Religion, Science, Intellect مذہب ، سائنس اورعقل

کچھ کرم فرما بضد ہیں کہ سائنس اور مذہب کو الگ الگ رکھناچاہئیے ۔ اب اس مطالبے میں شدّت آتی جا رہی ہے ۔ دوسری طرف آپ خدا کا کلام کھولیے تو اس میں کاسمالوجی سمیت مختلف سائنسز پر بہت بڑی statements نظر آتی ہیں ۔ مثلاً یہ کہ ابتدا میں سارے آسمان اور ساری زمینیں جڑی ہوئی تھیں ، پھر انہیں پھاڑ کر جدا کر دیا گیا۔ فلکیات میں اس سے بڑا دعویٰ کبھی نہیں کیا گیا۔ ''اور وہ غور کرتے ہیں ، آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق پر (اور غور کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں )اے ہمارے رب تو نے یہ سب باطل پیدا نہیں کیا ۔۔۔ آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق پر غور کون کرے گا؟ جسے فلکیات اور ارضی سائنسز کا کم از کم علم حاصل ہو۔جس نے فلکیات او رزمین کی تاریخ میں بڑے واقعات کا مطالعہ کیا ہو ۔ بار بار خدا کہتاہے کہ زمین و آسمان میں میری نشانیاں دیکھو، ان پر غور کرو۔ وہ یہ کہتاہے کہ ''زمانے میں ایک طویل وقت ایسا گزرا، جب انسان کو ئی قابلِ ذکر شے نہ تھا‘‘الدھر ، 1۔ اگر آپ ابتدائی انسان کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو کیسے کریں گے ؟ کیاباقیات (Fossils)کا علم پڑھے بغیرہی ؟ چلیے آپ کو نی اینڈرتھل اور دوسری انسانی انواع کا انکار ہی کرنا ہے تو کیا آپ فاسلز کو پڑھے بغیر انکار کریں گے اور اگر کریں گے تو اسے مانے گا کون ؟ 
مزید یہ کہ اگر نی اینڈرتھل کا انکار کرنا ہے تو ڈائنا سار کو کیونکر تسلیم کیاجائے ؟ اسے بھی تو ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔
آج کی ہماری زندگی مکمل طور پر آکسیجن کی محتاج ہے ۔ صرف تین سیکنڈ دماغ کو آکسیجن نہ ملے تو فالج، کوما یا موت ہو سکتی ہے ۔ خدا نے ہمیں عقل دی ہے اور وہ ہم سے زمین و آسمان کی تخلیق میں غور کا مطالبہ کرتا ہے ۔ ایسے میں کیا ہمیں سوا دو ارب سال پہلے رونما ہونے والے آکسیجن کے انقلاب کا مشاہدہ نہیں کرنا ہوگا، آج زندگی کی تمام تر اقسام جس کی مرہونِ منت ہیں ؟ اس زمین پر انسان نے ہمیشہ نہیں رہنا۔ ظاہرہے کہ ایک دن اس کے وسائل ختم ہو جائیں گے ۔ آپ قرآن مجید دیکھیے تو اس اختتام کی پوری منظر کشی کی گئی ہے ۔ سورج اور چاند مل جائیں گے '' جمع الشمس و القمر‘‘۔ سورج گہنا جائے گا۔ ستارے جھڑ جائیں گے ۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے ۔ زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر نکال پھینکے گی ۔ ''اور جب سمندر سلگ اٹھیں گے ‘‘التکویر 6۔ ایسے واقعات رونما ہوں گے ، اور ایسی توانائی میسر ہوگی ، جو پانی کو آکسیجن اور ہائیڈروجن میں تبدیل کر کے جلا دے گی ۔پھر خدا یہ کہتاہے کہ اس نے لوہا (زمین پر )نازل کیا۔ آج تو ہم بخوبی یہ جانتے ہیں کہ لوہا زمین میں بننے والی چیز نہیں ۔ لوہے اور سونے سمیت ہر چیز سورجوں میں بنی ، دھماکوں سے خلائوں میں بکھری اور زمین کی پیدائش کے دور میں اس پر نازل ہوئی ۔ اس وقت ، جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں ، اس زمانے کے اعتبار سے ایک بڑا دعویٰ ہے کہ لوہا، جو زیرِ زمین دفن ہے ، آسمان سے نازل ہوا تھا۔ یہ سب وہ statementsہیں ، جو کہ ارضی سائنسز (Earth Sciences)کے زمرے میں آتی ہیں ۔
سادہ ترین الفاظ میں مذہب کی تعریف (Definition)کیا ہے ۔ بنیادی طور پر مذہب وہ طرزِ زندگی ہے ، خدا جس کا اپنے بندوں سے مطالبہ کرتاہے ۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ میں اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزاروں ۔ سائنس کیا ہے ؟ سائنس وہ طریقِ کار ہے ، جس میں یہ کائنات وجود میں آئی اور جس طریقِ کار کے مطابق یہ چل رہی ہے ۔ خدا نے مجھے عقل دی اور بار بار کہا کہ کائنات میں اس کی نشانیوں کا میں مشاہدہ کروں ۔ اب کچھ لوگ ہیں ، جو یہ نعرے بلند کر رہے ہیں کہ مذہب اور سائنس کو الگ رکھنا چاہئیے ۔ چلیے ان کی مان لیتے ہیں لیکن یہ جو خدا نے کہا کہ پہلے زمین و آسمان جڑے ہوئے تھے اور انہیں پھاڑ کر جدا کر دیا گیا ، کیا اس آیت کوفلکیات کی سائنس کے بغیر ہی پڑھ لیا جائے ؟ '' کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں ؟‘‘ آپ اس آیت کو ارضی سائنسز کے بغیر کیسے پڑھیں گے ؟ آپ زمین کو ماپ کر دیکھ لیں ، پانی بڑھتا چلا جارہا ہے ، خشکی گھٹتی جا رہی ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہت سی قابلِ رہائش جگہیں پانی میں غرق ہو تی جا رہی ہیں ۔ 
اگر خدا مجھ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ میں اس پر ایمان لائوں ، اس کے بتائے ہوئے طریقِ کار کے مطابق زندگی گزاروں تو کیا یہ میرا حق نہیں ہے کہ میں ایک نظر دیکھ لوں کہ خدائی کا دعویٰ کرنے والا اصل خدا ہے بھی یا نہیں ؟ اگر مجھے آنکھیں او ردماغ بند کرکے خدا پر ایمان لانا ہے تو پھر ہندواور دوسرے مذاہب والوں کا کیا قصور ہے ؟ وہ بھی تو آنکھیں بند کر کے نسل در نسل اسی طرح اپنے بتوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ فرض کیجیے کہ اگر آج مغرب ہمیں کہے کہ لوہا تو آسمان سے نازل نہیں ہوتا بلکہ یہ زمین کے اندر بنتا ہے تو ہم نے ستاروں کے اندر وقوع پذیر ہونے والی طبیعات پڑھی ہوگی تو ہم انہیں غلط ثابت کریں گے ۔ ہم انہیں یہ بتا سکیں گے کہ ہائیڈروجن، ہیلیم اور اکّا دکّا عناصر کے علاوہ تمام 92عناصر ستاروں میں بنے ہیں ۔ لوہاان میں شامل ہے ۔ زمین کوئی ایسی شے نہیں ، جس کے اندر عناصر پیدا ہوں بلکہ وہ صرف اور صرف ستاروں میں پیدا ہونے والے عناصر کا ایک مجموعہ ہے ۔
انتہا پسندی کی ایک قسم تو یہ ہے کہ ہم ہر نئی دریافت کو زبردستی یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ قرآن میں اس کا ذکر پہلے سے گزر چکا ہے ، خواہ دراصل اس کا ذکر وہاں موجود نہ ہو۔ انتہاپسندی کی دوسری قسم یہ ہے کہ فلکیات ، انسانی ابتدا اور دوسری سائنسز پر ، خدا جو statement دیتاہے ، ہم ا نہیں اس وجہ سے پڑھنا چھوڑ دیں کہ ان میں سائنسز involveہیں ۔ خدا اگر ہم سے اندھا ، بہرا اور گونگا اعتقاد چاہتا تھاتو اس نے ہمیں عقل دی ہی کیوں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عقل دینے والا خدا اس کے استعمال کا مخالف نہیں بلکہ انسانوں میں سے کچھ اس کے متحمل نہیں
بلال الرشید 

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall near 3 Million visits/hits

قرآن پڑھنا، ہاتھ لگانا اور وضو Touching, reciting Quran and Wadu



قرآن پاک اللہ کا کلام ہے جو رسول اللہ نبی اخرزما ن محمد ﷺ پر ۲۳ سال میں نازل ہوا. اس کو فوری طور پر لکھا گیا اور زبانی یاد کرلیا گیا- قرآن تمام بنی نوع انسانی کے لیے تا قیامت ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے- کلام اللہ کی حثیت سے اس الہامی کتاب کی عزت و تکریم اور احترام سب پر اور خاص طور پر مسلمانوں  پر لازم ہے- اسی احترام میں مسلمان قرآن کو پاکیزہ حالت میں ہی تلاوت کرتے یا ہاتھ لگاتے ہیں- اکثر مسلمان وضو [جیسے کہ نماز (صلاہ) کے لیے لازم ہے]  کا اہتمام کرتے ہیں- یہ ایک احسن عمل ہے- مگر دیکھنا ہے کہ اس کی مذہبی حثیت کیا ہے؟ کیوں کہ عام مسلمانوں کے لیے اکثر با وضو ہونا ممکن نہیں تو اس پابندی کی وجہ سے وہ قرآن کی تلاوت یا قرآن سے دور ہو جاتے ہیں.



The Holy Qur’an has directed the believers to be in the state of `wudu' when they pray. They are not asked to be in that condition for any other purpose, although it encourages its readers to remember Allah as much as is possible. We cannot, therefore, escape from concluding that the condition of `wudu' as a binding necessity is applicable only for prayers and not for other forms of remembering Allah, including recitation of the Holy Qur’an. Keep reading >>>> 

احترام میں قرآن پاک کو گھر، دفتر، دوکان میں کسی بلند جگہ پر غلاف میں لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے برکت کے لیے- کیا قرآن صرف اس مقصد کے لیے اللہ نے نازل کیا تھا؟
اپنی لا علمی یا کوتاہی کی وجہ سے مسلمان قرآن سے دور ہو گیے- آج ہم صرف نام کے مسلمان ہیں عمل سے دور قرآن سے دور- کیا ایسا ممکن ہے کہ قرآن کو سمجھیں ، غور کریں تدبر کریں جیسا کہ خود قرآن بار بارکہتا ہے- اس کے لیے قرآن سے قریبی تعلق پیدا کرنا ہو گا-

[Understanding، pondering Quran قرآن پر تدبُّر تفکر]


کچھ علماء سمجھتے ہیں کہ قرآن پڑھنا اور اس کو ہاتھ لگانا ہر حال میں جائز ہے خواہ  آدمی بے وضو ہو، یا جنابت کی حالت میں ہو، یا عورت حیض کی حالت میں ہو۔ ابن حزم نے المحلّٰی (جلد اول، صفحہ 77 تس 84) میں اس مسئلے پر مفصل بحث کی ہے جس میں انہوں نے اس مسلک کی صحت کے دلائل دیے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ فقہاء نے قرآن پڑھنے اور اس کو ہاتھ لگانے کے لیے جو شرائط بیان کی ہیں ان میں سے کوئی بھی قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے۔

 سورہ الواقعہ 56 کی آیت 79 کو سیاق و ثبات  out of context پیش کر کہ مطلب نکالا جاتا ہے:
إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ﴿٧٧﴾ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ ﴿٧٨﴾ لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ﴿٧٩﴾ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٨٠﴾ أَفَبِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ ﴿٨١﴾ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ ﴿٨٢﴾

کہ یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے (77) ایک محفوظ کتاب میں ثبت(78) جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا (79) یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے (80) پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بے اعتنائی برتتے ہو (81) اور اِس نعمت میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا ہے کہ اِسے جھٹلاتے ہو؟ (56:82)
یہ تردید ہے کفار کے ان الزامات کی جو وہ قرآن پر لگایا کرتے تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کاہن قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ کلام آپ پر جن اور شیاطین اِلقا کرتے ہیں۔ اس کا جواب قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ شعراء میں ارشاد ہوا ہے وَمَا تَنَزَّ لَتْ بِہِ الشَّیٰطِیْنُ، وَمَا یَنْمبْغِیْ لَھُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ، اِنَّھُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ۔ ’’اِس کے لے کر شیاطین نہیں اترے ہیں، نہ یہ کلام ان کو سجتا ہے اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں۔ وہ تو اس کی سماعت تک سے دور کھے گئے ہیں‘‘(آیات۔210 تا 212)۔ اسی مضمون کو یہاں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’ اسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔،‘‘ یعنی شیاطین کا سے لانا، یا اس کے نزول کے وقت اس میں دخل انداز ہونا تو در کنار، جس وقت یہ لوح محفوظ سے نبی پر نازل کیا جاتا ہے اس وقت مُطَہرین، یعنی پاک فرشتوں کے سوا کوئی قریب پھٹک بھی نہیں سکتا۔ فرشتوں کے لیے مطہرین کا لفظ اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قسم کے ناپاک جذبات اور خواہشات سے پاک رکھا ہے۔ 
اس آیت کی یہی تفسیر انس بن مالک، ابن عباسؓ، سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، قتادہ، ابوالعالیہ، سُدی، ضحاک اور ابن زید نے بیان کی ہے، اور نظم کلام کے ساتھ بھی یہی مناسبت رکھتی ہے۔ کیونکہ سلسلہ کلام خود یہ بتا رہا ہے کہ توحید اور آخرت کے متعلق کفار مکہ کے غلط تصورات کی تردید کرنے کے بعد اب قرآن مجید کے بارے میں ان کے جھوٹے گمانوں کی تردید کی جا رہی ہے اور مواقع نجوم کی قسم کھا کر یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ایک بلند پایہ کتاب ہے، اللہ تعالیٰ کے محفوظ نوشتے میں ثبت ہے جس میں کسی مخلوق کی در اندازی کا کوئی امکان نہیں، اور نبی پر یہ ایسے طریقے سے نازل ہوتی ہے کہ پاکیزہ فرشتوں کے سوا کوئی اسے چھو تک نہیں سکتا۔ 
بعض مفسرین نے اس آیت میں لا کو نہی کے معنی میں لیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ’’کوئی ایسا شخص اسے نہ چھوئے جو پاک نہ ہو ‘‘، یا ‘’کسی ایسے شخص کو اسے نہ چھونا چاہیے جو نا پاک ہو‘‘۔ اور بعض دوسرے مفسرین اگر چہ لا کو نفی کے معنی میں لیتے ہیں اور آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’اس کتاب کو مطہرین کے سوا کوئی نہیں چھوتا‘‘، مگر ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ نفی اسی طرح نہی کے معنی میں ہے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد کہ المسلم اَخُو المصلم لا یظلمہٗ (مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا)۔ اس میں اگر چہ خبر دی گئی ہے کہ مسلمان مسلمان پر ظلم نہیں کرتا، لیکن در اصل اس سے یہ حکم نکلتا ہے کہ مسلمان مسلمان پر ظلم نہ کرے اسی طرح اس آیت میں اگرچہ فرمایا یہ گیا ہے کہ پاک لوگوں کے سوا قرآن کو کوئی نہیں چھوتا، مگر اس سے حکم یہ نکلتا ہے کہ جب تک کوئی شخص پاک نہ ہو، وہ اس کو نہ چھوئے۔ 
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تفسیر آیت کے سیاق و ساق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ سیاق و سباق سے الگ کر کے تو اس کے الفاظ سے یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے، مگر جس سلسلہ کلام میں یہ وارد ہوئی ہے  اس میں رکھ کر اسے دیکھا جائے تو یہ کہنے کا سرے سے کوئی موقع نظر نہیں آتا کہ ’’ اس کتاب کو پاک لوگوں کے سوا کوئی نہ چھوٹے ‘‘۔ کیونکہ یہاں تو کفار مخاطب ہیں اور ان کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ اللہ رب العالمین کی نازل کردہ کتاب ہے، اس کے بارے میں تمہارا یہ گمان قطعی غلط ہے کہ اسے شیاطین نبی پر القا کرتے ہیں۔ اس جگہ یہ شرعی حکم بیان کرنے کا آخرت کیا موقع ہو سکتا تھا کہ کوئی شخص طہارت کے بغیر اس کو ہاتھ نہ لگائے؟ زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر چہ آیت یہ حکم دینے کے لیے نازل نہیں ہوئی ہے۔ مگر فحوائے کلام اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کتاب کو صرف مطہرین ہی چھو سکتے ہیں، اسی طرح دنیا میں بھی کم از کم وہ لوگ جو اس کے کلام الٰہی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں، اسے نا پاکی کی حالت میں چھونے سے اجتناب کریں۔
اس مسئلے میں جو روایات ملتی ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
(1)امام مالکؒ نے مؤطا میں عبداللہ بن ابی بکر محمد بن عمرو بن حزم کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ و سلم نے جو تحریری احکام عمرو بن حزم کے ہاتھ یمن کے رؤسا کو لکھ کر بھیجے تھے ان میں ایک حکم یہ بھی تھا کہ لا یمسُّ القرآن الا طاہرٌ (کوئی شخص قرآن کو نہ چھوئے مگر طاہر ) یہی بات ابو داؤد نے مراسیل میں امام زہری سے نقل کی ہے کہ انہوں نے ابو بکر محمد بن عمروبن حزم کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی جو تحریر دیکھی تھی اس میں یہ حکم بھی تھا۔ 
(2) حضرت علیؓ کی روایت، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ  ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لم یکن یحجزہ عن القراٰن شئ لیس الجنا بۃ۔ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کوئی چیز قرآن کی تلاوت سے نہ روکتی تھی سوائے جنابت کے ‘‘۔ (ابو داؤد، نسائی، ترمذی)۔ 
(3) ابن عمرؓ کی روایت، جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا لا تقرأ الحائضالجنب شیئاً من القراٰن۔ ’’ حائضہ اور جنبی قرآن کا کوئی حصہ نہ پڑھے ‘‘۔ (ابوداؤد۔ ترمزی)
(4) بخاری کی روایت، جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیصر روم ہرقُل کو جو نامہ مبارک بھیجا تھا اس میں قرآن مجید کی یہ آیت بھی لکھی ہوئی تھی کہ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِتَعَا لَوْا اِلیٰ کِلِمَۃٍ سَوَآءٌ بَیْنَنَاوَبَیْنَکُمْ …………    
صحابہؓ و تابعین سے اس مسئلے میں جو مسالک منقول ہیں وہ یہ ہیں: 
حضرت سَلْمان فارسیؓ وضو کے بغیر قرآن پڑھنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے تھے، مگر ان کے نزدیک اس حالت میں قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہ تھا۔  یہی مسلک حضرت سعدؓ بن ابی وقاص اور حضرت عبد اللہؓ بن عمر کا بھی تھا۔  اور حضرت حسن بصری اور ابراہیم نخعی بھی وضو کے بغیر مصحف کو ہاتھ لگانا مکروہ سمجھتے تھے (احکام القرآن للجصاص)۔ عطاع اور طاؤس اور شعبی اور قاسم بن محمد سے بھی یہی بات منقول ہے (المغنی لا بن قدامہ)۔ البتہ قرآن کو ہاتھ لگا ئے بغیر اس میں دیکھ کر پڑھنا، یا اس کو یاد سے پڑھنا اس سب کے نزدیک بے وضو بھی جائز تھا۔ 
جنابت اور حیض و نفاس کی حالت میں قرآن پڑھنا حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت حسن بصری، حضرت ابراہیم نخعی اور امام زہری کے نزدیک مکروہ تھا۔ مگر ابن عباسؓ کے رائے یہ تھی اور اسی پر ان کا عمل بھی تھا کہ قرآن کا جو حصہ پڑھنا آدمی کا معمول ہو وہ اسے یاد سے پڑھ سکتا ہے۔ حضرت سعید بن المسیب اور سعید بن جبیر سے اس مسئلے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا، کیا قرآن اس کے حافظہ میں محفوظ نہیں ہے؟ پھر اس کے پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ (المغنی۔ اور المھلّٰی لا بن حزم)۔ 
فقہاء کے مسالک اس مسئلے میں حسب ذیل ہیں: 
مسلک حنفی کی تشریح امام علاء الدین الکاشا نی نے بدائع الصنائع میں یوں کی ہے : ‘‘ جس طرح بے وضو نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اسی طرح قرآن مجید کو ہاتھ لگانا بھی جائز نہیں۔ البتہ اگر وہ غلاف کے اندر ہو تو ہاتھ لگایا جا سکتا ہے۔ غلاف سے مراد بعض فقہاء کے نزدیک جلد ہے اور بعض کے نزدیک وہ خریطہ یا  لفافہ یا جزدان ہے جس کے اندر قرآن رکھا جاتا ہے اور اس میں سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔ اسی طرح تفسیر کی کتابوں کو بھی بے وضو ہاتھ نہ لگانا چاہیے، ’’کسی ایسی چیز کو جس میں قرآن کی کوئی آیت لکھی ہوئی ہو۔ البتہ فقہ کی کتابوں کو ہاتھ لگایا جا سکتا ہے اگرچہ مستحب یہ ہے کہ ان کو بھی نے وضو ہاتھ نہ لگایا جائے، کیونکہ ان میں بھی آیات قرآنی بطور استدلال درج ہوتی ہیں۔ بعض فقہائے حنفیہ اس بات کے قائل ہیں کہ مصحف کے صرف اس حصے کو بے وضو ہاتھ لگانا درست نہیں ہے جہاں قرآن کی عبارت لکھی ہوئی ہو، باقی رہے حواشی تو خواہ وہ سادہ ہوں یا ان میں بطور تشریح کچھ لکھا ہو ہو، ان کو ہاتھ لگانے میں مضائقہ نہیں۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ حواشی بھی مصحف ہی کا ایک حصہ ہیں اور ان کو ہاتھ لگانا مصحف ہی کو ہاتھ لگانا ہے۔ رہا قرآن پڑھنا، تو وہ وضو کے بغیر جائز ہے ‘‘ فتاویٰ عالمگیری میں بچوں کو اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ تعلیم کے لیے قرآن مجید بچوں کے ہاتھ میں دیا جا سکتا ہے خواہ وہ وضو سے ہوں یا بے وضو۔ 
مسلک شافعیؓ کو امام جودی نے المنہاج میں اس طرح بیان کیا ہے، ’’نماز اور طواف کی طرح مصحف کو ہاتھ لگانا اور اس کے کسی ورق کو چھونا بھی وضو کے بغیر حرام ہے۔ اسی طرح قرآن کی جلد کو چھونا بھی ممنوع ہے۔ اور اگر قرآن کسی خریطے، غلاف یا صندوق میں ہو، یا درس قرآن  کے لیے اس کا کوئی حصہ تختی پر لکھا ہوا ہو تو اس کو بھی ہاتھ لگانا جائز نہیں۔ البتہ قرآن کسی کے سامان میں رکھا ہو، یا تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہوا ہو، یا کسی سکہ میں اس کا کوئی حصہ درج ہو تو اسے ہاتھ لگانا حلال ہے۔  بچہ اگر بے وضو ہو تو وہ بھی قرآن کو ہاتھ لگا سکتا ہے۔ اور بے وضو آدمی اگر قرآن پڑھے تو لکڑی  یا کسی اور چیز سے وہ اسو کا ورق پلٹ سکتا ہے۔‘‘
مالکیہ کا مسلک جو الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں نقل کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جمہور فقہاء کے ساتھ وہ اس امر میں متفق ہیں کہ مصحف کو ہاتھ لگانے کے لیے وضو شرط ہے۔ لیکن قرآن کی تعلیم کے لیے وہ استاد اور شاگرد دونوں کو اس سے مستثنیٰ کرتے ہیں۔ بلکہ حائضہ عورت کے لیے بھی وہ بغرض تعلیم مصحف کو ہاتھ لگانا جائز قرار دیتے ہیں۔ ابن قدامہ نے المغنی میں امام مالکؓ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ جنابت کی حالت میں تو قرآن پڑھنا ممنوع ہے، مگر حیض کی حالت میں عورت کو قرآن پڑھنے کی اجازت ہے، کیونکہ ایک طویل مدت تک اگر ہم اسے قرآن پڑھنے سے روکیں گے تو وہ بھول جائے گی۔ 
حنبلی مذہب کے احکام جو ابن قدامہ نے نقل کیے ہیں یہ ہیں کہ۔ ’’جنابت کی حالت میں اور حیض و نفاس کی حالت میں قرآن یا اس کی کسی پوری آیت کو پڑھنا جائز نہیں ہے، البتہ بسم اللہ، الحمد للہ وغیرہ کہنا جائز ہے، کیونکہ اگر چہ یہ بھی کسی نہ کسی آیت کے اجزاء ہیں، مگر ان سے تلاوت قرآن مقصود نہیں ہوتی۔ رہا قرآن کو ہاتھ لگانا، تو وہ کسی حال میں وضو کے بغیر جائز نہیں، البتہ قرآن کی کوئی آیت کسی خط یا فقہ کی کسی کتاب، کا کسی اور تحریر کے سلسلے میں درج ہو تو اسے ہاتھ لگانا ممنوع نہیں ہے۔ اسی طرح قرآن اگر کسی چیز میں رکھا ہوا ہو تو اسے وضو کے بغیر اٹھایا جا سکتا ہے۔ تفسیر کی کتابوں کو ہاتھ لگانے کے لیے بھی وضو شرط نہیں ہے۔ نیز بے وضو آدمی کو اگر کسی فوری ضرورت کے لیے قرآن کو ہاتھ لگانا پڑے تو وہ تیمم کر سکتا ہے۔‘‘ الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں مسلک حنبلی کا یہ مسئلہ بھی درج ہے کہ بچوں کے لیے تعلیم کی غرض سے بھی وضو کے بغیر قرآن کو ہاتھ لگانا درست نہیں ہے اور یہ ان کے سرپرستوں کا فرض ہے کہ وہ قرآن ان کے ہاتھ میں دینے سے پہلے انہیں وضو کرائیں۔

 داود الظاہری اور ابن حزم کے  مطابق قرآن پڑھنا اور اس کو ہاتھ لگانا ہر حال میں جائز ہے خواہ  آدمی نے وضو ہو، یا جنابت کی حالت میں ہو، یا عورت حیض کی حالت میں ہو۔ ابن حزم نے المحلّٰی (جلد اول، صفحہ 77 تس 84) میں اس مسئلے پر مفصل بحث کی ہے جس میں انہوں نے اس کی صحت کے دلائل دیے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ فقہاء نے قرآن پڑھنے اور اس کو ہاتھ لگانے کے لیے جو شرائط بیان کی ہیں ان میں سے کوئی بھی قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
اب سمارٹ فون اور ٹیبلٹ میں ڈیجیٹل قرآن ڈونلوڈ کیا جاتا ہے، اس  کو چھونے یا تلاوت کے متعلق کچھ علماء کے مطابق وضو کی کوئی پابندی نہیں کیوں کہ وہ اس کو محصف نہیں سمجھتے، جبکہ کچھ علماء اس کو بھی محصف سمجھتے ہیں-
اس تمام بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ پر مختلف آراء اور دلائل موجود ہیں- قرآن میں نماز کے لیے وضو واضح ہے- جبکہ "ذکر" (جس میں تلاوت قرآن شامل ہے) کے لیے ایسا حکم نہیں ملتا- مسلمانوں کو قرآن سے قربت پیدا کرنے کی ضرورت ہے اس پر غور و فکر اور تدبر کریں اور عمل بھی- ترجمہ کے ساتھ پڑھیں-

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ﴿ سورة الأنفال٢٢﴾

یقیناًاللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22
سورة الأنفال)

واللہ تعالیٰ اعلم 
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall near 3 Million visits/hits

Understanding، pondering Quran قرآن پر تدبُّر تفکر


مسلمانوں کی اکثریت محض تلاوت قرآن و قرات کو ثواب کے  لیے کافی سمجھتی ہے- تلاوت قرآن سے ثواب حاصل ہوتا ہے مگر یہ قرآن کا اضافی فائدہ ہے- ببیادی طور پر قرآن ھدایت ، رہنمائی اور کامیابی حاصل کرنے کا ذریع ہے- جو اس کو سمجھنے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے- 
قرآن حکیم کا ہمارے اوپر ایک حق یہ ہے کہ ہم اس پر تفکر و تدبّر کریں اس کی تعلیمات کو سمجھیں۔ قرآن حکیم میں ہے:
 افلا یتدبرون
 القرآن کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے(محمد، 24/47)
ایک اور مقام پر ہے ’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے، اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتاتو یقیناًاس میں بہت اختلافات ہوتے۔ (النساء 82/4)
 قرآن حکیم ایک مقام پر عباد الرحمن کی صفت یوں بیان فرماتا ہے ’’اور وہ لوگ کہ جب ان کے رب کی آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ ان پر اندھے اور بہرے ہوکر نہیں گرتے۔ (الفرقان۔83/25 )
بلکہ اسمیں غوروفکر کرتے ہیں قرآن حکیم میں تدبر و تفکّر کے ذریعے سے ہی مغفرتِ الٰہی اور کائنات کی بیان شدہ حقیقتوں کا کھوج لگایاجاسکتا ہے۔ اس میں سے ہدایت تلاش کرنا اور منزلِ مقصود کو پانے کی خاطر اپنے لئے قرآنی لائحہ عمل پر غوروفکر کرنا قرآن مجید میں تدبرّ کا تقاضا ہے۔ آج اُمتِ مسئلہ نے اپنے دلوں پر گمراہی اور کاہلی کے قفل چڑھا کر تدبر و تفکر کو چھوڑدیا ہے۔اس تفکّر و تدبّر کیلئے ضروری ہے کہ بنیادی عربی قواعد سیکھے جائیں, ترجمہ کے ساتھ پڑہیں، سنیں، تراویح سے قبل مضامین کا خلاصہ پیش کیا جایے تاکہ قرآن حکیم کیساتھ اس قدر تعلق پیدا کرلیا جائے کہ ہرمسئلہ کا حل قرآن سے مل جائے۔ اسے اپنے من پر اُتارا جائے پھر اس سے مضامین سمجھے جائیں۔ بقول اقبال
؂؂ تیرے من پر گر نہ ہو نزول کتاب گرہ کشا ہے رازی نہ صاحب کشاف

قرآن کا نہ پڑھنا، غیرِ قرآن کو قرآن پر ترجیح دینا، قرآن کو محور قرار نہ دینا، اِس میں تدبُّر و تفکر نہ کرنا، اِسے دوسروں کو نہ سیکھانا اور اِس پر عمل نہ کرنا، قرآن کو مہجور کرنے اور چھوڑ دینے کے مصادیق ہیں۔
مہجوریتِ قرآن کی شکایت

وَ قَالَ الرَّسُولُ یَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً )الفرقان/۳۰)
““اور (قیامت کے دن شکایت کرتے ہوئے) ر سولؐ کہیں گے: اے میرے پروردگار! میری اس قوم نے اِس قرآن کو نظر انداز کرکے چھوڑ دیا تھا۔”“
““هجر‘‘ بدن، زبان اور دل کی عمل کے ساتھ جدائی کو شامل ہے۔ پس انسان اور آسمانی کتاب (قرآن) کے درمیان تعلق، دائمی اور شعبہ ہائے زندگی میں ہونا ضروری ہے، کیونکہ کلمۂ ’’ھجر‘‘ اس جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں انسان اور اس چیز کے درمیان کوئی تعلق ہو۔ اسی بنا پر، ہمیں اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ قرآنِ کریم کو مہجوریت اور فراموشی سے باہر نکالیں اور اِس کتابِ عزیز کو اپنی زندگیوں کے تمام ابعاد اور پہلوؤں میں علمی و عملی محور کے طور پر قرار دیں تاکہ پیغمبر عزیزِ اسلامﷺ کی رضایت و خوشنودی حاصل کرسکیں۔

قرآن کا نہ پڑھنا، غیرِ قرآن کو قرآن پر ترجیح دینا، قرآن کو محور قرار نہ دینا، اِس میں تدبُّر و تفکر نہ کرنا، اِسے دوسروں کو نہ سیکھانا اور اِس پر عمل نہ کرنا، قرآن کو مہجور کرنے اور چھوڑ دینے کے مصادیق ہیں۔ حتی کہ جو شخص قرآن کو سیکھے؛ لیکن اِسے چھوڑ دے اور اِس میں نگاہ نہ کرے اور کوئی پابندی نہ رکھتا ہو، اُس نے بھی قرآن کو مہجور کر دیا اور اِسے پسِ پشت ڈال دیا ہے۔

یہ آیتِ کریمہ، پیغمبرِ اسلامﷺ کے گلے شکوے کو بیان کرتی ہے اور آنحضرتؐ کیونکہ “رَحْمَةً لِّلْعَالَمِینَ” ہیں، نفرین نہیں کرتے ہیں۔ جی ہاں! روزِ قیامت شکایت کرنے والوں میں سے ایک، پیغمبراکرمﷺ ہیں۔ بنا بر ایں قرآن کی مہجوریت، پیغمبرؐ کا گلہ شکوہ اور ہماری مسئولیت و ذمہ داری قطعی اور یقینی چیز ہے اور ظاہری تلاوت کافی نہیں ہے، بلکہ مہجوریت کو دُور کرنا (اِس میں تدبُّر اور اِس پر عمل کرنا) ضروری ہے۔

کِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِّیَدَّبَّرُوا آیَاتِهِ وَ لِیَتَذَکَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ (ص/۲۹)
"یہ کتاب جسے ہم نے آپؐ پر نازل کیا ہے، ایک مبارک کتاب ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں تدبُّر اور غور و فکر کریں اور صاحبانِ عقل و خِرد نصیحت حاصل کریں۔‘‘

Aug 18, 2012 ... The difference between human and animals is the 'intellect', the ability to learn and reason; the capacity for knowledge and understanding.
i
 The seat of the intellect or imagination: the worst atrocities the human heart could devise. 4. Emotional constitution, basic disposition, ...

Dec 26, 2015 ... Throughout the Quran, the narratives engage with its audience appealing to make use of their intellect and reason (Arabic: Aql) "Indeed, the ...


 قراآن سمجھ کر پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

قرآن کے براہ راست پہلے مخاطب عرب تھے لہذا قرآن عربی میں ہی نازل ہوا سب اس کو سمجھ لیتے تھے- ترجمہ کی اہمیت محسوس نہ ہوئی- مگر آج جبکہ مسلمانوں کی اکثریت عربی سے نا بلد ہے ترجمہ کی اہمیت بہت بڑھ گیئ ہے-امت مسلمہ کی تنزلی کی ایک وجہ قرآن کی نا فہمی اور اس سے دوری ہے- علماء حضرات کا فرض ہے کہ اس خلیج کو ہر ممکن تریقوں سے کم کرنے کی مخلصانہ کوششیں کریں-  

ہم میں سے یقینااکثر لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ تلاوتِ قرآن کا صحیح معنی کیا۔کیا صرف قرآن پڑھنے کا نام ہی تلاوت ہے ؟جی نہیں۔پڑھنے کے لیے عربی زبان میں ''قرا'' وغیرہ کے الفاظ آتے ہیں ،توپھر تلاوت کے کیا معنی ہوئے ؟اس سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ تلاوت کرنے میں جو شرط قرآن نے لگائی ہے وہ یہ ہے!

(اَلَّذِینَ آَتَیْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَتْلُونَہُ حَقَّ تِلَاوَتِہِ أُولَئِکَ یُؤْمِنُونَ بِہِ) [البقرہ:١٢١]''

وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب(قرآن) کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے ،ایسے لوگ ہی اس پر (صحیح معنوں میں) ایمان لاتے ہیں''
اس آیت میں ومنوں کی صفت'' تلاوت قرآن''میں حَقَّ تِلَاوَتِہِ کی شرط لگائی گئی ہے۔(یعنی تلاوت اس طرح جس طرح تلاوت کا حق ہے)اگر ہم لغت کی کتابوں کی طرف مراجعت کرتے ہیں اور اس کا معنی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں معلوم پڑتا ہے کہ تلاوت کا معنی:

تلاوت کے معنی میں پڑھنے کے ساتھ ''عمل کرنے کی نیت سے پڑھنا'' بھی شامل ہے۔گویاتلاوت کا معنی ہوا'' پڑھنا ،عمل کرنے کی نیت سے''۔
[تہذیب االغۃ:ج٥ص٢١،لسان العرب ج١٤ص١٠٢،قاموس القرآن ص١٦٩]

''عمل کرنے کی نیت سے پڑھنے '' میں سب سے پہلی قابل ذکربات ترجمہ قرآن ہے۔کیونکہ دورانِ تلاوت جب ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم کیا پڑھ رہے ہیں تو عمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،لہٰذا ناظرہ قرآن کے بعدجو چیز وقت کی اہم ضرورت ہے وہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھناہے۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ حفظ قرآن سے پہلے ترجمہ قرآن ضروری ہے۔ممکن ہے آپ میری اس بات سے اتفاق نہ کریں ،کیونکہ عوام میں حفظ قرآن کی فضلیت ترجمہ قرآن سے زیادہ ہے۔لیکن اگرہم اس بات کو ایک مثال سے سمجھیں تو بات دل کو لگتی ہے۔سب لوگ یہ جانتے ہیں کہ نماز کی اہمیت،فرضیت ،فضیلت اورفوائدوثمرات وضو سے زیادہ ہیں ۔لیکن اگر وضو کے بغیر نماز پڑھی جائے تو نماز نہ ہوگی ۔کیونکہ نماز کے لیے وضو شرط ہے ۔جب وضو ہی نہیں تو نماز جیسی اہم عبادت بھی مقبول نہیں ۔اسی طرح تلاوت قرآن میں ''عمل''شرط ہے،جو ظاہر ہے ہم عجمیوں کے لیے بغیر فہم کے ممکن نہیں ۔توثابت ہوا کہ جو لوگ بغیر سمجھے قرآن کو پڑھتے ہیں وہ اس کی تلاوت نہیں کرتے بلکہ اسے پڑھتے ہیں ،اور اگر تلاوت کرتے ہیں تو اس طرح نہیں کرتے جس طرح تلاوت کا حق ہے۔یہاں یہ سوال پید ا ہوتاہے کہ جو لوگ قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھتے تو کیا ان کو اس کا ثواب نہیں ملتا؟ میں یہ تو نہیں کہتا کہ جوشخص قرآن بغیر فہم کے پڑھے گا اسے اس کا ثواب نہیں ملے گا ،لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اگر صرف ثواب کی نیت سے ہی پڑھنا ہے تو ہمارے لیے سارے قرآن کی بجائے قرآن کا کچھ حصہ ہی کا فی ہے۔مثلاً صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے:ثواب ہی ثواب لیکن!

((قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِہِ أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ یَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِی لَیْلَۃٍ فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ وَقَالُوا أَیُّنَا یُطِیقُ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ اللَّہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ ثُلُثُ الْقُرْآنِ))
[بخاری:کتاب فضائل القرآن ، رقم الکتاب:16،باب فضل قل ہو اللہ احد،رقم الباب:13رقم الحدیث5015]

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا کہ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز آگیا ہے کہ (رات سونے سے پہلے)ایک تہائی قرآن (دس پارے)پڑھے،انہوں (صحابہ )نے کہا اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے تو آپ نے فرمایاسورۃ اخلاص ایک تہائی قرآن(کے برابر)ہے۔''
ایک شخص ایک ماہ کی محنتِ شاقہ کے بعد قرآن کی تلاوت مکمل کرتاہے اور اس کے برعکس دوسر ا شخص صرف ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پوراقرآن پڑھنے کا ثواب حاصل کرسکتا ہے(سورۃ اخلاص تین دفعہ پڑھ کہ)تو پھر پورے قرآن کی نسبت ثواب کے معاملے میں سورۃ اخلاص زیادہ قدرومنزلت کی حامل ہے۔لیکن میری اس بات پر کوئی فرد بھی اتفاق نہیں کرے گا کہ امت مسلمہ کے لیے پورے قرآن کی نسبت صرف سورۃ اخلاص ہی کافی ہے۔لہٰذا قرآن کی تلاوت اسی وقت اپنے پایہ تکمیل تک پہنچے کی جب پڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اس کے معانی معلوم ہوں گے۔یہاں ہم استدلال کے کے لیے ایک قرآنی آیت اورحدیث رقمطراز ہیں جس سے فہم قرآن کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔اللہ کا فرمان تدبر قرآن:

(أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا )[محمد:٢٤]
''کیا وہ لوگ قرآن پر تدبر نہیں کرتے ؟یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔''

گمراہ لوگوں کی تلاوت :

((یَتْلُونَ کِتَابَ اللَّہِ رَطْبًا لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ یَمْرُقُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنْ الرَّمِیَّۃِ))
[بخاری:کتاب المغازی،رقم الکتاب:64رقم الباب:61رقم الحدیث:4351]''

(ایک قوم ایسی ہوگی)وہ اللہ کی کتاب کو بڑی خوبصورت آواز میں پڑھے گے لیکن وہ(قرآن) ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا ۔وہ دین سے ا س طرح نکل جائیں جس طرح تیر کمان سے۔''
ہمیں اس مشابہت سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔
کیا قرآن کا مقصد صرف محفلوں کو سجانا تھا؟
کیا قرآن کا نزول صرف قسمیں اٹھانے کے لیے ہے؟
کیا قرآن کوماننے والوں کا یہ حال ہوتاہے ،جو اس وقت امت مسلمہ کا ہے؟
کیا قرآن صرف ایک لازاول،بے مثال،بے نظیر اور لاثانی کتاب ہی ہے؟کیا قرآن کا محفوظ ترین ہونا صرف ایک معجزہ کے لیے ؟کیا بغیر سمجھے پڑھنےقرآن کا حق ادا ہوجاتاہے؟
اگر ان سوالوں کا جواب حقیقت کی زبانی دیا جائے تویقینا'' نہیں''ہے ۔میں اپنی بات کا اختتام رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر کرنا چاہوں گا:

((إِنَّ اللَّہَ یَرْفَعُ بِہَذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہِ آخَرِینَ))
[صحیح مسلم:کتاب صلاۃ المسافرین،رقم الکتاب:7،رقم الباب47،رقم الحدیث:1934]

''بے شک اللہ اس کتاب (قرآن)کے ذریعےقوموں کو ترقی دیتے ہیں اوردوسروں(اس پر عمل نہ کرنے والوں) کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
''
اللہ ہمیں قرآن سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمینوما توفیقی الا باللّٰہ .

  1. http://salaamforum.blogspot.com/2016/06/why-arabic-quran.html
  2. قرآن پڑھنا اور اس کو ہاتھ لگانا اور وضو
  3.  Touching, reciting Quran and Wadu

........................................

Merits and Benefits of Learning, Understanding Quran  :

“O Abu Zar! It is better for you to learn a single verse of Holy Quran in the morning rather to pray hundreds of Rakaat (Nafal Prayer)” (Ibn-e-Ma’ja, Volume 1, Hadith # 619)
The Holy Quran is fountain head of entire learning

“O people I am leaving behind among you the Holy Book (Quran) and the Sunnah (way of Prophet (SAW)), if you follow these in letter and spirit you will never be strayed.”

(Hakim Al-Mustadrik, Book1 Hadith 318)

Reading the Quran fulfils an Islamic duty.
1.The Quran will be a proof for us on the Day of Judgment
2. The Quran will intercede for us on the Day of Judgment.
3.Your status in this life will be raised.
4. The Quran is the key for peace and satisfaction.
5. There are ten rewards for each letter you recite from the Holy Quran.
6. The reciters of the Quran will be in the company of the noble and obedient angels.
7. Your position in Paradise is determined by the amount of Quran you memorize in this life!
8. The Quran will lead you to Paradise!

We have sent it down, as an Arabic Qur‘an, so that you may understand. (Quran;12:2)

And We have certainly made the Qur'aan easy for cultivating Firm Faith in and Remembrance of Me; but is there any to take heed? (54:17)

“And how will you disbelieve (now) while you are (fortunate) ones to whom the Verses of Allah are recited, and the Messenger of Allah (blessings and peace be upon him) is (himself) present among you? And whoever holds fast to (the Embrace of) Allah is most surely guided to the straight path.”
(Sura A’l-Imran 3, verse # 101)
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا (النسا،85)
ترجمہ : جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے (قرآن ;4:85)
http://peace-forum.blogspot.com/2015/08/peace-forum-network.html

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits