Showing posts with label Philosophy. Show all posts
Showing posts with label Philosophy. Show all posts

خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید

یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22 قرآن)
جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو حکمت ملی، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی اِن باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں، جو دانشمند ہیں (2:269 قرآن)
تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے والا اور جاننے والا ہے (8:42 قرآن)

علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال کسی تعارف کے محتاج نہیں، وہ پاکستان کے قومی شاعر، جدید مسلم فلاسفر، مفکر، دانشور اور قانون دان کےعلاوہ بانیان پاکستان میں بھی شامل ہیں. ان کی شا عری بہت مشہور ہے مگر مسلمانوں کی فکری تجد ید پر ان کے سات لیکچروں [ Reconstruction of Religious Thought in Islam]  "اسلام میں تفکر کا انداز جدید" پر بہت کم توجہ دی گیئ.  ان لیکچروں کو سمجھنے ،غور و فکر، تجزیہ ،پھہلا ؤ اور بتدریج  عملی اقدام کی ضرورت ہے تاکہ  امت  مسلمہ صدیوں  کے   جمود  سے نکل کر  جدید  دنیا  میں اپنا   حقیقی  مثبت  کردار ادا کر سکے -  علامہ اقبال نے یہ لیکچر مدراس، حیدر آباد، اور علی گڑھ (انڈیا)  میں دیے جو کہ ١٩٣٠ میں کتابی شکل میں شا یع ہوے- تمام لیکچرز انگریزی اور اردو  زبان میں اور ویڈیو لیکچرز  کی شکل میں مہیا کر دی ہیں-

Reconstruction of Religious Thought in Islam
By Dr.Muhammad Iqbal

 Available - http://goo.gl/MT7xqL
1.Knowledge and Religious Experience: علم اور روحانی تجربہ :  
 روحانی تجربہ کے مکشوفات کی عقلی جانچ
تصور خدا اور عبادت کا مفہوم
اسانی نفس اس آزادی اور سرمدیت
5.The Spirit of Muslim Culture     اسلامی ثقافت کی روح
اسلام میں اصول حرکت (اجتہاد)
7. Is Religion Possible?    کیا مذہب ممکن ہے ؟

تعارف – "اسلام کی تعمیر میں اصول حرکت"    لیکچر نمبر 6
چھٹا لیکچر"اسلام کی تعمیر میں اصول حرکت"; در اصل "اسلام میں تفکر کا انداز جدید" کے تمام لیکچروں میں سب سے زیادہ اہم ہے کیوں کہ اقبال کا "اسلامی تفکر جدید" کا تصور اسی موضوع کے گرد گھومتا ہے جو کہ "اجتہاد" یعنی قانونی معاملات پر آزادانہ رایے قائم کرنا- قرآن سے ماخوز قانونی اصول، بدلتے  زمانہ اور حالات کے مطابق پھیلاؤ اور ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں-  حضرت عمر رضی اللہ نے حالات کے مطابق اجتہاد کیا. چہار فقہی مکاتب کے بعد اسلامی فقہ جمود کا شکار ہو گیا  کیونکہ مختف وجوہ کی بنا پر اجتہاد کے دروازے بند کر دیے گیۓ. اس سے مسلم امت کو کچھ فائدے مگر نقصانات زیادہ ہوے. ابن تیمیہ ر ح پھر عبد الوہاب ر ح نے جمود کو توڑنے کی کوشش کی .
شاہ ولی اللہ کے مطابق (بنیادی عقاید کے علاوہ) عام شریعیت اس وقت کے معاشرہ کی ضروریات کے مد نظر تھیں اور ان پر عمل ہمیشہ کے لیے حتمی نہیں کہ مستقبل کی نسلوں پرمکمل طور اسی طرح  پر نافذ کیا جا سکے. اس لیے امام ابو حنیفہ نے "استحسان" اختیار کیا- اقبال اس نتیجہ پر پہنچے کہ آج کے مسلمان موجودہ حالات کے مطابق اپنی معاشرتی زندگی کی 'تعمیر نو' اسلام کے بنیادی اصولوں کی روح کے مطابق کریں-  <<چھٹا خطبہ>> اس پر روشنی ڈالتا ہے.
مکمل کتاب، لیکچر اردو، انگریزی اور  ویڈیوز << یہاں>> حاصل کریں-
مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد علامہ اقبالؒ کو عہدِ حاضر میں اعجاز قرآن کا مظہر قرار دیتے ہوئے رقمطراز ہیں: ’’میرے نزدیک عہد حاضر میں قرآن کے اعجاز کا سب سے بڑا مظہر علامہ اقبال کی شخصیت ہے۔ بیسویں صدی میں علامہ اقبال جیسا ایک شخص جس نے وقت کی اعلیٰ ترین سطح پر علم حاصل کیا، جس نے مشرق و مغرب کے فلسفے پڑھ لئے، جو قدیم اور جدید دونوں کا جامع تھا، جو جرمنی اور انگلستان میں جا کر فلسفہ پڑھتا رہا، اُس کو اس قرآن نے اس طرح Possess کیا اور اس پر   اس طرح چھاپ قائم کی کہ اُس کے ذہن کو سکون ملا تو صرف قرآنِ حکیم سے اور اس کی تشنگٔی علم کو آسودگی حاصل ہو سکی تو صرف کتاب اللہ سے گویا بقول خود اُن کے ؎
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی: مرے جرم خانہ خراب کو تیرے عفوِ بندہ نواز میں!
قرآن حکیم  اور فکر اقبال
آں کتابِ زندہ، قرآنِ حکیم
حکمتِ او لایزال است و قدیم
نسخۂ اسرارِ تکوینِ حیات
بے ثبات از قوتش گیرد ثبات
حرفِ او را ریب نے، تبدیل نے
آیہ اش شرمندۂ تاویل نے ۱۵؎
(ترجمہ) وہ کتابِ زندہ جسے قرآن حکیم کہتے ہیں ۔اس میں حکمت کی درج باتیں ہمیشہ رہنے والی اور پرانی ہیں ۔ وہ ( قرآن پاک) زندگی کے ہونے یا نہ ہونے کے بھیدوں کا نسخہ ہے۔ بے ثباّت بھی اس کی وجہ سے ثابت قدم ہو جاتا ہے۔اس کے حروف میں نہ کوئی شک ہے اور نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے۔اس کی آیاتِ بینات کی کوئی غلط تاویل نہیں ہو سکتی ہے

رسالة التجديد

علامہ اقبال نے اسلامی فکر کے جمود میں بیداری پیدا کی اور ڈاکٹر برق کے مجربات و محسوسات مزید غور و تفکرانسپائر کرتے ہیں- بیس سال قرآن کے مطالعہ و تحقیق، علماء اور اہل علم لوگوں سے کئی کئی دن پر محیط طویل  تبادلہ خیالات و ای ایکسچینجز کے بعد اہم موضوعات پر حاصل نتائج کا خلاصہ پیش خدمت ہے- مکمل تحقیق اردو اور انگریزی ویب سائٹس اور eBooks میں موجود ہے- مواد (contents) پر توجہ دیں اور زبان کی غلطیوں کو نظر انداز کریں۔ اپنے موجودہ نظریات کو دوران مطالعہ ایک طرف رکھنا ہو گا، فٹ نوٹس پرریفرنس لنکس کو پڑھیں توسوالات کے جوابات مل جائیں گےپھررابطہ بھی کیا جا سکتا ہے-  کوشش کی ہے کہ الله تعالی کا پیغام درست ترین طور پرسمجھ کر پیش کیا جائے-  مگربشری محدودات سے کسی نادانستہ غلطی پراللہ تعالی سےمعافی اوربخشش کا طلبگار-

[بریگیڈیئر آفتاب احمد خان (ر)] ١٢ ربیع الاول ١٤٤٨ ھ /  September 29 2023]


اقبال اور ملا کی تنگ نظری


The Reconstruction of Religious Thought in Islam is a compilation of lectures delivered
ز مَن بر صُوفی و مُلاّ سلامے:  کہ پیغامِ خُدا گُفتَند ما را 
ولے تاویلِ شاں در حیرت اَنداخت: خُدا و جبرئیلؑ و مصطفیؐ را 
میری جانب سے صُوفی ومُلاّ کو سلام پہنچے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات ہم تک پہنچائے، لیکن انہوں نے اُن احکامات کی جو تاویلیں کیں،اُس نے اللہ تعالیٰ، جبرائیل ؑاور محمد مصطفیﷺ کو بھی حیران کر دیا۔(علامہ محمد اقبال)

I extend my greetings, Salaam, to both the Sufis and Mullahs for their efforts in conveying the message of God to us. However, the manner in which they have interpreted these divine commands has left 
Allah, Angel Gabriel, and Muhammad (peace be upon him) perplexed  (Allama Muhammad Iqbal)

اقبال اور ملا کی تنگ نظری

====================
اسلام ٹائمز: 
’’ملا کا دل کسی غم میں گرفتار نہیں کیونکہ اس کے پاس آنکھ تو ہے، اس میں نمی نہیں۔ اس کے مکتب سے میں اس لیے نکل آیا ہوں کہ اس کے حجاز کی ریت میں کوئی زمزم نہیں ہے۔ منبر پر جب ہو تو اس کا کلام چبھن والا زہریلا ہوتا ہے جبکہ اس کے پاس سینکڑوں کتابیں ہوتی ہیں۔ میں نے شرم کے مارے تیرے سامنے یہ بات نہیں کہی کہ وہ اپنے آپ سے تو چھپا ہوا ہے لیکن ہمارے سامنے آشکار ہے۔‘‘

تحریر: سید ثاقب اکبر

ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم لکھتے ہیں: ’’علامہ اقبال ایک روز مجھ سے فرمانے لگے کہ اکثر پیشہ ور ملا عملاً اسلام کے منکر، اس کی شریعت سے منحرف اور مادہ پرست دہریہ ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ ایک مقدمے کے سلسلے میں ایک مولوی صاحب میرے پاس اکثر آتے تھے۔ مقدمے کی باتوں کے ساتھ ساتھ ہر وقت یہ تلقین ضرور کرتے تھے کہ دیکھیے ڈاکٹر صاحب آپ بھی عالم دین ہیں اور اسلام کی بابت نہایت لطیف باتیں کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ آپ کی شکل مسلمانوں کی سی نہیں، آپ کے چہرے پر ڈاڑھی نہیں۔ میں اکثر ٹال کر کہہ دیتا کہ ہاں مولوی صاحب آپ سچ فرماتے ہیں۔ یہ ایک کوتاہی ہے، علاوہ اور کوتاہیوں کے۔ ایک روز مولوی صاحب نے تلقین میں ذرا شدت برتی تو میں نے عرض کیا کہ مولوی صاحب آپ کے وعظ سے متاثر ہو کر ہم نے آج ایک فیصلہ کیا ہے۔ آپ میرے پاس اس مقدمے کے سلسلے میں آتے ہیں کہ آپ باپ کے ترکے میں سے اپنی بہن کو زمین کا حصہ نہیں دینا چاہتے اور کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں شریعت کے مطابق نہیں بلکہ رواج کے مطابق ترکہ تقسیم ہوتا ہے اور انگریزی عدالتوں نے اس کو تسلیم کر لیا ہے۔ میری بے ریشی کو بھی دینی کوتاہی سمجھ لیجیے لیکن رواج کے مقابلے میں شریعت کو بالائے طاق رکھ دینا اس سے کہیں زیادہ گناہگاری ہے۔ میں نے آج یہ عہد کیا ہے کہ آپ بہن کو شرعی حصہ دے دیں اور میں ڈاڑھی بڑھا لیتا ہوں۔ لائیے ہاتھ، آپ کی بدولت ہماری بھی آج اصلاح ہو جائے۔ اس پر مولوی صاحب دم بخود ہوگئے اور میری طرف ہاتھ نہ بڑھ سکا۔‘‘

علامہ اقبال نے ملا کی اس دو روئی کو یوں بیان کیا ہے:

واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند
چوں بہ خلوت می روند آں کار دیگر می کنند
مشکلی دارم ز دانشمند محفل باز پرس
توبہ فرمایاں چرا خود توبہ کمتر می کنند
’’واعظ لوگ جب محراب و منبر پر جلوہ فرما ہوتے ہیں، وہاں جو باتیں کرتے ہیں، خلوت میں جاکر ان کے برخلاف کام کرتے ہیں، میری ایک مشکل ہے، محفل کے دانشمند سے ایک دفع پھر پوچھ کر بتائیں کہ جو لوگ توبہ کرنے کا فرماتے ہیں، وہ خود کمتر توبہ کیوں کرتے ہیں‘‘ اقبال مجھے کئی دنوں سے یاد آرہے تھے، خاص طور پر ان دنوں سے جب مولویوں کے ایک گروہ کے متشدد فہم نے سارے پاکستان کو وحشت و کرب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ جب پاکستان میں ایک مطالبے پر جو اپنے مقام پر صحیح بھی ہوسکتا ہے، اس مذہبی طبقے نے عوامی راستوں کو بند کر رکھا تھا، ہر چیز کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنا رہے تھے، ہر مخالف کو یہودی یا یہودی ایجنٹ قرار دے رہے تھے، سرکاری اور نجی املاک کو آگ لگا رہے تھے، یہاں تک کہ بہت سے افراد کو انھوں نے مار مار کر زخمی کر دیا اور بعض تو ان کے تشدد کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

اس موقع پر ایسے مذہبی طبقے کی ترجیحات کے حوالے سے ہمارے ایک دوست نے لکھا: ’’سچ بتائیے آپ نے پاکستان میں مولوی صاحبان کی بڑی تعداد کو جان لینے اور دینے کے نعرے لگاتے لگواتے سُنا، کیا کبھی کسی انسانی مسئلے پر بھی اس طبقے نے آواز اٹھائی؟ آپ نے کبھی ناجائز ذخیرہ اندوزی، گراں فروشی، ملاوٹ جیسے مسائل پر مذہبی طبقے کو بات کرتے ہوئے سُنا؟ کیا آپ نے کرپٹ سیاسی نظام، بدتر عدالتی نظام، رشوت پر مبنی پولیس سسٹم کے خلاف کبھی مذہبی جماعتوں کو مظاہرے کی کال دیتے ہوئے سُنا؟ پاکستان میں مذہبی طبقہ صرف "توہین" کے نام پر ہی مرنے مارنے پر ابھارتا ہے، یہ لوگوں کو سیرت نبوی اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جینا کیوں نہیں سکھاتا!‘‘ ملا اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے ایسی ایسی تاویلیں اور حیلے تراش لیتا ہے کہ عقل انسانی کو حیرت ہوتی ہے، علامہ اقبال نے اس کی بھی نشاندہی کر رکھی ہے:
ز من بر صوفی و ملا سلامی
کہ پیغام خدا گفتند ما را
ولی تأویل شان در حیرت انداخت
خدا و جبرئیل و مصطفیٰ را
میری طرف سے صوفی و ملا پر سلام ہے کہ جو ہمیں اپنی طرف سے خدا کا پیغام سناتے ہیں، لیکن اس پیغام میں وہ ایسی تاویل کرتے ہیں کہ جس پر خدا، جبرئیل اور مصطفیؐ بھی حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔

ایک طرف جنھیں ہم کافر کہتے ہیں، انھیں دیکھیں اور دوسری طرف جنھیں ہم اپنا مذہبی راہنماء کہتے ہیں، انھیں دیکھیں تو علامہ اقبال کی یہ بات سچ دکھائی دیتی ہے:
دین کافر فکر و تدبیر و جہاد
دین ملا فی سبیل اللہ فساد
اقبال نے ملا کے مزاج کو ایک اور مقام پر بہ انداز دگر بیان کیا ہے اور ان کے مطابق اس مزاج کا حامل شخص جنت کی فضا میں مطمئن نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ کہتے ہیں:
ميں بھی حاضر تھا وہاں، ضبط سخن کر نہ سکا
حق سے جب حضرت ملا کو ملا حکم بہشت
عرض کی ميں نے، الہی! مری تقصير معاف
خوش نہ آئيں گے اسے حور و شراب و لب کشت
نہيں فردوس مقام جدل و قال و اقول
بحث و تکرار اس اللہ کے بندے کی سرشت
ہے بد آموزی اقوام و ملل کام اس کا
اور جنت ميں ن ہمیشہ ملا کی کم نظری، فرقہ پرستی، ظاہر بینی اور خود خواہی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ ملا کے بارے میں ان کا عمومی تاثر یہ ہے کہ اگر وہ مخلص بھی ہو تو دین کے چھلکے سے جڑا ہوتا ہے، حقیقت دین کی اس کو خبر نہیں ہوتی۔ الفاظ و اصطلاحات کے بڑے ذخیرے سے کام لے کر عامۃ الناس سے اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے درپے ہوتا ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں:
قلندر جز دو حرف لا الہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا
 افسوس کہ یہ بات صرف مسلمانوں کے مذہبی پیشواؤں پر صادق نہیں آتی بلکہ دنیا بھر کے مذاہب پر ایسے ہی افراد کا قبضہ ہے۔ ایسے کئی واقعات سامنے آتے ہیں، جن کے مطابق بعض افراد کو مسلمان ہونا اس لیے مشکل ہوگیا کہ ملاؤں کے نزدیک ضروری تھا کہ وہ موجود فرقوں میں سے کسی میں شامل ہوں۔ علامہ اقبال نے بھی ایسے بعض واقعات کی نشاندہی کر رکھی ہے۔ دنیا میں جو تیز رفتار تبدیلیاں آئی ہیں اور آرہی ہیں، ملا عام طور پر اس سے نابلد ہیں۔ ان کے بہت سے مسلمات تحقیق کی دنیا میں پادر ہوا ہوچکے ہیں، لیکن وہ آج تک اسی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے صدیوں پرانے درسی نصاب پر عموماً نگاہ بازگشت کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ عالمی حالات، حقائق اور واقعات ہی نہیں انسانیت کے دشمنوں کی تدبیریں اور طریقے بھی ان کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ نئے حقائق کی شناسائی کی تمنا ان کے اندر پیدا ہی نہیں ہوتی۔ وہ اپنے تئیں عقل کل ہی نہیں شیخ الکل فی الکل بھی سمجھتے ہیں، جبکہ ایسا عصر حاضر میں تو بالکل ممکن نہیں ہے۔

علامہ اقبال نے ملا کے بارے میں بہت کچھ کہہ رکھا ہے، ہمارے اس مضمون میں زیادہ گنجائش نہیں ہے۔ قارئین کرام ایک تحقیقی نظر اس سلسلے میں علامہ اقبال کی شاعری کے علاوہ ان کے منثورات و مکتوبات پر بھی ڈالیں۔ ہم آخر میں ان کے چند اشعار پر اپنی بات تمام کرتے ہیں:
دل ملا گرفتار غمی نیست
نگاہی ہست، در چشمش نمی نیست            
از آن بگریختم از مکتب او
کہ در ریگ حجازش زمزمی نیست          
سر منبر کلامش نیش دار است
کہ او را صد کتاب اندر کنار است           
حضور تو من از خجلت نہ گفتم
ز خود پنہان و بر ما آشکار است
’’ملا کا دل کسی غم میں گرفتار نہیں کیونکہ اس کے پاس آنکھ تو ہے اس میں نمی نہیں۔ اس کے مکتب سے میں اس لیے نکل آیا ہوں کہ اس کے حجاز کی ریت میں کوئی زمزم نہیں ہے۔ منبر پر جب ہو تو اس کا کلام چبھن والا زہریلا ہوتا ہے جبکہ اس کے پاس سینکڑوں کتابیں ہوتی ہیں۔ میں نے شرم کے مارے تیرے سامنے یہ بات نہیں کہی کہ وہ اپنے آپ سے تو چھپا ہوا ہے لیکن ہمارے سامنے آشکار
~~~~~~~~~~~~

قرآن کو چھوڑنے والے بدترین علماء 

وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

" اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔" (بیہقی)

یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں " رسم قرآن" سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔
مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔
اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)
افتراق کی سبب دو چیزیں ہیں، عہدہ کی محبت یا مال کی محبت۔ سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:
”ماذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ” دو بھوکے بھیڑئیے ، بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور عہدہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دہ ہے۔   (الترمذی:۲۳۷۶ وھو حسن)
مجھے اپنی امت پر گمراہ اماموں کا خوف ہے​
مجھے اپنی امت کی بابت دجال سے بھی زیادہ ایک چیز کا ڈر ہے​ گمراہ اماموں کا!
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اپنی امت کی بابت دجال سے بھی زیادہ ایک چیز کا ڈر ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہی بات ارشاد فرمائی- سیدنا ابور ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں- میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اپنی امت کی بابت دجال سے بھی زیادہ کس چیز کا خوف ہے- فرمایا : گمراہ اماموں کا [البانی رحمہ اللہ ،'' سلسلة الأحاديث الصحيحة " (1582) ، (1989)''بيان تلبيس الجهمية " (2/293) ]  [الراوي : أبو ذر الغفاري | المحدث : الهيثمي | المصدر : مجمع الزوائد، الصفحة أو الرقم: 5/2411 ]

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : '' میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں سے ڈرتا ہوں '' [ الترمذي،2229  صحیح]
۱؎ ، نیز فرمایا : '' میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی ، ان کی مدد نہ کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آجائے ''۔ [امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مجھے اپنی امت پر گمراہ اماموں کا خوف ہے ۔ ''[سنن أبي داؤد 4252  ماخوز]
 صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " مجھے تم لوگوں (حاضرین ) پر دجال کے علاوہ دیگر (جہنم کی طرف بلانے والوں ) کا زیادہ خوف ہے اگر وہ نکلتا ہے اور میں تمھارے درمیان موجود ہوں تو تمھاری طرف سے اس کے خلاف (اس کی تکذیب کے لیے ) دلائل دینے والا میں ہوں گا اور اگر وہ نکلا اور میں موجود نہ ہوا تو ہر آدمی اپنی طرف سے حجت قائم کرنے والا خود ہو گا اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (خود نگہبان ) ہوگا ۔ [صحيح مسلم 7373 ماخوز]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا :"میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں سے ڈرتاہوں"-  دوسرے فرقوں کے بانی جن کی وجہ سے امت تفرقہ کا شکار ہوئی. گمراہ آئمہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین کے نام پر لوگوں کی قیادت کرتے ہیں، اس میں فاسد حکام اور گمراہ علماء شامل ہیں. ان کا دعوی یہ ہوتا ہے کہ وہ شریعت کی طرف بلارہے ہیں حقیقت میں شریعت کے سب سے زیادہ مخالف ہوتے ہیں [القول المفيد على كتاب التوحيد " (1/365)]
گمراہ امام یعنی شر کے امام [شيخ ابن عثيمين رحمه الله ] 
گمراہ اماموں سے امراء مراد ہیں " مجموع الفتاوى" (1/355) .
( گمراہ امام ) یعنی جو مخلوق کو بدعت کی طرف بلائیں " [سندي نے " حاشية ابن ماجة " (2/465)]

Javed Ghamidi - Critique



Free%20Books%20%26%20Articles

Today I read a scholar who is more misread and misunderstood than perhaps any major modern Muslim thinker. He is known mostly for some lectures and debates but his key works are largely ignored. He is arguably the most exciting and interesting scholar who attempts to bridge the gap between the traditionalists and the modernists and has currently been compelled to seek exile. His exile implies how intolerant we are to other interpretations. Is this because alternative readings hit at power of certain ideology that these must be resisted even by denying the key virtue that Islamic civilization embodied the gift of tolerance. Once upon a time hundreds of theological, juristic philosophical and mystical schools flourished in the Islamic world but today we need to beg for tolerance. The West encountered similar problem and instituted secularism. But we need only to appeal to spaces available inside our tradition to let different interpretations as far as no violence to basic traditional framework is done.

Javed Ghamidi is trained in philosophy but has wide disagreements with both methodology and orientation of Muslim philosophers. He has inherited Sufism but can be ranked amongst the deadliest critics of speculative (if not ethical part of it) Sufism. He is a modernist who vows by the Quran and the Sunnah. He is amongst the most rational, most original, most provocative and most gifted modern scholars. Not only Pakistan but the world of Islam should be proud of him. This most prosaic of scholars happens to be a first rate poet, almost Iqbalian in style and at times seems to echo him both in profundity of thought and poetic brilliance. He is always attempting to follow traditional methodology but arrives at often unheard of, seemingly untraditional, conclusions. Though less sophisticated than either Fazlur Rahman or others of his ilk and appropriating primarily theological-juristic instead of philosophical methodology, Ghamdi?s case for Muslim Modernism has been better known by masses. Ghamdi has been the most passionate proponent of such modernist ideas as democracy and human rights including rights of minorities but staunch opponent of modernist philosophy, mysticism and most of modern religious and spiritual movements that are responses to or appropriations of modernist ideas. Another interesting paradoxical aspect of Ghamidi is while sporting a beard, he has attempted to create space for those who don't sport it. He is amongst the most traditional amongst modernist Muslim scholars but amongst the most modern amongst those who stick closely to traditional framework. Ghamidi, a theologian amongst philosophers, gives an impression of being a philosopher and even free thinker to theologians and jurists.

It is Ghamidi's rare gift of cool dispassionate analytical ability and serene disposition that endears him for more philosophically inclined reader. It is very difficult to make him angry in a debate.

One of his greatest virtues is clarity, precision and lucidity. As a speaker he is simply brilliant. His speeches cpmprise chiseled prose and can be transcribed as books. With Syed Moududi he shares disgust for rhetoric. He has no figurative devices to drill his point into us but reasoned arguments.

Ghamidi is not dogmatic, at least in his methodology. His few words ( one can listen on you tube) about Tableegi Jamaat in which he appreciates the best in it subtly driving home his disagreements regarding methodology adopted by it illustrate his style. He introduces himself as a students and that is what he generally does. He has no zeal to seek converts to his own point of view. He puts forward his point in as non-provocative a style as possible but succeeds in provoking even the hard core ideologues on either side of the spectrum.

Ghamidi is a significant thinker in Modern Muslim political and economic thought. His brilliant insights on zakat call for reorienting modern understanding and would definitely constitute a major contribution to Islamic economic thought. The State has to run all its machinery from zakat and no other taxes can be imposed. His rereading of the notion of productive enterprizes is very significant. His critical appreciation of Syed Moududi?s concept of Islamic State constitutes one of the most important criticism of it and takes it further without denying its key focus on sovereignty of God.

Far from being a sophisticated critic of Modernity Ghamidi grafts some of the ideas often delinked from secularizing demythologizing humanist framework to Islam and how far he succeeds is for critics to see. I think Ghamidi?s hasty acceptance of modern democracy (that is ultimately wedded to interests of class) lands him in contradiction. He has embraced certain elements of post-Enlightenment modern thought without the necessary sophistication that great critics of Modernity have displayed. He has not clearly articulated the understanding of Tradition (especially its metaphysical basis) and that compels him to rather uncritically graft certain ant-itraditional ideas into his worldview. Ghamidi takes somewhat uncritical view of rationality in dismissing ilham and irfan as epistemological categories enunciated by Sufism. He thus isolates himself from the great Tradition that is wedded to intellectual intuition/Intellect.

Ghamidi?s theological instead of metaphysical approach makes his critique of antireligious ideologies like atheism rather superficial. He doesn?t argue, in philosophical terms, the case for epistemology of religion that is wedded to intellectual intuition, and revelation understood in intellectual and not rationalist terms. It is mysticism that has to be invoked in any defense of religion against modernity but Ghamidi distances himself from it and thus can?t push his own case for religion in convincing terms.

A scholar who is also a missionary of Islam is in exile for some of his theological opinions but his works, let me predict, will gain further popularity with time and he will carve greater and greater space amongst the fellow Muslims of Pakistan but also elsewhere. Ghamidi reads texts with an open unfettered mind and may have misread it on certain points but one can?t accuse him of deliberate misreading. One must engage with his methodology that is essentially traditional and appreciate the potential for diversity of readings he is able to explore. It is not his conclusions but his approach that counts. He thinks and thinks through without caring much how unorthodox it would sound and this makes him a rare find amongst modern Muslim scholars who often talk about doing Ijtihad but do not do it and if anyone does it like Ghamidi criticize him for the same. What a paradox!
Source: www.khalidzaheer.com

Ik Jahalat - A Very Emotional Clip of Javed Ahmed Ghamidi - Video ...

www.dailymotion.com/.../xyb1gb_ik-jahalat-a-very...

Mar 19, 2013
Ik Jahalat - A Very Emotional Clip of Javed Ahmed Ghamidihttps://www.facebook.com/groups

* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
Humanity, Religion, Culture, Ethics, Science, Spirituality & Peace
Peace Forum Network
Over 1,000,000 Visits
* * * * * * * * * * * * * * * * * * *