Salaam Forum سلام

Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace

Pages

  • Home
  • Index-انڈکس
  • پہلا صفحہ
  • FAQ
  • خالق کائنات کون؟
  • خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید
  • فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم
  • Quran قران - راہ ھدایت و نجات
  • کتابت حدیث
  • Free Books
  • Peace-Forum
  • Just1God
  • Faith Forum
  • Islamophobia
  • Pakistan Posts
  • YouTube
  • Video Channel
  • Muslim Only صرف مسلمان

Featured post

قرآن مضامین Quran: The Only One Book

Don't Discard Quran: Quran is the Only Last, Complete, Protected Divine Book of Guidance, without any doubt, all other books are human ...

جعلی پیری مریدی اور طریقت و شریعت


پیری مریدی کے متعلق مسمانوں میں خاص طور پر پاک و ہند میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں- ایک بات واضح ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء خرافات اور پیری مریدی کے نام پر مکروہ، غیر اسلامی ، غیر شرعی خرافات کو مسترد کرتے ہیں- یھاں پر مختلف آرا پیش خدمت ہیں، تاکہ اس مکروہ جہالت کے دھندہ سے محفوظ رہنے کے لیے مسلمانوں کی رہنمائی ہو سکے- ضرورت ہے کہ تمام علماء مل کر ون پوانٹ ایجنڈا ... توحید ... کے متلعق مسمانوں کو آگاہی مہیا کریں- توحید ، قرآن و سنت  اور اسلام کی روح ہے جس پر سب متفق ہیں اور خرافات کا توڑ >>> https://goo.gl/e7svFe

توحید، اسلام کی بیناد:
لوگ گو زبان سے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کا اقرار کرتے اور دل کے کسی گوشے میں بھی اس کو مانتے ہیں‘ لیکن عبادات اور دعاؤں کو کرتے ہوئے وہ اللہ کے ساتھ ساتھ غیر اللہ کو بھی شامل کر لیتے ہیں۔ اسلام میں غیر اللہ کی پرستش کے ہر انداز کی مذمت کی گئی ہے اور قرآن مجید کا سب سے اہم مضمون توحید باری تعالیٰ کا اثبات اور غیر اللہ کی پرستش کی تردید ہے- 
مسلمان دعوت توحید کے پاسبان اور نبیء رحمتﷺ کی تعلیمات کے وارث ہیں۔ لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ بعض لاعلم اور نادان لوگ قرآن و سنت کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر پیروں اور فقیروں کو اس حد تک بڑھا دیتے ہیں کہ ان کو اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہم نشیں بنا دیا جاتا ہے۔ جعلی عاملین اور نام نہاد پیر ہر دور میں لوگوں کا استحصال کرنے میں مصروف رہے ہیں۔ ماضی میں اس طرح کی باتیں سامنے آئیں کہ بعض درندہ صفت جعلی عاملین نے بہت سی خواتین کی عزتوں کو پامال کیا۔ اسی طرح معصوم بچوں کو نامرد بنا دیا گیا۔ حال ہی میں ایک جعلی پیر نے 20 بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم توحید پرست لوگ ہیں اور ہمارے پاس قرآن مجید اور حضرت رسول اللہﷺ کی تعلیمات کی شکل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات اور صفات کا واضح تصور موجود ہے تو نجانے ہم اپنی مشکلات، دکھ اور تکالیف کے ازالے کے لیے مساجد اور اللہ کے گھروں کی طرف رجوع کرنے کی بجائے ان پیروں اور فقیروں کے آستانے پر کیوں جھکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ حقیقی ولی اللہ اپنی پوجا کا سبق دینے کی بجائے اللہ کی بندگی کا درس دیتا ہے۔ جب کہ جادوگر، نجومی، کاہن اور جعلی عاملین لوگوں کی جان و مال اور عزت کو سلب کرکے ان کو سیدھے راستے سے بھٹکا دیتے ہیں۔ توہم پرستی جہاں پر انسان کی آخرت کو تباہ کرنے کا سبب ہے‘ وہیں پر دنیا میں بھی اس کے لیے نقصان اور اذیتوں کا باعث بن جاتی ہے۔ اس کے بالمقابل اللہ کی ذات کے سامنے سجدہ ریز ہونے والے لوگ جہاں پر آخرت میں سر بلند ہوں گے وہیں پر دنیا میں بھی ان کی تکالیف اور مشکلات دور ہو جائیں گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری قوم کی اصلاح فرمائے اور انہیں توہم پرستی کے جال سے نکال کر صحیح عقیدہ توحید کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔ آمین! 
(علامہ ابتسام الہی ظہیر http://dunya.com.pk)
------------------------------
مدرسہ تعلیم کے لیے تھا۔ خانقاہ تزکیۂ نفس کے لیے۔ جب یہ دونوں کاروبار اور متاع دنیا کے حصول کا ذریعہ بن گئے تو پھر تعلیم باقی رہی نہ تزکیہ۔ اب جو باقی ہے اس کے مظاہر ہمارے ارد گرد بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ ایک آدھ مدرسے یا ایک آدھ خانقاہ کا معاملہ نہیں۔ یہ ایک وبا ہے جو پھیل چکی ہے۔بلاشبہ آج یہ اربوں روپے کی معیشت ہے۔اس پر عالمی وعلاقائی سیاست کے اثرات ہیں اور مقامی سیاست کے بھی۔ایک حلقہ انتخاب میں ہر امیدوار ووٹوں کے لیے پیروں کو خوش کرتا ہے۔
اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ریاست اس مدرسہ و خانقاہ کو کسی نظام کے تابع کرے ۔ مدرسہ کو کسی نظم کا پابند کرنا آسان ہے۔اس کاایک نصاب ہے، ایک نظام ہے۔یہ ایک علانیہ کام ہے جس پر بات ہو سکتی ہے۔اس موضوع پہ بہت سی تجاویز بھی پیش کی جا چکی ہیں۔ خانقاہ کا معاملہ البتہ پیچیدہ ہے۔'' روحانیت‘‘ کا کوئی پیمانہ نہیں، جس سے اسے ناپا جا سکے۔اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس معاملے سے کی
سے نمٹا جائے۔اب یہاں بھی مدرسے کی طرح باپ کے بعدبیٹا گدی پر بیٹھتا ہے۔کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ پرانے دور میں اولیائے کرام اپنے کسی مرید کو اپنا خلیفہ مجاز مقرر کیا کرتے تھے ۔ایک روایت میں رہنے والا ہی پیر بنتا تھا۔ اگر اسی روایت ہی کو بحال کر دیا جائے تو شاید کچھ بہتری آ جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ریاست ان خانقاہوں کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے اور وہی سجادہ نشین ہو جو شریعت مطاہرہ کا پابند اور کسی مستند سلسلے میں بیعت ہو۔ اس سے خانقاہ کی روایت سے وابستہ سب قباحتیں تو ختم نہیں ہوں گی لیکن امید ہے کہ بہت حد تک کم ضرور ہو جائیں گی۔ 
یہ ان سماجی اداروں کی اصلاح کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ اصل تبدیلی البتہ اسی وقت آئے گی جب سماج اور دین کا باہمی تعلق حقیقی اور فطری بنیادوں پر استوار ہو گا۔ وہی بنیادیں جو اسلام کے دور اوّل میں رکھی گئیں۔خانقاہ کی روایت بھی اس دین کے تابع ہو جو اللہ کے پیغمبر لے کر آئے۔اگر اس کی اصلاح نہ ہو سکی تو سرگودھا جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ 
(خورشید ندیم ،  http://dunya.com.pk)
...................................................
کیا بیعت پیری مریدی والی بیعت ہے؟

آجکل جہاں اور بہت سے اسلامی مسائل میں ایک عام آدمی صحیح فیصلہ نہیں کر پارہا ان میں ایک اہم مسئلہ بیعت کا بھی ہے کہ وہ کس کے ہاتھ پر بیعت کر کے جاہلیت کی موت سے بچ سکے کیونکہ اس پر اقوال  موجود ہیں کہ جس نے بیعت نہ کی اور مرگیا تو اس کا مرنا جاہلیت کا سا مرنا ہے، اور یہ معاملہ ہے بھی بہت تشویش والا اس میں ہم سب کو پریشانی ہونی چاہیے کہ کہیں وہ جاہلیت کی موت نہ مارا جائے۔ تو بعض لوگوں نے اس کا غلط مطلب لے کر یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ اب بیعت ہے ہی نہیں ہےبیعت تو اسلام کی ہوا کرتی تھی اس کے علاوہ کون سی بیعت ہوتی ہے، تو اس طرح انہوں نے بیعت کا ہی انکار کر دیا ہےجو کہ اچھی بات نہیں ہے۔ اور بعض لوگوں نے اس بیعت کو ہرکسی کے لیے جائز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آدمی کو جو کوئی بھی اچھالگے تو اس کی بیعت کر لینی چاہیے وہ جائز ہے، اور اب چاہے ایک ہی علاقے میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہوں کہ جن کے ہاتھ پر بیعت کی گئی ہوئی ہو، تو یہ دونوں طریقے قرآن و سنت سے ہٹے ہوئے ہیں، اب یہ عرض بھی کرتا چلوں کہ اب کوئی یہ نہ کہے کہ فلاں مولوی صاحب نے اس پیری مریدی کو جائز کہا ہے فلاں نے اس کو جائز کہا ہے بلکہ خود بیعت لیتے ہیں تو ہم نے جس عظیم ہستی کی رسالت کا اقرار کلمے میں کیا ہے ہم کو چاہیے کہ اپنے عمل سے بھی اس کو ثابت کریں اور جو حقِ پیروی ان صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہ کسی کو بھی نہ دیں، کیونکہ دین اسلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی مکمل ہو گیا تھا اگر تو کوئی قرآن و صحیح حدیث سے موجودہ پیری مریدی کو ثابت کردے تو صحیح ورنہ کسی کی بات کو جواز بنا کر ہم دین میں کوئی اضافہ کرنے کی جسارت نہ کریں تو یہ ہمارے حق میں اچھا رہے گا۔ اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ قرآن و صحیح حدیث میں جو بیعت کا ذکر ہے وہ بیعت کس کی ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟ >>>

...........................................................

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

تعلیماتِ طریقت و شریعت سے بے بہرہ جعلی پیری مریدی
حافظ محمد عون سعیدی

لگا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں
نہ ہوں بلا سے خریدار آؤ سچ بولیں

اس مضمون میں معاشرے کے اندر سرطان کی طرح پھیلے ہوئے نام نہاد جھوٹے کاروباری پیروں کی خبر لی گئی ہے اور مسلک حق اہلسنت کی بدنامی کے اہم ترین پہلو کی طرف، فکر مند دماغ اور درد مند دل رکھنے والے دلوں کو متوجہ کیا گیا ہے۔ لہذا اس سارے مضمون کو کارباری پیروں کے تناظر میں ہی پڑھا جائے ورنہ ہمارے نزدیک ولایت برحق ہے، کرامات اولیاء بھی برحق ہیں۔

شرائطِ مرشد

کسی جامع شرائط مرشد کی بیعت بھی ایک مستحب اور بابرکت کام ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مرشد کامل کی چار شرائط ارشاد فرمائی ہیں ان کے بغیر اس کا بیعت لینا جائز نہیں۔

  1. صحیح العقیدہ مسلمان ہو یعنی اہل سنت والجماعت سے وابستہ ہو، بد عقیدہ اور بد مذہب نہ ہو۔ 
  2. عقائد کے دلائل اور تمام احکام شرعیہ کا عالم ہو حتی کہ ہر پیش آمدہ مسئلہ کا حل بیان کر سکتا ہو (یعنی مفتی ہو)۔ 
  3. علم کے مطابق عمل کرتا ہو۔ فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات پر دائمی عمل پیرا ہو اور تمام محرمات و مکروہات سے بچتا ہو۔ 
  4. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک اس کی نسبت متصل ہو، یعنی اس کے مشائخ کا سلسلہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہو۔ ہمارے زمانے میں بعض بے علم لوگ وعظ و تبلیغ کرتے ہیں اور جب کچھ حلقہ بن جاتا ہے تو لوگوں سے بیعت لینا بھی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی بے علمی کا عیب چھپانے کے لئے علماء کی تنقیص کرتے ہیں، ان کو منافق اور بے عمل کہتے ہیں۔ ساتھ ہی خود کو اہل اللہ کا محب کہتے ہوئے اولیاء اللہ کی صف میں شمار کروانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ سادہ لوح عوام علماء کو چھوڑ کر ایسے بے علم واعظین اور بے عمل ’’مرشدین‘‘ کے حلقہ ارادت میں کثرت کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔ ہم اس جہالت اور تعصب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔


(فتاویٰ افریقہ، ص : 147۔ 146، ملخصا، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی)

مذکورہ شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے اگر موجودہ پاکستانی معاشرہ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ہر طرف ایسے کاروباری پیروں کی فوج ظفر موج نظر آئے گی جن میں مذکورہ شرائط کا دور دور تک پتہ نہیں ہو گا۔ کسی کا عقیدہ خراب ہے تو کسی کا سلسلہ غیر متصل۔۔۔ کوئی پابند سنت نہیں ہے تو کوئی اعلانیہ فاسق و فاجر۔۔۔ علم کی شرط ملاحظہ کریں تو اس پر پورے ملک میں معدودے چند پیر صاحبان ہی بمشکل پورے اترتے نظر آئیں گے۔ جعلی پیروں کا بہت بڑا لشکر نہ صرف یہ کہ قرآن و حدیث اور فقہ و کلام سے بے خبر ہے بلکہ وہ علم اور علماء کا سخت دشمن بھی ہے۔ کیونکہ جس طرح سرمایہ دار، جاگیردار اور سیاستدان کی خیر اسی میں ہے کہ قوم جاہل مطلق رہے اسی طرح جھوٹے پیروں کی شان و شوکت کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ قوم علم و عمل سے بے گانہ رہے۔ کیونکہ ان پڑھ لوگ ان کو جس طرح چومتے چاٹتے ہیں اس طرح پڑھے لکھے لوگ نہیں کرتے۔ کسی بھی پیر کے ملاقاتیوں کو ملاحظہ کر لیجئے آپ کو ان پڑھ اور پڑھے لکھے لوگوں کے اندر ملاقات میں نمایاں فرق نظر آئے گا۔

انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس طرح کے تمام جعلی، بناوٹی اور کاروباری پیر اپنے آپ کو مسلک حق اہل سنت وجماعت سے منسوب کرکے اس کی بدنامی اور رسوائی کا سبب بنتے ہیں۔ نیز وہ علماء سے یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ وہ ان کی نام نہاد بزرگی پر مہر تصدیق ثبت کریں۔ یہ ننگِ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن لوگ ایسے زہریلے ہیں کہ انہوں نے اپنی شہوت کاریوں سے مسلک حق کو ادھ موا کرکے رکھ دیا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ نامور بزرگوں کی گدیوں سے منسوب ہیں۔ عمل صالح اور شریعت کی پابندی تو کجا وہ کرپٹ لوگوں کی سرپرستی کرتے ہیں رسہ گیروں سے ان کی دوستیاں ہیں۔ الیکشن میں مسلک کے نام کو استعمال کرتے ہوئے یہ لوگ ممبر اسمبلی بنتے ہیں اور پھر سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر انہی کے ایجنڈے کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں۔ اس تمام خرابی کی بنیاد درحقیقت ان کاروباری مولویوں نے فراہم کی ہے جو انہیں (معمولی خدمت کے عوض) لوگوں کے سامنے غوث زماں، قطب عالم، شہنشاہ ولایت وغیرہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔

ان حضرات کی سیرت و کردار کو قریب سے دیکھیں تو ان کے فرعونی لہجے، شیطانی عادات و اطوار، یزیدی رسوم و رواج۔۔۔ غنڈوں اور بدمعاشوں کی سرپرستی، چوروں اور ڈاکوؤں کی پشت پناہی۔۔۔ باطل اعمال اور عقیدے، اعراس کے نام پر اسلام کش میلے ٹھیلے۔۔۔ کتوں اور ریچھوں کے مقابلے، قبروں اور مزاروں کی تجارت۔۔۔ صالحین کی تعلیمات پر عمل کی بجائے تعمیرات سے ولایت کی پیمائش۔۔۔ علماء کے خلاف سینوں میں بھڑکتی آگ، جہالت و رعونت میں اپنی مثال آپ۔۔۔ دین و شریعت کی بات پر منہ سے نکلتے انگارے۔۔۔ نماز روزے کا وقت آنے پر مرض اسہال، زکوۃ و جہاد کا نام سنتے ہی پیٹ میں درد قولنج۔ ۔ ۔ غیر محرم عورتوں کو بے پردہ مرید کرنا اور ان سے ٹانگیں دبوانا۔۔۔ یہ ہیں وہ کالے کرتوت جو ان ’’پیروں‘‘ کے نامہ اعمال میں درج ہیں۔

اگر آپ ان کے کفریہ و شرکیہ اور مبالغہ آمیز اشعار پر مصنوعی طور پر بدمست ہو کر جھومنے اور ناچنے والے جاہل مریدوں کو دیکھیں تو گویا انہیں ذبح کیا جا رہا ہے۔۔۔ ان کے تعویذوں اور وظیفوں کو دیکھیں تو شیاطین سے استغاثہ پر مبنی جادو ٹونے کے پلندے معلوم ہوں۔۔۔ ان کی ’’مقدس مسندوں‘‘ کو دیکھیں تو ان پر کسی نیک سے نیک آدمی کا بیٹھ جانا یا صرف پاؤں لگ جانا بھی اعلیٰ درجے کی گستاخی شمار ہو۔

پھر پیران عظام کی ان گدیوں میں بھی مال و جائیداد کی طرح وراثت چل نکلی ہے (کیونکہ یہ بھی اب ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے) باپ کی گدی پر اولاد ہی بیٹھے گی خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو۔ کسی مرید کی کیا مجال کہ وہ پیر مغاں کی سجادگی کا حقدار ٹھہرے خواہ وہ کیسا ہی رازی و غزالی کیوں نہ ہو اور یہی نااہلی اور وراثت سب سے بڑا سبب ہیں خانقاہی نظام کی تباہی کا۔

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ تقریباً ایسے تمام ’’پیر صاحبان‘‘ کا ذاتی طور پر قرآن و حدیث اور فقہ و کلام کی تعلیم و تعلم اور درس و تدریس سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ پورے ملک میں شاید ہی کوئی جاگیردار اور کھاتا پیتا پیر آپ کو ایسا نظر آئے جس کی اولاد کسی دینی مدرسہ میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کر رہی ہو، وہ تو آپ کو ملکی و غیر ملکی مہنگے ترین سکولوں، کالجوں میں طبقہ امراء کے ساتھ کھیلتی کودتی نظر آئے گی اور علم دین سے کوری ہونے کے باوجود مسند پر بھی وہی بیٹھے گی۔

تقریباً ہر پیر یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کے مریدوں کی تعداد روز افزوں ہو، دوسرے پیروں کے مرید بھی فیضیاب ہونے کے لئے کسی نہ کسی طرح اس کے ’’سلسلہ عالیہ‘‘ میں شامل ہو جائیں اور اس خواہش نفس کو پورا کرنے کے لئے طرح طرح کے تشہیری و ترغیبی ہتھکنڈے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگر کسی پیر کے مرید کم ہوں تو وہ احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے اور زیادہ ہوں تو احساس برتری کا شکار ہوتا ہے۔

کئی نام نہاد پیر دینی مدارس بنانے اور تبلیغ و بیان کے خلاف ہوتے ہیں اور اس کی مضحکہ خیز دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ نہیں ہے۔ مجھے میرے ایک نہایت معتبر صاحبِ علم و عمل دوست جو خود اہلِ طریقت میں سے ہیں نے اپنا ذاتی واقعہ بتایا کہ

میں سرگودھا کے ایک پیر صاحب کی تیمارداری کرنے گیا تو ان کے ہاں بچوں کو سارا وقت کھیلتے کودتے اور شرارتیں کرتے دیکھ کر پیر صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ کے ہاں مسجد میں بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دلوانے کا کوئی انتظام نہیں ہے؟ فرمانے لگے : ایک مولوی کو بچے پڑھانے کے لئے رکھا تھا مگر وہ ہمیں ہی تلقین کرتا رہتا کہ مسجد میں آ کے نماز پڑھیں اب بتائیں کیا ہم اپنی مصروفیات اور مریدین کی بھلائی اور امور کے کاموں کو چھوڑ کر مسجد میں نماز پڑھنے کس طرح جا سکتے تھے۔ لہذا اس کے بار بار ہمیں ہی نماز کی تلقین کرنے کی وجہ سے اسے فارغ کر دیا گیا۔

کئی پیر اپنی شان میں قصیدے لکھواتے ہیں اور کتابیں شائع کرواتے ہیں۔ کئی پیر اشتہاروں اور بینروں پر صرف اپنا نام لکھنے کا حکم جاری کرتے ہیں کسی دوسری شخصیت کا نام ان کے لئے سوہان روح ہوتا ہے۔ کسی پیر کا مرید اگر زیادہ مشہور ہونے لگ جائے تو اسے فوراً حلقہ ارادت سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ تقریباً ہر پیر دوسرے پیر کی شان گھٹانے کے لئے صراحتاً نہ سہی اشارتاً و کنایۃً ضرور تنقیص کرتا ہے۔ اپنے آپ کو کامل سمجھتا ہے اور دوسرے کو ناقص۔ جاہل پیر، عالم پیر کے متعلق یوں کہتا ہے کہ ’’وہ تو علماء میں سے ہے‘‘، طریقت کا بادشاہ تو میں ہوں۔

ان جاہل پیروں کی اہل علم سے بھی بظاہر خاصی دوستی ہوتی ہے۔ انہیں شوق ہوتا ہے کہ علماء ان کے مرید تو ضرور بنیں مگر ہر بات میں آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے چلتے رہیں، کسی مسئلہ میں اختلاف کی ان کے ہاں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایسے پیروں کا اکثر یہ مقولہ ہوتا ہے کہ ’’علم اپنے گھر میں رکھ کے آؤ تو پھر کچھ پاؤ گے‘‘ اور اس بات کے لئے وہ واقعہ خضر و موسیٰ علیہما السلام کا سہارا لیتے ہیں۔

چہ نسبت خاک رابعالم پاک

اپنی تعریفیں سن سن کر پیر صاحب کا نفس اتنا متکبر ہو چکا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص ان کی اصلاح کے لئے ہلکا سا اشارہ بھی کر دے تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ اگر پیر صاحب کی کسی محفل میں کوئی بیرونی عالم بھی مدعو ہو اور وہ صرف اللہ و رسول کی تعریف کر کے چلا جائے تو پیر صاحب آئندہ کے لئے اس کو نہ بلانے کا عندیہ دے دیتے ہیں۔

بعض پیروں کے ہاں شریعت و طریقت کی باقاعدہ جنگ کروائی جاتی ہے اور بالآخر طریقت کا پہلوان شریعت کے پہلوان کو چاروں شانے چت گرا دیتا ہے اور اس کی فتح کا نعرہ لگا دیا جاتا ہے۔ کئی جاہل پیر اپنے مریدوں کو یوں درس دیتے ہیں کہ ہمارے پاس باطنی علم ہے اور علماء کے پاس ظاہری علم، رس ہم نے پی لیا ہے پھوک مولویوں (علمائ) کے آگے ڈال دی ہے، گریاں ہم نے کھا لی ہیں چھلکے مولویوں (علماء) کے سامنے پھینک دیئے ہیں۔ حال ہی میں ایک مقام پر کچھ پیروں کے زیر سرپرستی لاکھوں روپے لگا کر محفل نعت و قوالی منعقد ہوئی جس کے پنڈال کے مین گیٹ پر یہ ہدایت لکھی ہوئی تھی ’’مولویوں کا داخلہ ممنوع ہے‘‘ اس محفل میں جو ایمان سوز اور دل دوز قسم کی ہڑبونگ مچائی گئی اس پر اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ہی کہا جا سکتا ہے۔

علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں : اگر ان جاہل پیروں کو علماء کے مرتبے کا پتہ چل جاتا تو یہ اپنے آپ کو ان کے سامنے گونگا اور اندھا سمجھتے

(تلبیس ابلیس، ص : 2511)

بعض پیر بتیاں بند کروا کے عورتوں اورمردوں کے مخلوط مراقبے کرواتے ہیں۔ کئی پیر رمضان کے مقدس مہینہ میں مردوں اور عورتوں کو آمنے سامنے بٹھا کر افطاریاں کرواتے ہیں۔ پھر ان پیروں کی زیر نگرانی صالحین کے مزارات پر جو اودھم مچائے جاتے ہیں اور جو جرائم وہاں پنپتے ہیں کبھی جا کر ان کی بھی خبر لیجئے۔ بہت سے نفع بخش مزارات محکمہ اوقاف کے قبضہ میں ہیں۔ وہاں کے گلوں میں عوام الناس جو لاکھوں روپے ڈال جاتے ہیں ان کا مصرف عام طور پر کیا ہوتا ہے یہ کسی باخبر سے پوچھ لیجئے۔ علماء کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو ان کی دولت کے حقیقی مصرف سے آگاہ کریں۔

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

یہ پیر، مسلک کی تنظیمی ترقی، تعلیمی و تدریسی خدمت اور اجتماعیت کے لئے بھی سنگ گراں ثابت ہوتے ہیں نہ خود کام کرتے ہیں نہ کسی دوسرے کو کرنے دیتے ہیں۔ بہت سے پیر اپنے مریدوں کو کسی بھی فعال تنظیم سے وابستہ نہیں ہونے دیتے۔ ہاں اگر پیر نے اپنی کوئی تنظیم بنا رکھی ہے تو اس کو چلانا سب مریدوں کے لئے فرض عین ہوتا ہے۔

