Showing posts with label Corruption. Show all posts
Showing posts with label Corruption. Show all posts

دو اسلام - ڈاکٹر غلام جیلانی برق



Read in English <<here>>
میں مسلسل چودہ برس تک   حصول علم کے لئے مختلف علماء و صوفیا کے ہاں رہا۔ درس نظامی کی تکمیل کی۔ سینکڑوں واعظین کے وعظ سنے۔ بیسیوں دینی کتابیں پڑھیں۔ اور بالآخر مجھے یقین ہو گیا کہ اسلام رائج کا ما حاصل یہ ہے:
1۔ فرائض خمسہ یعنی توحید کا اقرار اور صلٰوۃ ، زکوٰۃ، صوم اور حج کی بجا آوری۔
2۔ اذان کے بعد ادب سے کلمہ شریف پڑھنا۔
3۔ مختلف رسوم مثلاً جمعرات، چہلم، گیارہویں وغیرہ کو باقاعدگی سے ادا کرنا۔
4۔ قرآن کی عبارت پڑھنا۔
5۔ اللہ کے ذکر کو سب سے بڑا عمل سمجھنا۔
6۔ قرآن اور درود کے ختم کرانا۔
7۔ اُچھل اُچھل کر حق ہو کے ورد کرنا۔
8۔  نجات کے لئے کسی مرشد کی بیعت کرنا۔
9۔ مردوں سے مرادیں مانگنا۔
10۔ مزاروں پر سجدے کرنا۔
11۔ غلیظ لباس کو پیغمبری لباس سمجھنا۔
12۔ سڑکوں اور بازاروں میں سب کے سامنے ڈھیلا کرنا۔
13۔ تعویذوں اور منتروں کو مشکل کشا سمجھنا۔
14۔ آنحضرت کو عالم الغیب نیز حاضر و ناظر قرار دینا۔
15۔ کسی بیماری یا مصیبت سے نجات  حاصل کرنے کے لئے مولوی جی کی ضیافت کرنا۔
16۔ گناہ بخشوانے کے لئے قوالی سننا۔
17۔ غیر مسلم کو ناپاک و نجس سمجھنا۔
18۔ امام ابو حنیفہ کی فقہ پر ایمان لانا۔
19۔ صحاح ستہ کو وحی سمجھنا۔
20۔ تمام علوم جدیدہ مثلاً طبعیات ، ریاضیات، اقتصادیات ، تعمیرات وغیرہ کو کفر خیال کرنا۔
21۔غور و فکر اور اجتہاد  و استنباط کو گناہ قرار دینا۔
22۔ صرف کلمہ پڑھ کر بہشت میں پہنچ جانا۔
23۔ ہر مشکل کا علاج عمل اور محنت  سے نہیں بلکہ دعاؤں سے کرنا مثلاً سوتے وقت یہ دعا پڑھو ۔ اللھم باسمک اموت و احیی خواب میں خواجہ خضر کی زیارت ہو گی۔ جاگو تو بسم اللہ الذی احیانی بعد ما  اماتنی کا ورد کرو  حوریں تمھارا منہ چاٹیں گی سبحان اللہ و بحمد ہ کا جملہ منہ سے نکالو تو  ساری زندگی کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ وضو میں منہ دھوتے وقت جعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ
کا ورد کرو تو تمھیں حضرت آدم علیہ السلام کے دس لاکھ حج کا ثواب ملے گا۔ نماز کے بعد  لاحول و لاقوۃ پڑھو تو سات آسمانوں اور سات زمینوں جتنا ثواب حاصل ہو گا۔ وغیرہ وغیرہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبردار! "دو اسلام" کتاب پر شدید اعتراضات ہوے سینکڑوں تنقیدی  تبصرے اور کتابیں لکھی گییں. سب سے مشہور مولانا مسعود احمد بی۔ایس۔سی  کی  "تفہیم اسلام بجواب دو اسلام" ہوئی۔ کھا جاتا ہے کہ اس کتاب  کو پڑھ کر غلام جیلانی برق صاحب نے اپنے موقف سے رجوع کیا اور کتاب "تاریخ حدیث" لکھی۔ یہاں تینوں کتب مہیا کر دی گیئ ہیں تاکہ اہل علم اور سچائی کے متلاشی، کھلے دماغ کے لوگ  ساری کتابوں سےاستفادہ کر کہ اپنی آزادانہ راے قایم کر سکیں. تنگ نظر، فرقہ پرست، اندھی تقلید کے شکار لوگ ان کتابوں کو پڑھنے سے گریز کریں. یہ ان کے لیے نہیں.
یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22 قرآن) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب علمائے کرام کے فیض سے میں تعلیمات اسلامی پر پوری طرح حاوی ہو گیا تو  یہ حقیقت بھی مجھ پر واضح ہو  گئی کہ خدا ہمارا، رسول ہمارا، فرشتے ہمارے، جنت ہماری، حوریں ہماری، زمین ہماری، آسمان ہمارا، الغرض سب کچھ کے مالک ہم ہیں اور باقی قومیں اس دنیا میں جھک مارنے کے لئے آئی ہیں۔ ان کی دولت ، عیش اور تنعم محض چند روزہ ہے۔ وہ بہت جلد جہنم کے پست ترین طبقے میں اوندھے پھینک دئیے جائیں گے اور ہم کمخواب و زربفت کے سوٹ پہن کر  سرمدی بہاروں میں حوروں کے ساتھ مزے لوٹیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمانہ گزرتا گیا  ۔انگریزی  پڑھنے کے بعد علوم جدیدہ کا مطالعہ کیا۔ قلب و نظر میں وسعت پیدا ہوئی۔ اقوام و ملل کی تاریخ پڑھی تو مجھے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی 128 سلطنتیں مٹ چکی ہیں۔ حیرت ہوئی کہ جب اللہ ہمارا اور صرف ہمارا تھا تو اس نے خلافت عباسیہ کا وارث ہلاکو جیسے کافر کو کیوں بنایا۔ ہسپانیہ کے اسلامی تخت پہ فرونیاں کو کیوں بٹھایا۔ مغلیہ کا تاج الزبتھ کے سر پر کیوں رکھ دیا۔ بلغاریہ، ہنگری، رومانیہ سرویہ، پولینڈ، کریمیا، یوکرائین، یونان اور بلغراد سے ہمارے آثار کیوں مٹا دئیے۔ فرانس سے بیک بینی دو گوش ہمیں کیوں نکالا۔ ٹیونس، مراکو، الجزائر اور لیبیا سے ہمیں کیوں رخصت کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں رفع حیرت کے لئے مختلف علماء کے ہاں گیا۔ لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ میں نے اس مسئلے پر  پانچ سات برس  تک غور و فکر کیا۔ لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔ بدقسمتی سے یہ وہ دور تھا جب میں اسلام سے سخت دلبرداشتہ ہو چکا تھا اور سالہاسال سے تلاوت کلام اللہ ترک کر رکھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن سحر کو بیدار ہوا۔ اوپر طاق میں قرآن شریف رکھا تھا۔ شغلاً اٹھایا ، کھولا اور پہلی آیت جو سامنے آئی وہ یہ تھی۔

 أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِم مِّدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْأَنْهَارَ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَنشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ ﴿سورة الأنعام ٦﴾
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کا اپنے اپنے زمانہ میں دور دورہ رہا ہے؟ اُن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ہے، ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں، (مگر جب انہوں نے کفران نعمت کیا تو) آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کر دیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا (Qur’an, 6:6)

میری آنکھیں کھل گئیں۔ اندھی تقلید کی وہ تاریک گھٹائیں جو دماغی ماحول پر محیط تھیں یک بیک چھٹنے لگیں۔ اور اللہ کی سنت جاریہ کے تمام گوشے بے حجاب ہونے لگے۔ میں نے قرآن میں جا بجا یہ لکھا ہوا دیکھا کہ یہ دنیا دار العمل ہے۔ یہاں صرف عمل سے بیڑے پار ہوتے ہیں۔ ہر عمل کی جزا و سزا مقرر ہے۔ جسے نہ کوئی دعا ٹال سکتی ہے اور نہ دوا۔
لیس للانسان الا ماسعی  ۔ یہاں صرف اپنی کوششیں ہی کام آتی ہیں۔ (القرآن)
میں سارا قرآن پڑھ گیا، اور کہیں بھی محض دعا یا تعویذ کا کوئی صلہ نہ دیکھا۔ کہیں بھی زبانی خوشامد کا اجر زمردیں محلات ۔ حوروں اور حجوں کی شکل میں نہ پایا۔ یہاں میرے کانوں نے صرف تلوار کی جھنکار سنی اور  میری آنکھوں نے غازیوں کے وہ جھرمٹ دیکھے جو  شہادت کی لازوال دولت حاصل کرنے کے لئے جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں کود رہے تھے۔ وہ دیوانے دیکھے جو عزم و ہمت کا علم ہاتھ میں لئے معانی حیات کی طرف  باانداز طوفان بڑھ رہے تھے۔ اور وہ پروانے دیکھے جو کسی کے جمالِ جاں افروز پہ رہ رہ کے قربان ہو رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ حدیث و قرآن کی بتائی ہوئی راہوں میں اتنا فرق کیوں ہے۔ احادیث کی تاریخ پڑھی تو منکشف ہوا کہ کہیں تو اعدائے اسلام نے توہین اسلام کے لئے اور کہیں ہمارے ملا نے  قرآن کے تیغ و سناں والے اسلام سے بچنے کی خاطر  تقریباً چودہ لاکھ احادیث وضع کر رکھی ہیں۔ جہاں ایک ایک دعا کا صلہ لاکھ لاکھ محل دیا ہوا ہے۔
اس انکشاف کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ مسلمان ہر جگہ محض اسی لئے ذلیل ہو رہا ہے کہ اس نے قرآن کے عمل، محنت اور ہیبت والے اسلام کو ترک کر رکھا ہے۔ وہ اوراد  و اوعیہ کے نشے میں مست ہے۔ اور اس کی زندگی کا تمام سرمایہ چند دعائیں اور چند تعویذ ہیں اور بس۔
اور ساتھ ہی یقین ہو گیا کہ اسلام دو ہیں۔ ایک قرآن کا اسلام جس کی طرف اللہ بلا رہا ہے۔ اور دوسرا وضعی حدیث کا اسلام جس کی تبلیغ پر ہمارے اسی لاکھ مُلا قلم اور پھیپھڑوں کا سارا زور صرف کر رہے ہیں۔
آئیے ذرا اس "حدیثی اسلام" پر ایک تنقیدی نظر ڈالیں۔
برق
کیمبل پور۔25 ستمبر 1949ء
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
حدیث میں تحریف؟
جب پہاڑ کے دامن سے کوئی چشمہ پھوٹتا ہے تو  اس کا پانی صاف شفاف ہوتا ہے۔ لیکن جوں جوں وہ میدانوں کی طرف  پڑھتا ہے ، خس و خاشاک اور  خاک و غبار کی کی وجہ سے گدلا ہو جاتا ہے۔ یہی حال مذہب کا ہے۔ آج سے 1368 برس پہلے اسلام کا چشمہ دامن فاران سے پھوٹا اور کئی دھاروں میں بٹ کر  مشرق و مغرب کی طرف بڑھا۔ مررورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ اس میں مختلف الانواع کثافتیں شامل ہوتی گئیں۔ کہیں عیسائیوں کی رہبانیت  اس میں آملی اور کہیں آریوں کا نظریہ حلول و وحدت الوجود، راہ میں کئی تصوف کی دلدلیں آ گئیں اور کہیں کلام و اعتزال کے خاکستان۔ ان مختلف گزر گاہوں سے ہوتا  اور اس طویل راہ گرد کی آلودگیوں کو سمیٹتا ہوا  جب یہ چشمہ ہم تک پہنچا  تو ہم فیصلہ نہ کر سکے کہ یہ الہامی بلندیوں کا مقطر آب تھا یا کسی بدرو کا مکدر پانی۔ اہل نظر لرزے ، اور متلاشیان حق بے تابانہ منبع کی طرف بڑھے۔ تاکہ ان مقامات کا کھوج لگائیں۔ جہاں سے کثافت اس چشمے میں شامل ہو رہی تھی ، سفر لمبا تھا  منزل کٹھن ، راہبر ناپید، خانہ ساز عقائد کی گھٹائیں محیط اور راہ تاریک ماحول میں گُم۔
 ظلمات بعضھا فوق بعض     (ظلمت تہ بر تہ)
بیسیوں جی ہار کر بیٹھ گئے اور کچھ ان ستاروں کی مدھم روشنی میں آگے بڑھتے گئے جو گھٹاؤں کی چلمن سے ان راہ نوردوں کا تماشہ دیکھ رہے۔ جوں جوں وہ بڑھتے گئے۔ گھٹائیں چھٹتی گئیں، ظلمت سرکتی گئی۔ پردے اٹھتے گئے۔ یہاں تک کہ وہ ایسے خطوں میں جا پہنچے جہاں آفتاب الہام کی تجلیوں سے نگاہیں خیرہ ہوئی جاتی تھیں اور دل و دماغ منور۔ ہر حقیقت وہاں عیاں تھی اور ہر راز بے حجاب ، انھوں نے ملت کو بلند آواز سے پکارا اور کچھ کہا۔ یہ آواز چند کانوں سے ٹکرائی اور پھر گونج بن کر دشت کی پنہائیوں میں گم ہو گئی۔

جانتے ہو انھوں نے کیا کہا تھا؟ یہی کہ ہمارے شکم پرست اور خود بین سامریوں نے حرم حقیقت میں سینکڑوں بت بنا رکھے ہیں۔ جن میں ایک کا نام "وضعی احادیث" ہے۔ یعنی وہ اقوال جو لوگوں نے تراش کر حضورؐ کی طرف منسوب  کر دئیے تھے اور آج وہ اقوال رسولؐ کے ساتھ یوں غلط ملط ہو چکے ہیں کہ حق کو باطل سے علیحدہ کرنا ناممکن ہو رہا ہے۔

اس میں کلام نہیں کہ ہمارے بعض علماء نے سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ راویوں کا سراغ لگایا، ان کے حالات جمع کئے بہ اندازہ ہمت تحقیق کی۔ لیکن معاملہ اس قدر الجھ چکا تھا کہ اسے سلجھانا انسانی دسترس سے باہر تھا۔ وہ زمانہ ہی ایسا تھا کہ علم کم تھا ، لکھنے والے محدود اور ذخائر علم معدوم۔ صحابہ کی تمام تر توجہ قیام سلطنت ، نشر اسلام اور  تعمیر ملت پر صرف ہو رہی تھی۔ ان کے پاس خود رسولؐ موجود تھے اور رسولؐ کے بعد آپ کا دیا ہوا مکمل و اتم ضابطہ حیات یعنی قرآن۔

انھیں کیا خبر تھی کہ ڈیڑھ سو سال بعد  لوگ قرآن کو چھوڑ کر احادیث پہ جھک پڑیں گے۔ احادیث کا ذخیرہ بڑھتے بڑھتے چودہ لاکھ تک پہنچ جائے گا۔ ہزارہا اہل غرض لاکھوں احادیث گھڑ کر اس مقدس ذخیرے میں شامل کر دیں گے اور اس وقت مسلمانوں کو صحیح و غلط میں امتیاز کی ضرورت پیش آئے گی۔ اگر انھیں یہ معلوم ہوتا  تو ممکن تھا کہ وہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال جمع کر جاتے۔ لیکن انھوں نے ایسا نہ کیا۔ اس کی بڑی بڑی وجوہ دو تھیں۔

اول: وہ قرآن کی موجودگی میں کسی اور کتاب کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے تھے۔ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ جب رحلت سے پہلے حضور نے فرمایا کہ

ایتونی بکتاب و قرطاس اکتب لکم شیاءً لن نضلوا بعدی

لاؤ قلم دوات اور کاغذ میں تمھیں ایک ایسی چیز لکھ کر دے جاؤں کہ میرے بعد تمھاری گمراہی کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔
تو حضرت عمر ؓ بن خطاب جھٹ بول اٹھے ہمیں مزید کسی تحریر کی ضرورت نہیں ، اس لئے کہ;
حسبنا کتاب اللہ
ہمارے پاس کتاب الٰہی  موجود ہے جس میں انسانی فلاح و نجات کے مکمل گُر درج ہیں ، اور یہ کتاب ہمارے لئے کافی ہے ۔ حضرت فاروق کا یہ جملہ رسالت پناہ کے حضور میں جسارت معلوم ہوتا ہے۔ لیکن وہ مجبور تھے اس لئے کہ کچھ عرصہ پیشتر  قرآن کی یہ آیت نازل ہو چکی تھی;

الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی

آج میں نے تمھارے دین کو مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تمھیں پوری طرح عطا کر دی ہے۔

اس آیت کی رو سے نسل انسانی کی یہ کتاب ہر طرح مکمل اور پوری ہو چکی تھی۔ اس آیت کے ہوتے ہوئے کسی مزید ہدایت کا انتظار بےکار تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ایمان کا امتحان لے رہے ہوں۔ اس لئے حضرت فاروقؓ کا یہ جواب نہایت برمحل معلوم ہوتا ہے۔

دوم: حضور نے حدیث لکھنے سے روک دیا تھا۔

عن ابی سعید الحذری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تکتبوا عنی و من کتب عنی شیئاً غیر القرآن فلیمحہ (صحیح مسلم)

ابی سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کے بغیر میرا کوئی اور قول قلمبند نہ کرو۔ اور اگر کوئی شخص ایسا قول لکھ چکا ہو تو  اسے مٹا دے۔ 
اور اس کی دو وجہیں تھیں۔

اول: کہ کہیں غلطی سے احادیث قرآن کے متن میں شامل نہ ہو جائیں۔ بعض گذشتہ انبیا کے الہامی صحائف  میں ان کی احادیث بھی شامل ہو گئی تھیں اور کتاب الٰہی  کا حلیہ بگڑ گیا تھا۔

 دوم: خود رسول کریم صلعم کی زندگی  میں ان کے اقوال محترف ہو چکے تھے اور یہ ہے بھی ایک فطری چیز۔ آدمی کو اپنی کہی ہوئی بات  تک یاد نہیں رہتی ، وہ دوسرے کی کیا یاد رکھ سکتا ہے۔ فرض کرو کہ ایک محفل میں چھ آدمی گھنٹہ بھر گفتگو کرتے رہے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اختتام مجلس پر تمام گفتگو بالفاظہ دہرا سکیں ؟ نا ممکن ہے۔ اسی طرح فرض کرو کہ ایک واقعے کو پچاس آدمی دیکھتے ہیں۔ اگر آپ ان کے پاس علیحدہ علیحدہ جا کر اس واقعے کی تفصیل قلمبند کریں، تو  آپ کو ان تفاصیل میں کافی اختلاف  نظر آئیں گے۔ اور اگر  چھ ماہ یا سال بعد  انھی لوگوں کے پاس  جا کر اسی واقعے کی تفصیل دوبارہ قلمبند کریں تو یہ اختلاف اور نمایاں ہو گا۔ اور مرُور زمانہ کے ساتھ ساتھ یہ تفاصیل یوں بدلتی جائیں گی کہ ان کا تعلق حقیقت سے منقطع ہو جائے گا۔

حضور علیہ السلام انسان کی اس فطری کمزوری سے آگاہ تھے۔ اس لئے آپ نے حکم دے دیا تھا کہ میری حدیث قید کتابت میں مت لاؤ۔ ممکن ہے کہ آپ یہ کہیں کہ انسان اپنے یا اپنے ساتھی کی بات تو بھول سکتا ہے لیکن وہ اپنے رہبر اور محبوب پیمبر کی بات نہیں بھول سکتا۔ میں عرض کروں گا کہ آپ یہاں بھی غلطی پر ہیں۔ آپ میں سے لاکھوں نے اپنے محبوب و محترم  لیڈر حضرت قائد اعظمؒ کی بیسیوں تقاریر سنی ہوں گی۔ جنھیں بعد میں پاکستان ریڈیو نے بھی بارہا دہرایا۔ لیکن آپ میں سے کتنے ایسے ہیں جنھیں آج ان تقاریر کے تین فقرے بھی یاد ہوں۔ انسان ہے ہی فراموش کا ر ، وہ سنتا ہے اور بھول جاتا ہے۔

 آپ کو تاریخ کا ایک اہم واقعہ یاد ہو گا کہ حضرت فاروقؓ کے زمانے میں عراق کا  قرآن حجاز سے مختلف ہو گیا تھا۔ کیوں؟ اس لئے نہیں کہ کوئی بد نیت تحریف قرآن پہ تل  گیا تھا۔ بلکہ اس لئے کہ ان کے سامنے قرآن کا کوئی نسخہ موجود نہیں تھا۔ اس لئے بعض آیات حافظہ سے اتر گئیں۔ اور بعض میں کچھ رد و بدل ہو گیا تھا۔ حضرت فاروقؓ نے اس کا علاج یہ کیا کہ قرآن کے کافی نسخے لکھوا کر قلمرو کے مختلف حصوں میں بھیج دئیے اور قرآن تحریف سے محفوظ ہو گیا۔

ابن حزم لکھتے ہیں کہ حضرت فاروق اعظم کی رحلت کے وقت  قرآن شریف کے ایک لاکھ نسخے تیار ہو چکے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ صحابہ کرام عشق خدا میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اور ان کا یہ محکم عقیدہ تھا کہ کسی آیت کو غلط پڑھنا اگر کفر نہیں تو فسق یقیناً ہے۔ اگر ان عشاقان خدا کو قرآن کی آیات بھول گئیں تھیں تو حدیث کے بھولنے پہ انھیں کون ملامت کر سکتا تھا۔

آنحضرت صلعم نے کتاب حدیث سے منع فرما دیا تھا۔ اور جو چیز لکھی نہ جائے وہ لازماً پہلے بگڑتی ہے اور بلا آخر مٹ جاتی ہے۔ حضورؐ کا مقصد بھی یہی تھا کہ قرآن کریم کے بغیر کوئی اور کتاب ہدایت باقی نہ رہے۔ اس لئے حضورؐ اور ان کے صحابہؓ قرآن کو ایک مکمل ضابطہ حیات تصور فرماتے تھے۔ اور اس کی موجودگی میں کسی اور کتاب کی قطعاً ضرورت نہیں سمجھتے تھے۔ورنہ اگر صحابہ کو ایک لمحے کے لئے بھی یہ خیال آتا کہ قرآن کی تفصیل، تکمیل، تفسیر یا امت کی رہبری کے لئے حدیث کا زندہ رہنا ضروری ہے تو ان کے لئے حدیث کی تدوین نہایت آسان تھی۔
 جو عمرؓ قرآن کے ایک لاکھ نسخے لکھوا سکتا تھا وہ پانچ چھ ہزار احادیث کا  ایک مجموعہ بھی تیار کرا سکتا تھا۔ تمام صحابہ زندہ تھے ان کی بیشتر تعداد مدینہ میں موجود تھی۔ اور بعض روایات کے مطابق حضرت عبداللہ بن عمروؓ حضرت انس بن مالکؓ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پاس احادیث کی کافی تعداد لکھی ہوئی بھی تھی۔ راویوں کا لمبا چوڑا جھمیلا بھی نہیں تھا۔ ان حالات میں اگر حضرت صدیقؓ یا فاروقؓ چاہتے تو صرف ایک مہینے میں سرور عالمؐ کے تمام اقوال جمع ہو سکتے تھے۔
لیکن انھوں نے ایسا نہ کیا۔ کیوں ؟ کیا انھیں اقوال رسولؓ سے معاندت تھی؟ عیاذاً باللہ!  کیا انھیں اسلام سے محبت نہ تھی ؟ استغفراللہ ! بات یہی تھی کہ اقوال رسول میں تحریف ہو چکی تھی۔ نیز رسول اکرم صلعم کا حکم تھا کہ احادیث مت لکھو۔  مزید برآں  انھیں اس حقیقت پر بھی محکم ایمان تھا کہ قرآن ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ اس لئے انھوں نے احادیث کو در خور اعتنا نہ سمجھا۔
.................................
 ترکی میں احادیث کی جدید تحقیق اور ترتیب: 
...........................................

علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال کسی تعارف کے محتاج نہیں، وہ پاکستان کے قومی شاعر، جدید مسلم فلاسفر، مفکر، دانشور اور قانون دان کےعلاوہ بانیان پاکستان میں بھی شامل ہیں. ان کی شا عری بہت مشہور ہے مگر مسلمانوں کی فکری تجد ید پر ان کے سات لیکچروں [ Reconstruction of Religious Thought in Islam]  "اسلام میں تفکر کا انداز جدید" پر بہت کم توجہ دی گیئ.  ان لیکچروں کو سمجھنے ،غور و فکر، تجزیہ ،پھہلا ؤ اور بتدریج  عملی اقدام کی ضرورت ہے تاکہ  امت  مسلمہ صدیوں  کے   جمود  سے نکل کر  جدید  دنیا  میں اپنا   حقیقی  مثبت  کردار ادا کر سکے -  علامہ اقبال نے یہ لیکچر مدراس، حیدر آباد، اور علی گڑھ (انڈیا)  میں دیے جو کہ ١٩٣٠ میں کتابی شکل میں شا یع ہوے- تمام لیکچرز انگریزی اور اردو  زبان میں اور ویڈیو لیکچرز  کی شکل میں مہیا کر دی ہیں-
علامہ اقبال کا لیکچر نمبر 6 "اسلام کی تعمیر میں اصول حرکت"; در اصل "اسلام میں تفکر کا انداز جدید" کے تمام لیکچروں میں سب سے زیادہ اہم ہے کیوں کہ اقبال کا "اسلامی تفکر جدید" کا تصور اسی موضوع کے گرد گھومتا ہے جو کہ "اجتہاد" یعنی قانونی معاملات پر آزادانہ رایے قائم کرنا- قرآن سے ماخوز قانونی اصول، بدلتے  زمانہ اور حالات کے مطابق پھیلاؤ اور ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں-  حضرت عمر رضی اللہ نے حالات کے مطابق اجتہاد کیا. چہار فقہی مکاتب کے بعد اسلامی فقہ جمود کا شکار ہو گیا  کیونکہ مختف وجوہ کی بنا پر اجتہاد کے دروازے بند کر دیے گیۓ. اس سے مسلم امت کو کچھ فائدے مگر نقصانات زیادہ ہوے. ابن تیمیہ ر ح پھر عبد الوہاب ر ح نے جمود کو توڑنے کی کوشش کی .
شاہ ولی اللہ کے مطابق (بنیادی عقاید کے علاوہ) عام شریعیت اس وقت کے معاشرہ کی ضروریات کے مد نظر تھیں اور ان پر عمل ہمیشہ کے لیے حتمی نہیں کہ مستقبل کی نسلوں پرمکمل طور اسی طرح  پر نافذ کیا جا سکے. اس لیے امام ابو حنیفہ نے "استحسان" اختیار کیا- اقبال اس نتیجہ پر پہنچے کہ آج کے مسلمان موجودہ حالات کے مطابق اپنی معاشرتی زندگی کی 'تعمیر نو' اسلام کے بنیادی اصولوں کی روح کے مطابق کریں-
 <<چھٹا خطبہ>> اس پر روشنی ڈالتا ہے.مکمل کتاب، لیکچر اردو، انگریزی اور  ویڈیوز << یہاں>> حاصل کریں- تخلیص و ترجمہ : خطبات اقبال - ڈاکٹر خللیفہ حکیم 
...........................................
خبردار! 

دو اسلام" کتاب پر شدید اعتراضات ہوے سینکڑوں تنقیدی  تبصرے اور کتابیں لکھی گییں. مولانا مسعود احمد بی۔ایس۔سی  کی  "تفہیم اسلام"  بجواب" دو اسلام" مشہور ہوئی۔ کھا جاتا ہے کہ غلام جیلانی برق صاحب نے اپنے موقف سے رجوع کیا اور کتاب "تاریخ حدیث" لکھی (٢٠٠٩)-  جس میں تاریخ تدوین  حدیث    کی مختصر  تاریخ  ہے ، مگر صرف  سات سو  غیر  متنازعہ احادیث  جو،  ان  کے  پرانے نقطہ نظر  (قرآن سے مطابقت رکھنے پر مشروط )  بیان  کیں ۔مگر   "حرف  ثانی" کے  مطابق،  ١٩٥٦ تک وہ اپنے نقطہ نظر پر قایم نظر آتے ہیں –(واللہ  عالم) درج ذیل لنک  پر  کتب اور ریفرنس  مہیا کر دی گے ہیں تاکہ اہل علم اور سچائی کے متلاشی، کھلے دماغ کے لوگ  علمی زخیرہ  سےاستفادہ کر کہ اپنی آزادانہ راے قایم کر سکیں. تنگ نظر، فرقہ پرست، اندھی تقلید کے شکار لوگ ان کتابوں کو پڑھنے سے گریز کریں. یہ ان کے لیے نہیں.

یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22 قرآن) 
  • دو اسلام - ڈاکٹر غلام جیلانی برق 
  • تفہیم اسلام جواب، دو اسلام" مولانا مسعود احمد بی۔ایس۔" 
  • تاریخ حدیث - ڈاکٹر غلام جیلانی برق
کتابیں یہاں پڑھیں یا داؤن لوڈ کریں :
حوالہ جات References /Links 

     تبصرے، تنقید  اور خیالات - Controversies & Discussion
    This book created a lot  of controversies, hundreds of books and articles were written, some links can be found below. 
    دو اسلام کے جواب میں سینکڑوں کتب تحریر کی گئیں۔ جن میں سے مولانا سرفراز خان صفدر نے صرف ایک اسلام، مفتی احمد یا خان نعیمی نے ایک اسلام، حافظ محمد گوندلوی نے دوامِ حدیث، مولانا مسعود احمد بی۔ایس۔سی نے تفہیم اسلام بجواب دو اسلام اس کتاب میں مسعود احمد صاحب نے "دو اسلام" کے ایک ایک پیرا کا علیحدہ علیحدہ جواب لکھا ہے۔ کھا جاتا ہے کہ اس کتاب (تفہیم اسلام بجواب دو اسلام) کو پڑھ کر غلام جیلانی برق صاحب نے اپنے موقف سے رجوع کیا اور کتاب تاریخ تدوین حدیث لکھی۔
    غلام جیلانی برق نے اپنی پہلی تین کتب، ایک اسلام، د واسلام، اور دو قرآن سے رجوع کر لیا تھا یا نہیں، اس پر ان کی زندگی میں بھی اور بعد از وفات بھی بحث جاری ہے۔ رجوع کے حامی ان کے کچھ مکتوبات جو جیلانی برق کی حیات میں مختلف کتب میں شائع ہوئے، جن میں انھوں نے اپنی کتب کے مندرجات سے رجوع کیا ہے۔اور دیگر کتب میں ان کتب میں پیش کردہ نظریات کے برخلاف دوسرا نقطہ نظر پیش کیا، جیسے تدیون حدیث، اور محدثین کی زندگی پر کتاب لکھ کر۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں دو معروف کالم نویسوں جاوید چودھری ، اوریا مقبول جان کے درمیان بھی یہ بحث جاری ہے:
    1.  http://www.urduweb.org/mehfil/threads/دو-اسلام-از-ڈاکٹر-غلام-جیلانی-برق.89899/page-2 
    2. Controversy: http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2015/04/28/41732
    3. http://urdu.alarabiya.net/ur/politics/2015/04/26/-دو-اسلام-.html
    4. http://www.urduweb.org/mehfil/threads/برقیائی-گئی-پانچ-اسلامی-و-تاریخی-کتب-۔.30424/page-3
    5. http://kitaben.urdulibrary.org/Pages/DoIslam.html
    6. دو اسلام از ڈاکٹر غلام جیلانی برق - 1 http://awarafikar.blogspot.com/2016/05/1.html 
    7. https://www.facebook.com/Quddusia/posts/665511020221231 
    8. https://ur.wikipedia.org/wiki/غلام_جیلانی_برق
    9. http://baazauq.blogspot.com/2010/12/inkaar-e-hadees-se-taarikhe-hadees-tak.html
    10. تاریخ حدیث-  ڈاکٹر مرتضیٰ مطھری: http://kitaben.urdulibrary.org/Pages/Tarikh2.html
    11. تفہیم اسلام  بجواب دو اسلام  http://ia600503.us.archive.org/35/items/Tafheem-e-Islam/Tafheem-e-Islam.pdf  
    12. Dual Islam- English version: http://freebookpark.blogspot.com/2016/05/dual-islam.html

    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    بسم الله الرحمن الرحيم
     لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ
    شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا. ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین  پر. جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا.
    مزید پڑھیں:
    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
    Humanity, ReligionCultureSciencePeace
     A Project of 
    Peace Forum Network
    Peace Forum Network Mags
    BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
    Overall 2 Million visits/hits

    پاناما لیکس : کالا دھن، ظلم و استحصال کا نظام، پاکستان اور کرپشن کی مکروہ شکل

     Countries with politicians, public officials or close 
    associates implicated in the leak on April 15, 2016

    ۳؍اپریل ۲۰۱۶ء کو ایک ایسی خبر نے پوری دنیا میں ایک ہیجان برپا کر دیا، جس کے بارے میں کسی کو کوئی وہم و گمان بھی نہ تھا اور جو قدرت کا ناگہانی تازیانہ بن کر نازل ہوئی۔ جرمنی کے ایک اخبار نے ’پاناما لیکس‘ (Panama Leaks) کے نام سے عالمی سطح پر کالے دھن کے کاروبار، اس کی وسعت اور ستم کاریوں کے بارے میں ایک کروڑ سے زیادہ دستاویزات کا راز فاش کیا۔ اس خبر نے دنیا کے گوشے گوشے میں، مالیاتی اور سیاسی میدانوں میں زلزلے کی سی کیفیت پیدا کردی ہے ۔
    ۲ لاکھ۲۴ہزار نمایشی کمپنیاں ہیں اور کم از کم ۳۲ٹریلین ڈالر (۳۲کھرب ڈالر) کا سرمایہ ۳۰ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں ہے جو دنیا کی کُل سالانہ دولت کا ایک تہائی ہے۔جو نمایشی کمپنیاں ہر طرح کے ٹیکس اور ریاستی نگرانی کے نظام سے بالا ہوکر اپنا کھیل کھیل رہی ہیں، انھیں پاناما میں قانون کا تحفظ حاصل ہے۔ حیرت انگیز طور پر ۱۴۶عالمی لیڈر اس کالے کھیل میں بلاواسطہ یا بالواسطہ ملوث ہیں، اور مزید سیکڑوں چہروں سے پردہ اُٹھنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

    آف شورکمپنی‘ کا لفظ جو ایک محدود حلقے ہی میں پہچانا اور بولا جاتا تھا، اب زبانِ زدعام و خاص ہے۔ ٹیکس سے بچاؤ کی پناہ گاہیں (Tax Havens) جو سرمایہ داروں، بڑی بڑی کارپوریشنوں اور بنکوں کی کمین گاہیں بن گئی تھیں، اب وہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہیں۔ بڑے بڑے سیاست دانوں، تاجروں، صنعت کاروں ، حتیٰ کہ ججوں اور خیراتی اداروں کو بھی کالے دھن کے تاجروں اور پجاریوں کی صف میں دیکھا جاسکتاہے۔

     اس انکشافی آندھی سے ابھی تو ڈیڑھ سو کے قریب عالمی شخصیات کے چہروں سے پردہ اُٹھا ہے۔ یہ صرف پہلی قسط ہے، جسے سمندر میں تیرتے ہوئے برف کے پہاڑ کا محض چھوٹا سا حصہ کہا جا رہا ہے۔ بس بارش کے چند پہلے قطرے۔ موسلادھار بارش کی پیش گوئیاں تو ۹مئی سے بعد کے زمانے سے منسوب کی جا رہی ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

    س لینڈ کے وزیراعظم، یوکرین کے صدر، اسپین کے وزیر صنعت و حرفت، (’فیفا‘ فٹ بال کی بین الاقوامی اتھارٹی) کے سربراہ اور نصف درجن اربابِ اقتدار مستعفی ہوچکے ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی اخلاقی ساکھ بُری طرح متاثر ہوئی ہے اور اپنے سارے حسابات پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کے باوجود، ان کا قدکاٹھ کم ہوا ہے اور وہ دفاعی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ وہ مالیات کی نگرانی کے نظام اور خصوصیت سے کارپوریشنوں اور آف شور کمپنیوں کے کردار میں بنیادی تبدیلیوں کے باب میں فوری اقدام کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ 

    ان کے علاوہ ڈیوڈکیمرون کے وزیرخزانہ، پارلیمنٹ میں لیڈرآف دی اپوزیشن اور متعدد اہم شخصیات نے اپنی آمدنی، ٹیکس ادایگی کی تفصیلات اور ذاتی مالی صورتِ حال، تحریری شکل میں، رضاکارانہ طور پر پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے پیش کردی ہے۔ اس طرح انھوں نے بجاطور پر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جواب دہی سے بالاتر نہیں سمجھ رہے۔

     یہاں پر یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ جمہوریت کی جو بھی خوبیاں اور خامیاں ہوں، ان میں سب سے اہم چیز قیادت کی اخلاقی ساکھ ہوتی ہے۔ سرآئیورجنگز کی کتا ب Cabinet Government (کیمبرج یونی ورسٹی پریس،۱۹۵۹ء) علمِ سیاسیات میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ: جمہوریت میں اصل چیز قیادت کی اخلاقی ساکھ ہے۔اگر اس پر حرف آجائے تو پھر حکمرانی کا جواز باقی نہیں رہتا۔ ہمارے دستور میں بھی ایک دفعہ سیاسی قیادت کے صادق اور امین ہونے کے بارے میں ہے۔ لیکن افسوس کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو اپنے دستور کا یہ حصہ یاد رکھنے کی فرصت ہی نہیں!

    یورپ کے پانچ ممالک اور دنیا کے ۳۰سے زیادہ ممالک کے نظامِ احتساب و اصلاح میں تبدیلیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ آف شور کمپنیوں کو قانون کی گرفت میں لانے اور کالے دھن کو قابو میں کرنے کی بات اب سرفہرست آگئی ہے۔ ایک طرف احتساب کا عمل ہے، جو حرکت میں آرہا ہے، تو دوسری طرف کالے دھن کا پورا تصور، ٹیکس سے چھوٹ کے مراکز ( Tax Haven) کا وجود، اس سلسلے کے قانونی، سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں پر سوچ بچار اور مالی معاملات میں شفافیت (transparency) کی ضرورت کو وقت کے اہم ترین مسئلے کے طور پر تسلیم کیا جارہا ہے۔

     ہزاروں افراد اور اداروں سے جواب طلبی ہورہی ہے۔ دنیا کے پورے مالی دروبست اور ٹیکس کے نظام پر بنیادی نظرثانی کی ضرورت کو اُجاگر کیا جارہا ہے۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں۔ ایک شر سے بہت سے خیر کے رُونما ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، حتیٰ کہ امریکا جس کی نصف درجن ریاستیں ٹیکس سے چھوٹ کے مراکز کا درجہ رکھتی ہیں اور جس کے نتیجے میں وہ دنیا کے ان ۳۰ممالک میں، جو ٹیکس چوری کی پناہ گاہ ہیں اور تیسرے نمبر پر ہے (یعنی پاناما سے بھی اُوپر ہے) اس کے صدر بارک اوباما کو کہنا پڑا ہے کہ:

    اس بات میں کوئی شبہہ نہیں کہ عالمی سطح پر ٹیکس کی ادایگی سے بچنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں اسے اس لیے قانونی نہیں بنانا چاہیے کہ محض ٹیکسوں کی ادایگی سے بچنے کے لیے رقوم کی منتقلی (transactions) میں مصروف ہوا جائے، جب کہ اس پر زور دیا جانا چاہیے کہ اسے یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہرشخص ٹیکس کے سلسلے میں اپنا مناسب حصہ ادا کرے۔ (دی گارڈین، ۵؍اپریل ۲۰۱۶ء)

    امریکی اٹارنی براے مین ہیٹن، مسٹر پریٹ بھرارے نے امریکا کی ان تمام کمپنیوں، جن کا نام موجودہ فہرست میں آیا ہے اور جن کی تعداد ۲۰۰ہے ، ان کے بارے میں کہا ہے کہ ان ۲۰۰کمپنیوں کے بارے میں باقاعدہ تفتیش اور تحقیقات کا آغاز کیا جا رہا ہے (واضح رہے کہ پاکستانی میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ ’’امریکا کی کوئی کمپنی اس فہرست میں شامل نہیں‘‘، یہ درست بات نہیں ہے)۔ (دیکھیے: دی انڈی پنڈنٹ، لندن،۲۰؍اپریل ۲۰۱۶ء)

    کالادھن : کرپشن کی مکروہ شکل

    بلاشبہہ پاکستان کی بڑی سیاسی قیادت، کاروباری شخصیات، حتیٰ کہ ایک سابق اور ایک موجودہ جج تک آف شور کمپنیوں کے اس انکشاف کی زد میں ہیں اور یہ ایک بڑا اہم مسئلہ ہے۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ پورے مسئلے کو اس کے عالمی تناظر میں دیکھا جائے اور وہ راستہ اختیار کیا جائے، جس کے نتیجے میں ایک طرف کالے دھن کا کاروبار کرنے والے افراد اور اداروں پر ریاست کی اور عالمی احتسابی نظام کی بھرپور گرفت ہوسکے، تو دوسری طرف ظلم اور استحصال کے اس نظام کا ملک ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر قلع قمع کیا جاسکے، جس کی وجہ سے کرپشن، معاشی دہشت گردی اور لوٹ مار کی لعنت نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں مفادپرستی، نفع اندوزی، دولت کی شرم ناک عدم مساوات (obscene inequalities) اور انسانوں کے بڑے طبقے کی محرومیاں زندگی کی تلخ حقیقت بن گئی ہیں۔

    ’کالادھن‘ کرپشن کی ایک ملعون شکل ہے اور اس سے مراد خصوصاً وہ دولت ہے، جو جائز طریقے سے حاصل نہ کی گئی ہو۔ رشوت، کمیشن اور ایسی ہی دوسری قبیح حرکتوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والی دولت کے ساتھ وہ دولت بھی، جو چاہے جائز طریقے سے کمائی گئی ہو لیکن اگر اس کو ریاست کے ٹیکس کے نیٹ ورک سے باہر رکھا گیا ہو، تو وہ ’کالے دھن‘ میں شمار ہوتی ہے۔ 
    اسی طرح اگر ایک ہی کمپنی اپنی ذیلی کمپنیوں کی مدد سے اشیاے تجارت کی قیمتوں میں کمی اور اضافے کے ذریعے اخراجات کو مصنوعی طور پر بڑھانے اور دکھائے جانے والے منافعے کو کم کرنے کے لیے ہاتھ کی صفائی کا مظاہرہ 
    کرے، تو یہ بھی کالے دھن ہی کی ایک صورت ہے۔ 

    اگر یہ کھیل قانون کی کھلی کھلی خلاف ورزی کر کے انجام دیا جائے، تو اسے ’فرارِمحاصل‘ یا فرارِ ٹیکس (Tax Evasion) کہتے ہیں اور اگر اس حوالے سے قانون کے کسی سقم سے راستہ نکالا جائے تو اسے ’اجتنابِ ٹیکس‘ (Tax Avoidance)کہتے ہیں۔ آف شور کمپنیوں کے ذریعے دونوں ہی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ نیز آمدنی اور اس کے اصل ذرائع کو مخفی (secret) رکھا جاتا ہے، اور حسابات اور مالی معاملات کو اس طرح مرتب کیا جاتا ہے کہ اصل نفع راز بھی رہے اور ٹیکس کی مشینری کی گرفت میں بھی نہ آئے۔ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ کھلے کھلے دھوکے کا ایک ’خوش نما‘ نام ہے اور ہاتھ کی صفائی کی جادوگری ہے۔ قانون کو ہوشیاری سے توڑا جائے یا قانون کو بھونڈے طریقے سے توڑا جائے، اخلاقی طور پر دونوں قبیح فعل ہیں اور اپنی روح کے اعتبار سے جرائم ہیں۔ اس لیے قانون کے باب میں کہا جاتا ہے کہ اس کی پاس داری لفظی اور  معنوی اعتبار سے (in letter and spirit) کی جانی چاہیے۔

    دین اسلام پر مبنی قوانین کا یہ امتیاز ہے کہ وہ اَخلاق اور ایک حتمی اور بالاتر اتھارٹی کے حکم پر مبنی ہونے کی وجہ سے ایمان کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کی اطاعت محض قانون کی خانہ پُری کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ حق و انصاف کے قیام اور اللہ کی اطاعت، اور اس کی رضا کے حصول کے جذبے سے ہوتی ہے۔ یہی وہ صورت ہے جس میں قانون اپنی تمام برکات اور اپنے تمام ثمرات سے فرد اور معاشرے کو فیض یاب کرسکتا ہے۔ اللہ اور خلق، دونوں کے سامنے بیک وقت جواب دہی اور اس جذبے کے ساتھ قانون، اس کے الفاظ اور روح کے ساتھ پاس داری میں معاشرے کی مضبوطی اور خوش حالی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو اپنی وسعت اور ہمہ گیریت سے الٰہی اصول، اور قانون فراہم کرتی ہے۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جو اسلامی قانون اور شریعت کو انسانوں کے درمیان عدل و انصاف کا حقیقی ضامن بناتی ہیں۔ جب ’مذہبی خاندان‘ ہونے کے دعوے دار ’فرار‘ (evasion) اور ’اجتناب‘ (avoidance) کی بات کرتے ہوں تو اس پر تعجب نہ ہو تو اور کیا ہو۔ 

     ایسے لوگ بھی ہیں جو ۱۰ماہ کے بعد اپنی دولت، اپنی بیوی یا کسی رشتے دار کو ہبہ کردیتے ہیں اور اگلے ۱۰ماہ کے بعد وہ رشتہ دار اوّلین مالک کو ہبہ کر دیتا ہے اور اس طرح دونوں زکوٰۃ سے بچ جاتے ہیں۔ یہ ہے وہ اجتناب کی حیلہ بازی (avoidance) جس کا کریڈٹ لیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت وہی ہے جس کی طرف مولانا معین الدین خٹک نے متوجہ فرمایا، یعنی:

    یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ o فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَزادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا (البقرہ ۲:۹۔۱۰)

     وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکابازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انھیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے ،جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا۔

    ٹیکس بچانے کی کمین گاہوں اور آف شور کمپنیوں کا پورا نظام: ریاست، قانون کے نظام، معاشرے، انسانیت بلکہ خو د اپنے آپ کو دھوکا دینے کی ایک منظم ( بظاہر قانون کی چھتری کے تحت) کوشش سمجھا اور بیان کیا جاتا ہے، جو دراصل سرمایہ دارانہ نظام کی چال بازی کے سوا کچھ نہیں۔

     گذشتہ ۱۰۰سال کے تجربے کے بعد اب اس کے نظامِ ظلم و استحصال ہونے کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ عوامی ردعمل کے نتیجے میں اسے ختم کیا جائے گا یا پھر کم از کم اس پہلے مرحلے میں اس کی حشرسامانی کو بڑی حد تک محدود کیا جائے گا۔

    ۲۰ویں صدی کے آغاز میں انکم ٹیکس اور کاروباری ٹیکس کا آغاز ہوا، اور اس کے بعد ہی سے بنکاری نظام میں رازداری کے نام پر ٹیکس چوری کی کمین گاہوں کا قیام، نمایشی اور ذیلی کمپنیوں کا وجود، اور ان کے ذریعے نفعے کو لاگت کا لبادہ اُوڑھا کر کالے دھن کے کاروبار کو آسمان پر پہنچا دیا گیا۔ ابتدا میں پٹرول اور گیس کی کمپنیوں اور ٹرانسپورٹ اور بحری جہازرانی کے شعبے، اس میدان میں بہت آگے تھے، پھر پوری ہی کاروباری دنیا نے اس نظام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ۔ اب یہ اندازہ ہے کہ دنیا کی تجارت کا تقریباً ۴۰فی صد اس کالے دھندے کے سہارے انجام پذیر ہو رہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: Panama and The Criminalization of the Global Finance System از Sharmini Peries and Michael Hudson ، کاؤنٹرپنچ، ۱۸؍اپریل ۲۰۱۶ء)۔

     اس طرح ۳۲ٹریلین ڈالر سے زیادہ رقم صرف ان ۳۰ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں ہے۔ جہاں تک ترقی پذیر ممالک کا تعلق ہے، ان کی دولت کا بھی بڑا حصہ انھی پناہ گاہوں کی زینت ہے۔ 

    ورلڈبنک کے ایک اندازے کے مطابق ۲۰۰۷ء سے ۲۰۱۳ء تک ۸ء۷ٹریلین ڈالر غریب ممالک سے ان مالیاتی کمین گاہوں میں منتقل ہوئے ہیں، جو تین یورپی ممالک جرمنی، فرانس اور اٹلی کی مجموعی قومی آمدنی سے زیادہ ہے۔ اس وقت ان مراکز میں سالانہ ایک ٹریلین ڈالر منتقل ہورہے ہیں اور اس میں سالانہ اضافے کا اندازہ ۵ء۶ہے، جو عالمی سطح پر معاشی ترقی کی رفتار میں اضافے سے دو گنا ہے۔ اس طرح منتقل ہونے والے سرمایے کی وجہ سے صرف ٹیکس کی مد میں جو نقصان ترقی پذیر ممالک کو ہو رہا ہے، وہ سالانہ ۱۰۰؍ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اگر صرف یہ رقم ترقی پذیر ممالک کے پاس ہو اور کُل سرمایہ انھی میں دوبارہ گردش میں آجائے ہو تو ۱۰سال میں ان تمام ممالک سے غربت اور جہالت کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور صحت و صفائی اور مناسب سماجی زندگی میں بھی نمایاں ترقی ہوسکتی ہے۔ ایک طرف ان ممالک کی دولت امیر ملکوں کی طرف منتقل ہورہی ہے اور دوسری طرف غریب ممالک، امیرممالک کے قرضے کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں اور مالیاتی اور معاشی غلامی کے نئے شکنجوں میں گرفتار ہورہے ہیں۔بدقسمتی سے غلامی کے اس نئے دور کو مسلط کرنے میں ان کے اپنے سیاسی قائدین اور کاروباری طبقوں کا بڑا ہاتھ ہے۔

    عالمی ردعمل
    ’پاناما لیکس‘ کے نتیجے میں جتنے ممالک کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، اور کمیت اور کیفیت ہر دو کے سلسلے میں جو وسعت اور گہرائی پائی جاتی ہے اس کے ایک طرف یورپ اور امریکا کی قیادتیں ہیں، جن کے ساتھ مشرقی ممالک کی قیادت کو بھی مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے، تو دوسری طرف عوامی سطح پر اس نے عام لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ استعجاب اور غصے کے بعد اب جو ردعمل ظہور پذیر ہوا ہے، وہ غلامی اور استحصال کے اس نظام کے خلاف بغاوت اور اس سے نجات کی جدوجہد کا ہے۔ اگر اس پہلوسے جان دار ردعمل رُونما ہوسکے تو اس شر سے بہت خیر کے رُونما ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت کیا احساسات کروٹ لے رہے ہیں، اس کا تھوڑا سا اندازہ مندرجہ ذیل آرا سے کیا جاسکتا ہے، جو اس وقت کے عوامی ردعمل اور ہوا کے رُخ کی نشان دہی کر رہے ہیں۔
    انٹرنیشنل نیویارک ٹائمز A Global Web of Corruption کے زیرعنوان ادارتی مقالے (۷؍اپریل ۲۰۱۶ء) میں بیان کرتا ہے:

    سامنے آنے والی ان دستاویزات پر جنھیں ’پاناما دستاویزات‘ کا نام دیا گیا ہے، پہلا ردعمل حیرت زدگی کا ہے، اس دستاویزی ذخیرے کے پھیلاؤ اور حجم پر اور اس گم نام ذریعے کی غیرمعمولی ہنرمندی پر، جس نے ایک کروڑ ۱۵لاکھ دستاویزات یعنی ۶ء۲ٹیرابائٹس کے غیرمعمولی انکشافات پریس کے سامنے لائے، کس طرح آف شور بنک اکاؤنٹ اور ٹیکس پناہ گاہیں دنیا کے امیر اور طاقت ور افراد اپنی دولت چھپانے یا ٹیکس بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    اس کے بعد دوسرا ردعمل نفرت اور کراہت کا ہے۔ پوری دنیا میں ۱۴ہزار سے زیادہ گاہک اور ۲لاکھ ۱۴ہزار ۵سو سے زیادہ آف شور عناصر نے پاناما کی Mossack Fonseca کمپنی،کو جس کی خفیہ دستاویزات ظاہر ہوئی تھیں، شریکِ جرم کیا۔ یہ معصومیت سے اصرار کرتی ہے کہ اس نے کسی قانون یا اخلاقیات کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ 


    لیکن یہ تمام سوالات تشنہ رہ جاتے ہیں: کس طرح یہ سب سیاست دان ، آمر، مجرم، ارب پتی اور مشہور شخصیات بہت زیادہ دولت جمع کرتے ہیں اور پھر کس طرح ان شیل کمپنیوں کے پیچیدہ جال سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، تاکہ اپنی دولت کو چھپائیں؟

    پھر سب سے بڑا اور مرکزی سوال یہ بھی ہے کہ کیا انکشافات کے بعد کوئی چیز تبدیل بھی ہوگی؟

     بہت سی رسمی تردیدیں بھی کی گئی ہیں اور سرکاری تحقیقات کے وعدے بھی کیے گئے ہیں، لیکن قانون اور عوام کے سامنے شرمندگی کو اس عالمی اعلیٰ طبقے پر کس حد تک برتری حاصل ہوگی؟ وہ عوام جو حکومتی سطح پر مالیات میں کرپشن کے باربار انکشافات سے پہلے ہی گھبرائے ہوئے ہیں، وہ حقیقت جاننے کا مطالبہ کریں گے۔

    ان دستاویزات میں ایک ایسی عالمی صنعت کو تاریخی طور پر ترتیب وار جمع کیا گیا ہے، جس نے ایک بین الاقوامی اشرافیہ کو کرپٹ اور غیرقانونی ذرائع سے مالامال کیا ہے، تاکہ اپنی دولت اور اس کاروبار کو ٹیکسوں، مقدمات اور عوامی غیظ و غضب سے چھپائیں۔ یہ دستاویزات اس مشکوک دولت کا انکشاف کرتی ہیں جسے سرکاری ملازمین نے چھپایا ہے۔

    سب سے بڑھ کر یہ کہ پاناما دستاویزات ایک ایسی صنعت کا انکشاف کرتی ہیں جو بین الاقوامی مالیات کی دراڑوں اور خفیہ راستوں میں پھلتی پھولتی ہے۔ اس نظام کا ایک نتیجہ ٹیکس آمدنی کا وہ حصہ ہے جو وصول نہ ہوسکا۔ اس سے زیادہ خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ یہ جمہوری حکومت اور علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچاتی ہے کیوں کہ بدعنوان سیاست دانوں کے پاس، ایک ایسی جگہ ہوتی ہے، جہاں وہ چوری کیے ہوئے اثاثوں کو عوام کی نظروں سے بچاکر خفیہ جگہ پر رکھتے ہیں۔

    لندن کے اخبار دی آبزرور (The Observer، ۱۰؍اپریل ۲۰۱۶ء) نے ادارتی نوٹ میں برطانیہ اور اس کے وزیراعظم کے حوالے سے بات کہی ہے، لیکن اس کا پیغام بھی عالم گیر ہے:

    ’پاناما دستاویزات‘ کے جو حصے سامنے آئے ہیں اور ان میں جو انکشافات کیے گئے ہیں، وہ پوری دنیا کے رہنماؤں، حکومتوں اور تجارتوں کے لیے سنجیدہ مضمرات رکھتے ہیں۔ اب، جیساکہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ یہ مغربی حکومتیں ہیں، جو ایک ایسے عالمی مالیاتی نظام کو برداشت کرتی اور سہولت دیتی ہیں ،جو موقع پرستانہ اور عموماً غیرقانونی، استحصالی، ایک نجی ملکیت میں کام کرنے والا ہو اور جس کا انتظام و انصرام بڑی حد تک خفیہ ہو، جو خودمختارکنٹرول کے بغیر، نیز ایک منظور شدہ قواعد کی کتاب اور مؤثر قواعد و ضوابط کے بغیر کام کرتا ہو۔اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک ایسی بااختیار تنظیم ہے، جس کی نگرانی اقوامِ متحدہ کرتی ہو۔ 

    پروفیسر مِل گورٹوو جو پورٹ لینڈ اسٹیٹ یونی ورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ہیں، اپنے ایک مضمون مطبوعہ کاؤنٹر پنچ (Counterpunch، ۱۸؍اپریل ۲۰۱۶ء) میں لکھتے ہیں:

    کثیر قومی کارپوریشنوں کے کاروباری انتظام کے بہت سے طریقے ہیں۔ ان میں سے ایک منافعے کو زیادہ سے زیادہ کرنے اور ریاست کی خودمختاری کو غیرمستحکم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کم ٹیکس والے ممالک کو منتقل ہوجائیں۔ بہت زیادہ دولت مند افراد کے ٹیکس سے فرار کے نتیجے میں غریبوں پر ٹیکس زیادہ ہو جاتا ہے۔
    ایک یورپی مفکر، جس نے یورپ اور امریکا میں تدریس اور تحقیق کے طویل عرصے تک فرائض انجام دیے ہیں، اس نے اس پورے مسئلے پر الجزیرہ ٹیلی وژن (۶؍اپریل ۲۰۱۶ء) پر اپنی ایک تقریر Panama Papers: Why should we care? کے دوران بڑی پتے کی بات کہی ہے:

    ایک ایسی دنیا میں جس میں عدم مساوات انتہا کو چھوتی ہو اور سماجی مسائل بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے ہوں، جیساکہ ہماری دنیا ہے، ٹیکس پناہ گاہوں کے وجود سے ٹیکس سے بچنے کے معاشی، سماجی اور سیاسی طریقے بے پناہ ہیں۔ ایسے میں وہ معاشرے جو ٹیکسوں کے بغیر ضروری معیار پر کام کے لیے کوشش کر رہے ہوں گے، ناگزیر سماجی سہولیات کی فراہمی میں ناکام رہیں گے۔ 
    لیکن جب مزدور اور اوسط درجے کے تاجر پوری شرح پر ٹیکس ادا کر رہے ہوں، جب کہ عالمی معیشت کی ساتھ ساتھ بڑھوتری اور آف شور پناہ گاہوں کے پھیلنے کی وجہ سے عالمی کارپوریشنوں اور غیرمعمولی دولت مند برسہا بر س سے کم سے کم ٹیکس ادا کر رہے ہوں___ تو پھر عالمی سرمایہ داری، ٹیکسوں کی ناانصافی اور جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کو خوش آمدید کہیے!

    آخری بات یہ ہے کہ ’پانامادستاویزات‘ نے جس چیز کا انکشاف کیا ہے، وہ یہ ہے کہ صرف عالمی ٹیکس کا نظام نہیں بلکہ بذاتِ خود عالمی طرزِحکمرانی ٹوٹ گیا ہے۔ اب آخری چیلنج یہ ہے کہ عالمی سرمایہ داری نظام کو بذاتِ خود تبدیل کیا جائے۔(الجزیرہ، ٹیلی ویژن نیٹ ورک، ۶؍اپریل ۲۰۱۶ء)

    اخلاقی اور نظریاتی پہلو

    ’پاناما دستاویزات‘ پر جو ردعمل پاکستان میں سامنے آیا ہے اور جن اُمور پر بحث ہورہی ہے، ان پر بھی ہم کلام کریں گے، لیکن جو دو پہلو بدقسمتی سے اس بحث و مباحثے میں تقریباً مفقود ہیں، وہ اخلاقی، نظریاتی اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی تباہ کاریوں کا حوالہ ہے، اور جس میں فتنے کی اصل جڑیں ہیں۔ 

    دولت کا ایک وہ تصور ہے جو حرام اور حلال اور انصاف اور ظلم اور دولت کی پیدایش، وسائل کی ترقی اور انسانی معاشرے کی خوش حالی اور تہذیب و ثقافت کی آبیاری سے متعلق ہے۔ یہ زیربحث ہی نہیں آرہا۔ بلاشبہہ افراد کی کرپشن اہم ہے اور اس کے نتائج ملک و معاشرے کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس پر مؤثر گرفت بھی ہونی چاہیے کہ یہ انصاف کا تقاضا ہے اور ترقی اور خوش حالی کے لیے ضروری شرط ہے۔ لیکن کالے دھن کے اس کاروبار میں اَخلاق ، قانون، معاشرے، سرمایے اور دولت کے رشتے کو جس طرح نظرانداز کیا جارہا ہے، وہ بحث کو یک رُخا بنادیتا ہے۔ اس لیے ہم نے ضروری سمجھا کہ پاکستان کو درپیش مسئلے کو، اس کے تاریخی اور عالمی معاشی نظام کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کی روشنی میں مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بھی کوشش کریں۔ 
    ہماری نگاہ میں اس کے تین پہلوؤں کو (جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں) سمجھنا، ان کے اسباب کا تعین اور حالات کی اصلاح کے لیے ملکی اور عالمی سطح پر تبدیلی کا نقشۂ کار مرتب کرنا اصل ضرورت ہے۔
    کالے دھن کی لعنت، دولت کے بارے میں غلط تصور، صرف مادی ترقی اور ذاتی اور خاندانی ثروت کی تگ و دو، حرام و حلال اور جائز و ناجائز سے بے پروا ہوکر دولت کی افزایش کا لالچ اور طمع، حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں سے اغماض اور صرف ذاتی غرض اور طمع کا اسیر بن جانا سارے بگاڑ کی بنیاد ہے اور کالا دھن اسی ذہن اور اسی روش کی پیداوار ہے۔ 
    جو دین اسلام یہ حکم دیتا ہو کہ: ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ، دولت پیدا کرو، مگر اس لیے کہ اللہ کی راہ میں انفاق کرو، دعوت اور جہاد کی ضرورتوں کو پورا کرو، معاشرے اور ریاست کی خدمت کرو، ضرورت مندوں اور مجبوروں کو اُوپر اُٹھانے کے لیے وسائل کو بلاتامّل استعمال کرو۔ پھر جو دین یہ بھی دل و دماغ میں محکم کرتا ہو کہ: جواب دہی صرف ظاہری طور پر قانون اور معاشرے کے سامنے نہیں، سب سے بڑھ کر اللہ کے سامنے ہے اور ہم میں سے ہر فرد کو پائی پائی کا حساب دینا ہوگا کہ کہاں سے اور کیسے کمایا تھا اور کہاں اور کیسے خرچ کیا تھا؟ تو پھر پوری معاشی زندگی کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ 
    اگر ہمارے دعوے ’مذہبی پس منظر کے حامل خاندان‘ کے سے ہیں اور ہمارا ذہن اور رویہ خالص مادہ پرستانہ اور سرمایہ دارانہ فکرو اَخلاق ہی پر استوار ہے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ دین پرستی اور مادہ پرستی دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس لیے ہم نے ضروری سمجھا کہ مسئلے کو اس کے اصل تناظر میں سمجھنے کے لیے اس اخلاقی اور نظریاتی پہلو کو بالکل شروع ہی میں واضح کردیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کالے دھن، ٹیکس چوری، کرپشن سے حاصل کردہ دولت، ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں چھپنے کا کھیل___ اسے مغربی تہذیب اور سرمایہ دارانہ نظام کے اس پس منظر میں قارئین کے سامنے رکھیں، جس میں یہ سارا کھیل کھیلا جارہا ہے اور اس میں اپنے اور غیرسب برابر کے شریک ہیں۔ جن ۱۲سربراہانِ مملکت کا نام لے کر ان کے یا ان کی اولاد کے یا قریبی عزیزوں کے ملوث ہونے کا ذکر ان دستاویزات میں آیا ہے ، ان میں سے چھے، یعنی ۵۰فی صد مسلمان ہیں، فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ۔
    کرپشن کے خلاف مغربی قیادتیں اظہارِبیان کا لمباچوڑا ریکارڈ رکھتی ہیں۔ لیکن ان کا قانون، ان کی پالیسیاں، ان کے بنائے ہوئے انتظامات ہی وہ فضا اور میدان فراہم کر رہے ہیں، جس میں یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ جو یورپ کا مالیاتی دارالحکومت ہے اور ہانگ کانگ جو ایشیا کا سوئٹزرلینڈ ہے، اس کے بعد امریکا اس وقت ٹیکس چوری کی پناہ گاہوں میں نمایاں ترین مقام رکھتا ہے۔ خصوصیت سے اس کی چھے ریاستیں جو ’فرارِ ٹیکس‘ کی پناہ گاہوں کا درجہ رکھتی ہیں، اس سارے کھیل کی آماج گاہ ہیں۔ برطانیہ کے جزائر تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ ٹیکس چوروں کی پناہ گاہیں بنے ہوئے ہیں اور ان سب کو ایک طرح کا قانونی تحفظ حاصل ہے۔
    گذشتہ ۱۰۰سال سے یورپ کے بیش تر ممالک میں ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری اور تجارت دونوں کے سلسلے میں رشوت دے کر کاروبار حاصل کرنا، ایک جائز اور قانونی فعل تھا، اور اسے باقاعدہ حسابات میں ضروری اخراجات کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ یہ تبدیلی صرف گذشتہ ۱۵،۲۰سال میں آئی ہے کہ اس کھلی کھلی مالی بدعنوانی کے لیے قانونی جواز کو ختم کیا گیا ہے۔ اگرچہ عملاً یہ کھیل اب بھی جاری ہے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق چند یورپی ممالک میں اب بھی کاروبار کے فروغ کے لیے اور خصوصیت سے اسلحے کی فروخت اور میگاپراجیکٹس کے سلسلے میں، اپنے ملک سے باہر رشوت اور کمیشن کی جادوگری کوئی قانونی جرم نہیں ہے۔
    آج کے دور میں کالے دھن کی ریل پیل کو سمجھنے کے لیے یہ پس منظر جاننا ضروری ہے اور اس کا جو تزویری تعلق نظام سرمایہ داری، اس کی بنیادی اقدار اور نظامِ کار سے ہے، اس کو سمجھنا ، ازحد ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اگر ملک میں آپ سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دیں گے تو ان تمام بُرائیوں اور تباہ کاریوں سے بھی بچ نہیں سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نگاہ میں موضوعِ زیربحث کے تین پہلو ہیں، یعنی:
    ۱۔ کالا دھن، ان کی کمیت، کیفیت، تباہ کاریاں۔ ان کا ادراک اور لعنت سے نجات کی کوشش۔
    ۲۔ وہ نظام ظلم اور استحصال جو اس لعنت کو پیدا کرتا، پروان چڑھاتا اور معتبر بناتا ہے، بلکہ مذہبی پس منظر کے دعوے دار بھی کھلے بندوں اس سے فیض پانے کا اعلان کرتے ہیں۔’فرارِٹیکس‘ (Tax evasion) خلافِ قانون ہوسکتا ہے، لیکن ’اجتنابِ ٹیکس‘ (Tax avoidence) تو ہمارا حق ہے اور اس کے لیے جہاں بھی جانا پڑے، ہمارا پیدایشی حق ہے۔
    ۳۔ تیسرا پہلو حالات کی اصلاح کا ہے اور پھر اس کے بھی دو پہلو ہیں: یعنی احتساب اور غلط کام پر اصولِ انصاف اور قانون کے مطابق مضبوط اور مؤثر گرفت اور نظام، اور اس سے بھی بڑھ کر اس ذہن وفکر اور طرزِزندگی کی اصلاح، تاکہ ظلم اور استحصال کے نظام سے بچاجاسکے۔
    مجھے افسوس ہے کہ اپنی صحت کی خرابی کے باعث اس اہم موضوع سے متعلق قرارواقعی معلومات پیش نہیں کرسکا اور اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو آیندہ اپنی گزارشات پیش کروں گا۔ اس وقت صرف چند ضروری نکات کی نشان دہی کرتا ہوں، اور ملک کی قیادت اور خصوصیت سے اسلامی قوتوں کو ان پر غور کرنے اور ان کی روشنی میں اپنی پالیسی اور حکمت عملی طے کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔(جاری)

    اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ ظالموں کی گرفت اور پکڑ کے لیے اس کا اپنا نظام ہے۔ ڈھیل دینے کی مصلحتیں بھی اسی کی تدبیر کا حصہ ہیں، خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے بھی اس کا اپنا طریقہ ہے اور اربابِ اقتدار کو اچانک گرفت میں لینا بھی اسی کا حصہ ہے۔
    تاریخ شاہد ہے کہ انسانی زندگی خیروشر کی کش مکش سے عبارت ہے۔ کبھی کسی کے دن بڑے اور کبھی کسی کی راتیں بڑی ہوتی ہیں___ لیکن جلد یا بدیر وہ وقت بھی آتا ہے جب اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال کی سی کیفیت برپا ہوجاتی ہے، بڑی بڑی مضبوط کرسیاں ہلنے لگتی ہیں، ظلم و استحصال کے منبع کی حیثیت سے جو قلعے بڑے اہتمام سے تعمیر کیے گئے ہوتے ہیں اور جن کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا بڑے بڑوں کو زعم ہوتا ہے، ان میں شگاف پڑنے لگتے ہیں اور شکست و ریخت اور بگاڑ اور بناؤ کے نئے سلسلے شروع ہوجاتے ہیں۔

    یہ اللہ کی سنت ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے:

     وَ یَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُ اللّٰہُ ط وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَo (انفال ۸:۳۰)


    ’’وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے‘‘۔


    زمانے کے نشیب و فراز کا یہ الٰہی قانون ہے اور بالآخر اس کے ذریعے دُور رس تبدیلیاں رُونما ہوتی ہیں، بڑے بڑے تخت اُلٹ جاتے ہیں، برج گر جاتے ہیں، جو بالا ہوتے ہیں وہ زیر ہوجاتے ہیں اور جو کمزور ہوتے ہیں وہ طاقت وروں پر غالب آجاتے ہیں:


     وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ج (اٰلِ عمرٰن ۳:۱۴۰)


     ’’یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں‘‘۔

    آج پاکستان میں ملکی سطح پر نگاہ ڈالیں یا عالمی سطح پر نظر دوڑائیں تو ہرطرف تبدیلی کی لہریں موج زن نظر آرہی ہیں۔ صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ پرانا نظام دم توڑ رہا ہے اور زمانہ نئے نظام کو دعوت دے رہا ہے۔ لیکن یہ بھی اللہ کا قانون ہے کہ بہتر تبدیلی اس وقت آتی ہے، جب افراد اور اقوام ایسے تاریخی لمحات کے موقعے پر خاموش تماشائی نہیں بنتے، بلکہ حق و انصاف کے حصول اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے صحیح خطوط پر مؤثر اور قرار واقعی جدوجہد کرتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، اور بدی کو نیکی، خیر اور حسن سے بدلنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادیتے ہیں۔ 
    اس وقت پاکستان، عالمِ اسلام اور پوری دنیا ممکنہ تبدیلی کے ایک ایسے ہی تاریخی لمحے کے موڑ پر کھڑی ہے۔ کیا ہم تاریخ کی پکار پر لبیک کہنے کو تیار ہیں؟


    امپورٹنٹ لنکس -Important  Links: 

    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
    مزید پڑھیں:
    1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
    2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
    Humanity, ReligionCultureSciencePeace
     A Project of 
    Overall 2 Million visits/hits