Polytheism-Shirk شرک


توحید کی ضد شرک ہے، شرک نکلا ہے لفظ "شراکت" سے جس کا مطلب ہے ساجھے داری یا Partnership شریعت میں ،ظاہری اور باطنی عبادات کے کام میں اللہ کے علاوہ کس اور کو شامل کرنا-
Allah is the Sovereign in the Universe. Whoever ascribes partners to Allah, or divinity to any of His creation, has indeed invented a tremendous sin. Allah will forgive any transgression but SHIRK. Included in this category are those who worship their own desire (45:23), those who indulge in human worship and in sectarianism (30:31), (42:21), and those who follow man-made books in lieu of the Book of Allah (6:122), (6:137), and those who claim or believe in Revelation after the Qur'an, in any form, including claims of attaining Divine knowledge through mystical experience (6:62), (7:173), (7:191). And those who uphold Trinity (4:171), (5:72-73.) And those who claim that God has a son, and those who follow their religious leaders (9:31) Such people fall from the high station of humanity. Worshiping any entity other than Allah, sinks the human "Self" down to subhuman levels (22:31). But most of those who claim belief (and call themselves Muslims), indulge in SHIRK (12:106). Keep reading >>>

وَاعْبُدُوا اﷲَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِه شَيْئًا.(النساء، 4 : 36)
ترجمہ: اور تم اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔
 مردوں اور عورتوں، عالم و متعلم اور ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اس معاملہ پربھر پور توجہ دے، اور اس میں غور کرتا رہے، تاکہ وہ شرک کی حقیقت اور اس کی انواع  اکبر اور اصغر کو جان سکے، ان کے واقع ہوتے ہی سچی توبہ کرلے، ، تا کہ توحید کا پابند ہوجائے، اور توحید ہی پر قائم و دائم رہے، اور اللہ تعالی کی اطاعت جاری رکھے اور اس کے حق کی ادائیگی جاری رکھے۔

 شرک کی دوبڑی قسمیں ہیں: شرک اكبر اور شرک اصغر ۔
شرک اکبر: يہ عبادات کی ساری قسموں کو يا بعض عبادات کو غیر اللہ کی طرف پھيرنے کو شامل ہے، یا ایسی چیز کے انکار کو شامل ہے جن کا وجوب اللہ تعالی کے دین سے ضروری طور پر معلوم ہو- شرکِ اکبرکا مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج ھوجاتا ہے،اللہ اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو نہیں بخشتا،اور اس کے سوا گناہ،جس کے چاہے بخش دیتا ہے،[النساء:١٤٨]
شرک اکبر کی چار قسمیں ہیں:
(ا) دعا اور سوال میں شرک۔ 
(ب) نیت اور قصد وارادہ میں شرک۔
(ج) اطاعت میں شرک، اس کی صورت یہ ہے کہ اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام ٹھرانے ،اور حرام کردہ چیز کو حلال ٹھرانے پر علماء کی اطاعت کی جائے۔ 
(د) محبت میں شرک، بایں طور کہ اللہ جیسی محبت، کسی مخلوق سے رکھی جائے۔ 

 شرکِ اصغر:
اس کا مرتکب دائرۂ اسلام سے باہر نہیں ہوتا جیسے شرکِ خفی (پوشیدہ شرک) اس حکم میں معمولی ریاکاری بھی داخل ہے۔
ایک اور قسم "شرک خفی" دو قسموں سے خارج نہیں ہوسکتا ہے، شرک اکبر اور شرک اصغر، اگرچہ اس کو خفی کا نام دیا گیا ہے؛ لہذا شرک کبھی خفی بھی ہو سکتا ہے اور کبھی جلی (ظاہر) بھی۔

شرک خفی بھی شرک اصغر ہوتا ہے جو تلاوت ، یا نماز یا صدقہ یا اس کے مشابہ کوئی اور عمل اس لیے کرتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں ۔ تو یہ شرک خفی ہے، لیکن شرک اصغر ہے ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اے لوگو! اس شرک سے بچو کیونکہ یہ چیونٹی کی حرکت سے بھی پوشیدہ تر ہے، تو آپ سے پوچھا گیا اے اللہ کے رسول! جب وہ چیونٹی کی حرکت سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے،تو اس سے ہم کس طرح بچ سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا تم لوگ یہ دعا پڑھا کرو:

 اللھم ءانا نعوذ بك من اَن نشرك بك شيئا نعلمہ ونستغفرك لما لا نعلم۔ 
اے اللہ جانتے ہوے ،ہم تیرے ساتھ شرک کریں اس سے ہم آپ کی پناہ چاہتے ہیں،اور اگر نا دانستہ شرک ہو جائے تو اس کے لیے ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں(احمد)

لہذا ہر مؤمن کے لئے واجب ہے کہ وہ اس سے خبردار رہے ، اور شرک کی ان اقسام سے دور رہے، خاص طور پر شرک اکبر سے، کیونکہ یہ اللہ تعالی کی نافرمانی میں سب سے بڑا گناہ ہے، اور مخلوق میں واقع ہونے والا سب سے بڑا جرم ہے، اور اسی کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالی نے فرمایا :
" وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ " (٦:٨٨) 
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﺿﺎﹰ ﯾﮧ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻙ ﻛﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ کچھ ﯾﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻛﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﰷﺭﺕ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ۔ اور اس بارے میں سبحانه وبحمده نے فرمایا :
" إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ"(٥:٧٢) 
ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ ﻛﮧ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍللہ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺮﯾﻚ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍللہ ﺗﻌﺎلی ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻨﺖ ﺣﺮﺍﻡ ﻛﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ، ﺍﺱ کا ﭨﮭکاﻧﮧ ﺟﮩﻨﻢ ﮨﯽ ﮨﮯ اور اس بارے میں پاک پرورگار نے یہ بھی فرمایا:
" إِنَّ اللَّهَ لاَ يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ "(٤:٤٨)
ﯾﻘﯿﻨﺎﺍللہ ﺗﻌﺎلی ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺮﯾﻚ ﻛﺌﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺨﺸﺘﺎﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﻮﺍ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں سواری پر رسول اکرم ﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ میرے اور رسول اکرم ﷺ کے درمیان سوائے پالان کی پچھلی لکڑی کے کچھ نہ تھا۔ آپؐ نے فرمایا اے معاذ بن جبلؓ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں حاضر ہوں آپؐ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جاننے والے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ جب بندے یہ احکام بجا لائیں (یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں) تو ان کا اللہ پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ بندوں کا اللہ تعالیٰ پر حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں عذاب سے محفوظ رکھے۔

(مسلم ، کتاب ایمان)
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits

قادیانی فتنہ


لکیر کھینچی جا چکی ہے
قادیانیوں والے مسئلے پر بحث اب شروع ہوئی ہے تو اس کے کئی مختلف زاویے زیر بحث آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے دو باتیں ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ ایک ہے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی ترمیم۔ یہ بالکل الگ مسئلہ ہے ، اس پر سوچ سمجھ کر کلام کیجئے ۔
  ممکن ہے آپ میں سے چند ایک اصولی بنیاد پر اس موقف کے حامی ہوں کہ ریاست کو کسی کو غیر مسلم قرار دینے کا حق نہیں، مگر یہ یاد رکھئیے کہ اس وقت اس دلیل کو سب سے زیادہ قادیانی اور قادیانی نواز حلقے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جو قادیانیوں کو غیر مسلم نہیں سمجھتے، جن کے نزدیک ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی مسئلہ ہی نہیں، ویسے تو ایسے لوگوں میں سے بعض کے نزدیک خود رسالت بلکہ خدا کا وجود ہی کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ یہی لوگ اب ایک بار پھر نئے سرےسے ، ایک منظم انداز میں ایک طے شدہ مسئلے کو ، ایک متفقہ آئینی ترمیم کو ،جس کے پیچھے عوام ، اہل علم اور تمام تر دینی حلقوں کا مینڈیٹ موجود ہے، اس مسئلے کو بلکہ ایک طرح سے پنڈورا باکس کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی، منظم کوشش ہے۔ یہ حلقہ سوچے سمجھے بغیر آگ سے کھیل رہا ہے، انہیں اندازہ ہی نہیں کہ اس طرح وہ بارود کو تیلی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا تمام تر نقصان قادیانی حضرات کو ہوگا کہ شدید ردعمل میں یہ نام نہاد لبرل ، سیکولر حضرات تو چپکے سے ایک طرف ہوجائیں گے، نشانہ عام قادیانی بننے کا خطرہ ہے ۔
  یہ ریاست کو حق نہ دینے والی دلیل بھی عجیب وغریب ہے۔ باقی ہر کام میں فرد اور گروہ سے اختیار لے کر ریاست کو پکڑا  دیا جاتا ہے، اس معاملے میں چونکہ ریاست نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے اس لئے انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اس معاملے میں کیا کیا جائے ؟ اسی لئے مجبوراً اپنے پچھلے کئی برسوں کے معروف موقف سے رجوع کر کے ریاست پر چڑھائی کی جار ہی ہے۔ قادیانیوں والے معاملے میں قدرت نے کمال مدد کی ہے کہ ریاست نے عوام کی منتخب اسمبلی میں باقاعدہ کئی دنوں تک بحث کرا کر متفقہ طور پر یہ ترمیم منظور کی ہے ۔ تمام شرائط اس میں پوری ہوتی ہیں۔ ریاست پوری طرح شامل ہے، پارلیمنٹ میں بحث ہوئی، پارلیمنٹ بھی وہ ،جس میں پاکستانی تاریخ کی سب سے قدآور شخصیات شامل تھیں، اور جس الیکشن کے نتیجے میں وہ پارلیمنٹ بنی، وہ پاکستانی تاریخ کے سب سے فئیر الیکشن سمجھے جاتے ہیں، وزیراعظم منتخب تھا، ایک ایسا شخص جسے لبرل، سیکولر حلقے اپنا ہیرو مانتے  ہیں، اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی امریکہ، اینٹی سامراج جو سمجھا اور مانا جاتا تھا۔ جس پر کہیں سے مولویوں یا مذہبی حلقوں کا اثرورسوخ نہیں بلکہ وہ شدید اینٹی ملا انسان تھا۔ ایسے شخص نے یہ ترمیم منظور کرائی  ہے، جس پر کوئی اس حوالے سے انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ مزے کی بات کہ ہر معاملے میں ضیا الحق کے سائے ڈھونڈ لئے جاتے ہیں، اس وقت تو ضیا کا ایشو بھی نہیں تھا۔ اس لئے یہ واحد رائٹسٹ ، اسلامسٹ ایشو ہے، جس میں تاریخ، دلائل، منطق، قانونی تاریخ سب ان کی ساتھ کھڑے ہیں۔
  اس لئے جو دوست اس حوالے سے کچھ کہنا چاہتے ہیں، ضرور بولیں، مگر سوچ سمجھ کر ، اپنے موقف کو جانچ کر لکھیں، بولیں۔ یہ سمجھ لیں کہ اگر آپ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے مخالف ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ قادیانیوں کو غیر مسلم نہیں مانتے، یعنی آپ قادیانیوں کو مسلمان مانتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے قائل نہیں۔ یہ ایک واضح منطقی نتیجہ نکلتا ہے، جو پھر اخذ کیا جائے تو برا نہ مانئیے گا۔ آپ ہمارے نبی کے خلاف کیمپ میں شامل ہوجائیں، جھوٹے نبی کے لشکر کو کمک پہنچائیں، دینی حلقے کی کئی عشروں کی محنت، عوامی حلقوں کے نصف صدی سے زیادہ احتجاج کو ایک منٹ میں زیرو کرنا چاہیں گے تو بھیا ہم آپ پر پھول تو نہیں برسائیں گے۔ طنز کے تیروں ، کٹیلے جملوں کا آپ کو سامنا تو کرنا پڑے گا۔
  روز حشر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ نے کیا منہ دکھانا ہے، یہ تو آپ کا اپنا معاملہ ہوگا، لیکن دنیا میں ہم ان شااللہ اپنے آقا، سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان، عزت، عظمت کا دفاع کریں گے۔ واللہ ہم ایسا کریں گے ، اپنی تمام تر صلاحیتیں، اپنی قوتیں، اپنا سب کچھ اس میں لگا دیں گے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ مغربی ایجنڈے پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی ترمیم ختم ہوسکے۔ ہماری زندگیوں میں ان شااللہ ایسا نہیں ہوسکتا۔  اس رب کی قسم ، جس کے قبضے میں ہماری جانیں ہیں، ہم اس معاملے میں لڑیں گے ، اپنی آخری سانسوں تک، اپنے لہو کی آخری بوند تک۔  یہ کھلی لڑائی ہے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے طے ہوگیا۔ اسے دوبارہ زیر بحث لانا، اس مسئلے کو اٹھانا، سوال کرنا دراصل ایک نیا فتنہ جگانے کے برابر ہے ۔
  ہاں کوئی یہ چاہتا ہے کہ قادیانیوں کو حقوق ملیں، ان کے ساتھ زیادتی نہ ہو، اس حوالے سے بات کی جائے تو یہ ایک الگ ایشو ہے۔ اس پر بات ہوسکتی ہے، سنی جا سکتی ہے، مگر ایسا کرنے والے کو پہلے یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم مانتا ہے، آئینی ترمیم کو مانتا ہے۔ تب ہی اس کی قادیانیوں کے حقوق کے حوالے سے بات کی کوئی اہمیت بنتی ہے۔ ورنہ وہ بھی اسی قادیانی، قادیانی نواز قبیلے کا ایک سپاہی ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ چونکہ، چناچہ، اگر ،مگر کے ذریعے وہ خود کو قادیانیوں سے الگ نہیں کر سکتا ہے۔ جس نے ایسا کرنا ہے، کھل کر کرنا ہوگا۔ لکیر کھینچی جا چکی ہے۔ اور یہ لکیر قادیانیوں نے خود کھینچی ہے۔ حبیب خدا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا معاملہ وہ واضح لکیر ہے ،جو دو لشکروں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔ جس کی مرضٰ جہاں کا رخ کر لے۔ لیکن اب یہ نہیں ہوسکتا کہ منافقت کا سہارا لے کر قادیانیوں کا دست وبازو بنتے ہوئے کام کیا جائے اور ساتھ ہی اہل مذہب سے یہ امید رکھی جائے کہ وہ انہیں طعنہ نہیں دیں گے، بدستور عزت وتکریم کرتے رہیں گے۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ (
امر ہاشم خاکوانی) 

قرآن کے وارث اور ان کے تین طبقات



ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ ﴿٣٢﴾

پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اِس وراثت کے لیے) اپنے بندوں میں سے چن لیا اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے (سورة فاطر35:32)
مراد ہیں مسلمان جو پوری نوعِ انسانی میں سے چھانٹ کر نکالے گئی ہیں تاکہ وہ کتاب اللہ کے وارث ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد اسے لے کر اٹھیں۔ اگر چہ کتاب پیش تو کی گئی ہے سارے انسانوں کے سامنے۔ مگر جنہوں نے آگے پڑھ کر اس ے قبول کر لیا وہی اس شرف کے لیے منتخب کر لیے گئے کہ قرآن جیسی کتاب عظیم کے وارث اور  محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم جیسے رسول عظیم کی تعلیم و ہدایت کے امین بنیں۔
یعنی یہ مسلمان سب دے سب ایک ہی طرح کے نہیں ہیں، بلکہ یہ تین طبقوں میں تقسیم ہو گئے ہیں:
1)۔ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے۔یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کو سچے دل سے اللہ کی کتاب اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ایمانداری کے ساتھ اللہ کا رسول تو مانتے ہیں، مگر عملاً کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کا حق ادا نہیں کرتے۔ مومن ہیں مگر گناہ گار ہیں۔ مجرم ہیں مگر باغی نہیں ہیں۔ ضعیف الایمان ہیں مگر منافق اور دل و دماغ سے کافر نہیں ہیں۔ اسی لیے ان کو ظالمُ لِنفسہ ہونے کے باوجود وارثین کتاب میں داخل اور خدا کے چُنے ہوئے بندوں میں شامل کیا گیا ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ باغیوں اور منافقوں اور قلب و ذہن کے کافروں پر ان اوصاف کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ تینوں درجات میں سے اس درجہ کے اہل ایمان کا ذکر سب سے پہلے اس لیے کیا گیا ہے کہ تعداد کے لحاظ سے امت میں کثرت انہی کی ہے۔
2)۔ بیچ کی راس۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس وراثت کا حق کم و بیش ادا تو کرتے ہیں مگر پوری طرح نہیں کرتے۔ فرماں بردار بھی ہیں اور خطا کار بھی۔ اپنے نفس کو بالکل بے لگام تو انہوں نے نہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ اسے خدا کا مطیع بنانے کی اپنی حد تک کوشش کرتے ہیں، لیکن کبھی یہ اس کی باگیں ڈھیلی بھی چھوڑ دیتے ہیں اور گناہوں میں مبتال ہو جاتے ہیں۔ اس طرح انکی زندگی اچھے اور برے، دونوں طرح کے اعمال کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ یہ تعداد میں پہلے گروہ سے کم اور تیسرے گروہ سے زیادہ ہیں اس لیے ان کو دوسرے نمبر  پر رکھا گیا ہے۔
3)۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے۔ یہ وارثین کتاب میں صفِ اول کے لوگ ہیں۔ یہی دراصل اس وراثت کا حق ادا کرنے والے ہیں۔ یہ اتباع کتاب و سنت میں بھی پیش پیش ہیں، خدا کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانے میں بھی پیش پیش، دین حق کی خاطر قربانیاں کرنے میں بھی پیش پیش، اور بھلائی کے ہر کام میں پیش پیش۔ یہ دانستہ معصیت کرنے والے نہیں ہیں، اور نا دانستہ کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس پر متنبہ ہوتے ہی ان کی پیشانیاں شرم سے عرق آلود ہو جاتی ہیں۔ ان کی تعداد امت میں پہلے دونوں گروہوں سے کم ہے اس لیے ان کا آخر میں ذکر کیا گیا ہے اگر چہ وراثت کا حق ادا کرنے کے معاملہ میں ان کو اولیت کا شرف حاصل ہے۔
’’یہی بہت بڑا فضل ہے ‘‘۔ اس فقرے کا تعلق اگر قریب ترین فقرے سے مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیکیوں میں سبقت کرنا ہی بڑا فضل ہے اور جو لوگ ایسے ہیں وہ امت مسلمہ میں سب سے افضل ہیں۔ اور اس فقرے کا تعلق پہلے فقرے سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ کتاب اللہ کا وارث ہونا اور اس وراثت کے لیے چن لیا جانا بڑا فضل ہے، اور خدا کے تمام بندوں میں وہ بندے سب سے افضل ہیں جو قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لاکر اس انتخاب میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
(تفہیم القرآن)
http://www.tafheemulquran.net/1_Tafheem/Suraes/035/55.htmlhttp://www.tafheemulquran.net/1_Tafheem/Suraes/035/56.html



~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
بسم الله الرحمن الرحيم
 لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ
شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا. ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین  پر. جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا.
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits

قرآنِ مجید عربی میں کیوں نازل ہوا ؟ کیا قراآن سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے؟


قرآن مجید عربی زبان میں کیوں نازل ہوا ، اس کا جواب جاننے کے لئے ہمیں رسول اللہﷺ کی پیدائش سے 3000 سال پیچھے جانا ہو گا جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے وطن کنعان (نینوا)سے اپنے بڑے بیٹے اسمٰعیل ؑ اور اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ کے ساتھ جنوب کی طرف قریباً850 میل کے فاصلے پر ہجرت کر کے مکہّ پہنچے تھے۔ ہمارے ایمان کا یہ حصہ ہے کہ آلِ ابراہیم ؑ سے ہی کوئی نہ کوئی ہستی نبیوں کی آخری لڑی ہو گی۔ اس بارے میں ہم کوئی حجت نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ ہمارے عقیدہ کا حصہ ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کو مکہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ایک اور وجہ سے بھی ملا ہو گا۔ مکہ میں حجراسود موجود تھا۔ اس سیا ہ پتھر کو آگے چل کر مسلمانوں کی عبادت کی علامت بننا تھا۔حجراسود کو جس مکعب نما کمرے کی دیوار میں پیوست کرنا تھا، اُس کمرے کی تعمیر حضرت ابراہیم ؑ اور اُن کے بیٹے حضرت اسمٰعیل ؑ سے کروانی مقصود تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ اگر مکہ کی طرف ہجرت نہ کرتے تو وہ شمال میں خراسان کی طرف ہجرت کر جاتے۔ وہاں کی زبان خراسانی فارسی تھی۔ظاہر ہے وہیں شیر خوار حضرت اسمٰعیل ؑ بھی اپنے والدین کے ہمراہ جاتے ۔ وہاں خراسان میں ہی حضرت اسمٰعیل ؑ کی نسل چلتی اور وہیں اللہ کے حکم سے محمد ﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن عبدالمناف اس دنیا میں تشریف لاتے اور اُن کی مادری زبان فارسی ہوتی۔ چونکہ محمد ﷺ بن عبداللہ کو ہی نبی آخری الزماں ہونا تھا اس لئے قرآن مجید بھی فارسی میں ہی نازل ہوتا، لیکن مشیتِ ایز دی ایسا نہیں چاہتی تھی۔ عربی زبان کے مقابلے میں دنیا کی تمام ترقی یافتہ زبانیں کسی نہ کسی طور کم تر ہیں۔ یہ بات میَں بطور ایک مسلمان کے نہیں لکھ رہا ہوں۔ جو لوگ علمِ زبان (Linguists) کے ماہر ہیں وہ بتاتے ہیں کہ جتنی بلاغت، فصاحت، اظہاریت اور اسلوب (Diction) عربی زبان میں ہے اِتنی خصوصیات دنیا کی کسی اور زبان میں نہیں ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ بھی یہی کہتا ہے ۔ مجھے یورپ کی بہت توانا زبانوں کی اچھی خاصی سوجھ بوجھ ہے مثلاً جرمن، فرانسیسی، ہسپانوی، اس کے علاوہ انگریزی ، فارسی عربی، اُردو اور گورمکھی(مع Script ) ۔ یہ سب زبانیں میَں اچھی طرح مع گرامر سمجھتا ہوں، ان میں سے کوئی بھی زبان عربی کی طرح مکمل نہیں ہے۔ عربی کی لُغت (Vocabulary) میں الفاظ کا ذخیرہ اِنسانی زندگی سے تعلق رکھنے والی ہر کیفیت ،فعل اور روّیے کے اِظہار کے لئے موزوں ترین لفظ مہیا کرتا ہے۔  عربی زبان میں ہی یہ ممکن ہے کہ فعل (Verb) کی شکل مذکر اور مؤنث کے لئے بدل جاتی ہے۔ واحد کے لئے ، 2 افراد کے لئے اور 2 سے زیادہ افراد کو مخاطب کرنے کے لئے بھی فعل کی شکل بدل جاتی ہے۔ عربی زبان میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کا پتہ چل جاتا ہے کہ اِن احکامات کا مخاطب ایک مرد ہے یا ایک عورت، دو افراد ہیں یا بہت سے لوگ ہیں۔ یہ سہولت ہمیں کسی اور زبان میں نہیں ملتی ۔ عربی گرامر کی اس خوبی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احکامات اور ہدایات میں کوئی ابہام نہیں ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی بنائی ہوئی تمام مخلوق میں سے صرف اِنسان کو اُس کی جسمانی اور ذہنی خصوصیات کی وجہ سے اشرف المخلوقات کا درجہ دینے کے لئے چُنا اسی طرح اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تمام زبانوں میں سے عربی زبان کو قرآنِ مجید کی ترسیل کے لئے چُنا گیا۔ ہم مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ظہور سے پہلے کے زمانے کو جاہلیہ کا دور کسی اور حوالے سے کہتے ہیں ورنہ وہ دور عربی ادب اور شاعری کا سنہری دور تھا۔ عرب خوامخواہ غیر عربوں کو عجمی (گونگا) نہیں کہتے تھے۔ واقعی عربی زبان کے مقابلے میں اُس وقت کی مشہور زبانیں(فارسی، چینی، سنسکرت، عبرانی، رومن لاطینی اور مصِری ) نہ ہی الفاظ کا اِتنا ضخیم ذخیرہ رکھتی تھیں اور نہ ہی اُن کی صرف و نحو (Grammer) اتنی ترقی یا فتہ تھی کہ وہ ہر قسم کے اِظہار کے لئے مکمل ہوتی۔ قرآنِ مجید کا پیغام روحانیت اور ہدائت کا مجموعہ ہے۔ ہر دو قسم کے اِظہار کے لئے عربی ہی موزوں ترین زبان تھی اور اسی لئے قرآنِ مجید عربی زبان میں نازل ہوا۔
..................................
قرآن شریف سے قبل جتنے صحیفے اُتارے گئے وہ ایک مخصوص قوم کیلئے تھے ۔ جب اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے دین مکمل کرنا چاہا تو ایسی زبان میں قرآن شریف اُتارا جو اُس وقت کی آباد دنیا کے اکثر حصہ میں سمجھی جاتی تھی اور وہ زبان عربی تھی ۔ تاریخ پر غور کیا جائے تو عربی زبان نہ صرف جزیرہ نما عرب بلکہ ملحقہ علاقوں میں بھی بولی یا کم از کم سمجھی جاتی تھی ۔ مشہور واقع حبشہ کا ہے جو افریقہ میں واقع تھا اور مکہ سے سب سے پہلے ہجرت کرنے والے مسلمان حبشہ پہنچے تھے اور وہاں کے عیسائی بادشاہ کو سورت مریم سنانے پر بادشاہ نے اُنہیں اپنا مہمان بنا لیا -
.............................
نہ مسلمان عربی سیکھ پائیں گے اور نہ انہیں قرآن میں کیا لکھا ہے اس کی سمجھ آئے گی۔ اس ذہنیت (mindset) کو کامیاب بنانے میں عام امام مسجدوں نے بنیادی کردار ادا کیا اور مسلمانوں کے بچوں کو قرآن عربی میں ہی ختم کرا کے سجمھا انہوں نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کر لی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مفہوم و ترجمہ ضروری ہے-

