Featured post

فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم

آج کے دور میں مسلمان کئی فرقوں میں بٹ چکے ہیں اگرچہ ان کی اکثریت اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات پر متفق ہے مگر فروعی اختلافا...

بریلوی , دیو بندی‎‎ کون ہیں؟ Who are Barelvi and Deobandi?


هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  ( سورة الحج22:78)اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ -
 رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ﴿١٢٦ سورة الأعراف اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اِس حال میں کہ ہم مسلمان  ہوں" (7:126)
 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ  (سورة المائدة 5:3)آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کر لیا ہے (سورة المائدة 5:3)
............................................
...................................................
جنوبی ایشیا میں عقیدے کے لحاظ سے ابتدائی اہل سنت وجماعت سنی مسلمانوں کو جدید دور میں بریلوی کہا جاتا ہے۔ انگریزی وکیپیڈیا کے مطابق ان کی 200 ملین سے زائد ہے۔
 Different branches and schools in Islam:
This article summarizes the different branches and schools in Islam. The best known split, into Sunni IslamShia Islam, and Kharijites, was mainly political when it occurred in the early Islamic era, but it eventually acquired theological and juridical dimensions. There are three traditional types of schools in Islam: schools of jurisprudenceSufi orders and schools of theology. The article also summarizes major denominations and movements that have arisen in the modern era. Keep reading >>>
Barelvi (Urduبَریلوِی‎, BarēlwīUrdu pronunciation: [bəreːlʋi]) is a term used for the movement following the Sunni Hanafi school of jurisprudence, originating in Bareilly with over 200 million followers in South Asia. The name derives from the north Indian town of Bareilly, the hometown of its founder and main leader Ahmed Raza Khan (1856–1921). Although Barelvi is the commonly used term in the media and academia, the followers of the movement often prefer to be known by the title of Ahle Sunnat wal Jama'at, (Urduاہل سنت والجماعت‎) or as Sunnis, a reference to their perception as forming an international majority movement.
The movement emphasizes personal devotion to the Islamic prophet Muhammad (pbuh) and a synthesis of Sharia with Sufi practices such as veneration of saints. Because of this, they are often called Sufi, although they have little in common with the Sufism of classical Islamic mystics. The movement differentiate itself from the Deobandi movement, which was influenced by the Wahhabi movement in ArabiaKeep reading >>>>
Deobandi (Pashto and Persianدیو بندی‎‎, Urduدیو بندی‎, Bengaliদেওবন্দHindiदेवबन्दी) is a revivalist movement within Sunni (primarily HanafiIslam.[1] It is centered in IndiaPakistanAfghanistan and Bangladesh, has recently spread to the United Kingdom, and has a presence in South Africa. The name derives from DeobandIndia, where the school Darul Uloom Deoband is situated. The movement was inspired by scholar Shah Waliullah Dehlawi (1703–1762),  and was founded in 1867 in the wake of the failed Sepoy Rebellion a decade earlier.
دیوبندی مسلک کی بنیاد یوپی کہ شہر دیوبند سے پڑی۔ دارالعلوم دیوبند جہاں پر اسلامی عقائد میں ایک خاص مکتبہ فکر اور مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی ۔ اس فرقہ کے علماء اور اُن کے پیروؤں حنفی عقیدہ کے ہیں لیکن دیوبندی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ مقلد ہیں ۔ یہ درست نہیں کہ دیوبندی حضرات بریلوی مسلک کے سخت مخالف ہیں(?)۔
خاص پہچان: دیوبندیت در اصل ایک اعتدال پسند اصلاحی مسلم مکتب فکر کا نام ہے۔ یہ مکتب فکر میں فقہی مسالک، تصوفی سلسلوں اور قدیم و جدید کا بہترین سنگم ہے۔
عقائد:دیوبندی مکتب فکر فقہ میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، عقائد میں امام اشعری و ماتریدی رحمہما اللہ کی تقلید کرتے ہیں۔ دیوبندی مکتب فکر اہل السنہ والجماعہ کے عقائد کا حامل ہے۔
.........................................
 انگریزی وکیپیڈیا کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق انڈیا ٹائم کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں مسلمانوں کی اکثریت بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے اسی طرح ہیریٹیج فاؤنڈیشن ، ٹائم اور واشنگٹن پوسٹ کے اندازے کے مطابق اسی طرح کی اکثریت پاکستان میں ہے۔سیاسیات کے ماہر روہن بیدی کے تخمینہ کے مطابق پاکستان کے مسلمانوں میں سے 60 فیصد بریلوی ہیں۔ برطانیہ میں پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن (مسلمانوں) کی اکثریت بریلوی ہے، جو دیہات سے آئے ہیں۔ لفظ بریلوی اہل سنت و جماعت کے راسخ العقیدہ مسلمانوں کے لیے ایک اصطلاح (پہچان) ہے۔ اس کی وجہ 1856ء مطابق 1272 ہجری میں پیدا ہونے والے ایک عالم دین کا علمی کام ہے ان کا نام مولانا احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ تھا وہ بھارت (برطانوی ہند) کے شمالی علاقہ جات میں واقع ایک شہر بریلی کے رہنے والے تھے1921ء مطابق 1340 ہجری میں ان کا نتقال ہوابریلی ان کا آبائی شہر تھا۔ انہیں امامِ اہل سنت اور اعلیٰ حضرت کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے اکثریتی مسلم علماء کی نظر میں وہ چودھویں صدی کے ابتدائی دور کے مجدد تھے انہیں مجدد دین و ملت کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آج کے دور میں میڈیا اور تعلیمی ادارے مسلمانوں کی بین الاقوامی اکثریت اہل سنت وجماعت کو بریلوی کے عنوان سے جانتے ہیں۔ یہ وہی جماعت ہے جو پرانے اسلامی عقائد پر سختی سے قائم ہے اور مغربی مستشرقین کے بنائے ہوئے جدید شرپسند اور فتنہ پرور فرقوں کے خلاف پرسرِ پیکار رہتی ہے۔ اہل سنت بریلوی جماعت پرانے دور کے بزرگ صوفیاء اور اولیاء کے طور طریقے اپنائے ہوئے ہے اور جنوبی ایشیا میں صدیوں پہلے سے موجود سنی اکثریت کی نمائندہ ہے البتہ پچھلے چند برسوں سے چند جدید فرقوں کے پروپیگنڈے سے اہل سنت و جماعت کو بریلوی جماعت یا بریلوی مسلک کہا جاتا ہے حالانکہ اپنے عقائد اور طرز عمل میں یہ قدیم اہل سنت و جماعت کی نمائندہ ہے۔ ان کے عقائد قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح (ثابت) ہیں۔ ان کے عقائد کی بنیاد توحید باری تعالیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی نبوت پر کامل ایمان، تمام نبیوں اور رسولوں پر یقین، فرشتوں پر،عالَم برزخ پر،آخرت پر، جنت اور دوزخ پر، حیات بعد از موت پر، تقدیر من جانب اللہ پراور عالَم امر اور عالَم خلق پر ہے۔ وہ ان تمام ضروریات دین اور بنیادی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں جن پر شروع سے اہل اسلام، اہل سنت و جماعت کا اجماع چلا آرہا ہے۔ فقہی لحاظ سے وہ چاروں اماموں کے ماننے والوں کو اہل سنت وجماعت ہی سمجھتے ہیں۔ وہ ائمہ اربعہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے باہمی علمی تحقیقی اجتہادی اختلاف کو باعث برکت اور رحمت سمجھتے ہیں اور چاروں مذاہب حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی کے ماننے والے راسخ العقیدہ لوگوں کو اہل سنت وجماعت سمجھتے ہیں چاہے ان میں سے کوئی اشعری ہو یا ماتریدی مسلک کا قائل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تصوف کے چاروں سلسلوں کے تمام بزرگوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے معتقد ہیں۔ صدیوں سے اہل سنت وجماعت لوگ قادری ، چشتی ، سہروردی یا نقشبندی سلسلوں سے وابستہ رہے ہیں اور ان سلسلوں میں اپنے پیروں کے ہاتھ پر بیعت کرتے رہے ہیں اب بیسویں صدی کے اختتام سے منہ زور میڈیا کے بل بوتے پر ان سب سلاسل کو بریلوی مکتبہ فکر کی شاخیں بتایا جا رہا ہے۔ شاید مغربی میڈیا اور اس کے پروردہ لوگ پاک و ہند سے باہر دنیائے اسلام کو کوئی غلط تاثر دینا چاہتے ہیں اور اہلسنت والجماعت کے نام پر چھوٹی چھوٹی فرقہ ورانہ دہشت گرد جماعتیں بنا کر فتنہ پھیلانا چاہتے ہیں افریقہ کے مسلم ممالک بھی اس قسم کی سازشوں کی زد میں ہیں جیسا کہ صومالیہ وغیرہ۔ مسلمان ہمیشہ سے اپنے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتے آئے ہیں اور آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی تک یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، سن 2012 ء میں جب عالم مغرب خصوصاً امریکی انتظامیہ کی درپردہ حمایت میں ایک گستاخانہ فلم منظر عام پر آئی تو ملک مصر سے شروع ہونے والا احتجاج پوری دنیا میں پھیل گیا خصوصاً مسلم ممالک نے اس کا شدت سے رد کیا۔ پاکستان چالیس سے زائد اہل سنت وجماعت بریلوی تحریکوں کے ایک اتحاد نے ایک ہی وقت میں فلم کے خلاف احتجاج کیا اور اس فلم کی شدید مذمت کی۔ اسی جذبہ حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت اہل سنت بریلوی کثرت سے درود پاک پڑھتے ہیں، ان کی ایک پہچان الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ وعلیٰ آلک واصحابک یا حبیب اللہ پڑھنا ہے اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وہ کسی قسم کے نازیبا الفاظ سننے یا کہنے کے قائل نہیں ہیں اس معاملے میں وہ انتہائی حساس پائے گئے ہیں ان کے عقیدہ کے مطابق اللہ عزوجل نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے اپنے نور سے پیدا فرمایا اس کے لیے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی ایک مستند حدیث کا علمی حوالہ بھی دیتے ہیں۔ وہ اپنے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر لحاظ سے آخری نبی اور آخری رسول مانتے ہیں وہ عیسیٰ علیہ السلام کے ایک امتی کے طور پر لوٹ آنے پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک انبیاء کرام علیھم السلام کی ارواح ظاہری موت کے بعد پہلے سے برتر مقام پر ہیں اور وہ ان کوعام لوگوں سے افضل مانتے ہوئے زندہ سمجھتے ہیں ان کے نزدیک ان مقدس ہستیوں کو اللہ تعالیٰ نے غیب کا علم عطا فرمایا ہوا ہے اور وہ نزدیک و دور سے دیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں اہل سنت وجماعت بریلوی کے نزدیک اللہ عزوجل نے انبیاء کرام علیھم السلام کو بہت سے اختیارات دے رکھے ہیں جیسے عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کر دینا وغیرہ۔ اہل سنت وجماعت بریلوی اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی سالگرہ بارہ ربیع الاول کے دن کو عید میلاد النبی کے عوامی جشن کے طور پر مناتے ہیں۔ وہ اللہ کے نیک بندوں کی تعظیم کرتے ہیں اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری دیتے ہیں ان کے لیے ایصال ثواب کرنے کو جائز سمجھتے ہیں اور ان کے اعلیٰ مرتبے کے قائل ہیں ان کے نزدیک اللہ عزو جل جسے اپنا محبوب بنالے اسے دین اسلام کا خادم بنا دیتا ہے۔ وہ لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اللہ کے لیے قربانی کرتے ہیں اللہ کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کے لیے ہی مرتے ہیں ایسے لوگ جب یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے تو پھر اس پر قائم بھی رہتے ہیں ان پر اللہ کی طرف سے فرشتے اترتے ہیں ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی ڈر ہے اور نہ آخرت میں وہ غمگین ہوں گے۔ اور ان کے لیے اللہ کے ہاں ایک بہترین مقام جنت ہے جس کا ان کے لیے وعدہ ہے۔ اس دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اللہ عز وجل ان کا دوست ہے۔ اور ان کے لیے آخرت میں جو مانگیں اس کا ان کے رب کی طرف سے وعدہ ہے۔ چونکہ وہ اللہ کے دوست اور اللہ ان کا دوست ہے لہذا ان کے نیک کاموں کا صلہ انہیں ظاہری زندگی ختم ہو جانے کے بعد ملتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے ان کے ساتھ اپنی دوستی کا وعدہ دونوں جہانوں میں فرمایا ہے۔ انہیں انبیاء کرام علیھم السلام، صدیقین، شہیدوں اور صالحین کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا اور یہ اللہ کا فضل ہی تو ہے کہ نیک لوگ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب اور کامران ہیں۔ جب ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے انعامات اس قدر ہیں تو وہ بخشش و مغفرت کے بھی ضرور حق دار ہیں۔ اہل سنت وجماعت ان بزرگوں سے دعا کرانے کے قائل ہیں اور ظاہری زندگی ختم ہو جانے کے بعد ان کی عظمت کے قائل ہیں اور ان کے توسل سے اللہ تعالیٰ سے مانگنے کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک اگر اللہ چاہے تو یہ مقدس ہستیاں مدد بھی فرما سکتی ہیں ان کے نزدیک اپنے آقا کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے اصحاب، اہل بیت کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور نیک مسلمانوں کےمزارات پر حاضری دینا کتاب و سنت کی تعلیمات کےعین مطابق ہے۔ لیکن وہ ان میں سے کسی بھی مزار، دربار یا قبر کی عبادت کفرسمجھتے ہیں اور ان کو تعظیمی سجدہ کرنا حرام جانتے ہیں۔ اہل سنت بریلوی جماعت کے نزدیک مرد حضرات کا ایک مٹھی تک داڑھی رکھنا ضروری ہے اس کا تارک گنہگار ہے۔ امام اہل سنت مولانا احمد رضا خان قادری محدث بریلوی علیہ الرحمۃ الرحمان نے 1904 میں جامعہ منظر اسلام بریلی شریف قائم کیاان کے علمی کام کا پاکستان میں بہت چرچا ہے۔ ان کی تحریک پاکستان کے قیام عمل میں آنے سے قبل کام کررہی تھی بنیادی طور پر یہ تحریک جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے بنیادی عقائد کے دفاع کے لئے قائم کی گئی تھی عقائد کے دفاع کے لئےاہل سنت بریلوی جماعت نے مختلف باطل مکاتب فکر اور تحریکوں کا تعاقب کیا اور ان کے ڈھول کا پول کھول دیا۔ دیگر تحریکوں کے برعکس خطے میں سب سے زیادہ اہل سنت بریلوی جماعت نے موہن داس کرم چند گاندھی کا ساتھ نہ دیا اور اس ہندو لیڈر کی سربراہی میں تحریک خلافت، تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت کا مقاطعہ (بائیکاٹ) کیا وہ تمام ہر قسم کے کافر و مشرک کو مسلمانوں کا دشمن سمجھتے رہے۔ اہل سنت بریلوی جماعت تحریک پاکستان کے بنیادی حامی تھے اس کے قیام کے لیے انہوں نے بہت جدوجہد کی۔ عبدالرزاق قادری (تبادلۂ خیال) 18:44, 30 دسمبر 2013 (م ع و)
اس تحریر کے لیے میں نے انگریزی وکیپیڈیا سے بہت سا مواد لیا ہے جو 28 دسمبر، 2013ء تک وہاں موجود تھا لیکن میں نے اسے اپنے انداز میں ڈھال کر لکھا ہے اگر اردو وکیپیڈین انتظامیہ کو بہتر لگے تو اس تحریر کو بطور مضمون یا مضمون کا کچھ حصہ بنا لے۔ میں بالکل یہی تحریر اپنے بلاگ سمیت مختلف سوشل میڈیا فورمز پر شائع کر چکا ہوں۔ عبدالرزاق قادری
مزید پڑھیں : Sectarianism in Islam اسلام میں فرقہ واریت - تاویلیں، دلائل اور تجزیہ

دیو بندی - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیاhttps://ur.wikipedia.org/wiki/دیو_بندی
دیوبندی مسلککی بنیاد یوپی کہ شہر دیوبند سے پڑی۔ دارالعلوم دیوبند جہاں پر اسلامی عقائد میں ایک خاص مکتبہ فکر اور مدرسہ کی بنیاد رکھی
گئی ۔ اسفرقہکے ...

 بریلوی دیوبندی تاریخ اور اختلافات: - ریاض سہیل. بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی. ڈاکٹر مبارک علی کی رائے ہے کہ سعودی عرب کا دیوبند مسلک .یوبندی جماعت -

الحمد للہ: دیوبندی مسلمان جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے، اور انڈیا کے جامعہ دار العلوم دیوبند کی طرف منسوب ہے، یہ ایک نظریاتی، اور مضبوط بنیادوں ... >>> https://islamqa.info/ur/22473

 علماء اہلحدیث کے عقائد و نظریات ...ahlehadeesaurangrez.blogspot.com/.../aqaid-ulma-e-ahle-hadees.ht...

ہم جہاں بھی لفظ اہل حدیث ، فرقہ اہلحدیث ، لامذہب یا غیرمقلدین کا لفظ استعمال کریں تو اس سے انگریز کے دور میں وجود میں آنے والا فرقہ مراد ہو گا۔What is Salafism and should we be worried by it? | The Week UKwww.theweek.co.uk/world-news/.../what-is-salafism-and-should-we-be-worried-by-itJan 19, 2015 - Salafi violence is on the rise across the Arab world - and may be gaining a dangerous foothold in Europe.



~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

More:

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace 

Peace Forum Network
Visited by Millions
       
Facebook Page

No comments: