Indian Muslims بھارت: دیوبند تا بریلی، انتخابات اور مسلمان

بھارت: دیوبند تا بریلی، انتخابات اور مسلمان
ڈھائی سال قبل عام انتخابات کی کوریج کے دوران بہار کے وسطی ضلع سمستی پور کے دوردرازگائوں میں کالج کے پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ ان کا تجزیہ مدلل اور فرقہ واریت سے مبرّا تھا۔گائوں کی گلیوں سے گزرتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے ایک زیر تعمیر مدرسے اور مسجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شکایت کی کہ مسلمانوں کے پاس خلیجی ممالک سے خاصا پیسہ آ رہا ہے، لیکن دوسر ی جانب ہندوئوں کا کوئی پرسان حال نہیں، اس لئے نریندر مودی کو ایک بار وزیر اعظم بننا چاہیے تاکہ مسلمانوںکو تھوڑا بہت سبق سکھایا جاسکے۔ بات پوری کرنے سے قبل ہی ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنا درد دل ایک مسلم صحافی کے سامنے بیان کر رہے ہیں، اس لئے جلد موضوع بدل دیا۔ 
The Rajinder Sachar Committee, appointed in 2005 by the Indian Prime Minister Manmohan Singh, was commissioned to prepare a report on the latest social, economic and educational condition of the Muslim community of India. The committee was headed by the former Chief Justice of Delhi High Court Rajinder Sachar, including other six members. The committee prepared a report of 403 pages, and presented in the lower house (Lok Sabha) of the Indian Parliament on 30 November 2006 (20 months after obtaining the terms of reference from the PMO).
The committee had highlighted and presented its suggestions and solutions to include and mainstreamIndian Muslims. The online report is available from the Indian Government website. The report is first of its kind revealing the backwardness of Indian Muslims, according to Sachar Committee report some of the major concers are:
  • The status of Indian Muslims are below the conditions of Scheduled Castes and Scheduled Tribes.
  • The overall percentage of Muslims in bureaucracy in India is just 2.5% whereas Muslims constitute above 14% of Indian population.
To ensure equity and equality of opportunities to Indian Muslims in residential, work and educational sector, the Committee had proposed multiple suggestions to be adopted, with a suitable mechanisms. Keep reading >>>>>> http://peace-forum.blogspot.com/2013/02/sachar-committee-report-on-latest.html