گر ہمیں خانقاہ وہمیں پیراں، کار مریداں تمام خواہد شد

ان سب حالات کے باوجود آپ دیکھیں گے کہ ہر جگہ جاہل مریدوں کا ایک بہت بڑا گروہ ان جعلی پیروں کے پیچھے بڑے ادب کے ساتھ ہاتھ باندھے نظر آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وظیفہ خور علماء جب بھی تقریر کرتے ہیں تو اَلاَ اِنَّ اَوْلِيَاءَ اللّٰه لَا خُوْفٌ عَلَيْهم وَلاَ هُم يَحْزَنَون پڑھ پڑھ کر پیر کی طرف اشارے کرتے ہیں۔ کاروباری نعت خوان حمد و نعت پڑھ پڑھ کر پیر کی جانب اشارے کرتا ہے اور اس طرح جہلاء کو پیر کا بے دام غلام بن جانے کی جذباتی ترغیب ملتی ہے۔ ویسے آج کل کاروباری علماء کا کاروبار خاصا مندا جا رہا ہے کیونکہ اب اس کی سیٹ کاروباری نعت خواں نے سنبھال لی ہے۔ اس لئے پیروں کو اپنا کاروبار چمکانے کے لئے اب مولویوں کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔

تربیت کے عجیب کرشمے

ان پیروں کے ذریعے مریدوں کی جس طرح تربیت ہو رہی ہے وہ بھی انتہائی اذیت ناک ہے، چند ایک تربیتی مناظر ملاحظہ ہوں :

پیر صاحب جونہی اپنے دولت خانہ کی دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہیں تو دروازے پر نظریں گاڑے مریدین پر گویا نزع کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ہاؤ ہو کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، کوئی شوں شوں کی آواز نکالتا ہے کوئی تالیاں بجاتا ہے، کوئی درود و سلام پڑھتا ہے، کوئی نعرے لگاتا ہے کوئی جوتے اتارتا ہے۔ کوئی کچھ کرتا ہے اور کوئی کچھ کرتا ہے۔ اب ملاقات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، پیر صاحب مریدوں کے جراثیم سے بچنے کے لئے ہاتھوں پہ دستانے چڑھا لیتے ہیں، کوئی مرید قدموں میں گرا ہوا ہے، کسی نے گھٹنے تھام رکھے ہیں، کوئی کندھوں کو بوسے دے رہا ہے، کوئی پشت سے چمٹا ہوا ہے، کوئی ہاتھ چومنے کے چکر میں ہے۔ غرضیکہ ایک ہنگامہ بپا ہے اور دھکم پیل ہو رہی ہے۔ (حالانکہ ایک مسلمان کو نماز کے لئے بھی دھکم پیل اور بھاگ دوڑ کی اجازت نہیں ہے) جبکہ پیر صاحب نے بڑی شان بے نیازی سے ہاتھ آگے کیا ہوا ہے کسی کو ایک ہاتھ ملاتے ہیں تو کسی کے لئے سر ہلاتے ہیں، کسی کو ایک انگلی تھماتے ہیں تو کسی کو دو انگلیاں۔ پیر صاحب کی آمد و رفت پر بار بار کی اٹھک بیٹھک ہوتی ہے۔ ہاتھ جوڑ جوڑ کر بات کی جاتی ہے جان کی امان طلب کی جاتی ہے۔ کوئی حالت قیام میں ہے تو کوئی حالت رکوع میں، کوئی سجدہ کر رہا ہے تو کوئی التحیات میں بیٹھا ہوا ہے۔ اگر خدانخواستہ آپ نے پیر صاحب کے ہاتھ چومنے میں ذرا سی کوتاہی کر لی تو بس! پیر صاحب کا غیظ و غضب دیکھنے والا ہوتا ہے، آنکھیں شعلہ بار ہو جاتی ہیں اور جسم تھرتھرانے لگتا ہے۔ آپ ایک نظر کی جنبش میں مریدین سے مرتدین کی صف میں شامل کر لئے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ نے کسی مجبوری کے تحت نذرانہ کی ادائیگی میں کچھ پس و پیش کی ہے تو آپ ہمیشہ کے لئے پیر صاحب کی نظروں میں کھٹک جاتے ہیں، توجہات و تصرفات سے محرومی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، زمین و آسمان کی تمام آفات و بلیات آپ کے گھر کا مقدر ٹھہرتی ہیں۔ ایسے مرید کے گھر میں قدم رکھنا گویا پیر صاحب کے لئے جہنم میں جانے کے برابر ہوتا ہے۔

پیر صاحب کی اولاد کے لئے شاہانہ القاب اور مریدوں کے لئے انسانیت سے بھی گرے ہوئے القاب استعمال کئے جاتے ہیں۔ کئی پیروں سے اتنا استغاثہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بھی اتنا نہیں کیا جاتا۔ کئی پیر بڑے تجسس پھیلانے والے (Suspense creative) ہوتے ہیں۔ ہمیشہ نظریں جھکا کے رکھتے ہیں۔ جاہل مرید اپنے پیر کی صرف ایک نظر کرم کے لئے تڑپتے پھڑکتے رہتے ہیں مگر پیر بھی ایسا پکا ہوتا ہے کہ لمحہ بھر کے لئے دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ اگر کوئی مرید اپنے پیر کے بغیر کعبۃ اللہ کا طواف کر لے تو پیر صاحب اس بات کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے واقعہ پر قیاس کر کے اس پر ہمیشہ کے لئے ناراض ہو جاتے ہیں۔

ہر پیر کے مریدوں کی علیحدہ شناخت ہوتی ہے۔ خاص رنگ کی ٹوپی اور خاص قسم کی سلائی، خاص رنگ کی پگڑی اور خاص قسم کی بندش۔ یہ بات شاید کوئی ایسی قابل اعتراض نہ ہوتی مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ علیحدہ علیحدہ شناختوں والے مرید جب ایک دوسرے کو ملتے ہیں تو یوں گھور کے دیکھتے ہیں جیسے ابھی کچا چبا جائیں گے۔ کچھ عرصہ پہلے سلسلہ ہائے بیعت الفتوں اور چاہتوں کا سبب ہوتے تھے مگر اب نفرتوں اور عداوتوں کا باعث ہیں۔ قرآن کے غلاف کو وہ عظمت حاصل نہیں ہوتی جو پیر صاحب کی چادر کو حاصل ہوتی ہے۔ کتاب اللہ کی گرد تو جھاڑ دی جاتی ہے مگر پیر صاحب کی مٹی کو غازہ بنایا جاتا ہے۔ مسجد کی صفائی سے برکت حاصل کرنے کے متعلق کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا مگر پیر صاحب کی گاڑی کو عماموں کے ساتھ صاف کیا جاتا ہے اور چادریں لگا لگا کر حجر اسود کی طرح بوسے دیئے جاتے ہیں۔ کئی پیروں کا لعاب دہن بطور تبرک استعمال کیا جاتا ہے اور کئی پیروں کے ہاتھوں کا ماء مستعمل نوش جان کیا جاتا ہے۔

مرید کی انواع و اقسام

’’جیسا منہ ویسی چپیڑ‘‘ کے مصداق آج کل کے مرید بھی انواع و اقسام کے ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ مرید ہوتے وقت ایسے پیر کا انتخاب کرتے ہیں جس کے تعلقات وسیع تر ہوں اور وہ بازار سیاست میں بڑے اثر و رسوخ کا مالک ہو۔ بعض لوگ صرف ایک پیر پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ حسب ضرورت موقع بہ موقع پیر بدلتے رہتے ہیں۔ بعض مرید اپنی گدی کے اسی پیر سے زیادہ تعلقات بنا کے رکھتے ہیں جس سے وقتاً وفوقتاً اپنے مفادات حاصل کئے جا سکیں۔ بعض مرید ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا مقصد حیات اپنے پیر کی نظر میں دوسرے پیر بھائیوں کی حیثیت کو گرانا اور اپنی حیثیت کو بڑھانا ہوتاہے اور اس کے لئے شکایات کی ایک بہت بڑی پوٹلی ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہے۔

بعض مرید جب چہرے پہ داڑھی اور سر پہ پگڑی سجا لیتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو مفتی اعظم سمجھنا شروع کر دیتے ہیں، اب ان کے نزدیک بڑے بڑے شیوخ الحدیث والتفسیر بھی کسی شمار میں نہیں ہوتے۔ آسمان کے نیچے بس ایک وہ ہوتے ہیں اور دوسرا ان کا پیر۔ چونکہ آج کل بعض پیروں نے خلافت کی منڈی بھی لگا رکھی ہے لہذا بہت سے بندگان نفس ایسے ہی پیروں کو ترجیح دیتے ہیں اور چند روز میں خلافت حاصل کر کے سارے غوثوں قطبوں کے سردار بن جاتے ہیں۔ پیر ان باصفا کی تربیت اور کاروباری مولویوں کے نصیحت کی بناء پر سب مریدوں کے نزدیک ان کے پیر کی بات حرف آخر اور پتھر پہ لکیر ہوتی ہے بلکہ پیر کا ایک اشارہ بھی وحی جتنی طاقت رکھتا ہے لہذا کوئی بڑے سے بڑا عالم بھی پیر صاحب کے اقوال زریں کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھنے کی جرات نہیں کر سکتا، ورنہ وہ بڑا بے ادب، جھوٹا اور گستاخ کہلائے گا۔

کچھ مرید اپنے پیر کا مرید ہونے کو حافظ و قاری ہونے سے بھی زیادہ باعث فضیلت سمجھتے ہیں اور اس طرح کلام اللہ کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ کچھ مرید جو احکام شریعت کے قریب بھی نہیں پھٹکتے وہ پیر صاحب کی خدمت میں آئے روز کی حاضریاں لگوا کر جنت کی بکنگ کرواتے ہیں۔ تقریباً ہر پیر کا مرید دوسرے پیر کی خرابیاں اور اپنے پیر کی خوبیاں بیان کر کے اس کا مرید ہو جانے کا درس دیتا پھرتا ہے۔ اپنے پیر کی نسبت کو ہر کسی کے نام کے ساتھ لگاتے پھرنا گویا بہت بڑی نیکی اور خدمت دین سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایک پیر کا مرید کسی دوسرے پیر کی تعریف کر دے تو اسے فوراً راندہ درگاہ قرار دے دیا جاتا ہے۔

پیروں کی جائیدادیں اور تعلقات

سینکڑوں ہزاروں مربع زمینیں، وسیع و عریض کاروبار، کروڑوں اربوں کے بینک بیلنس، مہنگی ترین گاڑیاں، مہنگے ترین علاقوں میں محلات اور کوٹھیاں، فائیو سٹارز ہوٹلوں کے کھانے اور رہائشیں شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ، سیاست کی آنیاں جانیاں، اعلیٰ سطح کے حکومتی وغیر حکومتی تعلقات، امیر ترین خانوادوں اور خاندانوں میں رشتے، ایسی سہولیات و تعیشات کہ بڑے بڑے وزیر بھی دیکھ کر رشک سے مر جائیں۔ کسی بھی حکومت کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔

ہر آنے والی نئی حکومت سرا وعلانیۃ ان کی آشیر باد حاصل کرتی ہے۔ انہیں مختلف عہدوں سے نوازا جاتا ہے، وزارتیں پیش کی جاتی ہیں، کانفرنسوں میں مہمان خصوصی بنایا جاتا ہے، غیر ملکی دورے کروائے جاتے ہیں، بیش بہا تحائف دیئے جاتے ہیں، بوقت ضرورت خزانوں کے منہ ان کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی زبان پر یہی وظیفہ ہوتا ہے، نرخ بالا کن ارزانی ہنوز، ان کا پیٹ یہی صدائیں دیتا ہے شکم فقیراں تغار خدا ہر چہ آید فنا درفنا۔ ان کا سمندر سے بھی زیادہ ڈونگا دل پکار پکار کر یہی کہتا ہے هل من مزيد، هل من مزيد.

صاحب بہار شریعت مولانا امجد علی اعظمی لکھتے ہیں : ’’آج کل بہت سے لوگوں نے پیری مریدی کو پیشہ بنا لیا ہے، سالانہ مریدوں میں دورے کرتے ہیں اور طرح طرح سے رقمیں کھسوٹتے ہیں جن کو نذرانہ وغیرہ ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے۔ بہت سے پیر ایسے بھی ہیں جو اس کے لئے جھوٹ اور فریب سے کام لیتے ہیں یہ (سب) ناجائز ہے۔

(بہار شریعت، ج : 2 ص : 670، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)۔

علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں کہ بعض پیر کمانے کی طاقت رکھتے ہیں مگر وہ سارا دن اپنے آستانوں پر لوگوں سے خیرات وصول کرتے رہتے ہیں۔ ان کا دھیان ہر وقت اس طرف لگا رہتا ہے کہ کوئی عقیدت مند بھی آئے گا اور نذرانہ پیش کرے گا۔ حالانکہ شریعت کا واضح مسئلہ ہے کہ غنی اور قوی شخص کے لئے خیرات لینا جائز نہیں (کہ یہ بھیک ہے)

(تلبیس ابلیس، ص : 331، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور)

بہر حال پیری مریدی ایک خالصتاً نفع بخش کاروبار اور بہترین ذریعہ روزگار ہے۔ اس میں خسارے کا سودا بالکل نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص پیر بن کے بیٹھ جائے اس کی جھگی کا خرچہ بغیر کسی محنت کے بیٹھے بٹھائے چلتا رہتا ہے بلکہ مزید آسامیاں پھنسانے کے لئے لنگر کے پیسے بھی وافر مقدار میں ملتے رہتے ہیں۔ اسی لئے اقبال نے کہا تھا :

نذرانہ نہیں سود ہے پیران حرم کا

پیر بننے کے چند نسخے

یقینا آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اتنا منافع بخش کاروبار یقینا بڑی محنتوں اور مشقتوں کے بعد ہی چلتا ہو گا، نجانے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہوں گے اور کہاں کہاں کی خاک چھاننی پڑتی ہوگی۔ حالانکہ پیر بننا اس دنیا کا آسان ترین کام ہے۔ اگر آپ کسی پیر خاندان یا سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں تو پھر تو آپ بنے بنائے سکہ بند پیر ہیں۔ پیری مریدی آپ کا خاندانی اور موروثی حق ہے، جسے کوئی مائی کا لعل بھی آپ سے چھین نہیں سکتا، ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے۔

اگر ایسا نہیں اور آپ تھوڑا بہت لکھنا پڑھنا جانتے ہیں تو پھر بازار سے عامل بنانے والی تعویذات کی کوئی کتاب خرید لیں اور دم درود جھاڑ پھونک کا سلسلہ شروع کر دیں۔ آپ کا یہ کاروبار برق رفتاری سے ترقی کرے گا، راتوں رات آپ کا نام پیران عظام کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا اور چند ہی دنوں بعد جہلاء کرام آپ کی دست بوسی کے لئے ایک دوسرے کو دھکے دے رہے ہوں گے۔

اگر یہ بھی نہیں تو کوئی ایسا شیخ طریقت ڈھونڈ لیجئے جو پانچ سات سبقوں کے بعد آپ کو خلافت دے ڈالے تب بھی آپ وہ القاب ومراتب حاصل کر لیں گے جن کا بڑے بڑے علماء کرام بھی تصور نہیں کر سکتے۔ پیر بن جانے کے بعد زندگی کے وارے نیارے تو پکے ہیں، مرنے کے بعد بھی قل خوانی، چہلم، عرس، مزار، خانقاہ اور اولاد کی سرپرستی وغیرہ کے متعلق فکر مند ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں، سب کچھ خود بخود (Automatically) ہوتا چلا جائے گا۔ نماز وغیرہ پڑھنے کی ضرورت تو بالکل نہیں، کوئی پوچھے تو کہہ دیجئے کہ ’’مدینے میں پڑھتے ہیں‘‘۔ یہ جواب بھی ابتدائی ایام کے لئے ہے جو بعد میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ نماز وغیرہ تو مبتدی لوگوں کے لئے ہوتی ہے ہم جیسے منتہی لوگوں کو اس کی کیا ضرورت؟

پرہیز علاج سے بہتر ہے

ہم نے آپ کو نسخہ تو بتا دیا مگر پرہیز نہیں بتا سکے۔ یاد رکھئے علم دین سے پرہیز بے حد ضروری ہے۔ بارہ بارہ سال محنت کرنی پڑتی ہے، دن رات ایک کرنے پڑتے ہیں، اساتذہ کی جھڑکیاں سہنی پڑتی ہیں، مدرسہ کے قوانین اور نظم و ضبط کا خیال رکھنا پڑتا ہے، کھانا پینا حسب خواہش نہیں ملتا، جیب خرچ کی کمی ہوتی ہے اور امتحانات سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ پھر جب بندہ عالم بن جاتا ہے تو در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔ مساجد میں مقتدیوں کی خوشامد، مدارس میں مہتممین کے نخرے، تقریریوں میں عوامی جذبات کا خیال، خانقاہوں میں پیروں کی تعریفیں، بازاروں میں لوگوں کے طعنے، آمدنی بھی کم، عزت بھی تھوڑی وغیرہ وغیرہ۔ اور اگر کبھی آپ کو حق گوئی و بے باکی کا شوق چرا گیا تو مسجد بھی گئی، مدرسہ بھی گیا، تقریریں بھی بند، پیروں کی بددعائیں بھی ساتھ، مریدوں کے ہتھے چڑھ گئے تو مالش بھی خوب، دوسرے مسلک والے تو ویسے ہی آپ کے مخالف ہیں اپنے مسلک والے بھی جوتے ماریں گے۔ کسی دانشور نے کہا تھا دوستوں سے تم مجھے بچا لو دشمنوں سے میں خود نمٹ لوں گا۔

اگر آپ درس و تدریس سے وابستہ ہیں تو جن شاگردوں کو آپ دس دس سال پڑھائیں گے اگر وہ کسی کے مرید ہوگئے تو آپ سے حاصل کی ہوئی ساری تعلیم کے متعلق برملا کہتے پھریں گے کہ یہ سب کچھ میرے پیر کے جوتوں کا صدقہ ہے۔ آپ کے پاس بھول کر بھی نہیں آئیں گے مگر پیر کے در پر آئے روز کی حاضریاں لگوائیں گے۔ آپ کی دعا میں کوئی اثر نہ پائیں گے مگر پیر کی دعا ایک دم اکسیر ہو گی۔ نذرانے پیش کریں گے تو پیر کی خدمت میں، آپ سے الٹا کچھ کھا پی کے جائیں گے۔ دعوت کریں گے تو آپ کو مفت بلانا بھی پسند نہیں کریں گے مگر پیر کو سپیشل پروٹوکول کے ساتھ بلائیں گے۔ اگر آپ اور پیر صاحب کبھی اکٹھے ہو گئے تو پہلے پیر کے قدموں کو چومیں گے پھر آپ سے ہاتھ ملائیں گے۔ جس پیر نے ساری عمر سوائے حاضریوں کے کچھ نہیں دیا اور ہزاروں روپے سمیٹتا رہا ہے اس کو بہترین نشست پہ بٹھائیں گے اور آپ جو کہ ساری عمر مغز ماری کرتے رہے ہیں اور تعلیم و تربیت کے مراحل سے گزار کر ایک مقام پہ لاکھڑا کیا ان کو پیر صاحب کے قدموں میں بٹھائیں گے۔ سٹیج پر پیر صاحب کے لئے خاص انتظام کیا جائے گا اور آپ کو صرف بیٹھنے کی جگہ مل جائے تو بھی غنیمت ہے۔ پیر کا کتا کہلانے میں بھی فخر محسوس کریں گے اور آپ کا شاگرد کہلانے میں بھی عار محسوس کریں گی۔ یہ سب تو وفادار شاگرد کی پھرتیاں تھیں اور اگر خدانخواستہ آپ کا شاگرد غدار نکلا تو پھر؟؟؟ لہذا عافیت اسی میں ہے کہ پیری مریدی کا پیشہ اختیار کریں اپنوں غیروں سب کی آنکھوں کا تارا بن جائیں گے۔ بڑے بڑے وزیر و مشیر اور دولت مند آپ کے قدموں میں بیٹھیں گے۔

لمحہ فکریہ

آج جو کچھ ان نام نہاد کاروباری پیروں اور نعت خوانوںکے پاس ہے سارا کا سارا سادہ لوح عوام اہل سنت کا ہے۔ یہ سب کچھ ان لوگوں کے ذاتی استعمال میں ہے، دین کو اس کا ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہے۔ جو کچھ انہیں دیا گیا تھا وہ عقائدِ صحیحہ کے فروغ، دین کی سربلندی اور علم و عمل کی ترقی کی نیت سے دیا گیا تھا مگر اب جبکہ یہ آشکارا ہو چکا ہے کہ یہ لوگ دین کی خدمت کی بجائے شکم پروری کا کام کر رہے ہیں تو پھر علماء حق کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان ’’مقدس‘‘ کاروباریوں کا مکمل احتساب کریں۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں کی عزت، عظمت، مال و دولت سب کچھ علماء کرام کی وجہ سے ہے۔ آج بھی اگر علماء کرام ان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا شروع کر دیں تو ان کاروباریوں کے تمام پلازے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی طرح دھڑام سے زمین پر آ گریں گے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ مسلکِ اہل سنت وجماعت علم اور عمل کا نام ہے ان کاروباریوں کا تقدس برقرار رکھنے کا نام نہیں ہے۔ یہ تو وہی لوگ ہیں جن کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے بدباطن اور بدعقیدہ لوگوں کو مسلک حق پر کیچڑ اچھالنے کا موقع مل رہا ہے۔

بت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے

ان لوگوں کی منظم سازش کے نتیجے میں اب لوگوں کا علماء حق سے بھی اعتماد اٹھ چکا ہے اور ان کی سر عام تذلیل کی جا رہی ہے۔ راقم الحروف کو خود ایک جاہل پیر نے کہا کہ ’’جو مسئلہ ہم بتا دیں چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو پتھر پہ لکیر ہوتا ہے، اب کوئی بڑے سے بڑا مفتی بھی صحیح مسئلہ بتائے تو مرید کو اس پر یقین نہیں آئے گا‘‘۔ دیگر مسالک میں صرف اور صرف علماء کو اہمیت حاصل ہے۔ ان کے لئے سب کچھ ان کا عالم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مدرسین معاشی حوالے سے پریشان نہیں ہوتے مگر ہمارے مسلک میں سب کچھ کاروباری پیر اور نعت خوان بنے بیٹھے ہیں اور مدرسین بے چارے انتہائی مفلوک الحال ہیں۔

عقائدِ صحیحہ کا فروغ اور دینی اقدار کی بقاء کی جنگ انہی علماء کو لڑنی پڑتی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ علماء کرام اپنے مقام کو پہچانیں اور اس کا تحفظ کریں۔ میں کہا کرتا ہوں کہ جب وقت تھوڑا ہو تو سنتیں اور نفلیں چھوڑ دینی پڑتی ہیں اور فقط فرض ادا کئے جاتے ہیں۔ علم دین کا حصول فرض ہے اور باقی محفلیں وغیرہ زیادہ سے زیادہ مستحبات میں شامل ہیں۔ اس دور زوال میں اب مستحبات کا وقت نہیں رہا۔ جتنی جلدی ہوسکے علم کا فرض ادا کیا جائے، جگہ جگہ مدارس کھولے جائیں اور سابقہ صحیح دینی کام کرنے والے مدارس کو مضبوط کیا جائے۔ ایک محفل کا فائدہ زیادہ سے زیادہ چند دنوں کا ہوتا ہے مگر ایک مدرسہ صدیوں تک اپنی روشنی پھیلاتا رہتا ہے۔ اگر جگہ جگہ دینی مدارس قائم کر دیئے جائیں تو روشنی کا ایسا سیلاب آئے گا کہ اندھیروں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

http://www.minhaj.info/mag/index.php?mod=mags&month=2012-06&article=7&read=txt&lang=ur

لنکس 
ویڈیوز :
https://www.youtube.com/watch?v=KcE3LlFw3c4
https://www.youtube.com/watch?v=XS2hu7KXpTs


بیعت کی شرعی حیثیت؟ کیا مروجہ پیری مریدی اسلام میں سے ہے؟ | دین ...

muslim-islamicpoint.blogspot.com/2011/01/blog-post.html

Translate this page
Jan 4, 2011 - آجکل جہاں اور بہت سے اسلامی مسائل میں ایک عام آدمی صحیح فیصلہ نہیں کر پارہا ان میں ایک اہم مسئلہ بیعت کا بھی ہے کہ وہ کس کے ہاتھ پر بیعت ...

پیری مریدی کی شرعی حیثیت | محدث فورم [Mohaddis Forum]

forum.mohaddis.com › ... › عقیدہ ومنہج › عقیدہ اہل سنت والجماعت

Translate this page
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کسی کو اپنا پیر بنانا اسکی مریدی میں رہنا. کیا یہ درست ہے؟؟؟ پیری مریدی کا سلسلہ کب سے شروع ہوا؟؟؟
You visited this page on 4/4/17.

پیری مریدی کیا ہے ؟ Pioneers of Islamic Beliefs And Protection ...

tahaffuz.com/6092/

Translate this page
مقصد بیعت : آقا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دل ایک ایسے پر کی مثل ہے جسے ہوا .... ہم نے آپ کے سامنے پیری مریدی کی شرعی حیثیت رکھ دی اور فیصلہ آپ کے ...

تصوّف - Shaheed e Islam

shaheedeislam.com/ap-kay-masail-vol-07-tasawwuf/

Translate this page
Aug 24, 2010 - بیعت کی شرعی حیثیت، نیز تعویذات کرنا ... ہوگئی، جس میں وہ فرمانے لگیں کہ پیری مریدی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے آرہی ہے ...

(17) پیری مریدی کی مروجہ شکل کی شرعی حیثیت؟ - محدث فتویٰ

www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/...
Feb 18, 2015 - (17) پیری مریدی کی مروجہ شکل کی شرعی حیثیت؟ ... بریلوی مسجد میں میں نے پہلی بار دیکھا کہ جمعہ کی نماز میں خطبہ کے بعد امام صاحب بیٹھ ...

تعلیماتِ طریقت و شریعت سے بے بہرہ جعلی پیری مریدی - Minhaj.info

www.minhaj.info › ماہنامہ منہاج القرآن › جون 2012 
تعلیماتِ طریقت و شریعت سے بے بہرہ جعلی پیری مریدی ... کسی جامع شرائط مرشد کی بیعت بھی ایک مستحب اور بابرکت کام ہے۔ ..... کا مقصد حیات اپنے پیر کی نظر میں دوسرے پیر بھائیوں کی حیثیت کو گرانا اور اپنی حیثیت کو بڑھانا ہوتاہے ...
You visited this page on 4/4/17.

پیری , مریدی کی شرعی حیثیت ، مناظر اسلام علامہ سید مبشر رضا قادری ...

‫Video for پیری مریدی کی شرعی حیثیت‬‎▶ 37:52
https://www.youtube.com/watch?v=BVGGj0mT4Tc
Nov 11, 2016 - Uploaded by khatam e nabuwat Times
پیری , مریدی کی شرعی حیثیت وٹس ایپ نمبر 00923247448814.

پیری مریدی کی شرعی حیثیت - Tapatalk

https://tapatalk.com/topic/.../35065-پیری-مریدی-کی-شرعی-حیثی..
پیری مریدی کی شرعی حیثیت. خضر حیات. 01/25 #2. السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کسی کو اپنا پیر بنانا اسکی مریدی میں رہنا. کیا یہ درست ہے؟؟؟ پیری مریدی ...
You visited this page on 4/4/17.

اصلی پیری مریدی کیا ہے ؟ - مکتبہ جبریل - لائبریری

www.elmedeen.com/book-272-اصلی-پیری-مریدی-کیا-ہے
میں پیری مریدی اور تصوف کی شرعی حیثیت قرآن و سنت کی روشنی میں نہایت مدلل انداز میں وضاحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے اور آج کل کے جعلی پیروں کی غیر ...
-----------------------------------------
انسداد فرقہ واریت

مختصر تاریخ اورعملی اقدامات


وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ


’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘( آل عمران،3 :103)
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ﴿سورة الفرقان25:30﴾
اور(روز قیامت) رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بےشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ﴿سورة الفرقان25:30﴾







Sectarianism, extremism, militancy and Intolerance are the main threat to the unity, peaceful coexistence and progress of Muslims. Allah says: “Be not like those who became divided into sects and who started to argue against each other after clear revelations had come to them. Those responsible for division and arguments will be sternly punished” (Qura’n;3:105).“.. Keep reading >>>
آج کے دور میں مسلمان کئی فرقوں میں بٹ چکے ہیں اگرچہ ان کی اکثریت اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات پر متفق ہے مگر فروعی اختلافات کی شدت نے نفاق کے بیج اس طرح بو دیئےہیں کہ انتشار دن بدن متشدت اوراضافہ پزیرہے- اس معاملہ میں اسلام دشمن قوتیں بھی ملوث ہیں مگر ان کو جوازوہ مسلمان مہیا کر رہے ہیں جودشمنوں کے ہاتھدانستہ یا نادانستہ طور پرکھلونا بن چکے ہیں-  قرآن پر سب مسلمانوں کا ایمان ہے، جس کو سب مسلمان مکمل طور پر کلام اللہ تسلیم کرتے ہیں، یہی الله کی مظبوط رسی ہے جس کو الله تعالی مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتا ہےاور یہی تفرقہ کے خلاف موثر ترین ڈھال ہے-


کیوں نہ سب اہل ایمان رسول اللهﷺ اورصحابہ کرام رضی اللہ  کے دور کے مسلمان بن جائیں جو قرآن کو اسلامی علم کا بنیادی ماخذ مانتے تھے جس  کا عملی نمونہ رسول الله ﷺ تھےجن کی سنت متواترمیں موجود تھی اور ہے۔ رسول الله ﷺ اور خلفاء راشدین نے اولین ضرورت کے تحت کلام اللہ، قرآن کو حفظ کے ساتھ ساتھ تحریر کی شکل میں محفوظ کرنے کا اہتمام خاص کیا، سنت رسولﷺ بھی موجود تھی- اسلام کے بنیادی عقائد و عبادات اور ان کی عملی شکل آپ ﷺ کے وصال پر غائب نہیں ہو گیئ تھیں- ایمان اور اسلام کے بنیادی ارکان اور ستون اپنی اصل میں اسی طرح موجود تھےجس طرح آج- کلمہ، نماز (صلاہ)، روزہ، حج ، زکات پرعمل درامد بھی ہو رہا تھا تو اب ایسا کون سا نیا ستون یا ایمان کا نیا جزو پیدا ہو گیا ہے جو تفرقہ کا باعث بن گیا؟ ہم جانتے ہیں کہ اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات میں نہ کوئی تبدیلی ہوئی ہے اور نہ ہی ایسا ہونا ممکن ہے، تو پھر جگھڑا کیوں؟


اللہ کےواضح احکامات کے باوجود اسلام میں فرقہ واریت کا زہر کیسے داخل ہوا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئیے اسلام کی ابتدائی تاریخ کا مختصر جائزہ ضروری ہے >>>https://goo.gl/8ANxZ6
No comments:
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest
Labels: Ignorance, Islam, Monotheism, Muslims, Pir, Quran, Spirituality, Toheed

کبیرہ گناہ اور قرآن Major Sins in Quran


Image result for hell fire

کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی تقسیم قرآن سے معلوم ہوتی ہے:

جن بڑے بڑے گناہ کے کاموں سے تمہیں منع کیا گیا ہے اگر تم ان سے بچتے رہے تو ہم تمہاری (چھوٹی موٹی) برائیوں کو تم سے (تمہارے حساب سے) محو کردیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے(النساء ۳۱:۴)

اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب انہیں غصہ آئے تو معاف کردیتے ہیں۔(الشوریٰ ۳۷:۴۲)
ان آیات مبارکہ سے یہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی تفریق موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ہم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہیں تو چھوٹی موٹی کوتاہیوں کا اللہ معاف کردیں گے۔
The major sins are those acts which have been forbidden by Allah in the Quran and by His Messenger (SAW) in the Sunnah (practise of the Prophet), and which have been made clear by the actions of of the first righteous generation of Muslims, the Companions of the Prophet (SAW).
Allah Most High says in His Glorious Book:
If you avoid the major (part) of what you have been forbidden (to do), We will cancel out for you your (other) evil deeds and will admit you (to Paradise) with a noble entry. (al-Nisa 4:31)
Thus by this verse, Allah Most High has guaranteed the Garden of Paradise to those who avoid the major sins. And Allah Most High also says:
Those who avoid the greatest of sins and indecencies, and forgive when they are angry (al-Shra 42:37) Those who avoid the greatest sins and indecencies, except for oversights, (will find that) surely your Lord is ample in forgiveness. (Al-Najm 53:32)
 Keep reading >>>>

کبیرہ اور صغیرہ گناہوں میں فرق کیا ہے اور کس گناہ کو کبیرہ اور کسے چھوٹا سمجھا جائے۔یہ ایک مشکل سوال ہے اور اس پر مختلف علماء کی مختلف اپروچز ہیں۔ کچھ علماء گناہوں میں اس تفریق کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر گناہ اللہ کی معصیت یعنی نافرمانی ہے اور یہ نافرمانی چونکہ ایک عظیم ہستی کے حکم کی ہے اس لئے ہر گناہ کبیرہ گناہ ہی ہے۔ اصول کے اعتبار سے یہ بات درست ہے لیکن عملی طور پر صحیح نہیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل خود قرآن کی اوپر بیان کردہ آیات ہیں جو کبیرہ و صغیرہ گناہوں میں تفریق کرتی ہیں۔


کبیرہ گناہوں کی نوعیت
کبیرہ گناہ ، وہ گناہ ہیں جو انسان نے جانتے بوجھتے کئے ہیں اور ان کی نوعیت کوڈ آف کنڈکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی گناہ کے کبیرہ ہونے کے لئے درج ذیل میں سے کوئی ایک شرط کا پورا ہونا ضروری ہے:
۱۔ وہ گناہ جن کے ارتکاب پر آخرت میں کسی عذاب کا ذکر کیا گیا ہو یا اس گناہ پر لعنت یا غضب کا اظہار کیا گیا ہو۔
۲۔۔وہ گناہ جس کے کرنے پر قرآن یا سنت میں کوئی سزا اس دنیا میں مقرر کی گئی ہو وہ کبیرہ ہے۔ مثال کے طور پر چوری، زنا، بہتان، شراب پینا ، نا حق قتل ، ڈاکہ زنی وغیرہ شامل ہیں۔
۳۔ صغیرہ گناہ کرنے والے نے اس گناہ کو ترک کرنے کی بجائے اس پر اصرار کیا ہو۔
۴۔ وہ گناہ جو بظاہر تو معمولی ہو لیکن کرنے والے نے اللہ، رسول یا اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور تحقیر کرنے کی نیت سے وہ کام کیا ہو۔
ان معیارات پر اگر ہم غور کریں تو کبیرہ گناہوں کی درج ذیل فہرست سامنے آتی ہے جو حتمی تو نہیں لیکن کافی حد تک کبیرہ گناہوں کا احاطہ کرتی ہے:
۱۔ایمانیات میں شرک اور کفر، رسول کا انکار و تحقیر، آخرت کا انکار، ملائکہ اور اللہ کی نازل کردہ کتابوں کا انکار گناہ کبیرہ ہے ۔
۲۔ عبادات میں نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، جمعہ ، عیدین، فطرہ وغیرہ کو ترک کردینا بھی کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔
۳۔تعلق باللہ میں اللہ یا اس کی شریعت کے حوالے سے جھوٹی بات منسوب کرنا، بدعت، غیراللہ کی قسم کھانا، مشرکانہ توہم پرستی وغیرہ کبیرہ گناہ ہیں۔
۳۔مردو زن کے تعلق میں زنا ، لواطت، بے حیائی ،حلالہ اور حدود مباشرت کی خلاف ورزی کرنا
۴۔خاندانی امور میں والدین سے بدسلوکی،رحمی رشتوں سے قطع تعلق ،طلاق و عدت میں شریعت کی خلاف ورزی وغیرہ اس میں شامل ہیں۔
۵۔اخلاقیات میں ہر قسم کا ظلم گناہ کبیرہ ہے۔ کسی کو ناحق قتل کرنا، چوری، ڈاکہ زنی، املاک کو نقصان پہنچانا،لڑائی جھگڑا، ہتھیار دکھا کر ڈرانا، جادو ٹونہ،بدعہدی، خیانت یا کسی اور قسم کا ظلم بھی اس میں شامل ہیں۔
۶۔ بات چیت میں جھوٹ بولنا، تہمت یا الزام تراشی،غیبت، عیب جوئی، گالی یا لعنت دینا،فحش گوئی، مسلمان کو کافر کہنا، برے القاب سے پکارنا، تحقیر کرنا یا جھوٹی گواہی دینا وغیرہ شامل ہیں۔
۷۔رویوں میں تکبر، منافقت، خود غرضی،دھوکا دہی، حسد، کینہ و نفرت وغیرہ آتے ہیں۔
۸۔معشیت میں سودی کاروبار، جوا یا سٹہ کھیلنا،اسراف، بخل، ناپ تول میں کمی، ناجائز ذخیرہ اندوزی،اشیاء میں ملاوٹ اور حرام اشیاء کا کاروبار شامل ہیں۔
۹۔خوردو نوش میں سور، مردار، خون اور وہ جانور جس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو وہ حرام ہے ۔ ان کے علاوہ شراب اور نشے کی اشیاء کا استعمال بھی ممنوع ہے۔ان کے علاوہ وہ جانور جو سنت کی رو سے حرام ہیں ان کا کھانا بھی گناہ کبیرہ ہے۔
۱۰۔ان امور کے علاوہ بے کئی معاملات اور بھی ہیں جو گناہ کبیرہ کی فہرست میں آسکتے ہیں لیکن یہ کنڈشنل ہیں جیسے اگر اسلامی ریاست جہاد کا اعلان کرے تو جہاد سے فرا ر ہونا،ناپاکی، ایذا رسانی وغیرہ۔
گناہ کبیرہ کی معافی
کبیرہ گناہ کا ارتکاب کوڈ آف کنڈکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے اس لئے یہ لازم ہے کہ گناہ گار پشیمان ہو اور اللہ سے توبہ کرکے انہیں آئیندہ نہ کرنے کا عہد کرے، یعنی کبیرہ گناہ خود بخود معاف نہیں ہوتے بلکہ ان کے لئے توبہ کرنا ضروری ہے۔یہاں تک کہ یہ گناہ حج و عمرہ، رمضان کے روزے ، نماز، زکوٰۃ یا دیگر نیکیوں سے اس وقت تک نہیں مٹتے جب تک کہ ان پر نادم ہوکر ان کی تلافی (اگر ممکن ہو) نہ کردی جائے ۔ مثال کے طور پر ایک شخص نے ایک ماہ کے رمضان کے روزے نہیں رکھے ۔ اب اگر وہ اگلے سال حج کرلیتا ہے تو ایسا نہیں کہ اس کے رمضان کے روزے معاف ہوجائیں گے۔ اسے اپنے گناہ کی توبہ کرنی ہوگی اور ساتھ ہی قضا روزے رکھنے ہونگے۔ اسی طرح اگر ایک شخص نے کسی کی زمین ہتھیائی ہوئی ہے تو حج کرنے یا روزے رکھنے سے یہ گناہ اس کے نامہ اعمال سے نہیں مٹادیا جائے گا۔
کبیرہ گناہ کسی دوسرے شخص کی دعائے مغفرت یا سفارش یا ایصال ثواب سے بھی نامہ اعمال سے نہیں مٹائے جاتے جب تک کہ بندہ خود کوئی اقدام نہ کرے۔

صغیرہ گناہوں کی نوعیت
قرآن میں صغیرہ گناہوں کی کوئی فہرست نہیں دی گئی لیکن کچھ اشارات ہیں جن کی بنیاد پر ہم آسانی سے اس تفریق کو سمجھ سکتے ہیں۔پہلا اشارہ تو اس آیت سے ملتا ہے جس میں صغیرہ گناہوں کی وضاحت کردی گئی کہ یہ کون سے گناہ ہیں:
جو کبیرہ گنا ہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اِلا یہ کہ چھوٹے گناہ (ان سے سرزدہوجائیں) بلاشبہ آپ کے پروردگار کی مغفرت بہت وسیع ہے۔ ۔۔۔۔(النجم ۳۲:۵۳)
اس کامطلب ہے کہ وہ گناہ جو بس چلتے پھرتے اچانک سرزد ہوجائیں وہ صغیرہ گناہ ہیں۔ مثال کے طور ایک شخص پابند ہے کے وہ آفس وقت پر پہنچے۔ وہ ایک دن دفتر لیٹ پہنچتا ہے تو یہ کسی بڑے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی نہیں اس لئے قابل معافی ہے اور اس پر عام طور پر افسران کوئی خاص سرزنش بھی نہیں کرتے اور خود ہی معاف کردیتے ہیں۔ دوسری جانب اگر یہی صاحب کسی فراڈ میں ملوث پائے جائیں تو ایک بڑا جرم ہے ۔یہی بات دین میں بھی ہے کہ وہ گناہ جو عام معمولات میں سرزد ہوجاتے ہیں وہ چھوٹے گناہوں میں آتے ہیں جیسے کسی نامحرم پر نظر کا پڑ جانا، منہ سے کوئی بات نکل جانا وغیرہ۔
دوسری بات یہ پتا چلتی ہے کہ وہ گناہ جو اللہ تعالیٰ خود ہی معاف کردیں یا وہ جو نیکیوں کی بنا پر خود بخود مٹ جائیں وہ گناہ صغیرہ ہیں جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے:
"اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح و شام) کے اوقات میں اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ان کے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنیوالے ہیں”۔[ھود 114:11]
یہی اصول اس حدیث میں بھی بیان ہوا ہے:
” سعید بن عاص سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر تھا آپ نے وضو کے لئے پانی منگوا کر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے اور اچھی طرح وضو کرے اور خشوع وخضوع سے نماز ادا کرے تو وہ نماز اس کے تمام پچھلے گناہوں کے لئے کفارہ ہو جائے گی بشرطیکہ اس سے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو اور یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا”۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 543)۔
یعنی بے شمار نیکیاں ایسی ہیں جن کے کرنے پر گناہوں کو مٹادیا جاتا ہے جس میں نماز، روزہ ، حج ، زکوٰۃ، مصیبت پر صبر وغیرہ شامل ہیں ۔اس کا مطلب ہے صغیرہ گناہ وہ ہیں جو یا تو اللہ تعالیٰ خود ہی معاف کردیتے ہیں یا پھر وہ عام نیکیوں سے مٹ جاتے ہیں ۔لیکن ہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ایک گناہ اگر چھوٹا ہے لیکن اس پر اصرار کیا جارہا ہے یا اس کے کرنے کی نیت خدا سے بغاوت یا دین کا مذاق اڑانا ہے تو وہ کبیرہ گناہ میں بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص بار بار کسی نامحرم کو دیکھ کر لذت حاصل کررہا ہے اور وہ گناہ کو چھوڑنے کی کوئی کوشش نہیں کررہا تو یہی گناہ کبیرہ میں بدل جاتا ہے۔
از پروفیسر محمد عقیل
https://aqilkhans.wordpress.com/2014/04/21/صغیرہ-و-کبیرہ-گناہوں-میں-کیا-فرق-ہے؟/
http://www.themodernreligion.com/misc/hh/major_sins.htm

مزید پڑھیں:
  1. خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید Reconstruction of Religious Thought in Islam-  http://goo.gl/lqxYuw
  2. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : http://goo.gl/y2VWNE 
  3. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل
  4. پاکستان کی دلدل اور امن اور ترقی کا راستہ
  5. علماء اور دور جدید
  6. خاموش انقلاب مگرکیسے؟
  7. ظالم فاسق فاجر حکمران - علماء اور مسلمانوں کا رویہ
  8. ووٹ کی شرعی حیثیت مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع
  9. نقاب ، حجاب: قرآن , حدیث اور اجماع  - http://goo.gl/X9iI51
  10. التكفير الإرهاب داعیش طالبان :http://takfiritaliban.blogspot.com
  11. عمر ضائع کردی: http://goo.gl/3ZaTwQ
  12. http://Islam4Humanite.blogspot.com.
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
More: 
Frequently Asked Questions <<FAQ>> سلام فورم" پر سوالات کے جوابات"

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
سلام فورم نیٹ ورک  
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 
AftabKhan-net.page.tl 
Salaamforum.blogspot.com 
سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر"وہاٹس اپپ"یا SMS کریں   
   Twitter: @AftabKhanNet  
  
Facebook.com/AftabKhan.page
No comments:
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest
Labels: Islam, Muslims, Quran, Sins

Juma Mubarak جمعہ کی فضیلت


جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت مستحب ہے، حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: من قرأ سورة الكهف في يوم الجمعة، أضاء له من النّور ما بين الجمعتين [صححه الألباني 6470 في صحيح الجامع]
(جس نے جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھی تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اس کے لیے نور کو روشن کردیا جاتا ہے)۔ http://tanzil.net/#18:1
...................................................
انسداد فرقہ واریت
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ : ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘( آل عمران،3 :103)
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ﴿سورة الفرقان25:30﴾ اور(روز قیامت) رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بےشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ﴿سورة الفرقان25:30﴾
اللہ کےواضح احکامات کے باوجود اسلام میں فرقہ واریت کا زہر کیسے داخل ہوا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئیے اسلام کی ابتدائی تاریخ کا مختصر جائزہ ضروری ہے >>>https://goo.gl/8ANxZ6
.....................................................
 جمعہ کی فضیلت :
اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بے شمار امتیازات اور فضائلِ جلیلہ  سے مخصوص کیا، جن میں سے ایک یوم جمعہ کا امت کے لیے خاص کرنا ہے،جب کہ اس دن سے اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاری کو محروم رکھا،حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

أضلّ الله عن الجمعة من كان قبلنا. فكان لليهود يوم السبت. وكان للنّصارى يوم الأحد. فجاء الله بنا. فهدانا الله ليوم الجمعة. فجعل الجمعة والسبت والأحد. وكذلك هم تبع لنا يوم القيامة. نحن الآخرون من أهل الدّنيا والأولون يوم القيامة المقضي لهم قبل الخلائق۔[رواه مسلم 856]

’’ اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ کے دن سے محروم رکھا،یہود کے لیے ہفتہ کا دن اور نصاری کے لیے اتوار کا دن تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں برپا کیا اور جمعہ کے دن کی ہمیں ہدایت فرمائی اور جمعہ ہفتہ اور اتوار بنائے،اسی طرح یہ اقوام روز قیامت تک ہمارے تابع رہے گی،دنیا والوں میں ہم آخری ہیں اور قیامت کے دن اولین میں ہونگے، اورتمام مخلوقات سے قبل اولین کا فیصلہ کیا جائے گا‘‘ [رواه مسلم].
سورہ کہف بمع ترجمہ: 
http://tanzil.net/#1:18
عبادت کا دن:
حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: (جمعہ کو جمعہ اس لیے کہا گیا کیوں کہ یہ لفظ جَمَع سے مشتق ہے، اس دن مسلمان ہفتے میں ایک مرتبہ جمع ہوتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اس دن اپنی بندگی کے لیے جمع ہونے کا حکم دیا: ارشاد باری تعالیٰ ہے:  

}يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ{ [الجمعة: 9]

(مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے گی تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو)آیت میں سعی سے مراد تیزی سے چلنا نہیں ہے بلکہ جمعہ کے لیے جلد نکلنے کا اہتمام کرنا ہے، یاد رہے کہ نماز کے لیے بھاگتے ہوئے جانے سے روکا گیا۔

حسن فرماتے ہیں: ’’اللہ کی قسم سعی سے مراد بھاگتے ہوئے جانا نہیں ہے، بلکہ نماز کے لیے  وقار وسکینت اور دل کی  نیت اور خشوع وخضوع کے ساتھ جانے کا حکم دیا گیا‘‘ [تفسير ابن كثير 4/385/386].

ابن قیمؒ فرماتے ہیں: (جمعہ کا دن عبادت کا دن ہے، اِس کا دنوں میں ایسا مقام ہے جیسا کہ مہینوں میں ماہِ رمضان کا، اور اس دن مقبولیت کی گھڑی کا وہی درجہ ہے جیسا کہ رمضان میں شبِ قدر کا)۔  [زاد المعاد 1/398].

جمعہ کے دن کے فضائل:

1-دنوں میں بہترین دن: حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

خير يوم طلعت عليه الشّمس يوم الجمعة، فيه خلق آدم، وفيه أدخل الجنّة، وفيه أخرج منها، ولا تقوم السّاعة إلا في يوم الجمعة۔ [رواه مسلم 854]

’’جس دن میں سورج طلوع ہوتا ہے اس میں سب سے بہترین جمعہ کا دن ہے،اسی دن میں حضرت آدم پیدا ہوئے، اسی دن جنت میں داخل کیئے گئے، اور اسی دن اس سے نکالے گئے اور قیامت قائم نہیں ہوگی مگر جمعہ کے دن‘‘ [مسلم].

2-فضائلِ جمعہ میں نمازِ  جمعہ کے بھی فضائل شامل ہیں، کیونکہ نماز اسلام کے فرائض اور مسلمانوں کے جمع ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جس نے نمازکی ادائیگی میں غفلت برتی اللہ تعالیٰ اس کے قلب پر مہر لگادیتے ہیں جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں مذکور ہے۔

3-جمعہ کے دن ایک گھڑی ہوتی ہے اس میں دعا قبول کی جاتی ہے،حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

فيه ساعة. لا يوافقها عبد مسلم، وهو يصلّي، يسأل الله شيئًا، إلا أعطاه إياه". زاد قتيبة في روايته: وأشار بيده يُقَلَلها۔[رواه البخاري 935 ومسلم 852]
(اس میں ایک گھڑی ایسی ہے، جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے، اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو عنایت فرمادیتا ہے) ۔[متفق عليه].

ابن قیمؒ نے قبولیت دعا کی گھڑی کے تعیین کے سلسلے میں اختلاف کو ذکر کرنے کے بعد حدیثِ رسول کی روشنی میں ذیل کے دو قول کو ترجیح دی ہیں۔

اول: وہ گھڑی خطبہ شروع ہونے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک کا درمیانی وقت ہے۔ [مسلم].

دوم: جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک، اور یہی قول راجح ہے۔ [زاد المعاد 1/389، 390].

