Salaam Forum سلام

Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace

Pages

  • Home
  • Index-انڈکس
  • پہلا صفحہ
  • FAQ
  • خالق کائنات کون؟
  • خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید
  • فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم
  • Quran قران - راہ ھدایت و نجات
  • کتابت حدیث
  • Free Books
  • Peace-Forum
  • Just1God
  • Faith Forum
  • Islamophobia
  • Pakistan Posts
  • YouTube
  • Video Channel
  • Muslim Only صرف مسلمان

Featured post

قرآن مضامین Quran: The Only One Book

Don't Discard Quran: Quran is the Only Last, Complete, Protected Divine Book of Guidance, without any doubt, all other books are human ...

Showing posts with label Monotheism. Show all posts
Showing posts with label Monotheism. Show all posts

Monotheism ، Polytheism and Bible توحید, شرک اور بائیبل (6)



باب -6

توحید اور شرک اور بائیبل


توحید (monotheism)  وہ عقیدہ ہے جس میں صرف ایک خدا کے وجود پریقین ہو۔ اسی سے توحیدی بنا ہے جس کو انگریزی میں monotheistic) (کہتے ہیں جبکہ اس پر عمل کرنے والے کو توحید پرست (monotheist) کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مشرکیت (polytheism) ہے ، جسے 'متعدد خدائی' بھی کہا جاتا ہے۔ اس عقیدے میں ایک سے زائد خداؤں پر ایمان ہوتا ہے اور ان خداؤں کے اقتدار میں انسانوں کی خصوصی ضروریات ہوتی ہیں ـ مثلا قدیم یونانی مذہب میں زیوس ( , Zeus Ζεύς) باقی دیوتاؤں کا باپ اور بادشاہ تھا، ایرِیز خدائے جنگ تھا اور آفرودیتہ (Aphrodite)  محبت اور حُسن کی دیوی تھی ـ
الله کے عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم (عليہ السلام) جو یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے باپ ہیں، ایک خدا کے وجود کی سچائی پر اپنی بصیرت، استدلال اور خدا کی رحمت کے ذریعے پہنچ گئے- قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے:
"اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں- (یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے  غائب ہوجانے والے پسند نہیں پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مجہے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں، پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں"(6:75,79 قرآن)
اسلام کی بنیاد توحید پر سختی سے کاربند ہونے پر ہے- توحید کا  پیغام حضرت آدم سے شروع ہو کر حضرت  نوح (عليہ السلام)  پھر حضرت  ابراہیم (عليہ السلام) اور دوسرے پیغمبروں کے زریعے دنیا میں  پھیلا- اللہ، ایک ہی خدا، خالق، رب اور تمام جہانوں کا پروردگارہے- توحید کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ اپنی ربوبیت ، الوہیت اور اسماء وصفات میں اکیلا ، بے مثال اور لاشریک ہے۔ تمام پیغمبروں حضرت یعقوب(عليہ السلام) سے موسیٰ (عليہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (عليہ السلام) تک یہی  پیغام توحید  کی تبلیغ کرتے رہے- الله کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ نے چودہ سو سال قبل اس پیغام کو تمام بنی نوع انسانی کے لیے ابدی طور پر محکم کر دیا: "وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو"(قرآن28:70)
توحید، اسلام کی بنیاد ہے جس  کومکمل طور پرسمجھنے کی ضرورت ہے. توحید اس معنی میں خدا کی وحدانیت سے متعلق ہے کہ :" اور کوئی معبود نہیں مگر وہ" ، 'کلمہ شہادت' میں بتایا گیا ہے کہ: " اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں (قرآن 47:19) اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں"(48:29قرآن )
توحید خدا کی فطرت کومزید واضح کرتی ہے؛ خدا یکتا ہے، وہ حصوں میں تقسیم نہیں بلکہ متحد ایک ذات واحد ہے:
"کہو، وہ اللہ ہے، یکتا، اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ،اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے"(112:1,2,3,4، قرآن)
"تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے، اُس رحمان اور رحیم کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے""(قرآن2:163)
"اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزت والا تو اللہ ہی ہے" (22:74قرآن)
خدا کے اتحاد کے نظریہ سے متعلق کچھ سوال پیدا ہوئے جیسے جوہر(essence) اور خدا کی صفات کے درمیان تعلق، یہ  اسلامی تاریخ میں اٹھنےوالے مسائل رہے ہیں-
توحید کومشرکانہ معنوں میں دکھایا نہیں کیا جا سکتا- یہ کہنا غلط ہے کہ:" تمام جوہر(essences) خدائی ہیں، اور خدا کی سوا کوئی مطلق وجود نہیں ہے". خالق اور مخلوق علیحدہ ہیں، مخلوق  کو  خالق نے عدم سے  وجود میں  لا یا ، اپنے  وجود سے نہیں- وحدت الوجود ایک صوفیانہ عقیدہ ہے جس کی رو سے جو کچھ اس دنیا میں نظر آتا ہے وہ خالق حقیقی کی ہی مختلف شکلیں ہیں اور خالق حقیقی کے وجود کا ایک حصہ ہے۔ اس عقیدے کا اسلام کی اساس سے کوئی تعلق نہیں ، قران و حدیث میں اس کا کوئی حوالہ نہیں ملتا اور اکثر مسلمان علماء اس عقیدے کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ چونکہ اس عقیدے کی ابتدا مسلم صوفیا کے یہاں سے ہوئی اس لیے اسے اسلام سے متعلق سمجھا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت کے لیئے، توحید ایک سائنس، منظم علم الہیات ہے جس کے  ذریعے خدا کے بارے میں بہتر علم تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے-
بائبل اور توحید:
خدا کا وجود بائبل میں ایک ابدی موجود  حقیقت کے طور پر مانا جاتا ہے- خدا کوثابت کرنے کے لئے بائبل میں کہیں کوئی دلیل نہیں ہے- رسولوں اور نبیوں کی طرف سے پیروکاروں کو مطمئن کرنے کے لئے معجزے اور نشانیاں کافی سمجھی جاتی تھیں-  تاہم اس کے باوجود مصر سے معجزانہ حالات میں محفوظ نکلنے کے بعد، فوری طور پر  اسرائیلی بچھڑے کی پرستش میں مشغول ہو گئے-  بائبل کے مطابق  جس نے خدا کی سچائی کا انکار کیا وہ کم  عقل ہے :
"بے وقوف شخص اپنے دل میں کہتا ہے ، “ کو ئی خدا نہیں ہے۔   احمق لوگ تو ایسے عمل کرتے ہیں جو کہ گندے اور نفرت انگیز ہو تے ہیں۔ وہ کبھی کوئی بھلا کام نہیں کر تے۔"(زبور 14:1)
"خدا وند اسرائیل کا بادشاہ ہے۔ خدا وند قادر مطلق اسرائیل کی حفاظت کرتا ہے۔ خدا وند فرماتا ہے، ’میں ہی اول ہوں میں ہی آخر ہوں۔ میرے علاوہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے"۔( 44:6یسعیاہ)
پرانے عہد نامہ کے ساتھ ساتھ نئے عہد نامے میں ' پہلا حکم'  خدا کی کی وحدانیت کا اعلان کرتا ہے-
“سُنو ! اے بنی اسرا ئیلیو ! خداوند ہما را خدا ہے۔ خداوند ایک ہے !  اور تمہیں خداونداپنے خدا کو دل سے او ر رُوح سے محبت کرنا چا ہئے۔"  (استثناء 6:4، مرقس 12:29)
"تب یسوع نے کہا، “سب سے اہم حکم یہ ہے اے بنی اسرائیلیو سنو، خداوند ہمارا خدا ہی صرف ایک خداوند ہے۔"(مرقس 12:29)
“وہ ( خداوند) ہماری چٹان ہے،  اس کے تمام کام کا مل ہیں۔   کیوں کہ اس کے تمام راستے سچ ہیں!وہ بُرائی نہیں کرتاہے۔ خدا اچھا اور وفادار ہے"۔(استثناء 32:4)
خدا کی لامحدود یت کی واضح نشاندہی کی جاتی ہے:
"تب موسیٰ نے خدا سے کہا، “اگر میں بنی اسرا ئیلیوں کے پاس جا ؤں گا اور اُن سے کہوں گا ' تم لوگوں کے باپ دادا کے خدا نے مجھے ے تمہا رے پاس بھیجا ہے ، ’ تب لوگ پو چھیں گے ، اُس کا کیا نام ہے ؟ میں اُن سے کیا کہوں گا ؟”تب خدا نے موسیٰ سے کہا، “تب ان سے کہو ، ’ میں جو ہوں سو میں ہوں۔ ' جب تم بنی اسرائیلیوں کے پاس جا ؤ تو اُن سے کہو، ’ میں جو ہوں ' خداوند نے مجہے تم لوگوں کے پاس بھیجا ہے۔” خدا نے موسیٰ سے یہ بھی کہا، “لوگوں سے تم جو کچھ کہو گے وہ یہ ہے :” یہواہ( خداوند)” تمہا رے باپ دادا کا خدا ، ابراہیم کا خدا ، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہے۔ میرا نام ہمشہ یہواہ( خداوند) رہے گا۔ اسی طرح لوگ مجہے صرف اسی نام کے ساتھ نسل در نسل یاد رکھیں گے۔ لوگوں سے کہو خداوندنے مجہے تمہا رے پاس بھیجا ہے۔”(خروج 3:13،14)
جب موسی نے خدا سے پوچھا کہ وہ کون ہے؟  جواب آیا مت فکر کرو کہ میں کون ہوں! اپنے کا م سے کام رکھو-
خدا کی فطرت پر کوئی بحث کی ضرورت نہیں اور یقینی طور پراس کے نام کے ساتھ کوئی گڑبڑ کرنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ مشرکین جب اپنے دیوتاؤں کے ناموں کو پکارتے تہے- یہواہ( خداوند) بلا شک بلا شرط ایک واحد ہے: " میں جو ہوں سو میں ہوں۔" وہ وہی ہے جو وہ اپنے لیئے پسند کرتا ہے-
خدا کی صفات کو کچھ نے 'مطلق' بیان کیا ہےجو اس کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں جیسے  یہوواہ، جاہ، وغیرہ یعنی وہ جو نام جو اس کے لئے استعمال ہوتے ہیں جب اس کا مخلوق سےتعلق منسوب کرتے ہیں- دوسروں نے صفات کو 'قابل انتقال' ( ommunicable') فرق سے سمجھا یعنی وہ صفات جو کسی حد تک مخلوق کو ودیعت کی جا سکتی ہیں: نیکی، پاکیزگی، حکمت، وغیرہ اور ('Incommunicable') 'ناقابل انتقال"' جو مخلوق کو ودیعت نہیں  کی جا سکتیں: آزادی، قیام، وسعت اور دوام-
کچھ لوگوں نے ان کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ان میں  'قدرتی اوصاف؛ ہمیشگی، عظمت وغیرہ اور اخلاقی؛ پاکیزگی، نیکی، وغیرہ- خدا کی صفات حضرت موسیٰ علیہ السلام  کی طرف سے اس طرح پیش  کی گئیں:
خداوند موسیٰ کے سامنے سے گزرا اور اُ سنے کہا، “یہواہ خداوند، رحمدل اور مہربان خدا ہے۔ خداوند جلدی غصّہ میں نہیں آتا ہے۔ خداوند عظیم محبت سے بھرا ہے۔ خداوند بھروسہ کر نے کے لئے ہے۔ خداوند ہزا روں نسلوں پر مہربانی کر تا ہے۔ خداوند لوگوں کو ان غلطیوں کے لئے جو وہ کر تے ہیں معاف کر تا ہے۔ لیکن خداوند قصورواروں کو سزا دینا نہیں بھو لتا۔ خداوند صرف قصوروار کو ہی سزا نہیں دیگا بلکہ اُن کے بچّوں اُن کے بیٹوں اور بیٹیوں کو بھی اُس بُری بات کے لئے تکلیف برداشت کرنا ہوگا جو وہ لوگ کرتے ہیں۔”(خروج ؛ 34:6،7)
بائبل میں خدا کو لافانی ( خروج33:27 ; زبور90:2 ), دائمی ، ہمیشہ زندہ (1- تیموتاؤس '1:17،6:16)، نور (یشیا ؛60:19، یعقوب؛ 1:17، 1یوحنا 1:15)، غائب (ایوب ؛23؛8،9)، لا تلاش (ایوب: 11:7;زبور 145:3; یسعیاہ:40:28 ، رومیوں :11:33 ) غیر فانی، بغیر صورت رومیوں ;1:23)، مکمل خود مختارملک ( دانیال ;4:25,35),عظیم طاقتور:ایوب ;36:5)، قادر مطلق(پیدائش 17:1;خروج ;6:3),عظمت اور جلال، علیم،خبیر(139:1-6;امثال;5:21),ہر طرف موجود(زبور ; 139:7;یرمیاہ؛;23:23) ابدی ,مکمل، مستقل ;102:26-27),بڑی عظمت والا (خروج  ;15:11;زبور;145:5),سب سے بلند، اعلی (زبور:83:18;اعمال;7:48), کامل(متی:5:48؛ ایوب ;36:4; 37:16) ,مقدس، پاک (زبور;99:9; یسعیاہ:;5:16), منصف؛(استثناء;32:4; ; یسعیاہ;45:21),سچا ،راست (یرمیاہ:10:10),عزت والا، بلند مرتبہ ، اچھا (25:8; 92:15),عادل،اچھا ( عذرا;9:15;زبور;25:8; 119:68،145:17)، نیک اور مقدس (متی:19:17) ,لاجواب، (یشیا ;44:7;رمیاہ:10:7), عظیم(زبور:86:10), احسان، رحمان (خروج:34:6,زبور;116:5) ,رحیم (خروج ;34:7،6 ) ,صبر، برداشت والا (گنتی:14:18;میکاہ:7:1)
غیور ،حاسد:  "تب یشوع نے کہا ،“یہ سچ نہیں ہے تم خدا وند کی خدمت جاری رکھنے سے معذور ہو۔ خدا وند پاک خدا ہے اور خدا اپنے لوگوں کے ذریعہ دوسرے خدا ؤں کی عبادت کرنے سے حسد (نفرت) کرتا ہے اگر تم اس طرح خدا کے خلاف ہو جاؤ گے تو خدا تم کو معاف نہیں کرے گا۔" (یشوع:24:19  ) خدا وند بہت غیرت مند اور انتقام لینے والا خدا ہے۔ خدا وند وہ ہے جو طیش میں بدلہ لیتا ہے۔  وہ اپنے مخالفوں سے بدلہ لیتا ہے اور اسکا غیض و غضب اسکے دشمنوں کے خلاف ہے۔ (ناحُوم;1:2)
رحیم: (دوئم سلاطین;13:23),اس کے علاوہ کوئی اور نہیں،لا شریک (استثناء;4:35;یشوع:44:6),اول، اس سے پہلے کوئی نہیں (یشوع:;43:10),اس کی طرح کوئی نہیں(خروج؛;9:14; استثناء;33:26، 2سیموئل;7:22;یشوع:46:5,9), زمین و آسمان اس سے معمور(2سلاطین;8:27;یرمیاہ;23:24)، روح اور سچائی سےعبادت  کرنا چاہئے(یوحنا;4:24), جلانے والی آگ (عبرانیوں:12:29).علم کل، ماضی و مستقبل(یسعیاہ;46:9،10،11) ، اکیلا معبود آسمان و زمین پر(نحمیاہ:;9:6;متی؛4:10)، اکیلا نجات دھندہ ( یسعیاہ;45:21-22)،  اکیلا معاف کرنے والا (میکاہ:7:18;مرقس؛2:7)، عالمگیر(ایوب:28:24;دانیال:2:22;اعمال:15:18) ، لامحدود:(زبور؛147:5;رومیوں;11:33)، حیرت انگیز،انسانی عقل سے ماورا(زبور;139:6 ،145:6) غیرمخلوق(ایوب؛21:22;یسعیاہ;40:12،13،14)، بت پرستی کی ملامت (خروج:20:3-5,استثناء:5:7،8،9)،
بائبل میں کچھ جگہ خدا کی، بعض صفات کا بیان اس کی مخلوق کی طرح ہے جو عظیم خالق اور پروردگار کی عظمت، وقار کے شایان شان نہیں-ایسی صفات بائبل میں دوسری جگہوں پر بیان کردہ صفات کی تردید کرتی معلوم ہوتی ہیں، مثلآ:
"اس دن شام کو ٹھنڈی ہوا ئیں چل رہی تھیں، خداوند خدا باغ میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ جب آدم ا ور اس کی عورت نے اس کی چہل قدمی کی آوا ز سُنی تو باغ کے درختوں کی آڑ میں چھپ گئے۔ خداوند خدا نے پکا ر کر آدم سے پو چھا ، “تو کہا ں ہے ؟”(پیدائش:3:8،9).
خدا کا ندامت محسوس کرنا: "خداوند کو بہت افسوس ہوا کہ اس نے لوگوں کو زمین پر پیدا کیا تھا۔ اس کی وجہ سے اس کے دِل میں بہت دُکھ ہوا۔"(پیدائش:6:6)
"اے یروشلم! تم نے مجہے چھو ڑا!   اس لئے میں سزا دوں گا اور تمہیں فنا کروں گا۔  میں تم پر رحم کرتے ہو ئے تھک گیا ہوں۔"(یرمیاہ:15:6 )
خدا نے انسان کواپنی صورت پر پیدا کیا(پیدائش:1;26-27,5:1)مگر دوسری جگہ پر :"خدا کی طرح کا کوئی نہیں" (یسعیاہ46:9)
اسلام مخلوق میں خدا کی جھلک یا مماثلت کو رد کرتا ہے:"یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کی"ا ( قرآن :95:4). کیونکہ:"اس کی طرح کا کوئی نہیں"( قرآن؛112:4)
خدا کا نائی کی طرح بال کاٹنا:
یہوداہ کو سزا دینے کے لئے خدا وند اسور کا استعمال کرے گا۔ اسور کو کرایہ پر لیگا اور اسے استرے کے طور پر استعمال کرے گا یہ ایسا ہوگا جیسے خدا وند یہوداہ کے سر اور پاؤں کے بال مونڈ رہا ہو۔ یہ ایسا ہوگا جیسے خدا وند یہوداہ کی داڑھی مونڈ رہا ہو۔"(یسعیاہ;7:20)
خداکا موسیٰ علیہ السلام کو اپنی پشت دکھانا: "تب میں اپنا ہاتھ ہٹا لوں گا اور تم میری پشت کو دیکھو گے لیکن تم میرا منھ نہیں دیکھ پاؤ گے۔”(خروج :33:23 )
میں جال میں تھا اور میں نے خداوند کو مدد کے لئے پکا را۔
"ہاں میں نے خدا کو پکا را۔ خدا اپنے گھر میں تھا اس نے میری آواز سنی۔ اسنے مدد کے لئے میری چیخ سنی۔ تب زمین ہل گئی زمین دہل گئی۔  جنت کی بنیادیں ہل گئیں۔   کیوں ؟ کیوں کہ خداوند غصّہ میں تھا! دھواں خدا کی ناک سے نکلا۔  جلتے ہو ئے شعلے اس کے مُنھ سے آئے۔  جلتی ہو ئی چنگا ریاں اس سے نکلیں۔ خداوند نے آسمان کو پھا ڑ کر کھو لا اور نیچے آیا!  وہ گھنے اور سیاہ بادل پر کھڑا ہوا! وہ کروبی فرشتوں پر  اور ہوا پر سوار ہو کر اڑرہا تھا۔"(2سموئیل:22:7,11) )
کچھ جگہوں پرخدا کی متضاد صفات موجود ہیں،کچھ  جگہ خدا کہ رہا ہے کہ  کوئی اس کونہیں دیکھ سکتا:"کسی نے کبھی بھی خدا کو نہیں دیکھا"(یوحنا:1:18)- )
"خدا ہی ہے جو لا فانی ہے خدا روشنی میں ہے اور ایسے نور کی چمک ہے کہ کوئی بھی اسکے قریب نہیں جا سکتا۔ کسی بھی آدمی نے خدا کو کبھی نہیں دیکھا کوئی بھی آدمی اسکو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے۔(۱ تِیمُتھِیُس:6:16)
"لیکن تم میرا منھ نہیں دیکھ سکتے۔ کوئی بھی آدمی مجہے نہیں دیکھ سکتا اورا گر دیکھ لے تو زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔" (خروج:33:20)
ان سے دوسری آیات متصادم ہیں:
"پہاڑ پر ان لوگوں نے اسرائیل کے خدا کو دیکھا۔ اسکے پیڑ کے نیچے کچھ ایسی چیزیں تھیں جو نیلم سے بنے چبوترے جیسی دکھا ئی پڑ تی تھیں۔ ایسا شفاف تھا جیسے آسمان۔ “بنی اِسرائیل کے تمام قائدین نے خدا کو دیکھا لیکن خدا نے انہیں تباہ نہیں کیا تب انہوں نے ایک ساتھ کھا یا پیا۔”(خروج:(24:10,11
"خدا وند موسیٰ سے روبرو بات کر تا تھا۔ جس طرح کوئی آدمی اپنے دوست سے بات کرتا ہو۔")خروج:(33:11
ایک بہت عجیب واقعہ مروی ہے کہ یعقوب (علیہالسلام ) نے خدا کے ساتھ کشتی اور غالب ہے کہ:
"اس لئے یعقوب اکیلا رہ گیا تھا، اور ایک آدمی آیا اور ان کے ساتھ سورج طلوع ہو نے تک کُشتی لڑتا رہا۔ اُس آدمی نے یہ محسوس کیا کہ میرا یعقوب کو شکست دینا نا ممکن ہے تو اُس آدمی نے یعقوب کی ران کو چھُو لیا۔ تو یعقوب کے پیر کا جوڑ چھوٹ گیا-اُس آدمی نے یعقوب سے کہا ، “مجھے جانے دے، سورج طلوع ہو گیا ہے۔” لیکن یعقوب نے کہا کہ جب تک تو میرے حق میں دعا نہ دیدے میں تجہے نہیں چھو ڑوں گا۔ اُس آدمی نے اُس سے پو چھا، “تیرا نام کیا ہے ؟”اُس پر یعقوب نے جواب دیا کہ میرا نام یعقوب ہے۔ تب اُس آدمی نے کہا کہ اِس کے بعد تیرانام یعقوب نہ رہیگا، بلکہ “ اسرائیل” ہو گا۔ اور میں نے تجھے یہ نام دیا ہے ، کیوں کہ تو خدا سے اور آدمیوں سے لڑا ہے۔ اور غالب ہوا۔ یعقوب نے اُس سے پو چھا کہ برائے مہربانی تو اپنا نام تو بتا۔ اُس پر اُس آدمی نے جواب دیا کہ میرا نام پوچھنے کی کیا وجہ ہے یہ کہتے ہو ئے یعقوب کو دعا دی۔ اِس وجہ سے یعقوب نے کہا کہ اِس جگہ پر میں نے خدا کو آمنے سامنے دیکھا ہے اِس کے با وجود بھی میری جان بچی یہ کہتے ہو ئے اُس نے اُس جگہ کا نام “فنی ایل ” رکھا۔(پیدائش: 32:22-32)
شرک :
"اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی پرستش کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا اور کیا ہے؟ کہ وہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نہیں اتاری ہے فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے، اسی نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی دینِ مستقیم (سیدھا دین) ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں"(قرآن 12:40)
توحید کے مخالف شرک ہے- خدا کے ساتھ شراکت داروں یا دوسرے دیوتاوں کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے-  شرک کو اسلام کی طرف سے کسی بھی مسترد عقیدے یا پریکٹس کے مترادف سمجھا جاتا ہے. قرآن نے   زور دیا ہے کہ خدا کسی بھی ہستی کے ساتھ اپنے اختیارات کا اشتراک نہیں کرتا:
"اے محمدؐ، اِن سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے(قرآن:7:33)
"اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسرا خدا اُس کے ساتھ نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق کو لے کر الگ ہو جاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں (23:91قرآن)
شرک کی مختلف اقسام ہیں،مگر حقیقت میں اس کی دو بڑی قسمیں ہیں: "شرک اكبر" اور "شرک اصغر"، شرک کبھی خفی بھی ہو سکتا ہے اور کبھی جلی بھی۔
"شرک اکبر"میں عبادات کی ساری قسموں کو يا بعض عبادات کو غیر اللہ کی طرف پھيرنا شامل ہے، یا ایسی چیز کا انکار جن کا وجوب اللہ تعالی کے دین سے ضروری طور پر معلوم ہو، یا ایسی چیز کے انکار پر مشتمل ہے جسے اللہ نے حرام کیا ہے، جن کی حرمت دین میں ضروری طور پر معلوم ہ- خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت کو جائز سمجھنا بھی شرک ہے-
"شرک اصغر" میں وہ تمام امور ہيں جن کا نصوص سے شرک نام رکھنا ثابت ہے، لیکن "شرک اکبر" کے درجہ تک نہیں پہنچتے ہیں، تو اسے شرک اصغر کہا جاتا ہے مثلا: ريا و نمود اور شہرت طلبی، اسے شرک خفی بھی کہا جاتا ہےجو شرک اصغر ہی میں شامل ہے، اور یہ کبھی مخفی بھی ہوسکتا ہے؛ کیونکہ اس کا تعلق دل کے ساتھـ ہے-
مسلمان مکمل طور پر شرک و کفر کی تمام اقسام کو مسترد کرتے ہیں، وہ خالص توحید؛ ایک خدا، عظیم، اکبر،ابدی لامحدود اور غالب، مہربان، شفقت والا، خالق اور رب  پر ایمان رکھتے ہیں- خدا کا نہ باپ، نہ ماں اور نہ ہی کوئی بیٹا ہے نہ وہ کسی کا باپ ہے- کوئی نہ تو اس کے برابر ہے نہ اس کا حصہ دار-  اللہ آدم، نوح، ابراہیم، موسی، عیسی اور تمام انسانوں، مخلوقا ت اور کائنات کا خدا ہےوہ  کسی ایک خاص قبیلے یا نسل کا خدا نہیں- وہ تمام بنی نوع انسان اور  مخلوق کا خالق اوررب ہے-وہ عیسائیوں، یہودیوں، مسلمانوں، بودھوں، ہندوؤں، ملحد وں اور تمام مخلوق  کا خدا ہے-
الله کی  نعمتیں اس دینا میں تمام  مومنوں  اور کافروں کے لئے بطور امتحان مہیا ہیں جو اس کی حکمت اور منصوبہ بندی کا حصہ ہے، لیکن آخرت میں حساب کتاب کے بعد صرف مومنین ان کے حقدار ٹہریں گے-  لہذا ہر مؤمن کے لئے واجب ہے کہ شرک سے خبردار رہے ، اور شرک کی ان تمام اقسام سے دور رہے، خاص طور پر شرک اکبر سے، کیونکہ یہ اللہ تعالی کی نافرمانی میں سب سے بڑا گناہ ہے، اور مخلوق میں واقع ہونے والا سب سے بڑا ناقابل معافی جرم ہے-



نظریہ تثلیث :
مسیحیت کی بنیاد ایک انتہائی پیچیدہ نظریہ" تثلیث" کو توحید کے طور پرپیش کیا جاتا ہے جو واضح طور پر 'عہد نامہ قدیم' اور حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات کے سے مکمل انحراف ہے- لفظ " تثلیث" بائبل  میں موجود نہیں- دوسری صدی عیسوی میں اس نظریہ کے ارتقاء کا آغاز ہوا- دوسری صدی کے آخر میں پہلی مرتبہ انطاکیہ کے تھیوفلس کی تحریروں میں  " تثلیث" کا لفظ  استعمال ہوا- 325ء میں قسطنطین بادشاہ نے مسیحیت کو سرکاری مذہب قرار دیا تو اس وقت اس نے ایک عالمگیر کونسل  (council) بلوائی جس کا مقصد انجیل کو مدون و مرتب کرنا، اسی کونسل میں تثلیث کو مسیحیت کا بنیادی عقیدہ قرار دیا گيا۔ یہ کونسل نیقیہ میں منعقد ہوئی جو آج کل ترکی کا حصہ ہے۔ اسی نسبت سے اسے نیقیہ کونسل  (Council of Nicaea)  کہا جاتا ہے۔  آریوس (Arius) اسکندریہ، مصر میں شمالی افریقی عیسائی پروہت اور پادری تھا -آریوس (256-336ھ) عیسائی مذاہب میں سے آریوسی مذہب (Arianism) کا موجد ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ عیسی علیہ السلام معبود نہیں بلکہ اللہ (باپ) کی طرف سے پیدا کیا گیا ہے تو حضرت عیسی علیہ اسلام اللہ کے ساتھ اسکی فطرت میں شریک نہیں بلکہ ان کے درمیان تبنی (بیٹا ہونے) کا تعلق اور نسبت ہے-آریوس نے اس بات پر زور دیا کہ عیسی علیہ السلام اللہ کی مخلوق ہیں نیز کہا کہ  مخالفین  کے نظریات بت پرستوں کے نظریت سے ملتے جلتے ہیں- کونسل نے آریوس کے عقیدہ کو رد کر کے تثلیث کو قبول کر لیا اور کئی اناجیل کو بھی بدعتی اور غیر مسلمہ قرار دیتے ہوئے ان کو پڑھنے سے منع کر دیا۔ تثلیت کا مطلب ہے ”ایک میں تین” اور ”تین میں ایک“۔ عیسائی خدا کو ایک ہی مانتے میں مگر ایک میں تین ہستیوں کو شامل کرتے ہیں۔ اس عقیدے کو ایک لفظ میں سمونے کے لیے عیسائیت کے اولین علماء نے لفظ "تثلیت" (Trinity) استعمال کیا۔ جن تین ہستیوں کو اس ایک میں شامل کیا جاتا ہے وہ اس طرح ہیں۔ (1)خدا، (2) عیسیٰ علیہ السلام (3) روح القدس-  جس " توحید" کو حضرت ابراہیم نےاپنایا اور تبلیغ کی، جس کو یہودی، مسلمان اور مسیحی ماننے کا دعوی دعویٰ کرتے ہیں  "تثلیت" اس کے الٹ ہے-
بائبل کے تحقیقی ، تجزیاتی جائزے سے مندرجہ ذیل نتائج ظاہر ہوتے ہیں:
بائبل کی اصطلاحات؛ 'باپ' (خدا کے) اور 'خدا کا بیٹا' (خدا کے قریب، پیارا) کا استعمال عبرانیوں اور بائبل کے متن کے میں اس کے استعمال کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے. عبرانیوں کا ایمان تھا کہ خدا (معبود) ایک ہی ہے اور کسی بھی لغوی معنی میں نہ تواس کی  بیوی ہے اور نہ ہی بچے، اس وجہ سے بائبل میں 'خدا کا بیٹا' محض مراد ہے کہ 'خدا کا بندہ'،ایسا شخص جو خدا کا وفادار غلام ہونے کی وجہ سے خدا کے قریب اور خدا کو پیارا ہوجیسا کہ ایک باپ کوفرمانبردار بیٹا پیارا ہوتا ہے-  بعد میں یونانی اور رومن پس منظر سے شامل ہونے والے عیسائیوں نے بائبل کی  ان مروجہ اصطلاحات کا غلط استعمال کیا-
نئے عہد نامےمیں سترہ جگہ 'باپ' کی اصطلاح 'خدا' کے معنی میں استعمال ہوتی ہے، جبکہ ایک عبارت بھی ایسی نہیں جس میں بیٹا اس معنی میں استعمال ہوا ہو-
 320جگہ "باپ" بلکل واضح طور پر"خدا"کے لیئے استمعال ہوا، جبکہ ایک مرتبہ بھی "بیٹا "اس معنی میں استعمال نہیں ہوا-
105جگہ ''باپ" اعلی خطابات کے ساتھ خدا کے لیئے استعمال ہوا مگر ایک مرتبہ بھی 'بیٹا' اس طرح نہیں استعمال ہوا-
واضح طور90 جگہ حکم ہے کہ تمام تعریفیں اور عبادت صرف اس (خدا ) کے لینےہیں اور تمام عزت اور جلال بھی اسی کے لئیے ہے- بیٹے کے لئیے ایسا کوئی حکم نہیں-
عہد نامہ جدید میں 1300مرتبہ لفظ 'خدا' کا ذکر ہوا مگر کسی جگہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں نکل سکتا کہ 'خدا'،  باپ سے علیحدہ کوئی ہستی ہے یا کہ 'خدا' کی ذات میں ایک سے زیادہ ہستیاں شامل ہیں-
ایسی آیات یا مجموعہ کلام کی تعداد 300 ہے ، جہاں 'بیٹا' واضح طور پر 'باپ' کا ماتحت  بیان کیا گیا ہے اور وہ 'باپ' سے اپنے وجود کا محتاج ہے ، اس ('باپ') سے طاقت حاصل کرتا ہے اور تمام کاموں میں ''باپ" کی مرضی کے مطابق عمل کرتا ہے-
یونانی رومن ورثےاور روایات میں، 'خدا کا بیٹا' کا مطلب ہے کہ خدا کا اوتار، یا دیوتا اور دیویوں کے جنسی تعلقات سے ایک اور دیوتا یا دیوی کی پیدائیش-
جب چرچ نے عبرانی بنیادی روایات کو ایک طرف پھینک دیا تو پھر انہوں نے کافرانہ، مشرکانہ 'خدا کا بیٹا' کا نظریہ اپنا لیا، جو کہ عبرانی استعمال سے بالکل مختلف تھا اس کا مقصد نئے مذہب ( مسیحیت) کوغیر یہودی بت پرست کافروں کے لیئے آسان،مانوس اورقابل قبول بنانا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ بت پرستوں  کو مسیحی بنایا جا سکے- لہٰذا بائبل کی اصطلاح 'خدا کا بیٹا' کا استعمال عبرانیوں میں اس کے علامتی، متشابہ استعمال: 'خدا کا غلام ، خدا کے قریب' سمجھنا چاہیےنہ کہ لغوی معنوں میں جیسا کہ ،بت پرست کافر' دیوتاؤں کی اولاد'  پر یقین رکھتے تہے- انجیل  مقدس میں عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں: "مبارک ہیں وہ لوگ جو صلح کراتے ہیں، وہ تو خدا کے بیٹے کہلائیں گے۔"(متی:5:9)
بائبل (عہد نامہ قدیم اور جدید)  میں 'خدا کا بیٹا'   کی اصطلاح علامتی طور پر استعمال ہوئی  نہ کہ لغوی پر - فرشتوں کو،آدم، اسرائیل قوم کو خدا کا بیٹا کہا گیا:(ہوسیع؛1:10،یرمیاه؛31:9، ایوب؛2:1، پیدائیش؛6:2،استثناء: 14:1، خروج:4؛22،23، 2سیموئل؛8:13،14،زبور:2:7،ایوب؛1:6،لوقا؛9:22،3:38،، 4:41)، مسیحی بھی خدا کے بیٹے کہلائے (یوحنا:12؛1)-
باپ: اسی طرح  اصطلاح ''ابا" ، (پیارا باپ) یسوع مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) نے حیاتیاتی باپ کے طور پر نہیں بلکہ 'خدا'، 'رب' کے طور پر استعمال کی:
"کیوں کہ وہ روح جو تمہیں ملی ہے تمہیں غلام نہیں بناتی۔ جس سے ڈر پیدا نہیں ہوتی۔ جو روح تم نے پا ئی ہے تمہیں خدا کے چنے ہوئے اولاد بناتی ہے اس روح کے ذریعہ ہم پکار اٹھتے ہیں “ اباّ، اے باپ!”(رومیوں:8:15)
" وہ مجھ سے کہے گا، “ تو میرا باپ ہے۔ تو میرا خدا، میری چٹان میری نجات ہے۔”(زبور:89:26)
"اس لئے جیسا کہ تمہارا باپ آسمانوں میں ہے اسی طرح تم کو بھی کامل بننا چاہئے۔"(متی:5:48)
اسی طرح بائبل میں  کیئ جگہ خدا کو ''باپ" کھا گیا ہے (متی:5:16,45,48, 6:1,6,8,9,32, 7:11,21, 10:32,33,زبور:89:26،یوحنا:5:30, 5:37, 14:16, 20:17، 2سیموئل: 7:14)
اس کے علاوہ لفظ 'باپ' بائبل میں علامتی طورپر؛ تعظیم، 'رسول' اور 'تسلط' کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ہے:حضرت یوسف علیہ السلام کو فرعون کا باپ کہ گیا (پیدائیش:45:8)؛ ابراہیم علیہ السلام کو اقوام کا باپ کہ گیا (پیدائیش:17:5) اور حضرت ایوب علیہ السلام  کو ضرورت مندوں کا باپ کہا گیا (ایوب:29:16)
زبور: 110سے مسیحی فقہاء  بلواسطہ طور پر یسوع کو ہمیشہ کے لئے، پادری یا پجاری کا باپ بھی کہا جاتا ہے.
اعلیٰ کاہن ملک صدق صرف ایک ایسا شخص ہے جس کو قطعی طور پر  خدا جیسی صفات سے بیان کیا  گیا ہے:
ملک صدق سالم کا بادشاہ اور خدا تعالیٰ کا کاہن تھا جب ابراہیم بادشاہوں کو شکشت دیکر واپس آرہے تہے تو ملک صدق ابراہیم سے ملا اس دن ملک صدق نے ابرا ہیم کو مبارک باد دی۔ اور ابرا ہیم نے ملک صدق کو اپنے پاس کی سب چیزوں کا دسواں حصہ نذر کیا۔ ملک صدق کے دو معنی ہیں پہلا معنی “راست بازی کا بادشاہ” اور دوسرا “سالم کا باد شاہ” یعنی “سلامتی کا بادشاہ۔” کو ئی نہیں جانتا کہ اس کا باپ کون تھا اور ماں کون تھی۔ یا وہ کہا ں سے آیا تھا یا وہ کب پیدا ہوا تھا اور کب وہ مر گیا۔ ملک صدق ایک خدا کے بیٹے کی مانند ہمیشہ کے لئے اعلیٰ کاہن ٹھہرا۔  پس تم غور کرو کہ وہ کیسا عظیم تھا ملک صدق کو ابراہیم عظیم بزرگ نے اپنے مال کا دسواں حصّہ عطیہ میں دیا تھا جو اس نے جنگ میں جیتا تھا۔  شریعت کے قانون کے مطا بق لاوی کے قبیلے کے لوگ کاہن ہو تے ہیں اور وہ لوگوں سے دسواں حصّہ وصول کر تے ہیں اور کاہن یہ سب ان کے اپنے لوگوں سے وصول کرتاہے اگر چہ کہ دونوں ہی یعنی جن کاہنوں کا تعلق ابراہیم کے خاندان سے ہی کیوں نہ ہو۔(عبرانیوں7:1،2،3،4). لغوی طور پر یہاں ملک صدق یسوع مسیح سے بلند مرتبہ معلوم ہوتا ہے-
ابتدائی مسیحیوں نے تثلیث کے نئے نظریے کو مسترد کر دیا مگر   عیسائیت میں تثلیث کے عقیدہ کے مطابق، خدا لفظی بیٹے یعنی یسوع مسیح کی شکل میں ایک انسان کا  روپ بن گیا-  اس "تثلیثی توحید" کو  بنیادی عیسائی مذاہب اور کئی عیسائی فرقوں کی طرف سے مسترد کر دیا گیا مگر طاقت کے زور پر اس کو امپائیر میں نافذ کر دیا گیا -  نیقیہ کی کونسل (325) نے آریوس کی مذمت کی اوربیٹے  کو والد کے ساتھ ایک مادہ قرار دیا- اگلے 50 سال تک آریان ازم کے متعدد محافظ  تھے  لیکن جب  روم میں مسیحی گرا ٹتین اور  تھیوڈوسس شہنشاہوں نے اقتدار سنبھالا تو بلآخر وہ  ختم  ہو گئے- قسطنطنیہ کی پہلی کونسل (381) نے نیقیاس عقیدہ( Nicene Creed)کی  منظوری دے دی اور اریان ازم Arianism  کو کالعدم کر دیا-
تاہم یہ نظریہ جرمن قبیلوں میں ساتویں صدی کے دوران تک جاری رہا ،اسی طرح کے عقائد 'یہوواہ کے گواہوں' (Jehovah's Witnesses) اور'خدا کی وحدانیت , توحید پسند' (Unitarianism) کے پیروکاروں میں آج تک پا ئےجاتے ہیں-
سخت 'یونیٹیرین' مسیحی (وحدانیت پسند) خدا (باپ)  کی وحدانیت پر مکمل یقین رکھتے ہیں-ان کے عقیدہ میں؛ نجات تمام بنی نوع انسانی کو ملے گی، اور یہ کہ ایمان اور اعمال کا بنیادی معیار، عقل اور شعورہے-جبکہ کچھ دوسروں کے خیال میں یسوع مسیح ایک تخلیق شدہ معبود ہے-
'یہوواہ کے گواہوں' (Jehovah's Witnesses)میں مذہبی طور پر یسوع ('کلام'Logos) کی پرستش نہیں، مگر ان کا عقیدہ ہے کہ 'باپ' نے دنیا کو 'کلام' (Logos) سے پیدا کیا-
بہت تعجب کی بات ہے کہ چرچ کی بنیادی تعلیمات مثلآ، 'تثلیث'  اور 'متبادل کفارہ' کا بائبل میں ذکرنہیں پایا جاتا- پوری بائبل میں ایک بھی غیر مبہم بیان نہیں ہےجس میں یسوع مسیح خود کہے کہ:"میں خدا ہوں" یا وہ کہے کہ، "میری عبادت کرو" بلکہ اس نے کہا"نیکی کی بابت تو مجھ سے کیوں پو چھتا ہے ؟ خداوند خدا ہی نیک اور مقدس ہے۔ اگر تو ہمیشگی کی زندگی کو پانا چاہتے ہو تو حکموں پر عمل کر۔”(متی:19؛17)
مسحیت کے بنیادی عقیدہ "تثلیث" کےوجود کو ثابت کرنے کے لیےپوری بائبل میں صرف ایک آیت ہے  (اگرچہ بہت دوسری آیات کو توڑ مروڑ کر مطلب کی تشریح حاصل کی جاتی ہے )جس کی تشریح کے سہارے اس مسیحی عقیدے کو تسلیم کرنے میں مدد لی جاتی ہے:
“For there are three that bear record in heaven, the Father, the Word, and the Holy Ghost: and these three are one. And there are three that bear witness in earth, the Spirit, and the water, and the blood: and these three agree in one.”(1John:5;7,8,9-Authorized King James Version)
اس کے اردو میں تراجم اس طرح ہیں:
"جنت میں تین ریکارڈ برداشت کرتے ہیں، باپ، کلام اور روح القدس؛ اور یہ تینوں ایک ہیں ."(یوحنا کا پہلا خط؛ 5: 7،8).
کچھ جلدوں میں اس آیت کو اس طرح  لکھا ہے: ' زمین پر تین گواہوں میں، روح، پانی اور خون ہیں؛ اور تینوں 'اتفاق کرتے ہیں".
"اس طرح تین گواہ ایسے ہیں جو ہمیں یسوع کے متعلق کہتے ہیں ، روح ،پانی اور خون۔ یہ تینوں گواہ اقرار کر تے ہیں۔")1یوحنا:(5:7,8
'نئے بین الاقوامی ورژن بائبل' (New International Version Bible') میں اس آیت کے فٹ نوٹ میں لکھا ہے؛ "سولہویں  صدی سے پہلے کسی بھی یونانی مسودات نہیں پائ گیئی-.
ڈاکٹر سکوفیلڈ، (Dr C.I, Scofield، D.D). اس آیت کے فٹ نوٹ میں آٹھ دیگرآٹھ ماہرین الہیات  کی حمایت سے  رائے دیتا ہے:
"It is generally agreed that this verse has no manuscript authority and has been inserted."
"عام طور پراس بات پراتفاق ہے کہ اس آیت کی (قدیم) مسودات سے تصدیق نہیں ہوتی اوراس کو (بعد میں ) ڈالا گیا ہے-"
بنیاد پرست عیسائی اب بھی اس من گھڑت  پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ بائبل کےاکثر جدید تراجم میں اس مقدس دھوکہ کوحذف کردیا گیا ہے یا فٹ نوٹ میں لکھ دیا-
اس کے برعکس یسوع مسیح نے یہ بھی کہا کہ: "اے بنی اسرائیلیو سنو، خداوند ہمارا خدا ہی صرف ایک خداوند ہے۔ (مرقس:(2:29
حقیقت یہ ہے کہ اصل میں بائبل کی مختلف آیات  یسوع کے  اصل مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہیں؛ جو کہ شریعت حضرت موسی علیہ السلام کے  احکام وحی کو پورا کرنے کے لئے تھا (متی: 5:17,18,19)
درحقیقت حضرت عیسی (علیہ سلام) نےکسی بھی ایسی تجاویز کو مسترد کیا جن سے ان پر الوہیت منسوب کی جا سکتی ہو- انہوں نے  واضح کیا کہ  ان کےمعجزات ایک سچے خدا کی طاقت سے وقوع پزیر ہوتے ہیں: حضرت عیسی (علیہ سلام) نے اسی پیغام توحید کااعادہ کیا جو پیغام خدا کے پہلے انبیاء نے دیا تھا-
Read More:
https://goo.gl/D2ildr  
http://bible-christianity.blogspot.com/2014/01/Trinity.html

اسلام  مکمل طور پرتثلیث کو رد کرتا ہے، قرآن میں ذکر ہے:
"یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے، حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اگر یہ لوگ اپنی اِن باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اُس کو درد ناک سزا دی جائے گی "( قرآن؛ 5:73)
"اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو مسیح عیسیٰ ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک ( وَكَلِمَتُهُ) فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے (جس نے مریم کے رحم میں بچہ کی شکل اختیار کی) پس تم اللہ اور اُ س کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ "تین" ہیں باز آ جاؤ، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے وہ بالا تر ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی مِلک ہیں، اور ان کی کفالت و خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے "( قرآن:4:171)
علامہ محمداسد منطقی طور پراس آیت کی  وضاحت کرتےھیں:"اس (خدا)کے کلمات جو مریم کو پہنچاےگئےاور روح جو اس کی طرف سے تھی". امام طبری کے مطابق "لفظ" (کلمہ)ایک "اعلان" (رسالہ)تھا جس کوخوشخبری کے ساتھ حضرت مریم (علیہ السلام) تک پہنچانے کا کام  فرشتے کو دیا گیا تھا:
"اور جب فرشتوں نے کہا، "اے مریمؑ! اللہ تجہے اپنے ایک فرمان کی خوش خبری دیتا ہے اُس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا، دنیا اور آخرت میں معزز ہوگا، اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا" (قرآن :3:145)
اس طرح سے " وَكَلِمَتُهُ"( قرآن؛4:171)کا مطلب اس کے وعدہ کی تکمیل تھی-
جہاں تک اقوال: 'اپنی طرف سے ایک روح' یا  'وہ اس کی تخلیق' کا تعلق ہے،یہ بات قابل ذکر ہے کہ مختلف معانی میں سے لفظ ''روح" کا قرآن میں مطلب ہے (وحی : قرآن;2:87،253 ) یہ" زندگی کا بنیادی سانس"روح" یا "سپرٹ"ہے- لہٰذا قرآن 32:9 ، جہاں مکرر انسانی  ارتقاء میں  انسانی جینین کا ذکر ہے: "پھر وہ اس (انسان)کو بناتا ہے اور اس میں اپنی روح پھونک دیتا ہے"- اس طرح سے وہ اس کوحیوانی لوتھڑ ے سے ؛''ہوش مند" وجود بنا دیتا ہے، جو انسان کو خدا کا عظیم تحفہ ہے، اس لیے اس کو 'روح کا سانس' کہا گیا- آیت "( قرآن؛ 4:171) میں خالصتاً یسوع کی انسانی فطرت پر زور دیااور اس کی الوہیت کا مکمل رد کیا- قرآن واضح کرتا ہے کہ یسوع، دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھا، 'ایک روح جوخالق نے تخلیق کی"-
الله نے انسانوں کی تخلیق کے بعد انکو قبائل اور اقوام میں تقسیم کر دیا:
"لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو  در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے" ( قرآن 49:13)
اس نے پیغمبروں کے زریعے رہنمائی مہیا کی:
“ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کر دیا کہ "اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو" اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہو گئی پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہو چکا ہے" (16:36قرآن)
اسی لیے میں بڑے مذاہب کی  مُقدّس کتابوں میں اب بھی توحید  کے نشانات پائے جاتے ہیں،  لوگ اس پر عمل پیرا نہیں-
ہندومت عام طور پر ایک مشرکانہ مذہب سمجھا جاتا ہے، کیونکہ عام طور پر دیکھا جا تا ہے کہ  ہندوبہت سے معبودوں کی عبادت کرتے ہیں- تاہم وہ  ہندوجواپنی مقدس کتابوں کا علم رکھتے ہیں وہ اس پر اصرارکرتے ہیں کہ ہندووں کو ایک خدا پر ایمان اورایک خدا کی عبادت کرنا چاہیئے، جیسا کہ درج ذیل عبارات سے ظاہر ہے:
1.       "جن کی  فہم مادی خواہشات نے سلب کر لی ہے، انہوں نے دیوتا ؤوں (اوتاروں) کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور پھر اپنی مرضی کے مطابق پوجا کے اصول بنا لیئے ہیں"(بھگودگیتا :7:20 )
2.       "وہ صرف ایک ہے کسی دوسرے کے بغیر"(چندو گیا اپنشد ;6:2:1)
3.       "نہ ہی اس کے ماں باپ ہیں اور نہ ہی کوئی خدا"(سویت سواترا اپنشد6:9)
4.       "اس جیسا کوئی نہیں ہے"(سویت سواترا اپنشد4:19)
5.       "اس کا پیکرنظر نہیں آتا، کوئی اس کو آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا- جو اسے دل اور دماغ سے دیکھتے ہیں وہ ان کے دل میں رہ کر انہیں لا فانی بنا دیتا ہے"(سویت سواترا اپنشد; 4:20)
6.       "اس کا کوئی عکس نہیں"(یجروید;32:3)
7.       "وہ بے جسم اور خالص ہے" "(یجروید;40:8)
8.       "جو قدرتی مظاھر کی پوجا کریں گے، اندھیرے میں داخل ہوں گے'مثلآ ہوا ،پانی اور آگ وغیرہ'-جو سنبھوتی کی عبادت کریں گے، اندھیروں کی مزید گہرائی میں غرق ہو جایئں گے" سنبھوتی کا مطلب اشیا کی تخلیق ہے مثلآ کرسی، میز اور بت وغیرہ بنانا' (یجروید;40:9)
9.       “وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا، وہی ہماری عبادت کا مستحق ہے- اس کا کوئی عکس نہیں اور یقیناّ اس کی شان سب سے بلند ہے- وہ خود کو سورج وغیرہ میں قائم رکھ سکتا ہے، شائید  وہ  مجہے نقصان نہ پہنچائے- یہی میری دعا ہے- وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا اور ہماری عبادت کے لائق ہے" (یجروید،دیوی چند ایم اےفلسفہ ،صفحہ377)
10.   "اے دوست اس ایک خدا کے علاوہ کسی کی عبادت مت کر،صرف اکیلے اس کی عبادت کر"(رگ وید ;8:1:1)
11.   "مذہبی بزرگ خدا کو کئی ناموں سے پکارتے ہیں"(رگوید:1:164::46)
12.    "عقلمند جوگی اپنے ذہن اور اپنی سوچ کی توجہ حقیقت اعلی پر مرکوز رکھتے ہیں جو قدر مطلق، عظیم اور حاکم اعلی ہے- وہ تنہا ،ان کے اعمال اور ہسیاتی اعضا کی تفویض کئیےجانے والے امور سے آگاہ ہے- بے شک ووہی عظیم ہے اور آسمانی خالق ہے"(رگ وید5 :81)
13.   ہندوویدانت کی برہما سترامیں درج ہے:"صرف ایک خدا ہے ، دوسرا نہیں ہے،نہیں ہے ، بلکل نہیں ہے"
عوام مذہبی کتب کا مطالعہ نہیں کرتے اور مندروں کے پجاری اپنے فائدہ کے لیے عوام کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں-


انڈکس 
  1. تعارف
  2. خدا کا وجود 
  3. عقلی دلائل
  4. تنقید
  5. کوانٹم فزکس کے اسرار 
  6. توحید ,شرک اور بائبل   
  7. قرآن ایک دائمی معجزہ   
  8.  صرف ایک خدا 
  9. اختتامیہ
    برقی کتاب (  html فارمٹ):  https://goo.gl/kgkTl8
    برقی کتاب (Pdf فارمٹ): https://goo.gl/bsTBJt 
    ..............................................................

      برقی کتاب (  html فارمٹ):  https://goo.gl/kgkTl8
      برقی کتاب (Pdf فارمٹ): https://goo.gl/bsTBJt 
      ..............................................................

      No comments:
      Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest
      Labels: Bible, Christianity, Creator, e Book, God, Jesus Christ, Monotheism, Polytheism, Quran, Salaam Forum, Trinity

      جعلی پیری مریدی اور طریقت و شریعت


      پیری مریدی کے متعلق مسمانوں میں خاص طور پر پاک و ہند میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں- ایک بات واضح ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء خرافات اور پیری مریدی کے نام پر مکروہ، غیر اسلامی ، غیر شرعی خرافات کو مسترد کرتے ہیں- یھاں پر مختلف آرا پیش خدمت ہیں، تاکہ اس مکروہ جہالت کے دھندہ سے محفوظ رہنے کے لیے مسلمانوں کی رہنمائی ہو سکے- ضرورت ہے کہ تمام علماء مل کر ون پوانٹ ایجنڈا ... توحید ... کے متلعق مسمانوں کو آگاہی مہیا کریں- توحید ، قرآن و سنت  اور اسلام کی روح ہے جس پر سب متفق ہیں اور خرافات کا توڑ >>> https://goo.gl/e7svFe

      توحید، اسلام کی بیناد:
      لوگ گو زبان سے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کا اقرار کرتے اور دل کے کسی گوشے میں بھی اس کو مانتے ہیں‘ لیکن عبادات اور دعاؤں کو کرتے ہوئے وہ اللہ کے ساتھ ساتھ غیر اللہ کو بھی شامل کر لیتے ہیں۔ اسلام میں غیر اللہ کی پرستش کے ہر انداز کی مذمت کی گئی ہے اور قرآن مجید کا سب سے اہم مضمون توحید باری تعالیٰ کا اثبات اور غیر اللہ کی پرستش کی تردید ہے- 
      مسلمان دعوت توحید کے پاسبان اور نبیء رحمتﷺ کی تعلیمات کے وارث ہیں۔ لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ بعض لاعلم اور نادان لوگ قرآن و سنت کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر پیروں اور فقیروں کو اس حد تک بڑھا دیتے ہیں کہ ان کو اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہم نشیں بنا دیا جاتا ہے۔ جعلی عاملین اور نام نہاد پیر ہر دور میں لوگوں کا استحصال کرنے میں مصروف رہے ہیں۔ ماضی میں اس طرح کی باتیں سامنے آئیں کہ بعض درندہ صفت جعلی عاملین نے بہت سی خواتین کی عزتوں کو پامال کیا۔ اسی طرح معصوم بچوں کو نامرد بنا دیا گیا۔ حال ہی میں ایک جعلی پیر نے 20 بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم توحید پرست لوگ ہیں اور ہمارے پاس قرآن مجید اور حضرت رسول اللہﷺ کی تعلیمات کی شکل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات اور صفات کا واضح تصور موجود ہے تو نجانے ہم اپنی مشکلات، دکھ اور تکالیف کے ازالے کے لیے مساجد اور اللہ کے گھروں کی طرف رجوع کرنے کی بجائے ان پیروں اور فقیروں کے آستانے پر کیوں جھکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ حقیقی ولی اللہ اپنی پوجا کا سبق دینے کی بجائے اللہ کی بندگی کا درس دیتا ہے۔ جب کہ جادوگر، نجومی، کاہن اور جعلی عاملین لوگوں کی جان و مال اور عزت کو سلب کرکے ان کو سیدھے راستے سے بھٹکا دیتے ہیں۔ توہم پرستی جہاں پر انسان کی آخرت کو تباہ کرنے کا سبب ہے‘ وہیں پر دنیا میں بھی اس کے لیے نقصان اور اذیتوں کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کے بالمقابل اللہ کی ذات کے سامنے سجدہ ریز ہونے والے لوگ جہاں پر آخرت میں سر بلند ہوں گے وہیں پر دنیا میں بھی ان کی تکالیف اور مشکلات دور ہو جائیں گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری قوم کی اصلاح فرمائے اور انہیں توہم پرستی کے جال سے نکال کر صحیح عقیدہ توحید کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔ آمین! 
      (علامہ ابتسام الہی ظہیر http://dunya.com.pk)
      ------------------------------
      مدرسہ تعلیم کے لیے تھا۔ خانقاہ تزکیۂ نفس کے لیے۔ جب یہ دونوں کاروبار اور متاع دنیا کے حصول کا ذریعہ بن گئے تو پھر تعلیم باقی رہی نہ تزکیہ۔ اب جو باقی ہے اس کے مظاہر ہمارے ارد گرد بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ ایک آدھ مدرسے یا ایک آدھ خانقاہ کا معاملہ نہیں۔ یہ ایک وبا ہے جو پھیل چکی ہے۔بلاشبہ آج یہ اربوں روپے کی معیشت ہے۔اس پر عالمی وعلاقائی سیاست کے اثرات ہیں اور مقامی سیاست کے بھی۔ایک حلقہ انتخاب میں ہر امیدوار ووٹوں کے لیے پیروں کو خوش کرتا ہے۔
      اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ریاست اس مدرسہ و خانقاہ کو کسی نظام کے تابع کرے ۔ مدرسہ کو کسی نظم کا پابند کرنا آسان ہے۔اس کاایک نصاب ہے، ایک نظام ہے۔یہ ایک علانیہ کام ہے جس پر بات ہو سکتی ہے۔اس موضوع پہ بہت سی تجاویز بھی پیش کی جا چکی ہیں۔ خانقاہ کا معاملہ البتہ پیچیدہ ہے۔'' روحانیت‘‘ کا کوئی پیمانہ نہیں، جس سے اسے ناپا جا سکے۔اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس معاملے سے کی
      سے نمٹا جائے۔اب یہاں بھی مدرسے کی طرح باپ کے بعدبیٹا گدی پر بیٹھتا ہے۔کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ پرانے دور میں اولیائے کرام اپنے کسی مرید کو اپنا خلیفہ مجاز مقرر کیا کرتے تھے ۔ایک روایت میں رہنے والا ہی پیر بنتا تھا۔ اگر اسی روایت ہی کو بحال کر دیا جائے تو شاید کچھ بہتری آ جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ریاست ان خانقاہوں کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے اور وہی سجادہ نشین ہو جو شریعت مطاہرہ کا پابند اور کسی مستند سلسلے میں بیعت ہو۔ اس سے خانقاہ کی روایت سے وابستہ سب قباحتیں تو ختم نہیں ہوں گی لیکن امید ہے کہ بہت حد تک کم ضرور ہو جائیں گی۔ 
      یہ ان سماجی اداروں کی اصلاح کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ اصل تبدیلی البتہ اسی وقت آئے گی جب سماج اور دین کا باہمی تعلق حقیقی اور فطری بنیادوں پر استوار ہو گا۔ وہی بنیادیں جو اسلام کے دور اوّل میں رکھی گئیں۔خانقاہ کی روایت بھی اس دین کے تابع ہو جو اللہ کے پیغمبر لے کر آئے۔اگر اس کی اصلاح نہ ہو سکی تو سرگودھا جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ 
      (خورشید ندیم ،  http://dunya.com.pk)
      ...................................................
      کیا بیعت پیری مریدی والی بیعت ہے؟

      آجکل جہاں اور بہت سے اسلامی مسائل میں ایک عام آدمی صحیح فیصلہ نہیں کر پارہا ان میں ایک اہم مسئلہ بیعت کا بھی ہے کہ وہ کس کے ہاتھ پر بیعت کر کے جاہلیت کی موت سے بچ سکے کیونکہ اس پر اقوال  موجود ہیں کہ جس نے بیعت نہ کی اور مرگیا تو اس کا مرنا جاہلیت کا سا مرنا ہے، اور یہ معاملہ ہے بھی بہت تشویش والا اس میں ہم سب کو پریشانی ہونی چاہیے کہ کہیں وہ جاہلیت کی موت نہ مارا جائے۔ تو بعض لوگوں نے اس کا غلط مطلب لے کر یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ اب بیعت ہے ہی نہیں ہےبیعت تو اسلام کی ہوا کرتی تھی اس کے علاوہ کون سی بیعت ہوتی ہے، تو اس طرح انہوں نے بیعت کا ہی انکار کر دیا ہےجو کہ اچھی بات نہیں ہے۔ اور بعض لوگوں نے اس بیعت کو ہرکسی کے لیے جائز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آدمی کو جو کوئی بھی اچھالگے تو اس کی بیعت کر لینی چاہیے وہ جائز ہے، اور اب چاہے ایک ہی علاقے میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہوں کہ جن کے ہاتھ پر بیعت کی گئی ہوئی ہو، تو یہ دونوں طریقے قرآن و سنت سے ہٹے ہوئے ہیں، اب یہ عرض بھی کرتا چلوں کہ اب کوئی یہ نہ کہے کہ فلاں مولوی صاحب نے اس پیری مریدی کو جائز کہا ہے فلاں نے اس کو جائز کہا ہے بلکہ خود بیعت لیتے ہیں تو ہم نے جس عظیم ہستی کی رسالت کا اقرار کلمے میں کیا ہے ہم کو چاہیے کہ اپنے عمل سے بھی اس کو ثابت کریں اور جو حقِ پیروی ان صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہ کسی کو بھی نہ دیں، کیونکہ دین اسلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی مکمل ہو گیا تھا اگر تو کوئی قرآن و صحیح حدیث سے موجودہ پیری مریدی کو ثابت کردے تو صحیح ورنہ کسی کی بات کو جواز بنا کر ہم دین میں کوئی اضافہ کرنے کی جسارت نہ کریں تو یہ ہمارے حق میں اچھا رہے گا۔ اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ قرآن و صحیح حدیث میں جو بیعت کا ذکر ہے وہ بیعت کس کی ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟ >>>

      ...........................................................

      ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

      تعلیماتِ طریقت و شریعت سے بے بہرہ جعلی پیری مریدی
      حافظ محمد عون سعیدی

      لگا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں
      نہ ہوں بلا سے خریدار آؤ سچ بولیں

      اس مضمون میں معاشرے کے اندر سرطان کی طرح پھیلے ہوئے نام نہاد جھوٹے کاروباری پیروں کی خبر لی گئی ہے اور مسلک حق اہلسنت کی بدنامی کے اہم ترین پہلو کی طرف، فکر مند دماغ اور درد مند دل رکھنے والے دلوں کو متوجہ کیا گیا ہے۔ لہذا اس سارے مضمون کو کارباری پیروں کے تناظر میں ہی پڑھا جائے ورنہ ہمارے نزدیک ولایت برحق ہے، کرامات اولیاء بھی برحق ہیں۔

      شرائطِ مرشد

      کسی جامع شرائط مرشد کی بیعت بھی ایک مستحب اور بابرکت کام ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مرشد کامل کی چار شرائط ارشاد فرمائی ہیں ان کے بغیر اس کا بیعت لینا جائز نہیں۔

      1. صحیح العقیدہ مسلمان ہو یعنی اہل سنت والجماعت سے وابستہ ہو، بد عقیدہ اور بد مذہب نہ ہو۔ 
      2. عقائد کے دلائل اور تمام احکام شرعیہ کا عالم ہو حتی کہ ہر پیش آمدہ مسئلہ کا حل بیان کر سکتا ہو (یعنی مفتی ہو)۔ 
      3. علم کے مطابق عمل کرتا ہو۔ فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات پر دائمی عمل پیرا ہو اور تمام محرمات و مکروہات سے بچتا ہو۔ 
      4. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک اس کی نسبت متصل ہو، یعنی اس کے مشائخ کا سلسلہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہو۔ ہمارے زمانے میں بعض بے علم لوگ وعظ و تبلیغ کرتے ہیں اور جب کچھ حلقہ بن جاتا ہے تو لوگوں سے بیعت لینا بھی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی بے علمی کا عیب چھپانے کے لئے علماء کی تنقیص کرتے ہیں، ان کو منافق اور بے عمل کہتے ہیں۔ ساتھ ہی خود کو اہل اللہ کا محب کہتے ہوئے اولیاء اللہ کی صف میں شمار کروانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ سادہ لوح عوام علماء کو چھوڑ کر ایسے بے علم واعظین اور بے عمل ’’مرشدین‘‘ کے حلقہ ارادت میں کثرت کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔ ہم اس جہالت اور تعصب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔


      (فتاویٰ افریقہ، ص : 147۔ 146، ملخصا، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی)

      مذکورہ شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے اگر موجودہ پاکستانی معاشرہ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ہر طرف ایسے کاروباری پیروں کی فوج ظفر موج نظر آئے گی جن میں مذکورہ شرائط کا دور دور تک پتہ نہیں ہو گا۔ کسی کا عقیدہ خراب ہے تو کسی کا سلسلہ غیر متصل۔۔۔ کوئی پابند سنت نہیں ہے تو کوئی اعلانیہ فاسق و فاجر۔۔۔ علم کی شرط ملاحظہ کریں تو اس پر پورے ملک میں معدودے چند پیر صاحبان ہی بمشکل پورے اترتے نظر آئیں گے۔ جعلی پیروں کا بہت بڑا لشکر نہ صرف یہ کہ قرآن و حدیث اور فقہ و کلام سے بے خبر ہے بلکہ وہ علم اور علماء کا سخت دشمن بھی ہے۔ کیونکہ جس طرح سرمایہ دار، جاگیردار اور سیاستدان کی خیر اسی میں ہے کہ قوم جاہل مطلق رہے اسی طرح جھوٹے پیروں کی شان و شوکت کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ قوم علم و عمل سے بے گانہ رہے۔ کیونکہ ان پڑھ لوگ ان کو جس طرح چومتے چاٹتے ہیں اس طرح پڑھے لکھے لوگ نہیں کرتے۔ کسی بھی پیر کے ملاقاتیوں کو ملاحظہ کر لیجئے آپ کو ان پڑھ اور پڑھے لکھے لوگوں کے اندر ملاقات میں نمایاں فرق نظر آئے گا۔

      انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس طرح کے تمام جعلی، بناوٹی اور کاروباری پیر اپنے آپ کو مسلک حق اہل سنت وجماعت سے منسوب کرکے اس کی بدنامی اور رسوائی کا سبب بنتے ہیں۔ نیز وہ علماء سے یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ وہ ان کی نام نہاد بزرگی پر مہر تصدیق ثبت کریں۔ یہ ننگِ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن لوگ ایسے زہریلے ہیں کہ انہوں نے اپنی شہوت کاریوں سے مسلک حق کو ادھ موا کرکے رکھ دیا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ نامور بزرگوں کی گدیوں سے منسوب ہیں۔ عمل صالح اور شریعت کی پابندی تو کجا وہ کرپٹ لوگوں کی سرپرستی کرتے ہیں رسہ گیروں سے ان کی دوستیاں ہیں۔ الیکشن میں مسلک کے نام کو استعمال کرتے ہوئے یہ لوگ ممبر اسمبلی بنتے ہیں اور پھر سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر انہی کے ایجنڈے کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں۔ اس تمام خرابی کی بنیاد درحقیقت ان کاروباری مولویوں نے فراہم کی ہے جو انہیں (معمولی خدمت کے عوض) لوگوں کے سامنے غوث زماں، قطب عالم، شہنشاہ ولایت وغیرہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔

      ان حضرات کی سیرت و کردار کو قریب سے دیکھیں تو ان کے فرعونی لہجے، شیطانی عادات و اطوار، یزیدی رسوم و رواج۔۔۔ غنڈوں اور بدمعاشوں کی سرپرستی، چوروں اور ڈاکوؤں کی پشت پناہی۔۔۔ باطل اعمال اور عقیدے، اعراس کے نام پر اسلام کش میلے ٹھیلے۔۔۔ کتوں اور ریچھوں کے مقابلے، قبروں اور مزاروں کی تجارت۔۔۔ صالحین کی تعلیمات پر عمل کی بجائے تعمیرات سے ولایت کی پیمائش۔۔۔ علماء کے خلاف سینوں میں بھڑکتی آگ، جہالت و رعونت میں اپنی مثال آپ۔۔۔ دین و شریعت کی بات پر منہ سے نکلتے انگارے۔۔۔ نماز روزے کا وقت آنے پر مرض اسہال، زکوۃ و جہاد کا نام سنتے ہی پیٹ میں درد قولنج۔ ۔ ۔ غیر محرم عورتوں کو بے پردہ مرید کرنا اور ان سے ٹانگیں دبوانا۔۔۔ یہ ہیں وہ کالے کرتوت جو ان ’’پیروں‘‘ کے نامہ اعمال میں درج ہیں۔

      اگر آپ ان کے کفریہ و شرکیہ اور مبالغہ آمیز اشعار پر مصنوعی طور پر بدمست ہو کر جھومنے اور ناچنے والے جاہل مریدوں کو دیکھیں تو گویا انہیں ذبح کیا جا رہا ہے۔۔۔ ان کے تعویذوں اور وظیفوں کو دیکھیں تو شیاطین سے استغاثہ پر مبنی جادو ٹونے کے پلندے معلوم ہوں۔۔۔ ان کی ’’مقدس مسندوں‘‘ کو دیکھیں تو ان پر کسی نیک سے نیک آدمی کا بیٹھ جانا یا صرف پاؤں لگ جانا بھی اعلیٰ درجے کی گستاخی شمار ہو۔

      پھر پیران عظام کی ان گدیوں میں بھی مال و جائیداد کی طرح وراثت چل نکلی ہے (کیونکہ یہ بھی اب ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے) باپ کی گدی پر اولاد ہی بیٹھے گی خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو۔ کسی مرید کی کیا مجال کہ وہ پیر مغاں کی سجادگی کا حقدار ٹھہرے خواہ وہ کیسا ہی رازی و غزالی کیوں نہ ہو اور یہی نااہلی اور وراثت سب سے بڑا سبب ہیں خانقاہی نظام کی تباہی کا۔

      زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

      یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ تقریباً ایسے تمام ’’پیر صاحبان‘‘ کا ذاتی طور پر قرآن و حدیث اور فقہ و کلام کی تعلیم و تعلم اور درس و تدریس سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ پورے ملک میں شاید ہی کوئی جاگیردار اور کھاتا پیتا پیر آپ کو ایسا نظر آئے جس کی اولاد کسی دینی مدرسہ میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کر رہی ہو، وہ تو آپ کو ملکی و غیر ملکی مہنگے ترین سکولوں، کالجوں میں طبقہ امراء کے ساتھ کھیلتی کودتی نظر آئے گی اور علم دین سے کوری ہونے کے باوجود مسند پر بھی وہی بیٹھے گی۔

      تقریباً ہر پیر یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کے مریدوں کی تعداد روز افزوں ہو، دوسرے پیروں کے مرید بھی فیضیاب ہونے کے لئے کسی نہ کسی طرح اس کے ’’سلسلہ عالیہ‘‘ میں شامل ہو جائیں اور اس خواہش نفس کو پورا کرنے کے لئے طرح طرح کے تشہیری و ترغیبی ہتھکنڈے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگر کسی پیر کے مرید کم ہوں تو وہ احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے اور زیادہ ہوں تو احساس برتری کا شکار ہوتا ہے۔

      کئی نام نہاد پیر دینی مدارس بنانے اور تبلیغ و بیان کے خلاف ہوتے ہیں اور اس کی مضحکہ خیز دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ نہیں ہے۔ مجھے میرے ایک نہایت معتبر صاحبِ علم و عمل دوست جو خود اہلِ طریقت میں سے ہیں نے اپنا ذاتی واقعہ بتایا کہ

      میں سرگودھا کے ایک پیر صاحب کی تیمارداری کرنے گیا تو ان کے ہاں بچوں کو سارا وقت کھیلتے کودتے اور شرارتیں کرتے دیکھ کر پیر صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ کے ہاں مسجد میں بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دلوانے کا کوئی انتظام نہیں ہے؟ فرمانے لگے : ایک مولوی کو بچے پڑھانے کے لئے رکھا تھا مگر وہ ہمیں ہی تلقین کرتا رہتا کہ مسجد میں آ کے نماز پڑھیں اب بتائیں کیا ہم اپنی مصروفیات اور مریدین کی بھلائی اور امور کے کاموں کو چھوڑ کر مسجد میں نماز پڑھنے کس طرح جا سکتے تھے۔ لہذا اس کے بار بار ہمیں ہی نماز کی تلقین کرنے کی وجہ سے اسے فارغ کر دیا گیا۔

      کئی پیر اپنی شان میں قصیدے لکھواتے ہیں اور کتابیں شائع کرواتے ہیں۔ کئی پیر اشتہاروں اور بینروں پر صرف اپنا نام لکھنے کا حکم جاری کرتے ہیں کسی دوسری شخصیت کا نام ان کے لئے سوہان روح ہوتا ہے۔ کسی پیر کا مرید اگر زیادہ مشہور ہونے لگ جائے تو اسے فوراً حلقہ ارادت سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ تقریباً ہر پیر دوسرے پیر کی شان گھٹانے کے لئے صراحتاً نہ سہی اشارتاً و کنایۃً ضرور تنقیص کرتا ہے۔ اپنے آپ کو کامل سمجھتا ہے اور دوسرے کو ناقص۔ جاہل پیر، عالم پیر کے متعلق یوں کہتا ہے کہ ’’وہ تو علماء میں سے ہے‘‘، طریقت کا بادشاہ تو میں ہوں۔

      ان جاہل پیروں کی اہل علم سے بھی بظاہر خاصی دوستی ہوتی ہے۔ انہیں شوق ہوتا ہے کہ علماء ان کے مرید تو ضرور بنیں مگر ہر بات میں آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے چلتے رہیں، کسی مسئلہ میں اختلاف کی ان کے ہاں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایسے پیروں کا اکثر یہ مقولہ ہوتا ہے کہ ’’علم اپنے گھر میں رکھ کے آؤ تو پھر کچھ پاؤ گے‘‘ اور اس بات کے لئے وہ واقعہ خضر و موسیٰ علیہما السلام کا سہارا لیتے ہیں۔

      چہ نسبت خاک رابعالم پاک

      اپنی تعریفیں سن سن کر پیر صاحب کا نفس اتنا متکبر ہو چکا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص ان کی اصلاح کے لئے ہلکا سا اشارہ بھی کر دے تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ اگر پیر صاحب کی کسی محفل میں کوئی بیرونی عالم بھی مدعو ہو اور وہ صرف اللہ و رسول کی تعریف کر کے چلا جائے تو پیر صاحب آئندہ کے لئے اس کو نہ بلانے کا عندیہ دے دیتے ہیں۔

      بعض پیروں کے ہاں شریعت و طریقت کی باقاعدہ جنگ کروائی جاتی ہے اور بالآخر طریقت کا پہلوان شریعت کے پہلوان کو چاروں شانے چت گرا دیتا ہے اور اس کی فتح کا نعرہ لگا دیا جاتا ہے۔ کئی جاہل پیر اپنے مریدوں کو یوں درس دیتے ہیں کہ ہمارے پاس باطنی علم ہے اور علماء کے پاس ظاہری علم، رس ہم نے پی لیا ہے پھوک مولویوں (علمائ) کے آگے ڈال دی ہے، گریاں ہم نے کھا لی ہیں چھلکے مولویوں (علماء) کے سامنے پھینک دیئے ہیں۔ حال ہی میں ایک مقام پر کچھ پیروں کے زیر سرپرستی لاکھوں روپے لگا کر محفل نعت و قوالی منعقد ہوئی جس کے پنڈال کے مین گیٹ پر یہ ہدایت لکھی ہوئی تھی ’’مولویوں کا داخلہ ممنوع ہے‘‘ اس محفل میں جو ایمان سوز اور دل دوز قسم کی ہڑبونگ مچائی گئی اس پر اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ہی کہا جا سکتا ہے۔

      علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں : اگر ان جاہل پیروں کو علماء کے مرتبے کا پتہ چل جاتا تو یہ اپنے آپ کو ان کے سامنے گونگا اور اندھا سمجھتے

      (تلبیس ابلیس، ص : 2511)

      بعض پیر بتیاں بند کروا کے عورتوں اورمردوں کے مخلوط مراقبے کرواتے ہیں۔ کئی پیر رمضان کے مقدس مہینہ میں مردوں اور عورتوں کو آمنے سامنے بٹھا کر افطاریاں کرواتے ہیں۔ پھر ان پیروں کی زیر نگرانی صالحین کے مزارات پر جو اودھم مچائے جاتے ہیں اور جو جرائم وہاں پنپتے ہیں کبھی جا کر ان کی بھی خبر لیجئے۔ بہت سے نفع بخش مزارات محکمہ اوقاف کے قبضہ میں ہیں۔ وہاں کے گلوں میں عوام الناس جو لاکھوں روپے ڈال جاتے ہیں ان کا مصرف عام طور پر کیا ہوتا ہے یہ کسی باخبر سے پوچھ لیجئے۔ علماء کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو ان کی دولت کے حقیقی مصرف سے آگاہ کریں۔

      ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

      یہ پیر، مسلک کی تنظیمی ترقی، تعلیمی و تدریسی خدمت اور اجتماعیت کے لئے بھی سنگ گراں ثابت ہوتے ہیں نہ خود کام کرتے ہیں نہ کسی دوسرے کو کرنے دیتے ہیں۔ بہت سے پیر اپنے مریدوں کو کسی بھی فعال تنظیم سے وابستہ نہیں ہونے دیتے۔ ہاں اگر پیر نے اپنی کوئی تنظیم بنا رکھی ہے تو اس کو چلانا سب مریدوں کے لئے فرض عین ہوتا ہے۔

      گر ہمیں خانقاہ وہمیں پیراں، کار مریداں تمام خواہد شد

      ان سب حالات کے باوجود آپ دیکھیں گے کہ ہر جگہ جاہل مریدوں کا ایک بہت بڑا گروہ ان جعلی پیروں کے پیچھے بڑے ادب کے ساتھ ہاتھ باندھے نظر آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وظیفہ خور علماء جب بھی تقریر کرتے ہیں تو اَلاَ اِنَّ اَوْلِيَاءَ اللّٰه لَا خُوْفٌ عَلَيْهم وَلاَ هُم يَحْزَنَون پڑھ پڑھ کر پیر کی طرف اشارے کرتے ہیں۔ کاروباری نعت خوان حمد و نعت پڑھ پڑھ کر پیر کی جانب اشارے کرتا ہے اور اس طرح جہلاء کو پیر کا بے دام غلام بن جانے کی جذباتی ترغیب ملتی ہے۔ ویسے آج کل کاروباری علماء کا کاروبار خاصا مندا جا رہا ہے کیونکہ اب اس کی سیٹ کاروباری نعت خواں نے سنبھال لی ہے۔ اس لئے پیروں کو اپنا کاروبار چمکانے کے لئے اب مولویوں کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔

      تربیت کے عجیب کرشمے

      ان پیروں کے ذریعے مریدوں کی جس طرح تربیت ہو رہی ہے وہ بھی انتہائی اذیت ناک ہے، چند ایک تربیتی مناظر ملاحظہ ہوں :

      پیر صاحب جونہی اپنے دولت خانہ کی دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہیں تو دروازے پر نظریں گاڑے مریدین پر گویا نزع کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ہاؤ ہو کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، کوئی شوں شوں کی آواز نکالتا ہے کوئی تالیاں بجاتا ہے، کوئی درود و سلام پڑھتا ہے، کوئی نعرے لگاتا ہے کوئی جوتے اتارتا ہے۔ کوئی کچھ کرتا ہے اور کوئی کچھ کرتا ہے۔ اب ملاقات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، پیر صاحب مریدوں کے جراثیم سے بچنے کے لئے ہاتھوں پہ دستانے چڑھا لیتے ہیں، کوئی مرید قدموں میں گرا ہوا ہے، کسی نے گھٹنے تھام رکھے ہیں، کوئی کندھوں کو بوسے دے رہا ہے، کوئی پشت سے چمٹا ہوا ہے، کوئی ہاتھ چومنے کے چکر میں ہے۔ غرضیکہ ایک ہنگامہ بپا ہے اور دھکم پیل ہو رہی ہے۔ (حالانکہ ایک مسلمان کو نماز کے لئے بھی دھکم پیل اور بھاگ دوڑ کی اجازت نہیں ہے) جبکہ پیر صاحب نے بڑی شان بے نیازی سے ہاتھ آگے کیا ہوا ہے کسی کو ایک ہاتھ ملاتے ہیں تو کسی کے لئے سر ہلاتے ہیں، کسی کو ایک انگلی تھماتے ہیں تو کسی کو دو انگلیاں۔ پیر صاحب کی آمد و رفت پر بار بار کی اٹھک بیٹھک ہوتی ہے۔ ہاتھ جوڑ جوڑ کر بات کی جاتی ہے جان کی امان طلب کی جاتی ہے۔ کوئی حالت قیام میں ہے تو کوئی حالت رکوع میں، کوئی سجدہ کر رہا ہے تو کوئی التحیات میں بیٹھا ہوا ہے۔ اگر خدانخواستہ آپ نے پیر صاحب کے ہاتھ چومنے میں ذرا سی کوتاہی کر لی تو بس! پیر صاحب کا غیظ و غضب دیکھنے والا ہوتا ہے، آنکھیں شعلہ بار ہو جاتی ہیں اور جسم تھرتھرانے لگتا ہے۔ آپ ایک نظر کی جنبش میں مریدین سے مرتدین کی صف میں شامل کر لئے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ نے کسی مجبوری کے تحت نذرانہ کی ادائیگی میں کچھ پس و پیش کی ہے تو آپ ہمیشہ کے لئے پیر صاحب کی نظروں میں کھٹک جاتے ہیں، توجہات و تصرفات سے محرومی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، زمین و آسمان کی تمام آفات و بلیات آپ کے گھر کا مقدر ٹھہرتی ہیں۔ ایسے مرید کے گھر میں قدم رکھنا گویا پیر صاحب کے لئے جہنم میں جانے کے برابر ہوتا ہے۔

      پیر صاحب کی اولاد کے لئے شاہانہ القاب اور مریدوں کے لئے انسانیت سے بھی گرے ہوئے القاب استعمال کئے جاتے ہیں۔ کئی پیروں سے اتنا استغاثہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بھی اتنا نہیں کیا جاتا۔ کئی پیر بڑے تجسس پھیلانے والے (Suspense creative) ہوتے ہیں۔ ہمیشہ نظریں جھکا کے رکھتے ہیں۔ جاہل مرید اپنے پیر کی صرف ایک نظر کرم کے لئے تڑپتے پھڑکتے رہتے ہیں مگر پیر بھی ایسا پکا ہوتا ہے کہ لمحہ بھر کے لئے دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ اگر کوئی مرید اپنے پیر کے بغیر کعبۃ اللہ کا طواف کر لے تو پیر صاحب اس بات کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے واقعہ پر قیاس کر کے اس پر ہمیشہ کے لئے ناراض ہو جاتے ہیں۔

      ہر پیر کے مریدوں کی علیحدہ شناخت ہوتی ہے۔ خاص رنگ کی ٹوپی اور خاص قسم کی سلائی، خاص رنگ کی پگڑی اور خاص قسم کی بندش۔ یہ بات شاید کوئی ایسی قابل اعتراض نہ ہوتی مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ علیحدہ علیحدہ شناختوں والے مرید جب ایک دوسرے کو ملتے ہیں تو یوں گھور کے دیکھتے ہیں جیسے ابھی کچا چبا جائیں گے۔ کچھ عرصہ پہلے سلسلہ ہائے بیعت الفتوں اور چاہتوں کا سبب ہوتے تھے مگر اب نفرتوں اور عداوتوں کا باعث ہیں۔ قرآن کے غلاف کو وہ عظمت حاصل نہیں ہوتی جو پیر صاحب کی چادر کو حاصل ہوتی ہے۔ کتاب اللہ کی گرد تو جھاڑ دی جاتی ہے مگر پیر صاحب کی مٹی کو غازہ بنایا جاتا ہے۔ مسجد کی صفائی سے برکت حاصل کرنے کے متعلق کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا مگر پیر صاحب کی گاڑی کو عماموں کے ساتھ صاف کیا جاتا ہے اور چادریں لگا لگا کر حجر اسود کی طرح بوسے دیئے جاتے ہیں۔ کئی پیروں کا لعاب دہن بطور تبرک استعمال کیا جاتا ہے اور کئی پیروں کے ہاتھوں کا ماء مستعمل نوش جان کیا جاتا ہے۔