Read more: India’s Muslim Dilemma: भारतीय मुसलमानों की दुविधा >>>>>
اس وقت بھارت کے پانچ صوبوں اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، گوا اور منی پور کی اسمبلیوں کے لئے انتخابات کا عمل جاری ہے۔ پنجاب اورگوا میں ووٹنگ مکمل ہو چکی جبکہ اتراکھنڈ میں ایک دو روز میں مکمل ہو جائے گی، مگر سبھی نگاہیں سیاسی لحاظ سے سب سے اہم صوبہ اترپردیش پر لگی ہوئی ہیں، جہاں انتخابی عمل سات مرحلوں پر محیط ہے اور ابھی پہلا مرحلہ ختم ہوا ہے۔ 19کروڑ نفوس پر مشتمل اس صوبے سے لوک سبھا کی 543 میں سے 80 نشستیں ہیں، اس لئے اسمبلی کے نتائج کا مرکزی سیاست پر اثر انداز ہونا لازمی ہے۔ اس صوبے میں مسلمانوں کی آبادی 3کروڑ یعنی 19.3فیصد ہے۔ مشہور ملی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، دارالعلوم دیوبند، مظاہرالعلوم، بریلی مکتبہ فکر کا مرکزی ادارہ بھی اسی صوبے میں ہیں۔ چونکہ بھارت میں ووٹنگ اکثر ذات پات اور برادری کی بنیاد پر ہوتی ہے، اگر اس کا جائزہ لیا جائے تو یہاں دلت 21.1 فیصد، دیگر پسماندہ ذاتیں 44 فیصد، اعلیٰ ذاتیں 16فیصد اور مسلمان سب سے زیادہ یعنی 19.3فیصد ہیں۔ بھارت میں انتخابات قومی میڈیا کے لئے ملک کے اندرونی علاقوں سے رابطہ رکھنے کا نایاب موقع فراہم کرتے ہیں، اس لئے انتخابات کا بگل بجتے ہی راقم نے صوبے کی مسلم سیاست اور سب سے بڑی اقلیت کی حالت زار کا جائزہ لینے کے لئے میرٹھ، دیوبند، سہارنپور، بجنور، مراد آباد، رام پور اور بریلی کا سفر کیا۔۔۔تقریباً 1400کلومیٹر! ایک خوشگوار صورتحال تو یہ دیکھنے کو ملی کہ تمام مسلمان مسلکی اختلافات کو بالائے طاق پر رکھ کر نریندر مودی اور ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی سے چھٹکارہ پانا چاہتے ہیں۔ حتیٰ کہ گزشتہ برس جس تنظیم نے مودی اور مرکزی حکومت کے ایما پر مسلکی منافرت کو ہوا دینے کے لئے دہلی میں ورلڈ صوفی کانفرنس منعقدکی تھی اس نے بھی بی جے پی کو ہرانے کے لئے ان انتخابات میں دلت لیڈر مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس صورتحال کا منفی پہلو یہ ہے کہ مسلمان پہلی بار اجتماعی عدم سلامتی کے شکار ہیں اور ان کی ترجیحات تعمیر و ترقی کے بجائے بقا اور تحفظ ہے، جو خطرناک رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بریلی میں اعلیٰ حضرت احمد رضا خان کے پڑ پوتے توقیر رضا خان نے پتے کی بات کہی: ''صرف ہم مسلمان ایک دوسرے کوکافر قرار دیکرگلہ کاٹنے پر اتر آتے ہیں،کافر ہم سب کو مسلمان سمجھ کر اس کی سزا دیتا ہے۔ ایسے میں آخر ہم کیوں ملی اتحاد کی طرف مائل نہیں ہوتے؟‘‘ دیوبند اور بریلی کے درمیان محض 300کلومیٹر کا فاصلہ ہے، مگر مسلکی منافرت نے اس کو صدیوں کا فاصلہ بنا کر رکھا ہے۔ توقیر میاں نے گزشتہ سال دارالعلوم دیوبند میں حاضری دیکر اور وہاں کے علماء سے گفت و شنید کرکے منجمد برف میں شگاف ڈالنے کا قابل تعریف کارنامہ انجام دیا تھا، جس کے لئے ان کو خاصی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ حتیٰ کہ کئی مفتیوں نے ان کے لئے تجدید نکاح کا فتویٰ صادر کر دیا۔ تاہم ان کے ساتھ ملاقات کے دوران ظاہر ہوا کہ وہ اتحاد ملت کے مشن پر کار بند ہیں۔
بی جے پی لیڈروں کی طرف سے آئے دن مسلم مخالف بیانات، قصبوں اور دیہات میں قبرستانوں پر قبضے کی بڑھتی ہوئی وارداتوں، لائوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی اور اس نوعیت کے دوسرے جھگڑوں نے مسلمانوںکی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ کالے دھن کو ختم کرنے کے نام پر مودی نے ہزار اور پانچ سو کے نوٹ بند کرکے مسلمان کاریگروں اور تاجروں کی کمر توڑ ڈالی ہے۔ اتر پردیش ہنر مندوں کی سرزمیں ہے، مسلمان اور دوسرے بادشاہوں نے صنعتوں کو پذیرائی بخشی۔ ہر علاقے کی مخصوص صنعت پر اجارہ داری تھی۔ مثلًا فرنیچر کے لئے سہارنپور، سجاوٹ کا سامان بنانے کے لئے سنبھل، کپڑے کے لئے بنارس، قالینوں کے لئے مرزا پور اورتالوں کے لئے علی گڑھ وغیرہ۔ سرکاری سرپرستی سے محرومی، تحقیق و ترقی کی عدم دستیابی اور نئے ڈیزائن کی حوصلہ افزائی نہ ہونے کے باعث یہ ہنر اب آخری سانسیں لے رہے ہیں جبکہ نوٹ بندی نے بچے کھچے کاریگروں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ بریلی کے شاہمت گنج میں زردوزی کے کارخانے بند ہوچکے ہیں۔ معین خان کا ایکسپورٹ کا بڑا آرڈر کینسل ہوچکا ہے۔سہارنپور میں فرنیچر کے تاجر حاجی فرقان بتاتے ہیںکہ ان کے کارخانے میں دسمبر تک 50 کاریگر تھے، مگر اب 10 رکھنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صنعت سے سالانہ 6 ارب روپے کا کاروبارہوتا تھا جو اس سال بمشکل ایک سے ڈیڑھ ارب رہ جائے گا۔ رام پور میں چاقوئوں کی صنعت کو تقریباً بند کردیا گیا ہے۔ ان صنعتوں کے کاریگر اکثر مسلمان ہیں، انہیں تعلیم کے ساتھ منسلک کرکے اور ادارہ جاتی صورت دینا کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہی۔ 
اگرچہ ہندوئوں کے کاروبار بھی نوٹ بندی کی زد میں آچکے ہیں، شاید دیہی علاقوں میں مودی کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ شہری علاقوں میںکاروباراعلیٰ ذات کے ہندوئوں کے پاس ہوتا ہے لیکن وہ بھی مودی کے اس اقدام کی مخالفت توکرتے ہیں، مگر پھر یہ بھی کہتے ہیںکہ ملک کے لئے تھوڑی بہت قربانی تو دینی پڑتی ہے۔ 
دارالعلوم دیوبند نے غیر جانبداری ظاہرکرنے کے لئے سیاسی لیڈروں اور میڈیا پر الیکشن کا عمل مکمل ہونے تک اپنے دروازے بند کرلے ہیں، مگر مدرسے سے متصل مولانا انور شاہ کشمیری لولابی کے پوتے وجاہت شاہ اس پر برہم ہیں کہ اس نازک وقت پر قوم کی رہنمائی کرنے کے بجائے دارالعلوم کے ذمہ داروں نے چادر اوڑھ لی ہے۔
1992ء میں بابری مسجد کے سانحہ کے بعد اس صوبے میںکانگریس کے زوال کے بعد سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو مسلمانوں کے مسیحا کے روپ میں ابھرکر سامنے آئے تھے۔ اگرچہ ترقی کے نام پر انہوں نے بھی کچھ نہ دیا مگر فسادات کو 
قصہ پارینہ بنا دیا تھا۔ سلامتی کے احساس نے مسلمانوں کو تجارت اور دیگر شعبوں کی طرف بھی مائل کر دیا تھا۔ اس بار ملائم سنگھ کے صاحبزادے اکھلیش سنگھ نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کرکے مسلم ووٹوں کی مضبوط دعویداری پیش کی ہے، مگر مایاوتی نے بھی مسلم ووٹ حاصل کرنے کی خاطر 96 مسلمان امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ دلت مسلمان اتحاد مثالی تو لگتا ہے، تاہم یہ اتحاد ابھی ایک خواب ہے کیونکہ مسلمان خود بھی اعلیٰ ذات کے ہندوئوں کی طرح دلتوںکو مساواتی نگاہ سے دیکھنا گوارا نہیں کرتے، انہیں غلیظ اور اچھوت سمجھتے ہیں۔ چونکہ اقتصادی طور پر دونوں ہی حاشیہ پر ہیں، اس لئے قصبوں اور دیہات میں دلت اور مسلم بستیاں ساتھ ساتھ ہوتی ہیں اور وسائل ہتھیانے کے لئے آپس میں ٹکرا بھی جاتے ہیں، جو اکثر ہندومسلم فساد میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس اتحاد کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے دونوں طرف مضبوط لیڈرشپ کی ضرورت ہے۔ دیوبند کی میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین ضیاء الدین انصاری کا کہنا تھا کہ یہ مسلمانوں کے لئے آزمائش کا وقت ہے۔ اگر مسلمانوں کا بڑا حصہ 21 فیصد دلتوں کے ساتھ اتحاد کرتا ہے تو مایاوتی انتخابات میں سب کا صفایا کر دے گی۔ مایاوتی کے برعکس اکھلیش یادو کی کمیونٹی صرف 9 فیصد ہے۔ مقامی سطح پر مسلمانوں کو یہ احساس بھی ہے کہ ان کی طرف سے سیکولر امیدوارں کی حمایت کو ان کی مجبوری سمجھا جاتا ہے جس سے ان کی سیاسی حیثیت بے اثر ہو جاتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتخابی سیاست میں ووٹ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، یہی قوت آئندہ کے لیے سیاسی پارٹیوں سے اتحاد کا سبب بنتی ہے۔ ہار اور جیت کی پروا کیے بغیر اگر مسلم ووٹر طویل مدتی منصوبے سے جنوبی صوبہ کیرالا کی طرز پر اپنی قیادت کھڑی کرکے ان کو مضبوط بنائیں تو شاید منظر نامہ تبدیل ہوجائے گا۔ 
- See more at: http://m.dunya.com.pk/index.php/author/iftikhar-gilani/2017-02-14/18551/39212934#sthash.eRcjq2D8.dpuf


  ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

More:

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ، کلچر ، برداشت ، سلامتی 
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Visited by Millions لاکھوں افراد کا وزٹ 
Frequently Asked Questions <<FAQ>>
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا "وہاٹس اپپ براڈکاسٹ" وصول کرنے کے لیے اپنا نام اور موبائل نمر923004443470+ پر بھیجیں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media or receive WhattsApp Broadcast, by sending your Name and Cell# at +923004443470
  
Facebook Page

بریلوی , دیو بندی‎‎ کون ہیں؟ Who are Barelvi and Deobandi?


هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  ( سورة الحج22:78)اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام "مسلم" رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ -
 رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ﴿١٢٦ سورة الأعراف﴾ اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اِس حال میں کہ ہم مسلمان  ہوں" (7:126)
 الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ  (سورة المائدة 5:3)آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کر لیا ہے (سورة المائدة 5:3)
............................................
...................................................
جنوبی ایشیا میں عقیدے کے لحاظ سے ابتدائی اہل سنت وجماعت سنی مسلمانوں کو جدید دور میں بریلوی کہا جاتا ہے۔ انگریزی وکیپیڈیا کے مطابق ان کی 200 ملین سے زائد ہے۔
 Different branches and schools in Islam:
This article summarizes the different branches and schools in Islam. The best known split, into Sunni Islam, Shia Islam, and Kharijites, was mainly political when it occurred in the early Islamic era, but it eventually acquired theological and juridical dimensions. There are three traditional types of schools in Islam: schools of jurisprudence, Sufi orders and schools of theology. The article also summarizes major denominations and movements that have arisen in the modern era. Keep reading >>>
Barelvi (Urdu: بَریلوِی‎, Barēlwī, Urdu pronunciation: [bəreːlʋi]) is a term used for the movement following the Sunni Hanafi school of jurisprudence, originating in Bareilly with over 200 million followers in South Asia. The name derives from the north Indian town of Bareilly, the hometown of its founder and main leader Ahmed Raza Khan (1856–1921). Although Barelvi is the commonly used term in the media and academia, the followers of the movement often prefer to be known by the title of Ahle Sunnat wal Jama'at, (Urdu: اہل سنت والجماعت‎) or as Sunnis, a reference to their perception as forming an international majority movement.
The movement emphasizes personal devotion to the Islamic prophet Muhammad (pbuh) and a synthesis of Sharia with Sufi practices such as veneration of saints. Because of this, they are often called Sufi, although they have little in common with the Sufism of classical Islamic mystics. The movement differentiate itself from the Deobandi movement, which was influenced by the Wahhabi movement in Arabia. Keep reading >>>>
Deobandi (Pashto and Persian: دیو بندی‎‎, Urdu: دیو بندی‎, Bengali: দেওবন্দ, Hindi: देवबन्दी) is a revivalist movement within Sunni (primarily Hanafi) Islam.[1] It is centered in India, Pakistan, Afghanistan and Bangladesh, has recently spread to the United Kingdom, and has a presence in South Africa. The name derives from Deoband, India, where the school Darul Uloom Deoband is situated. The movement was inspired by scholar Shah Waliullah Dehlawi (1703–1762),  and was founded in 1867 in the wake of the failed Sepoy Rebellion a decade earlier.
دیوبندی مسلک کی بنیاد یوپی کہ شہر دیوبند سے پڑی۔ دارالعلوم دیوبند جہاں پر اسلامی عقائد میں ایک خاص مکتبہ فکر اور مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی ۔ اس فرقہ کے علماء اور اُن کے پیروؤں حنفی عقیدہ کے ہیں لیکن دیوبندی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ مقلد ہیں ۔ یہ درست نہیں کہ دیوبندی حضرات بریلوی مسلک کے سخت مخالف ہیں(?)۔
خاص پہچان: دیوبندیت در اصل ایک اعتدال پسند اصلاحی مسلم مکتب فکر کا نام ہے۔ یہ مکتب فکر میں فقہی مسالک، تصوفی سلسلوں اور قدیم و جدید کا بہترین سنگم ہے۔
عقائد:دیوبندی مکتب فکر فقہ میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، عقائد میں امام اشعری و ماتریدی رحمہما اللہ کی تقلید کرتے ہیں۔ دیوبندی مکتب فکر اہل السنہ والجماعہ کے عقائد کا حامل ہے۔
.........................................
 انگریزی وکیپیڈیا کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق انڈیا ٹائم کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں مسلمانوں کی اکثریت بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے اسی طرح ہیریٹیج فاؤنڈیشن ، ٹائم اور واشنگٹن پوسٹ کے اندازے کے مطابق اسی طرح کی اکثریت پاکستان میں ہے۔سیاسیات کے ماہر روہن بیدی کے تخمینہ کے مطابق پاکستان کے مسلمانوں میں سے 60 فیصد بریلوی ہیں۔ برطانیہ میں پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن (مسلمانوں) کی اکثریت بریلوی ہے، جو دیہات سے آئے ہیں۔ لفظ بریلوی اہل سنت و جماعت کے راسخ العقیدہ مسلمانوں کے لیے ایک اصطلاح (پہچان) ہے۔ اس کی وجہ 1856ء مطابق 1272 ہجری میں پیدا ہونے والے ایک عالم دین کا علمی کام ہے ان کا نام مولانا احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ تھا وہ بھارت (برطانوی ہند) کے شمالی علاقہ جات میں واقع ایک شہر بریلی کے رہنے والے تھے1921ء مطابق 1340 ہجری میں ان کا نتقال ہوابریلی ان کا آبائی شہر تھا۔ انہیں امامِ اہل سنت اور اعلیٰ حضرت کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے اکثریتی مسلم علماء کی نظر میں وہ چودھویں صدی کے ابتدائی دور کے مجدد تھے انہیں مجدد دین و ملت کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آج کے دور میں میڈیا اور تعلیمی ادارے مسلمانوں کی بین الاقوامی اکثریت اہل سنت وجماعت کو بریلوی کے عنوان سے جانتے ہیں۔ یہ وہی جماعت ہے جو پرانے اسلامی عقائد پر سختی سے قائم ہے اور مغربی مستشرقین کے بنائے ہوئے جدید شرپسند اور فتنہ پرور فرقوں کے خلاف پرسرِ پیکار رہتی ہے۔ اہل سنت بریلوی جماعت پرانے دور کے بزرگ صوفیاء اور اولیاء کے طور طریقے اپنائے ہوئے ہے اور جنوبی ایشیا میں صدیوں پہلے سے موجود سنی اکثریت کی نمائندہ ہے البتہ پچھلے چند برسوں سے چند جدید فرقوں کے پروپیگنڈے سے اہل سنت و جماعت کو بریلوی جماعت یا بریلوی مسلک کہا جاتا ہے حالانکہ اپنے عقائد اور طرز عمل میں یہ قدیم اہل سنت و جماعت کی نمائندہ ہے۔ ان کے عقائد قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح (ثابت) ہیں۔ ان کے عقائد کی بنیاد توحید باری تعالیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی نبوت پر کامل ایمان، تمام نبیوں اور رسولوں پر یقین، فرشتوں پر،عالَم برزخ پر،آخرت پر، جنت اور دوزخ پر، حیات بعد از موت پر، تقدیر من جانب اللہ پراور عالَم امر اور عالَم خلق پر ہے۔ وہ ان تمام ضروریات دین اور بنیادی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں جن پر شروع سے اہل اسلام، اہل سنت و جماعت کا اجماع چلا آرہا ہے۔ فقہی لحاظ سے وہ چاروں اماموں کے ماننے والوں کو اہل سنت وجماعت ہی سمجھتے ہیں۔ وہ ائمہ اربعہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے باہمی علمی تحقیقی اجتہادی اختلاف کو باعث برکت اور رحمت سمجھتے ہیں اور چاروں مذاہب حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی کے ماننے والے راسخ العقیدہ لوگوں کو اہل سنت وجماعت سمجھتے ہیں چاہے ان میں سے کوئی اشعری ہو یا ماتریدی مسلک کا قائل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تصوف کے چاروں سلسلوں کے تمام بزرگوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے معتقد ہیں۔ صدیوں سے اہل سنت وجماعت لوگ قادری ، چشتی ، سہروردی یا نقشبندی سلسلوں سے وابستہ رہے ہیں اور ان سلسلوں میں اپنے پیروں کے ہاتھ پر بیعت کرتے رہے ہیں اب بیسویں صدی کے اختتام سے منہ زور میڈیا کے بل بوتے پر ان سب سلاسل کو بریلوی مکتبہ فکر کی شاخیں بتایا جا رہا ہے۔ شاید مغربی میڈیا اور اس کے پروردہ لوگ پاک و ہند سے باہر دنیائے اسلام کو کوئی غلط تاثر دینا چاہتے ہیں اور اہلسنت والجماعت کے نام پر چھوٹی چھوٹی فرقہ ورانہ دہشت گرد جماعتیں بنا کر فتنہ پھیلانا چاہتے ہیں افریقہ کے مسلم ممالک بھی اس قسم کی سازشوں کی زد میں ہیں جیسا کہ صومالیہ وغیرہ۔ مسلمان ہمیشہ سے اپنے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتے آئے ہیں اور آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی تک یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، سن 2012 ء میں جب عالم مغرب خصوصاً امریکی انتظامیہ کی درپردہ حمایت میں ایک گستاخانہ فلم منظر عام پر آئی تو ملک مصر سے شروع ہونے والا احتجاج پوری دنیا میں پھیل گیا خصوصاً مسلم ممالک نے اس کا شدت سے رد کیا۔ پاکستان چالیس سے زائد اہل سنت وجماعت بریلوی تحریکوں کے ایک اتحاد نے ایک ہی وقت میں فلم کے خلاف احتجاج کیا اور اس فلم کی شدید مذمت کی۔ اسی جذبہ حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت اہل سنت بریلوی کثرت سے درود پاک پڑھتے ہیں، ان کی ایک پہچان الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ وعلیٰ آلک واصحابک یا حبیب اللہ پڑھنا ہے اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وہ کسی قسم کے نازیبا الفاظ سننے یا کہنے کے قائل نہیں ہیں اس معاملے میں وہ انتہائی حساس پائے گئے ہیں ان کے عقیدہ کے مطابق اللہ عزوجل نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے اپنے نور سے پیدا فرمایا اس کے لیے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی ایک مستند حدیث کا علمی حوالہ بھی دیتے ہیں۔ وہ اپنے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر لحاظ سے آخری نبی اور آخری رسول مانتے ہیں وہ عیسیٰ علیہ السلام کے ایک امتی کے طور پر لوٹ آنے پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک انبیاء کرام علیھم السلام کی ارواح ظاہری موت کے بعد پہلے سے برتر مقام پر ہیں اور وہ ان کوعام لوگوں سے افضل مانتے ہوئے زندہ سمجھتے ہیں ان کے نزدیک ان مقدس ہستیوں کو اللہ تعالیٰ نے غیب کا علم عطا فرمایا ہوا ہے اور وہ نزدیک و دور سے دیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں اہل سنت وجماعت بریلوی کے نزدیک اللہ عزوجل نے انبیاء کرام علیھم السلام کو بہت سے اختیارات دے رکھے ہیں جیسے عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کر دینا وغیرہ۔ اہل سنت وجماعت بریلوی اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی سالگرہ بارہ ربیع الاول کے دن کو عید میلاد النبی کے عوامی جشن کے طور پر مناتے ہیں۔ وہ اللہ کے نیک بندوں کی تعظیم کرتے ہیں اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری دیتے ہیں ان کے لیے ایصال ثواب کرنے کو جائز سمجھتے ہیں اور ان کے اعلیٰ مرتبے کے قائل ہیں ان کے نزدیک اللہ عزو جل جسے اپنا محبوب بنالے اسے دین اسلام کا خادم بنا دیتا ہے۔ وہ لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اللہ کے لیے قربانی کرتے ہیں اللہ کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کے لیے ہی مرتے ہیں ایسے لوگ جب یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے تو پھر اس پر قائم بھی رہتے ہیں ان پر اللہ کی طرف سے فرشتے اترتے ہیں ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی ڈر ہے اور نہ آخرت میں وہ غمگین ہوں گے۔ اور ان کے لیے اللہ کے ہاں ایک بہترین مقام جنت ہے جس کا ان کے لیے وعدہ ہے۔ اس دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اللہ عز وجل ان کا دوست ہے۔ اور ان کے لیے آخرت میں جو مانگیں اس کا ان کے رب کی طرف سے وعدہ ہے۔ چونکہ وہ اللہ کے دوست اور اللہ ان کا دوست ہے لہذا ان کے نیک کاموں کا صلہ انہیں ظاہری زندگی ختم ہو جانے کے بعد ملتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے ان کے ساتھ اپنی دوستی کا وعدہ دونوں جہانوں میں فرمایا ہے۔ انہیں انبیاء کرام علیھم السلام، صدیقین، شہیدوں اور صالحین کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا اور یہ اللہ کا فضل ہی تو ہے کہ نیک لوگ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب اور کامران ہیں۔ جب ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے انعامات اس قدر ہیں تو وہ بخشش و مغفرت کے بھی ضرور حق دار ہیں۔ اہل سنت وجماعت ان بزرگوں سے دعا کرانے کے قائل ہیں اور ظاہری زندگی ختم ہو جانے کے بعد ان کی عظمت کے قائل ہیں اور ان کے توسل سے اللہ تعالیٰ سے مانگنے کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک اگر اللہ چاہے تو یہ مقدس ہستیاں مدد بھی فرما سکتی ہیں ان کے نزدیک اپنے آقا کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے اصحاب، اہل بیت کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور نیک مسلمانوں کےمزارات پر حاضری دینا کتاب و سنت کی تعلیمات کےعین مطابق ہے۔ لیکن وہ ان میں سے کسی بھی مزار، دربار یا قبر کی عبادت کفرسمجھتے ہیں اور ان کو تعظیمی سجدہ کرنا حرام جانتے ہیں۔ اہل سنت بریلوی جماعت کے نزدیک مرد حضرات کا ایک مٹھی تک داڑھی رکھنا ضروری ہے اس کا تارک گنہگار ہے۔ امام اہل سنت مولانا احمد رضا خان قادری محدث بریلوی علیہ الرحمۃ الرحمان نے 1904 میں جامعہ منظر اسلام بریلی شریف قائم کیاان کے علمی کام کا پاکستان میں بہت چرچا ہے۔ ان کی تحریک پاکستان کے قیام عمل میں آنے سے قبل کام کررہی تھی بنیادی طور پر یہ تحریک جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے بنیادی عقائد کے دفاع کے لئے قائم کی گئی تھی عقائد کے دفاع کے لئےاہل سنت بریلوی جماعت نے مختلف باطل مکاتب فکر اور تحریکوں کا تعاقب کیا اور ان کے ڈھول کا پول کھول دیا۔ دیگر تحریکوں کے برعکس خطے میں سب سے زیادہ اہل سنت بریلوی جماعت نے موہن داس کرم چند گاندھی کا ساتھ نہ دیا اور اس ہندو لیڈر کی سربراہی میں تحریک خلافت، تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت کا مقاطعہ (بائیکاٹ) کیا وہ تمام ہر قسم کے کافر و مشرک کو مسلمانوں کا دشمن سمجھتے رہے۔ اہل سنت بریلوی جماعت تحریک پاکستان کے بنیادی حامی تھے اس کے قیام کے لیے انہوں نے بہت جدوجہد کی۔ عبدالرزاق قادری (تبادلۂ خیال) 18:44, 30 دسمبر 2013 (م ع و)
اس تحریر کے لیے میں نے انگریزی وکیپیڈیا سے بہت سا مواد لیا ہے جو 28 دسمبر، 2013ء تک وہاں موجود تھا لیکن میں نے اسے اپنے انداز میں ڈھال کر لکھا ہے اگر اردو وکیپیڈین انتظامیہ کو بہتر لگے تو اس تحریر کو بطور مضمون یا مضمون کا کچھ حصہ بنا لے۔ میں بالکل یہی تحریر اپنے بلاگ سمیت مختلف سوشل میڈیا فورمز پر شائع کر چکا ہوں۔ عبدالرزاق قادری
مزید پڑھیں : Sectarianism in Islam اسلام میں فرقہ واریت - تاویلیں، دلائل اور تجزیہ

دیو بندی - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیاhttps://ur.wikipedia.org/wiki/دیو_بندی
دیوبندی مسلککی بنیاد یوپی کہ شہر دیوبند سے پڑی۔ دارالعلوم دیوبند جہاں پر اسلامی عقائد میں ایک خاص مکتبہ فکر اور مدرسہ کی بنیاد رکھی
گئی ۔ اسفرقہکے ...

 بریلوی دیوبندی تاریخ اور اختلافات: - ریاض سہیل. بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی. ڈاکٹر مبارک علی کی رائے ہے کہ سعودی عرب کا دیوبند مسلک .یوبندی جماعت -

الحمد للہ: دیوبندی مسلمان جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے، اور انڈیا کے جامعہ دار العلوم دیوبند کی طرف منسوب ہے، یہ ایک نظریاتی، اور مضبوط بنیادوں ... >>> https://islamqa.info/ur/22473

 علماء اہلحدیث کے عقائد و نظریات ...ahlehadeesaurangrez.blogspot.com/.../aqaid-ulma-e-ahle-hadees.ht...

ہم جہاں بھی لفظ اہل حدیث ، فرقہ اہلحدیث ، لامذہب یا غیرمقلدین کا لفظ استعمال کریں تو اس سے انگریز کے دور میں وجود میں آنے والا فرقہ مراد ہو گا۔What is Salafism and should we be worried by it? | The Week UKwww.theweek.co.uk/world-news/.../what-is-salafism-and-should-we-be-worried-by-itJan 19, 2015 - Salafi violence is on the rise across the Arab world - and may be gaining a dangerous foothold in Europe.



~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

More:

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace 

Peace Forum Network
Visited by Millions
       
Facebook Page