4- جمعہ کے دن کا صدقہ دیگر ایام کے صدقوں سے بہتر ہے۔

ابن قیم ؒفرماتے ہیں: (ہفتے  کے دیگر دنوں کے مقابلے جمعہ کے دن کے صدقہ کا ویسا ہی مقام ہے جیسا کہ سارے مہینوں میں رمضان کا مقام ومرتبہ ہے۔) حضرت کعب کی حدیث میں ہے: ’’...جمعہ کے دن صدقہ دیگر ایام کے مقابلے (ثواب کے اعتبار سے) عظیم ہے۔ [موقوف صحيح وله حكم الرفع].

5- یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ اپنے مومنین بندوں کے لیے جنت میں تجلی فرمائیں گے، انس بن مالک ؓ اللہ تعالیٰ کے فرمان}وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ{ [ق:35]  کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا ہر جمعہ تجلی فرمانا ہے۔

6-جمعہ کا دن ہفتہ میں بار بار آنے والی عید ہے، حضرت عباس ؓ سے مروی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

إن هذا يوم عيد جعله الله للمسلمين فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل۔ [رواه ابن ماجه 908 وحسنه الألباني].

(یہ عید کا دن ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے طے کیا ہے، لہٰذا جسے جمعہ ملے وہ اس دن غسل کرے)

7-یہ وہ دن ہے جس میں گناہوں کی معافی ہوتی ہے: سلمان سے مروی ہے: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لا يغتسل رجلٌ يوم الجمعة، ويتطهر ما استطاع من طهرٍ، ويدهن من دهنه، أو يمس من طيب بيته، ثم يخرج فلا يفرق بين اثنين، ثم يصلّي ما كتب له، ثم ينصت إذا تكلم الإمام، إلا غفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى» [رواه البخاري 883]
(جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرے اور تیل استعمال کرے یا گھر میں جو خوشبو میسر ہو استعمال کرے پھر نماز جمعہ کے لیے نکلے اور مسجد میں پہنچ کر دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے، پھر جتنی ہو سکے نفل نماز پڑھے اور جب امام خطبہ شروع کرے تو خاموش سنتا رہے تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں)۔ [البخاري].

8-جمعہ کے لیے چل کرجانے والے کے ہر قدم پر ایک برس کے روزے رکھنے اور قیام کرنے کا ثواب ملتا ہے، حضرت اوس بن اوس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: من غَسَّل يوم الجمعة واغتسل، وبكَّر وابتكر، ومشى ولم يركب، ودنا من الإمام فاستمع ولم يلغ كان له بكل خطوة عمل سنّة أجر صيامها وقيامها»  [رواه ابن ماجه 898 وأبو داود 345وصححه الألباني]

(جس نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا، اور مسجد اول وقت پہنچ کر خطبہ اولی میں شریک رہا، اور امام سے قریب بیٹھ کر خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے لیے ہر قدم پر ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔) [أحمد وأصحاب السنن وصححه ابن خزيمة].

الله أكبر!! جمعہ کے لیے جانے پر ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کا ثواب؟!

تو ان نعمتوں کو پانے والے کہاں ہے؟! ان عظیم لمحات کو گنوانے والے کہاں ہے؟!

ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ [الحديد:21].

(یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے)

9- ہفتے کے پورے دنوں میں جہنم کو تپایا جاتا ہے مگر جمعہ کے دن اس عظیم دن کے اکرام وشرف میں یہ عمل بند رہتا ہے[دیکھیے: زاد المعاد 1/387].

10-جمعہ کے دن یا رات میں فوت ہونا حُسن خاتمہ کی علامت ہے، کیونکہ جمعہ کے دن مرنے والا قبر کے عذاب اور فرشتوں کے سوالات سے محفوظ رہتا ہے، حضرت ابن  عمرو ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ما من مسلمٍ يموت يوم الجمعة أو ليلة الجمعة، إلا وقاه الله فتنة القبر» [رواه التّرمذي 1074 وحسنه الألباني]

(جو مسلمان جمعہ کے دن یا رات میں فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اُسےقبر کی آزمائش سے بچادیتے ہیں)۔ [أحمد والترمذي وصححه الألباني].

جمعه أحكام اور آداب

پیارے مسلم بھائی:

ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ جمعہ کے دن کی تعظیم کرے، اس دن کے فضائل کو غنیمت جانے اور اس دن ہر قسم کی عبادتوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے، یومِ جمعہ کے کچھ آداب اور احکام ہیں، جن سے آراستہ ہونا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

ابن قیمؒ فرماتے ہیں: (نبی کریم ﷺ کا طریقہ کار یہ تھا کہ آپ ﷺ دیگر ایام کے مقابلے مخصوص عبادتوں کے ذریعے جمعہ کے دن کی تعظیم وتکریم کرتے تھے،علماء کرام کے درمیان یہ اختلاف ہے کہ آیا جمعہ کا دن افضل ہے یا عرفہ کا دن۔ [زاد المعاد 1/375].

دیکھیے- پیارے بھائی – کتنے جمعہ مہمان کی طرح گذر گئے، اور آپ نے کوئی توجہ بھی نہیں دی، بلکہ بہت سے لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ  وہ جمعہ کے دن  اس لیے انتظار کرتے ہیں تاکہ اس میں نافرمانی ِرب اور معاصیِ الہٰی کریں۔

احکام وآداب:

1-مستحب ہے کہ امام جمعہ کی فجر میں مکمل سورہ سجدہ اور سورہ دھر پڑھے،جیسا کہ آپ ﷺ کا طریقہ تھا، اور کسی ایک سورت پر اکتفاء نہ کرے، جیسا کہ بعض ائمہ کا معمول ہے۔

2-جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنا مستحب ہے۔ حضرت اوس بن اوس ؓ سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إنّ من أفضل أيامكم يوم الجمعة فيه خُلق آدم وفيه قُبض وفيه النّفخة وفيه الصّعقة فأكثروا عليّ من الصّلاة فيه فإنّ صلاتكم معروضة عليّ» [رواه أبو داود 1047 والنّسائي 1373 وابن ماجه 896 وصححه الألباني]

 (تمہارے دنوں میں افضل ترین دن جمعہ ہے،اسی روز آدم کی تخلیق ہوئی، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی اور اسی دن صور پھونكا جائےگا، اور اسى ميں بے ہوشى طارى ہو گى، لہذا مجھ پر اس دن كثرت سے درود پڑھو، كيونكہ تمہارا درود مجھ پر پيش كيا جاتا ہے)

3- نماز ِجمعہ ہر آزاد مکلف مقیم مرد پر فرض ہے، لہٰذا کسی مسافر، کسی عورت یا غلام پر جمعہ واجب نہیں ہے، ہاں ان میں سے کوئی اگر جمعہ میں شریک ہوجائے توان کی نماز ِجمعہ درست ہے، بیماری یا خوف وغیرہ جیسے عذر کی وجہ سے نماز جمعہ ساقط ہوجاتی ہے۔ [الشرح الممتع 5/7-24].

4-جمعہ کے دن غسل کرنا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:

’’إذا جاء أحدكم إلى الجمعة فليغتسل‘‘

(جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے  تو چاہیے کہ غسل کرے) [متفق عليه].

5-خوشبو کا استعمال کرنا، مسواک کرنا اور اچھا لباس زیبِ تن کرنا، جمعہ کے آداب میں شامل ہے، حضرت ابوایوب ؓ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

من اغتسل يوم الجمعة ومس من طيب امرأته إن كان لها ولبس من صالح ثيابه ثم لم يتخط رقاب الناس ولم يلغ عند الموعظة كانت كفارة لما بينهما» [رواه أبو داود 347 وحسنه الألباني].

 (جس نے جمعہ کے دن غسل کیا،اگر خوشبو ہوتو استعمال کیا، بہترین کپڑے پہنے، پھر اطمینان کے ساتھ مسجد کی جانب نکلا، اگر موقع ملے تو دو رکعت پڑھی، کسی کو تکلیف نہیں دی، پھر امام کے خطبہ ختم کرنے تک خاموش رہا، (اس کا یہ عمل) دوسرے جمعہ تک گناہوں کا کفارہ ہے)۔

ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

غسل يوم الجمعة على كل محتلم. وسواك. ويمس من الطّيب ما قدر عليه» [رواه مسلم 846]

 (جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ پر ضروری ہے، اسی طرح مسواک کرنا اور اگر قدرت ہوتو خوشبو کا استعمال کرنا)

6-نماز ِجمعہ کے لیے جلدی جانا مستحب ہے، لیکن  آج اس سنت کا جنازہ نکل رہا ہے، اللہ تعالیٰ اس سنت کو زندہ کرنے والوں کی زندگی میں برکت دے۔

اور آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

 إذا كان يوم الجمعة كان على كل باب من أبواب المسجد ملائكة يكتبون الأول فالأول. فإذا جلس الإمام طووا الصحف وجاؤوا يستمعون الذّكر. ومثل المهجر الّذي يهدي البدنة. ثم كالّذي يهدي بقرة. ثم كالّذي يهدي الكبش. ثم كالّذي يهدي الدّجاجة. ثم كالّذي يهدي البيضة» [رواه مسلم 850]

(جب جمعہ كا دن ہوتا ہے تو مسجد كے ہر دروزاے پر فرشتے كھڑے ہو كر پہلے آنے والے كو پہلے لكھتے ہيں، سب سے پہلے آنے والا شخص اس كى طرح ہے جس نے اونٹ قربان كيا ہو، اوراس كے بعد اس كى طرح جس نے گائے قربان كى اور اس كے بعد جس نے مينڈھا قربان كيا ہے، پھر وہ جس نے مرغى قربان كى ہو پھر وہ جس نے انڈا قربان كيا ہو، اور جب امام نکلے اور منبر پر بيٹھ جائے تو وہ اپنے رجسٹر لپيٹ كر ذكر سننے آجاتے ہيں)

بھائیو:

خیر کے کاموں میں سبقت کرنے والے کہاں ہیں ؟!

نمازوں کے لیے پہلے جانے والے کہاں ہیں ؟!

عزم وہمت اور پامردی والے لوگ کہاں چلے گئے ؟!

7-جمعہ کے دن مستحب ہے کہ امام کے خطبے کے لیے آنے تک لوگ نفل نمازوں، ذکر اور تلاوت قرآن میں مصروف رہیں۔

8-خطبہ کے دوران خاموش رہنا اور بغور خطبہ سننا واجب ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إذا قلت لصاحبك يوم الجمعة أنصت، والإمام يخطب، فقد لغوت [متفق عليه].

(اگر تم نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو، تو تم نے غلطی کی)۔ اور احمد کی روایت میں اس طرح ہے: «’’اور جس نے غلطی کی اس( جمعہ  کے اجر وثواب) میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے‘‘۔

اور ابوداؤد کی روایت میں ہے: «اور جس نے غلطی یا خطا کی؛ تو وہ (جمعہ کے ثواب سے محروم ہوجاتا ہے) ظہر کا اجر پاتا ہے۔ [صححه ابن خزيمة].

9-جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت مستحب ہے، حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

من قرأ سورة الكهف في يوم الجمعة، أضاء له من النّور ما بين الجمعتين [صححه الألباني 6470 في صحيح الجامع]

(جس نے جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھی تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اس کے لیے نور کو روشن کردیا جاتا ہے)۔

10- جمعہ کے دن وقتِ جمعہ کے دُخول کے بعد جس پر جمعہ واجب ہوجائے اس کے لیے جمعہ سے پہلے سفر کرنا جائز نہیں ہے۔ [زاد المعاد 1/382].

11-بطور خاص جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص کرنا اور اس کی رات کو قیام کے لیے خاص کرنا مکروہ ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لا تختصّوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي. ولا تخصّوا يوم الجمعة بصيام من بين الأيام. إلا أن يكون في صوم يصومه أحدكم [رواه مسلم 1144]

 (جمعہ کی رات کو قیام کے لیے خاص نہ کرو، اور دنوں میں جمعہ کے دن کو روزے کے لیے  خاص نہ کرو، مگر یہ کہ کوئی سلسلہ وار  روزے رکھ رہا ہو)۔

12-جو شخص جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا خواہاں ہو اسے چاہیے کہ وہ جمعہ سے پہلے والے دن (جمعرات) یا بعد والے دن(ہفتہ) کو رکھے؛ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لا يصومنّ أحدكم يوم الجمعة إلا يوما قبله أو بعده [رواه البخاري 1985]

( تم میں سے کوئی جمعہ کے دن ہرگز روزہ نہ رکھے،مگر یہ کہ اس سے پہلے والے ایک دن(بھی) رکھے یا بعد والے دن)۔

13-جمعہ کی سنتیں: حدیث میں آیا ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے‘‘ [متفق عليه] اسی طرح یہ بھی وارد ہے کہ آپ ﷺ نے جمعہ کے بعد نماز پڑھنے والوں کو چار رکعت پڑھنے کا حکم دیا‘‘[مسلم].

اسحاق کہتے ہیں: اگر جمعہ کی (سنتیں) مسجد میں پڑھے تو چار پڑھے، اور اگر گھر میں پڑھے تو دو رکعت پڑھے۔ ابوبکر الاثرم کہتے ہیں: یہ دونوں بھی جائز ہے۔ [الحدائق لابن الجوزي 2/183].

14-اس شخص کے لیے مستحب ہے جو مسجد میں اُس وقت داخل ہو جب امام خطبہ دے رہا ہو کہ بیٹھنے سے پہلے دو  مختصر رکعتیں پڑھ لے؛ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے: نبی کریم ﷺ خطبۂ  جمعہ دے رہے تھے، سلیک الغطفانی آئے، اور بیٹھ گئے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إذا جاء أحدكم، يوم الجمعة، والإمام يخطب، فليركع ركعتين، وليتجوز فيهما [رواه مسلم 875]

( جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن مسجد آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو چاہیے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے)۔

15-جمعہ کے دن مستحب ہے کہ امام نمازِ جمعہ میں سورہ ٔ جمعہ اور سورہ ٔ منافقون، یا سورۂ  اعلی اور غاشیہ پڑھے، نبی کریم ﷺ یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے‘‘۔ [مسلم].

جمعہ اور ہماری غلطیاں

أ-نمازیوں کی غلطیاں:

1-بعض لوگ نمازِ جمعہ کاہلی اور سستی کی وجہ سے چھوڑدیتے ہیں، حالانکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات. أو ليختمن الله على قلوبهم. ثم ليكونن من الغافلين [رواه مسلم 865]

(خبردار! لوگ جمعہ چھوڑنے سے رُک جائیں یا پھر اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں پر مہر لگادے گا، پھر یہ لوگ غافلین میں سے ہوجائیں گے)۔

2-بعض لوگ نمازِ جمعہ کے لیے آتے وقت جمعہ کی نیت کے استحضار کا خیال نہیں رکھتے، اور عام معمول کے مطابق مسجد پہنچ جاتے ہیں، حالانکہ جمعہ اور دیگر عبادات کی درستگی کے لیے نیت کا ہونا شرط ہے۔آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

إنّما الأعمال بالنّيات [رواه البخاري 1] (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)۔

3-جمعہ کی رات میں دیر تک شب بیداری کرنا، اور نمازِ فجر کے وقت سوتے رہنا، جس کی وجہ سے جمعہ کے دن کا آغاز ہی کبیرہ گناہ سے ہوتا ہے، حالانکہ فرمان نبوی ﷺ ہے:

أفضل الصّلوات عند الله صلاة الصبح يوم الجمعة في جماعة [صححه الألباني 1566 في السّلسلة الصّحيحة]

(اللہ تعالیٰ کے نزدیک نمازوں میں افضل ترین نماز جمعہ کے دن کی باجماعت فجر کی نماز ہے)۔

4-خطبہ جمعہ میں شریک ہونے میں غفلت اورر سستی سے کام لینا،بعض لوگ خطبہ کے دوران مسجد پہنچتے ہیں اور بعض کا تو یہ حال ہوتا ہے اس وقت مسجد پہنچتے ہیں جب جمعہ کی نماز شروع ہوجاتی ہے۔

5-جمعہ کا غسل چھوڑنا، خوشبو کا استعمال نہ کرنا، مسواک کا اہتمام نہ کرنا اسی طرح جمعہ کے دن اچھے کپڑے زیب تن نہ کرنا۔

6-اذان جمعہ کے بعد خریدوفروخت کرنا؛ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

}يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ{ [الجمعة:9].

(مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے گی تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید وفروخت ترک کردو، اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔)

ابن عباسؓ فرماتے ہیں: ’’اذان جمعہ کے بعد خرید وفروخت حرام ہے. ‘‘

7-بعض افراد نافرمانی کے کاموں کو جمعہ کے دن عبادت سمجھ کر کرتے ہیں، جیسے بعض لوگ کمالِ نظافت خیال کرتے ہوئے داڑھی کاٹتے ہیں۔

8-بعض لوگ اگلی صفوں کے پُر ہونے سے پہلے ہی مسجد کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے ہیں، بلکہ بعض لوگ تو مسجد کے اندرونی حصے میں جگہ ہونے کے باوجود بیرونی حصے میں ہی بیٹھتے ہیں۔

9-کسی شخص کو اس کی جگہ سے ہٹاکر اس جگہ پر خود بیٹھنا: حضرت جابر ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لا يُقيمنَّ أحدكم أخاه يوم الجمعة. ثمّ ليخالف إلى مقعده فيقعد فيه. ولكن يقول: افسحوا۔ [رواه مسلم 2178]

(جمعہ کے دن کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے ہرگز نہ اٹھائے،کہ اس جگہ پر خود بیٹھے، بلکہ کہے: جگہ کشادہ کرو )۔

10-گردنوں کو پھلانگنا اور دو کے درمیان تفریق کرنا اور بیٹھے ہوئے لوگوں پر تنگی کرنا۔ ’’ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جمعہ كا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے كہ ايك شخص لوگوں كى گردنيں پھلانگتا ہوا آيا، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے فرمايا:

اجلس فقد آذيت وآنيت [رواه ابن ماجه 923 وصححه الألباني]  (بیٹھ جا تونے تکلیف دی اور تاخیر کی)۔

11-باتوں یا تلاوت کے ذریعے آواز بلند نہ کرے، کہ نمازیوں اور دیگر تلاوت کرنے والوں کو دشواری کا سامنا  نہ ہو۔

12-بغیر عذر کے اذان کے بعد مسجد سے نکلنا۔

13-خطبہ کے دوران خطیب کی جانب توجہ نہ دینا۔

14-دونوں خطبوں کے درمیان دو رکعت کا پڑھنا، ہاں دونوں خطبوں کے دوران کے وقفے میں دعا اور استغفار پڑھنا مشروع ہے۔ لیکن  نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔

15- نماز کے دوران کثرت سے حرکت کرنا، اور امام کا سلام پھیرتے ہی مسجد سے نکلنا، اور نماز کے بعد کے اذکار چھوڑ کر مسجد کے دروازوں پر بھیڑ کرنا۔

ب-خطباء اور واعظین کی غلطیاں:

1-خطبہ کا طویل کرنا اور نماز کا مختصر کرنا، حضرت عمارہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إن طول صلاة الرّجل، وقصر خطبته، مئنة من فقهه -أي علامة- فأطيلوا الصّلاة واقصروا الخطبة. وإن من البيان سحرًا [رواه مسلم 869]

(آدمی کا نماز کو طویل کرنا اور خطبہ کو مختصر کرنا اس کے فقیہ ہونے کی علامت ہے، تو نماز کو طویل کرو اور خطبہ کو مختصر، اور بیشک تقریر جادو کا اثر رکھتی ہے)۔

2-خطبہ کے لیے مناسب موضوع کا انتخاب نہ کرنا اور اسی طرح مناسب تیاری نہ کرنا، اور ایسے موضوعات پر تقریر کرنا جس کی لوگوں کو کوئی خاص ضرورت نہ ہو۔

3-بہت سے  واعظین اور خطباء لغوی  غلطیوں کی جانب توجہ نہیں دیتے۔

4-بعض خطباء موضوع اور ضعیف احادیث اور بغیر سوچے سمجھے غلط اقوال نقل کرتے ہیں۔

5- بعض خطباء دوسرے خطبہ میں صرف دعا پر اکتفاء کرتے ہیں اور اسی کے عادی ہیں۔.

6-خطبہ کے دوران قرآن کی کسی بھی آیت کا پیش نہ کرنا، یہ انداز نبی کریم ﷺ کے طریقے کے خلاف ہے، حضرت حارثہ بنت نعمان فرماتی ہیں: میں نے سورۂ}ق وَالْقُرْآَنِ الْمَجِيدِ{ زبانی یاد نہیں کیا مگر ہر جمعہ آپ ﷺ سے خطبوں میں سن سن کر۔ [مسلم].

7-بعض خطباء کا خطبہ کے دوران جوش وولولہ کا اظہار نہ کرنا،حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں:

كان رسول الله -صلّى الله عليه وسلم- إذا خطب احمرّت عيناه، وعلا صوته، واشتد غضبه كأنه منذر جيش. [رواه مسلم 867]۔

(نبی کریم ﷺ  جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے، تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتی تھیں، آواز بلند ہوجاتا تھا،اور آپ کا غصہ شدید ہوجاتا تھا ایسا لگتا تھا کہ آپ کسی لشکر کو آگاہ فرمارہے ہیں )۔

وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم.

http://www.wathakker.info/ur/flyers/view.php?id=805



مزید پڑھیں:
  1. خطبات اقبال - اسلام میں تفکر کا انداز جدید Reconstruction of Religious Thought in Islam-  http://goo.gl/lqxYuw
  2. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : http://goo.gl/y2VWNE 
  3. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل
  4. پاکستان کی دلدل اور امن اور ترقی کا راستہ
  5. علماء اور دور جدید
  6. خاموش انقلاب مگرکیسے؟
  7. ظالم فاسق فاجر حکمران - علماء اور مسلمانوں کا رویہ
  8. ووٹ کی شرعی حیثیت مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع
  9. نقاب ، حجاب: قرآن , حدیث اور اجماع  - http://goo.gl/X9iI51
  10. التكفير الإرهاب داعیش طالبان :http://takfiritaliban.blogspot.com
  11. عمر ضائع کردی: http://goo.gl/3ZaTwQ
  12. SalaamOne.blogspot.com

Also Related:
Genesis of Terror & Road to Peace
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
SalaamOne سلام

Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace
انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب
Web,Books, Articles, Magazines,, Blogs, Social Media,  Videos
Over 3 Million visits/hits
www.SalaamOne.com
www.Facebook.com/SalaamOne
www.Twitter.com/SalaamOne
WhattsApp +923004443470 
No comments:
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest
Labels: Islam, Jumah, Muslims
Newer Posts Older Posts Home
Subscribe to: Posts (Atom)

Search This Blog

Translate

سلام میگزیں

View my Flipboard Magazine.

Popular Posts

  • Contracts Covenant بد عہدی, معا ہدہ شکنی منافقت
  • کتابت حدیث کی تاریخ - نخبة الفکر - ابن حجرالعسقلانی - ایک علمی جایزہ Hadith Writing History - An Overview
  • نماز کی اہمیت ، مسائل ، طریقه اور جمع بین الصلاتین
  • Tablighi Jamaat تبلیغی جماعت ایک جائزہ
  • مسلمان کون؟ Who is real Muslim?
  • Culture
  • Law of Guidance
  • قربانی ایک عبادت - احکام ومسائل
  • مشرق وسطیٰ : امن میں ایران - پاکستان- ترکی اور سعودی کردار
  • وفات، میت ، نماز جنازہ ، تعزیت، ایصال ثواب ، مسائل

Peace Forum Magazines

Peace Forum Network

Peace for Humanity

Loading...

SalamOne

Tweets by @Peace_Forum

Facebook

Peace-Forum

Loading...

Blog Archive

  • ▼  2022 (3)
    • ▼  December (1)
      • قرآن اور ربا: جنگ دراصل کون کر رہا ہے؟ Scam of th...
    • ►  March (2)
  • ►  2019 (1)
    • ►  December (1)
  • ►  2018 (3)
    • ►  April (2)
    • ►  March (1)
  • ►  2017 (68)
    • ►  November (3)
    • ►  October (6)
    • ►  September (2)
    • ►  August (7)
    • ►  July (2)
    • ►  June (6)
    • ►  May (10)
    • ►  April (10)
    • ►  March (11)
    • ►  February (6)
    • ►  January (5)
  • ►  2016 (85)
    • ►  December (6)
    • ►  November (14)
    • ►  October (19)
    • ►  September (7)
    • ►  August (6)
    • ►  July (8)
    • ►  June (9)
    • ►  May (4)
    • ►  April (5)
    • ►  March (6)
    • ►  February (1)
  • ►  2015 (2)
    • ►  August (2)
  • ►  2014 (40)
    • ►  July (1)
    • ►  May (1)
    • ►  April (19)
    • ►  March (19)

Peace Forum Network

Peace Forum Network
Collectively over 2 Million visits

وزٹ

ویب سائٹس

  • الحاد جدید معرکہ
  • لائبریری
  • وکیپیڈیا -اسلام

ویب سائٹ لسٹ

  • AHLESUNNAT.net - Alahazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi Page
  • Al-Mawrid
  • Alexa - Top Sites by Category: Society/Religion and Spirituality/Islam
  • Darul Uloom Deoband - INDIA
  • Darul Uloom Naeemia
  • Dr. Abu Ameenah Bilal Philips
  • General Discussions Latest Topics
  • Jamia Farooqia - International Islamic University
  • Peace for Humanity
  • Shia Beliefs & Islam: شیعہ عقائد اور اسلام
  • اردو اسلامی کتب
  • جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی
  • محدث فورم [Mohaddis Forum]
  • مفتی محمد تقی عثمانی
Simple theme. Powered by Blogger.