      مرید کی انواع و اقسام

      ’’جیسا منہ ویسی چپیڑ‘‘ کے مصداق آج کل کے مرید بھی انواع و اقسام کے ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ مرید ہوتے وقت ایسے پیر کا انتخاب کرتے ہیں جس کے تعلقات وسیع تر ہوں اور وہ بازار سیاست میں بڑے اثر و رسوخ کا مالک ہو۔ بعض لوگ صرف ایک پیر پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ حسب ضرورت موقع بہ موقع پیر بدلتے رہتے ہیں۔ بعض مرید اپنی گدی کے اسی پیر سے زیادہ تعلقات بنا کے رکھتے ہیں جس سے وقتاً وفوقتاً اپنے مفادات حاصل کئے جا سکیں۔ بعض مرید ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا مقصد حیات اپنے پیر کی نظر میں دوسرے پیر بھائیوں کی حیثیت کو گرانا اور اپنی حیثیت کو بڑھانا ہوتاہے اور اس کے لئے شکایات کی ایک بہت بڑی پوٹلی ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہے۔

      بعض مرید جب چہرے پہ داڑھی اور سر پہ پگڑی سجا لیتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو مفتی اعظم سمجھنا شروع کر دیتے ہیں، اب ان کے نزدیک بڑے بڑے شیوخ الحدیث والتفسیر بھی کسی شمار میں نہیں ہوتے۔ آسمان کے نیچے بس ایک وہ ہوتے ہیں اور دوسرا ان کا پیر۔ چونکہ آج کل بعض پیروں نے خلافت کی منڈی بھی لگا رکھی ہے لہذا بہت سے بندگان نفس ایسے ہی پیروں کو ترجیح دیتے ہیں اور چند روز میں خلافت حاصل کر کے سارے غوثوں قطبوں کے سردار بن جاتے ہیں۔ پیر ان باصفا کی تربیت اور کاروباری مولویوں کے نصیحت کی بناء پر سب مریدوں کے نزدیک ان کے پیر کی بات حرف آخر اور پتھر پہ لکیر ہوتی ہے بلکہ پیر کا ایک اشارہ بھی وحی جتنی طاقت رکھتا ہے لہذا کوئی بڑے سے بڑا عالم بھی پیر صاحب کے اقوال زریں کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھنے کی جرات نہیں کر سکتا، ورنہ وہ بڑا بے ادب، جھوٹا اور گستاخ کہلائے گا۔

      کچھ مرید اپنے پیر کا مرید ہونے کو حافظ و قاری ہونے سے بھی زیادہ باعث فضیلت سمجھتے ہیں اور اس طرح کلام اللہ کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ کچھ مرید جو احکام شریعت کے قریب بھی نہیں پھٹکتے وہ پیر صاحب کی خدمت میں آئے روز کی حاضریاں لگوا کر جنت کی بکنگ کرواتے ہیں۔ تقریباً ہر پیر کا مرید دوسرے پیر کی خرابیاں اور اپنے پیر کی خوبیاں بیان کر کے اس کا مرید ہو جانے کا درس دیتا پھرتا ہے۔ اپنے پیر کی نسبت کو ہر کسی کے نام کے ساتھ لگاتے پھرنا گویا بہت بڑی نیکی اور خدمت دین سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایک پیر کا مرید کسی دوسرے پیر کی تعریف کر دے تو اسے فوراً راندہ درگاہ قرار دے دیا جاتا ہے۔

      پیروں کی جائیدادیں اور تعلقات

      سینکڑوں ہزاروں مربع زمینیں، وسیع و عریض کاروبار، کروڑوں اربوں کے بینک بیلنس، مہنگی ترین گاڑیاں، مہنگے ترین علاقوں میں محلات اور کوٹھیاں، فائیو سٹارز ہوٹلوں کے کھانے اور رہائشیں شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ، سیاست کی آنیاں جانیاں، اعلیٰ سطح کے حکومتی وغیر حکومتی تعلقات، امیر ترین خانوادوں اور خاندانوں میں رشتے، ایسی سہولیات و تعیشات کہ بڑے بڑے وزیر بھی دیکھ کر رشک سے مر جائیں۔ کسی بھی حکومت کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔

      ہر آنے والی نئی حکومت سرا وعلانیۃ ان کی آشیر باد حاصل کرتی ہے۔ انہیں مختلف عہدوں سے نوازا جاتا ہے، وزارتیں پیش کی جاتی ہیں، کانفرنسوں میں مہمان خصوصی بنایا جاتا ہے، غیر ملکی دورے کروائے جاتے ہیں، بیش بہا تحائف دیئے جاتے ہیں، بوقت ضرورت خزانوں کے منہ ان کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی زبان پر یہی وظیفہ ہوتا ہے، نرخ بالا کن ارزانی ہنوز، ان کا پیٹ یہی صدائیں دیتا ہے شکم فقیراں تغار خدا ہر چہ آید فنا درفنا۔ ان کا سمندر سے بھی زیادہ ڈونگا دل پکار پکار کر یہی کہتا ہے هل من مزيد، هل من مزيد.

      صاحب بہار شریعت مولانا امجد علی اعظمی لکھتے ہیں : ’’آج کل بہت سے لوگوں نے پیری مریدی کو پیشہ بنا لیا ہے، سالانہ مریدوں میں دورے کرتے ہیں اور طرح طرح سے رقمیں کھسوٹتے ہیں جن کو نذرانہ وغیرہ ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے۔ بہت سے پیر ایسے بھی ہیں جو اس کے لئے جھوٹ اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ (سب) ناجائز ہے۔

      (بہار شریعت، ج : 2 ص : 670، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)۔

      علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں کہ بعض پیر کمانے کی طاقت رکھتے ہیں مگر وہ سارا دن اپنے آستانوں پر لوگوں سے خیرات وصول کرتے رہتے ہیں۔ ان کا دھیان ہر وقت اس طرف لگا رہتا ہے کہ کوئی عقیدت مند بھی آئے گا اور نذرانہ پیش کرے گا۔ حالانکہ شریعت کا واضح مسئلہ ہے کہ غنی اور قوی شخص کے لئے خیرات لینا جائز نہیں (کہ یہ بھیک ہے)

      (تلبیس ابلیس، ص : 331، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور)

      بہر حال پیری مریدی ایک خالصتاً نفع بخش کاروبار اور بہترین ذریعہ روزگار ہے۔ اس میں خسارے کا سودا بالکل نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص پیر بن کے بیٹھ جائے اس کی جھگی کا خرچہ بغیر کسی محنت کے بیٹھے بٹھائے چلتا رہتا ہے بلکہ مزید آسامیاں پھنسانے کے لئے لنگر کے پیسے بھی وافر مقدار میں ملتے رہتے ہیں۔ اسی لئے اقبال نے کہا تھا :

      نذرانہ نہیں سود ہے پیران حرم کا

      پیر بننے کے چند نسخے

      یقینا آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اتنا منافع بخش کاروبار یقینا بڑی محنتوں اور مشقتوں کے بعد ہی چلتا ہو گا، نجانے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہوں گے اور کہاں کہاں کی خاک چھاننی پڑتی ہوگی۔ حالانکہ پیر بننا اس دنیا کا آسان ترین کام ہے۔ اگر آپ کسی پیر خاندان یا سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں تو پھر تو آپ بنے بنائے سکہ بند پیر ہیں۔ پیری مریدی آپ کا خاندانی اور موروثی حق ہے، جسے کوئی مائی کا لعل بھی آپ سے چھین نہیں سکتا، ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے۔

      اگر ایسا نہیں اور آپ تھوڑا بہت لکھنا پڑھنا جانتے ہیں تو پھر بازار سے عامل بنانے والی تعویذات کی کوئی کتاب خرید لیں اور دم درود جھاڑ پھونک کا سلسلہ شروع کر دیں۔ آپ کا یہ کاروبار برق رفتاری سے ترقی کرے گا، راتوں رات آپ کا نام پیران عظام کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا اور چند ہی دنوں بعد جہلاء کرام آپ کی دست بوسی کے لئے ایک دوسرے کو دھکے دے رہے ہوں گے۔

      اگر یہ بھی نہیں تو کوئی ایسا شیخ طریقت ڈھونڈ لیجئے جو پانچ سات سبقوں کے بعد آپ کو خلافت دے ڈالے تب بھی آپ وہ القاب ومراتب حاصل کر لیں گے جن کا بڑے بڑے علماء کرام بھی تصور نہیں کر سکتے۔ پیر بن جانے کے بعد زندگی کے وارے نیارے تو پکے ہیں، مرنے کے بعد بھی قل خوانی، چہلم، عرس، مزار، خانقاہ اور اولاد کی سرپرستی وغیرہ کے متعلق فکر مند ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں، سب کچھ خود بخود (Automatically) ہوتا چلا جائے گا۔ نماز وغیرہ پڑھنے کی ضرورت تو بالکل نہیں، کوئی پوچھے تو کہہ دیجئے کہ ’’مدینے میں پڑھتے ہیں‘‘۔ یہ جواب بھی ابتدائی ایام کے لئے ہے جو بعد میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ نماز وغیرہ تو مبتدی لوگوں کے لئے ہوتی ہے ہم جیسے منتہی لوگوں کو اس کی کیا ضرورت؟

      پرہیز علاج سے بہتر ہے

      ہم نے آپ کو نسخہ تو بتا دیا مگر پرہیز نہیں بتا سکے۔ یاد رکھئے علم دین سے پرہیز بے حد ضروری ہے۔ بارہ بارہ سال محنت کرنی پڑتی ہے، دن رات ایک کرنے پڑتے ہیں، اساتذہ کی جھڑکیاں سہنی پڑتی ہیں، مدرسہ کے قوانین اور نظم و ضبط کا خیال رکھنا پڑتا ہے، کھانا پینا حسب خواہش نہیں ملتا، جیب خرچ کی کمی ہوتی ہے اور امتحانات سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ پھر جب بندہ عالم بن جاتا ہے تو در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔ مساجد میں مقتدیوں کی خوشامد، مدارس میں مہتممین کے نخرے، تقریریوں میں عوامی جذبات کا خیال، خانقاہوں میں پیروں کی تعریفیں، بازاروں میں لوگوں کے طعنے، آمدنی بھی کم، عزت بھی تھوڑی وغیرہ وغیرہ۔ اور اگر کبھی آپ کو حق گوئی و بے باکی کا شوق چرا گیا تو مسجد بھی گئی، مدرسہ بھی گیا، تقریریں بھی بند، پیروں کی بددعائیں بھی ساتھ، مریدوں کے ہتھے چڑھ گئے تو مالش بھی خوب، دوسرے مسلک والے تو ویسے ہی آپ کے مخالف ہیں اپنے مسلک والے بھی جوتے ماریں گے۔ کسی دانشور نے کہا تھا دوستوں سے تم مجھے بچا لو دشمنوں سے میں خود نمٹ لوں گا۔

      اگر آپ درس و تدریس سے وابستہ ہیں تو جن شاگردوں کو آپ دس دس سال پڑھائیں گے اگر وہ کسی کے مرید ہوگئے تو آپ سے حاصل کی ہوئی ساری تعلیم کے متعلق برملا کہتے پھریں گے کہ یہ سب کچھ میرے پیر کے جوتوں کا صدقہ ہے۔ آپ کے پاس بھول کر بھی نہیں آئیں گے مگر پیر کے در پر آئے روز کی حاضریاں لگوائیں گے۔ آپ کی دعا میں کوئی اثر نہ پائیں گے مگر پیر کی دعا ایک دم اکسیر ہو گی۔ نذرانے پیش کریں گے تو پیر کی خدمت میں، آپ سے الٹا کچھ کھا پی کے جائیں گے۔ دعوت کریں گے تو آپ کو مفت بلانا بھی پسند نہیں کریں گے مگر پیر کو سپیشل پروٹوکول کے ساتھ بلائیں گے۔ اگر آپ اور پیر صاحب کبھی اکٹھے ہو گئے تو پہلے پیر کے قدموں کو چومیں گے پھر آپ سے ہاتھ ملائیں گے۔ جس پیر نے ساری عمر سوائے حاضریوں کے کچھ نہیں دیا اور ہزاروں روپے سمیٹتا رہا ہے اس کو بہترین نشست پہ بٹھائیں گے اور آپ جو کہ ساری عمر مغز ماری کرتے رہے ہیں اور تعلیم و تربیت کے مراحل سے گزار کر ایک مقام پہ لاکھڑا کیا ان کو پیر صاحب کے قدموں میں بٹھائیں گے۔ سٹیج پر پیر صاحب کے لئے خاص انتظام کیا جائے گا اور آپ کو صرف بیٹھنے کی جگہ مل جائے تو بھی غنیمت ہے۔ پیر کا کتا کہلانے میں بھی فخر محسوس کریں گے اور آپ کا شاگرد کہلانے میں بھی عار محسوس کریں گی۔ یہ سب تو وفادار شاگرد کی پھرتیاں تھیں اور اگر خدانخواستہ آپ کا شاگرد غدار نکلا تو پھر؟؟؟ لہذا عافیت اسی میں ہے کہ پیری مریدی کا پیشہ اختیار کریں اپنوں غیروں سب کی آنکھوں کا تارا بن جائیں گے۔ بڑے بڑے وزیر و مشیر اور دولت مند آپ کے قدموں میں بیٹھیں گے۔

      لمحہ فکریہ

      آج جو کچھ ان نام نہاد کاروباری پیروں اور نعت خوانوںکے پاس ہے سارا کا سارا سادہ لوح عوام اہل سنت کا ہے۔ یہ سب کچھ ان لوگوں کے ذاتی استعمال میں ہے، دین کو اس کا ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہے۔ جو کچھ انہیں دیا گیا تھا وہ عقائدِ صحیحہ کے فروغ، دین کی سربلندی اور علم و عمل کی ترقی کی نیت سے دیا گیا تھا مگر اب جبکہ یہ آشکارا ہو چکا ہے کہ یہ لوگ دین کی خدمت کی بجائے شکم پروری کا کام کر رہے ہیں تو پھر علماء حق کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان ’’مقدس‘‘ کاروباریوں کا مکمل احتساب کریں۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں کی عزت، عظمت، مال و دولت سب کچھ علماء کرام کی وجہ سے ہے۔ آج بھی اگر علماء کرام ان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا شروع کر دیں تو ان کاروباریوں کے تمام پلازے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی طرح دھڑام سے زمین پر آ گریں گے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ مسلکِ اہل سنت وجماعت علم اور عمل کا نام ہے ان کاروباریوں کا تقدس برقرار رکھنے کا نام نہیں ہے۔ یہ تو وہی لوگ ہیں جن کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے بدباطن اور بدعقیدہ لوگوں کو مسلک حق پر کیچڑ اچھالنے کا موقع مل رہا ہے۔

      بت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے

      ان لوگوں کی منظم سازش کے نتیجے میں اب لوگوں کا علماء حق سے بھی اعتماد اٹھ چکا ہے اور ان کی سر عام تذلیل کی جا رہی ہے۔ راقم الحروف کو خود ایک جاہل پیر نے کہا کہ ’’جو مسئلہ ہم بتا دیں چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو پتھر پہ لکیر ہوتا ہے، اب کوئی بڑے سے بڑا مفتی بھی صحیح مسئلہ بتائے تو مرید کو اس پر یقین نہیں آئے گا‘‘۔ دیگر مسالک میں صرف اور صرف علماء کو اہمیت حاصل ہے۔ ان کے لئے سب کچھ ان کا عالم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مدرسین معاشی حوالے سے پریشان نہیں ہوتے مگر ہمارے مسلک میں سب کچھ کاروباری پیر اور نعت خوان بنے بیٹھے ہیں اور مدرسین بے چارے انتہائی مفلوک الحال ہیں۔

      عقائدِ صحیحہ کا فروغ اور دینی اقدار کی بقاء کی جنگ انہی علماء کو لڑنی پڑتی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ علماء کرام اپنے مقام کو پہچانیں اور اس کا تحفظ کریں۔ میں کہا کرتا ہوں کہ جب وقت تھوڑا ہو تو سنتیں اور نفلیں چھوڑ دینی پڑتی ہیں اور فقط فرض ادا کئے جاتے ہیں۔ علم دین کا حصول فرض ہے اور باقی محفلیں وغیرہ زیادہ سے زیادہ مستحبات میں شامل ہیں۔ اس دور زوال میں اب مستحبات کا وقت نہیں رہا۔ جتنی جلدی ہوسکے علم کا فرض ادا کیا جائے، جگہ جگہ مدارس کھولے جائیں اور سابقہ صحیح دینی کام کرنے والے مدارس کو مضبوط کیا جائے۔ ایک محفل کا فائدہ زیادہ سے زیادہ چند دنوں کا ہوتا ہے مگر ایک مدرسہ صدیوں تک اپنی روشنی پھیلاتا رہتا ہے۔ اگر جگہ جگہ دینی مدارس قائم کر دیئے جائیں تو روشنی کا ایسا سیلاب آئے گا کہ اندھیروں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

      http://www.minhaj.info/mag/index.php?mod=mags&month=2012-06&article=7&read=txt&lang=ur

      لنکس 
      ویڈیوز :
      https://www.youtube.com/watch?v=KcE3LlFw3c4
      https://www.youtube.com/watch?v=XS2hu7KXpTs


      بیعت کی شرعی حیثیت؟ کیا مروجہ پیری مریدی اسلام میں سے ہے؟ | دین ...

      muslim-islamicpoint.blogspot.com/2011/01/blog-post.html

      Translate this page
      Jan 4, 2011 - آجکل جہاں اور بہت سے اسلامی مسائل میں ایک عام آدمی صحیح فیصلہ نہیں کر پارہا ان میں ایک اہم مسئلہ بیعت کا بھی ہے کہ وہ کس کے ہاتھ پر بیعت ...

      پیری مریدی کی شرعی حیثیت | محدث فورم [Mohaddis Forum]

      forum.mohaddis.com › ... › عقیدہ ومنہج › عقیدہ اہل سنت والجماعت

      Translate this page
      السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کسی کو اپنا پیر بنانا اسکی مریدی میں رہنا. کیا یہ درست ہے؟؟؟ پیری مریدی کا سلسلہ کب سے شروع ہوا؟؟؟
      You visited this page on 4/4/17.

      پیری مریدی کیا ہے ؟ Pioneers of Islamic Beliefs And Protection ...

      tahaffuz.com/6092/

      Translate this page
      مقصد بیعت : آقا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دل ایک ایسے پر کی مثل ہے جسے ہوا .... ہم نے آپ کے سامنے پیری مریدی کی شرعی حیثیت رکھ دی اور فیصلہ آپ کے ...

      تصوّف - Shaheed e Islam

      shaheedeislam.com/ap-kay-masail-vol-07-tasawwuf/

      Translate this page
      Aug 24, 2010 - بیعت کی شرعی حیثیت، نیز تعویذات کرنا ... ہوگئی، جس میں وہ فرمانے لگیں کہ پیری مریدی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے آرہی ہے ...

      (17) پیری مریدی کی مروجہ شکل کی شرعی حیثیت؟ - محدث فتویٰ

      www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/...
      Feb 18, 2015 - (17) پیری مریدی کی مروجہ شکل کی شرعی حیثیت؟ ... بریلوی مسجد میں میں نے پہلی بار دیکھا کہ جمعہ کی نماز میں خطبہ کے بعد امام صاحب بیٹھ ...

      تعلیماتِ طریقت و شریعت سے بے بہرہ جعلی پیری مریدی - Minhaj.info

      www.minhaj.info › ماہنامہ منہاج القرآن › جون 2012 
      تعلیماتِ طریقت و شریعت سے بے بہرہ جعلی پیری مریدی ... کسی جامع شرائط مرشد کی بیعت بھی ایک مستحب اور بابرکت کام ہے۔ ..... کا مقصد حیات اپنے پیر کی نظر میں دوسرے پیر بھائیوں کی حیثیت کو گرانا اور اپنی حیثیت کو بڑھانا ہوتاہے ...
      You visited this page on 4/4/17.

      پیری , مریدی کی شرعی حیثیت ، مناظر اسلام علامہ سید مبشر رضا قادری ...

      ‫Video for پیری مریدی کی شرعی حیثیت‬‎▶ 37:52
      https://www.youtube.com/watch?v=BVGGj0mT4Tc
      Nov 11, 2016 - Uploaded by khatam e nabuwat Times
      پیری , مریدی کی شرعی حیثیت وٹس ایپ نمبر 00923247448814.

      پیری مریدی کی شرعی حیثیت - Tapatalk

      https://tapatalk.com/topic/.../35065-پیری-مریدی-کی-شرعی-حیثی..
      پیری مریدی کی شرعی حیثیت. خضر حیات. 01/25 #2. السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کسی کو اپنا پیر بنانا اسکی مریدی میں رہنا. کیا یہ درست ہے؟؟؟ پیری مریدی ...
      You visited this page on 4/4/17.

      اصلی پیری مریدی کیا ہے ؟ - مکتبہ جبریل - لائبریری

      www.elmedeen.com/book-272-اصلی-پیری-مریدی-کیا-ہے
      میں پیری مریدی اور تصوف کی شرعی حیثیت قرآن و سنت کی روشنی میں نہایت مدلل انداز میں وضاحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے اور آج کل کے جعلی پیروں کی غیر ...
      -----------------------------------------
      انسداد فرقہ واریت

      مختصر تاریخ اورعملی اقدامات


      وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ


      ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘( آل عمران،3 :103)
      وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ﴿سورة الفرقان25:30﴾
      اور(روز قیامت) رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بےشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ﴿سورة الفرقان25:30﴾







      Sectarianism, extremism, militancy and Intolerance are the main threat to the unity, peaceful coexistence and progress of Muslims. Allah says: “Be not like those who became divided into sects and who started to argue against each other after clear revelations had come to them. Those responsible for division and arguments will be sternly punished” (Qura’n;3:105).“.. Keep reading >>>
      آج کے دور میں مسلمان کئی فرقوں میں بٹ چکے ہیں اگرچہ ان کی اکثریت اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات پر متفق ہے مگر فروعی اختلافات کی شدت نے نفاق کے بیج اس طرح بو دیئےہیں کہ انتشار دن بدن متشدت اوراضافہ پزیرہے- اس معاملہ میں اسلام دشمن قوتیں بھی ملوث ہیں مگر ان کو جوازوہ مسلمان مہیا کر رہے ہیں جودشمنوں کے ہاتھدانستہ یا نادانستہ طور پرکھلونا بن چکے ہیں-  قرآن پر سب مسلمانوں کا ایمان ہے، جس کو سب مسلمان مکمل طور پر کلام اللہ تسلیم کرتے ہیں، یہی الله کی مظبوط رسی ہے جس کو الله تعالی مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتا ہےاور یہی تفرقہ کے خلاف موثر ترین ڈھال ہے-


      کیوں نہ سب اہل ایمان رسول اللهﷺ اورصحابہ کرام رضی اللہ  کے دور کے مسلمان بن جائیں جو قرآن کو اسلامی علم کا بنیادی ماخذ مانتے تھے جس  کا عملی نمونہ رسول الله ﷺ تھےجن کی سنت متواترمیں موجود تھی اور ہے۔ رسول الله ﷺ اور خلفاء راشدین نے اولین ضرورت کے تحت کلام اللہ، قرآن کو حفظ کے ساتھ ساتھ تحریر کی شکل میں محفوظ کرنے کا اہتمام خاص کیا، سنت رسولﷺ بھی موجود تھی- اسلام کے بنیادی عقائد و عبادات اور ان کی عملی شکل آپ ﷺ کے وصال پر غائب نہیں ہو گیئ تھیں- ایمان اور اسلام کے بنیادی ارکان اور ستون اپنی اصل میں اسی طرح موجود تھےجس طرح آج- کلمہ، نماز (صلاہ)، روزہ، حج ، زکات پرعمل درامد بھی ہو رہا تھا تو اب ایسا کون سا نیا ستون یا ایمان کا نیا جزو پیدا ہو گیا ہے جو تفرقہ کا باعث بن گیا؟ ہم جانتے ہیں کہ اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات میں نہ کوئی تبدیلی ہوئی ہے اور نہ ہی ایسا ہونا ممکن ہے، تو پھر جگھڑا کیوں؟


      اللہ کےواضح احکامات کے باوجود اسلام میں فرقہ واریت کا زہر کیسے داخل ہوا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئیے اسلام کی ابتدائی تاریخ کا مختصر جائزہ ضروری ہے >>>https://goo.gl/8ANxZ6
      No comments:
      Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest
      Labels: Ignorance, Islam, Monotheism, Muslims, Pir, Quran, Spirituality, Toheed
      Older Posts Home
      Subscribe to: Posts (Atom)

      Search This Blog

      Translate

      سلام میگزیں

      View my Flipboard Magazine.

      Popular Posts

      • Tablighi Jamaat تبلیغی جماعت ایک جائزہ
      • Contracts Covenant بد عہدی, معا ہدہ شکنی منافقت
      • Wahdat ul Wajood وحدت الوجود
      • قربانی ایک عبادت - احکام ومسائل
      • Blasphemy against Prophet Muhammad (pbuh) توہین رسالتﷺ
      • Law of Guidance
      • Is Prophet Muhammad (pbuh) alive in grave عقیدۂ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم
      • Sectarianism in Islam اسلام میں فرقہ واریت - تاویلیں، دلائل اور تجزیہ
      • Corruption Hadees literature حدیث میں تحریف اور اہمیت
      • Social Media Etiquette سوشل میڈیا پر ڈسکشن کے آداب

      Peace Forum Magazines

      Peace Forum Network

      Peace for Humanity

      Loading...

      SalamOne

      Tweets by @Peace_Forum

      Facebook

      Peace-Forum

      Loading...

      Blog Archive

      • ▼  2022 (3)
        • ▼  December (1)
          • قرآن اور ربا: جنگ دراصل کون کر رہا ہے؟ Scam of th...
        • ►  March (2)
      • ►  2019 (1)
        • ►  December (1)
      • ►  2018 (3)
        • ►  April (2)
        • ►  March (1)
      • ►  2017 (68)
        • ►  November (3)
        • ►  October (6)
        • ►  September (2)
        • ►  August (7)
        • ►  July (2)
        • ►  June (6)
        • ►  May (10)
        • ►  April (10)
        • ►  March (11)
        • ►  February (6)
        • ►  January (5)
      • ►  2016 (85)
        • ►  December (6)
        • ►  November (14)
        • ►  October (19)
        • ►  September (7)
        • ►  August (6)
        • ►  July (8)
        • ►  June (9)
        • ►  May (4)
        • ►  April (5)
        • ►  March (6)
        • ►  February (1)
      • ►  2015 (2)
        • ►  August (2)
      • ►  2014 (40)
        • ►  July (1)
        • ►  May (1)
        • ►  April (19)
        • ►  March (19)

      Peace Forum Network

      Peace Forum Network
      Collectively over 2 Million visits

      وزٹ

      ویب سائٹس

      • الحاد جدید معرکہ
      • لائبریری
      • وکیپیڈیا -اسلام

      ویب سائٹ لسٹ

      • AHLESUNNAT.net - Alahazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi Page
      • Al-Mawrid
      • Alexa - Top Sites by Category: Society/Religion and Spirituality/Islam
      • Darul Uloom Deoband - INDIA
      • Darul Uloom Naeemia
      • Dr. Abu Ameenah Bilal Philips
      • General Discussions Latest Topics
      • Jamia Farooqia - International Islamic University
      • Peace for Humanity
      • Shia Beliefs & Islam: شیعہ عقائد اور اسلام
      • اردو اسلامی کتب
      • جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی
      • محدث فورم [Mohaddis Forum]
      • مفتی محمد تقی عثمانی
      Simple theme. Powered by Blogger.