Showing posts with label Urdu. Show all posts
Showing posts with label Urdu. Show all posts

(5) Mystries of Quantum Physics کوانٹم فزکس کے عجیب و غریب اسرار

Image result for quantum physics



باب - 5
کوانٹم فزکس   (Quantum Physics ) کے اسرار
کلاسیکل فزکس کائنات میں مادہ اور توانائی کے طرز عمل کی درست ترین وضاحت کرتی ہے۔ مثال کے طور پر کلاسیکل فزکس ایک ٹرین کی بڑھتی ہوئی رفتار اور ہوا میں اڑتی ہوئے ایک پرندے کی حرکت کی وضاحت کرتی ہے، جبکہ اس کے برعکس کوانٹم  مکینکس، یا قوانٹم فزکس  کائنات کے طرز عمل کی بہت چھوٹے پیمانے پر وضاحت کرتی ہے، جیسے کہ ایٹم اور چھوٹے ذرات وغیرہ۔ کلاسیکل فزکس کے قوانین اس قدر چھوٹے پیمانے پر مادے اور توانائی کے طرز عمل کی وضاحت نہیں کرسکتے۔ فزکس یعنی طبیعات میں کوانٹم تھیوری (Quantum ) سے مراد ان ذرات (الیکٹران، پروٹون ، نیوٹران وغیرہ ) کی توضیح و تشریح ہے جن سے مادہ بنا ہے اور ساتھ ہی یہ جائزہ لینا ہے کہ یہ ذرات ایک دوسرے کے ساتھ اور توانائی کے ساتھ کس طرح سے تامل کرتے ہیں۔
کوانٹم تھیوری کا نام اس حقیقت کی بنیاد پر رکھا گیا ہے کہ یہ تھیوری کائنات میں مادہ اور توانائی کی تشریح ایسے واحد اور غیرمنقسم جزو کے حوالے سے کرتی ہے جسے ’’کوانٹا‘‘(Quanta) کہا جاتا ہے۔ کوانٹم تھیوری کلاسیکل فزکس یعنی قدیم طبیعات سے یکسر مختلف ہے۔  کوانٹم تھیوری ان قوانین کی وضاحت کرتی ہے جو ہمیں یہ اعدادوشمار تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ طبیعات یا حیاتیاتی نظاموں میں کئے جانے والے تجربات کے نتائج کیا ہوں گے۔ اس سے یہ جاننے میں بھی مدد ملتی ہے کہ ہماری دنیا کیسے کام کرتی ہے۔
کوانٹم الجھاؤ  (Quantum Entanglement )  کوانٹم فزکس  (Quantum Physics) کے اسرار :
دو الیکٹرانوں کواگر ایک ساتھ پیدا کیا جائے  تو وہ ہمیشہ کے لئے آپس میں(entangled) الجھ جاتے ہیں  ، قطع نظر ان دو الیکٹرانوں کے درمیان فاصلے کے ؛ ایک الیکٹران میں کوانٹم چکر  (quantum spin) میں تبدیلی فوری طور پر دوسرے الیکٹران کے اسپن (چکر ، گھماؤ) میں فوری  تبدیل کا سبب بنے گی.
اگر آپ کائنات کے ایک طرف ایک الیکٹران کو مختصر، فوری جھٹکوں  کے ساتھ اوپر اور نیچے یا اور آگے پیچھے حرکت دیں تو ایک غیر مرئی طاقت کئی ملین نوری سال کا فاصلہ طے کر کہ دوسرے الیکٹران پرفوری طور پر اثر انداز ہو کر حرکت میں تبدیلی پیدا کر دیتی ہے- یہ سفر ٹیکنیکل طور پر ممکن وقت سے کئی ملین سال تیزترعمل ہے بغیر وقت کے سفر(time travel) کے- اصولی طور پر تھیوری کے مطابق دو الیکٹران  کے جوڑے کے درمیان جتنا فاصلہ بھی ممکن ہوچاہے وہ پوری کائینات کی چوڑائی ہو، دونوں اس طرح سے آپس میں رابطہ میں ہیں کہ  ایک پر جو عمل ہو وہ دوسرے  الیکٹران پر فوری طور پر اثرانداز ہو گا- یعنی کہ  انفارمیشن روشنی کی سپیڈ سے بھی تیزسفر کر رہی ہے ، وقت کا سفر-
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ، (21:30قرآن (
" اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا، اور ہم نے (زمین پر) پیکرِ حیات (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (قرآن کے بیان کردہ اِن حقائق سے آگاہ ہو کر بھی) ایمان نہیں لاتے، (21:30قرآن (
اگرچہ سائنسدان اس پر کام کر رہے ہیں کہ انفارمیشن بھیجنے کی کیا حدود و قیود ہیں مگر کسی نے اس تھیوری کو رد نہیں کیا کہ کاینات میں ایک ایسی غیر مرئی طاقت موجود ہے جو مادہ پر کئی ملین نوری سال کے فاصلہ پر بھی فوری طور پر اثر انداز ہو سکتی ہے- لہٰذا بیگ بینگ (Big Bang) کے وقت ماضی میں ایک وقت  تھا جب کاینات کا ہر ایک ایٹم ایک نقطہ پرمرکوز تھا- اس کا مطلب ہوا کہ ہر چیز کا آپس میں لنک ہے،قوانٹم طور پر الجھ گئی ہے (everything is quantumly entangled)- کچھ سائنسدان اس میں بہت آگے چلے گئے ہیں وہ دعوی کرتے ہیں کہ قوانٹم  ایٹینگلمنٹ ( quantum entanglement )ظاہر کرتی ہے کہ سپیس (space) یا خلاء نام کو کوئی شے وجود نہیں رکھتی، کاینات کی ہر چیز ٹچ (touch) کر رہی ہے-
آئنسٹائن کےخیال تھا کہ نظریاتی طور سے غیر محتمل (implausible) ایک فاصلے پر ڈراونا کارروائی' ہے. الجھے ذرات (entangled particles) کے درمیان  کنکشن، رابطہ برقرار رہنا " کوانٹم میکینکس کے گہرے رازوں میں سے ایک ہے''- یہ کنکشن تجربات سے ثابت شدہ نوعیت کی ایک حقیقت ہیں، لیکن فلسفیانہ  طریقه سے انہیں سمجھانے کی کوشش کرنا بہت مشکل ہے. کچھ سائنسدان اب بھی (کسی حد تک ڈھٹائی )سے اسے کوانٹم کا عجیب و غریب 'جادوکہتے ہیں حالانکہ حالیہ سالوں,82, 1980 میں تمام تجربات سے ثابت ہوا کہ آئنسٹائن غلط تھا اور فاصلے پر کارروائی حقیقی ہے- اس سےآئنسٹائن کی تھیوری کہ، "روشنی کی رفتار سے تیز کوئی انفارمیشن ٹرانسفر نہیں ہو سکتی" رد ہوتی ہے-
کوانٹم میکینکس کے عجیب پہلوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ،کوئی  چیز بیک وقت موجود اور غیر موجود ہو سکتی ہے-اگر ایک ذرہ کئی مختلف راستے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ، یا کئی مختلف حالتوں  میں موجودہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو 'کوانٹم میکانکس کے اصول بیک وقت تمام ممکنہ حالتوں میں تمام راستوں پر سفر کرنے اور وجود کی بیک وقت اجازت دیتا ہے. لیکن اگر ان کی عمل کو ریکارڈ کرنے کی کوشش کریں تو وہ فوری طور پر ایک رستہ منتخب کر لیتے ہیں- جب ایسا ایک زرہ کے ساتھ ہوتا ہے تو فوری طور پر دوسرے زرہ پر اثر بھی ہوتا ہے-
'ڈبل سلٹ' (Doubble Slit) اور   'سنگل سلٹ' (Single Slit) تجربات سے معلوم ہوا کہ جب ان ذرات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو ان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کا مشاہدہ ہو رہا ہے ، توپھر وہ اپنا رویہ تبدیل کر لیتے ہیں- یہ ان میں ذہانت کی موجودگی کا ثبوت ہے-ایک طاقت جس کے پاس علم ہے وہ تمام آزاد الیکٹران کو مربوط کرتی ہے-  اس طاقت  میں سب کچھ اس کے جاننے والا (Omniscient) جانتا ہے.
ایک اور گہرا  کوانٹم بھید  (deep quantum mystery) جس کے لئےماہرین طبیعیات کے پاس کوئی جواب نہیں ہے وہ  'سرنگ' (tunnel) کا عمل ہے- یہ ذرات کی عجیب صلاحیت  جس سے وہ کبھی کبھی سخت ترین رکاوٹوں میں گھس کر پارچلے جاتے ہیں -
اس کے علاوہ،اگررکاوٹ کی موٹائی میں اضافہ کر دیں تو سرنگ کی رفتاربھی بڑھ جاتی ہے- یہ بھی ناقابل بیان حقیقت ہے-
کاینات کا  کوڈ  (The Cosmic Code ) :
راکفیلر یونیورسٹی  کے فزسٹ (physist) ہائینز پیگل، بہت سے دوسرےتھیورسٹ کی طرح یقین رکھتا تھا کہ ' کوانٹم طبیعیات' ایک قسم کا کوڈ (Cosmic Code) ہے جو  کائنات میں ہر چیز کا آپس میں رابطہ رکھتا ہے حتی کہ بشمول زندگی کی طبعی بنیاد-
سوئٹزر لینڈ میں CERN نے (Large Hadron Collider) مشین جو27کلومیٹر طویل سرنگ میں واقع قریبا ً دس ارب ڈالر میں بنی، اس میں 2012کو تجربہ کیا گیا جس میں چند ذرات کو روشنی کی رفتار سے آپس میں ٹکرا کر   (BigBang)  کے ابتدائی لمحہ کا ماحول پیدا کرکہ یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا (Higgs Boson)  نامی ذرہ  جو کائینات کی تخلیق کا سبب سمجھا جاتا ہے ،حقیقت میں کوئی وجود رکھتا ہے یا نہیں ۔ تجربے سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہگز بوسن (Higgs Boson)   واقعی وجود رکھتا ہے مگر اسے ’’ڈھونڈنا ‘ ‘ بے حد مشکل کا م ہے کیونکہ یہ ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے کے لئے ’’ظاہر ‘ ‘ ہوتا ہے اور کا حجم اس قدر کم ہے کہ اسے ’’پیدا ‘ ‘ کرنے کے لئے بہت زیادہ توانائی درکار ہے جو صرف LHCمشین میں ہی ممکن بنائی جا سکی۔ اس ذرے کی دریافت یقینا ًاس صدی کا ایک بڑا واقعہ تھا جنہوں نے سائنس دانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیااور اس کی وجہ بہت دلچسپ بھی تھی اور خطرناک بھی !
ہگز بوسن زرہ (  Higgs Boson particle) کی دریافت کے بعد پتہ چلا کہ دیگر طبعی ذرات کی طرح ہگز بوسن  (میڈیا کی طرف سے غلط نام ' خدائی ذرہ'  God Particle مشہورہوا ) کی بھی ایک قسم کی مقناطیسی کشش ہوتی ہے ، مگر فرق یہ ہے کہ ہگز بوسن کی قوت اُن بنیادی ذرات کا حجم تشکیل دیتی ہے جن سے ہم سب تخلیق کئے گئے ہیں ، یہ کائنات پیدا کی گئی ہے ۔ اگر ہگز بوسن کی یہ قوت نہ ہو تی تو کوئی ایٹم ہوتے ، کوئی ذرات ہوتے اور نہ ہم ہوتے ۔
یہ بہت بنیادی ہے کیونکہ کوانٹم الجھاؤ (Quantum Entanglemen-QE)  ہگس بوسون  کے کام کرنے کا  طریقہ کار ہے. کوانٹم الجھاؤ کائنات بھر میں ہر  طرح کے اہم واقعات کو سمجھنے کے لیے مرکزی نقطہ ہے کہ کاینات میں لمبے فاصلوں کے باوجود مختلف واقعات سیکنڈوں میں میکرو اور مائیکرو سطح پر ہم وقت ترتیبب میں وقوع پزیر ہوتے ہیں-
وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ﴿٤٧﴾
اور آسمان کو ہم نے اپنی طاقت سے بنایا ہے اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں (51:47قرآن)
دوسری پراسرار بات اس کائنات کا پھیلاؤ ہے ، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کے پھیلاؤ کی رفتار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ وہ پراسرا ر قوت دافعہ ہے جسےDark Energyکہا جاتا ہے ۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ تاریک توانائی کیا بلا ہے ، سائنس دان اسے خلاء کی قوت کہتے ہیں ، سائنس دانوں نے جب اس قوت کا خلاء سے اندازہ لگانے کی کوشش کی تو نتیجے میں جو عدد سامنے آیا وہ ایک کے بعد120صفروں پر مشتمل تھا ، یہ عدد اتنا بڑا تھا کہ خلاءباز چکرا کر رہ گئے ، یوں سمجھیے کہ یہ علم فلکیات کا اب تک کا سب سے بڑا عدد تھا ، کائنات کے تمام ایٹموں سے ایک ہزار کھرب ہا کھرب ہا کھرب گنا زیادہ !بے شک یہ عجیب و غریب بات تھی مگر زیادہ پراسرا ربات یہ تھی کہ اگر تاریک توانائی حقیقت میں اتنی ہی قوت رکھتی تو یہ
کائنات اپنا وجود برقرار نہ رکھ پاتی اور ہم بھی کہیں نہ ہوتے ۔ سائنس دان یہ معمہ نہیں سمجھ پائے ہیں اور یوں ہگز بوسن کی ویلیو کے بعد اسے طبیعات کا دوسرا خطرناک ترین عدد کہا جارہا ہے !
رابطہ  (The Connection )
جب کائنات اور طبیعیات کے قوانین  پیدا ہوے یا تو کیا اس نے ان  کے اندر تمام ذرات اور طاقتوں کے ساتھ ایک 'کنکشن' چھوڑا؟  ایسا لگتا ہے کہ سائنس میں موضوعات اور 'ڈیزائن'  موجود ہیں جوفطرت کو دہرانے لگتے ہیں.
سائنسدان اور متکلمین بہت عرصہ کاینات میں 'ذرات اور طاقتوں' اور' فطرت اور اخلاقیات' کے ڈیلیوازم پر حیرت زدہ رہے- مثلآ مادہ- مخالف مادہ، مثبت -منفی ، مذکر-مونث، اچھائی-برائی، وغیرہ-
سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ ﴿٣٦﴾
پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود اِن کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں سے یا اُن اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں(قران 36:36(
"اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں، شاید کہ تم اس سے سبق لو"(قران 51:49(
جب پچھلی صدی کے اکھڑ میں ایٹمی تھیوری کا غلبہ ہوا تو نیل بوہر کا ماڈل جس میں ذرات ایٹمی مرکز کے گرد گھومتے تھے اس کا  ہمارے سورج کے پلانٹری سسٹم سے تقابل کیا گیا- اسی تھیم کو گلیکسی ، ستاروں ، سیاروں اور گیسوں پر لاگو کیا- ایسا لگتا ہے کہ  بنیادی ڈھانچہ سب سے چھوٹی چیز سے سب سے بڑی پر لاگو کر دیا گیا-
قُلْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ قُلِ اللَّـهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ (10:34قرآن(
اِن سے پُوچھو، تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہو اور پھر اس کا اعادہ بھی کرے؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی، پھر تم یہ کس اُلٹی راہ پر چلائے جا رہے ہو؟ (10:34قرآن( ایٹم ساخت میں بہت پیچیدہ ہے، مرکز کے گرد گھومنے والے ذرات سخت اور یقینی شکل نہیں رکھتے بلکہ وہ بیک وقت زرات اور لہروں کی شکل میں موجود رہتے ہیں- ایٹم کا مرکز بھی بہت پیچیدہ ہے، نیوٹران اور پروٹون  جن کو سخت چیز کھا جاتا ہے در اصل کوارک (Quark) (کوارک، پر بہت کم الیکٹرک چارج ہوتا ہے، ان کا مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا مگر تجربات سے ان کی موجودگی کا علم ہوتا ہے )اور دیگر مبہم کلاؤڈ نما (hazy, clouds) چھوٹےایٹمی  ذرات سے بنے ہوتے ہیں-
مذہب میں یہ عقیدہ ہے کہ خدا سے رابطہ کے لیئے انسان شعوری طور پر حالت دعا میں جاتا ہے-   دعا سے خدا سے روحانی رابطہ قائم ہوتا ہے اور وہ ہماری  دعا اور خیالات کو سنتا ہے- ہم کو یقین ہوتا ہے کہ وہ ہماری خواہشات سے اگاہ ہے- دعا انسان کی طرف سے خدا کی عظمت کا اقراراور عبادت ہے:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (40:60قرآن(
تمہارا رب کہتا ہے "مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے" (40:60قرآن(
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ( 50:16قرآن)
اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں۔ اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں ( 50:16قرآن  (
"..اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے" (8:24 قرآن(
کیا طبعیی دنیا میں ایسا  رابطہ  ممکن ہے؟
کوانٹم الجھاؤ (Quantum Entanglement) کا تعلق ایٹم سے نچلے درجہ پر ہے جو مائیکروسکوپ کے درجہ سے بھی بہت نیچےہے- کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس درجہ پر  ایک کائیناتی رابطہ (connection) ہے جو زمان و مکان (Time and Space) سے ماورا ہے جو تمام  ذرات کو کائینات میں ایک دوسرے سے اس طریقه سے رابطہ میں رکھتا ہے  جس کو ابھی مزید سمجھنے کی ضرورت ہے-
قوانٹم  (Quantum) یا پلانک (Planck ) لیول سے نیچے زمان و مکان کی تعریف دھندلا جاتی ہے- اگر تمام ذرات پلانک (Planck ) لیول سے نیچے رابطہ میں ہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ ہم سب کا آپس میں ایک کائیناتی تعلق ہے اور شاید یہی وسیلہ ہے جس سے دعا کا راستہ گزرتا ہے؟  یہ سب محض قیاس آرائیاں ہیں، مگر اگر خدا نے تمام فزکس کے قوانین اور  کائینات کو اس طرح تخلیق کیا کہ وہ ان سے کبھی بھی روحانی اور مادی طور پر لا تعلق نہیں رہتا اور بیک وقت ہر طرف موجودرہتا ہے-  یہ تصدیق کرتا ہے یہودی، کرسچین اور مسلمانوں کی جو  ہمیشہ سے اس کی موجودگی اور اس سے آسان رابطہ کے متعلق کہتے آئے ہیں- اس کا مطلب ہے کہ اس کو سب خیالات ، واقعات اور  کائینات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کا علم ہے- کوئی کتنا دور بھی چلا جا ئے وہ اس کے قریب ہے-
ایک شعورواحد ، ایک عالمگیر حکمت، کائنات میں ہر جگہ نفوز پزیر ہے. سائنس کی دریافتیں جو زیرجوہری مادہ کی 'کوانٹم'  نوعیت کی تلاش کرتی ہیں ہمیں ایک چونکا دینے والے احساس کے دہانے پر لے آیئ  ہیں کہ :" تمام وجود اس کی حکمت کا  اظہار ہے". لیبارٹریوں میں ہم نے سب سے پہلے جسمانی طور پر اسے  توانائی کے طور پر بیان کیا اور اس کے بعد اسکو  مادہ کی صورت میں اکٹھا کر دیا- ہر ذرہ، ہر وجود، ایٹم سے انسان تک ایک سطح کی معلومات اور حکمت ظاہر کرتا ہے-
سائنسدان قوانٹم  فزکس کے ذریعے انسان یا اشیاء کی کاینات میں ایک جگہ سے بہت دور  ٹیلی ٹرانسپورٹیشن (like star wars movies) کا  سوچ رہے ہیں- اگر انسان ایسا کرنے  کا سوچ سکتا ہےاور شاید کبھی ایسا کر سکے تو  کیا  خالق کاینات کے لیئے  اپنے کسی بندے کو ایک جگہ سے کسی دور دراز مقام تک )جسمانی یا روحانی  طور پر ) لے جا نا مشکل ہے ؟  علامہ اقبال نے خوب کہا کہ :
سبق ملا ہے یہ، معراجِ مصطفی سے مجھے   ~  کہ عالَم بشریت کی زَد میں ہے گردوں
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence-AI) :
انسان مصنوعی ذہانت   کو  انسانی ذہانت  کے متبادل  یا  مددگار  کے طور پر ڈیولپ کرنے میں مصروف ہے ،  کمپیوٹرز  نے یہ کام کسی حد تک  ممکن  کردیا ہے - ڈرائیور کے بغیر کار، آٹو پائلٹ، روبوٹ وغیرہ چند مثالیں ہیں -معروف محقق پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ کے خیال میں مکمل مصنوعی ذہانت کی ترقی انسانی نسل کا خاتمہ کر دے گی۔'ایک دفعہ انسانوں نے اسے بنا لیا تو اس کی ارتقا کا عمل خود ہی آگے بڑھتا رہے گا اور انسان اپنے سست حیاتیاتی ارتقاء کی وجہ سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔'-کمپیوٹر کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بل گیٹس اور سِلیکون وَیلی کے سٹار ایلون مَسک نے، جواسپیس ایکس اور ٹیسلا موٹرز کے بانی ہیں، خبردار کرتے ہوئے کہا ;  کہ ’مصنوعی ذہانت‘ کی صورت میں انسان نے اپنی بقا کے لیے سب سے بڑے خطرے کو جنم دیا ہے۔  کمپیوٹر جو خالص انسانی تخلیق ہے ، اس کو سائنسدان  اہمیت دیتے ہیں مگر حقیقی عظیم ترین ذہانت کے وجود کے منکر ہیں – ان کے خیال میں کاینات صرف قدرتی قوانین کی وجہ سے وجود میں آئی اور خود بخود  کام کر رہی ہے ؟
إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ﴿٢٢﴾
"یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے("قرآن؛ 8:22)
More Details at:


انڈکس 

God, Criticism (4) خدا پر تنقید




الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ﴿٢﴾
جس نے موت و حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے لحاظ سے سب سے زیادہ اچھا کون ہے؟ وہ بڑا زبردست (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔ (67:2 قرآن )


باب  - 4
تنقید
تقدیر اور عمل کی آزادی Free Will )  Predestination and )
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہرچیز کوخدانے اندازے ،مقدار اورحساب کے ساتھ پیدکیا ہے توپھر ہمارے افعال واعمال بھی اس کی مخلوق ہیں ،لہٰذاہم کسی طرح کاکوئی اختیار نہیں رکھتے، تو پھر جزا اور سزا کیوں ؟  تقدیر کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے ایک انسان کے اعمال پہلے سے طے  (Pre-determined)  کر رکھے ہیں جن کے مطابق وہ کسی کو جنت اور کسی کو جہنم میں ڈال دے گا۔  تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ سے ہر بات کا علم ہے۔ اس کے علم سے ہم نیک یا برے اعمال کرنے پر مجبور نہیں ہو جاتے۔ اگرچہ ہمارے افعال واعمال مشیت وتقدیر الہٰی کے مطابق ہیں اوراس کی قدرت اور ارادہ کے احاطہ سے ہرگز خارج نہیں ہیں لیکن اس نے یہ بات مقدر کردی ہے کہ اپنے  اچھے برے اعمال میں ہم مختار ہیں اوراسی بناپر وہ ہمارے بارے میں ذمّہ داری وجوابدہی کاقائل ہے ۔اگرہم اپنے افعا ل میں بالکل بے اختیار ہوتے توتکلیف شرعی اور ذمّہ دارانہ جوابدہی کاکوئی مفہوم ہی باقی نہ رہتا،ہمارا اپنے اعمال کے سلسلہ میں کوئی اختیار نہ رکھنا تقدیر الہٰی کے خلاف ہے ۔  اس کو ایک مثال سے اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ تجربہ کار اساتذہ کسی طالب علم کو دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ فیل ہو گا یا پاس۔ ان کے اس اندازے سے طالب علم کبھی مجبور نہیں ہو جاتا کہ وہ محنت نہ کرے۔ یہ تو ایک عام انسان کے اندازے کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم یقینی اور حتمی ہے لیکن وہ کسی شخص کو اچھے یا برے عمل پر مجبور نہیں کرتا۔ حضرت علی (رضی الله ) سے منسوب ہے کہ تقدیر کے سوال کے جواب میں آپ نے سوالی کو ایک پا ؤں اٹھانے کا کہا، پھر فرمایا دوسرا پاؤں اٹھاؤ، اس نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں میں گر جا ؤں گا- فرمایا تجھے آزادی ہے ایک حد تک، لا محدود نہیں-

اسلام کے بنیادی نظریات کی روشنی میں مسلم علماء نے  فری ول (free will)  پر ایک متوازن نظریہ قائم کیا  ہے. مسلم اسپین کے  عظیم عالم اور فلاسفر ابن رشد کے مطابق "انسانی اعمال کا ایک حصہ اس کے اپنے ارادہ کی آزادی پر منحصر ہے اور ایک حد تک ان عوامل پر جو اس کے بس سے ماورا ، با ہر ہیں. انسان اپنے عمل میں آزاد ہے  مگر اس  آزادی پر خارجی عوامل جن پر انسان کا کنٹرول نہیں ، اثر انداز ہوتے ہیں- ان خارجی عوامل کا مرکز قدرت کے قوانین ہیں ، صرف خدا کو ان کی ترتیب کا علم ہے –
قضا و قدر یا تقدیر کا مسئلہ ہمیشہ بحث و نظر کا موضوع رہا ہے۔ فلاسفہ و متکلمین نے اس میں بڑی بڑی موشگافیاں کی ہیں چنانچہ اس مسئلہ کی بنیاد پر جبریہ اور قدریہ کے دو مستقل اعتقادی مکاتب فکر منصہ شہود پر آگئے۔ اہل جبر کا عقیدہ تھا کہ انسان تقدیر کے ہاتھوں مجبور محض ہے۔ وہ کسی بھی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا اور قدریہ کا مسلک یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال میں خود مختار ہے اور اس کا تقدیر سے کوئی سروکار نہیں ان دونوں فرقوں کا موقف انتہا پسندانہ ہے۔ ایک  درمیانی راستہ  یہ ہے کہ انسان نہ تو مجبور محض ہے اور نہ مختار کل ہی بلکہ وہ جبر و اختیار کے درمیانی مرحلہ میں ہے۔
  شر (برائی)  کا مسئلہ     (Problem of Evil)
مغربی فلسفہ میں خدا کے وجود کے خلاف دنیا میں برائی ( Evil)کے وجود کو دلیل کے طور پیش کیا جاتا ہے-  اس کی بنیاد یہ ہے کہ ایک مہربان ،رحیم فطرت خدا کی موجودگی میں دنیا میں بڑی تعداد میں برائیوں کی موجودگی کو عدم مصالحت آمیز  توجیح کہا جاتا ہے . جان ہکس (John Hick) اس  نظریہ کے حامی لوگوں  کے نقطہ نظر سے مسئلہ کو بیان کرتا ہے: "اگر مکمل طور پر خدا  محبت کرتا ہے تو خدا ہر برائی کو ختم کرنے کی خواہش  لازمی طور پر رکھتا ہوگا.اگر  خدا ہر چیز پر قادر ہے تو خدا کا  ہر برائی کو ختم کرنے کے قابل ہونا ضروری ہے. لیکن برائی موجود ہے لہٰذا خدا  ایک ہی وقت میں قادر مطلق اور  محبت کرنے والا یعنی دونوں   خاصیتوں رکھنے والا نہیں ہو سکتا."
اس طرح یہودی،  عیسائی اورمسلمانوں  کا  خدا جو قادر مطلق اور  سب سے محبت کرنے والا ہے ، دونوں خصوصیات کا  حامل ہے، یہ ایک مشکل مسئلہ ہے. ڈیوڈ ہیوم (1711-1776 C.E David Hume ( برٹش فلاسفر اور تاریخ دان جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ انسانی علم بنیادی طور پر حواس کے تجربہ سے ہی حاصل ہو سکتا ہے اس نظریہ کا پرچار کر تا ہے . وہ دلیل دیتا ہے کہ دنیا میں برائیوں  کا غلبہ جو اچھائیوں پر بھاری ہے کسی خدا کے وجود کو مشکوک بنا دیتا ہے-
اس قسم کی بحث کا مدلل جواب  "فری ول ڈیفنس"  (Free-Will Defense) کہلاتا ہے جس کی بنیاد اس بات  پر ہے کہ خدا کے لیے انسان جیسی عقلمند اور آزاد مخلوق کی تخلیق کے لیے اس کو کسی حد تک آزادی تفویض کرنا ضروری ہے  اور یہ آزادی لازمی طور پر انسان کی انسان سے برائی کا نتیجہ بنے گی.
یہ تجویز کریا گیا ہے کہ اس معاملہ  میں کوئی اختلاف نہیں کہ خدا اخلاقی طور پر آزاد مخلوق پیدا کرے اور یہ بھی ہو کہ اس کے تمام عمل اچھے ہی ہوں.  یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ ایسی صورت میں کیا تمام افراد اتنے ہی آزاد ہیں جتنے کہ دوسرے انسان؟ اگر ہمارے تمام عمل پہلے سے مقدر کر دئیے جائیں تو محسوس ہو  گا کہ ہم آزاد نہیں ہیں بلکہ آزادی صرف ایک وہم (illusion) ، خام خیال ہو گی- اگرچہ خدا اس قسم کی انسانی مخلوق پیدا کر سکتا تھا مگر وہ صرف کٹھ پتلی ہوتے نہ کہ ایک متحرک انسان  جس کا خدا نے تصور کیا-
"فری ول ڈیفنس"  (Free-Will Defense):
برائی  (Evil)کے  معاملہ میں بظاہر  ایک تضادکوحل کرنے کی ضرورت ہے –  خدا  مخالف لوگوں کے خیال میں  ایک ایسے خدا کی موجودگی میں جو تمام علم والا ، طاقت والا , قادر مطلق ،مکمل خدا ہے  برائی کا وجود خدا کی طاقت سے متضاد معلوم ہوتا ہے ( فری ول free will ) اراده آزاد  کے دفا ع FWD) )   [Free Will Defence]   میں  ایک نظریہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا تقابل ایک ایسی دنیا  سے کیا جایئے جس میں تمام کام اچھے ہوں کسی برائی کا وجود پزیر ہونا ناممکن ہو-  یہ واضح رہے کہ یہاں اچھائی کا مطلب "اخلاقی اچھائی" ہے یعنی وہ اچھائی (Good) جس کا تعلق افراد کی اپنی مرضی سے جان بوجھ کر  کیئے گئے اقدام سے ہو – یہ قدرتی اچھائی (‘natural good’ or ‘natural evil’) یا قدرتی برائی  (natural, disasters, diseases, disabilities.. etc) سے بلکل علیحدہ ہیں جو انسانی کنٹرول سے ماورا  ہوتے ہیں-  FWD اراده آزاد  کے دفا عی  تھیورسٹ ( Theorists Free Will Defence)   کے مطابق کسی انسان کو اخلاقی اچھائی کا عمل کرنے کے  لیئے مناسب  حد تک آزاد ہونا چاہیئے  یعنی وہ اس حیثیت میں ہو کہ اپنی مرضی سے اخلاقی اچھائی یا اخلاقی برائی کے عمل کا انتخاب کر سکے – ان حالات میں موجودہ دنیا  (دنیا #1)  میں انسانوں کو یہ آزادی میسر ہے مگر  کسی حد تک اخلاقی برائی ناگزیر ہے – موجودہ دنیا  (دنیا #1)  کسی دوسری دنیا #2 سے ترجیح رکھتی ہے جہاں اراده آزاد  (  Free will)  کی سہولت موجود نہ ہو مگر تمام ا عمال اخلاقی طور پر مکمل  اچھے ہو ں –

تنقید :
اراده آزاد  کے دفا ع ( FWD - Free Will Defence)   کا نقاد توجہ دلاتا ہے کہ اگر خدا عظیم ترین طاقتور ہستی ہے تو وہ اپنی اس حیثیت اور طاقت سے ایک اور دنیا #3  تخلیق کر سکتا ہے  جس میں انسانوں کو اراده آزاد (Free Will)   بھی میسر ہو اور ان کے  تمام عمل بھی اچھے ہوں – یعنی ان کے اعمال کے اچھے ہونے کا فیصلہ پہلے ہی سے ہو چکا ہو (predetermined)، مگر ان کو  اخلاقی اچھائی اور برائی میں سے کسی کے چناؤ کا اختیار ہو – یعنی عامل  (ایجنٹ) کو  اختیار ہو گا کہ وہ کسی بھی عمل کو منتخب کرے مگر جو بھی کا م کرے اس کا نتیجہ صرف اچھا ہی ہو – یہ سب کچھ خدا کے اختیار میں ہے  کیونکہ وہ  قادر مطلق ہے اور صرف منطقی ناممکنات کی طرف سے محدود ہے-
اراده آزاد  ( FWD - Free Will Defence)   کے دفا ع کے  نظریه پرداز (theorist)  کے لئے چیلنج ہے کہ واضح  کریں کہ   آزادی (Free Will) اور اتفاقی جبریت  (Causal Determinism) آپس میں متضاد ہیں-  یہ ممکن نہیں کہ انسان ارادہ میں آزاد  ایجنٹ بھی ہو اور ان کے اعمال پہلے ہی سے مقدر کر دئیے گئے ہوں- سوال یہ ہے کہ کیا خدا ایسی دنیا بنا ئے گا ؟
ایلوئن پلانٹینگا  (Alvin Plantinga)  اس سوال کا جواب دینے کی  کوشش کرتا ہے –
پہلے تو وہ یہ واضح کرتا ہے کہ لبنز (Leibniz) کو مغالطہ ہوا کہ خدا  ایک بہترین ، کامل (pefect)  دنیا بنانا  چاہتا تھا ،  جو اس نے بنائی- پلانٹینگا  (Alvin Plantinga)  استدلال دیتا ہے کہ ایک کامل (pefect)  دنیا کا وجود ممکن نہیں کیونکہ کسی بھی اچھی دنیا میں اچھائی ، بھلائی کی کچھ مزید گنجائش موجود رہتی ہے اس کو مزید بہتر کرنے کے لئیے- لہٰذا کسی  بہترین ، کامل (pefect)  دنیا  کا وجود میں آنے کا احتما ل نہیں-
Thus it seems implausible to think of the best possible world as existing. This then is one instance when God cannot create any world.
دوسری طرف وہ دلیل دیتا ہے کہ خدا ایسی دنیا نہیں بنا سکتا جس میں انسان کافی حد تک آزاد بھی ہو مگر اس کے اعمال پہلے ہی سے مقرر کر دیئے گئے ہوں – اس کے ثبوت کی بنیاد ایک فرضی  تجربہ  سے ہے- ہم اس دنیا میں ایک شخص کا تصور کرتے ہیں جو کچھ مخصوس حالات میں فرضی طور پر غیر اخلاقی برائی کا مرتکب ہوتا ہے- خدا کے لئے موجودہ دنیا کی طرح ایک اور  ایسی دنیا تخلیق کرنا ناممکن نہیں جس میں کوئی شخص برائی کا مرتکب  نہ ہو- ایسے حالات میں اس کو فکری ارادہ کی آزادی سے محروم کر دیا گیا- خدا کو اس بات کا اہتمام  کرنا ہے کہ وہ برائی نہ کرے اور اس کی آزادی کی نفی نہ ہو-  خدا کے پاس دوسرا حل یہ ہے کہ وہ کسی قسم کی دنیا تخلیق نہ کرے – وہ بحث کرتا ہے کہ  ایسی دنیا کی تخلیق جس میں انسان کو آزادی ارادہ ہو کم از کم ایک چانس ہے کہ انسان غلطی کر بیٹھے یا پھر وہ کوئی دنیا بھی تخلیق نہ کرے ، اس رجحان کو  وہ (Transworld Depravity) اخلاقی زوال 'قرار دیتا ہے-  لہٰذا خدا کے لئیے ایک ایسی دنیا تخلیق کرنا جس میں  انسان کو اخلاقی آزادی میسر ہو, اچھائی اور برائی (Good and Evil) کا وجود ناگزیر ہے-

خیر و شر – اسلامی نظریہ :
دنیا میں موجود ناخوشگوایاں ، ظلم ، مشکلات ، رنج و مصیبتیں ، محرو میتیں اور موت وفوت جیسے حوادث دوحصوں میں تقسیم ہوتے ہیں: (1)  وه حوادث جو انسانوں کے ناپسند طرز عمل کی وجه سے پیدا ہوتے ہیں ، جیسے: ظلم ، قتل، اور غارت وغیره (2)  وه ناخوشگواریاں جوفطری حوادث کی وجه سے پیدا  ہوتی هیں، جیسے: سیلاب، زلزلے، خشک سالی اور بیماریاں وغیره- حوادث کی پہلی قسم کے بارے میں  جیسے کہ اراده آزاد  ( FWD - Free Will Defence  )  میں بیان کیا ،قابل ذکر بات  ہے کہ  چونکہ  خدا نے انسان کو ایک بااختیار مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا  ہے تاکہ  وه بهلائی اور برائی،بدصورتی و خوبصورتی اور خیر وشر میں سے ایک کا انتخاب کرے، اس قسم کے نظام کا لازمہ یہہ  ہے کہ  بعض اوقات انسانوں کے توسط سے اختیارات کا ناجائز فائده اٹھانے کےنتیجہ میں معاشره میں شر، برائیاں ، ظلم اور بے انصافیاں وجود میں آتی ہیں  اور واضح  ہے  کہ یہ ناخوشگوار واقعات خدا کی طرف سے نهیں بلکہ  خدا کی مخلوقات کی طرف سے حاصل ہوئے ہیں- چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: " لوگوں کےہاتهوں کی کمائی کی بناپر فساد خشکی اور تری ہر  جگہ  غالب آگیا  ہے  ( سوره روم ، ٤١)
لیکن قیامت کے دن  لوگوں کے اعمال اور حقوق کے دقیق حساب وکتاب کے پیش نظر ان مظالم اور بے انصافیوں کی مکمل تلافی ہوگی-
دوسری قسم کے بارے میں ، جوقدرتی حوادث کےنتیجہ میں رونماہو تے ہیں ان کا  تعلق اس اسلامی عقیدہ سے واضح ہوتا ہے کہ   یہ  دنیا انسانوں کے لئے امتحان کی جگہ ہے اور تمام واقعات ، من  جملہ  آسائشیں ،  سختیاں ، مصیبتیں ، نعمتوں کی فراوانیاں ، اور محرومیاں وغیره برے اور بهلے کے در میان تشخیص دینے اور امتحان کا  وسیلہ ہیں- قرآن مجید نے  کئی مواقع پر مذکوره مطلب کی طرف اشاره کیا ہے  اور ارشاد بار تعالی ہے: " اورہم یقیناً  تمہیں  تھوڑے خوف تهوڑی بهوک اور اموال ، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر ! ان صبر کرنے والوں کو بشارت دیدیں ( سوره بقره ، 155 ). دنیا میں تکلا لیف اور آزمائشوں کا صلہ یا  اسی دنیا میں ملتا ہے یا  دنیا و آخرت میں- اسلام کا آخرت میں انصاف کا  عقیدہ  دنیا وی تکالیف کے ازالہ کی جگہ ہے –
اسلام میں خدا کا وجود، ایمان بالغیب کی بنیاد:

قرون وسطیٰ کے مسلمان فلاسفہ نے خدا کے وجود کے ثبوت پر براہ راست بحث کو اہمیت نہیں دی شائد  اس لئے کہ اسلام کے عقائد میں  خدا  واحد کا  وجود  بنیادی شرط ہے قرآن میں بہت واضح طور پر دلائل کے ساتھ اس کو ثابت کیا – یونانی فلسفہ سے متاثر فلاسفہ کا مقصد خدا کے وجود کو ارسطو کی منطق سے بھی ثابت کرنا تھا  – لہٰذا مسلمان فلاسفہ خدا کے وجود کے خلاف بحث کی بجا ئے خدا کی صفات کو فلاسفی کے ذریعہ جواز پیش کرنے کے لیئے استعما ل کرتے رہے -مسلم فلسفیوں نے تاہم ایک مختلف لیکن کسی حد تک  مماثل مسئلے  یعنی خدا کی وحدانیت کے معاملات سے بھی  نمٹنے کی کوشش کی-

انڈکس 

تبلیغی بیان, ، عالم ، گستاخی اور پٹائی

جماعت ہو چکی تھی۔ ایک گروہ ایک طرف بیٹھا تھا اور بختیار ان کے درمیان کھڑا تقریر کر رہا تھا۔ اس تقریر کو خاص اصطلاح میں ''بیان‘‘ کہا جاتا ہے۔ نماز سے فارغ ہو کر میں بھی بیٹھ کر بیان سننے لگا۔ بختیار محیر العقول، ناقابلِ یقین واقعات پے در پے سنا رہا تھا۔ ایک عجیب و غریب واقعہ ختم ہوتا تو دوسرا شروع کر دیتا۔ بیان ختم ہؤا۔ اُسی نے دعا کرائی۔ مسجد سے نکلتے وقت اس سے پوچھا: ''بختیار بھائی! آپ کا بیان بہت اچھا تھا۔ جو واقعات آپ سنا رہے تھے، وہ آپ نے کہاں سے پڑھے؟ ان کی کوئی سند؟‘‘ بختیار مسکرایا اور کوئی جواب نہ دیا!

جنید جمشید کے حوالے سے جو واقعہ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر پیش آیا، اس میں مار کھانے والا‘ مارنے والے سب مسلمان تھے اور پاکستانی تھے۔ اس پر میڈیا میں بالخصوص سوشل میڈیا پر انواع و اقسام کے تبصرے ہو رہے ہیں۔ مگر اس واقعہ کے مضمرات میں ایک پہلو ایسا ہے جس پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی اور وہی اس سارے واقعہ کا اصل سبب نہ سہی، بہت بڑا سبب ضرور ہے!

امرِواقعہ یہ ہے کہ جنید جمشید عالم نہیں۔ انہوں نے دین کا باقاعدہ علم کہیں سے نہیں سیکھا۔ وہ گلوکار تھے۔ کایا کلپ ہوئی تو تبلیغی اجتماعات میں ''بیان‘‘ کرنے لگ گئے۔ مشہور تو پہلے سے ہی تھے، الیکٹرانک میڈیا کو نہ چھوڑ سکے، فقط زاویہ بدل لیا۔ پہلے صرف نعتیں پڑھیں۔ پھر درس اور تقریریں کرنے لگ گئے۔ کئی سال سے ہر رمضان میں کسی نہ کسی ٹی وی چینل سے ان کا باقاعدہ معاہدہ ہوتا ہے اور وہ پورا مہینہ وعظ اور تقریریں کرتے ہیں!

تبلیغی جماعت سے پہلے برصغیر میں (اور باقی عالمِ اسلام میں اب بھی) مذہبی وعظ و تذکیر صرف وہ علماء کرتے تھے جو باقاعدہ دین کا علم سیکھ کر آتے تھے۔ انہوں نے عربی زبان، ادب، فقہ، منطق، صرف، نحو، فلسفہ، علمِ کلام، پھر حدیث اور تفسیر پڑھنے میں آٹھ دس سال لگائے ہوتے تھے۔ اکثریت کی تقریریں ذمہ دارانہ بیانات پر مشتمل ہوتی تھیں۔ آپ علماء کو دیکھ لیجیے۔ مولانا تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن، مولانا طارق جمیل، مولانا راغب نعیمی، مولانا ساجد نقوی، ان حضرات نے اپنی ساری جوانیاں قال اللہ اور قال الرسول سیکھنے میں گزاریں۔ اس کے بعد بھی مطالعہ اور کسبِ علم جاری رہتا ہے۔ روایت یہ تھی کہ عوام الناس کے لیے وعظ و تبلیغ کا کام علماء کرام کرتے تھے جنہیں قرآن و حدیث پر، فقہ و تفسیر پر، مسائل پر اور تاریخِ اسلام پر عبور ہوتا تھا!

تبلیغی جماعت کا المیہ یہ ہے کہ وہاں ہر شخص نے ''بیان‘‘ کی صورت میں تقریر کرنا ہوتی ہے اور یہ لازمی ہے۔ فرض کیجئے، سہ روزہ کے لیے دس افراد کی تشکیل ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر شخص کو اپنی باری پر تقریر کرنا ہو گی۔ اگر علمِ دین سے اس کا دور سے بھی تعلق نہیں، دکاندار ہے، یا فون آپریٹر ہے یا مکمل نا خواندہ ہے، وعظ اس نے ہر حال میں کرنا ہے۔ اب جو وعظ وہ کرے گا اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے!

جنید جمشید نے جو کلمات ایک مقدس ہستی کے بارے میں کہے (بعد میں انہوں نے معافی بھی مانگی)گمان غالب یہ ہے کہ کوئی عالمِ دین ایسے الفاظ کبھی نہ کہتا۔ عربی کی مشہور کہاوت ہے۔۔۔۔ لِکلِّ فنِّ رجال، جس کا کام اُسی کو ساجھے۔ بڑے بڑے ثقہ علماء، فنِ تقریر سے نابلد ہوتے ہیں۔ ہر کوئی وعظ اور تقریر نہیں کر سکتا۔ سیّد انور شاہ کاشمیری علم کا سمندر تھے ‘ سید عطاء اللہ شاہ بخاری ان سے کم علم رکھتے تھے مگر خطابت کے بادشاہ تھے۔ علامہ اقبال ہر گز ایسے مقرر نہ تھے کہ مجمع پر چھا جاتے۔ لطیفہ یہ ہے کہ ہمارے سکہ بند علما ء نے آج تک ابوالاعلیٰ مودودی اور دوسرے کئی سکالرز کو تو ''باقاعدہ‘‘ عالم اس لیے تسلیم نہیں کیا کہ وہ کسی مدرسہ سے فارغ التحصیل نہ تھے۔ مگر جن لوگوں کو مدرسہ کی ہوا بھی نہیں لگی اور جن کی وجہ شہرت کوئی اور ہے، وہ الیکٹرانک میڈیا پر دین سکھانے میں لگے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک معروف سابق کرکٹ سٹار کا وعظ سنا جا سکتا ہے۔ ایک ایک فقرے میں تین تین بار ''دوستو بزرگو‘‘ کہتے ہیں۔ انتہائی غیر موثر! اپنے ایک ساتھی کرکٹ کھلاڑی پر برس رہے تھے کہ کہتے ہیں ملک ٹھیک کروں گا، بقول ان کے اپنا گھر تو ٹھیک نہیں کر سکتے! 

یہ حقیقت ہر شخص کو، خواہ وہ عالم ہے یا غیر عالم واعظ، اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اس ملک کا گنہگار سے گنہگار اور بے عمل سے بے عمل مسلمان بھی کسی مقدس ہستی کے بارے میں کوئی نازیبا جملہ برداشت نہیں کر سکتا۔ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم، انبیاء کرام، امہات المومنین، اہلِ بیت عظام اور صحابہ کرام کے بارے میں حد درجہ احتیاط سے اور ادب و احترام سے بات کی جانی چاہیے، یوں کہ معاذاللہ، گستاخی کا دور دور تک شائبہ بھی نہ ہو۔ یہ دلیل محض جو شیلی بات نہیں، حقیقت پر مبنی ہے کہ ہم اپنے ماں باپ‘ بہن بھائیوں ‘بیوی بچوں کے بارے میں گالی تو درکنار، منفی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ پھر مقدس ہستیوں کے متعلق ناشائستہ اور ذومعنی قسم کے کلمات کون برداشت کرے گا؟ شائستگی کا تقاضا یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کی مقدس ہستیوں کے بارے میں بھی کوئی غیر مناسب بات نہ کی جائے۔ اس کی طرف اشارہ کلام پاک میں بھی کیا گیا ہے!

رہا یہ عذرِ لنگ کہ وہ تو زبان کی لغزش (Slip of Tongue) تھی یا یہ کہ زبان سے الفاظ نکل گئے، تو سارے الفاظ زبان میں سے نکلتے ہیں‘ زبان کو قابو میں رکھیے۔

نفرت کا ایک محرک تجارت کے لیے مذہب اور مذہبی جذبات کا استحصال بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام الناس ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتے۔ ایسے ایسے اشتہارات الیکٹرانک میڈیا پر رات دن دکھائے جا رہے ہیں جن میں باریش مالک کی تصویر بار بار دکھائی جاتی ہے۔ آخر میں ''دل دل پاکستان‘‘ کا تڑکا بھی لگایا جاتا ہے۔ مذہبی اور حب الوطنی کے جذبات کا تجارت کے لیے یہ استعمال مناسب نہیں۔ ہم ایک جذباتی قوم ہیں۔ میں اگر مذہبی ہوں اور مجھے بار بار یہ بتایا جا رہا ہے کہ فلاں برانڈ، ایک مذہی شخصیت کی ملکیت ہے تو میں غیر شعوری طور پر متاثر ہوں گا اور قدم اُسی طرف اٹھیں گے۔ آقائے نامدار سے محبت اس قوم کے رگ و ریشہ میں سرایت کیے ہے۔ یہاں اس مقدس نام پر نہاری بیچی جا رہی ہے۔ بیکریاں چلائی جا رہی ہیں۔ عشقِ رسول میں ڈوبا ہؤا سچا اور سادہ مسلمان، آقاؐ کا نام دکان کے سائن بورڈ پر دیکھ کر کیسے آگے گزر سکتا ہے؟ بس یہی وہ جذبہ ہے جس کا تاجر حضرات استحصال کر رہے ہیں۔
''اسلامی شہد‘‘ کا بورڈ دیکھ کر لوگ رُک جاتے ہیں؛ حالانکہ آج تک دنیا میں کسی شہد کو غیر اسلامی نہیں کہا گیا! اس دنیا میں جتنے ماکولات اور مشروبات ہیںاور استعمال کی جتنی بھی اشیاء ہیں، قدرتی ہیں یا مصنوعی، سب پروردگارِ مطلق کی قدرت کا کرشمہ ہیں اور اس کی پیدا کردہ انسانی دماغ کا عطیّہ! پھر ہم کچھ کو اسلامی اور کچھ کو غیر اسلامی کیسے کہہ سکتے ہیں؟

 کیا صحرائے عرب میں پیدا ہونے والی کھجور اسلامی اور کیلی فورنیا کی کھجور غیر اسلامی کہلائے گی؟ نہیں! ہر گز نہیں! بیج سے درخت اُگانے والی اور درخت پر پھل لگانے والی ذات ایک ہی ہے اور یہ زمین کیا، پوری کائنات اُسی کی مٹھی میں ہے!!
اظہارالحق- دنیا 

مزید پڑھیں:
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Overall 2 Million visits/hits