Featured post

Counter Sectarianism Narrative انسداد فرقہ واریت

انسداد فرقہ واریت مختصر تاریخ اورعملی اقدامات وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ ’’اور تم سب...

Aitekaf اعتکاف اور لیلة القدر




اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔ شریعت اسلامی کی اصطلاح میں اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں۔

Iʿtikāf (Arabic: اعتكاف‎‎, also i'tikaaf or e'tikaaf) is an Islamic practice consisting of a period of staying in a mosque for a certain number of days, devoting oneself to ibadah during these days and staying away from worldly affairs. The literal meaning of the word suggests sticking and adhering to, or being regular in, something, this 'something' often including performing nafl prayers, reciting the Qur'an, and reading hadith. Keep reading >>>

"اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرہ گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے۔"  (  ترجمہ ،سورہ بقرہ،آیت 125)

’’ حضرت محمد ﷺ کی زوجہ  حضرت عائشہ(رضی اللہ) سے روایت ہے کہ حضرت محمد ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا۔ پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات (بیویاں) اعتکاف کرتی رہیں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف في العشر الأواخر والاعتکاف في المساجد، جلد2 صفحہ713، حدیث نمبر 1922،
 مسلم في الصحيح، کتاب الاعتکاف، باب اعتکاف العشر الأواخر من رمضان،جلد 2 صفحہ831، حدیث نمبر 1172
وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب الاعتکاف،جلد 2 صفحہ331، حدیث نمبر2462
الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في الاعتکاف، وقال : حديث حسن صحيح، جلد 3 صفحہ157، حدیث نمبر 790
اللہ تعالٰیٰ کی قربت و رضا کے حصول کے لئے گزشتہ امتوں نے ایسی ریاضتیں لازم کر لی تھیں، جو اللہ نے ان پر فرض نہیں کی تھیں۔ قرآن حکیم نے ان عبادت گزار گروہوں کو ’’رہبان اور احبار‘‘ سے موسوم کیا ہے۔ رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقرب الی اللہ کے لئے رہبانیت کو ترک کر کے اپنی امت کے لئے اعلیٰ ترین اور آسان ترین طریقہ عطا فرمایا، جو ظاہری خلوت کی بجائے باطنی خلوت کے تصور پر مبنی ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لئے دنیا کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کی محبت کو دل سے نکال دینا اصل کمال ہے۔

اعتکاف کی بنیادی طور پر تین قسمیں ہیں ۔ نفل ‘سنت اور واجب -اعتکاف نفل کیلئے وقت کی قید نہیں‘صرف اعتکاف کی نیت ہونی چاہئے ‘تھوڑی دیر کیلئے بھی اعتکاف کی نیت سے مسجد میں قیام کرلے ‘نفل اعتکاف ہوجائے گا-
دوسری صورت واجب اعتکاف کی ہے ‘اعتکاف کے واجب ہونے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ اعتکاف کی نذر مانا ہو ‘دوسرے یہ کہ ایک دن یا اس سے زیادہ نفل اعتکاف کی نیت سے نفل اعتکاف شروع کیا لیکن مدت پوری ہونے سے پہلے اسے توڑ دیا ‘تو اب جتنی مدت کی اس نے نیت کی تھی شروع کرنے کے بعد توڑ دینے کی وجہ سے اتنے دنوں کا اعتکاف واجب ہوگیا ۔ اعتکاف واجب کیلئے روزہ ضروری ہے اس لئے کہ اعتکاف روزہ کے ساتھ ہے ۔ 
تیسری صورت جواعتکاف کی اصل صورت ہے وہ اعتکاف سنت ہے ‘اعتکاف سنت رمضان المبارک کے آخری عشرہ اعتکاف ہے یہ سنت علی الکفایہ ہے یعنی اگر شہر کے کچھ لوگوں نے اعتکاف کرلیا تو ثواب تو اعتکاف کرنے والے کو ہوگا لیکن ترک اعتکاف کے گناہ سے سبھی لوگ بچ جائیں گے اور اگر بستی کے کسی بھی شخص نے اعتکاف نہیں کیا تو بستی کے تمام لوگ گناہ گار ہوں گے ۔ اگر ایک شہر میں کئی مسجدیں ہوں تو بہتر تو یہی ہے کہ کوئی بھی مسجد اعتکاف کرنے والوں سے خالی نہ ہو لیکن اگر ایک مسجد میں بھی اعتکاف کرلیا جائے تو تمام اہل شہر ترک سنت کے گناہ سے بچ جائیں گے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مدینہ میں متعدد مسجدیں تھیں لیکن صرف مسجد نبوی ﷺ ہی میں اعتکاف کا ذکر ملتا ہے ۔ واللہ اعلم
خواتین گھر میں اعتکاف کا اہتمام کر سکتی ہیں جبکہ مردوں کو مسجد میں-
اعتکاف مسنون کا طریقہ یہ ہے کہ 20رمضان المبارک کو غروب آفتاب سے پہلے مسجد میں داخل ہوجائے کیوں کہ غروب آفتاب ہی سے اکیسویں تاریخ شروع ہوجاتی ہے اور اعتکاف کا ایک مقصد شب قدر کو پانا ہے اور اکیسویں شب کو شب قدر کا احتمال موجود ہے- اعتکاف کے درست ہونے سے متعلق کچھ شرطیں اعتکاف کرنے والے سے متعلق ہیں اور کچھ جگہ سے جہاں اعتکاف کیا جائے ‘اعتکاف کرنے و الے سے متعلق شرط ہے کہ وہ مسلمان ہو ‘بالغ ہو ‘فاتر العقل نہ ہو ‘ جنابت ‘حیض اور نفاس سے پاک ہو ‘نیز اعتکاف کی نیت کی جائے ۔
اگر آپ دس دن کا اعتکاف نہیں کر سکتے تو رمضان کے آخری عشرہ میں جب بھی مسجد میں داخل ہوں تو مسجد میں قیام کے دورانیہ کے لیے اعتکاف کی نیت کر لیں-  
مسائل اعتکاف >>> http://www.thefatwa.com/urdu/catID/211/
........................................


لیلة کے معنی رات کے ہیں اور قدر کے معنی ہیں عظمت و شرف ‘ تو اس رات کو شرف حاصل ہوا ہے کیونکہ اس میں نزول قرآن مجید ہوا ہے‘ قرآن مجید سب کتابوں مےں عظمت و شرف والی کتاب ہے اور جس نبی کریم پر یہ کتاب نازل ہوئی وہ تمام انبیاءپر عظمت و شرف رکھتے ہےں‘ اس کتاب کو لانے والے جبرائیل امینؑ بھی سب فرشتوں پر عظمت و شرف رکھتے ہےں تو یہ رات لیلة القدر بن گئی ۔
حضرت ابو بکر وراق ؒ کا فرمان ہے اس رات کو لیلة القدر اس وجہ سے کہتے ہیں جس آدمی کی اس سے قبل اپنی بے عملی کی وجہ سے قدر و منزلت نہ تھی تو اس کو توبہ استغفار اور عبادت کے ذریعہ صاحب قدر و شرف بنا دیا جاتا ہے۔
قدر کا دوسرا معنی :
قدر کے معنی تقدیر و حکم کے بھی آتے ہےں اس اعتبار سے لیلة القدر کہنے کی وجہ یہ ہوگی کہ اس رات تمام مخلوقات کیلئے جو تقدیر ازلی مےں لکھا ہے اس کا جو حصہ اس سال رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنے والا ہے وہ ان فرشتوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو کائنات کی تدبیر اور تنفیذ امور کیلئے مامور ہیں اس میں ہر انسان کی عمر اور موت اور رزق وغیرہ فرشتوں کو لکھوا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس سال مےں جس شخص کو حج نصیب ہو گا وہ بھی لکھ دیا جاتا ہے اور جن فرشتوں کو یہ امور سپرد کر دیئے جاتے ہےں بقول حضرت ابن عباسؓ چار ہیں (1) حضرت جبرائیلؑ (2 ) حضرت میکائیلؑ (3) حضرت عزرائیلؑ (4) حضرت اسرافیلؑ (معارف القرآن بحولہ قرطبی جلد 8 صفحہ 792)

بعض روایات سے ثابت ہو تا کہ یہ سب فیصلے لیلة النصف من شعبان یعنی شبِ برا¿ت مےں کئے جاتے ہیں۔ 
ان دونوں روایتوں میں تطبیق دی جاتی ہے کہ ابتدائی فیصلے اجمالی طور پر شب برات میں ہو جاتے ہیں پھر اس کی تفصیلات لیلة القدر میں لکھی جاتی ہےں اور مقررہ فرشتوں کے سپر د کئے جاتے ہیں (معارف القرآن جلد 8 صفحہ 792)
قدر کا تیسرا معنی
قدر کا تیسرا معنی ٰ تنگ ہوجانا بمقابلہ فراخی ہونا ہے جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: (ترجمہ) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کا چاہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور جس کا چاہے رزق تنگ کر دیتا ہے۔
تو اس معنی کی بنا پر لیلة القدر مےں آسمان سے اتنے فرشتے اترتے ہیں کہ زمین پر جگہ تنگ ہو جاتی ہے کہ ایک پاو¿ں رکھنے کی جگہ بھی نہیں ملتی ،فرشتے بھی نازل ہوتے ہیں اور روح الامین بھی تشریف لاتے ہیں ۔نیز احادیث مےں بھی اس رات کی فضیلت کو واضح کیا گیا ہے ۔
حدیث1
حضرت انس ؓ سے روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا جب شب ِقدر ہوتی ہے تو جبرائیلؑ ملائکہ کی جماعت مےں اترتے ہیں اور ہر اس شخص کیلئے دعا رحمت اور سلامتی کر تے ہےں جو عبادت مےںمصروف ہوتا ہے۔ (بیہقی شریف صفحہ 21 )   
حدیث 2
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے آقا دوعالم نے فرمایا جس شخص نے شب قدر مےں عبادت کی ایمان اور طلب اجر کے ساتھ تو اس کے گذشتہ سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں (مسلم شریف 259)
حدیث 3
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس سے محروم رہ گیا گویا ساری بھلائیوں سے محروم رہ گیا ہے (ترغیب جلد 2 صفحہ 94)
حدیث 4
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ نے لیلة القدر کو رمضان المبارک آخری عشرہ کی طاق راتوں مےں تلاش کرو (ترمذی 98)
لیلة القدر ستائیسویں کو شب ترجیح ہے
حضرت اُبی بن کعبؓ نے قسم کھا کر فرمایا کہ شب قدر رمضان کی ستائیسویں رات ہوتی ہے (مسلم جلد 2591 ابو داو¿د صفحہ197) 

اسی طرح حضرت عمرؓ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے پوچھا کہ شب قدر کونسی رات ہے تو انہوں نے عرض کی اے عمرؓ آپ نے دیکھا نہےں کہ اللہ تعالیٰ کو سات کے عدد سے بہت محبت ہے آپ نے دیکھا نہےں کہ آسمان سات ہےں زمینیں سات ہےں اور انسان کی پیدائش کے مرحلے بھی سات ہیں اور زمین سے اگنے والی چیزیں بھی سات ہیں اسی طرح آدمی سجدہ کرتا ہے تو سات اعضاءپر کر تا ہے اسی طرح سعی بین الصفاءوالمروہ کے چکر سات ہیں ‘ طواف کعبہ کے چکر بھی سات ہیں شیطان کو بھی سات سات کنکر مارے جاتے ہےں‘ سورہ فاتحہ کی آیات بھی سات ہیں جن عورتوں سے نکاح حرام ہے وہ سات ہیں تو ان سب باتوں سے معلوم ہوا کہ لیلة القدر بھی ستائیسویں کو ہے ۔

 کہتے ہیں کہ یہ رات چمکدار اور صاف ہوتی ہے نہ زیادہ گرم اور نہ زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے بلکہ بھینی بھینی اور معتدل ہوتی ہے ،آسمانوں کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے سے آنکھوں میں نور اور دل میں سرور کی کیفیت پیدا ہوتی ہے - شب قدر کی بعد والی صبح کو سورج میں تیزی نہے ہوتی- اس رات میں عبادت کی بڑی لذت محسوس ہوتی ہے اور عبادت میں خشوع و خضوع پیدا ہو تا ہے 
لیلة القدر میں ہم نے کیا دعا مانگنی ہے
لیلة القدر میں خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے تین سو دروازے کھلے ہوتے ہےں جو بھی دعا مانگو قبول ہوتی ہے وہ کریم ذات کسی کو بھی خالی نہےں لوٹاتی اس رات خاص کر یہ دعا ضرور مانگنی چاہیے


اللہم انک عفو تحب العفو فاعف عنی ) یا اللہ ! تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے پس تو میری خطائیں معاف کردے۔ 
توبہ و استغفار کرنا چاہیے اور عجزو انکساری سے رو رو کر دعا کرنی ہے
توبہ کی شرائط
(1)  یعنی جس گناہ سے توبہ کرنی ہے اس کو ہمیشہ ہمےشہ ترک کرنے کا ارادہ کرنا ہے (2)  اس گناہ پر ندامت بھی کرنی ہے (3)  یہ پختہ عزم کرنا ہے کہ آئندہ کبھی بھی یہ گناہ نہ کروں گا ‘ اس طرح توبہ کرنے سے آدمی کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اگر توبہ ٹوٹ بھی جائے تو دوبارہ کر لینی چاہیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہےں ہونا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو لیلة القدر کی برکات نصیب فرمائے۔ (آمین) 
Source-  مولانا عبدالقادر آزاد http://www.nawaiwaqt.com.pk/regional/05-Aug-2013


نوٹ: جس  وقت مکّۂ معظمہ میں رات ہوتی ہے اُس وقت دنیا کے ایک بہت بڑے حصّے میں دن ہوتاہے ، اس لیے اُن علاقوں کے لوگ کیسے شبْ قدر کو پا سکتے ہیں ؟ 
عربی زبان میں اکثر رات کا لفظ دن اور رات  کے مجموعے کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس لیے رمضان کی اِن تاریخوں میں سے جو تاریخ بھی دنیا کے کسی حصّہ میں ہو اُس کے دن سے پہلے والی رات وہاں کے لیے شبِ قدر ہو سکتی ہے۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall near 3 Million visits/hits

شہید Shaheed


شہید کا لغوی معنی ہے گواہ ، کِسی کام کا مشاہدہ کرنے والا۔ اور شریعت میں اِسکا مفہوم ہے، اللہ تعالٰی کے دِین کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان قُربان کرنے والا ، میدانِ جِہاد میں لڑتے ہوئے یا جِہاد کی راہ میں گامزن یا دِین کی دعوت و تبلیغ میں، اور جِس موت کو شہادت کی موت قرار دِیا گیا ہے- آخری رسول مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اُمت پر اللہ تعالٰی کی خصوصی رحمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سابقہ اُمتوں کے شہیدوں کی طرح اُمتِ مُحمدیہ الصلاۃُ و السلام میں درجہِ شہادت پر صِرف اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے قتل ہونے والوں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ دوسروں کو بھی اِس درجہ پر فائزفرمایا ہے-
اسلام میں شہید کا مرتبہ بہت بلند ہے اور قرآن کے مطابق شہید مرتے نہیں بلکہ زندہ ہیں اور اللہ ان کو رزق بھی دیتا ہے مگر ہم اس کا شعور نہیں رکھتے-
شہادت کی قِسمیں:
(١) شہیدءِ المعرکہ؛ یعنی اللہ کے لیئے نیک نیتی سے میدانِ جِہاد میں کافروں ، مُشرکوں کے ساتھ لڑتے ہوئے قتل ہونے والا ،
(٢) فی حُکم الشہید، شہادت کی موت کا درجہ پانے والا، یعنی میدان جِہاد کے عِلاوہ ایسی موت پانے والا جسے شہادت کی موت قرار دِیا گیا ۔

حقیقی شہید وہ کہلاتا ہے جس پر شہید کے احکامات لاگو ہوتے ہوں کہ اس کو غسل وکفن نہیں دیا جائیگا اور جنازہ پڑھ کرانہی کپڑوں میں دفن کر دیا جائے جس میں شہید ہوا ہے مثلا اللہ کے راستہ میں شہید ہونے والا، یا کسی کے ہاتھ ناحق قتل ہونے والا بشرطیکہ کہ وہ بغیر علاج معالجہ اور وصیت وغیرہ موقع پر ہی دم توڑجائے۔اور حکمی شہید وہ کہلاتا ہے جس کے بارے میں احادیث میں شہادت کی بشارت وارد ہوئی ہو، ایسا شخص آخرت میں تو شہیدوں کی فہرست میں شمار کیا جائے گا البتہ دنیا میں اس پر عام میتوں والے احکام جاری ہوںگے یعنی اس کو غسل دیا جائیگا اور کفن بھی پہنایا جائیگا۔ متفرق احادیث میں ایسے شہداء کی بہت زیادہ قسمیں مذکور ہیں-

قرآن اوراحادیث کی روشنی میں شہید کی مندرجہ ذیل اقسام سامنے آتی ہیں۔
  1. اللہ کی راہ میں قتل کیا جانے والا ، یعنی شہیدِ معرکہ اور مسلمانوں کے یقینی اجماع کے مطابق یہ افضل ترین شہادت ہے۔
  2. اللہ کی راہ میں مرنے والا ، یعنی جو اللہ کی راہ میں نکلا اور موت واقع ہو گئی مثلاً غازی ، مہاجر ، وغیرہ ، سورت النساء(4)/ آیت 100۔
  3. مطعون ، طاعون کی بیماری سے مرنے والا ۔
  4. پیٹ کی بیماری سے مرنے والا۔
  5. ڈوب کر مرنے والا۔
  6. ملبے میں دب کر مرنے والا ،۔
  7. ذات الجنب سے مرنے والا ،(ذات الجنب وہ بیماری جِس میں عموماً پیٹ کے پُھلاؤ ، اپھراؤ کی وجہ سے ، یا کبھی کسی اور سبب سے پسلیوں کی اندرونی اطراف میں ورم (سوجن)ہو جاتی ہے جو موت کا سبب بنتی ہے )۔
  8.  آگ سے جل کر مرنے والا ۔
  9. حمل کی وجہ سے مرنے والی ایسی عورت جس کے پیٹ میں بچہ بن چکا ہو۔
  10. ولادت کے بعد ولادت کی تکلیف سے مرنے والی عورت۔
  11. پھیپھڑوں کی بیماری (سل) کی وجہ سے مرنے والا ۔
  12.  جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا ۔
  13. جو اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا ۔
  14. جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا۔
  15. جواپنے دِین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا گیا ۔

..................................
مزید وضاحت کے لئے درج ذیل احادیث رسول ﷺ دیکھیں۔

(1)ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:ما تَعُدُّونَ الشَّہِیدَ فِیکُمْ؟ 
تُم لوگ اپنے(مرنے والوں ) میں سے کِسے شہیدسمجھتے ہو ؟
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رَسُولَ اللَّہِ من قُتِلَ فی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ شَہِیدٌ۔
اے اللہ کے رسول جو اللہ کی راہ میں قتل کِیا جاتا ہے (ہم اُسے شہید سمجھتے ہیں )،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:انَّ شُہَدَاء َ اُمَّتِی اذًا لَقَلِیلٌ۔
اگر ایسا ہو تو پھر تو میری اُمت کے شہید بہت کم ہوں گے ۔
صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کِیا:فَمَنْ ہُمْ یا رَسُولَ اللَّہِ؟
اے اللہ کے رسول تو پھر شہید(اور)کون ہیں؟
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:مَن قُتِلَ فی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ مَاتَ فی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ مَاتَ فی الطَّاعُونِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ مَاتَ فی الْبَطْنِ فَہُوَ شَہِیدٌ۔ 
"جو اللہ کی راہ میں قتل کِیا گیا وہ شہید ہے،اورجو اللہ کی راہ میں نکلا (اور کسی معرکہِ جِہاد میں شامل ہوئے بغیر مر گیا ، یا جو اللہ کے دِین کی کِسی بھی خِدمت کے لیے نکلا اور اُس دوران )مر گیا وہ بھی شہید ہے ، اور اور جو طاعون (کی بیماری )سے مر گیا وہ بھی شہید ہے، اورجو پیٹ (کی بیماری )سے مر گیا وہ بھی شہید ہے۔
قال بن مِقْسَمٍ اَشْہَدُ علی اَبِیکَ فی ہذا الحدیث اَنَّہُ قال ۔ عبید اللہ ابن مقسم نے یہ سُن کر سہیل کو جو اپنے والد سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُ کے ذریعے روایت کر رہے تھے ، کہا ، میں اِس حدیث کی روایت میں تمہارے والد کی (اِس بات کی درستگی)پرگواہ ہوں اور اِس حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا: "وَالْغَرِیق ُ شَہِیدٌ " ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے۔

(2)ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:الشُّہَدَاء ُ خَمْسَۃٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِق ُ وَصَاحِبُ الْہَدْمِ وَالشَّہِیدُ فی سَبِیلِ اللَّہِ عز وجل۔
شہید پانچ ہیں(1) مطعون، اور(2)پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، اور(3) ڈوب کر مرنے والا ، اور(4) ملبے میں دب کر مرنے والا، اور(5) اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔(صحیح مُسلم /کتاب الامارۃ)

ایک وضاحت اور شرح 
امام ابن حَجر العسقلانی رحمہ اللہ نے ، فتح الباری / کتاب الطب / با ب مایذکر فی الطاعون ، میں''' المطعون '''کے بہت سے معنی مختلف عُلماء کی شرح کے حوالے سے ذِکر کیے ہیں جِس کا خلاصہ یہ ہے کہ '' المطعون''طاعون کے مریض کو بھی کہا جا سکتا ہے ، کِسی تیز دھار آلے سے زخمی ہونے والے کو بھی اور جِنّات کے حملے سے اندرونی طور پر زخمی ہونے والے کو بھی کہا جا سکتا ہے ، اس لیے ترجمے میں "مطعون "ہی لکھا گیا ہے۔

(3)جابر بن عُتیک رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:الشَّہَادَۃُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فی سَبِیلِ اللَّہِ الْمَطْعُونُ شَہِیدٌ وَالْغَرِق ُ شَہِیدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِیدٌ وَالْمَبْطُونُ شَہِیدٌ وَصَاحِبُ الْحَرِیقِ شَہِیدٌ وَالَّذِی یَمُوتُ تَحْتَ الْہَدْمِ شَہِیدٌ وَالْمَرْاَۃُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شہیدۃٌ۔ 
اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے عِلاوہ سات شہید ہیں (1) مطعون شہید ہے(2) اور ڈوبنے والا شہید ہے(3)ذات الجنب کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے اور (4)اورپیٹ کی بیماری سے مرنے والا ، اور(5) جل کر مرنے والا شہید ہے، اور (6)ملبے کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے ، اور (7)حمل کی حالت میں مرنے والی عورت شہیدہ ہے . (سُنن ابو داؤد حدیث 3111/ کتاب الخراج و الامارۃ و الفي ,مؤطا مالک /کتاب الجنائز /باب 12)
اِمام الالبانی رحمہ اللہ نے کہا حدیث صحیح ہے.

(4) راشد بن حبیش رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عُبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ُ کی عیادت (بیمار پُرسی) کے لیے تشریف لائے تو اِرشاد فرمایا:أَتَعلَمُونَ مَن الشَّھِیدُ مِن اُمتِی ۔
کیا تُم لوگ جانتے ہو کہ میری اُمت کے شہید کون کون ہیں ؟
عُبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا "اے اللہ کے رسول (اللہ کی راہ میں مصیبت پر )صبر کرنے اور اجر و ثواب کا یقین رکھنے والا "
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:انَّ شُہَدَاء َ امتی اذاً لَقَلِیلٌ الْقَتْلُ فی سَبِیلِ اللَّہِ عز وجل شَہَادَۃٌ وَالطَّاعُونُ شَہَادَۃٌ وَالْغَرَقُ شَہَادَۃٌ وَالْبَطْنُ شَہَادَۃٌ وَالنُّفَسَاء ُ یَجُرُّہَا وَلَدُہَا بِسُرَرِہِ إلی الْجَنَّۃِ والحَرق ُ و السِّلُّ ۔
اِس طرح تو میری اُمت کے شہید بہت کم ہوں گے(1)اللہ عز وجل کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے اور(2)طاعون (کی موت ) اورشہادت ہے اور (3) ڈوبنا (یعنی پانی میں ڈوبنے سے موت واقع ہونا ) شہادت ہے اور(4) پیٹ (کی بیماری) شہادت ہے اور (5) ولادت کے بعد نفاس کی حالت میں مرنے والی کو اُسکی وہ اولاد (جِس کی ولادت ہوئی اور اِس ولادت کی وجہ سے وہ مر گئی) اپنی کٹی ہوئی ناف سے جنّت میں کھینچ لے جاتی ہے ، اور(6)جلنا (یعنی جلنے کی وجہ سے موت ہونا)اور(7)سل (یعنی سل کی بیماری کی وجہ سے موت ہونا شہادت ہے۔(مُسند احمد / حدیث راشد بن حبیش رضی اللہ عنہ ُ ، مُسند الطیالیسی، حدیث 586) ، اِمام الالبانی رحمہ اللہ نے کہا حدیث صحیح ہے۔
''سل ''کی بھی مختلف شرح ملتی ہیں ، جنکا حاصل یہ ہے کہ ''' سل''' پھیپھڑوں کی بیماری ہے ۔

(5)عبداللہ ابن عَمرورضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا: مَن قُتِلَ دُونَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیدٌ ۔)صحیح البخاری حدیث 2348 و صحیح مُسلم حدیث 141(
جِسے اُس کے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا وہ شہید ہے۔

(6)سعید بن زید رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:مَن قُتِلَ دُونَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ اَھلِہِ او دُونَ دَمِہِ او دُونَ دِینِہِ فَہُوَ شَہِیدٌ۔
(1) جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا وہ شہید ہے اور(2) جو اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا وہ شہید ہے اور(3) جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا وہ شہید ہے اور(4)اپنے دِین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا گیا ہو شہید ہے۔(سنن النسائی،حدیث 4106،سنن ابو داؤد حدیث4772)
اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دِیا ہے ۔

مذکورہ بالااحادیث کی روشنی میں شہید کی مندرجہ ذیل اقسام سامنے آتی ہیں۔
(1)اللہ کی راہ میں قتل کیا جانے والا ، یعنی شہیدِ معرکہ اور مسلمانوں کے یقینی اجماع کے مطابق یہ افضل ترین شہادت ہے۔
(2)اللہ کی راہ میں مرنے والا ، یعنی جو اللہ کی راہ میں نکلا اور موت واقع ہو گئی مثلاً غازی ، مہاجر ، وغیرہ ، سورت النساء(4)/ آیت 100۔
(3)مطعون ، طاعون کی بیماری سے مرنے والا ۔
(4)پیٹ کی بیماری سے مرنے والا۔
(5) ڈوب کر مرنے والا۔
(6)ملبے میں دب کر مرنے والا ،۔
(7)ذات الجنب سے مرنے والا ،(ذات الجنب وہ بیماری جِس میں عموماً پیٹ کے پُھلاؤ ، اپھراؤ کی وجہ سے ، یا کبھی کسی اور سبب سے پسلیوں کی اندرونی اطراف میں ورم (سوجن)ہو جاتی ہے جو موت کا سبب بنتی ہے )۔
(8)آگ سے جل کر مرنے والا ۔
(9)حمل کی وجہ سے مرنے والی ایسی عورت جس کے پیٹ میں بچہ بن چکا ہو۔
(10)ولادت کے بعد ولادت کی تکلیف سے مرنے والی عورت۔
(11)پھیپھڑوں کی بیماری (سل) کی وجہ سے مرنے والا ۔
(12) جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا ۔
(13)جو اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا ۔
(14)جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا۔
(15)جواپنے دِین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا گیا ۔
اِن کے عِلاوہ کِسی بھی اور طرح سے مرنے والے کے لیے اللہ اوراُس کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے کوئی ایسی خبر نہیں ملتی کہ اُسے شہید سمجھا جائے ۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی  کی جنگ جو کہ فسادی اسلام دشمن قوتوں کے پٹھو مسلمانوں کے خلاف کر رہے ہیں اس میں مرنے والے فوجی، پولیس اور سویلین تمام مسلمان افراد شہید کہلانے کے مستحق ہیں-
  1. http://forum.mohaddis.com/threads/26929/
  2. http://www.banuri.edu.pk/readquestion/shaheed-ki-aqsaam/2013-04-28
  3. https://ur.wikipedia.org/wiki/شہید
  4. http://fatawasection.blogspot.com/2016/03/blog-post_4.html
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits

رمضان سے بھرپور فوائد کیسے حاصل کریں - ایک مختصر گائیڈ


Read in English: <<Here>>
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ رمضان آنے سے پہلے آپؐ رمضان کے استقبال کے لیے لوگوں کے ذہن تیار کرتے تھے، تاکہ رمضان سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھا سکیں۔ احادیث میں ایسے خطبوں کا تذکرہ آتا ہے، جو خاص اس مقصد کے لیے آپؐ نے رمضان کی آمد سے پہلے دیے ہیں۔ خاص طور پر وہ خطبہ تو بہت ہی طویل اور مشہور ہے جو شعبان کی آخری تاریخ کو آپؐ نے دیا ہے اور جس کے راوی حضرت سلمان فارسیؓ ہیں۔ اس خطبے میں آپؐ نے یہ خوش خبری دیتے ہوئے کہ تم لوگوں پر جلد ہی ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، اس مہینے کی عظمت اور فضیلت کے مختلف پہلو پیش فرمائے۔ اس میں روزے کے فیوض و برکات کا ذکر فرمایا اور اس طرح ذہنوں کو تیار کیا کہ اس سنہری موقع سے پورا پورا فائدہ اُٹھانے کے لیے انسان پورے ذوق و شوق اور یکسوئی کے ساتھ کمربستہ ہوجائے۔
رمضان سے پوری طرح مستفیض ہونے اور اس کی خیروبرکت کا واقعی مستحق ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس سے استفادے کے لیے ذہن و فکر اور قلب و روح کو پوری طرح تیار کرے۔

