Featured post

فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم

آج کے دور میں مسلمان کئی فرقوں میں بٹ چکے ہیں اگرچہ ان کی اکثریت اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات پر متفق ہے مگر فروعی اختلافا...

Pakistan’s Quagmire پاکستان کی دلدل - امن اور ترقی کا راستہ

Pakistan is in a state of turmoil, in order to get out of this quagmire some basic issues need to be settled. Ideologically the Pakistani society can be divided in to three main groups: <<Click to read in English as webDoc>>

پاکستان کی ترقی ، خوشحالی اور امن کے لییے کچھ بنیادی معاملات طے کرنا ضروری ھیں. اس وقت پاکستانی سوسائٹی ، معاشره فکری طورپرتین بڑے حصوں تقسیم ہو چکا ہے 
ایک طرف  اشرافیہ , لبرل طبقہ ہے جو مذہب کوہر شخص کا ذاتی معاملہ سمجھتا ہے،ان کے مطابق مذہب، اسلام کا  قانون، سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں . مذہیب عبادت گاہوں تک محدود ہو.کچھ معتدل لوگ اقلیت میں  ہیں. یہ  اشرافیہ لبرل طبقہ  اگر چہ تعداد میں قلیل ہے مگربہت طاقتور ہے .اشرافیہ کل آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر پورے یه پاکستان کی پچاس فیصد سے زیادہ دولت پر قابض ہیں. ٩٩ فیصد پاکستانی ٥٠٠ ڈالر اوسط سالانہ آمدنی  پرغربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں.   حکومت ،معشیت،جاگیریں، کاروبار، بیورو کریسی، فوج، سیاست دان، میڈیا سب  کچھ ان کے قبضہ  اور کنٹرول میں ہے. ان میں کچھ لوگ راے  عامہ ھموار کرنے کے لیے مذہب اسلام کا نام استمال کرتے ہیں. یہ صرف دکھا وہ ہے. طاقت اور پیسے کے زور پر یہ مخالف کوکچل دیتے ہیں 
یہاں اشرافیہ سے مراد ان کے ھمدرد ، فائدہ اٹھانے والے مدد گار اور دوسرے طبقات کے امیدوار بھی شامل ہیں 
کسی صورت میں یہ طاقت چھوڑنے کو تیار نہیں ، یہ مختلف بھیس بدل کر پاور میں رہتے ہیں
ان میں کچھ شدت پسند لوگ بھی ہیں جو مذھبی یا مذہب کی طرف مائل لوگوں کوچاہے وہ معتدل مزاج ہوں، ان کو  جاہل، دقیانوسی ، کم عقل، قابل  نفرت سمجھتے ہیں. ان کے خیال میں تمام مصیبتوں کی بنیاد مذہب اور مذھبی لوگ ہیں. ان کو لبرل فاشسٹ بھی کہا جا سکتا ہے
مذہب سے ان کی نفرت کی دو بڑی ممکنہ وجوھات ہو سکتی ھیں. اول: مغربی ترقی اور ثقافت سے مرعوب. دوئم: مذہبی لوگوں کی قدامت پسندی، جدید دنیا وی ترقی،سائنس ٹیکنالوجی سے بیزاری، صرف عبادات پر ترجیح، مکالمہ کی بجاے اپنی مخصوص فکراور نکتہ نظرکو مذہب کی آڑ میں دوسروں پر زبردستی نافذ کرنے کی کوشس اور اس میں شدت پسندی، دہشت گردی کے استعمال کو جائز سمجھنا. اگر چہ مذہبی لوگوں کی اکثریت معتدل مزاج اور امن پسند ھے

 دوسری طرف خاموش اکثریت ہے

 "اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔" - قرآن ٢:١٤٣ 

اکثریت اسلام کو مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے تمام جگہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں . اور اس کو قیام پاکستان کا مقصد سمجھتے >>> پڑھتے جایے>>

مزید پڑھیں:
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits