Enjoy Old age صحت مند بڑھاپا ؟

صحت مند بڑھاپا کیسے؟


Image result for enjoy old age
Old age is simply a 'state of mind' - and enjoying life to the full can keep you young People who perceive themselves as old are more likely to quit activities which could help keep them young Key examples include socialising and regular exercise
Age is nothing but a number, according to new research that suggests you're only as old as you let yourself feel. 

A study has shown that people who perceive themselves to be old and frail are more likely to give up activities which could help to keep them young – such as socialising and taking regular exercise.
By contrast, people with a positive attitude are more likely to continue taking part in these activities which helps them to stay fit and mentally alert.


People who perceive themselves to be old and frail are more likely to give up activities which could help to keep them young
People who perceive themselves to be old and frail are more likely to give up activities which could help to keep them young

People with a positive attitude are more likely to continue taking part in activities which help them to stay fit and mentally alert
People with a positive attitude are more likely to continue taking part in activities which help them to stay fit and mentally alert

Krystal Warmoth, from the University of Exeter, believes that older people who categorise themselves as elderly and decrepit are more likely to behave as though they are.
She interviewed 29 older people in the southwest of England and asked them about their experiences of aging and fragility.
She discovered that an elderly person’s attitude could lead to a loss of interest in participating in social and physical activities, poor health, and reduced quality of life. 
One respondent summed up the findings: ‘If people think that they are old and frail, they will act like they're old and frail,’ she said.
Forget popping pills - the best way to boost your brainpower is a crossword or sudoku
After Andrew Marr blames his stroke on overdoing it on the rowing machine at 53, how risky is high-intensity...
Ms Warmoth also discovered there can be a cycle of decline whereby perceiving oneself as frail can lead to a person disengaging from activities that could reduce the likelihood of frailty - such as physical exercise.
This, in turn, makes them more likely to become frail and to have a poor quality of life.
Ms Warmoth said: ‘This study gives an insight into the role of psychological factors in older adults’ health and activity levels.’
However, plenty of elderly people are clearly following Ms Warmoth’s advice.

A 2010 report from the Health Protection Agency found a rise in the number of people in their 50s, 60s, 70s and 80s xxxxx
The study also found that there had been an increase in all of the five main STDs in older age groups, with the age group 45 to 64 witnessing the biggest rise in syphilis, herpes, chlamydia and genital warts between 2000 and 2009.
Meanwhile, researchers at North Carolina State University found that elderly people who played video games had 'higher levels of well-being'.
They asked 140 people aged 63 and above how long they play games for, then put them through tests to asses their emotional and social well-being.
Sixty-one per cent of participants said they played video games 'at least occasionally', while 35 per cent said they played at least once per week.
The results of the study indicated that those who played games occasionally reported higher levels of well-being, whereas those that did not play reported 'negative emotions and a tendency toward higher levels of depression'.
Read more: http://www.dailymail.co.uk/health/article-2309944/Old-age-simply-state-mind--enjoying-life-young.html#ixzz4ZUz88bzQ
Follow us: @MailOnline on Twitter | DailyMail on Facebook
بڑھاپا ایک قدرتی عمل ہے، لیکن بعض افراد بہت جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ یہ افراد اپنے آپ کووقت سے پہلے بوڑھا سمجھنے لگتے ہیںاور کام کاج بند کر دیتے ہیں۔ ایسا بڑھاپا مختلف بیماریاں اپنے ساتھ لاتا ہے۔ مثبت سوچ، مفید مصروفیات، پرہیز، متوازن غذا اور حضورﷺ کی سنت کے مطابق زندگی گزارنے سے اس قیمتی وقت کو بہت زیادہ نفع بخش بنایا جاسکتا ہے۔ بڑھاپے سے ڈرنا نہیں چاہیے، اس لیے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔ صحت مندی رہے تو تعلیم و تربیت اور فلاح و بہبود کے کام کرتے رہنا چاہیے۔ اگر آپ صحت سے بھرپور بڑھاپے کے خواہشمند ہیں تودرج ذیل طریقوں پر عمل کریں۔ ٭ہمیشہ مثبت سوچ رکھیں۔ چاق و چوبند رہیںاوردوسروں سے توقعات نہ رکھیں۔ ٭دین و دنیا کے لیے اچھے کام کرتے رہیں۔ ٭جواچھا کام آپ جوانی میں کرنا چاہتے تھے، لیکن مصروفیت کی وجہ سے نہ کرسکے، اسے اب کرنا شروع کردیں۔ پیدل چلنے کی عادت ڈالیں۔ تیز قدموں سے چلیں۔ تیز قدموں سے چلنا مفید صحت ہے۔ ٭جسم کو پاک صاف رکھیں۔ روزانہ غسل کرنے کی عادت ڈالیں۔ ٭خشک میووں میں اخروٹ بادام، انجیر، چلغوزے اور کاجو کھائیں۔ پھلوں میں انگور، آلو بخارا، آڑو اور سیب کھائیں۔ ٭مائیکرویو میں گرم کیے ہوئے کھانوں سے پرہیز کریں۔ ٭روزانہ ایک چمچہ زیتون کا تیل ضرور پئیں۔ ٭گھیکوار (ایلوویرا) کا رس پئیں۔یہ بڑھاپے کو روکتا ہے۔ ٭شہد، جو کا دلیا اور اسبغول ناشتے میں کھائیں۔ ٭8گھنٹے ضرور سوئیں۔ عشا کی نماز کے بعد جلد سونے اور صبح جلد اٹھنے کی عادت ڈالیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعد نبی اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آدھ گھنٹہ قیلولہ ضرور کریں۔ ٭پڑوسیوں کا احوال دریافت کرتے رہیں۔ ٭نماز مسجد میں پڑھیں ، تاکہ محلے کے لوگوں سے ملاقات ہوتی رہے۔ ٭دوستوں اور رشتہ داروں سے ملتے رہیں۔ غم اور خوشی کے مواقع پر شرکت ضرور کریں۔ ٭اللہ تعالیٰ کے ناموں کا ورد کریں۔ روزانہ درود شریف، کلمہ طیبہ اورآیت الکرسی پڑھنے کی عادت ڈالیں، تاکہ گھر میںخیروبرکت اور عمر میں اضافہ ہو۔ ٭لڑائی جھگڑوں سے دور رہیں۔ جن سے آپ ناراض ہوں ان کے لیے بھی دعائے خیر کریں۔اگر ممکن ہو تو ان کو خود منالیں۔ اگر معافی بھی مانگنی پڑے تو مانگ لیں۔ معافی مانگنے سے عزت کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ ٭صبح و شام چہل قدمی اور ہلکی ورزش کریں۔ ٭روزانہ8 سے10 گلاس پانی پئیں۔ چائے اور کافی کم پئیں۔ سبز چائے زیادہ پئیں۔ پھلوں کارس پینے کے بجائے انہیں دانتوں سے کاٹ کر کھائیں۔ سرخ گوشت کم کھائیں۔ ٭فرصت کے اوقات میں بچوں کے ساتھ کھیلیں انہیں اپنی زندگی کے سبق آموز واقعات سنائیں۔ ٭بیماروں کی عیادت کریں۔ اگر کوئی فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کریں۔ کوئی دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کریں۔ ٭بڑھاپا انسان کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے، جسے آپ نے ساری عمر تعلیم اور تجربات کے حصول کے بعد پایا ہے۔ یہ قیمتی سرمایہ بہت سوچ سمجھ کرصرف کرنا چاہیے۔ ٭بڑھاپا اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ کاموں کی تکمیل میں گزارنا چاہیے، جن میں اہم ترین کام اپنی ذات کی اصلاح اور مخلوق خدا کی بے لوث خدمت ہے۔
سعدیہ قمر
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

Masjid Quba مسجد قبا مدینه منورہ

 مسجد قبا, تاریخ اسلام کی پہلی مسجد ہے، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود تعمیر کی یہ  مدینہ منورہ سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بستی قباء میں واقع ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق 8 ربیع الاول 13 نبوی بروز دو شنبہ بمطابق 23 ستمبر 622ء کومکہ سے ہجرت کر کہ یثرب کی اس بیرونی بستی میں پہنچے اور 14 روز یہاں قیام کیا اور اسی دوران اس مسجد کی بنیاد رکھی جسے قرآن مجید نے بعد میں اللہ تعالیٰ نے ایسی مسجد قرار دیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔
The Quba Mosque (مسجد قباء‎‎, Masjid Qubā’), in the outlying environs of Medina in Saudi Arabia, is one of the oldest mosques in the world. According to traditions, its first stones were positioned by Prophet Muhammad (pbuh) as soon as he arrived on his emigration from the city of Mecca to Medina and the mosque was completed by his companions.Prophet Muhammad (pbuh) spent 14 days in this mosque during the Hijra praying qasr (a short prayer) while waiting for Ali to arrive in Medina after the latter stayed behind in Mecca to carry out a couple of tasks entrusted to him by the Prophet (pbhu)
According to Islamic tradition, performing wudu in one's home then offering two rakaʿāt of nafl prayers in the Quba Mosque is equal to performing one Umrah.
Prophet Muhammad (pbuh) used to go there, riding or on foot, every Saturday and offer a two rakaʿāt prayer. He advised others to do the same, saying, "Whoever makes ablutions at home and then goes and prays in the Mosque of Quba, he will have a reward like that of an 'Umrah." This hadith is reported by Ahmad ibn Hanbal, Al-Nasa'i, Ibn Majah and Hakim al-Nishaburi. Keep reading >>>>
No automatic alt text available.

 لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ۔ (التوبہ9:108 ) 
 ”ایک ایسی مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقوی پر رکھی گئی ہو ، اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ (اے نبی!) آپ اس میں (نماز کے لئے) کھڑے ہوں۔ وہاں ایسے لوگ ہیں جو (اپنے جسم و روح کو ) پاک کرنا پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“
Image result for ‫مسجد قبا‬‎
مسجد قبا کی شان
قبا مدینہ منورہ کے جنوب میں بالائی علاقہ ہے۔ حضور اکرم ضلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو عمروبن عوف قبیلہ قبا میں آباد تھا۔ آپ نے تین دن اس جگہ پر قیام فرماکر اہلِ قبا کی درخواست پر مسجد قبا کی بنیاد ڈالی آپ نے اہلِ قبا کو حکم دیا کہ پتھر جمع کرو اور اپنی چھڑی سے قبلہ کے تعین کےلئے ایک خط کھینچا۔ اور اپنے دستِ مبارک سے ایک پتھر بنیاد میں رکھا۔ پھر صحابہ کرام کو حکم دیا کہ ہر شخص ایک ایک پتھر ترتیب سے رکھے۔ آپ اس مسجد کی تعمیر کےلئے خود پتھر ڈھوتے تھے۔ قرآن کی یہ آیت ترجمہ ”البتہ مسجد وہ ہے جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی“ اسی مسجد قبا کی شان میں نازل ہوئی۔ اور بنی عمروبن عوف کے لئے یہ ایک ترجمہ” اس مسجد میں بہت سے مرد ہیں جو طہارت کو محبوب رکھتے ہیں اور اللہ طاہرین کو محبوب رکھتے ہیں“ نازل ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ”آپ نے فرمایا وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے وہ اول دن سے مسجد قبا ہے“ صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ضلی اللہ علیہ وسلم قبا کی زیارت کےلئے کبھی سوار اور کبھی پیادہ پا تشریف لے جاتے تھے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں ایک دوسری روایت میں ہے ”آنحضرت ضلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ سوار اور پیدل مسجد قبا تشریف لایا کرتے تھے“۔
Image may contain: one or more people and outdoor
خلفائے راشدین کے زمانے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد قبا کی زیارت کو آئے کسی شخص کو وہاں نہ پایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ”قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں نے پیغمبر خدا کو اس حال میں دیکھا ہے کہ اپنے اصحاب کے ہمراہ اس مسجد کی تعمیر کےلئے پتھر ڈھوتے تھے۔ خدا کی قسم اگر یہ مسجد اطراف عالم کے کسی دور دراز گوشے میں بھی ہوتی تو ہم اپنے اونٹوں کے کلیجے اس کی طلب میں دفن کر دیتے۔“ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھجور کی سوکھی شاخوں سے جھاڑو بناکر مسجد کو صاف کیا۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا”مسجد قبا میں دو رکعت ادا کرنا میرے نزدیک اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ دو مرتبہ بیت المقدس کی زیارت کروں“ اور مزید فرمایا”اگر تم یہ جان لو کہ اس مسجد میں کیا بھید پوشیدہ ہیں تو اس کی زیارت کےلئے ہر امکانی کوشش کیا کرو“۔ 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا ”جس نے چار مسجدوں، مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور مسجد قبا میں نماز پڑھی اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ ترمذی شریف میں حدیث مبارکہ ہے کہ”مسجد قبا میں نماز پڑھنا عمرے کے برابر ہے“ قدیم دور سے یہ مسجد مسلمانوں کی توجہ کا مرکز رہی۔ شاہ فہد نے 8 صفر 1405ھ کو اس کی جدید تعمیرو توسیع کا بنیادی پتھر نصب کیا۔ اور ایک سال کے بعد اس کی تعمیر مکمل ہونے پر مسجد نمازیوں کےلئے کھول دی گئی۔ (ذوالقرنین کاش  [http://www.oururdu.com/forums/index.php?threads/2822 ]

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page

Wasila وسیلہ کیا ہے ؟ حق ، مخالف دلائل

Image result for ‫وسیلہ جائز ہے‬‎


وسیلہ محبوبان خدا کو بارگاہ الٰہی میں وسیلہ بنا کر دعا مانگنا جائز بلکہ مستحب ہے یا نہیں اس پر مختلف آرا ہیں۔ ایک گروپ اس کو جائز سمجھتا ہے تو دوسرا گروپ اس کو شرک کی حد تک لے جاتا ہے- وسیلہ کو توسل و استغاثہ و تشفع وغیرہ مختلف الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔


یھاں دونوں آرا کے لنک مہیا کر دینے ہیں تاکہ قاری خود کسی نتیجہ پر پہنچ سکے -

لغوی معنی:

الوسیلۃ کے معنی کسی چیز کی طرف رغبت کے ساتھ پہنچنے کے ہیں چنانچہ معنی رغبت کو متضمن ہونے کی وجہ سے یہ وصیلۃ سے اخص ہے ۔در حقیقت توسل الی اللہ علم و عبادت اور مکارم شریعت کی بجا آوری سے طریق الہی ٰ کی محافظت کرنے کا نام ہے اور یہی معنی تقرب الی اللہ کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت کرنے والے کو واسل کہا جاتا ہے

حکم ربانی

اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے اے وہ لوگوں جو ایمان لے آئے ہو اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو(اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو) تاکہ تم کامیاب ہو جا‍ؤ۔المائدہ:35)
سورۂ بنی اسرآئیل:57 میں اللہ کا ارشاد ہے :((یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیا دہ نزدیک ہو جائے۔ وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں،(بات بھی یہی ہے)کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے)۔

اصطلاحی معنی

حافظ صلاح الدین یوسف احسن البیان میں رقم طراز ہیں: وسیلہ کے معنی،ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کےحصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو۔امام شوکانی فرماتے ہیں-:((إن الوسیلة التي هي القربة تصدق علی التقوی وعلی غیرها من خصال الخیر،التي یتقرب العباد بها إلی ربهم))

وسیلہ ایک خاص مقام

وسیلہ ایک خاص درجہ ہے جس سے اونچا کوئی اور درجہ نہیں اور مختلف(احادیث) اور اجماع امت سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ وہ درجہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے مخصوص ہے۔ پھر ہر شخص کو طلب گار وسیلہ ہونے کا حکم کس طرح دیا گیا (ناممکن الحصول چیز کو مانگنے کا حکم لاحاصل ہے) اس حکم سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مرتبۂ وسیلہ پر پہنچنا دوسروں کے لئے بھی ممکن ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے مرتبۂ وسیلہ تو براہ راست (بغیر کسی دوسرے کے ذریعہ کے) مخصوص ہے لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے دوسرے اولیاء امت اور کاملین کے لئے بھی وہاں تک رسائی ممکن ہے (احادیث میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : کی وساطت سے مرتبۂ وسیلہ تک کسی دوسرے کی رسائی کی نفی نہیں کی گئی صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : کی ذاتی خصوصیت کو ظاہر کیا گیا ہے) فائدہ : رغبت اور محبت ‘ وسیلہ کے مفہوم میں داخل ہے جوہری نے صحاح میں یہی صراحت کی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مراتب کی قرب کی ترقی بغیر محبت کے ناممکن ہے اسی کی تائید حضرت مجدد قدس سرہٗ کے اس قول سے ہوتی ہے کہ (نظری) سیر مرتبۂ لا تعین (اطلاق) میں جو قرب کا سب سے بڑا درجہ ہے اس سے اونچا کوئی درجہ نہیں اور اسی مرتبہ کو بطور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ارشاد میں ظاہر فرمایا ہے کہ میرے لئے اللہ کی معیت میں (یعنی اللہ کے قرب کے مرتبہ میں) ایک وقت ایسا بھی (آتا) ہے جس میں میرے ساتھ کسی مقرب فرشتے اور نبی مرسل کی بھی گنجائش نہیں ہوتی (یعنی تنہا میں ہی اس وقت اس چوٹی کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہوں) یہ سیر صرف محبت سے وابستہ ہے (یعنی اس سیر کا مدار صرف محبت پر ہے ترقی محبت ہی سے یہ مرتبۂ سیر حاصل ہوتا ہے) اور محبت اتباع سنت کا ثمرہ ہے اللہ نے فرمایا ہے قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمْ اللّٰہپس سنت کی پوری پیروی اور ظاہری و باطنی اتباع سے ہی حضور کی وساطت سے یہ مرتبۂ محبت حسب مشیت الٰہیہ حاصل ہوجاتا ہے۔


وسیلہ کی حمایت کا نقطہ نظراور دلائل :
حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نابینا صحابی کو اپنے وسیلہ سے دعا مانگنے کا خود حکم دیا تھا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ارشاد فرمایا:

اچھے طریقہ سے وضو کرے اور دو رکعتیں پڑھنے کے بعد یہ دعا کرے اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک بمحمد نبی الرحمۃ یا محمد انی قدتوجھت بک الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضیٰ اللھم فشفعہ فیّ۔
ترجمہ:اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور رحمت والے نبی محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں یارسول اللہ ! میں آپ کے وسیلے سے اپنی اس حاجت میں اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں تاکہ اسے پورا کردیا جائے ۔اے اللہ!آپ کی شفاعت کو میرے حق میں قبول فرما!۔

( ھذا حدیث صحیح ، سنن ابن ماجہ صفحہ۱۰۰،مسند احمد جلد۴صفحہ ۱۳۸، المستدرک جلد۱صفحہ۳۱۳،۵۱۹،۵۲۶،عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی صفحہ ۲۰۲،دلائل النبوۃ للبیہقی جلد۶صفحہ۱۶۷،السنن الکبریٰ للنسائی جلد ۶ صفحہ ۱۶۹،الاذکار للنووی صفحہ۱۶۷،عمل الیوم واللیلۃ للنسائی صفحہ ۴۸۱ ، الترغیب والترہیب جلد۱صفحہ۴۷۳ ،صحیح ابن خزیمہ جلد۲صفحہ۲۲۵، ترمذی جلد۲صفحہ ۱۹۸،البدایہ والنھایہ جلد۱صفحہ۱۳۰۱مطبوعہ دار ابن حزم، الخصائص الکبریٰ جلد۲صفحہ ۲۰۲،الجامع الصغیر جلد۱صفحہ۴۹صحیح کہا)





وسیلہ مخالف  نقطہ نظر :

قرآن کریم اور صحیح احادیث سے تین طرح کا وسیلہ ثابت ہے۔ ایک اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا، دوسرے اپنے نیک اعمال کا اور تیسرے کسی زندہ نیک شخص کی دعا کا۔ لہٰذا وسیلے کی صرف یہی قسمیں جائز اور مشروع ہیں۔ باقی جتنی بھی اقسام ہیں، وہ غیر مشروع اور ناجائز و حرام ہیں۔ قرآن کریم سے کون سا وسیلہ ثابت ہے؟ اس بارے میں تو قارئین ’’وسیلہ اور قرآن کریم‘‘ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ صحیح احادیث اور فہم سلف کی روشنی میں بھی جائز وسیلے کے بارے میں یہی کچھ ثابت ہے، نیز وسیلے کی ممنوع اقسام کے بارے میں صریح ممانعت و نفی بھی موجود ہے۔>>>>
Image result for ‫وسیلہ جائز نہیں  ہے‬‎



مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
Books, Articles, Blogs, Magazines,  Videos, Social Media
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہٹس اپپ"یا SMS کریں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media, WhatsApp/SMS Name,Cell#at +923004443470
     
  
Facebook: fb.me/AftabKhan.page