 ذاتی احتساب:
 اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ رمضان کی پہلی شب چھانے سے پہلے انسان اپنا معاملہ خدا سے بھی صاف کرے اور خدا کے بندوں سے بھی۔ وہ سنجیدگی سے سوچے کہ وہ خدا کے حقوق ادا کرنے میں کیا کیا کوتاہیاں کرتا رہا ہے، کن کن نافرمانیوں میں مبتلا رہا ہے، اور اس کی زندگی کے بہترین اوقات کن خرافات میں گزرتے رہے ہیں۔ سچے دل سے توبہ کرے اور خدا سے پختہ عہد کرے کہ پروردگار جو کچھ ہوچکا، ہوچکا، اب یہ تیرا بندہ تیرا وفادار رہے گا اور نافرمانیوں سے دامن پاک رکھنے کی کوشش کرے گا۔ اگر نمازیں قضا ہوئی ہیں تو رمضان کے ایام میں ان کو ادا کرنے کی فکر کرے۔ اگر زکوٰۃ ادا کرنے میں کوتاہی ہوئی ہے تو اسی رمضان میں حساب لگا کر ادا کرنے کا ارادہ کرلے۔ قدرے تکلیف اُٹھا کر، جتنی ادا کرسکتا ہو ادا کرے، جو رہ جائے خدا سے عہد کرے کہ رمضان کے بعد اہتمام کے ساتھ ادا کرے گا۔ بندوں کے حقوق کی ادایگی میں کوتاہی ہوئی ہو، کسی کو ناحق ستایا ہو، یا کسی کا دل دکھایا ہو، یا کسی کا نقصان کیا ہو تو یہ ان سب سے معافی طلب کرے اور جب تک یہ لوگ معاف نہ کردیں، اطمینان کا سانس نہ لے۔ ہرقسم کا بدلہ دینے کے لیے تیار رہے اور بہرصورت لوگوں سے معاف کرا کر دم لے، اس لیے کہ بندوں کے حقوق جب تک بندے خود معاف نہ کردیں، اللہ معاف نہیں کرتا۔

 ایک عام کوتاھی:
اصلاحِ حال کے معاملے میں عام طور پر ایک اور کوتاہی بھی عام ہے، وہ یہ کہ جب بھی انسان پر نیکی کے جذبات چھانے اور نیکیاں کرنے کا داعیہ اُبھرتا ہے تو ادھر نگاہ نہیں جاتی کہ وہ کن کن چھوٹے بڑے گناہوں میں مبتلا ہے، بلکہ کچھ نوافل و اذکار اور صدقات و خیرات کی طرف ذہن متوجہ ہوجاتا ہے، اور آدمی یہ سب کر کے اطمینان محسوس کرتا ہے کہ اس نے دین دارانہ زندگی اپنا لی ہے اور فرماں بردار بندوں میں شامل ہوگیا ہے۔ حالانکہ اذکار و نوافل اور صدقات و خیرات کا اہتمام کرنے سے پہلے سوچنے اور کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ دیکھے کہ کن کن گناہوں میں وہ مبتلا ہے۔ کبیرہ گناہوں سے مخلصانہ توبہ کرے اور خدا سے پختہ عہد کرے کہ آیندہ ان گناہوں کو جانتے بوجھتے کبھی نہیں دہرائے گا۔ صغیرہ گناہوں سے بھی توبہ کرے، اگرچہ صغیرہ گناہ اللہ تعالیٰ نیکیوں کی برکت سے معاف کردیتا ہے مگر کبیرہ گناہ وہ ہرگز معاف نہیں فرماتا۔ کبیرہ گناہ توبہ ہی کے ذریعے معاف ہوتے ہیں اور توبہ ہی بندے کا وہ عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ انتہائی خوش ہوتا ہے۔

مسلم میں انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص ایک بے آب و گیاہ ریگستان میں سفر کر رہا تھا، اُونٹ پر اس کے کھانے پینے کا سامان لدا ہوا تھا۔ ایک جگہ وہ سَستانے کے لیے رُکا، اتفاق سے اس کی آنکھ لگ گئی۔ آنکھ جب کھلی تو اُونٹ غائب ہے۔ وہ اِدھر اُدھر دوڑا، اُونٹ کو تلاش کیا، مگر اُونٹ کا کچھ پتا نہ چلا۔ اب وہ زندگی سے مایوس ہوگیا، کہ اس بے آب و گیاہ ریگستان میں اس کا کھانا پینا سب کچھ اُونٹ پر لدا ہوا تھا اور اُونٹ غائب ہے۔ وہ زندگی سے مایوس ہوگیا تھا۔ پھر اس کی آنکھ لگ گئی۔ اب جو آنکھ کھلتی ہے تو دیکھتا ہے کہ اُونٹ سامنے کھڑا ہے۔ اس نے اُونٹ کی لگام پکڑی اور خوشی کی انتہائی مدہوشی میں کہتا ہے: اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب! خوشی کی انتہا میں اُلٹا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جب اس کا بھٹکا ہوا بندہ توبہ کے ذریعے واپس ملتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس اُونٹ والے بندے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔

 ادہوری توبہ:
 رمضان سے واقعی فیض یاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ رمضان آنے سے پہلے ہی توبہ کرلے، تمام گناہوں سے رُک جائے اور خدا سے سچا معاہدہ کرے کہ اب وہ کبھی ان گناہوں کی دلدل کے قریب نہ جائے گا۔ توبہ کے سلسلے میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ آدمی سارے گناہوں سے تو توبہ کرلے اور کچھ کے سلسلے میں خدا سے معاملہ کرنے بیٹھ جائے کہ فلاں فلاں گناہ کچھ عرصہ اور کرتا رہوں گا یا صرف رمضان تک ان سے باز رہنے اور ان کو ملتوی رکھنے کا عہد کرتا ہوں۔ یہ آدھی پونی توبہ پسندیدہ توبہ نہیں ہے۔ اللہ بندے سے کہتا ہے کہ میں سارے گناہ معاف کر دوں گا تو پھر خدا کی معافی کو کچھ گناہوں کے حق میں اس لیے ملتوی رکھنا کہ ان سے ابھی اور لذت اندوز ہونے کی خواہش ہے___ حقیقت میں توبہ کی صحیح اسپرٹ نہیں۔ سارے ہی گناہوں سے توبہ کرکے انسان کو چاہیے کہ خود کو خدا کے حوالے کردے۔ خدا کس پیار بھرے انداز میں اپنے بندے کو اپنے دربار میں معافی نامہ داخل کرنے کے لیے بلاتا ہے۔ قرآن میں ہے:

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِھِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط اِِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ط اِِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ o (الزمر ۳۹:۵۳) (اے نبیؐ!) کہہ دیجیے، اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اللہ تمھارے تمام گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ وہ بڑا ہی معاف کرنے والا اور انتہائی رحم فرمانے والا ہے۔
اللہ تو کہے کہ میں سارے ہی گناہ معاف کر دوں گا اور بندہ کچھ ہی گناہ معاف کرانے کا معاملہ کرے تو یہ درحقیقت قلب کی صفائی کا وہ معاملہ نہیں ہے جو مطلوب ہے۔

توبہ کی شرائط
توبہ کی تین شرطیں ہیں اور اگر بندے نے کسی انسان کا حق مارا ہے اور کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے تو پھر چار شرطیں ہیں:
  1.  پہلی شرط یہ ہے کہ گناہ سے پوری طرح باز آجائے۔
  2.  دوسری شرط یہ ہے کہ واقعی اپنے گناہوں سے شرم سار ہو۔
  3.  تیسری شرط یہ ہے کہ وہ پختہ عزم کرے کہ اب کبھی کسی گناہ کو دوبارہ نہیں کرے گا۔
  4. اگر کسی بندے کا حق مارا ہے، اس کی کوئی چیز ناحق لی ہے تو وہ اس کو واپس کرے خواہ جس طرح کی چیز بھی ہو، اور اگر اس کو کوئی اور تکلیف پہنچائی ہے تو اس کو بدلہ لینے کاموقع دے یا یہ کہ وہ معاف کردے، اور اگر کوئی الزام لگایا ہے یا غیبت کی ہے تو معاف کرا لے۔ بندے سے معاملہ صاف کرلینا توبہ کی لازمی شرط ہے۔

توبہ کے بعد ہی آدمی اس لائق بنتا ہے کہ وہ رمضان کا شایانِ شان استقبال کرسکے اور اس حال میں رمضان کا آغاز کرے کہ وہ فی الواقع رمضان سے استفادے کے لائق ہو۔ آپ کسی زمین میں اگر لہلہاتی کھیتی اور رنگارنگ مہکتے پھول کھلے دیکھنا چاہتے ہیں تو بیج ڈالنے سے پہلے زمین کے جھاڑ جھنکاڑ صاف کرنا، اینٹ روڑے نکال باہر کرنا اور زمین کو پہلے نرم کرنا ضروری ہے۔ آپ سنگلاخ زمین میں یا جھاڑ جھنکاڑ سے ڈھکی ہوئی زمین میں لہلہاتی کھیتی اور مہکتے پھول دیکھنے کی توقع پوری نہیں کرسکتے۔ اگر واقعی یہ سنجیدہ خواہش ہے کہ دل کی سرزمین میں نیکیوں کی بہار آئے تو دل کی سرزمین کو پہلے گناہوں اور خدا کی نافرمانیوں سے پوری طرح صاف کیجیے، تب ہی توقع کیجیے کہ اس میں نیکیوں اور بھلائیوں کی بہار آئے گی اور آپ اس بہار سے فیض یاب ہوسکیں گے۔

 ذھنی تیاری اور اھتمام:
 اس پہلی شرط کو پورا کرنے کے بعد آپ اس لائق ہیں کہ اب رمضان کا استقبال کریں اور یہ آرزو کریں کہ رمضان کے فیوض و برکات سے اللہ تعالیٰ آپ کا دامن بھر دے۔ پھر آپ اس تلقین، تشویق اور ترغیب کے واقعی مخاطب ہیں جو اللہ کے سچے رسولؐ نے اپنے خطبوں میں رمضان کی آمد کے مواقع پر دی ہے۔ آپ ان خطابات کے مخاطب بھی ہیں اور آپ کا یہ حق بھی ہے کہ آپ رمضان کی برکتوں سے مالا مال ہونے کے لیے سعی و جہد کریں۔ ذہنی تیاری میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آپ رمضان کے سارے روزوں سے فیض یاب ہوں۔ کوئی ایک روزہ اور کسی ایک شب کی تراویح بھی آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ اس لیے کہ رمضان کی کسی عبادت کے فیض سے محروم ہونے کے بعد اس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’جس شخص نے رمضان کا کوئی ایک روزہ بھی کسی عذر اور بیماری کے بغیر چھوڑ دیا، تو اس کی تلافی نہیں ہوسکتی، خواہ وہ زندگی بھر روزے رکھتا رہے‘‘۔(عن ابی ھریرۃ، بخاری، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی کہ رمضان کا صحیح صحیح حساب لگانے کے لیے شعبان کی تاریخیں محفوظ رکھنے کا پورا پورا اہتمام کرو۔ آپ نے اُمت کو بھی یہ تاکید فرمائی اور خود بھی آپؐ کا یہی عمل تھا۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رمضان کی صحیح تاریخ معلوم کرنے کی خاطر ہلال شعبان معلوم کرنے کا اہتمام رکھو‘‘۔
حضرت عائشہؓ کی شہادت ہے کہ آپؐ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینے کی تاریخوں کو یاد رکھنے کا اتنا اہتمام فرماتے تھے، کہ کسی اور مہینے کا اتنا اہتمام نہیں فرماتے تھے۔ پھر جب چاند نظر آجاتا تو روزہ رکھنے لگتے اور اگر بدلی چھائی رہتی تو پھر شعبان کے ۳۰ دن پورے کرتے‘‘۔

 اھم ترین عبادت:
اس ابتدائی اہتمام اور ذہنی تیاری کے بعد رمضان کی جن عباتوں میں آپ دل کی لگن اور کامل شوق کے ساتھ لگیں گے، ان میں سب سے اہم روزہ ہے۔ روزہ فرض ہے اور اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ قرآن و سنت نے بھی اس کو فرض اور رکن قرار دیا ہے اور اُمت کا بھی اس پر اجماع اورتعامل ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (البقرہ ۲:۱۸۳) اے ایمان والو! روزہ تم پر فرض کر دیا گیا جس طرح ان اُمتوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے ہوگزری ہیں۔
کُتِبَ کے معنی ہیں لکھ دیا گیا۔ یہ لفظ فرض کر دینے کے معنی میں آتا ہے۔ یہ خطاب آپ ہی سے ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ ایمان والے ہیں۔ روزہ ایمان والوں پر ہی فرض کیا گیا ہے اور ان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اس فرض کا پورا پورا حق ادا کریں۔ پھر یہ روزہ صرف محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہی پر فرض نہیں کیا گیا بلکہ قرآن کے فرمان کے بموجب پچھلی اُمتوں پر بھی فرض رہا ہے اور کسی اُمت کا نظامِ عبادت روزے سے خالی نہیں رہا ہے۔ قرآن کے اس اندازِ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ انسان کی تربیت کے لیے ناگزیر ہے۔ اس لیے ہر اُمت کے نظامِ عبادت میں روزہ لازماً شامل رہا ہے۔

روزے کا مقصود کیا ہے؟
 اس کو بھی قرآن نے اسی آیت میں بیان کر دیا ہے: لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ o (البقرہ ۲:۲۱) ’’تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو‘‘۔ گویا کہ روزہ تقویٰ پیدا کرنے کا ناگزیر ذریعہ ہے۔
تقویٰ یہ ہے کہ آدمی حرام چیزوں سے نہ صرف اجتناب کرے بلکہ بیزاری دکھائے، اور حلال چیزوں کو نہ صرف اختیار کرے بلکہ جائز اور حلال چیزوں کا حریص ہو۔ خدا کی عبادت، اطاعت اور فرماں برداری میں اسے لذت محسوس ہو، اور خدا کی نافرمانی اور منکرات سے اس کا اندرون بیزار اور متنفر ہو۔ یہ کیفیت اور یہ جوہرِ ایمان پیدا کرنے میں روزہ اس قدر مؤثر اور کامیاب ہے کہ کوئی بھی دوسری عبادت اس کا بدل نہیں بن سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی شہادت کے مطابق روزہ ہر اُمت کے نظامِ عبادت میں لازمی جز کی حیثیت سے شامل رہا ہے۔

 جوھر تقویٰ کے حصول کے لیے:
 اب، جب کہ ہم پر رمضان کا مبارک مہینہ سایہ فگن ہوچکا ہے، اگر ہم اپنے روزوں سے واقعی جوہرِ تقویٰ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تو ہمیں چند چیزوں کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے:
  •  پہلی چیز تو یہ کہ ہم حلال روزی حاصل کریں۔ حرام کے قریب نہ پھٹکیں۔ سود، دھوکا، فریب اور حرام چیزوں سے قطعی اجتناب کریں۔ حرام روزی کے ساتھ کوئی بھی عبادت قبول نہیں اور کوئی بھی عمل، عملِ صالح نہیں۔
  •  دوسرے یہ کہ ہم اپنی زبان پر قابو رکھیں، زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ غیبت، چغلی ، بدکلامی وغیرہ سے اپنی زبان کو محفوظ رکھیں اور اگر کوئی ہمارے ساتھ سخت کلامی کرے یا لڑنے جھگڑنے پر آمادہ ہو تو ہم اس سے کہہ دیں کہ ہم روزے سے ہیں اورروزہ رکھ کر ہم یہ حرکات نہیں کرسکتے۔ ان حرکات سے زندگی کو پاک کرنے کے لیے ہی تو میں روزے کا اہتمام کر رہا ہوں،تو پھر میں روزہ رکھ کر یہ کیسے کرسکتا ہوں!
  •  تیسرے یہ کہ اگر ہمارے ذمے کسی کا کوئی مالی حق ہے، یا کسی کا کوئی حق ہم نے دبا رکھا ہے، یا کسی پر کوئی زیادتی کی ہے، یا کسی کا ہم پر کوئی قرضہ ہے تو اوّلین فرصت میں صاحبِ معاملہ کا حق ادا کردیں، اور اگر ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو اس سے مل کر معاملہ ضرور صاف کرلیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنا حق تو معاف کر دیتا ہے لیکن بندے کا حق اسی وقت معاف کرتا ہے جب بندہ خود معاف کر دیتا ہے۔

 رمضان مبارک کی دوسری اہم عبادت تلاوتِ قرآن ہے۔ قرآن کو رمضان سے خصوصی مناسبت بھی ہے۔ قرآن اسی مہینے میں نازل ہوا ہے:
اِِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ o (القدر۹۷:۱) ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔
لیلۃ القدر یقیناًرمضان المبارک ہی کی ایک رات ہے۔ خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی اس کی شہادت دیتا ہے۔ اس لیے کہ دوسری جگہ خود قرآن ہی میں ارشاد ہے کہ ہم نے قرآن کو رمضان میں نازل کیا ہے:
شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْٰانُ (البقرہ ۲:۱۸۵) رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ یہ ارشادات قطعی شہادت ہیں، اس حقیقت کے کہ قرآن رمضان کے مہینے میں نازل ہوا۔
ایک اہم مناسبت قرآن اور رمضان میں یہ بھی ہے کہ روزہ آدمی میں جوہرِ تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ یہی جوہرِ تقویٰ انسان کو اس لائق بناتا ہے کہ وہ قرآن پاک سے ہدایت پائے۔ ارشاد ہے: ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ o (البقرہ ۲:۲)’’یہ ہدایت ہے متقیوں کے لیے‘‘۔

 قیامِ لیل:
 قیامِ لیل، یعنی تراویح میں تلاوتِ قرآن، قرآن کی سماعت و قراء ت، قرآن سے شغف اور استفادے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ قرآن بغیر سمجھے پڑھنا اور سننا بھی باعثِ اجروثواب اور قلب کو گرمانے کا وسیلہ ہے، لیکن اسی پر اکتفا کرنا ہرگز صحیح نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ کسی ایسے حافظ و قاری کے پیچھے قرآن سنیں جو نمازِ تراویح کے بعد قرآن کے پڑھے ہوئے حصے کے بارے میں آپ کو کچھ بتا بھی سکے اور خود بھی دن میں ترجمے سے قرآن پڑھنے کا اہتمام کریں، اور اگر خدا کے فضل و کرم سے آپ عربی جانتے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ ختم تراویح کے علاوہ بطور خود بھی تدبر اور غوروفکر کے ساتھ ایک بار قرآن پاک کا ختم ضرور کریں۔

 اعتکاف:
 رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف بھی سنت ہے۔ یہ سنت مؤکدہ کفایہ ہے۔ کچھ لوگ ادا کرلیں تو سب کی طرف سے ادا ہوجاتا ہے اور اگر بستی کا کوئی آدمی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب گنہگار ہوتے ہیں۔ یہ اعتکاف پورے ۱۰ دن کا ہوتا ہے اور اگر ۲۹ کا چاند ہوجائے تو نو دن کا رہ جاتا ہے۔ اعتکاف کے معنی یہ ہیں کہ رمضان کے پورے آخری عشرے میں آدمی اللہ کا ہو رہے اور مسجد میں آکر پڑ جائے۔ ذکروفکر، تسبیح و تہلیل، نماز و تلاوتِ قرآن اور دینی کتب کا مطالعہ وغیرہ ہی اس کا مشغلہ ہو۔ ایک اور اہم عبادت صدقۂ فطر بھی ہے جو نماز عید سے پہلے ادا کیا جانا چاہیے۔
محمد یوسف اصلاحی

...................................................................
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
بسم الله الرحمن الرحيم
 لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ
شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا. ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین  پر. جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا.
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits

عظیم فاتح ﮐﻮﻥ ﺗﮭﺎ، ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﮐﺎﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ (سکندر ) یا ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ عظیم سپوت ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ؟ ?Who is Great Alexander or Umar

Rashidun Caliphs Umar ibn Al-Khattāb - عُمر بن الخطّاب ثاني الخلفاء الراشدين.svg

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے، اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر ہیں۔
 زکریا بن زائدہ نے اپنی روایت میں سعد سے یہ بڑھایا ہے کہ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ:

 "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل کی امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہوا کرتے تھے کہ نبی نہیں ہوتے تھے اور اس کے باوجود فرشتے ان سے کلام کیا کرتے تھے اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے تو وہ عمر ہیں"۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پڑھا «من نبي ولا محدث» ۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اجتہاد >>>


عظیم فاتح ﮐﻮﻥ ﺗﮭﺎ، ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﮐﺎﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ یا ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ  عظیم سپوت ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ؟
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮨﮯ۔ ﺍٓﺝ ﺍﯾﺲ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﺲ ﮐﺎ ﺩﻭﺭ ﮨﮯ، ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﻣﯿﺴﺠﻨﮓ ﺳﺴﭩﻢ ﭼﻨﺪ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺪﯾﺪ ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﺳﮯ ﺍﺏ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻇﺮﯾﻦ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ 
Michael Hart’s choice of Umar Ibn Al-Khattab among the 100 influential persons, whom he not only included among these 100 persons but also put him as number two on the second half (51 to 100) of his choice. Umar Ibn Al-Khattab is 52nd on the list. He ranked him higher than such famous men as Charlemagne and Julius Caesar. He further says that Umar’s brilliant leadership was responsible for the expansion of the Islamic territory and the enormous extent that it did occur under him. He further says that Umar Ibn Al-Khattab ordered the Muslim armies to leave the natives of the conquered land in peace and ordered the military personnel not to force the natives to convert to Islam  >>>>

MacedonEmpire.jpg
By Generic Mapping Tools - created by user, CC BY-SA 3.0, https://commons.wikimedia.org/w/index.php?curid=656066

 ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﺗﮭﺎ ﯾﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ۔ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ 20ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎ۔ 23ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ، ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﯼ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﻞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﺼﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍٓﯾﺎ-
AlexanderConquestsInIndia.jpg
 ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺱ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﯼ، ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﺯ ﺟﺎﻥ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺎﻟﯿﮧ ﺷﮩﺮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ، ﻣﮑﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ، ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﻔﺎﺋﯿﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ 323ﻗﺒﻞ ﻣﺴﯿﺢ ﻣﯿﮟ 33 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺨﺖ ﻧﺼﺮ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮﮔﯿﺎ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﻭﮦ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﺮﻧﯿﻞ، ﻓﺎﺗﺢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺩﯼ ﮔﺮﯾﭧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﺍﮐﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ہے - 

 ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭﺍﻋﻈﻢ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ؟ 
Image result for ‫عمر بن الخطاب‬‎
ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ   (583-644) ﮐﯽ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﺯﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﭼﺌﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﮍﺳﻮﺍﺭﯼ ﺳﮑﮭﺎﺋﯽ، ﺍﺳﮯ ﺍﺭﺳﻄﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ 7 ﭘﺸﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ 17ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ 22ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺳﭙﺮ ﭘﺎﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯿﮟ۔ 
Mohammad adil-Rashidun empire-slide.gif
ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﻼﺋﭧ، ﻣﯿﺰﺍﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺑﺪﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺍﺋﯽ
ﺗﮭﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻭ ﺍﻧﺼﺮﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﭼﻼﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﻧﮯ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻞ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺍﺋﮯ، ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﻐﺎﻭﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ
ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺗﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ، ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﭙﮧ ﺳﺎﻻﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻣﻌﺰﻭﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﭨﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻭﻗﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﻮﻓﮯ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﺳﮯ ﮨﭩﺎﺩﯾﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻣﺎﻝ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻤﺺ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﻋﺪﻭﻟﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔
Image result for alexander the great

ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭﻧﮯ 17ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺴﭩﻢ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺴﭩﻢ ﺩﯾﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ
ﮨﯿﮟ، ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻓﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﺧﯿﺮﻣﻦ ﺍﻟﻨﻮﻡ ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺍﯾﺎ۔ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺷﺮﺍﺏ ﻧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯽ۔ ﺳﻦ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﺟﺮﺍ ﮐﯿﺎ۔ ﺟﯿﻞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
ﻣﻮٔﺫﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮟ، ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪ ﻭ ﺑﺴﺖ ﮐﺮﺍﯾﺎ۔ ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔
ﺍﯾﮏ ﻣﮑﻤﻞ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔
 ﺍٓﺏ ﭘﺎﺷﯽ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺍﯾﺎ۔
 ﻓﻮﺟﯽ ﭼﮭﺎﻭٔﻧﯿﺎﮞ ﺑﻨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ۔ 
ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﮯ ﺑﭽﻮﮞ، ﻣﻌﺬﻭﺭﻭﮞ، ﺑﯿﻮﺍﻭٔﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍﻭٔﮞ ﮐﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮯ۔
 ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ، ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﯾﺪﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﮯ ﮈﮐﻠﯿﺌﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
 ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ-
ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﻼﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔ 
ﺍٓﭖ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺠﺎﺭﺗﯽ ﻗﺎﻓﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﮐﯿﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
 ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻋﺪﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ’’ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﭽﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔‘‘

 ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻣﮩﺮ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ’’ ﻋﻤﺮ ! ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺕ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ‘‘۔
 ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺍٓﭖ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﺮ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﯾﻨﭧ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﯿﻨﺪ ﺍٓﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﭘﺮ ﭼﺎﺩﺭ ﺗﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﺎﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﺭﺍﺯ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﭘﺮ 14ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﯿﻮﻧﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺥ ﭼﻤﮍﮮ ﮐﺎ ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﮭﺮﺩﺭﺍ ﮐﭙﮍﺍ ﭘﮩﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺗﮭﯽ۔

 ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺨﻤﯿﻨﮧ ﻟﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺮﮐﯽ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ، ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﻨﺎ، ﭼﮭﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﭨﺎ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ، ﺩﺭﺑﺎﻥ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔ 

ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ﻣﻈﻠﻮﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﺍٓﺝ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﭨﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ ’’ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎﻟﯿﺎ"

ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ’’ ﻋﻤﺮ ﺑﺪﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﯿﺎ۔‘‘ ﺍٓﭖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ’’ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮨﮯ ، ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﻋﺪﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻭﮦ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺪﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻋﺪﻝِ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺍٓﭖ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﺗﮭﮯ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﻣﮑﺎﻥ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻭﺍﺣﺪ
ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣﺮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻋﻤﺮ( ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ) ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺘﻨﺎ ﮨﻮﮔﯽ۔

ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ’’ ﻟﻮﮔﻮ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔‘‘ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ﺗﻢ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ۔‘‘ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﻮﻻ ’’ﺟﺐ ﺗﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﺗﮭﮯ، ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍﯾﮟ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻧﺪﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍٓﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮞﺪﯾﮑﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍٓﺝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔‘‘

ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﻭﮦ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﻨﮑﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﮐﯿﻮﮞﮑﮧ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﺍﺱ ﮐﯽ
ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ 5ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﺌﯽ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﺟﺲ ﺧﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﺠﻮﺍﯾﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺻﺮﻑ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 245ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮈﺍﮎ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻂ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻭﺭﺩﯼ ﭘﮩﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺟﻮﺍﻥ 6 ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﭼﮭﭩﯽ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ، ﻣﻌﺬﻭﺭ، ﺑﯿﻮﮦ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ، ﻭﮦ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ، ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻋﻈﯿﻢ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﻣﺎﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﮏ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ’’ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﮮ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ‘‘ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﮨﺮ ﻻﻝ ﻧﮩﺮﻭ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ’’ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍٓﺝ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ( ﺣﻀﺮﺕ ) ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ) ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔‘‘ ﮨﻢ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ’’ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﮨﻮﺗﮯ۔
https://en.wikipedia.org/wiki/Alexander_the_Great
https://en.wikipedia.org/wiki/Umar
http://www.oocities.org/azhkir111/azhkir111/4umr.htm
..............................................................

عمر فاروق رضی اﷲ عنہ

سیرت و عہد
امام المجتہدین سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ نے کبھی نظری (hypothetical) اجتہاد نہ کیا۔ ایک روز عبداﷲ بن مسعود اور ابی بن کعب رضی اﷲ عنہما اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ نماز کے لیے کم ازکم کتنے کپڑوں کی ضرورت ہے؟ایک یا دو؟ عمر منبر پر چڑھے او رسخت تنبیہ کی، آج کے بعد اگر میں نے کسی کو اس طرح کا جدل کرتے سنا تو اسے خوب پیٹوں گا۔ وہ یہ بھی فرمایا کرتے ،آپس میں اختلاف نہ کرو !کیونکہ تمھارااختلاف بعد کی نسلوں میں بڑھ چڑھ کر سامنے آئے گا۔ ابتداے اسلام ہی سے وہ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم سے فرضی سوالات کرنے والوں کو لعنت ملامت کرتے تھے۔
خود کوئی راے بنانے سے پہلے وہ اجل صحابہ سے مشورہ کرتے حتی ٰکہ غبار چھٹ جاتا اور بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی۔ شاہ ولی اﷲ دہلوی فرماتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ان کے فتاویٰ مشرق و مغرب ہر سو مانے جاتے ہیں۔ ابن مسعود کا ارشاد ہے ،عمر جس راہ سے گزر جاتے ،ہم اسے سہل اور ہموار پاتے۔

انھوں نے اپنے فیصلوں میں اضطرار(مجبوری ونا چاری)کا اصول بھی مد نظر رکھا۔ایک عور ت زنا کے جرم میں ان کے پاس لائی گئی۔وہ پیاس سے تڑپتی ہوئی ایک چرواہے کے پاس سے گزری اور اس سے پانی مانگا۔چرواہے نے اس شرط پر پانی پلایا کہ وہ اپناآپ اس کے حوالے کر دے۔عمر نے حد نافذ کرنے سے پہلے صحابہ سے مشورہ کیا۔حضرت علی نے راے دی،اسے مجبور کر دیا گیا تھا اس لیے اسے حکم قرآنی 'فمن اضطرّ غیر باغٍ ولا عادٍ فلا اثم علیہ انّ اﷲ غفور رحیم' اور جوناچار ہوا،اس حال میں کہ نافرمانی نہیں کی اور حد سے باہر نہ نکلا ،اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اﷲ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے (بقرہ :۷۳ا)کی روشنی میں چھوڑ دیا جائے۔
حاطب بن ابو بلتعہ کے غلاموں نے بنو مزینہ کے ایک شخص کا اونٹ چوری کر لیا۔وہ عمر کے پاس لائے گئے تو انھوں نے چوری کا اقرار کر لیا۔عمر نے کہا، مجھے معلوم ہے حاطب اپنے غلاموں سے خوب کام لیتا ہے اور انھیں بھوکا پیاسا رکھتا ہے۔پھر مزنی سے دریافت کیا،تمھاری اونٹنی کی کیا قیمت ہو گی؟اس نے کہا،۴۰۰ درہم۔انھوں نے حاطب کے بیٹے عبدالرحمان سے کہا،اسے ۸۰۰درہم دے دواور حد نافذ نہ کی۔اضطرارکا تعین کرنے میں دو رایں ہو سکتی ہیں۔ عین ممکن ہے، منصف جسے اضطرار سمجھ رہا ہے ،اضطرار ہی نہ ہو۔عام طورپر عورت کو ڈرا دھمکا کر ہی زنا پر راضی کیا جاتا ہے ،اس لیے یہ طے کرلینا کہ کس طرح کی تخویف اضطرار ہے،لازمی امر ہے۔
خلیفۂ ثانی فیصلہ کرتے وقت مدعی اور مدعا علیہ سے ایک جیسا سلوک کرتے۔ ایک یہودی نے حضرت علی کے خلاف دعویٰ کیا تو انھوں نے ان دونوں کو برابر بٹھا دیا۔ فیضلے کے بعد علی سے پوچھا،آپ کو برا تو نہیں لگا؟ انھوں نے کہا ،ہر گز نہیں ۔البتہ آپ نے مجھے میری کنیت 'ابو الحسن' سے پکارا تو مجھے اندیشہ ہوا ،کہیں جادۂ انصاف سے ہٹ نہ جائیں کیونکہ کنیت سے پکارنا تعظیم و التفات کی نشانی ہے۔

حضرت عمر کی فقاہت کا بڑا ثبوت ان مسائل میں ان کا اجتہاد ہے جہاں کتاب اﷲ کی نص صریح موجود نہ تھی۔

ایک قضیے میں ترکے کی تقسیم اس طرح ہوئی کہ ماں جایے بھائی کو حصہ مل گیا جب کہ سگے بھائی کے لیے مال ہی نہ بچا۔ بات عمر تک پہنچی تو انھوں نے کہا،یہ انصاف کے منافی ہے اور سگے بھائی کو حصہ دلایا۔ عہد فاروقی میں طاعون کی وبا پھیلی توبے شمار مسلمانوں کی جانیں چلی گئیں۔تب میراث کے مسائل پیداہوئے،ان میں سے کچھ بے حد پیچیدہ تھے۔ عمر خود شام پہنچے ،انھیں یہ قضایا نپٹانے میں کئی ہفتے لگ گئے تاہم تمام فریق ان کے منصفانہ فیصلوں سے مطمئن تھے۔

شام و عراق سے جو غنیمتیں حاصل ہوتی رہیں ،ان کا خمس (۵/ا)امیر المومنین کوبھیجا جاتا جب کہ۵/ ۴حصے فاتح فوجیوں میں بانٹ دیے جاتے۔۸ الاکھ کلو میٹر (ساڑھے تین کروڑ جریب) پر مشتمل عراق کا سرسبز میدانی علاقہ (جسے سواد عراق کہا جاتا ہے ) مسلمانوں کے قبضے میں آیا تو اسے بھی اسی طرح تقسیم کرنے کی تجویز آئی۔عمر رضی اﷲ عنہ نے مخالفت کی ۔ ان کا کہنا تھا،اگر یہ زمین فاتحین میں بانٹ دی گئی تو مسلمانوں کی اگلی نسلوں کے لیے کیا بچے گا؟ حضرت عبدالرحمان بن عوف نے کہا،اراضی بھی مال فے ہے اور اس پر غانمین کا حق ہے۔جہاد میں حصہ لینے والے فوجی بھی سمجھتے تھے ،عمر ان کا حق مار رہے ہیں۔ وہ تب بھی اپنی بات پر مصر رہے تو مشاورت کا فیصلہ ہوا۔ عبدالرحمانبن عوف کی راے بیان ہو چکی ،عثمان،طلحہ اور علی رضی اﷲ عنہم نے عمر کی راے کو ترجیح دی۔ اوس کے پانچ اور خزرج کے پانچ اہل راے سے مشورہ کیا گیا ۔ حضرت عمر سمجھتے تھے ، اراضی تقسیم کرنے سے بہت سے لوگ اس سے محروم ہو جائیں گے، حکومت کی ضرورتیں بقیہ ۵/ا علاقے سے پوری نہ ہو سکیں گی ، باشندگان کے چلے جانے اور فوج کے منتشر ہو جانے کی وجہ سے اسلامی مملکت کی سرحدات کی حفاظت دشوارہو جائے گی اور زمین کے قابضین کو دوسری جگہ کھپانا نا ممکن ہو جائے گا ۔اس لیے انھوں نے اس زمین پر خراج لگانے کی تجویز پیش کی۔ ان کی راے قرآن و سنت کی کسی صریح نص پر مبنی نہ تھی،اس کی بجائے مسلمانوں کی منفعت عامہ ان کے پیش نظر تھی۔
مجلس شوریٰ کی اکثریت نے عمر کے حق میں فیصلہ دے دیاتو عثمان بن حُنیف انصاری کو سواد عراق کا والی مقرر کیا گیا۔ان کے حسن انتظام سے محض کوفہ کا سالانہ خراج ۰ا کروڑ درہم سے زیادہ وصول ہوا۔ شام کی فتح کے موقع پر بھی یہی سوال اٹھا ،تب زبیر بن عوام اور بلال بن رباح نے مفتوحہ اراضی تقسیم کرنے پر زور دیا۔ سیدنا عمر نے اسی استدلال کی بنا پر اسے قابضین کے ہاتھ رہنے دیا۔بے آباد زمین اسلامی حکزمت کی ملکیت ٹھہری۔
عمر رضی اﷲ عنہ کے اجتہادات میں دانش اور پختگی ہونے کے ساتھ غریب رعایا سے ملاطفت جھلکتی تھی ۔وہ اہل ایمان کی نفسانی کم زوریاں دور کرکے ان کے اندرونی خیر کی نشو نما کرناچاہتے تھے۔ ایک رات وہ مدینہ کی گشت پر تھے کہ کسی عورت کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا۔
الا سبیل الی خمر فاشربہا
ام ہل سبیل الی نصر بن حجاج
( کوئی طریقہ ہے کہ شراب مل جائے اور میں پی لوں؟یا نصر بن حجاج کو پانے کی کوئی راہ بھی ہے؟)
صبح ہوئی تو عمرنے نصر کاپتا چلا کر اسے اپنے پاس بلا لیا۔وہ خوب صورت بالوں والا ایک خوب رو نوجوان تھا۔ انھوں نے اس کے بال کٹوادیے ،اس کا چہرہ نمایاں ہوا تو وہ اور خوب صورت دکھائی دینے لگا۔ اسے عمامہ باندھا گیا تو اس کا حسن مزید نکھر گیا۔عمرنے کہا ، اب یہ ہمارے ساتھ نہیں رہے گا۔ اس کی ضروریات کا حساب لگا کر اسے کچھ رقم فراہم کی اور بصرہ رخصت کر دیا۔کیا خوب صورت ہونا اس کا جرم تھا کہ اسے جلا وطن کر دیا جاتا؟ لیکن عمر مسلمانوں کے خلیفہ ہونے کے ساتھ ان کے مربی بھی تھے ۔ مدینہ کی عورتوں کو فتنے سے بچانے کے لیے انھوں نے یہ قدم اٹھایا۔ کسی اورشب کاذکر ہے،انھوں نے کچھ خواتین کو باتیں کرتے سنا۔ ایک نے پوچھا،مدینہ میں سب سے زیادہ خوب صورت کون ہے؟دوسری نے جواب دیا،ابوذئب۔عمر نے اس کی بھی طلبی کر لی ، وہ واقعی خوب صورت تھا۔ عمر نے کہا ،اﷲ کی قسم !تم سچ مچ ذئب (عورتوں کا شکارکرنے والا بھیڑیا )ہو۔بات ابو ذئب کی سمجھ میں آ گئی ۔اس نے خود ہی کہا،مجھے بھی بصرہ بھیج دیا جائے۔

ایک رات ایک عورت اپنی بیٹی کو دودھ میں پانی ملانے کو کہہ رہی تھی۔بیٹی نے کہا،اماں !عمر نے اس سے منع کیا ہے۔ ماں نے کہا ،اس ظلمت شب میں عمر کہاں سے آئیں گے؟بیٹی نے کہا،اﷲ تودیکھ رہا ہے۔صبح سویرے عمر نے اپنے بیٹوں کو بلاکر کہا ،تم میں سے کوئی اس لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے؟عاصم مان گئے، اسی سنجوگ سے ام عاصم پیدا ہوئیں جوپانچویں خلیفۂ راشد عمربن عبدالعزیز کی ماں ہوئیں۔طلحہ بن عبیداﷲ نے عمر کو رات کے وقت ایک گھر میں جاتے دیکھا ۔وہ کھوج لگانے کے لیے اندر گئے تو ایک معذور بڑھیا پائی ۔اس نے بتایا،یہ شخص میری ضرورتیں پوری کرنے آتا ہے۔طلحہ خود سے یوں ہم کلام ہوئے، تیرا ناس ہو !تو عمر کی لغزشیں ڈھونڈرہا ہے۔

عمرکا دروازہ تھا نہ دربان ۔نماز کے بعد کچھ دیر کے لیے مسجد میں بیٹھ جاتے تاکہ کوئی ضرورت مند ان سے مل سکے۔ ایک دوپہر کونیند محسوس ہوئی تو درخت کے نیچے لیٹ کر سو گئے۔اتفاق سے قیصر روم کا سفیر آیا ،انھیں دار الامارہ میں نہ پایاتو پوچھتا پچھاتا وہاں پہنچ گیا ۔انھیں کسی محافظ کے بغیر یوں تنہا سوئے ہوئے دیکھ کر بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا،میرا آقا ظلم کرتا ہے ،اس لیے پہرے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔آپ عدل و انصاف کرتے ہیں ،اس لیے چین کی نیند سو رہے ہیں۔ سفر میں عمر رضی اﷲ عنہ کے لیے کوئی خیمہ نصب نہ کیا جاتا ،کسی درخت پر چادر ڈال کر سایہ کر لیتے، اونٹ کے پالان کا بستر بناتے اور اپنے سامان کے بیگ کو تکیے کے طور پر استعمال کر لیتے۔ سفر حج میں ان کے ۱۶ دینار خرچ ہو گئے تو بیٹے سے کہا،ہم نے بہت اسراف کر لیا۔

امیر المومنین کو ہر وقت اپنی رعایاکی فکر رہتی تھی۔ یہ ان میں حد درجہ پائی جانے والی خشیت الٰہی کا پرتو تھی۔فرماتے تھے، اگر کنار فرات کوئی اونٹ (یا کتا) بھی بھوک سے مر گیا تو مجھے ڈر ہے ،آل عمر سے اس کا حساب لیا جائے گا۔ اپنے گورنروں کی کارکردگی یہ سوالات پوچھ کر جانچتے، کیا وہ بیماروں کی تیمار داری کرتا ہے؟غلاموں کی خبرگیری کرتا ہے؟ کم زور سے حسن سلوک کرتا ہے؟کیا دروازے پربیٹھتا ہے ؟(یعنی دربان تو نہیں مقرر کر رکھا؟)ان میں سے ایک سوال کا جواب بھی ناں میں ہوتا تو وہ گورنر کومعزول کر دیتے۔خلیفۂ دوم غیر مسلموں سے شفقت سے پیش آتے۔ مدینہ میں ایک یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا توسورۂ توبہ کی آیت 'انما الصدقات للفقراء والمساکین...' (۶۰) بلاشبہ صدقات (زکوٰۃ و خیرات) فقیروں، مسکینوں۔ ۔۔ کا حق ہیں ۔'' پڑھی اورکہا ،یہ تو مسکین ہے چنانچہ اس کا روزینہ مقرر کر دیا۔سفر شام کے د وران میں بھی انھوں نے مال زکوٰۃ میں سے کئی غریب نصرانیوں کے وظیفے منظور کیے۔ شام کے ایک یہودی کی زمین ہتھیا کر مسجد بنا لی گئی تھی ۔ امیر المومنین نے مسجد گرا کر زمین اس کے مالک کو واپس دلائی۔ لبنان کے پروفیسر شکری قرداحی کے مطابق ۹۳۳اء تک اس یہودی کے گھر کا لوگوں کوعلم تھا۔ حضرت عمر نے غیرمسلم اہل جزیہ کے تین درجے مقرر کیے ،مال دار ، متوسط اور غریب ۔ سال میں ایک بار لیے جانے والے جزیہ کی مقدار ایک خاندان کے ایک دن کے اخراجات کے مساوی تھی۔عورتیں ،بچے ، بوڑھے، معذور، راہب اور ایک سال تک فوجی خدمت انجام دینے والے غیر مسلم اس سے مستثنیٰ تھے۔عہد رسالت ؐ سے غیر مسلموں سے دہری چنگی (۵222) وصول کی جاتی تھی ۔ سیدنا عمرایک بار جمعے کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک تغلبی نصرانی نے انھیں روک کر چنگی والوں کی کوئی شکایت کی۔انھوں نے ''نہیں ! ایسا نہیں ہو سکتا''کہہ کر اپنا خطاب جاری رکھا۔ نصرانی کو ان کی بات سمجھ نہ آئی، وہ جز بز ہو کر سرحد پر واپس پہنچا تو عمر کا حکم پہلے سے پہنچ چکا تھا۔
خلیفۂ ثانی نے سکہ سازی سرکاری کنٹرول میں لے لی تھی۔پرانے سکہ ساز ملازمت پر برقرار رکھے گئے ۔حکومت خود بھی سکے ڈھالتی ،لوگ بھی اپنا سونا چاندی لا کر اجرت پر ڈھلائی کرا لیتے۔مغرب کے کئی عجائب گھروں میں اس وقت کے سکے موجود ہیں۔
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ قرآن کی تعلیم عام کرنے کے لیے طلبہ کو وظائف دیتے۔کوفہ کی جامع مسجد میں عبداﷲبن مسعود تعلیم دیتے۔انھیں خاص طور پر ہدایت تھی کہ قرآن بنو ہذیل کی طرز کی بجائے قریش کے فصیح لہجے میں پڑھیں۔ مسجد نبوی ؐمیں عقیل بن ابو طالب انساب اور ایام عرب کی تدریس کرتے۔ خلیفۂ دوم نے ابو الاسود دؤلی کو صرف و نحو مدون کرنے کا حکم دیا۔ مہاجرین و انصار کی موجودگی میں ہر عامل سے عہد لیتے ،وہ ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھے گا ،چھنا ہوا آٹا نہیں کھائے گا ،باریک کپڑے نہ پہنے گااورلوگوں کی حاجتوں کے آگے دربان نہیں بٹھائے گا۔ وہ ہر فوجی دستے کے ساتھ ترجمان اور طبیب بھیجتے۔
انھوں نے گھوڑوں کی افزائش نسل کی خصوصی ہدایت کی،جانوروں کو خصی کرنے سے منع کیا۔ عمرانھیں منہ پر مارنے اور ان پرحد سے زیادہ بوجھ لادنے سے روکتے۔فوجیوں کوبھیجے جانے والے گھوڑے نقیع کی چراگاہ میں رکھے جاتے اورصدقے کے اونٹوں کے لیے ربذہ اورشرف کے سبزہ زار مخصوص تھے۔
ایک دن سیدنا عمر نہا دھو کرجمعہ کی نماز کو جا رہے تھے کہ ایک گھر کی بالائی منزل کے پرنالے سے گندا پانی ان پر گرا۔ مضرت عامہ کا مداوا کرنے کے لیے انھوں نے یہ پرنالہ اکھڑوا دیا۔یہ گھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس کا تھا۔جب انھیں معلوم ہوا کہ آپؐ نے اپنے دست مبارک سے اسے نصب فرمایا تھا تو حضرت عباس کو اپنے کندھے پر چڑھا کر اسے دوبارہ ا س کی جگہ لگوایا۔
حضرت عمر نے عورتوں کا مہرکم از کم رکھنے کا مشورہ دیا۔انھوں نے ان کو قبطی سوت سے بنے ہوئے کپڑے (قبطیہ) پہنانے سے منع کیا کیونکہ یہ ململ کی طرح باریک ہوتا تھا۔جسم اگراندر سے نہ جھلکتا تو بھی اس کی ہےئت نمایاں ہو کررہتی۔
خلیفۂ ثانی نے قرضۂ حسنہ دینے کے لیے بیت المال میں ایک الگ شعبہ قائم کیا۔ اس بے سود قرضے سے کوئی کاروبار کرتا تو اس سے نصف منافع لیا جاتا۔اگر خسارہ ہوتا تو وہ صرف اصل زر کا ضامن ہوتا۔اس مد میں خود انھوں نے کئی بار قرض لیا ،جب لوٹانے میں دیر ہوتی تو افسر بیت المال تقاضا کرتا اور انھیں فوراً ادائی کرنا پڑتی ۔وقت وفات سرکاری خزانے کو ان سے ۸۰ ہزار سے زائددرہم مطلوب تھے ۔انھوں نے اپنی اولاد کو وصیت کی ،یہ رقم فوری طور پر جمع کرائی جائے۔ معاقل (دیت و تاوان)کا نظام عہد نبویؐ(ا ھ )سے رائج تھا،عمر نے اس کو وسعت دی۔ کسی شخص سے اتفاقاً قتل ہو جاتا اور اسے خون بہا دینا ہوتا یا کوئی مسلمان دشمن کے ہاتھوں قید ہو جاتا تو اسے فدیہ دے کر چھڑانا ہوتا تو متعلقہ شخص کے غریب ہونے کی صورت میں اس کا قبیلہ یہ خطیر رقم (۰۰ا اونٹ) ادا کرتا۔ عہد فاروقی میں متعلقہ چھاؤنی یا دیوان کے افراد اپنے رفیق کی مدد کو آتے۔
عمر کے داماد نے ان سے سوال کیاتو اسے جھڑک دیا۔ پوچھا گیا،آپ نے اسے رد کیوں کیا؟فرمایا ،اس نے مجھ سے اﷲ کا مال مانگا تھا جس میں میں خیانت نہیں کر سکتا۔ میرا مال مانگا ہوتا تو اور بات ہوتی ۔پھر ۱۰ ہزار درہم اسے بھجوا دیے۔ حضرت عثمان فرماتے تھے ،عمر اﷲ کی رضا کے لیے اپنے اعزہ و اقارب کو محروم رکھتے تھے اور میں رضائے الٰہی کے حصول کے لیے انھیں عطیات دیتا ہوں۔
عمر میں غیرت ایمانی حد درجہ پر تھی۔بشر نامی ایک منافق کا کسی یہودی سے جھگڑا ہوا توان دونوں کا مقدمہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔آپؐ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔منافق راضی نہ ہوا ،اس نے کہا ،چلو! عمر بن خطاب کو حکم بناتے ہیں۔یہودی نے ان کو بتایا،ہمارا فیصلہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کر دیا ہے لیکن یہ اس سے مطمئن نہیں۔عمر نے بشر سے پوچھا ،کیا یہی بات ہے؟اس نے اثبات میں جواب دیاتو انھوں نے کہا ،تم یہیں کھڑے رہو، میں ابھی آتا ہوں۔ اندر سے تلوار سونت کر نکلے اور منافق کی گردن اڑا کر کہا،جو اﷲ اور رسولؐ کے فیصلے سے راضی نہ ہو ،میں اس کا یہی فیصلہ کر سکتا ہوں۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے ان کا قلبی تعلق اوران کی محبت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ فرمایا،میں نے کلثوم بنت علی مرتضیٰ سے نکاح کیا ہے حالانکہ مجھے عورتوں کی حاجت نہیں۔اس لیے کہ میرا آپؐسے نسبی تعلق قائم ہو جائے ۔ہو سکتا ہے ،روز قیامت یہ آپؐ کے ارشاد کے مطابق میرے کام آ جائے۔
۱۳ھ میں حضرت عمر خلیفہ بنے،اس سال انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف کو اپنی جگہ امیر حج بنا کر بھیجا۔ پھر خلافت کے مسلسل ۱۰ سال وہ لوگوں کے ساتھ حج ادا کرتے رہے۔۲۳ ھ میں اپنے آخری حج میں وہ امہات المومنین کو ساتھ لے کر گئے۔انھوں نے اپنے عہد خلافت میں ۳ عمرے کیے،رجب ۱۷ھ، رجب۲۱ھاور رجب ۲۲ھ میں۔ مقام ابراہیم ؑ بیت اﷲ سے متصل تھا ،انھوں نے اسے ذرا پیچھے کر دیا جہاں یہ آج کل ہے۔ ۲۳ھ کے حج میں وہ منیٰ سے واپس ہوئے تو ریگزار (بطحاِ مکہ) میں ایک جگہ اونٹ کو بٹھایا،ریت کا ٹیلا سا بنا کر اس پر لیٹ گئے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کی،اے اﷲ!میری عمر زیادہ ہو گئی ہے، قویٰ کمزور پڑ گئے ہیں(یا ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں) اور میری رعایابڑھ گئی ہے ،اس سے پیشتر کہ میں کوئی کمی و کوتاہی کروں مجھے اپنے پاس بلا لے۔ انھوں نے یہ دعا بھی مانگی، اﷲ! میں تیری راہ میں شہید ہونا اور تیرے رسول ؐکے شہر میں دم دینا چاہتا ہوں۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ کا عیسائی غلام ابو لؤلؤ ہ فیروز فارسی عصبیت رکھتا تھا ،مدینہ میں ایرانی غلاموں کو دیکھ کراسے دکھ ہوتا۔ایک بار اس نے حضرت عمر کو راستے میں روک لیا اورکہا،مغیرہ سے سفارش کریں کہ میرالگان کم کر دیں۔ انھوں نے پوچھا،لگان ہے کتنا؟اس نے بتایا،۲(یا ۴) درہم یومیہ ۔پھر سوال کیا ،کام کیا کرتے ہو؟ وہ ترکھان، لوہار اور نقش گر تھا اورچکیاں بھی بناتا تھا، آخری کام ہی اس نے بتایااور باقیوں کا ذکرنہ کیا۔عمر نے پوچھا ،کتنے کی چکی بنا لیتے ہو؟اور کتنے کی بیچتے ہو؟ اس کی تفصیل سن کر انھوں نے کہا ،تب تو خراج زیادہ نہیں۔وہ رخصت ہونے لگاتو انھوں نے کہا،ہمیں ہوا سے چلنے والی چکی نہ بنا دو گے؟ اس نے جواب دیا،اگر میں زندہ رہا تو آپ کے لیے ایسی چکی بناؤں گا کہ عالم شرق و غرب میں اس کی مثال دی جایا کرے گی۔عمر نے کہا، اس نے مجھے دھمکی دی ہے۔یہاں سے ابولؤلؤہ ہرمزان اور جفینہ کے پاس پہنچا اور ان سے ایک خنجر مستعار لیا۔ عبدالرحمان بن ابو بکر کا وہاں سے گزر ہوا تو وہ گھبرایا اور خنجر اس کے ہاتھ سے گر گیا تاہم انھیں اس کے عزائم کا اندازہ نہ ہو سکا۔اگلے روز کعب احبار امیر المومنین کے پاس آئے اور کہا ،۳دنوں میں آپ وفات پا جائیں گے۔ انھوں نے پوچھا ،تمھیں کیسے پتا چلا؟کعب نے بتایا، میں نے تورات میں پڑھا ہے ۔عمر حیرت سے بولے ،اﷲ رے!تو نے عمر بن خطاب کا ذکر تورات میں پا لیا؟ انھوں نے کہا ،نام تو نہیں لیکن حلیہ اور صفات آپ ہی کی ہیں۔عمر خاموش ہو گئے اور کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا۔جب کعب نے کہا، آپ دعا کریں ،ہو سکتا ہے ، اﷲ آپ کو اور مہلت دے دے تو انھوں نے اﷲ سے التجاکی،مجھے اس حال میں اٹھا لے کہ مجھ میں کوئی وہن ہو نہ نشانۂ ملامت بنوں ۔شہادت سے پہلے انھوں نے خواب دیکھا، ایک سرخ مرغ نے ان کو ٹھونگے مارے ہیں۔انھوں نے ا س کی یہی تعبیر سمجھی کہ کوئی عجمی ان کو قتل کرے گا۔
بدھ ۲۶ ذی الحجہ ۲۳ھ کی فجر ہوئی،سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ نماز پڑھانے مسجد نبویؐ میں آئے۔ابھی صفیں سیدھی نہ ہوئی تھیں کہ ابو لؤلؤہ نے کٹار سے اچانک ان پر حملہ کر دیا۔ اس نے چھ وار کیے،ایک زیر ناف لگا جو مہلک ثابت ہوا ۔ عمر چلائے ،اس کتے کوپکڑو ! اس نے مجھے قتل کر دیا ہے اورقرآن کی آیت'' وکان امر اﷲ قدراً مقدوراً،اﷲ کا حکم وہ تقدیر ہے جو پوری ہوکر رہتی ہے ''(احزاب ۳۸)پڑھتے ہوئے گر پڑے ۔لوگ اس کی طرف لپکے،اس نے خنجر گھمایا اور ۱۲ مزید افراد کو شدید زحمی کر دیا جن میں سے ۶(یا ۹)اسی موقع پر شہید ہو گئے،باقیوں نے بعد میں جان دی۔عبد اﷲ بن عوف نے اس پر اپنا چغہ ڈال کر اسے قابو کیا۔ گرفت میں آنے سے پہلے وہ اپنے خنجر پر گرا اور اپنی جان بھی لے لی۔ عمر کومعلوم ہوا کہ ان کا قاتل ابو بؤلؤہ ہے تو فرمایا،اﷲ کاشکر ہے ، میں ایسے شخص کے ہاتھوں مارا جا رہا ہوں جس نے اﷲ کے حضور ایک سجدہ بھی نہیں کیا۔وہ کلمۂ لا الہپڑھ کرمیرے خلاف کوئی حجت نہیں پیش کر سکتا۔ اسی ہنگامے میں دن چڑھنے کو تھا کہ انھوں نے عبدالرحمان بن عوف کو بلا کر نماز پڑھانے کو کہا۔عبدالرحمان نے سورۂ عصر اور سورۂ کوثر (یا نصر و عصر ) کی تلاوت کرکے مختصرنماز پڑھائی۔ عمربے ہوش ہو گئے تو انھیں اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔ہوش میں آتے ہی دوبارہ تسلی کی کہ اہل ایمان نماز پڑھ چکے ہیں ؟فرمایا،اس شخص کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں جس نے نماز ضائع کی پھر خود بھی اس حال میں وقت پرنماز ادا کی کہ زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔انھوں نے زندگی کی باقی دو نمازیں بھی انھی کپڑوں میں ادا کیں۔ سب سے پہلے حضرت عبداﷲ بن عباسآئے تو ان سے کہا، منادی کرا کے لوگوں سے پوچھو! کیا یہ قاتلانہ حملہ ان کے مشورے سے ہواہے؟ سب نے اس عمل شنیع سے اﷲ کی پناہ مانگی اور کہا،ہم تو دعا گو ہیں اﷲ ہماری عمر بھی آپ کو لگا دے ۔ اب بنو حارث کا طبیب آیا،اس نے عمر سے مشور ہ کر کے انھیں نبیذ (شربت کھجور) پلائی تووہ زخموں سے باہر نکل آئی، دوسرا طبیب ابو معاویہ سے تھا ،اس نے دودھ دیا تو وہ بھی خارج ہو گیا۔ انھیں بتا دیا گیا، جانبری کی امید نہیں۔رات ہونا بھی مشکل ہے ،جو ضروری کام نمٹانا چاہتے ہیں نمٹا لیں۔انھوں نے لوگوں کواپنے پاس رونے پیٹنے سے منع کر دیا۔میری ماں ہلاک ہو ،اگر اﷲ میری بخشش نہ کرے ۔
خلیفۂ ثانی نے اپنے قرض کے بارے میں پوچھا۔انھیں بتایا گیا،ان کے ذمہ ۸۶ ہزار درہم واجب الادا ہیں تو اپنے بیٹوں کو اپنا مال بیچ کر فوراً قرض اتارنے کی وصیت کی۔ کہا،اگر آل عمر سے ادا نہ ہواتو بنو عدی بن کعب سے لینا، اگر ان سے بھی پورا نہ ہواتو قریش سے وصول کرنا،ان کے بعد کسی سے نہ مانگنا۔ عبداﷲ بن عمر نے ایک ہفتے کے اندر اندر یہ قرضہ چکا دیا۔ایک نصرانی(یا مجوسی)غلام کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے کی وجہ سے انھیں اندیشہ ہوا کہ غیرمسلم شہری انتقام کا نشا نہ نہ بن جائیں اس لیے غیر مسلموں سے حسن سلوک کی خاص طور پرتاکید کی۔ابتدائے خلافت میں حضرت عمر نے مرتدین کے جنگی قیدی ان کے کنبوں میں واپس بھیج دیے تھے ۔وقت شہادت بھی وہ بے بس غلاموں کو نہ بھولے ۔انھوں نے اپنے سارے غلام آزادکرنے کا اعلان کرنے کے ساتھ باقی تمام عرب قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم بھی دیا۔ان کا بدل بیت المال سے ادا کیا گیا۔جا نشینی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔مشاورت کے لیے انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف کو بلایاتووہ سمجھے، خلافت مجھے سونپنا چاہتے ہیں۔ کہا،واﷲ !میں اس کام میں نہ پڑوں گا۔ عمرکئی بار کہہ چکے تھے ، اگر ابو عبیدہبن جراح یا ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالمزندہ ہوتے تو انھیں بے دھڑک خلیفہ مقرر کر دیتا۔ حضرت علی کو ترجیح دینے کے باوجودنام زد نہ کیا کیونکہ وہ ان کے سسر تھے۔آخر کار فرمایا، ان ۶ آدمیوں کو بلاؤ جن سے رسول اﷲ صلی علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے راضی تھے۔یہ اصحاب عشرۂ مبشرہ میں سے ۶ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر بن عوام ، حضرت طلحہ بن عبید اﷲ،حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمان بن عوف تھے ۔ عمر نے ان میں سے ساتویں زندہ صحابی سعید بن زید کو اس وجہ سے خارج کر دیا کہ وہ ان کے قبیلہ بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص کا نام لیتے ہوئے بطور خاص فرمایا، میں نے انھیں ان کے کسی قصور یا خیانت کی وجہ سے معزول نہ کیا تھا۔ طلحہ اس وقت مدینہ میں موجود نہ تھے۔عمر نے اپنے بیٹے عبد اﷲ کو اس شرط پر شامل کیا کہ وہ منتخب نہ کیے جائیں۔ان کو ہدایت کی، ووٹ برابرہونے کی صورت میں اپنا فیصلہ کن ووٹ اس بزرگ کو دیں جسے عبدالرحمان منتخب کرنا چاہتے ہوں۔خلیفہ کا انتخاب ہونے تک صہیب بن سنان کو امام مقرر کیا۔انھوں نے ابو طلحہ انصاری کواپنا نائب بنا کر حکم دیا،کچھ ساتھیوں کے ساتھ اس گھر کے دروازے پر پہرہ دیناجہاں خلیفہ کا انتخاب ہو رہا ہو۔کسی کو اندر نہ جانے دینا اور مجلس انتخاب کو ۳دن سے زیادہ مہلت نہ دینا۔ اگر کسی نے مسلمانوں کی مرضی کے بغیر ان پر مسلط ہونے کی کوشش کی تو اس کی گردن اڑا دینا۔
عمر نے اپنے جا نشین کو وصیت کی ، مہاجرین کے حقوق کا خیال رکھے، انصار سے اچھا برتاؤ کرے، اپنے رشتہ داروں کو لوگوں کی گردنوں پر سوار نہ کر دے۔ شہریوں سے زیادہ ٹیکس نہ لے،بدوؤں سے حسن سلوک کرے،ان کی زکوٰۃ انھی کے فقرا میں بانٹ دے۔ذمیوں سے کیے ہوئے معاہدے پورا کرے،ان کی حفاظت کرے اور ان پر زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔انھوں نے خواہش کی ،ان کے مقررکردہ گورنر ایک سال تک برقرار رکھے جائیں۔بعد ازاں حضرت عثمان نے اس ہدایت پر عمل کیا۔حضرت عمر نے دادااور کلالہ کی وراثت کے بارے میں اپنی راے شانے کی ایک ہڈی (scapula) پر تحریر کر رکھی تھی۔شاید انھیں اس پر پورا اطمینان نہ تھا اس لیے اپنے بیٹے سے کہہ کر وہ ہڈی منگوائی اور اپنے ہاتھوں سے اپنی تحریر مٹائی۔خلیفۂ دوم نے عبداﷲ کوام المومنین سیدہ عائشہ کے پاس بھیجا اور فرمایا،ان سے کہنا،عمر سلام کہتا ہے،امیر المومنین نہ بولنا۔پھر ان سے اجازت مانگنا، انھیں ان کے دونوں ساتھیوں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ دفن کرنے کی اجازت دے دی جائے۔حضرت عائشہ اپنے حجرے میں بیٹھی رو رہی تھیں۔ عمر کی درخواست سن کر فرمایا، وہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی لیکن اب عمر کو اپنے پر ترجیح دوں گی۔عمر نے عبداﷲ سے کہا، میری میت جب حجرہْ عائشہ پہنچے تو دوبارہ اذن مانگنا ۔اگر انھوں نے اس وقت منع کر دیا توعام مسلمانوں کے قبرستان میں دفنا دینا۔ انھوں نے میت کو مشک لگانے سے منع کیا۔
آخری لمحات میں حضرت عمر پر خشیت الٰہی پوری طرح غالب آ گئی ۔انھوں نے بار بار کہا،اگر پوری زمین میری ملک ہوتی تو اسے آنے والی ہولناکی کے بدلے فدا کردیتا۔پھر بستر سے ہاتھ بڑھا کر ایک تنکا اٹھایااور کہا،کاش میں یہ تنکا ہی ہوتا اور میری ماں مجھے نہ جنتی۔ عبداﷲ بن عباس نے تسلی دی ،آپ نے کتاب اﷲ کے مطابق فیصلے کیے اورانصاف سے تقسیم کی۔عمر نے فرمایا، اس بات کی شہادت دو۔حاضرین میں سے کسی نے کہا،آپ کو دوزخ کی آگ نہ چھوئے گی۔ انھوں نے اپنے بیٹے عبداﷲ سے کہا،میرا رخسار زمین پر رکھ دو۔انھوں نے پس وپیش کی توانھیں ڈانٹا۔ جب ان کے حکم کے مطابق رخسار زمین سے لگا دیا گیاتو پاؤں رگڑ کر آہ وزاری کی،میری ماں ہلاک ہو اگر اﷲ نے میری بخشش نہ کی۔بار باریہ الفاظ ان کے منہ سے نکل رہے تھے کہ ان کی روح پرواز کر گئی۔
بدھ۲۶ ذی الجحہ(ابن کثیر:ہفتہ) کی شام سیدنا عمر نے جان جان آفرین کے سپرد کی۔جمعرات ۲۷ ذی الحجہ ۲۳ھ (ابن کثیر کے خیال میں اتواریکم محرم ۲۴ھ) کی صبح ان کا جنازہ حجرۂ عائشہ میں لے جایا گیاتو انھوں نے دوبارہ اجازت دی،سلامتی سے آ جائیے۔ حضرت صہےۂ بن سنان نے مسجد نبوی ؐ میں نمازجنازہ پڑھائی۔عصا سے عمر کا قد ماپ کر قبر کھودی گئی،حضرت ابو بکر کا سر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے کندھوں کے برابر تھا،حضرت عمر کا ان کے کندھوں کے برابر رکھا گیا ۔ یوں جگہ تنگ ہو گئی تو حجرے کی دیوار میں نقب لگا کرپاؤں رکھے گئے ۔ولیدبن عبدالملک کے عہد میں یہ دیوار گری توحضرت عمر کا پاؤں نظر آنے لگا۔ حضرت صہیب،حضرت علی،حضرت عثمان،حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت عبداﷲ بن عمر نے میت کو قبر میں اتارا۔ طلحہ بن عبیداﷲتدفین میں بھی شامل نہ ہو سکے۔
حضرت عبدالرحمان بن عوف نے آلۂ قتل چھرابتایا جو انھوں نے پہلے ہرمزان اور جفینہ کے پاس دیکھا پھر حضرت عمر کی شہادت کے وقت ابولؤلؤہ کے پاس سے ملا۔ عبدالرحمان بن ابو بکر کے بیان کے مطابق وہ دو دھاری خنجر (کٹار) تھاجو ابولؤلؤہ کے ہاتھ سے اس وقت گرا تھا جب وہ ہرمزان اور جفینہ سے سرگوشیاں کر رہا تھا۔یہی زیادہ مشہور ہے۔ عبید اﷲ بن عمر نے قتل کی سازش میں ان دونوں کی شرکت کا سنا تو گلے میں تلوارلٹکاکر نکل کھڑے ہوئے۔ پہلے ہرمزان کو بلاکر اس پر وار کیا ،اس نے کلمہ پڑھتے ہوئے جان دی پھر پیشانی پر تلوار چلا کر جفینہ کو قتل کیا۔عبید اﷲ نے جوش غضب میں ابو لؤلؤہ کی چھوٹی بچی بھی ماررڈالی جو مسلمان تھی اور کہا،یہ اجنبی فساد کی جڑ ہیں۔ وہ مدینہ میں موجود تمام عجمیوں کو ختم کر دینا چاہتے تھے کہ عبدالرحمان بن عوف اور دوسرے اہل ایمان نے انھیں قابو کر کے قید کر دیا۔ سیدنا عثمان نے خلیفہ بنتے ہی عبیداﷲ کو بلایا ،وہ انھیں قصاص میں قتل کرنا چاہتے تھے کیونکہ انھوں نے دو مسلمانوں اور ایک ذمی کی جان لی تھی۔حضرت علی نے ان کی تائید کی لیکن باقی مسلمانوں نے کہا ،کل عمر شہید ہوئے، آج ان کے بیٹے کو قتل کر دیا جائے؟عمرو بن عاص نے مشورہ دیا،یہ قتل خلیفۂ ثالث کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہو چکے تھے اس لیے ان پر کوئی ذمہ داری نہیں۔پھر بھی حضرت عثمان نے ہرمزان کے بیٹے سے قصاص لینے کو کہا لیکن اس نے معاف کر دیا۔انھوں نے جفینہ اورابو لؤلؤہ کی بیٹی کی دیت اپنی جیب سے ادا کر دی۔
محمد حسین ہیکل کہتے ہیں،محض ابو لؤلؤہ کے خراج کا زیادہ ہونا اور عمر کا اس کی سفارش نہ کرنا ان کی جان لینے کا باعث نہیں ہو سکتا۔ایک ایرانی نے عمر کو قتل کی دھمکی دی ،ایک یہودی نے انھیں تنبیہ کی اور اس سازش کے پس منظر میں ایک اورایرانی اور ایک عیسائی شریک تھے۔اس طرح یہ عمر رضی اﷲ عنہ کو منظر سے ہٹا کر مسلمانوں کی جمعیت منتشر کرنے کا سہ فریقی منصوبہ تھا جو فوری طور پر کامیاب نہ ہوا۔مسلمانوں میں خانہ جنگی ہوئی اور خلافت کا شیرازہ بکھر گیا تو یہ پاےۂ تکمیل کو پہنچا۔
مجلس انتخاب کا اجلاس ہواتو اولاً یہ معلوم کیا گیا کہ کون خلیفہ بننے کی خواہش نہیں رکھتا۔حضرت عثمان اور حضرت علی کے علاوہ باقی چاروں اصحاب رسولؐ یہ منصب نہ چاہتے تھے۔زبیر علی کے اورطلحہ عثمان کے حق میں دست بردار ہو گئے، سعد نے اپنااختیار عبدالرحمان کوسونپ دیاجوخود بھی پیچھے ہٹ چکے تھے۔ انھی کی ذمہ داری لگی کہ وہ عثمان وعلی میں سے ایک کو منتخب کرلیں۔ بنو ہاشم حضرت علی کو خلیفہ بنانے چاہتے تھے جب کہ قریش کی باقی شاخیں چاہتی تھیں ،نبوت و خلافت ایک ہی خاندان میں اکٹھی نہ ہو ں۔عبدالرحمان نے ممکن حد تک سب اہل ایمان سے مشورہ کیا،انفرادی اور اجتماعی طور پر ،پوشیدہ اور علانیہ حتیٰ کہ وہ عورتوں ،بچوں اور مدینہ میں وارد ہونے والے مسافروں کے پاس بھی گئے۔ ایک جم غفیر نے حضرت عثمان کو خلیفہ بنانے کا مشورہ دیاتو انھوں نے بھی یہی فیصلہ کر لیا۔ اعلان کرنے سے پہلے انھوں نے انھوں نے حضرت علی سے پوچھا ،اگر آپ کو خلافت نہ ملی تو آپ کے خیال میں یہ ذمہ داری کسے اٹھانی چاہیے؟ انھوں نے جواب دیا،عثمان کو۔یہی بات انھوں نے حضرت عثمان سے پوچھی تو انھوں نے حضرت علی کا نام لیا۔ انھوں نے ان دونوں سے اقرار لیا کہ وہ منتخب خلیفہ کی پوری اطاعت کریں گے ۔ منبر رسولؐ پر چڑھ کران دونوں سے پھرپوچھا ،کیا وہ کتاب اﷲ ،سنت رسول اﷲؐاورشیخین ابو بکر و عمر کے عمل کے مطابق کام کریں گے؟ان کے اقرار کے بعد عبدالرحمان بن عوف نے حضرت عثمان کا ہاتھ تھاما،آسمان کی طرف سراٹھا کر اﷲ کو گواہ بنایااورکہا، میں نے یہ ذمہ داری عثمان کو سونپ دی ہے۔ بیعت عامہ اس کے بعد ہوئی۔

سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ کی عمر ۶۰ سال ہوئی،۵۳ سے لے کر۶۳ سال تک مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ان کا دور خلافت ۱۰ سال۵ مہینے ۲۱(دوسرا قول:۱۰ سال ۶ ماہ۴دن) دن رہا۔ انھوں نے زمانۂ جاہلیت میں تین شادیاں کیں، (۱) زینب بنت مظعون جن سے عبداﷲ ،عبدالرحمان(اکبر) اور حفصہ پیدا ہوئے۔(۲) ملیکہ بنت جرول جن سے عبیداﷲ اور زید(اصغر)نے جنم لیا۔ملیکہ نے اسلام قبول نہ کیااور نکاح فسخ ہونے کے بعد ابو جہم بن حذیفہ سے شادی کر لی۔ا بن سعدنے ان کا نام کلثوم بنت جرول بتایاہے۔ (۳) قریبہ بنت ابو امیہ جو بے اولاد اور غیرمسلم رہیں۔ بعد میں عبدالرحمان بن ابو بکر کی زوجیت میں آئیں۔ قبول اسلام کے بعد عمر کی۴ شادیاں ہوئیں۔ (۱) ام حکیم بنت حارث جن سے فاطمہ کی ولادت ہوئی۔کہا جاتا ہے ،ان کو طلاق دے دی تھی۔(۲)جمیلہ بنت ثابت جن کا نام نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے عاصیہ سے تبدیل کر کے جمیلہ رکھا تھا۔ان سے عاصم متولد ہوئے۔ انھیں بھی طلاق دے دی (۳) ام کلثوم جو حضرت علی اور سیدہ فاطمۃ زالزہرا کی بیٹی تھیں۔ان سے زید(اکبر) اور رقیہ پیدا ہوئے۔ (۴) عاتکہ بنت زید جو عمر سے پہلے عبداﷲ بن ابوبکر سے اور ان کی شہادت کے بعد زبیر بن عوام سے بیاہی گئیں۔ان سے عیاض متولد ہوئے۔ یمن سے تعلق رکھنے والی لھیّہ ام ولد تھیں،ان سے عبدالرحمان (اوسط) نے جنم لیا۔ عبدالرحمان (اصغر) دوسری ام ولد سے پیدا ہوئے۔ فکیھہ بھی ام ولد تھیں ، ان سے عمر کی سب سے چھوٹی بیٹی زینب کی ولادت ہوئی۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے ام کلثوم بنت ابو بکرکو نکاح کا پیغام بھیجا تو انھوں نے انکار کر دیا اورکہا ، آپ سخت زندگی بسرکرتے ہیں۔وہ حضرت عائشہ کی ترغیب پر بھی آمادہ نہ ہوئیں۔

حضرت عمربالوں پر مہندی لگاتے تھے۔ان کی انگوٹھی پرنقش تھا،کفی بالموت واعظاً یاعمر،اے عمر!موت کا نصیحت گر ہونا ہی کافی ہے۔ کپڑوں پر اکثر و بیشتر چار چار رنگ برنگے پیوند لگے ہوتے۔سائب بن یزید کہتے ہیں ،قحط کے سال میں نے ان کے تہ بند پر ۱۶ پیوند گنے۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا،''اگر میرے بعد نبی آنا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔'' (ترمذی:۳۶۸۶)کچھ صحابہ کا خیال تھا ،علم کا ۱۰/۹ حصہ عمر کے پاس اور باقی ۱۰/۱ دوسرے لوگوں کے پاس ہے۔ حضرت عائشہ نے کسی کے استفسارپر بتایا ،عمر کو فاروق کا لقب نبی صلی اﷲ علیہ سلم نے عطا فرمایا ۔آپؐکا ارشاد ہے، ''اﷲ نے عمر کی زبان اوران کے دل پر حق جاری کر دیاہے۔''(ترمذی :۳۶۸۲)آپؐ نے عمر کومخاطب کرکے فرمایا، ''شیطان تم سے ڈرتا ہے ،عمرؑ !''(ترمذی ۳۶۹۰) ایک دن آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا،''میرے دو وزیر آسمانوں میں رہتے ہیں اور دو وزیروں کا تعلق زمین سے ہے ۔آسمانی وزیر جبریل و میکائیل اور زمینی ابو بکر وعمر ہیں۔'' (ترمذی:۳۶۸۰،سند میں ضعف ہے )یہ فرمان نبوی ؐ توہرمسلمان نے جمعہ کے خطبات میں سناہو گا، ''میری امت میں امت کا سب سے بڑھ کرترس کھانے والے ابو بکر ہیں اوران میں اﷲ کے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ شدت رکھنے والے عمر ہیں۔''(مسند احمد :۱۳۹۹۰)حذیفہ بن یمان روایت کرتے ہیں ،ہم ایک روز نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپؐنے فرمایا، ''میں نہیں جانتا ،میں تمھارے ساتھ کتنی دیر رہ پاؤں گا۔ میرے بعد ان دونوں کی پیروی کرنا۔''آپؐ نے ابو بکر و عمر کی طرف اشارہ فرمایا۔ (مسند احمد:۲۳۲۷۶)یہ وہ عمر تھے جنھوں نے غزوۂ تبوک کے موقع پر اپنی آدھی جائیداد دے دی تھی اور خیبر میں زرخیز زمین خرید کر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے مشورے سے اسے وقف کر دیا تھا۔اسلام لانے کے بعد انھوں نے اپنے قبیلے کے کسی شخص کو حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے قتل کی سازش میں شریک نہ ہونے دیا۔غزوۂ بدر میں بھی ان کے قبیلے کا ایک کافر بھی نہ آیا۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں، ''میں ابوبکر کے بعد اس امت کے بہترین آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟فرمایا،وہ عمر ہیں۔ (مسند احمد:۸۳۳) حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ، ''میں(خواب کے اندر)جنت میں داخل ہواتو ایک محل دیکھا ،پوچھا ،یہ کس کا ہے؟فرشتوں نے بتایا،یہ عمر کاہے۔''(مسلم ۶۱۹۸)

عمر کے چند اقوال :
  •  قوت کار اسی میں ہے کہ آج کا کام کل پر نہ ٹالو۔
  • امانت ا س چیز کا نام ہے کہ انسان کا باطن اس کے ظاہر کے خلاف نہ ہو۔
  • اﷲ سے ڈرو! تقویٰ کوشش سے حاصل ہوتا ہے ۔جو اﷲ سے ڈرتا ہے اﷲ اسی کو بچاتا ہے۔
  • عمر کو معلوم ہوا ،قریش کے کچھ افراد لوگوں سے ملنے جلنے سے کتراتے ہیں تو فرمایا، آپس میں ملاقاتیں کرتے رہو اور اپنی نشستیں عام کر دو۔اسی طرح تمھاری با ہمی الفت برقرار رہ سکتی ہے۔
  • کسی شخص کا ذکر ان کے سامنے یوں ہوا،وہ اتنا صاحب فضل ہے کہ برائی کو جانتا تک نہیں۔ کہا ،تب تو ضرور برائی میں جا پڑے گا۔

مطالعۂ مزید:الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، تاریخ الامم و الملوک (طبری)، البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)، الاستیعاب فی معرفۃالاصحاب (ابن عبد البر)، ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء (شاہ ولی اﷲ دہلوی)، الفاروق عمر(محمد حسین ہیکل)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (مقالہ: ڈاکٹر حمید اﷲ)
Source: http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/Hazrat-Omer-farooq-14


...................................................

Umar ibn al Khattab among the most influential people in history

By: Mohammad Yacoob   Source: IslamiCity


Michael H. Hart wrote a book entitled “THE 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History” in 1978. Several other authors have written similar books but this still remains a distinguished book in it’s category. The book is thought provoking and encourages the reader to see history from different perspectives.

He chose Prophet Muhammad to lead the list of the world’s most influential persons which was surprising to many people. He said he chose Muhammadﷺ because he was the only person in the history who was supremely successful on both the religious and secular levels. Michael Hart went on to count the traits and qualities of Prophet Muhammad and his overall impact on human history and arrived at the conclusion that Prophet Muhammad should be the number one person in the filed of 100 influential persons in human history.

Another surprise to many people was Michael Hart’s choice of Umar Ibn Al-Khattab among the 100 influential persons, whom he not only included among these 100 persons but also put him as number two on the second half (51 to 100) of his choice. Umar Ibn Al-Khattab is 52nd on the list. He ranked him higher than such famous men as Charlemagne and Julius Caesar. He further says that Umar’s brilliant leadership was responsible for the expansion of the Islamic territory and the enormous extent that it did occur under him. He further says that Umar Ibn Al-Khattab ordered the Muslim armies to leave the natives of the conquered land in peace and ordered the military personnel not to force the natives to convert to Islam. 

In the parenthesis Michael put his note, “From the above, it is clear that the Arab conquest was more a nationalist war of conquest rather than a holy war, although the religious aspect was not lacking”. Michael Hart further says that Umar ibn Al-Khattab’s achievements are impressive and it would be a grave mistake to ignore his contributions to humanity. It should be noted that Umar Ibn Al-Khattab’s brilliant leadership was responsible for permanence of the territories that came under the Islamic role at that time and are still part of the Islamic world today.

Umar Ibn Al-Khattab is a pioneering figure in the Islamic world. He was a leader, a statesman, a pious and God conscious Muslim who showed respect for all individuals including non-Muslims and he ordered the Muslims to treat non-Muslims with respect. He showed us how to apply the Quranic injunction "there is no compulsion in religion."

Under the leadership of Umar ibn Al-Khattab Islam spread widely not by the sword but by virtue of its beauty, simplicity, transparency, openness and the leadership provided by him. Another reason for the rapid growth of Muslim community was the conversion of some high-placed religious personalities from among the Jewish and the Christian communities. These religious personalities saw Islam as a continuation and affirmation of the Abrahamic faith. Ardkun, the Bishop of Damascus, accepted Islam after the Islamic armies entered the city under Khalid bin Walid. The followers of Ardkun became attracted towards the new faith and became Muslim. The chief administrator of the city of Shata in Egypt, famous for its textiles manufacturing, left his town with two thousand men and went to city of Damietta where the Muslim army was camped and embraced Islam with his followers.

During the time of Umar ibn Al-Khattab, the non-Muslims enjoyed freedom of religion. They were free to perform their religious rites, ring bells to start their religious ceremonies, take out the Cross in procession and hold religious fairs. Even treaties were signed during the time of Umar ibn Al-Khattab with non-Muslims that guaranteed freedom of religion. The writ of Hudhaifa bin al-Yaman to people of the region of Mahdinar says, “They shall not be required to change their religion, nor shall any interference be made in their religious practices.”

Umar ibn Al-Khattab followed the principle of equality very strictly and would not tolerate any kind of distinction. Once, Umar ibn Al-Khattab had a difference of opinion with Ubayy bin Ka’b. The matter was referred and brought in the court of Qazi Zaid bin Thabit. When Umar ibn Al-Khattab arrived at the court the Qazi, Zaid bin Thabit, vacated his seat out of respect for the Khalifah. Umar ibn Al-Khattab, after observing the situation, said that this was the first injustice Zaid has done to the suit. Then he sat down next to Ubayy, his opponent.

Umar ibn Al-Khattab always favored individual freedom and self-respect. By word of mouth and through his writings he made it very clear that every human being was born free and no one should have to abase himself in front of others. Once, the son of Amr bin As abused and beat up a Copt Christian; on hearing this Umar ibn Al-Khattab had son of Amr punished publicly by the hand of the victim Copt Christian. Then Umar ibn Al-Khattab addressed both father and son and said, “Since when have you turned men into slaves, whereas they are born free of their mothers?”

The people of many cultures who accepted Islam faced new challenges. More complex questions regarding the Islamic way of life cropped up at the same time. Many of the questions could not be answered because clear rulings of the Holy Prophet or the Holy Qur’an were not available. The Qadis and Muftis appointed in towns and cities were Companions of the Prophet, yet they referred complicated questions to the Khalifah. The famous Sahabis who referred the question to Umar Ibn Al-Khattab are Abdullah bin Ma’sud, Ammar bin Yasar, Abu Musa Ash’ari, Abu Ubaidah bin Jarrah, Mughira bin Shuba and others. Umar ibn Al-Khattab gave his judgment after discussing these questions in the assembly of the companions. The discussions were conducted with the greatest freedom and acumen. Shah Wali-Ullah writes in Hujjatullah al-Baligha, “It was Umar’s practice to consult the companions and hold discussions with them, until the veils were lifted and conviction was attained. For this reason Umar’s dicta were accepted throughout the East and the West.”

It is said that his writings, his letters and official instructions were as powerful as his speeches. In a letter to Abu Musa Ash’ari he wrote, “People generally hate their ruler, and I seek protection of Allah, if my people should entertain similar feelings about me. Avoid vain suspicions and keep away from malice, and don not encourage people of cherish vain hopes, and be careful of Allah’s property, and guard yourself against evil men. If you find any people who are vindictively inclined towards the Muslim state, it is devilish inclination and must be put down by the sword, until they bow to Allah’s decision and turn to better ways”

In another letter to Abu Musa Ash’ari he said, “The thing that strengthens one in execution of work and that one should not procrastinate; for if you do so, your affairs will heap up and overwhelm you and you will not then be able to decide what to do and what not to do, and you will fail in your work.”

Umr Ibn Al-Khattab appointed Amr bin Al-As as the Governor of Egypt. Amr bin Al-As delayed remitting the revenue to the treasury. Umar ibn Al-Khattab wrote to him and reminded about the delay. Amr bin Al-As procrastinated. Umar ibn Al-Khattab sent him a strong letter, he wrote, “I understand that the thing that has kept you from replying is the fact that your subordinates are not good. They have made you a shield, and it is a disease for which I possess an effective remedy. I am surprised that I have written to you often and at length, but you neglected sending the revenue and have avoided giving straight answers. So Abu, Abdullah, don’t worry. Due shall be taken from you and you shall pay them, for as the river yields pearls, so will you have to render the dues.”

Umar ibn Al-Khattab used to end his speeches with following statement: “O God, let me not fall into an error, nor let me be called to account on unawares, nor let me fall into neglect.”

Umar ibn Al-Khattab’s actions speak louder about his character, his integrity and his love for the people in the Muslim state. He made rounds at night to gauge and evaluate the condition of the people. His achievements are reflection of his life.

Sayings of Umar ibn Al-Khattab:

Umar ibn Al-Khattab always had a sound opinion, which made him a very powerful leader who expected higher degree of integrity from the people working with him during his Khilafate. Some of his wise sayings are quoted here:

  • One who keeps his own counsel keeps his affairs in his own hand. 
  • Fear him whom you hate. 
  • The wisest man is he who can account for his actions. 
  • Do not put off today’s work till tomorrow. 
  • What regresses never progresses?
  • He who does not know evil will fall into it. 
  • When a man asks me a question, I know his intelligence.
  • Don’t forget your own self while preaching to others. 
  • The less of the world, the freer you live. 
  • Avoidance of sin is lighter than the pain of remorse. 
  • If patience and gratitude had been two she camels, it would have mattered little on which I rode. May God have mercy on him who sends me my faults for a present! 
  • During his Hajj pilgrimage to Makkah, Umar ibn Al-Khattab heard one of the camel drivers singing. People asked Umar ibn Al-Khattab as to why he did not stop the camel driver from singing. Umar ibn Al-Khattab replied, “Music was the camel driver’s provision for a journey.”
Some of the Achievements of Umar ibn Al-Khattab:

  1. Umar ibn Al-Khattab established many institutions in the Islamic state’s administration. Historians have called his reforms as innovations. The achievements of Umar ibn Al-Khattab are numerous. The most important achievements are listed below:
  2. Umar ibn Al-Khattab established the public treasury: Bait-ul-Mal
  3. Established courts of justice and appointed judges.
  4. Proposed and enforced use of the era of Hijra.
  5. Assumed the title of Amir-ul-Mu’minin.
  6. To engage the anti-Islamic forces he organized and established the War Department.
  7. Placed army reserves on the pay-roll. In addition to this, Umar Ibn Al-Khattab improved the army administration by providing every army corps with an officer of the treasury, an accountant, and number of interpreters, physicians and surgeons. He instructed the army commanders to submit accounts of war expenditures and list of the spoils of war. Historical records show that in 16 Hijri Ziyad bin Abi Sufyan came from city of Jalula – after its conquest – and brought with him the records of the accounts to Madinah and submitted them for Umar ibn Al-Khattab’s perusal and review.
  8. Established Land Revenue Department, ordered survey and assessment of lands and also ordered conducting census. This required maintenance of the land revenue records in Persian, Syriac and Coptic languages. The accounts were kept on long rolled-up sheets.
  9. Founded cities: Kufah, Basrah, Jazirah, Fustat and Musal and undertook construction and building of canals.
  10. Divided conquered countries into provinces.
  11. Ordered collecting customs duties. 
  12. Appointed officials for the collection of tax on the produce of sea.
  13. Gave permission to traders from foreign countries to conduct business in the Islamic territory.
  14. Organized jails and enforced use of the whip.
  15. Made rounds at night to gauge and evaluate the condition of the people. For relaxations he enjoyed lighter pursuits including poetry. Once he asked Abdullah bin Abbas to recite him poetry the whole night. At the time when dawn was breaking, he said, “Now recite the Holy Qur’an.” During one of his night rounds around the city he heard the sound of music. He stopped and listened to the music and then moved on. 
  16. Established military cantonments and had them located at strategic points. 
  17. Organized Police Department.
  18. Set up a system to classify pedigree and non-pedigree horses.
  19. Built houses on the road from Makkah to Madinah for the comfort of the travelers and also established guest-houses in different cities. At that time a system was established for the clearance of land, construction of roads, building of bridges and other operations which are carried out by sappers and miner in present day armies. The local people of the lands were recruited to perform these duties. 
  20. Provided stipends for the poor Jewish and Christian people. 
  21. Established schools and provided salaries for school teachers and public lecturers. 
  22. Proposed the principle of Qiyas and its formulation.
  23. Proposed exact division of inheritance.
  24. Proposed and inserted additional statement “Prayer is better than sleep” in the call for Fajr prayers.
  25. Ordained performing taraweeh prayers in congregation.
  26. Established law for the punishment of alcohol drinkers with eighty lashes.
  27. Proposed a method for preparing trusts.
  28. Obtained consensus of opinion for saying four takbirs in funeral prayer.
  29. Made arrangements for providing lights in mosques at night. It is stated that until the Khilafate of Umar ibn Al-Khattab there were no arrangements for lights in the mosques. A person by name Tamim Dari made the arrangements and supplied lamps for the mosques with Umar ibn Al-Khattab’s permission.
  30. Established a procedure to giving salaries from the public treasury to Imams and Muazzins.