سکتا لیکن اس کی روح اس کا دل اس کے جسم کا ہر ریشہ اس کے موجود ہونے کی گواہی دیتا ہے اس کی عظمت و جلال کا احساس رکھتا ہے ، اس سے محبت کرتا ہے ، ڈرتا ہے ، یہ اس لیے ہے کہ الله پرایمان انسان کی جبلت ہے –

انڈکس 

لنکس -  References/Links
4. http://tanzil.net/
7.    https://www.reference.com/world-view/did-socrates-believe-f38cce3e8932c602
8. http://www.islamawareness.net/Buddhism/buddhist.html
11   The God: by Kerin Armstorng
20.   صفات متشابہات کی بحث:http://farooqia.com/ur/lib/1434/03/p5.php
21.   ا للہ تعالیٰ کی صفات عامہ اور مخلوق: http://www.thefatwa.com/urdu/questionID/16/
23.   https://ur.wikipedia.org/wiki/قرآن_اور_جدید_سائنس
25.   http://islam4humanite.blogspot.com/2011/10/quran-evidence-of-truth.html
29.   http://Peace-Forum.blogspot.com
30.   http://FreeBookPark.blogspot.com
33.   https://www.facebook.com/groups/1God3Faiths
34.   https://plus.google.com/+AftabKhan-PeaceForum
35.   https://www.youtube.com/c/PeaceForum
36.   http://www.dailymotion.com/Peace-Forum  
37.   Encyclopedia Britanica
38.   Wikipedia
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
تحقیقی مقالہ جات و مضامین :
·         خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید
Reconstruction of Religious Thought in Islam:  http://goo.gl/lqxYuw
·         انسداد فرقہ واریت-  مختصر تاریخ اورعملی اقدامات
·         مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط  : http://goo.gl/y2VWNE
·         نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل
·         کتابت حدیث کی تاریخ - نخبة الفکر - ابن حجرالعسقلانی - ایک علمی جایزہ
·         پاکستان کی دلدل اور امن اور ترقی کا راستہ
·         علماء اور دور جدید
·         خاموش انقلاب مگرکیسے؟
·         ظالم فاسق فاجر حکمران - علماء اور مسلمانوں کا رویہ
·         ووٹ کی شرعی حیثیت مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع
·         نقاب ، حجاب: قرآن , حدیث اور اجماع  - http://goo.gl/X9iI51
·         عمر ضائع کردی: http://goo.gl/3ZaTwQ


مصنف :
آفتاب احمد خان ١٩٩٩سےمذہب ثقافت، اخلاقیات، سائنس، سیاسیات اور روحانیت کا  اعلی انسانی اقداراور پرامن معاشرہ کے قیام اور ترویج میں کردارکا مطالعہ کر رہے ہیں- انہوں نے پولیٹیکل سائنس،اسٹریٹجک اسٹڈیز، بزنس ایڈمنسٹریشن میں پوسٹ گریجویٹ تعلیم حاصل کی- وسیع سفر کے دوران امریکہ، یورپ، مشرق وسطی، چین، مشرق بعید اور آسٹریلیا میں لوگوں اورمختلف ثقافتوں کا مشاہدہ کیا-دنیا میں اکثریت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا بزرگ  (Patriarch) مانتی ہے اور  ان کی عزت کی جاتی ہے- اسلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے  ورثہ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، جس کی تکمیل  حضرت محمد ﷺ پر ہوئی-  بنی نوع انسان کو امن و سلامتی و برداشت کے ساتھ رہنے کی اہمیت کے پیش نظر انٹرنیٹ پر " سلام فورم نیٹ ورک -  Peace Forum  Network    قائم  کیا جو کہ ایک خالص  تعلیمی، فکری، علمی کوشش ہے . اہم موضوعات میں علم، انسانیت، مذہب، اخلاقیات، سائنس، ثقافت، سماجیات, سیاسیات ،روحانیات براۓ امن شامل ہیں-  یہ فورم کسی بھی عقیدے، جنس یا نسل کے تمام باشعور، امن پسند لوگوں کو خوش آمدید کہتاہے-
ایک فری لانس رائٹرکے طور پر مصنف کے انگریزی مضامین 2006 , سے  باقاعدگی سے "ڈیفنس جرنل" کراچی میں شائع ہورہے ہیں- ان میں سے منتخب تحریروں کو کتابی شکل میں2008  میں شائع   کر کے مفت تقسیم کے لیے مہیا کر دیا تاکہ اس تحقیق سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ حاصل کرسکیں - اس کےساتھ ساتھ تمام تحقیقی مواد  ومضامین کو برقی کتابوں e-books بلاگز، ویب پیجز،  میگزین ،  ویڈیوزاورسوشل میڈیا پر دستیاب کر دیا- زیادہ عوام تک رسائی کے لیےحال میں اردو میں میں" سلام فورم"(http://SalaamForum.blogspot.com) کا آغاز کیا اور اب منتخب کتابوں کو اردو میں مہیا کرنے کے منصوبہ پر کام شروع کر دیا ہے-  "خالق کائنات کون؟" اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے، جومصنف کی انگلش میں کتاب  TheCreator کا اردو ترجمہ  و مزید تحقیق  کا نچوڑ ہے-تخلیق کاینات' ، 'راہنمائی'اور 'اسلام:دین کامل'بھی اردو میں ترجمہ کے بعد پیش کرنے کا ارادہ ہے(انشاء اللہ)  ہیں- ان کے علاوہ مصنف کیے تحقیقی مقالے،کتب(eBooks)   اور مضامین یہاں مہیا  ہیں: http://FreeBooPark.blogspot.com
مزید معلومات کے لیے وزٹ کریں : http://AftabKhan-net.page.tl

~~~~~~~~~~~~~~~~~
انسانیت ، علم ،مذہب ثقافت، اخلاقیات، سائنس، سیاسیات ،معاشرہ ، برداشت ،امن و  سلامتی
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز ,کتب
Peace Forum NetWork
(Web NetWork)
 Be part of Millions of visitors:
لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں
مفت کتب حاصل کرنے کے لیئے، وزٹ کریں
کریں WhattsApp  نام ، اڈریس، SMS یا
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمبر 923004443470+ پر"وہاٹس اپپ"SMS کریں

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

(5) Mystries of Quantum Physics کوانٹم فزکس کے عجیب و غریب اسرار

Image result for quantum physics



باب - 5
کوانٹم فزکس   (Quantum Physics ) کے اسرار
کلاسیکل فزکس کائنات میں مادہ اور توانائی کے طرز عمل کی درست ترین وضاحت کرتی ہے۔ مثال کے طور پر کلاسیکل فزکس ایک ٹرین کی بڑھتی ہوئی رفتار اور ہوا میں اڑتی ہوئے ایک پرندے کی حرکت کی وضاحت کرتی ہے، جبکہ اس کے برعکس کوانٹم  مکینکس، یا قوانٹم فزکس  کائنات کے طرز عمل کی بہت چھوٹے پیمانے پر وضاحت کرتی ہے، جیسے کہ ایٹم اور چھوٹے ذرات وغیرہ۔ کلاسیکل فزکس کے قوانین اس قدر چھوٹے پیمانے پر مادے اور توانائی کے طرز عمل کی وضاحت نہیں کرسکتے۔ فزکس یعنی طبیعات میں کوانٹم تھیوری (Quantum ) سے مراد ان ذرات (الیکٹران، پروٹون ، نیوٹران وغیرہ ) کی توضیح و تشریح ہے جن سے مادہ بنا ہے اور ساتھ ہی یہ جائزہ لینا ہے کہ یہ ذرات ایک دوسرے کے ساتھ اور توانائی کے ساتھ کس طرح سے تامل کرتے ہیں۔
کوانٹم تھیوری کا نام اس حقیقت کی بنیاد پر رکھا گیا ہے کہ یہ تھیوری کائنات میں مادہ اور توانائی کی تشریح ایسے واحد اور غیرمنقسم جزو کے حوالے سے کرتی ہے جسے ’’کوانٹا‘‘(Quanta) کہا جاتا ہے۔ کوانٹم تھیوری کلاسیکل فزکس یعنی قدیم طبیعات سے یکسر مختلف ہے۔  کوانٹم تھیوری ان قوانین کی وضاحت کرتی ہے جو ہمیں یہ اعدادوشمار تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ طبیعات یا حیاتیاتی نظاموں میں کئے جانے والے تجربات کے نتائج کیا ہوں گے۔ اس سے یہ جاننے میں بھی مدد ملتی ہے کہ ہماری دنیا کیسے کام کرتی ہے۔
کوانٹم الجھاؤ  (Quantum Entanglement )  کوانٹم فزکس  (Quantum Physics) کے اسرار :
دو الیکٹرانوں کواگر ایک ساتھ پیدا کیا جائے  تو وہ ہمیشہ کے لئے آپس میں(entangled) الجھ جاتے ہیں  ، قطع نظر ان دو الیکٹرانوں کے درمیان فاصلے کے ؛ ایک الیکٹران میں کوانٹم چکر  (quantum spin) میں تبدیلی فوری طور پر دوسرے الیکٹران کے اسپن (چکر ، گھماؤ) میں فوری  تبدیل کا سبب بنے گی.
اگر آپ کائنات کے ایک طرف ایک الیکٹران کو مختصر، فوری جھٹکوں  کے ساتھ اوپر اور نیچے یا اور آگے پیچھے حرکت دیں تو ایک غیر مرئی طاقت کئی ملین نوری سال کا فاصلہ طے کر کہ دوسرے الیکٹران پرفوری طور پر اثر انداز ہو کر حرکت میں تبدیلی پیدا کر دیتی ہے- یہ سفر ٹیکنیکل طور پر ممکن وقت سے کئی ملین سال تیزترعمل ہے بغیر وقت کے سفر(time travel) کے- اصولی طور پر تھیوری کے مطابق دو الیکٹران  کے جوڑے کے درمیان جتنا فاصلہ بھی ممکن ہوچاہے وہ پوری کائینات کی چوڑائی ہو، دونوں اس طرح سے آپس میں رابطہ میں ہیں کہ  ایک پر جو عمل ہو وہ دوسرے  الیکٹران پر فوری طور پر اثرانداز ہو گا- یعنی کہ  انفارمیشن روشنی کی سپیڈ سے بھی تیزسفر کر رہی ہے ، وقت کا سفر-
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ، (21:30قرآن (
" اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا، اور ہم نے (زمین پر) پیکرِ حیات (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (قرآن کے بیان کردہ اِن حقائق سے آگاہ ہو کر بھی) ایمان نہیں لاتے، (21:30قرآن (
اگرچہ سائنسدان اس پر کام کر رہے ہیں کہ انفارمیشن بھیجنے کی کیا حدود و قیود ہیں مگر کسی نے اس تھیوری کو رد نہیں کیا کہ کاینات میں ایک ایسی غیر مرئی طاقت موجود ہے جو مادہ پر کئی ملین نوری سال کے فاصلہ پر بھی فوری طور پر اثر انداز ہو سکتی ہے- لہٰذا بیگ بینگ (Big Bang) کے وقت ماضی میں ایک وقت  تھا جب کاینات کا ہر ایک ایٹم ایک نقطہ پرمرکوز تھا- اس کا مطلب ہوا کہ ہر چیز کا آپس میں لنک ہے،قوانٹم طور پر الجھ گئی ہے (everything is quantumly entangled)- کچھ سائنسدان اس میں بہت آگے چلے گئے ہیں وہ دعوی کرتے ہیں کہ قوانٹم  ایٹینگلمنٹ ( quantum entanglement )ظاہر کرتی ہے کہ سپیس (space) یا خلاء نام کو کوئی شے وجود نہیں رکھتی، کاینات کی ہر چیز ٹچ (touch) کر رہی ہے-
آئنسٹائن کےخیال تھا کہ نظریاتی طور سے غیر محتمل (implausible) ایک فاصلے پر ڈراونا کارروائی' ہے. الجھے ذرات (entangled particles) کے درمیان  کنکشن، رابطہ برقرار رہنا " کوانٹم میکینکس کے گہرے رازوں میں سے ایک ہے''- یہ کنکشن تجربات سے ثابت شدہ نوعیت کی ایک حقیقت ہیں، لیکن فلسفیانہ  طریقه سے انہیں سمجھانے کی کوشش کرنا بہت مشکل ہے. کچھ سائنسدان اب بھی (کسی حد تک ڈھٹائی )سے اسے کوانٹم کا عجیب و غریب 'جادوکہتے ہیں حالانکہ حالیہ سالوں,82, 1980 میں تمام تجربات سے ثابت ہوا کہ آئنسٹائن غلط تھا اور فاصلے پر کارروائی حقیقی ہے- اس سےآئنسٹائن کی تھیوری کہ، "روشنی کی رفتار سے تیز کوئی انفارمیشن ٹرانسفر نہیں ہو سکتی" رد ہوتی ہے-
کوانٹم میکینکس کے عجیب پہلوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ،کوئی  چیز بیک وقت موجود اور غیر موجود ہو سکتی ہے-اگر ایک ذرہ کئی مختلف راستے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ، یا کئی مختلف حالتوں  میں موجودہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو 'کوانٹم میکانکس کے اصول بیک وقت تمام ممکنہ حالتوں میں تمام راستوں پر سفر کرنے اور وجود کی بیک وقت اجازت دیتا ہے. لیکن اگر ان کی عمل کو ریکارڈ کرنے کی کوشش کریں تو وہ فوری طور پر ایک رستہ منتخب کر لیتے ہیں- جب ایسا ایک زرہ کے ساتھ ہوتا ہے تو فوری طور پر دوسرے زرہ پر اثر بھی ہوتا ہے-
'ڈبل سلٹ' (Doubble Slit) اور   'سنگل سلٹ' (Single Slit) تجربات سے معلوم ہوا کہ جب ان ذرات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو ان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کا مشاہدہ ہو رہا ہے ، توپھر وہ اپنا رویہ تبدیل کر لیتے ہیں- یہ ان میں ذہانت کی موجودگی کا ثبوت ہے-ایک طاقت جس کے پاس علم ہے وہ تمام آزاد الیکٹران کو مربوط کرتی ہے-  اس طاقت  میں سب کچھ اس کے جاننے والا (Omniscient) جانتا ہے.
ایک اور گہرا  کوانٹم بھید  (deep quantum mystery) جس کے لئےماہرین طبیعیات کے پاس کوئی جواب نہیں ہے وہ  'سرنگ' (tunnel) کا عمل ہے- یہ ذرات کی عجیب صلاحیت  جس سے وہ کبھی کبھی سخت ترین رکاوٹوں میں گھس کر پارچلے جاتے ہیں -
اس کے علاوہ،اگررکاوٹ کی موٹائی میں اضافہ کر دیں تو سرنگ کی رفتاربھی بڑھ جاتی ہے- یہ بھی ناقابل بیان حقیقت ہے-
کاینات کا  کوڈ  (The Cosmic Code ) :
راکفیلر یونیورسٹی  کے فزسٹ (physist) ہائینز پیگل، بہت سے دوسرےتھیورسٹ کی طرح یقین رکھتا تھا کہ ' کوانٹم طبیعیات' ایک قسم کا کوڈ (Cosmic Code) ہے جو  کائنات میں ہر چیز کا آپس میں رابطہ رکھتا ہے حتی کہ بشمول زندگی کی طبعی بنیاد-
سوئٹزر لینڈ میں CERN نے (Large Hadron Collider) مشین جو27کلومیٹر طویل سرنگ میں واقع قریبا ً دس ارب ڈالر میں بنی، اس میں 2012کو تجربہ کیا گیا جس میں چند ذرات کو روشنی کی رفتار سے آپس میں ٹکرا کر   (BigBang)  کے ابتدائی لمحہ کا ماحول پیدا کرکہ یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا (Higgs Boson)  نامی ذرہ  جو کائینات کی تخلیق کا سبب سمجھا جاتا ہے ،حقیقت میں کوئی وجود رکھتا ہے یا نہیں ۔ تجربے سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہگز بوسن (Higgs Boson)   واقعی وجود رکھتا ہے مگر اسے ’’ڈھونڈنا ‘ ‘ بے حد مشکل کا م ہے کیونکہ یہ ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے کے لئے ’’ظاہر ‘ ‘ ہوتا ہے اور کا حجم اس قدر کم ہے کہ اسے ’’پیدا ‘ ‘ کرنے کے لئے بہت زیادہ توانائی درکار ہے جو صرف LHCمشین میں ہی ممکن بنائی جا سکی۔ اس ذرے کی دریافت یقینا ًاس صدی کا ایک بڑا واقعہ تھا جنہوں نے سائنس دانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیااور اس کی وجہ بہت دلچسپ بھی تھی اور خطرناک بھی !
ہگز بوسن زرہ (  Higgs Boson particle) کی دریافت کے بعد پتہ چلا کہ دیگر طبعی ذرات کی طرح ہگز بوسن  (میڈیا کی طرف سے غلط نام ' خدائی ذرہ'  God Particle مشہورہوا ) کی بھی ایک قسم کی مقناطیسی کشش ہوتی ہے ، مگر فرق یہ ہے کہ ہگز بوسن کی قوت اُن بنیادی ذرات کا حجم تشکیل دیتی ہے جن سے ہم سب تخلیق کئے گئے ہیں ، یہ کائنات پیدا کی گئی ہے ۔ اگر ہگز بوسن کی یہ قوت نہ ہو تی تو کوئی ایٹم ہوتے ، کوئی ذرات ہوتے اور نہ ہم ہوتے ۔
یہ بہت بنیادی ہے کیونکہ کوانٹم الجھاؤ (Quantum Entanglemen-QE)  ہگس بوسون  کے کام کرنے کا  طریقہ کار ہے. کوانٹم الجھاؤ کائنات بھر میں ہر  طرح کے اہم واقعات کو سمجھنے کے لیے مرکزی نقطہ ہے کہ کاینات میں لمبے فاصلوں کے باوجود مختلف واقعات سیکنڈوں میں میکرو اور مائیکرو سطح پر ہم وقت ترتیبب میں وقوع پزیر ہوتے ہیں-
وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ﴿٤٧﴾
اور آسمان کو ہم نے اپنی طاقت سے بنایا ہے اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں (51:47قرآن)
دوسری پراسرار بات اس کائنات کا پھیلاؤ ہے ، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کے پھیلاؤ کی رفتار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ وہ پراسرا ر قوت دافعہ ہے جسےDark Energyکہا جاتا ہے ۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ تاریک توانائی کیا بلا ہے ، سائنس دان اسے خلاء کی قوت کہتے ہیں ، سائنس دانوں نے جب اس قوت کا خلاء سے اندازہ لگانے کی کوشش کی تو نتیجے میں جو عدد سامنے آیا وہ ایک کے بعد120صفروں پر مشتمل تھا ، یہ عدد اتنا بڑا تھا کہ خلاءباز چکرا کر رہ گئے ، یوں سمجھیے کہ یہ علم فلکیات کا اب تک کا سب سے بڑا عدد تھا ، کائنات کے تمام ایٹموں سے ایک ہزار کھرب ہا کھرب ہا کھرب گنا زیادہ !بے شک یہ عجیب و غریب بات تھی مگر زیادہ پراسرا ربات یہ تھی کہ اگر تاریک توانائی حقیقت میں اتنی ہی قوت رکھتی تو یہ
کائنات اپنا وجود برقرار نہ رکھ پاتی اور ہم بھی کہیں نہ ہوتے ۔ سائنس دان یہ معمہ نہیں سمجھ پائے ہیں اور یوں ہگز بوسن کی ویلیو کے بعد اسے طبیعات کا دوسرا خطرناک ترین عدد کہا جارہا ہے !
رابطہ  (The Connection )
جب کائنات اور طبیعیات کے قوانین  پیدا ہوے یا تو کیا اس نے ان  کے اندر تمام ذرات اور طاقتوں کے ساتھ ایک 'کنکشن' چھوڑا؟  ایسا لگتا ہے کہ سائنس میں موضوعات اور 'ڈیزائن'  موجود ہیں جوفطرت کو دہرانے لگتے ہیں.
سائنسدان اور متکلمین بہت عرصہ کاینات میں 'ذرات اور طاقتوں' اور' فطرت اور اخلاقیات' کے ڈیلیوازم پر حیرت زدہ رہے- مثلآ مادہ- مخالف مادہ، مثبت -منفی ، مذکر-مونث، اچھائی-برائی، وغیرہ-
سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ ﴿٣٦﴾
پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود اِن کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں سے یا اُن اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں(قران 36:36(
"اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں، شاید کہ تم اس سے سبق لو"(قران 51:49(
جب پچھلی صدی کے اکھڑ میں ایٹمی تھیوری کا غلبہ ہوا تو نیل بوہر کا ماڈل جس میں ذرات ایٹمی مرکز کے گرد گھومتے تھے اس کا  ہمارے سورج کے پلانٹری سسٹم سے تقابل کیا گیا- اسی تھیم کو گلیکسی ، ستاروں ، سیاروں اور گیسوں پر لاگو کیا- ایسا لگتا ہے کہ  بنیادی ڈھانچہ سب سے چھوٹی چیز سے سب سے بڑی پر لاگو کر دیا گیا-
قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ قُلِ اللَّـهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ (10:34قرآن(
اِن سے پُوچھو، تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہو اور پھر اس کا اعادہ بھی کرے؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی، پھر تم یہ کس اُلٹی راہ پر چلائے جا رہے ہو؟ (10:34قرآن( ایٹم ساخت میں بہت پیچیدہ ہے، مرکز کے گرد گھومنے والے ذرات سخت اور یقینی شکل نہیں رکھتے بلکہ وہ بیک وقت زرات اور لہروں کی شکل میں موجود رہتے ہیں- ایٹم کا مرکز بھی بہت پیچیدہ ہے، نیوٹران اور پروٹون  جن کو سخت چیز کھا جاتا ہے در اصل کوارک (Quark) (کوارک، پر بہت کم الیکٹرک چارج ہوتا ہے، ان کا مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا مگر تجربات سے ان کی موجودگی کا علم ہوتا ہے )اور دیگر مبہم کلاؤڈ نما (hazy, clouds) چھوٹےایٹمی  ذرات سے بنے ہوتے ہیں-
مذہب میں یہ عقیدہ ہے کہ خدا سے رابطہ کے لیئے انسان شعوری طور پر حالت دعا میں جاتا ہے-   دعا سے خدا سے روحانی رابطہ قائم ہوتا ہے اور وہ ہماری  دعا اور خیالات کو سنتا ہے- ہم کو یقین ہوتا ہے کہ وہ ہماری خواہشات سے اگاہ ہے- دعا انسان کی طرف سے خدا کی عظمت کا اقراراور عبادت ہے:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (40:60قرآن(
تمہارا رب کہتا ہے "مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے" (40:60قرآن(
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ( 50:16قرآن)
اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں۔ اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں ( 50:16قرآن  (
"..اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے" (8:24 قرآن(
کیا طبعیی دنیا میں ایسا  رابطہ  ممکن ہے؟
کوانٹم الجھاؤ (Quantum Entanglement) کا تعلق ایٹم سے نچلے درجہ پر ہے جو مائیکروسکوپ کے درجہ سے بھی بہت نیچےہے- کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس درجہ پر  ایک کائیناتی رابطہ (connection) ہے جو زمان و مکان (Time and Space) سے ماورا ہے جو تمام  ذرات کو کائینات میں ایک دوسرے سے اس طریقه سے رابطہ میں رکھتا ہے  جس کو ابھی مزید سمجھنے کی ضرورت ہے-
قوانٹم  (Quantum) یا پلانک (Planck ) لیول سے نیچے زمان و مکان کی تعریف دھندلا جاتی ہے- اگر تمام ذرات پلانک (Planck ) لیول سے نیچے رابطہ میں ہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ ہم سب کا آپس میں ایک کائیناتی تعلق ہے اور شاید یہی وسیلہ ہے جس سے دعا کا راستہ گزرتا ہے؟  یہ سب محض قیاس آرائیاں ہیں، مگر اگر خدا نے تمام فزکس کے قوانین اور  کائینات کو اس طرح تخلیق کیا کہ وہ ان سے کبھی بھی روحانی اور مادی طور پر لا تعلق نہیں رہتا اور بیک وقت ہر طرف موجودرہتا ہے-  یہ تصدیق کرتا ہے یہودی، کرسچین اور مسلمانوں کی جو  ہمیشہ سے اس کی موجودگی اور اس سے آسان رابطہ کے متعلق کہتے آئے ہیں- اس کا مطلب ہے کہ اس کو سب خیالات ، واقعات اور  کائینات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کا علم ہے- کوئی کتنا دور بھی چلا جا ئے وہ اس کے قریب ہے-
ایک شعورواحد ، ایک عالمگیر حکمت، کائنات میں ہر جگہ نفوز پزیر ہے. سائنس کی دریافتیں جو زیرجوہری مادہ کی 'کوانٹم'  نوعیت کی تلاش کرتی ہیں ہمیں ایک چونکا دینے والے احساس کے دہانے پر لے آیئ  ہیں کہ :" تمام وجود اس کی حکمت کا  اظہار ہے". لیبارٹریوں میں ہم نے سب سے پہلے جسمانی طور پر اسے  توانائی کے طور پر بیان کیا اور اس کے بعد اسکو  مادہ کی صورت میں اکٹھا کر دیا- ہر ذرہ، ہر وجود، ایٹم سے انسان تک ایک سطح کی معلومات اور حکمت ظاہر کرتا ہے-
سائنسدان قوانٹم  فزکس کے ذریعے انسان یا اشیاء کی کاینات میں ایک جگہ سے بہت دور  ٹیلی ٹرانسپورٹیشن (like star wars movies) کا  سوچ رہے ہیں- اگر انسان ایسا کرنے  کا سوچ سکتا ہےاور شاید کبھی ایسا کر سکے تو  کیا  خالق کاینات کے لیئے  اپنے کسی بندے کو ایک جگہ سے کسی دور دراز مقام تک )جسمانی یا روحانی  طور پر ) لے جا نا مشکل ہے ؟  علامہ اقبال نے خوب کہا کہ :
سبق ملا ہے یہ، معراجِ مصطفی سے مجھے   ~  کہ عالَم بشریت کی زَد میں ہے گردوں
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence-AI) :
انسان مصنوعی ذہانت   کو  انسانی ذہانت  کے متبادل  یا  مددگار  کے طور پر ڈیولپ کرنے میں مصروف ہے ،  کمپیوٹرز  نے یہ کام کسی حد تک  ممکن  کردیا ہے - ڈرائیور کے بغیر کار، آٹو پائلٹ، روبوٹ وغیرہ چند مثالیں ہیں -معروف محقق پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ کے خیال میں مکمل مصنوعی ذہانت کی ترقی انسانی نسل کا خاتمہ کر دے گی۔'ایک دفعہ انسانوں نے اسے بنا لیا تو اس کی ارتقا کا عمل خود ہی آگے بڑھتا رہے گا اور انسان اپنے سست حیاتیاتی ارتقاء کی وجہ سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔'-کمپیوٹر کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بل گیٹس اور سِلیکون وَیلی کے سٹار ایلون مَسک نے، جواسپیس ایکس اور ٹیسلا موٹرز کے بانی ہیں، خبردار کرتے ہوئے کہا ;  کہ ’مصنوعی ذہانت‘ کی صورت میں انسان نے اپنی بقا کے لیے سب سے بڑے خطرے کو جنم دیا ہے۔  کمپیوٹر جو خالص انسانی تخلیق ہے ، اس کو سائنسدان  اہمیت دیتے ہیں مگر حقیقی عظیم ترین ذہانت کے وجود کے منکر ہیں – ان کے خیال میں کاینات صرف قدرتی قوانین کی وجہ سے وجود میں آئی اور خود بخود  کام کر رہی ہے ؟
إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ﴿٢٢﴾
"یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے("قرآن؛ 8:22)
More Details at:


انڈکس