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~


کیا قراآن سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے؟


قرآن کے براہ راست پہلے مخاطب عرب تھے لہذا قرآن عربی میں ہی نازل ہوا سب اس کو سمجھ لیتے تھے- ترجمہ کی اہمیت محسوس نہ ہوئی- مگر آج جبکہ مسلمانوں کی اکثریت عربی سے نا بلد ہے ترجمہ کی اہمیت بہت بڑھ گیئ ہے-امت مسلمہ کی تنزلی کی ایک وجہ قرآن کی نا فہمی اور اس سے دوری ہے- علماء حضرات کا فرض ہے کہ اس خلیج کو ہر ممکن تریقوں سے کم کرنے کی مخلصانہ کوششیں کریں-  


ہم میں سے یقینااکثر لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ تلاوتِ قرآن کا صحیح معنی کیا۔کیا صرف قرآن پڑھنے کا نام ہی تلاوت ہے ؟جی نہیں۔پڑھنے کے لیے عربی زبان میں ''قرا'' وغیرہ کے الفاظ آتے ہیں ،توپھر تلاوت کے کیا معنی ہوئے ؟اس سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ تلاوت کرنے میں جو شرط قرآن نے لگائی ہے وہ یہ ہے!

(اَلَّذِینَ آَتَیْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَتْلُونَہُ حَقَّ تِلَاوَتِہِ أُولَئِکَ یُؤْمِنُونَ بِہِ) [البقرہ:١٢١]''


وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب(قرآن) کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے 
،ایسے لوگ ہی اس پر (صحیح معنوں میں) ایمان لاتے ہیں''
اس آیت میں ومنوں کی صفت'' تلاوت قرآن''میں حَقَّ تِلَاوَتِہِ کی شرط لگائی گئی ہے۔(یعنی تلاوت اس طرح جس طرح تلاوت کا حق ہے)اگر ہم لغت کی کتابوں کی طرف مراجعت کرتے ہیں اور اس کا معنی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں معلوم پڑتا ہے کہ تلاوت کا معنی:


تلاوت کے معنی میں پڑھنے کے ساتھ ''عمل کرنے کی نیت سے پڑھنا'' بھی شامل ہے۔گویاتلاوت کا معنی ہوا'' پڑھنا ،عمل کرنے کی نیت سے''۔

[تہذیب االغۃ:ج٥ص٢١،لسان العرب ج١٤ص١٠٢،قاموس القرآن ص١٦٩]

''عمل کرنے کی نیت سے پڑھنے '' میں سب سے پہلی قابل ذکربات ترجمہ قرآن ہے۔کیونکہ دورانِ تلاوت جب ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم کیا پڑھ رہے ہیں تو عمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،لہٰذا ناظرہ قرآن کے بعدجو چیز وقت کی اہم ضرورت ہے وہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھناہے۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ حفظ قرآن سے پہلے ترجمہ قرآن ضروری ہے۔ممکن ہے آپ میری اس بات سے اتفاق نہ کریں ،کیونکہ عوام میں حفظ قرآن کی فضلیت ترجمہ قرآن سے زیادہ ہے۔لیکن اگرہم اس بات کو ایک مثال سے سمجھیں تو بات دل کو لگتی ہے۔سب لوگ یہ جانتے ہیں کہ نماز کی اہمیت،فرضیت ،فضیلت اورفوائدوثمرات وضو سے زیادہ ہیں ۔لیکن اگر وضو کے بغیر نماز پڑھی جائے تو نماز نہ ہوگی ۔کیونکہ نماز کے لیے وضو شرط ہے ۔جب وضو ہی نہیں تو نماز جیسی اہم عبادت بھی مقبول نہیں ۔اسی طرح تلاوت قرآن میں ''عمل''شرط ہے،جو ظاہر ہے ہم عجمیوں کے لیے بغیر فہم کے ممکن نہیں ۔توثابت ہوا کہ جو لوگ بغیر سمجھے قرآن کو پڑھتے ہیں وہ اس کی تلاوت نہیں کرتے بلکہ اسے پڑھتے ہیں ،اور اگر تلاوت کرتے ہیں تو اس طرح نہیں کرتے جس طرح تلاوت کا حق ہے۔یہاں یہ سوال پید ا ہوتاہے کہ جو لوگ قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھتے تو کیا ان کو اس کا ثواب نہیں ملتا؟ میں یہ تو نہیں کہتا کہ جوشخص قرآن بغیر فہم کے پڑھے گا اسے اس کا ثواب نہیں ملے گا ،لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اگر صرف ثواب کی نیت سے ہی پڑھنا ہے تو ہمارے لیے سارے قرآن کی بجائے قرآن کا کچھ حصہ ہی کا فی ہے۔مثلاً صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے:ثواب ہی ثواب لیکن!


((قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِہِ أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ یَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِی لَیْلَۃٍ فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ وَقَالُوا أَیُّنَا یُطِیقُ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ اللَّہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ ثُلُثُ الْقُرْآنِ))

[بخاری:کتاب فضائل القرآن ، رقم الکتاب:16،باب فضل قل ہو اللہ احد،رقم الباب:13رقم الحدیث5015]

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا کہ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز آگیا ہے کہ (رات سونے سے پہلے)ایک تہائی قرآن (دس پارے)پڑھے،انہوں (صحابہ )نے کہا اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے تو آپ نے فرمایاسورۃ اخلاص ایک تہائی قرآن(کے برابر)ہے۔''

ایک شخص ایک ماہ کی محنتِ شاقہ کے بعد قرآن کی تلاوت مکمل کرتاہے اور اس کے برعکس دوسر ا شخص صرف ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پوراقرآن پڑھنے کا ثواب حاصل کرسکتا ہے(سورۃ اخلاص تین دفعہ پڑھ کہ)تو پھر پورے قرآن کی نسبت ثواب کے معاملے میں سورۃ اخلاص زیادہ قدرومنزلت کی حامل ہے۔لیکن میری اس بات پر کوئی فرد بھی اتفاق نہیں کرے گا کہ امت مسلمہ کے لیے پورے قرآن کی نسبت صرف سورۃ اخلاص ہی کافی ہے۔لہٰذا قرآن کی تلاوت اسی وقت اپنے پایہ تکمیل تک پہنچے کی جب پڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اس کے معانی معلوم ہوں گے۔یہاں ہم استدلال کے کے لیے ایک قرآنی آیت اورحدیث رقمطراز ہیں جس سے فہم قرآن کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔اللہ کا فرمان تدبر قرآن:

(أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا )[محمد:٢٤]
''کیا وہ لوگ قرآن پر تدبر نہیں کرتے ؟یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔''

گمراہ لوگوں کی تلاوت :


((یَتْلُونَ کِتَابَ اللَّہِ رَطْبًا لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ یَمْرُقُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنْ الرَّمِیَّۃِ))

[بخاری:کتاب المغازی،رقم الکتاب:64رقم الباب:61رقم الحدیث:4351]''

(ایک قوم ایسی ہوگی)وہ اللہ کی کتاب کو بڑی خوبصورت آواز میں پڑھے گے لیکن وہ(قرآن) ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا ۔وہ دین سے ا س طرح نکل جائیں جس طرح تیر کمان سے۔''

ہمیں اس مشابہت سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔
کیا قرآن کا مقصد صرف محفلوں کو سجانا تھا؟
کیا قرآن کا نزول صرف قسمیں اٹھانے کے لیے ہے؟
کیا قرآن کوماننے والوں کا یہ حال ہوتاہے ،جو اس وقت امت مسلمہ کا ہے؟
کیا قرآن صرف ایک لازاول،بے مثال،بے نظیر اور لاثانی کتاب ہی ہے؟کیا قرآن کا محفوظ ترین ہونا صرف ایک معجزہ کے لیے ؟کیا بغیر سمجھے پڑھنےقرآن کا حق ادا ہوجاتاہے؟
اگر ان سوالوں کا جواب حقیقت کی زبانی دیا جائے تویقینا'' نہیں''ہے ۔میں اپنی بات کا اختتام رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر کرنا چاہوں گا:

((إِنَّ اللَّہَ یَرْفَعُ بِہَذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہِ آخَرِینَ))
[صحیح مسلم:کتاب صلاۃ المسافرین،رقم الکتاب:7،رقم الباب47،رقم الحدیث:1934]

''بے شک اللہ اس کتاب (قرآن)کے ذریعےقوموں کو ترقی دیتے ہیں اوردوسروں(اس پر عمل نہ کرنے والوں) کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔

''
اللہ ہمیں قرآن سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمینوما توفیقی الا باللّٰہ .

.................................................

٢-  قرآنِ مجید عربی میں کیوں نازل ہوا 
انسان کے درمیان رابطھ برقرار رکھنے کیلئے زبان سب سے اھم وسیلھ ھے اللہ گفتگو اور کلام کی طاقت کو انسان کی سب سے بڑی نعمتوں میں شمار کرتا ھے.جس کی طرف سوره رحمن میں اشاره ھوا ھے۔ جن پیغمبروں کو اللہ  نے انسانوں کی ھدایت کیلئے بھیجا ھے وه اپنی قوم کے ساتھه رابطے کیلئے اس زبان میں گفتگو کرتے تھے۔ جو ان کی قوم کی زبان ھوتی تھی اس طرح وه اخلاقی قوانین، احکام اور عقاید کو ان ھی کی زبان میں ان کیلئے بیان کرتے تھے۔ بعثت سے پھلے جاھلی عرب کے تقا ضوں کو دیکھه کر اللہ  نے رسول اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم کو عرب قوم کی ھدایت کے لئے بھیجا ۔ اس لئے انھیں ، عربوں کی زبان میں گفتگو کرنی تھی۔ کھ جس معجزے کو وه لے آئے تھے وه قابل فھم ھو ۔ اس لے قرآن مجید بھی ، جو رسول اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ کا معجزه تھا، عربی زبان میں نازل ھوا۔ اگر چھ عربی زبان کی ذاتی خصوصیات میں اس کا فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے قانون پذیر ھونا وغیره کو بھی نظر میں رکھنا چاھئے۔
لیکن دوسرا سوال یھ ھے کھ اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم عرب زبان ھی کیوں تھے؟ اور ان کی  کتاب بھی عربی کیوں تھی ؟
اس سوال کے جواب میں کھنا چاھے که : اس بات کو مد نظر رکھتے ھوئے کھ عرب ایسے لوگ ھیں، جو اپنی زبان ، طریقھ کار، اور نسب میں خاص تعصب رکھتے ھیں ( دین کے محفوظ رھنے کا اندرونی سبب) اور پوری تاریخ میں کوئی بیرونی حکومت انھیں اپنی زبان اور ثقافت تبدیل کرنے پر مجبور نھ کرسکی ( دین کے تغییر نھ پانے کیلئے بیرونی سبب) اور عربی زبان میں ایسی قابلیت ھے ، کھ زیاده معنی کو کم الفاظ کے ذریعے ، بغیر کسی ابھام اور اجمال کے بیان کرسکتی ھے۔ اس لئے حجاز (مکہ و مدینہ) کی سرزمین اور عربی زباں "دین خاتم" اور اس کی کتاب کو محفوظ کرنے کیلئے ایک بھترین دفاع ھے۔ اسی لئے عربی زبان میں قرآن نازل ھونے کی ایک دلیل اس کی دائمی حفاظت ھے۔
تفصیلی جوابات
اللہ کی سنتوں میں سے ایک سنت ، انسانوں کی ھدایت کیلئے رسولوں کا بھیجنا ھے، خدا کے پیغمبر بھی انسانوں کے ساتھه رابطے کیلئے اس علاقھ کے لوگوں کے ساتھه جھان وه مبعوث ھوتے تھے  ان ھی کی زبان میں بات کرتے تھے۔ پیغمبر کا اپنی قوم کی زبان میں گفتگو کرنا ، خدا کی ایک اور سنت میں سے ھے،اللہ  کا ارشاد ھے :" ھم نے جس رسول کو بھی بھیجا اسی کی قوم کی زبان کے ساتھه بھیجا تاکھ وه لوگوں پر باتوں کو واضح کرسکے " [1] یھ سنت  ان پیغمبروں کے بارے مین بھی سچ ھے جن کی دعوت عالمگیر تھی اور جو سب لوگوں کی ھدایت کیلئے مبعوث ھوئے تھے جیسے اولو العزم پیغمبر لیکن وه بھی اپنی ھی قوم کی زبان میں بات کرتے تھے ابتدائے بعثت سے جھاں وه  مبعوث ھوئے تھے۔ اور اگر ایسا نھ ھوتا تو اس پیغمبر کی شریعت ، اس قوم میں ھی جھاں وه مبعوث ھوئے تھے قابل فھم اور قابل قبول نھ ھوتی ۔
قرآن کی ، زبان ایک  بلند تر " حقیقت" ھے اور اس سے پھلے کھ وه عربی زبان میں ڈھال جائے ، وجود کے ایک ایسے مرحلے میں تھا جھاں انسانی عقلوں کو اس پر دسترس نھ تھی ، اللہ نے اسے اپنے اصلی مقام سے نیچے لاکر انسانوں کے لئے قابل فھم بنایا اور اسے عربی لفظوں کا لباس پھنایا تا کھ انسانی عقلیں اس سے مانوس ھوکر اس کے حقایق کو سمجھه سکیں۔ [2]
پس قرآن کی اصل اور اس کی حقیقت ، زبان اور کسی بھی زبانی سانچے میں ڈھلنے سے بلند تر ھے ۔ لیکن یھ کیوں عربی زبان میں نازل ھوا ، اسی سلسلے میں کھا جاسکتا ھے که عربی زبان کی ذاتی خصوصیات کے علاوه ، کھ یھ زبان قانوں پذیرھونے کے ساتھه زبانوں کے درمیان فصاحت و بلاغت کی چوٹی پر ھے۔ پیغمبر اکرم اس قوم میں مبعوث ھوئے جو عربی زبان میں گفتگو کرتی تھی ، اور آنحضرت (ص) کو خدا کا پیغام پھنچانے کیلئے ایک قابل فھم معجزه چاھئے تھا تاکھ لوگ اسے نھ جھٹلائیں۔ خدا پر ایمان لائیں اور دین کو پھیلانے میں کوشش کریں ، البتھ اس کے قابل فھم ھونے کا یھ مطلب نھیں ھے کھ قرآن کے سب حقایق کی فھم نھیں ھے ، کیونکه قرآن کے حقایق لا محدود ھیں ، بلکھ اس سے مراد زبان کی فھم اور بعض حقائق کی اجمالی فھم ھے۔
بعثت سے پھلے عرب کی جاھلی قوم ، زندگی کے سب سے پست لوازم کے ساتھه رھتی  تھی اس لئے اللہ نے پیغمبر کو عرب قوم میں مبعوث کیا ، حضرت علی رضی اللہ ، اسلام سے قبل  اور پیغمبر کی  آمد سے پھلے دور جاھلیت کے بارے میں فرماتے ھیں " اللھ نے انھیں اس وقت بھیجا جب  لوگ گمراھی میں متحیر اور فتنوں مین ھاتھه پاؤں مار رھے تھے خواھشات نے انھیں بھکا دیا تھا اور غرور نے ان کے قدموں میں لغزش پیدا کردی تھی ، جاھلیت نے انھیں سبک سر بنادیا تھا اور وه غیر یقینی حالات اور جھالت کی بلاؤں میں حیران و سرگرداں تھے ۔ آپ (ص) نے نصیحت کا حق ادا کردیا ، سیدھے راستھ پر چلے اور لگوں کو حکمت اور موعظھ حسنھ کی طرف دعوت دی۔" [3]
یہ شرائط سبب بنے تھے کھ پیغمبر عرب قوم میں بھیجے گے پس قرآن کو بھی عربی زبان میں ھونا چاھئے نھ کھ دوسری زبانوں میں۔ لیکن جو کچھه اھم ھے وه قرآن سے فائده حاصل کرنا ھے  جو عرب زبانوں کیلئے مخصوص نھیں اللہ فرماتا ھے " اگر ھم اس قرآن کو عجمی زبان مین نازل کردیتے تو یھ کھتے کھ اس کی آیتیں واضح کیوں نھیں ھیں، اور یھ عجمی کتاب اور عربی انسان کا ربط کیا ھے ، تو آپ کهه دیجئے کھ یھ کتاب صاحبان ایمان کیلئے شفا اور ھدایت ھے اور جو لوگ ایمان نھیں رکھتے ھیں ان کے کانوں میں بھراپن ھے اور وه ان کی نظر میں کبھی نھیں آرھا ھے اور ان لوگوں کو بھت دور سے پکارا جائے گا" [4]
یھاں پر ایک   اور سوال اٹھتا ہے کھ اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللھ علیھ و اآلھ وسلم عرب زبان تھے اور ان کی کتاب ھی عربی زبان میں تھی، یھ سعادت فارسی زبان والوں یا کسی اور زبان والوں کو کیوں نصیب نھ ھوئی؟ اس سوال کے جواب سے پھلے چند نکات بیان کرنا ضروری ھے پھر سوال کا جواب دیں گے۔
الف ) جب آخری پیغبمر کی بات ھوتی ھے ، کچھه افراد ھونے چاھئے جو پیغام کو دریافت کرکے اچھی طرح سے اس کی حفاظت کرسکیں۔ ( دین کے محفوظ رکھنے کا اندرونی عامل )
ب ) دوسری جانب بعض افراد ھمیشھ دین کو نابودکرنے کی کوشش میں ھیں ، جس طرح سب انبیاء کی تاریخ میں مشاھده کیا جاتاھے ( بیرونی سبب دین کی تغییر کا ) اس لئے اس طرح کی مشکل کیلئے کوئی حل ڈھونڈنا چاھئے۔
ج) ایسا بالکل نھیں ھے کھ ھمیشه (خصوصا پیغمبر کی وفات کے بعد بھی ) معجزه یا خارق العادۃ کاموں کے ذریعے دین اور قرآن کی حفاظت کی جائے۔
ان مقدمات کے بعد انسانوں اور ان کے  رھنے کے  ماحول پر نظر ڈالتے ھوئے دیکھه لیں کھ کس ماحول میں اور کن شرائط میں یھ نکات متحقق ھونے کے لائق ھیں۔
اولا : عرب ایسے لوگ ھیں جو اپنی زبان ، رسوم ، قوانین ، اور نسب کے بارے میں خاص تعصب رکھتے ھیں انھیں آسانی سے اپنی زبان اور ثقافت سے دور نھیں کیا جاسکتا یھاں تک کھ اس دور میں بھی عالمگیریت کے پروپگنڈے کے باوجود بھی وه اپنے کپڑوں کو چھوڑ نھیں سکتے ( اندرونی عامل محفوظ ھونے کا )
ثانیا : حجاز کے عرب کچھه اس طرح تھے کھ نھ صرف وه اپنی مادری زبان سے الگ نھیں ھوسکتے تھے ، بلکھ پوری تاریخ کے دوران کوئی بیرونی حکومت سے انھیں یھ کام کرنے پر مجبور نھ کرسکی ، یعنی خارج سے انھوں نے کوئی اثر قبول نھیں کیا ( تغییر کیلئے خارجی عامل )
ثالثا : حجاز کے عربوں کی زبان ضمیروں کی کثرت کے باوجود ، تثنیھ ، مفرد، اور جمع کے ضمیروں کو آپس میں فرق، اور مذکر اور مؤنث کے صیغوں کا آپس میں مختلف ھونا مختلف قسموں کا جمع ھونا ، کنایات اور استعارات وغیره سے مالا مال ھونا ، سبب بنا ھے کھ زیاده مطالب کو الفاظ کی کم تعدادکے ذریعے بیان کیا جائے بغیر اس کے کھ کوئی ابھام یا اجمال گوئی ھو۔
ان نکات کو مد نظر رکھه کر دین خاتم اور اس کی کتاب باقی رھنے کیلئے حجاز کی سرزمین اور عرب زبان دفاع کرنے کی بھترین طبیعی اور معمولی (غیر خارق العادۃ ) راه ھے قرآن نے اپنی داخلی جاذبیت  اور دلپذیر آھنگ اور آوا کے ذریعے صحرا نشین عربوں کے ذھنوں میں اپنی جگھ بنائی جو عرب فصیح او رموزون کلام کے پسند کرنے والے تھے ار اس طرح مختلف لفظی تحریفوں سے یھ کلام محفوظ رھا اس طرح قرآن کا عربی زبان میں نازل ھونا اسکی دائمی حفاظت کیلئے تھا۔ [5] ھاں قرآن کا عربی زبان مین نازل ھونا ، خدا کی طرف سے عرب زبانوں کے لئے  ایک خاص کرم اور رحمت تھی ، اور اگر غیر عربی زبان میں نازل ھوتا، تو عرب زبان جن کی تعداد کم نھ تھی اس پر ایمان نھیں لاتے خدائے متعال کا ارشاد ھے:" اگر ھم اسے کسی عجمی آدمی پر نازل کرتے اور وه ان میں پڑھه کر سناتا تو یھ کبھی ایمان لانے والے نھیں تھے" [6]
[1]  سوره ابراھیم / ۴
[2]  المیزان ، ( ترجمھ فارسی ) ج ۸ ص ۱۲۲، ۱۲۳۔
[3]  نھج البلاغه ، ترجمھ دشتی ، خطبه ۹۵۔
[4]  سوره فصلت / ۴۴
[5]  فصلنامھ بینات ، شماره ۲۷ ص ۳۸ أ ۴۱
[6]  سوره شعراء ۱۹۸ ۔۔۔ ۱۹۹
.....................
بسم الله الرحمن الرحيم
 لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ
شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا. ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین  پر. جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا.
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits