Featured post

Counter Sectarianism Narrative انسداد فرقہ واریت

انسداد فرقہ واریت مختصر تاریخ اورعملی اقدامات وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ ’’اور تم سب...

محمد علی جناح جیسے ماڈرن شخص کومسلمانوں اور(کچھ) علماء نے کیوں اپنا ” قائد اعظم“ مانا ؟

Image result for jinnah family

قائد اعظم قیادت کے اس معیار پر پورا نہیں اترتے تھے جو مذہبی فکر میں تشکیل پاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود کیا سبب ہے کہ وہ مولانا اشرف علی تھانوی سے لے کر جماعت علی شاہ تک، مسلکی تقسیم سے ماورا، اہل مذہب کے لیے قابل قبول بن گئے؟ 

ہماری مذہبی فکر کی تشکیل میں بنیادی پتھر روایت ہے۔ یہ فکر کے اعتبار سے ہے اور تہذیبی اعتبار سے بھی۔ عرب کلچر، مذہبی لاشعور میں، مذہب ہی کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے ہماری مذہبی روایت میں اس سے قریب تر رہنے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے۔ دینی مدارس میں جو شخصیات ڈھلتی ہیں، وہ فکر ہی نہیں حلیے کے اعتبار سے بھی غیر مذہبی لوگوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر سر پر ٹوپی رکھنا اس روایت کا ایک حصہ ہے۔ ایک طالب علم سے لے کر معلم تک، سب اس کا لحاظ رکھتے ہیں۔ مدرسے میں ٹوپی پہننا لازم ہے۔ داڑھی کی بات دوسری ہے کہ ہماری روایتی مذہبی فکر میں یہ دین کا حصہ ہے، لیکن ٹوپی کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود مدرسے میں ٹوپی پہننا لازم ہے۔ یہ اس لیے کہ یہ نظام تہذیبی اعتبار سے بھی جو انسان پیدا کرنا چاہتا ہے وہ ٹوپی سے بے نیاز نہیں ہوتا۔ 

قائد اعظم تہذیبی اعتبار سے سے بالکل مختلف تھے۔ وہ جدید آدمی تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کا لباس اور رہن سہن کیسا تھا۔ یہ ظاہری لبادہ ایک مذہبی فکر کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ حتیٰ کہ مولانا مودودی کے لیے بھی نہیں، جو نسبتاً ایک جدید عالم دین تھے۔ انہیں بھی مسلم لیگ کی صفوں میں ایک ایسا آدمی دکھائی نہیں دیا‘ جو اسلامی کردار کا نمونہ ہو۔ اس کے باوجود اگر اہل مذہب کے ایک بڑے طبقے نے قائد اعظم کو اپنی سیاسی قیادت کے لیے منتخب کیا تو کیوں؟ اس کا جواب جماعت علی شاہ صاحب نے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مسلمان قوم کو ایک مقدمہ درپیش ہے اور اسے ایک وکیل کی ضرورت ہے۔ وکیل میں یہ صفات ہونی چاہئیں کہ وہ دیانت دار ہو اور اہل ہو۔ قائد اعظم میں یہ دونوں خصوصیات موجود ہیں۔ 

میرا احساس ہے کہ یہی خیال قائد اعظم کے بارے میں دیگر علماء کا بھی تھا‘ جنہوں نے تحریک پاکستان میں ان کی قیادت کو قبول کیا۔ جن کا خیال یہ تھا کہ تقسیم ہند ہی مسلمانوں کے مسائل کا حل ہے، انہوں نے محمد علی جناح کو قائد اعظم مان لیا۔ گویا سیاست کا مسئلہ مثالی اور غیر مثالی میں تقسیم کا نہیں ہے۔ اس باب میں حقیقت پسندی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی، شخصی اعتبار سے، جس میں سرفہرست علم و فضل ہے، ممکن ہے مولانا ابوالکلام آزاد کو ترجیح دیتے ہوں، لیکن سیاسی میدان میں ان کا انتخاب قائد اعظم ہی تھے۔ آج پاکستان کے عوام کو بھی ایک مقدمہ درپیش ہے۔ یہ پاکستان کا مقدمہ ہے ...... [بشکریہ ، خورشید ندیم . دنیا] http://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2016-04-30/15274/
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits

Corruption کرپشن حرام خودکشی حرام:

Image result for anti corruption posters with slogans
 Corruption & Suicide is clearly forbidden: Quran 4:29

کرپشن صاحب اختیار فرد یا افرد  کا غیر اخلاقی اور بد دیانتی کا طرز عمل ہے جو  اکثر ذاتی فایدے حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے. کرپشن، رشوت اور غبن سمیت کئی  قسم  کی سرگرمیوں پر مشتمل ہو سکتی  ہے- اگرچہ بہت سے ممالک میں جن کو قانونی عمل سمجھا جاتا ہو. 

Corruption is a form of dishonest or unethical conduct by a person entrusted with a position of authority, often to acquire personal benefit. Corruption may include many activities including bribery and embezzlement, though it may also involve practices that are legal in many countries.

   سیاست وابستگی اپنی جگہ مگر حرام کو سپورٹ نہ کرو:
  
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ﴿٢٩﴾ َ

اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے ہو خرید وفروخت، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے  (4:29 Quran)

O you who have believed, do not consume one another's wealth unjustly but only [in lawful] business by mutual consent. And do not kill yourselves [or one another]. Indeed, Allah is to you ever Merciful. (Quran:4:29)

مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا

جو بھلائی کی کی حمایت اور مدد کرتا ہے وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی کی حمایت اور مدد کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے (قرآن ;4:85)


Whoever supports and helps a good cause, will have a reward for it: And whoever supports and helps an evil cause, shares in its burden: And Allah has power over all things.(Quran; 4:85)

حضرت عمر رضی اللہ، خلا فت کے منصب پر بیٹھے تو ا علان فرمایا کہ میری حیثیت یہاں یتیم کے ولی کی حیثیت ہنے اگر مجہے ضرورت ہی نہ ہوئی تو میں بیت المال سے کچھ نہ لوں گا اگر محتاجی ہوئی تو بطور قرض لوں گا اور جب آسانی ہو گی واپس کر دوں گا . (ابن ابی الدنیا ) 
یہ حدیث سعید بن منصور میں بھی ہی اور اس کی اسناد صحیح ہے. بیہقی میں بھی یہ حدیث ہے . ابن عباس رضی اللہ سے اسورہ النساء آیت ٦ کے اس جملے کی تفسیر میں موجود ہنے. ] تفسیر ابن کثیر]

Image result for panama papers nawaz sharif
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کیا آپ پاکستان کے حالات سے پریشان ہیں؟ اپنے پیارے وطن کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں؟ آیے مل کر کچھ کریں 
مزید پڑھیں:
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits

Interfaith Dialogue بین المذاہب مکالمہ

ان دنوں لوگ کئی چیزوں مثلاً جنگ کے خطرات آئے روز ہونے والے تصادم ‘ فضائی اور آبی آلودگی ‘ بھوک زوال پذیر اخلاقی اقدار اور اسی قسم کے دیگر موضوعات کے بارے میں باتیں کررہے ہیں جس کے نتیجے میں کئی دیگر موضوعات سامنے آئے ہیں مثلاً امن ‘ اطمینان ‘ ماحولیات ‘ ا نصاف ‘ رواداری اور باہمی مکالمہ جیسے معاملات بد قسمتی سے ماسوائے چند موثر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے والے فطرت کو مزید مفتوح و مغلوب بناتے ہوئے مزید مہلک ہتھیار بنانے میں کوشاں ہیں ۔

اس مسئلے کی اصل جڑ در اصل مادیت پسندانہ تصور میں پیوست ہے ‘ جس نے عصری سماجی زندگی میں مذہب کا عمل دخل بری طرح سے محدود کردیا ہے ‘ اور اس کا نتیجہ انسانیت اور فطرت کے مابین اور انفرادی سطح پر مرد وزن کے مابین توازن کے بگاڑ کی صورت میں نکلا ہے ۔

صرف چند لوگوں کا اس بات کا احساس ہے کہ سماجی ہم آہنگی ‘نظام فطرت کے ساتھ موافقت ‘انسانوں کے مابین امن واتفاق اور فرد کی ذات کے اندر حسن ترتیب ‘ صرف اسی وقت ہوسکتی ہے جب زندگی کے مادی اور روحانی پہلوﺅں میں باہمی مفاہمت اور جوڑ پیدا ہوگا ۔ نظام فطرت کے ساتھ موافقت ‘ سماج میں امن وانصاف اور تکمیل ذات صرف اسی وقت ہوسکتی ہے جب بندہ اپنے رب کے ساتھ جڑا ہو

مذہب بظاہر متضاد چیزوں مثلاً مذہب اور سائنس ‘ دنیا وآخرت ‘فطرت اور صحائف آسمانی ‘ مادیت اور روحانیت اور روح وجسم میں ہم آہنگی اور مفاہمت پیدا کرتا ہے مذہب سائنسی مادہ پرستی سے ہونے والے نقصانات کے خلاف ایک مضبوط دفاع کا کام کرتا ہے سائنس کو اس کے درست مقام پر لاتا ہے اور اقوام اور لوگوں کے مابین تصادم کو ختم کرتا ہے ۔

فطری سائنس ایک روشن زینے کی بجائے جوکہ رب کائنات سے قربت کا ذریعہ بنتی بے یقینی اور بے اعتقادی کا ایک ایسا ذریعہ بن چکی ہیں جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی کیونکہ مغرب اس بے اعتقادی کا اصل مرکز بن چکا ہے اور عیسائیت اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے اس لئے عیسائیوں اور مسلمانوں کے مابین مکالمہ ناگزیر ہوچکا ہے ۔ بین المذاہب مکالمے کا مقصد محض یہ نہیں کہ سائنسی مادہ پرستی کو نیست ونابود کرتے ہوئے اس کا عالمی سطح پر تباہ کن تصور ختم کیا بجائے بلکہ مذہب کی اصل روح اس چیز کی متقاضی ہے۔ یہودیت ‘ عیسائیت اور اسلام اور حتیٰ کہ ہندو وزم اور دیگر مذاہب ایک ہی منبع کو تسلیم کرتے ہیں اور بشمول بدھ مت اسی مقصد کے حصول کیلئے کوشاں ہیں بحیثیت ایک مسلمان میں تمام انبیاءاور تاریخ میں مختلف قوموں کے لئے بھیجی جانے والی تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتا ہوں اور ان پر ایمان رکھنے کو بطور مسلمان لازمی سمجھتا ہوں ایک مسلمان حضرت ابراہیم ‘حضرت موسیٰ ‘ حضرت داﺅد ‘ حضرت عیسیٰ اور دیگر تمام انبیاءکا سچا پیرو کار ہوتا ہے ۔ کسی ایک بھی نبی یا آسمانی کتاب پر ایمان نہ رکھنے کا مطلب مسلمان نہ ہونا ہے اس لئے ہم مذہب کی وحدت بنیادی یکجہتی پر یقین رکھتے ہیں جو کہ رب کائنات کی رحمت کا ذریعہ اور مذہب پر ایمان کی آفاقیت کی دلیل ہے ۔

لہٰذا اس طرح مذہب ایمان کا ایک ایسا نظام ہے جو تمام نسلوں اور تمام عقائد کو اپنی آغوش میں لیتا ہے اور ایک ایسی شاہراہ ہے جو کہ ہر فرد کو بھائی چارے کے ہمہ گیر دائرے میں لیتی ہے ۔

قطع نظر اس کے ہر مذہب کے پیرو کار اپنی روز مرہ زندگی میں کس طرح اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں مذہب بالعموم پیار محبت ‘ باہمی احترام رواداری ‘ عفو ودر گزر ‘ خدا ترسی ‘انسانی حقوق کی پاسداری ‘ امن آشتی ‘بھائی چارے اور آزادی جیسی اقدار کو اولیت دیتا ہے ۔ ان میں سے اکثر اقدار کو حضرت موسیٰ ‘ حضرت عیسیٰ ‘ اور محمد کے پیغام میں نمایاں حیثیت حاصل تھی اور اس کے ساتھ ساتھ بدھا ‘زردشت ‘ لاﺅزو ‘ کنفیوشس اور ہندو سکالرز کے پیغام میں بھی ‘

ہمارے پاس نبی پاک حضرت محمد کا بیان موجود ہے جسکا ذکر غالباً حدیث کی تمام کتابوں میں موجود ہے کہ دنیا کے خاتمے کے قریب حضرت عیسیٰ کا پھر سے ظہور ہوگا ‘ہم یہ نہیں جانتے کہ آیا ان کا ظہور جسمانی طور پر ہوگا لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ جب آخری زمانہ قریب آئے گا تو پیار محبت ‘ امن ‘ بھائی چارہ عفو ودر گزر ‘ خدا ترسی اور روحانی پاکیزگی جیسی اقدار کو اولیت حاصل ہوگی جس طرح حضرت عیسیٰ کے دور میں تھی مزید یہ کہ حضرت عیسیٰ کو یہودیوں کی طرف بھیجاگیا تھا ‘ اور کیونکہ تمام عبرانی انبیا نے انہی اقدار کو اولیت دی اس لئے یہودیوں سے مکالمہ ضروری ہوگا اور اسلام ‘ عیسائیت اور یہودیت کے مابین قریبی تعلقات بھی لازمی طور پر قائم کرنے ہوں گے ۔

کٹر مسلمانوں ‘ عیسائیوں اور یہودیوں کے مابین مکالمے کے کئی مشترک نکات ہیں ‘ جیسا کہ فلسفے کے ایک امریکی پروفیسر مائیکل وسکو گروڈ نے کہا کہ مسلمان اور یہودیوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے کی نظریاتی اور مذہبی وجوہات اتنی ہی ہیں جتنی کہ عیسائیوں اور یہودیوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے کی ۔ مزید یہ کہ عملی اور تاریخی طور پر اسلامی دنیا عیسائیوں سے معاملات طے کرنے کا بہتر ریکارڈ رکھتی ہے ۔ ان کے مابین نہ تو کوئی امتیاز ہے اور نہ ہی کوئی ہولو کوسٹ ‘ اس کے برعکس مشکلات کے دور میں ہمیشہ انہیں خوش آمدید کہا گیا ہے مثلاً یہودیوں کو سپین سے نکالے جانے کے بعد سلطنت عثمانیہ نے انہیں گلے لگایا ۔

باہمی مکالمہ اور مسلمانوں کی مشکلات :۔

عیسائی ‘ یہودی اور دوسروں کو باہمی مکالمے کی صورت میں اندرونی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے میں ان چند وجوہات کا جائزہ پیش کرنا چاہوں گا جن کی بناءپر مسلمانوں کو مکالمے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں اور یہی وجوہات اسلام کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کی ذمہ دار ہیں ۔

فلر اور لیسر کے مطابق صرف پچھلی صدی میں مغربی طاقتوں کے ہاتھوں جتنے مسلمان شہید ہوئے پوری تاریخ میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے عیسائیوں کی تعداد اس کے برابر نہیں ۔کئی مسلمان اس سے بھی زیادہ جامع اعداد وشمار پیش کررہے ہیں اور اس یقین کا اظہار کررہے ہیں کہ مغربی پالیسیوں کا مقصد مسلمانوں کو کمزور کرنا ہے ۔ یہ تاریخی تجربہ پڑھے لکھے اور با شعور مسلمانوں کے دلوں میں یقین پختہ کرنے کا باعث بن رہا ہے کہ مغرب اسلام کے خلاف ایک ہزار برس پرانی جارحیت کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سے بھی بڑھ کر تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس کے لئے انتہائی جدید اور پیچیدہ طریقہ کار بروئے کار لائے جارہے ہیں ۔ نتیجتاً کلیساکی جانب سے مکالمے کی دعوت کوشک وشبے کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے مزید برآں اسلامی دنیا بیسویں صدی میں مغرب کے براہ راست یا بالواسطہ غلبے کے سائے میں داخل ہوئی اس دنیا کے سب سے بڑی نمائندہ اور محافظ سلطنت عثمایہ مغربی حملوں کی بناءپر زمین بوس ہوئی ‘ ترکی نے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہد کی بڑی دلچسپی سے حمایت کی مزید یہ کہ 1950ءکی دھائی میں ترکی کے اندر ڈیمو کریٹک پارٹی اور پیپلز پارٹی کے باہمی تصادم کی وجہ سے اسلام کے بارے میں مزاحمت پسندوں اور بعض اوقات دانشوروں کے ذہنوں میں اسلام کا تصادم پزیر مزاحمتی اور سیاسی نظام کا تصور پیدا ہوا بجائے اس کے کہ اسے ایک انسان کی قلبی ‘ روحانی اور فکری اصلاح کرنے والا مذہب سمجھا جاتا بعض اسلامی ممالک بشمول ترکی میں اسلام کو کسی جماعت کی آئیڈیا لوجی سمجھنے کی وجہ سے اس تصور کو مزید تقویت ملی ۔

اس کے نتیجے میں سیکولر سوچ کے حامل افراد اور بعض دوسرے لوگوں نے مسلمانوں اور اسلامی سر گرمیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کردیا ۔

اسلام کو ایک سیاسی نظریے کے طور پر بھی دیکھا جانے لگا کیونکہ مسلمانوں کی جنگ آزادی میں ایک اہم محرک کے طور پر سامنے آیا اس لئے یہ محض حریت پسندی کا ایک نظریہ بن گیاکوئی بھی نظریہ علیحدگی کا باعث بنتا ہے جبکہ مذہب انسان کے ذہن کو روشنی عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ایمان تو کل سکون قلب ‘ احساس اور تجربے کی بنیاد پر ادراک کی قوت بخشتا ہے ۔ مذہب کی بنیادی روح انسان میں ایمان ‘ محبت ‘ خدا ترسی اور ہمدردی پیدا کرنا ہے اسلام کو ایک سخت گیر سیاسی نظریہ اور آزادی حاصل کرنے کے نظریے تک محدود کرنے سے اسلام اور مغرب کے مابین ایک دیوار کھڑی کردی گئی اور اس کی بناءپر اسلام کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں ۔

عیسائی تاریخ نے اسلام کی جو شکل پیش کی اس کی بناءپر بین المذاہب مکالمے کے حوالے سے مسلمانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی کئی صدیوں تک عیسائیوں کو یہ باور کرایاگیا کہ اسلام یہودیت اور عیسائیت کی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے اور اس طرح نبی پاک کو ( نعوذ بااللہ ) ایک بناﺅٹی ‘اور حضرت عیسیٰ کا مخالف بنا کر پیش کیا جاتا رہا جس کی مسلمان ایک دیوتا کے طور پر پرستش کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ آجکل کتابوں میں بھی آپ کو ایک عجیب وغریب تصورات کے حامل شخص کے طور پر جو ہر صورت میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔

مکالمہ ضروری ہے :۔

آج بین المذاہب مکالمے کے اشد ضرورت ہے اور اس کے لئے پہلے قدم کے طور پر ہمیں ماضی کو فراموش کرنا ہوگا مناظرے بازی کو ختم کرنا ہوگا عمومی نکات کو ترجیح دینے کے رجحان کو ختم کرنا ہوگا جو کہ مناظرے بازی سے بھی زیادہ بڑھ کر ہے مغرب میں دانشوروں اور مذہبی پیشواﺅں کے رویوں میں اسلام کے حوالے سے تبدیلی نظر آرہی ہے یہاں میں میسگنن ( مرحوم ) کا حوالہ خصوصی طور پر دینا چاہوں گا جنہوں نے اسلام کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا " حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا دین جس کا احیاءمحمد نے کیا " وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ عیسائیت کے بعد کے دور میں اسلام کا کردار مثبت بلکہ پیغمبرانہ ہے اسلام ایک ایمان ویقین کا دین ہے یہ فلسفیوں کے خدا پر فطری یقین کا دین نہیں بلکہ ابراہیم کے خدا اسحاق کے خدا ‘ اسماعیل کے خدا پر ایمان کا دین ہے یہ رضائے الٰہی کا ایک عظیم اسرار ہے وہ قرآن کی خدائی تصنیف اور محمد کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں ۔

ہمارے نبی پاک کے حوالے سے مغرب کے تصور میں بھی کچھ نرمی پیدا ہوئی ہے عیسائی مذہبی پیشواﺅں کے ساتھ ساتھ کئی مغربی مفکرین میسگنن ‘چارلس جے لیڈٹ ‘ وائے مبارک ‘ آئرین ایم ڈالمس ‘ ایل گارڈٹ ‘ نارمن ڈنئیل مائیکل لی لانگ ‘ ایچ ماریئر ‘ اولیور لے کومبے اور تھامس مرٹن نے اسلام اور نبی پاک دونوں کے لئے گرمجوشی ظاہر کی ہے اور مکالمے کی ضرورت کی بھی حمایت کی ہے اس کے علاوہ سیکنڈ ویٹیکن کونسل نے بھی جس نے باہمی مکالمے کے عمل کا آغاز کیا یہ کہا ہے کہ اسلام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام کے بارے میں کیتھولک چرچ کا رویہ تبدیل ہوچکا ہے کونسل کے دوسرے دور میں پوپ پال ششم نے کہا

" دوسری طرف کیتھولک چرچ اس سے بھی بڑھ کر عیسائیت کے افق سے پرے دیکھ رہا ہے اب یہ ان دیگر مذاہب کی جانب متوجہ ہورہا ہے جو ایک خدا کا تصور محفوظ رکھتے ہیں جو برتر ‘ سب کا خالق اور ہماری قسمت اور فہم ودانش کا مالک ہے یہ مذاہب خدا کی عبادت پورے خلوص اور عملی عقیدت کے اظہار کے ذریعے کرتے ہیں ۔

انہوں نے اس چیز کی بھی نشاندہی کی کہ کیتھولک چرچ ان مذاہب کے خیر ‘سچائی اور انسان پہلوﺅں کی بھی تعریف وتوصیف کرتا ہے ۔

”چرچ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ جدید معاشرے میں مذہب کے مفہوم کی ساکھ بر قرار رکھنے کے لئے اور خدا کی بندگی کی خاطر چرچ از خود بندے پر خدا کے حقوق کی سختی سے تائید کرنے والابنے گا ۔

نتیجتاً آخر میں جاری کئے گئے تحریری بیان میں جس کا عنوان کلیسا کے غیر عیسائی مذاہب سے تعلقات کا اعلامیہ تھا کہاگیا کہ ہماری دنیا میں جو کہ سکڑ چکی ہے اور جہاںتعلقات میں زیادہ قربت آچکی ہے لوگ مذہب سے انسانی فطرت کے ان پر اسرار پہلوﺅں کے حوالے سے جو انسان کے دل کو الٹ پلٹ دیتے ہیں تسلی بخش جواب چاہتے ہیں ۔ انسان کیا ہے ؟ زندگی کا مفہوم اور مقصد کیا ہے ؟ نیکی اور بھلائی کیا ہے اس کا اجرا کیا ہے اور گناہ کیا ہے ؟ اذیت اور ابتلا کا منبع کیا ہے ؟ حقیقی خوشی حاصل کرنے کا کونسا راستہ ہے ؟ موت کیا ہے مرنے کے بعد اعمال کی جانچ پرکھ کیا ہے اور دنیاوی اعمال کے بدلے ملنے والے ثمر کامعاملہ کیا ہے ؟ عدم اور وجود کا اسرار کیا ہے ؟

ان موضوعات کے حوالے سے دیگر مذاہب اپنے اپنے نکتہ ہائے نظر رکھتے ہیں اور یہ کہ چرچ دیگر مذاہب کی اقدار کو کلی طور پر رد نہیں کرتا کونسل دیگر مذاہب کے ممبران سے باہمی مکالمے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔

چرچ اپنے فرزندوں کی بطور عیسائی زندگی بسر کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے بارے میں محتاط انداز میں ہمدردی کے ساتھ ‘مکالمے کے ذریعے اور ان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے انہیں سمجھنے کی اور ان میں اخلاقی اور سماجی اقدار کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ایک دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ پوپ جان پال دوئم اپنی کتاب "CROSSING THE THRESHOLD OF HOPE" میں ( مسلمانوں کی لا پرواہی کی باوجود ) یہ کہتے ہیں کہ مسلمان ہی سب سے بہتر انداز میں دھیان کے ساتھ عبادت کرتے ہیں و ہ اپنے قارئین کو اس بات کی یاد دہانی کرواتے ہیں کہ اس حوالے سے عیسائیوں کو مسلمانوں کو ایک مثالی نمونے کے طور پر لینا چاہئے ۔

اس کے علاوہ آج کی جدید دنیا میں مادیت کے تصورات کی اسلام کی جانب سے مزاحمت اور اس کے اہم کردار پربھی مغربی مبصرین حیران ہیں ۔ ای ‘ ایچ جرجی کے اس حوالے سے مشاہدات بہت اہم ہیں

اپنی اہمیت ‘ اپنی بقاءاور حقیقت مندانہ جذبے کے حوالے سے ‘ نسلی اور مارکسی تصورات کے خلاف یکجہتی کے حوالے سے استحصال کی کھلی ‘مذمت کے حوالے سے بھٹکی ہوئی اور خون آلود انسانیت کے حوالے سے اسلام آج کی جدید دنیا کا سامنا ایک خصوصی مشن کے حوالے سے کرتا ہے نہ تو مذہبی باریکیوں کی بناءپر اسلام کسی مخمصے کا شکار ہے اور نہ ہی یہ اندر سے بٹا ہوا ہے اصول وعقائد کے کٹرپن کے بوجھ تلے بھی نہیں دبا ہوا عزم کی پختگی کا منبع اسلام اور جدید دنیا کا توافق ہے ۔

مسلمان اور مغرب قریباً چودہ سوبرس سے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں مغرب کے نکتہ نظر سے اسلام نے مغرب میں کئی اطراف سے در اندازی کی اور اس کے لئے خطرے کا باعث بنا یہ حقائق اب تک نہیں بھلائے گئے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس محاذ آرائی کی بناءپر مسلمانوں کا مغرب کی مخالفت کرنا یا انہیں نا پسند کرنا اسلام اور مسلمان دونوں کے لئے فائدہ مند نہیں ہے جدید ذرائع مواصلات اور نقل وحمل نے پورے کرہ ارض کو ایک عالمی گاﺅں میں تبدیل کردیا ہے اور اب ہر قسم کے تعلقات باہمی اثرات کے حامل ہیں ۔

مغرب اسلام یا اس کی سر زمین کو صفحہ ہستی سے نہیں مٹا سکتا اور نہ ہی مسلمان فوجیں مغرب کی سر زمین پر پیش قدمی کر سکتی ہیں ۔

مزید برآں اب جبکہ دنیا میں باہمی تعامل مزید بڑھ چکا ہے دونوں اطراف کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتی ہیں مغرب سائنس ‘ ٹیکنالوجی ‘ معاشیات اور فوجی برتری رکھتا ہے تاہم اسلام جس چیز کا مالک ہے وہ زیادہ اہم عوامل ہیں جیسا کہ قرآن اور سنت اسے پیش کرتے ہیں اسلام نے اپنے عقائد کو اس کی روحانی ماہیت کو نیکی اور بھلائی کے تصور کو اور اخلاقیات کو بر قرار کھا ہے اور گزشتہ چودہ صدیوں سے اسلام کے تمام پہلو کھلتے چلے جارہے ہیں اس کے علاوہ اس میں مسلمان کے اندر ایک نئی روح اور زندگی پھونکنے کی قوت چھپی ہے جو کہ کئی صدیوں سے خوابدیدہ تھی اور اس کے علاوہ کئی دوسرے انسانوں میں بھی جو کہ مادہ پرستی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔

کوئی بھی مذہب فلسفے اور سائنس کی آندھی سے متاثر ہونے سے نہیں بچ سکا اور وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ آئندہ یہ آندھی شدت اختیار نہیں کرے گی یہ اور کئی دیگر عوامل مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ یہ اسلام کو خالصتاً ایک سیاسی اور معاشی نظریے کے طور پر پیش کریں اور نہ ہی یہ عوامل مسلمانوں کو اس چیز کی اجازت دیتے ہیں کہ مسلمان مغرب عیسائیت ‘ یہودیت اور کئی دیگر مشہور ومعروف مذاہب مثلاً بدھ مت کو تاریخی تناظر میں دیکھیں اور اس کے مطابق رویہ اپنائیں۔

وہ لوگ جنہوں نے اسلام کو ایک سائنسی نظریے کے طور پر نہ کہ ایک مذہب کے طور پر اختیار کیا ہے انہیں جلد ہی اس بات کا احساس ہوجائے گا کہ اس کے پیچھے کارفرما قوت ذاتی یا قومی عنادو نفرت اور اس قسم کے محرکات تھے ۔

اگر یہ بات ہو تو ہمیں اسلام کو تسلیم کرتے ہوئے بنیادی نکتہ آغاز کے طور پر اسلامی طرز عمل کو نہ کہ موجودہ جبر زیادتی کو اپنانا چاہئے کہ حضرت محمد نے سچا مسلمان انہیں قرار دیا جو اپنے کلام اور عمل سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے اور عالمی امن کے سب سے زیادہ قابل بھروسہ نمائندہ ہیں مسلمان جہاں کہیں بھی جاتے ہیں اس بلند تر احساس کے ساتھ جاتے ہیں جو ان کے دل کی گہرائی میں پرورش پارہا ہوتا ہے کسی کے لئے ایذار سانی یا تکلیف کا باعث ہونے کے برعکس یہ امن اور سلامتی کا نمونہ ہیں ان کے نزدیک جسمانی یا زبانی تشدد مثلاً غیبت ‘ تہمت ‘ تضحیک یا طنز وتشنیع میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہماری سوچ اور فکر کا نکتہ آغاز اسلامی بنیادوں پر ہونا چاہئے مسلمانوں کا باہمی ملاپ واشتراک سیاسی یا نظریاتی بنیاد پر نہیں ہوتا جسے بعد میں محض دکھاوے کے لئے اسلام کا لبادہ پہنادیا جاتا ہے یا محض اپنی خواہشات کو نظریات کے طور پر پیش کردیا جائے اگر ہم اس رجحان پر قابو پا لیں تو اسلام کی اصل شکل وصورت واضح ہوگی اسلام کی موجودہ مسخ شدہ شکل جوکہ اس کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے اور جو مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے ہاتھوں ہوئی اس نے مسلم اور غیر مسلم دونوں کو خوفزدہ کررکھا ہے ۔

سڈنی گریفتھ ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کے تناظر میں مغرب اسلام کو دیکھتا ہے وہ کہتے ہیں امریکی یونیورسٹیوں میں اسلام کو ایک دین کے طور پر نہیں پڑھایا جاتا بلکہ سیاسیات یا بین الاقوامی تعلقات کے ڈپارٹمنٹس میں اسے پولیٹیکل سائنس کے طور پر پڑھایا جاتا ہے اور اسلامی دنیا کے مغرب زدہ حلقوں میں اور ایشیاءاور افریقہ میں غیر مسلموں میں بھی یہی تصور موجود ہے زیادہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اسلام کے پرچم تلے آگے بڑھنے والے کئی گروہوں نے اسلام کا یہی تصور برآمد کیا ہے اور اسی تصور کو تقویت دی ہے

مکالمے کے لئے اسلام کا آفاقی پیغام :۔

چودہ سو سال قبل اسلام کی پکار ان سب میں عظیم تر تھی جس کا تجربہ دنیا کوکبھی بھی ہوا تھا قرآن پاک اہل کتاب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے ۔

” اے اہل کتاب آﺅ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہو ۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلم(صرف خدا کی بندگی اور اطاعت کرنے والے )ہیں۔ (3:64)

یہ پکار جو کہ نو ہجری میں آئی اس کا آغاز " لا" سے ہوا یعنی " نہیں " جوکہ دین اسلام میں لا الہ اللہ ‘ کے طور پر مکمل حکم ہے کسی مثبت چیز کا حکم دینے کی بجائے بعض کام نہ کرنے کا کہاگیا ہے تاکہ الہامی مذاہب کے پیروکار اپنی باہمی دوری کو ختم کر سکیں ایک ایسا وسیع تر بیان جس پر تمام مذاہب کے لوگ متفق ہوسکیں اگر لوگ اس پکار کو مسترد کرتے تو پھر ان کے لئے قرآن پاک کی یہ آیت تھی” تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین“ (109:6)

یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر دوسرے اس پکار کو قبول نہیں کرتے تو ہم اپنے طور پر اللہ کے حضور سربسجود ہیں ہم اس راہ پر چلتے رہیں گے جو ہم نے چنی ہے اور تمہیں تمہاری راہ مبارک ہو ۔

المالیلی حامدی یازر جو کہ ایک مشہور ومعروف ترک مفسر قرآن ہیں نے اس قرآنی آیت کے بارے میں بڑی دلچسپ بات کہی

" اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی طرح مختلف افکار " اقوام ‘مذاہب اور آسمانی صحائف کو ایک فکر اور سچائی میں سمو دیاگیااور اسے کس طرح اسلام نے انسانیت کو نجات اور آزادی کا وسیع ‘فراخ اور سچا راستہ دکھایا ‘ یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ محض عرب اور غیر عرب تک محدود نہیں ہے مذہبی ترقی فکری تنگ نظری اور ایک دوسرے سے دوری سے ممکن نہیں بلکہ ان کی آفاقیت اور وسعت پر منحصر ہے۔

اسلام ہی فکری وسعت اور نجات کی یہ شاہراہ ہے اور آزادی کا یہ اصول ہمارے لئے ایک تحفے کی حیثیت رکھتا ہے بدیع الزماں نورسی نے دائرءاسلام کی کشادگی کو استنبول کی با یذیر مسجد میں اس طرح بیان کیا ۔

ایک مرتبہ میں نے اسم ضمیر "ہم " پر غور کیا جو کہ ایک آیت میں یوں استعمال ہوا ہے ۔ ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں“ (1:5)

اور میرا جی چاہا کہ میں اس بات کی وجہ جان سکوں کہ " میں " کی بجائے " ہم" کا لفظ کیوں استعمال ہوا ہے اور اچانک مجھے با جماعت نماز کی صفت اور اس میں پوشیدہ حکمت سمجھ میں آگئی ۔

میں نے دیکھا کہ بایذیر مسجد میں نماز کی با جماعت ادائیگی سے ہر فرد میری شفاعت کی دعا کرنے والا بن گیا تھا اور جب تک میں قرآن کی قرآت کرتا رہا ہر ایک میری گواہی دیتا رہا ۔

اجتماعی طور پر کئے جانے والے بندگی کے اظہار نے مجھے یہ حوصلہ دیا گیا میں اپنی ٹوٹی پھوٹی نماز کو بارگاہ الٰہی میں پیش کر سکوں۔

اچانک مجھ پر ایک اور حقیقت کا انکشاف ہوا اسنتبول کی تمام مساجد ایک ساتھ با یزید مسجد کی سر پرستی میں آگئیں ۔

مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ سب میرے مقصد کی توثیق کررہی ہیں اور ہر فرد نے مجھے اپنی نماز میں شامل کر لیا ہے ۔ اس وقت میں نے خود کو ایک مسجد میں پایا جوکہ خانہ کعبہ کو چاروں طرف سے دائرے میں لئے ہوئی مساجد میں سے ایک تھی ۔ میرے منہ سے نکلا " اے اللہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں میرے پاس شفاعت کی دعا کرنے والے اتنے بندے ہیں یہ سب بھی وہی کہہ رہے ہیں جو میں کہہ رہا ہوں اور میری بات کی توثیق کررہے ہیں "

اس حقیقت کے انکشاف کے بعد میں نے خود کو کعبہ کے سامنے کھڑا پایا اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے قطار در قطار کھڑے نمازیوں کو گواہ بنایا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ۔

میں نے اس شہادت کا گواہ حجرا سود کو بھی بنایا اور اچانک مجھ پر ایک اور انکشاف ہوا میں نے دیکھا کہ وہ جماعت جس کے ساتھ میں نماز ادا کررہا تھا تین دائروں میں تقسیم ہوگئی ۔

پہلی جماعت اللہ اور اس کی وحدت پر ایمان رکھنے والے مسلمانوں کی تھی دوسرے دائرے میں اللہ کی تمام مخلوقات اللہ کو یاد کررہی تھیں ہر مخلوق اپنے انداز میں عبادت میں مصروف تھی اور میں بھی اس جماعت میں شریک تھا تیسرے دائرے میں میں نے ایک عجیب حلقہ دیکھا جو بظاہر چھوٹا تھا لیکن اپنے فرض کے حوالے سے اور معیار کے حوالے سے بہت بڑا تھا میرے جسم کے ذرات سے لے کر خارجی حواس تک ہر حلقہ بندگی اور اطاعت میں مصروف تھا ۔

مختصر یہ کہ اسم ضمیر " ہم ‘جوکہ " ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں“ میں استعمال ہوا ہے ان تینوں جماعتوں کو ظاہر کرتا ہے میں نے تصور کیا کہ ہمارے نبی جو کہ قرآن کی عملی تفسیرہیں مدینہ میں کھڑے نبی نوع انسان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں لوگو ‘ بندگی اختیار کرو اپنے رب کی۔ (2:21)

دوسرے انسانوں کی طرح میں نے بھی اس حکم کو اپنی روح میں اترتے محسوس کیا اور میری طرح سب نے جواب میں کہا "ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں"

دیگر مذاہب کے پیرو کاروں کے ساتھ کس طرح میل ملاپ کیا جائے :۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

یہ اللہ کی کتاب ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ ہدایت ہے ان پرہیز گار لوگوں کیلئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں (2:2)

بعد میں یہ بتایاگیا ہے کہ یہ متقی لوگ وہ ہیں

جو غیب پر ایمان لاتے ہیں‘ نماز قائم کرتے ہیں جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے ( یعنی قرآن )اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ (2:3-4)

قرآن پاک ابتداہی سے بڑے تیکھے انداز میں لوگوں سے پہلے والے انبیاءاور ان کی کتابوں پر ایمان لانے کو کہتا ہے قرآن پاک کی ابتداءمیں ہی یہ شرط میرے لئے بہت اہم ہے اور خاص کر دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ مکالمہ کے حوالے سے ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں ۔

اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے ۔ (29:46)

اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ کونسا انداز اور کونسا طرز فکر اپنانا ہے بدیع الزماں کا نقطہ نظر اور انداز انتہائی منفرد ہے کوئی بھی شخص جو اپنے مخالف کو بحث میں شکست دینا چاہتا ہو رحم کے جذبے سے خالی ہے ۔

وہ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں

اگر تمہیں شکست ہوجائے اور دوسرا فتح یاب ہوجائے تو آپ کو اپنی خامی دور کرنی چاہئے بحث اپنی انا کی تسکین کے لئے نہیں ہونی چاہئے بلکہ حقائق کی جان کاری کے لئے ہو ایک اور جگہ آتا ہے ۔

اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کیساتھ نیکی اور انصاف کا برتاﺅ کرو جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالاہے اللہ انصاف کرنیوالوں کو پسند کرتا ہے ۔ (60:8)

بعض لوگوں کے مطابق بعض آیات میں اہل کتاب پر سخت تنقید کی گئی ہے درحقیقت اس قسم کی تنقید غلط رویوں کے خلاف غلط سوچ ‘ سچائی مزاحمت ‘ نفرت پیدا کرنے والی نا پسندیدہ عادات کے خلاف ہے انجیل میں اس قسم کے رویوں کے خلاف زیادہ سخت تنقید موجود ہے تاہم اس قسم کی سخت تنقید کے بعد لوگوں کے دلوں کو سچائی کے لئے بیدا کرنے اور امید پیدا کرنے کے لئے نرم الفاظ استعمال کئے گئے ہیں

اس کے علاوہ قرآن پاک نے یہودیوں ‘ عیسائیوں اور مشرکوں کے جن رویوں پر تنقید کی ہے ان کا رخ ان مسلمانوں کی طرف بھی ہے جو اس قسم کے طرز عمل کا شکار ہوئے قرآن پاک کے قاری اور مفسر دونوں اس بات پر متفق ہیں الہامی مذاہب بد نظمی اور بے ترتیبی ‘ دھوکا وفریب فساد اور ظلم کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں اسلام کا لفظی مطلب امن ‘ سلامتی اور بھلائی ہے فطری طور پر امن ‘ سلامتی اور بھلائی کا دین ہونے کے ناطے اسلام جنگ کو ایک غلط رویے کے طور پر دیکھتا ہے جس پر قابو پانا چاہئے تاہم ذاتی دفاع کا معاملہ استثنائی ہے جس طرح کے ایک جسم اپنے اوپر حملہ آور ہونے والے جراثیم کے خلاف لڑتا ہے تاہم ذاتی دفاع بھی چند رہنماءاصولوں کے مطابق ہونا چاہئے اسلام نے ہمیشہ امن اور بھلائی کی بات کی ہے جنگ کو ایک حادثہ قرار دیتے ہوئے اسلام نے جنگ کو بھی متوازن بنانے اور ایک حد میں رکھنے کے لئے قانون بنائے ہیں مثال کے طور پر اسلام انصاف اور عالمی امن کو اس طرح لیتا ہے ۔

کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جاﺅ ۔ (5:8)

اسلام نے جو دفاعی حد تخلیق کی اس کی بنیاد مذہب جان ومال ‘فکر اور نسل کشی کا تحفظ کرنے والے اصول تھے ۔ موجودہ قانونی نظام نے بھی یہی کہا ہے ۔

اسلام انسانی زندگی کو سب سے زیادہ قیمتی سمجھتا ہے اسلام ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل سمجھتا ہے ۔ کسی ایک انسان کے قتل سے مراد کسی بھی انسان کا قتل لیاجاتاہے ۔ حضرت آدم کا بیٹا قابیل پہلا قاتل تھا اگر چہ کہ ان کے نام قرآن پاک یا سنت میںتخصیص کے ساتھ نہیں دیئے گئے لیکن ہم انجیل میں پڑھتے ہیں کہ قابیل نے ہابیل کو غلط فہمی کی بناءپر رقابت کی آگ میں جل کر ناجائز طور پر قتل کردیا تھا ۔

اس طرح خون خرابے کے دور کا آغاز ہوا اسی بناءپر ایک حدیث میں نبی پاک فرماتے ہیں ۔

" جب بھی ایک ناجائز قتل کیا جاتاہ ے تو اس کا کچھ گناہ قابیل کے حصے میں بھی لکھ دیا جاتا ہے کیونکہ اس نے ناجائز قتل کی راہ کھولی تھی۔

قرآن پاک میں یہ بھی ارشاد ہوتا ہے کہ جس کسی نے ایک انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا اور جس کسی نے کسی ایک انسان کی جان بچائی اس نے کل انسانیت کی جان بچائی (5:32)
 فتح گلولین کے منتخب مضمون
مزید پڑھیں:
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

  3. عمر ضائع کردی:  صحیح اسلام، متفقہ علیہ کی تبلیغ اور اصلاح منکرات کی بجایےعلماء مسلکی ، فقہی  مسائل پر بحث  میں زندگی ضایع کر دیتے ہیں (مولانا محمّد شفیع رح http://goo.gl/3ZaTwQ

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
Humanity, ReligionCultureSciencePeace
 A Project of 
Overall 2 Million visits/hits

درسِ نظامی پر اشکالات کا جواب



گزشتہ دنوں ایک دینی مدرسہ کے طالب علم نے نہایت اضطراب کی حالت میں اور ڈرتے ڈرتے ایک سوال نامہ پیش کیا اور اس کے جواب کی فرمائش کی، ایک صبح اٹھ کر جواب لکھنے بیٹھا تو خلاف معمول ایک ہی نشست میں اُسے مکمل کردیا، جو کسی قدر نوک پلک درست کرنے کے بعد نذرِ ناظرین ہے:

حضرت محترم ! السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ 

حضرت ! بندے کے دل میں کافی عرصے سے مدارس کے نصاب کے متعلق چند اشکالات و سوالات ہیں، جنھوں نے ایک اضطرابی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے، لہٰذا بندہ اس سے خلاصی پانے کیلئے تمام اشکالات کو آپ کی نظر کرنا چاہتا ہے۔ امید ہے کہ شفقت کے ساتھ سوالات کاجواب مرحمت فرمائیں گے۔

(۱) مدارس میں جدید فقہی مسائل کیوں نہیں پڑھائے جاتے؟ 

حالانکہ وہ تمام قدیم مسائل پوری تشریح و توضیح اور دلائل و بحث کے ساتھ پڑھائے جاتے ہیں، جن کی ہمارے دور (زمانے) میں دُور کی بھی مماثلت نہیں پائی جاتی، اور ان مسائل کی موجودہ زمانے کے لحاظ سے تطبیق دینا بھی ممکن نہیں، ہمیں یہ سب تو پڑھایا جاتا ہے؛ لیکن مروّجہ سودی نظام، لیزنگ، بیمہ پالیسی، بینکنگ، اکاؤنٹ اور پرائز بانڈ وغیرہ کے بارے میں ہم بالکل نا آشنا ہیں۔

(۲) موجودہ زمانہ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں انتہائی تفاوت کی وجہ سے زکوٰة کا نصاب کیاہونا چاہئے؟
(۳) موجودہ زمانہ کے لحاظ سے عشر و خراج کا طریقہ کیا ہونا چاہئے؟ اور ہماری زمینیں عشری ہیں یا خراجی؟
(۴) کاغذی نوٹ کے بارے میں شریعت کی نظر میں ثمنیت کا کیا اعتبار ہے؟ حالانکہ جب کاغذی نوٹ کااجرا کیاگیا تو اس کو سونے اور چاندی کے مساوی قرار دیا گیا، اب اس میں تفاوت پایا جاتا ہے، اس بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔
(۵) تفسیر میں صرف تفسیر عثمانی پر ہی کیوں اقتصار کیاجاتا ہے؟ قرآن وحدیث کی حقانیت کو آج کی سائنس ثابت کررہی ہے، ہمیں اس لحاظ سے کیوں نہیں پڑھایا جاتا؟ حالانکہ ایک عام دنیادار پروفیسر ، علماء سے زیادہ اس کی تحقیق رکھتاہے، اور جدت پسندوں کو ہمیں رجعت پسند کہنے کا موقع ہاتھ آجاتا ہے۔
(۶) مدارس میں پانچ سال تک منطق کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ اوراس میں فضول قسم کی قیل و قال کی جاتی ہے؟ جن کا نہ فائدہ ہے اور نہ افادہ؟

(۷) مدارس میں پانچ سال تک نحو کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ ”کلمہ کی تعریف کو کلام کی تعریف پر کیوں مقدم کیا؟ کلام کی تعریف کو کلمہ کی تعریف سے کیوں موخر کیا؟“ اس قسم کے فضول فلسفے پڑھائے جاتے ہیں، اور نتیجہ یہ ہے کہ دس سال تک عربی تکلم پر قدرت ہے، نہ انشاء پر۔


(۸) مدارس میں تقابل ادیان سے متعلق کسی قسم کا مواد نہیں پڑھایا جاتا، سوائے ان معتزلہ کے، جن کا وجود دنیا میں نہیں رہا۔


(۹) دس سال مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والا شہریت، جغرافیہ اورانگریزی سے نابلد رہتا ہے اور اپنی قومی زبان پر بھی مکمل دسترس حاصل نہیں کرپاتا۔ مدارس میں رائج اس نصاب کی وجہ سے مدارس کے فضلاء میں درج ذیل خرابیاں پیدا ہوگئیں:


(الف) مدارس سے ایسا طبقہ پیدا ہواجسے معاشرے نے قبول نہیں کیا۔


(ب) مدارس دیہاتی ماحول اور چھوٹے طبقے تک محدود ہوگئے اور اہل ثروت کا مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا۔


(ج) علماء کے اندر سے تحقیقی کام کا ذوق ختم ہوتا چلاگیا۔


(د) علماء محدود ذہن کے ہوگئے۔


(ھ) اس کے علاوہ کئی وجوہات حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی صاحب دامت برکاتہم کے اس مکتوب گرامی سے بھی معلوم ہوتی ہیں، جو درج ذیل ہے:

”مکرمان ومحترمان حضراتِ اکابر و ذمہ دارانِ مدارس ․․․․․ 
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!


اللہ پاک کا شکر ہے! بندہ بعافیت ہے، امید ہے بعافیت ہوں گے، آج ذمہ داران مدرسہ کو ایسے علماء تیار کرنے چاہئیں، جن کی پڑھنے ہی کے زمانہ میں پڑھانے کی نیت کرائی جائے، وہ فارغ ہوکر پڑھائیں اور پڑھنے ہی کے زمانہ میں تھوڑا تھوڑا وقت لگاکر دعوت وتبلیغ سے مناسبت پیدا کریں، اور پڑھنے کے زمانہ میں جس کی طرف اس کا رجحان ہو، بیعت کا تعلق کرادیں، تاکہ پڑھنے کے ساتھ سلوک سے مناسبت ہوجائے، پھر وہ جہاں بیٹھے تینوں کام کرنے والا ہو: ایک طرف تعلیم دے رہا ہو،اور ایک جگہ تبلیغ کی خدمت کررہا ہو،اور ایک طرف اپنے معمولات پورے کررہا ہو،اور دوسروں کے معمولات پورے کرانے کا ذریعہ بن رہا ہو، آج پوری دنیا میں ہرسال اتنے علماء فارغ ہونے کے باوجود، مکاتب میں پڑھانے والے نہیں ملتے، مدارس کی کتابیں پڑھانے والے نہیں ملتے، مراکز میں جماعتیں لے کر چلنے والے نہیں ملتے اور خانقاہوں میں ذاکرین کی وہ مقدار نہیں ہوتی جیسی ہونی چاہئے، پوری دنیامیں جو کچھ اس لائن سے نظر آرہا ہے، وہ صُفّہ پر ایک ہی جگہ ہورہا تھا، وہیں مبلغین تیار ہورہے تھے، وہیں مجاہدین تیار ہورہے تھے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صُفّہ کی ترتیب پر سارے اعمال ایک ہی جگہ ہورہے ہوں، میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ پوری دنیا میں یہ ماحول بنایا جائے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے․․․․․․ فقط والسلام
                                                                                                                                                                                                                                          محمد طلحہ کاندھلوی
                                                                                                                                                                                                                                           ۲۱/محرم الحرام ۱۴۲۶ھ
اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع عطا فرمائے، آمین۔ اللّٰہم انی اعوذبک من علم لاینفع․
بندہ محمد عبداللہ، کراچی


جواب: میرے عزیز آپ نے سوالوں کے ساتھ جواب کی جگہ تو چھوڑی نہیں، تاہم الگ کاغذ پر آپ کے تمام سوالات کا مختصر سا جواب نمبر وار درج کیا جاتا ہے:

(۱) میرے عزیز ! یہ تو آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ اسلامی شریعت کے ماخذ چار ہیں: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ اور ان سب کی اصل، بنیاد اورمنبع قرآن کریم ہے،اسلئے کہ قرآن کریم میں بعض احکام تو صراحتاً مذکور تھے، اور جو احکام قرآن کریم میں صراحتاً مذکور نہیں تھے، آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں ان کی وضاحت فرمادی، اسلئے حدیث بھی قرآن کریم کی شرح و تفسیر ہے، پھر جو احکام و مسائل قرآن و حدیث میں صراحتاً مذکور نہیں تھے، حضرات صحابہ کرام، ائمہ مجتہدین اور اکابر علمائے امت نے انہیں ان دو بنیادوں یعنی قرآن و حدیث کی روشنی میں مستنبط فرمایا، اور جن مسائل پر اکابر کا اجماع ہوگیا، وہ اجماعی مسائل قرار پائے، پھر جو مسائل اس کے علاوہ تھے، انہیں ان تین بنیادوں سے ماخوذ اصولوں پر قیاس کرکے معلوم کیاگیا اوراسی کا نام ”فقہ“ ہے۔ لہٰذا فقہ میں پہلے اصول اورکلیات کا درس دیاجاتا ہے، اگرچہ اس میں بیشتر جزئیات سے بھی بحث کی جاتی ہے، مگر چونکہ جدید فقہی مسائل ہردور کے الگ الگ ہوتے ہیں، لہٰذا حضرات علماء کرام نے فقہ کے اصول وضع فرماکر ہردور کے علماء کو اس قابل بنادیا کہ وہ ان اصولوں کی روشنی میں جدید فقہی مسائل کو سمجھااور پڑھاسکیں۔

اگر موجودہ دور کے جدید مسائل کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تواکابر علماء اور اربابِ دینی مدارس نے بنیادی طور پر ان کا درس دیا ہے، چنانچہ قدوری، کنز اور ہدایہ سمجھ کر پڑھ لی جائیں یا بالفاظ دیگر ہضم کرلی جائیں تو سود، جوا اور لاٹری کی تمام مروّجہ شکلیں اوران کا حکم بآسانی سمجھ میں آسکتا ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ علماء جدید مسائل کیوں نہیں پڑھاتے؟ درحقیقت فقہ اور اصول فقہ سے لاعلمی کی علامت ہے۔


قدیم مسائل پوری توضیح و تشریح سے پڑھانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ جن طلبہ و علماء کو یہ اصول سمجھ میں آجائیں گے، اُن کو ان اصولوں کی روشنی میں جدید مسائل کا سمجھنا آسان ہوجائے گا،اور جو شخص قدیم مسائل اور ان کے اصول سمجھ لے گا، اس کو جدید مسائل سمجھنا اوران کی تطبیق دینا آسان ہوجائیگا،مثلاً بیع قبل القبض، حرام اشیاء کی بیع، قسطوں کا کاروبار، بیمہ، لیزنگ وغیرہ، کونسا ایسا مسئلہ ہے جو فقہائے امت نے بیان نہیں فرمایا؟ تاہم اکابر علماء امت کے فتاویٰ اوران کی تصنیفات میں ان پر مستقل بحث کی گئی ہے، جو کسی صاحب علم و عقل پر مخفی نہیں،کوئی ایک ایسا مسئلہ بتلایا جائے جو ان اصول، قواعد اور کلیات سے ماورا ہو اوراس پر علماء نے کوئی راہنمائی نہ کی ہو؟


(۲) آپ کا ارشاد کہ: سونے، چاندی کی قیمتوں میں انتہائی تفاوت کی وجہ سے اب زکوٰة کا نصاب کیا ہونا چاہئے؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ : دور حاضر کے مفتیان کرام اور ہندوپاک کے اربابِ تحقیق نے ان دونو ں نصابوں (سونا اور چاندی) میں سے جو سستا ہو، اس کو وجوبِ زکوٰة کے لئے معیار قرار دیا ہے، اس لئے چاندی کے نصاب پر وجوبِ زکوٰة اور وجوبِ قربانی کا حکم ہے، یہ اگر ایک طرف انفع للفقراء ہے تو وہاں احوط بھی ہے، کیونکہ اگر خدانخواستہ عند اللہ اس آدمی پر زکوٰة فرض تھی اور ہم نے اغنیاء کے نفع اور ان کی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر اس کو زکوٰة سے بری قرار دے دیا تو وہ عند اللہ مجرم ہوگا۔
پھر یہ بھی دیکھا جائے اور غور کیا جائے کہ شریعت کے احکام میں ضعفاء اور فقراء کا خیال رکھا گیا ہے، نہ کہ مالداروں اور طاقتوروں کا، گویا سونے کو نصاب قرار دینے کی صورت میں تو شاید و باید ہی کسی پر زکوٰة اور قربانی واجب ہوسکے گی، اس سے دولت کا ارتکاز ہوگا اور غرباء و فقراء محتاج تر ہوجائیں گے۔
بہرحال میں نہ تو مجتہد ہوں اورنہ ہی مفتی، البتہ اکابر اساتذہ ومفتیانِ کرام کا جدید و قدیم فتویٰ یہی ہے کہ نصاب کا معیار ان دو چیزوں میں سے وہ ہے جو سستی ہو، اور چونکہ چاندی سستی ہے، اس لئے وہی نصاب ہے، اور ایسے شخص پر جو چاندی کے نصاب کا مالک ہو، زکوٰة اور قربانی واجب ہے۔


(۳) موجودہ زمانے کے لحاظ سے عشر و خراج کا طریقہ اور زمینوں میں سے عشری و خراجی کی تعیین کے سلسلہ میں عرض ہے کہ: جہاں تک ہمارے ملک کی زمینوں کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے، چونکہ یہ معلوم نہیں کہ ان میں سے کون سی عشری اور کون سی خراجی ہے؟ اسلئے احتیاط اسی میں ہے کہ سب کو عشری قرار دے کر سب کا عشر ادا کیا جائے، اسلئے اگر زمین بارانی ہو کہ صرف ہل چلاکر بیج ڈال دینے پر فصل تیار ہوجائے تو اسکی آمدنی پر عشر ہوگا یعنی آمدنی کا دسواں حصہ دیا جائیگا اوراگراسکے اوپر پانی، کھاد اور اسپرے وغیرہ کے دوسرے اخراجات آتے ہوں تو نصف عشر یعنی آمدنی کا بیسواں حصہ بطور عشر دیا جائیگا۔


(۴) جہاں تک کاغذی نوٹ کی حیثیت کا تعلق ہے،اس سلسلہ میں عرض ہے کہ کاغذی نوٹ چونکہ عام طورپر اس سونے،چاندی کا بدل یا زرِ ضمانت ہوتے ہیں، جس کی بنیاد پر کاغذی نوٹ جاری کئے جاتے ہیں، اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ انہیں سونے کا بدل تصور کیا جائے اور ان کے عوض سونے، چاندی کی ادھار خرید و فروخت نہ کی جائے، جبکہ بعض دوسرے حضرات ان کو ثمن عرفی قرار دیتے ہیں، اس لئے اُن کے ہاں ان کاحکم زرِ ضمانت کا نہیں، لہٰذا اُن کے ہاں کاغذی نوٹوں کے عوض سونے، چاندی کی ادھار خرید و فروخت جائز ہے۔


آپ کا یہ فرمانا کہ: اس بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا، اس لئے نادرست ہے کہ میرے نزدیک یہ اضافی بحث ہے، تاہم اکابر نے اس پر مستقل تصنیفات فرمائی ہیں اور اکابر کے مطبوعہ فتاویٰ میں بھی اس کی تفصیلات موجود ہیں۔


میں سمجھتا ہوں کہ یہ ابتدائی طلبہ کے پڑھانے کی چیز نہیں، اس لئے کہ یہ ان کی ذہنی سطح سے اونچی چیز ہے، ہاں جو طلبہ تکمیل درسِ نظامی کے بعد فقہ میں تخصص کرتے ہیں، ان کو یہ موضوع بھی پڑھایا جاتا ہے اور وہ اس سے باخبر ہوتے ہیں۔
جس طرح دنیا کے دوسرے علوم وفنون میں ابتداءً اصول وکلیات پڑھائے جاتے ہیں، اسکے بعد خاص خاص شعبوں میں تخصصات کرائے جاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح یہاں بھی وہی اصول کارفرماہے، مثلاً: جیسے ڈاکٹر بننے والوں کو پہلے ایم بی بی ایس کا کورس کرایا جاتا ہے، اسکی تکمیل کے بعد پھر طلبہ کی دلچسپی کے پیش نظر ان کے منتخب کردہ موضوعات،مثلاً: دل، دماغ، جگر، معدہ، سینہ، کان، ناک اورحلق کے امراض اوران کی جراحی کے اصول و فروع میں تخصص کرائے جاتے ہیں، اور ایسا شخص اس شعبہ کا ماہر کہلاتا ہے، بالکل اسی طرح یہاں بھی وہی انداز اپنایا جاتا ہے کہ پہلے مطلقاً فقہی اصول و مبادیات کی تعلیم دی جاتی ہے، اسکی تکمیل کے بعد طلبہ کی دلچسپی کے پیش نظر حدیث، فقہ، دعوت و ارشاد، معاشیات اور اقتصادیات میں تخصصات کرائے جاتے ہیں، اسلئے کہ جو طالب علم، نفس فقہ اوراس کے اصول و مبادیات سے نا آشنا ہو، اسکو ان مخصوص مسائل میں الجھانے سے کیا اس کا دماغ منتشر نہیں ہوگا؟


(۵) آپ کا یہ ارشاد کہ: ”تفسیر میں صرف تفسیر عثمانی پر ہی کیو ں اقتصار کیاجاتا ہے؟“ اس لئے ناقابل فہم ہے کہ تفسیر عثمانی درسِ نظامی اور وفاق المدارس کے نصاب میں شامل نہیں ہے، اگر کوئی مدرسہ یا کسی مدرسہ کا کوئی استاذ اس کو درساً پڑھاتا ہے تو یہ اس کا انفرادی عمل ہے، بہرحال مقصود تو نفس قرآن کریم کا ترجمہ و تشریح ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اساتذہ اس تفسیر سے استفادہ کرتے ہیں اور طلبہ کو بھی اس تفسیر سے استفادہ کی ترغیب دیتے ہیں، اور ایسا کرنا اس لئے مناسب ہے کہ تفسیر عثمانی کے مطالعہ سے نفس قرآن کریم سمجھ میں آجاتا ہے، لہٰذا تفسیر عثمانی کے مطالعہ کی ترغیب بھی اسی اصول کے پیش نظر ہے کہ طلبہ کو نفس قرآن کریم سمجھ میں آجائے،اور طلبہ غیرضروری طویل لاطائل ابحاث میں نہ الجھیں، پھر جب نفس قرآن کریم سمجھ میں آجائے گا اور استعداد پیدا ہوجائے گی تو دوسری طویل و مبسوط تفسیروں سے استفادہ بھی آسان ہوجائے گا۔
اگر غور کیاجائے تو تفسیر عثمانی تمام متداول اردو تفاسیر کا اختصار و خلاصہ ہے۔اربابِ علم و دانش جانتے ہیں کہ تفسیرعثمانی ”دریا بکوزہ“ کا مصداق ہے، چنانچہ جو شخص پہلے تمام متداول عربی تفاسیر کا بغور مطالعہ کرے اورپھر تفسیر عثمانی کا مطالعہ کرے تو اسے اس کی ایک،ایک سطر، بلکہ ایک، ایک حرف کے مطالعہ سے اندازہ ہوگا کہ یہاں سے کس تفسیر کے کس قول، اعتراض یا اشکال کاجواب اور مختلف تفسیری اقوال میں سے کس قول کو ترجیح دی جارہی ہے۔


اس کے علاوہ برا نہ مانیں تو درسِ نظامی میں تین سال تک قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر جلالین مکمل درساً پڑھائی جاتی ہے، جبکہ تفسیر بیضاوی کا ایک حصہ سبقاً پڑھاکر تفسیری انداز اور قرآن کریم کے علوم ومعارف سے بھی طلبہ کو روشناس کرایاجاتا ہے۔


آپ کا یہ ارشاد کہ قرآن وحدیث کی حقانیت کو سائنس سے کیوں ثابت نہیں کیا جاتا، آپ کی بچکانہ سوچ کا مظہر ہے، کیونکہ سائنس سے اگر قرآن و سنت کی حقانیت کو ثابت کیا جائے تو کیا آئے دن تبدیل ہونے والے سائنسی نظریات کی اقتداء میں قرآن و حدیث کے معانی و مفاہیم کو بھی بدلا جائے گا؟ اگر نہیں تو پھر قرآن و سنت کی حقانیت کو سائنس کی ضرورت نہیں، ہاں سائنس قرآن و سنت کے تابع اوراس کی ممد ہے اوراکابر نے اس پر کام کیا ہے، حضرت مولانا شمس الحق افغانی قدس سرہ کی کتاب ”سائنس اوراسلام“ قابل مطالعہ ہے۔


(۶) دینی مدارس میں منطق اس لئے پڑھائی جاتی ہے تاکہ انسانی دماغ کی گرہیں کھل جائیں، فکری غلطیوں سے حفاظت ہوجائے اور معاندین اسلام کے فکری مغالطوں کاجواب بآسانی دیا جاسکے، پھر چونکہ قدیم وجدید دور کے ملاحدہ عقلیت پسند ہوتے ہیں اور عقلیات کو استعمال کرتے آئے ہیں، اسلئے عقلیت پسندی کے ان مریضوں کا علاج بھی اسی صورت میں ممکن ہوگا جب علماء کو اس فن سے مناسبت یا آگاہی ہوگی۔


اس سے ہٹ کر اکابر علمائے امت کی تصنیفات میں بھی چونکہ منطق و فلسفہ کی اصطلاحات موجود ہیں، لہٰذا جو شخص اس فن سے ناواقف ہوگا، وہ دوسروں کو سمجھانے کی بجائے خود ان علوم سے استفادہ نہیں کرسکے گا، لہٰذا جس طرح قرآن و سنت کی فہم کے لئے علم صرف، نحو، معانی، بدیع، بلاغت و بیان کا جاننا ضروری ہے، اسی طرح منطق کا جاننا بھی ضروری ہے۔ دیکھاجائے تو یہ بھی قرآن و سنت اورعلوم نبوت کاخادم علم ہے، جس کی تعلیم نہایت ضروری ہے، پھر اکابر واسلاف کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو صاف نظر آئے گا کہ جن، جن اکابر نے منطق و فلسفہ پڑھا ہے، وہ اپنے، اپنے دور کے یگانہ روزگار تھے،اورانھوں نے کسی بھی میدان میں ناکامی کا منھ نہیں دیکھا،اس لئے چند سال پہلے تک ہمارے علماء اور طلبہ درسِ نظامی سے فراغت کے بعدایک سال مستقل ”تکمیل“ کے نام سے ان فنون کو پڑھتے تھے، میرے خیال میں جو طلبہ ان فنون کی افادیت و لذت سے ناآشنا ہیں، وہی ان کی مخالفت کرتے ہیں، ورنہ یہ فن فہم و تفہیم دین میں بہت ہی ممدومعاون ہے، ہاں جولوگ جس چیز سے ناآشنا ہواکرتے ہیں، وہی اس کے دشمن و مخالف ہوتے ہیں۔

(۷) نحو کے ذریعہ فعل، فاعل، مفعول، مبتداء، خبر، شرط اورجزا کا پتا چلتا ہے، اگر اس کا پتا نہ چلے تو عربی عبارت کا معنی و مفہوم ہی صحیح طورپر واضح نہیں ہوگا۔ اگر مفعول کو فاعل یا فاعل کو مفعول بنادیاجائے تو آپ اندازہ لگائیں کہ کس قدر خطرناک حد تک معنی بدل جائے گا، مثلاً قرآن کریم کی سورئہ برأة میں ہے کہ:
ترجمہ: ”بے شک اللہ اور اس کا رسول، مشرکین سے بری ہیں۔“ (برأة:۳)


اگر بالفرض کوئی نحو کا فن نہ جانتا ہو اور وہ خدانخواسہ ”وَرَسُوْلُہ“ کا عطف مشرکین پر ڈال کر اس کو مجرور یعنی وَرَسُوْلِہ پڑھے اور نعوذ باللہ! اس کا ترجمہ یہ کرے کہ: ”اللہ مشرکین سے اور اپنے رسول سے بری ہے“ تو وہ کس قدر تحریف کا مرتکب ہوگا، بلکہ قصداً ایسا پڑھنا بدترین کفر ہے،اس لئے نحو کی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے تاکہ قرآن و حدیث کو سمجھنا آسان ہوجائے۔


آپ کا یہ فرمانا کہ دس سال تک تعلیم کے باوجود عربی تکلم پر قدرت ہے، نہ انشاء پر، اس کے جواب میں عرض ہے کہ اکابر علماء نے علم صرف، نحو،ادب اورمنطق کی متداول کتب، درسِ نظامی میں اسی غرض سے شامل کی تھیں کہ ان کو پڑھ کر، بلکہ ہضم کرکے قرآن، حدیث، فقہ اور عربیت پر قدرت حاصل ہوجائے، چنانچہ بعض حضرات ان سے کما حقہ استفادہ کرکے دین و شریعت اور علوم نبوت کے علاوہ عربی بول چال پر بھی قدرت حاصل کرلیتے ہیں، جبکہ میرے اورآپ جیسے کوتاہ ہمت، بدمحنت اور ناقص استعداد لوگ اپنی کمی، کوتاہی کو چھپانے کیلئے اسپر اعتراض کرتے ہیں، اس کو فضول جانتے ہیں اوراس پر توجہ نہیں کرتے تواس کے کماحقہ ثمرات و برکات سے محروم رہتے ہیں، ورنہ ہندوپاک کے وہ اکابر،جن کی عربیت، فصاحت اور بلاغت پر دنیائے عرب سردھنتی ہے،اوران کے کلام کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے، وہ انہی دینی مدارس کے فارغ و فاضل تھے، ان میں سے حضرت مولانا بدرعالم میرٹھی، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا شبیراحمد عثمانی،حضرت مولانا اعزاز علی، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی، حضرت مولانا محمدیوسف کاندھلوی، حضرت مولانا محمدزکریا کاندھلوی، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا شمس الحق افغانی، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا موسیٰ خان روحانی بازی، مولانا عبدالرشید نعمانی، مولانا عاشق الٰہی بلندشہری،مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار، مولانا وحیدالزماں قاسمی رحمہم اللہ تعالیٰ، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا ابوبکر غازی پوری، مولانا سید ارشدمدنی، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا نور عالم خلیل امینی وغیرہ مدظلہم حضرات انہی مدارس کے پڑھے ہوئے ہیں، جن کی عربیت و عظمت کی دنیا معترف ہے۔ آپ بھی اسی شوق و لگن سے پڑھیں تو آپ بھی ان کے مقام پر پہنچ سکتے ہیں۔
کیا عصری اسکولوں میں پڑھنے والے تمام طلبہ مکمل انگلش بول سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ان پرکیوں اعتراض نہیں؟ جہاں تک عربی بول چال کا تعلق ہے، یہ ماحول اور ممارست کی محتاج ہے، آپ بھی اس کی مشق کریں تو اچھے عربی انشاء پرداز ہوجائیں گے، چنانچہ ہمارے وہ طلبہ جو عرب جامعات میں پڑھنے جاتے ہیں، کیا وہ عربی لکھتے، بولتے نہیں؟


(۸) آپ کا یہ فرمانا کہ ہمارے مدارس میں سوائے معتزلہ کے دوسرے فرق کی تردید اور تقابل ادیان پر کچھ نہیں پڑھایا جاتا، اس سلسلہ میں دیکھاجائے تو ہماری قدیم کتب میں جن فتنہ پردازوں اور ان کے فتنوں کا تذکرہ ہے،آج بھی ان کے جانشین موجود ہیں، مگر ان کے نام اور شبہات کے انداز بدل گئے ہیں، معتزلہ ”اعتزال“ سے ہے، اوراعتزال کے معنی ہیں: جمہور سے الگ راہ اختیار کرنا، لہٰذا آج بھی جو شخص فرقہ جمہور سے الگ راہ اختیار کرتا ہے وہ معتزلی ہے، معتزلہ بھی عقلیت پسند تھے اورآج بھی عقلیت پسندی کا دور دورہ ہے، لہٰذا عقلیت پسندی کی تردید آج کے دور کے عقلیت پسندوں کی تردید ہے۔


جہاں تک تقابل ادیان کا معاملہ ہے، بحمداللہ! ہمارے دینی مدارس میں اس کی بھی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے، مگر ہر شئی کا ایک موقع، محل اور وقت ہوتا ہے، ہمارے اکابر فرماتے ہیں کہ: پہلے اپنا مسلک و مذہب سیکھو، بعد میں تردید باطل سیکھو، یہ تو کوئی عقلمندی نہ ہوئی کہ اپنا دین و مذہب اور مسلک ومشرب تو معلوم نہ ہو اور دوسروں کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑنا شروع کردیاجائے، پھر تو وہی لطیفہ ہوگا جس طرح ایک جاہل نے کسی کافر کو ڈنڈا دکھاکر کہا کہ: پڑھو کلمہ، ورنہ قتل کردوں گا، جب ڈرے سہمے کافر نے کہا: کہ چلو پڑھا دو کلمہ،تو بیچارہ ڈنڈا بردار مارے شرم کے بغلیں جھانکنے لگا، اسلئے کہ خود اس کو بھی کلمہ نہیں آتا تھا، چنانچہ دل ہی دل میں کہنے لگا: اے کاش کہ ! مجھے کلمہ آتا تو آج ایک کافر مسلمان ہوجاتا۔


(۹) یہ بھی آپ کی بے توجہی ہے کہ مدارس میں دس سال پڑھنے والا شہریت، جغرافیہ اورانگریزی سے نابلد ہوتا ہے، اس لئے کہ پہلے تو دینی مدارس کا موضوع ہی دین پڑھانا ہے، نہ کہ دنیا اوراس کے علوم۔ کیا کبھی کسی اسکول وکالج کے طالب علم سے بھی سوال ہوا ہے کہ ۱۶ سال پڑھنے کے باوجود آپ کو بنیادی اسلامی عقائد اور عربی سے نا آشنائی کیوں ہے؟

جبکہ بحمد اللہ! ہمارے مدارس میں یہ دنیوی علوم اب باقاعدہ پڑھائے بھی جاتے ہیں، اس کے علاوہ دیانت داری کی بات یہ ہے کہ جو شخص دینی مدارس کے اس نصاب کو پڑھ لیتا ہے، اُسے یہ دنیوی علوم محض تھوڑی سی توجہ اور مطالعہ سے بآسانی حاصل ہوجاتے ہیں، اورایسی کئی ایک مثالیں موجود ہیں، اگر یقین نہ آئے تو راقم کئی ایک مثالیں پیش کرسکتا ہے۔


(۱۰) آپ کایہ فرمان بھی ناقابل فہم ہے کہ:


(الف) ”مدارس میں رائج اس نصاب کی وجہ سے مدارس کے فضلاء میں یہ خرابیاں ہوگئیں کہ : مدارس سے ایسا طبقہ پیدا ہواجسے معاشرہ نے قبول نہیں کیا۔“ اس لئے کہ انہی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء نے آج تک امت کی راہنمائی کی ہے، اور ہندوپاک میں موجودہ دینی فضا اور دیانت داری کی ساری شکلیں انہیں علماء کی مرہونِ منت ہیں، ورنہ مصر اور دوسرے کئی عرب ممالک میں خود علماء دینی وضع قطع سے محروم ہیں، وہاں ستروحجاب کا تصور معدوم ہے، کافروں اور مسلمانوں کی مستورات کے لباس میں عریانی کی حد تک مماثلت ہے، آج جس طرح ہندوپاک میں علماء پر مسلمان اعتماد کرتے ہیں، دوسرے کئی عرب ممالک کے علماء اس اعتماد سے یکسر خالی ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج دینی مدارس اوران کا خالص دینی و مذہبی نصاب ابنائے کفر کی نگاہ میں کھٹکتا ہے، اگرمعاشرے نے ان کو قبول نہ کیا ہوتا تو معاشرہ ان کی تعلیمات کو کیوں اپناتا؟اور معاشرے کی یہ اچھی حالت کیونکر ہوتی؟


بحمد اللہ! ہندوپاک میں اس نصاب اورمدارس کی اس کارکردگی کا نتیجہ ہے کہ یہاں دینی مراکز قائم ہیں، خانقاہیں آباد ہیں، تبلیغی جماعت اپنا کام کررہی ہے، قادیانیوں اور دوسرے لادینی طبقات کا ناطقہ بند ہے، مساجد و مدارس آباد ہیں، لوگوں کے چہروں پر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شادابی ہے، خواتین ستروحجاب سے مزین ہیں، دینی اسکول اور حفظ قرآن کے مدارس میں لاکھوں مسلمان بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور بحمد اللہ! کراچی ہی میں ماہانہ ڈھائی سے تین ہزار روپے فیس دے کر مسلمان اپنے بچوں کو حفظ قرآن اور دینی و عصری تعلیم دلارہے ہیں، کیا اب بھی کہا جائے گا کہ معاشرے نے ان کو قبول نہیں کیا؟


(ب) آپ کا یہ فرمان کہ: ”مدارس دیہاتی اور چھوٹے طبقہ کے لئے محدود ہوگئے اوراہل ثروت کا مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا“ کم از کم میرے لئے ناقابل قبول ہے، اس لئے کہ بحمد اللہ! مدارس میں اب ایک تعداد ان بچوں کی ہے جو لکھ پتی نہیں، کروڑپتی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے، اگر اہل ثروت کا ان مدارس کی طرف رجحان ختم ہوگیا ہوتا تو یہ مدارس بند نہ ہوگئے ہوتے؟
حالانکہ ان مدارس میں سے متعدد ایسے بھی ہیں جن کا سالانہ میزانیہ کروڑوں کا ہے، آخر یہ فنڈ کہاں سے آتا ہے؟ یہ اہل ثروت کے مدارس کی طرف رجحان کی دلیل ہے یا رجحان کے ختم ہونے کی؟ آپ ہی فیصلہ فرمائیں؟
پھر اگر کچھ محروم القسمت ان مدارس کی طرف توجہ نہیں کرتے یا ان کو یہ نظام ناپسند ہے، تو اس میں اس دور کے اہل ثرورت کی کیا تخصیص ہے؟ یہ طبقہ تو خود حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دور میں بھی تھا، جو کہا کرتا تھا:
ترجمہ: ”جولوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اردگرد ہیں، ان پر خرچ نہ کرو، یہاں تک کہ تنگ آکر وہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔“ (منافقون:۷)
آپ ہی ارشاد فرمائیں کہ کیا نعوذ باللہ! یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے نظام تعلیم کے نقص کی وجہ سے تھا؟ یا ان محروم القسمت کی شقاوتِ ازلی کی بدولت؟
پھر یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ دین کا ساتھ دینے والے ہمیشہ کمزور اور نچلے طبقہ کے لوگ رہے ہیں، جبکہ اصحابِ ثروت الا ماشاء اللہ ! ہمیشہ اس کے مخالف رہے ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
ترجمہ: ”اور جب ہم نے چاہا کہ غارت کریں کسی بستی کو، حکم بھیج دیا اس کے عیش کرنے والوں کو، پھر انھوں نے نافرمانی کی اس میں، تب ثابت ہوگئی ان پر بات، پھر اکھاڑ مارا ہم نے انکو اٹھاکر۔“ (بنی اسرائیل:۱۶)


میرے عزیز! غریبوں کا دین پڑھنا یا دین کو اپنانا اورمال داروں کااس طرف توجہ نہ کرنا ان کے اپنے اختیار اور پسند و ناپسند سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ یہ انتخاب، انتخابِ الٰہی ہے، اللہ تعالیٰ دراصل یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ میں چاہوں تو کمزوروں سے اپنے دین کا کام لے سکتا ہوں اور نہ چاہوں تو حکومت و اقتدار اور ملک ومال کے مالک اصحابِ ثروت اور خاندانی شرافت سے متصف افراد کو اس سے محروم رکھ سکتا ہوں، اگر چاہوں تو کافروں کے گھرانوں سے انبیاء پیداکردوں اورنہ چاہوں تو انبیاء کی اولاد کو اس نعمت سے محروم کرسکتا ہوں۔


غور کیا جائے تو اس میں بھی حکمت الٰہی کا یہ راز پنہاں نظرآتا ہے کہ کل کلاں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ دین اسلام اسلئے پھیلا اور پھولا کہ اسکے پیچھے مال و دولت یا ملک و اقتدار کی قوت و شوکت تھی، بلکہ بتلایاگیا کہ دین و مذہب محض اللہ تعالیٰ کی حمایت و نصرت سے پھیلاکرتا ہے اوراسکی پشت پر بظاہر کوئی نہیں ہوتا۔


لہٰذا اس انتخابِ الٰہی پر جہاں دین اور علم دین سے دور، اصحابِ ثرورت کو اپنی محرومی پر افسوس کرنا چاہئے، وہاں دین دار غریبوں کو بارگاہِ الٰہی میں سراپا تشکر و امتنان ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کے باغ کی باغبانی کے لئے منتخب فرمالیا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک اپنے اس دین کے باغ کے لئے پودے لگاتے رہیں گے، جو اس باغ کی سرسبزی و شادابی اوراس کی حفاظت وصیانت کے اعلیٰ مقصد کو پروان چڑھاتے رہیں گے، جیساکہ ابن ماجہ میں ہے:


ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ (قیامت تک) اس دین کیلئے پودے لگاتے رہیں گے اورانہیں اپنی طاعت کے کاموں میں استعمال فرماتے رہیں گے۔“ (ابن ماجہ،ص:۳)


(ج) آپ کا یہ ارشاد کہ: ”علماء کے اندر سے تحقیقی کام کا ذوق ختم ہوتا چلاگیا۔“ اگرچہ منجملہ آپ کی بات درست ہے کہ اب پہلے کا سا ذوق علماء کے اندر بھی نہیں رہا، اور جیسی محنت و جدوجہد اور خلوص و اخلاص ہونا چاہئے تھا، اب ویسا نہیں ہے، لیکن اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ اب علماء سرے سے کام ہی نہیں کررہے ، کیونکہ بحمد اللہ! اب بھی علماء حسب استعداد اور حسب ضرورت اپنی، اپنی بساط کے مطابق کام کررہے ہیں، اگر یہ علماء اپنا کام چھوڑچکے ہوتے تو پوری دنیا کا کفر اُن کا مخالف نہ ہوتا، کیونکہ لڑائی اور جنگ وہاں ہوتی ہے جہاں کسی سے اپنے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیائے کفر کو مسلم علماء کی مساعی اور کاوشوں سے اپنے مفادات کو نقصان پہنچنے کا شدید اندیشہ ہے، اسکی ایک مثال افغانستان پرپہلے روس اوراس کے بعدامریکا کی یلغار ہے، اسی طرح عراق، شام، لبنان وغیرہ،اسکے علاوہ پوری دنیا میں علماء کو ”دہشت گرد’ مذہبی جنونی“ وغیرہ کے القابات اسلئے دئے جاتے ہیں کہ علماء امت دنیائے کفر کی ہاں میں ہاں ملانے کو تیار نہیں۔
جہاں تک تحقیقی کام کا تعلق ہے، تو سو نقائص کے باوجود آج بھی علماء مختلف شکلوں اور مختلف عنوانات پر تحقیقی کام کررہے ہیں، چنانچہ ہندوپاک میں ایسی کئی ایک اکیڈمیاں اور ادارے وجود میں آچکے ہیں جو مسائل حاضرہ پر غور وفکر کرکے امت کی راہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، مثلاً: مولانا مجاہدالاسلام قاسمی، مولانا محمد تقی عثمانی،مولانا سید اسعد مدنی، مولانا مفتی نظام الدین شامزی، مولانا سید نصیب علی شاہ وغیرہ ایسے کئی حضرات ہیں جنھوں نے مختلف سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کرکے امت کو اس طرف متوجہ کیا اور جدید خطوط پر کام کرنے کی دعوت دی،اوراس سلسلہ کا جدید تحقیقی کام مختلف کتابوں کی شکل میں منظر عام پر آچکا ہے، جبکہ ”مجلس مسائل حاضرہ“ کے عنوان سے آپ کے کراچی میں مستقل ایک عنوان ہے، جس کے تحت علماء اہل حق باہمی مشاورت سے جدید وگھمبیر مسائل پر امت کی راہنمائی کافریضہ انجام دیتے آئے ہیں، اس کے علاوہ اگر کسی عنوان پر تحقیقی کام کی ضرورت ہے اور علماء اس سے غافل ہیں تو اس کی نشان دہی کی جائے۔


(د) آپ کے ارشاد کہ: ”علماء محدود ذہن کے ہوگئے“ کا اگر یہ معنی ہے کہ علماء ہر وقت دین ومذہب کی بات کرتے ہیں، اس کے علاوہ، وہ کوئی سوچ نہیں رکھتے، تو آپ کا ارشاد بالکل بجا ہے، کیونکہ ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص جس عنوان پر محنت کرے گا، اس کے ذہن میں ہروقت اسی کے تانے بانے ہوں گے، مثلاً : جیسے وکالت پڑھنے والا ہمیشہ وکالت کے بارہ میں سوچے گا، ڈاکٹر اپنی طب اورجراحت سے متلق سوچے گا، لیکن اگراس کایہ معنی ہے کہ علماء جمود پسند ہیں اورمسائل حاضرہ یا بین الاقوامی امور پر نہیں سوچتے، تو آپ کا ارشاد حالات، واقعات اورمشاہدات کی رو سے بداہتاً غلط ہے، کیونکہ ایسے کسی عالم دین کا نام نہیں بتلایا جاسکتا جو حالاتِ حاضرہ یا امت کی حالت زار سے بے خبر ہو، یا اس کے لئے فکرمند نہ ہو، یا اس کے سدباب کے لئے عملاً متحرک نہ ہو، یہ دوسری بات ہے کہ کسی کی حرکت نظر آتی ہے اورکسی کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے۔


(ھ) جہاں تک حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب مدظلہ کے مکتوب کا تعلق ہے،اس میں انھوں نے مدارس کے طریقہ کار اور نصاب پر کوئی اشکال نہیں فرمایا، بلکہ انھوں نے اربابِ مدارس اور علماء کرام کو طلبہ کی ذہنی، فکری استعداد اور عملی قوت میں اضافہ اور نکھار پیدا کرنے کیلئے فرمایا ہے کہ طلبہ کو ان امور کی طرف توجہ دلائی جائے تاکہ ان سے افادہ اور استفادہ زیادہ سے زیادہ ہوسکے۔ ان کے مکتوب کی غرض یہ ہے کہ اگر ان طلبہ کی ان خطوط پر تربیت کی جائے تو وہ دوسرے میدانوں میں جانے کی بجائے مدارس،مکاتب میں تدریس کے علاوہ اصلاحِ امت کی غرض سے تبلیغی جماعتوں کے ساتھ چلنے اور نکلنے کو اپنی ضرورت سمجھیں گے، توامت کو زیادہ نفع ہوگا۔


جبکہ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دینی مدارس سے فارغ ہونے والے ذی استعداد افراد، دوسرے میدانوں میں کھپ جاتے ہیں،کوئی اسکول و کالج میں چلاجاتا ہے، تو کوئی فوج وعدلیہ کا رخ کرتا ہے،کوئی تجارت کو اپنا پیشہ بنالیتا ہے، تو کوئی بیرون ملک چلاجاتا ہے، یوں ہماری محنت کاپھل اور ثمرہ دوسرے لوگ کھاتے ہیں اور ہماری محنت کا ثمرہ ہمیں کم اور دوسروں کو زیادہ ملتا ہے، گویا ان کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا خام مال اغیار کی بھٹیوں کا ایندھن نہ بنے، بلکہ ان میں کا ہر فرد مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمدگنگوہی، شیخ الہند مولانا محمودحسن، حکیم الامت مولانا محمداشرف علی تھانوی، شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، مولانامحمد الیاس کاندھلوی، مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہم اللہ تعالیٰ کا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا جانشین بن کر مدرسہ صُفّہ کے نظام کو چلانے والا بن جائے۔
برادر عزیز! یہ بھی شیطانی حربہ اور چال ہے کہ وہ طلبہ عزیز کے دلوں میں ایسے وساوس و شبہات ڈال کر دراصل انہیں اسلاف سے بدظن کرکے ان علوم سے محروم کرنا چاہتا ہے، چونکہ شیطان براہ راست تو طلبہ کو ان علوم کی تحصیل سے نہیں روک سکتا، اس لئے وہ ان علوم کو بے مقصد، لایعنی، عبث اور فضول قرار دے کرطلبہ کو ان کی تعلیم سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جن طلبہ کے دل و دماغ میں ان علوم یا کتب کی اہمیت نہیں ہوتی، وہ ان میں محنت بھی نہیں کرتے،اور وہ مسلسل ناکام ہونے کی وجہ سے غبی اور بداستعداد ہوجاتے ہیں اور رفتہ رفتہ مدارس سے ان کا جی بھرجاتا ہے، پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ دینی مدارس سے نکل کر دنیائے دنی کے پیچھے مارے مارے پھرتے ہیں۔


شیطان جانتا ہے کہ ایک عالم اس پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے، اس لئے وہ طلبہ کو علوم نبوت سے محروم رکھنے کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے، چنانچہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نوراللہ مرقدہ ”آپ بیتی“ میں اپنے زمانہ طالب علمی کے ایک سبق آموز واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:


”اس نابکار (حضرت شیخ الحدیث) کو بزرگی کا جوش ہوا اور مغرب کے بعد حضرت گنگوہی قدس سرہ کے حجرے کے سامنے لمبی نفلوں کی نیت باندھ لی، اباجان نے آکر ایک زور سے تھپڑ مارا اور یہ فرمایا کہ: ”سبق یاد نہیں کیاجاتا۔“ میرے چچا جان (حضرت مولانا محمد الیاس) رحمة اللہ علیہ اس زمانے میں بڑی لمبی نفلیں پڑھا کرتے تھے، بعد مغرب سے عشاء کی اذان کے قریب فارغ ہوا کرتے تھے، لیکن والد صاحب کے یہاں مختصر سی نوافل کے بعد تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ اس وقت تو مجھے بہت غصہ آیا، کہ خود تو پڑھی نہیں جاتی، دوسرے کو بھی پڑھنے نہیں دیتے، مگر جلد ہی سمجھ میںآ گیا کہ بات صحیح تھی، وہ نفلیں بھی شیطانی حربہ علم سے روکنے کے واسطے تھا، اس لئے کہ جب نفلیں پڑھنے کا دور آیا، اب نفس بہانے ڈھونڈتا ہے۔“ (آپ بیتی، جلد اوّل،ص:۲۰)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و سنت، علوم نبوت، فقہ وحدیث اور دین و شریعت کا سچا پیروکار اوراپنے اسلاف و اکابر کا صحیح جانشین بنائے اور نفس و شیطان کے مکرو فریب سے محفوظ فرمائے۔
وصلی اللّٰہ تعالی علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین․
درسِ نظامی پر اشکالات کا جواب
از: مولانا سعید احمد جلال پوری
بشکریہ دارلعلوم دیوبند ویب سائٹ 

اصل لنک : http://darululoom-deoband.com/urdu/articles/index.php?content=featured&display=detail&id=367
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
تبصرہ :
بہت ضروری سوالات اٹھا یے گیے مگر فاضل استاد محترم نے بہت سطحی طور پر دفاعی انداز میں جوابات  ارشاد فرمایے . بھر حال یہ ان کی ایک قبل تعریف کوشش  ہے . امید ہے کہ اس تحریر کو پڑھنے والے فا ضل قاری، کمنٹس comments کے کالم میں نیچے  مزید جوابات یا سوالات اٹھاییں اور اپنی قیمتی ارا سے نوازیں گے.
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید مطالعہ کے لیے 
    1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
    2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل





  1. Madrassas،Militancy:http://www.islamopediaonline.org/country-profile/pakistan/islam-and-education-system/madrassas-and-militancy   
  2. Madrassas: behind closed doors:



  3. Faith & Reason
  4. Tribulation and Discord in Muslim World & Future 
  5. Islamic Society & Culture
  6. Women in Islam
  7. Rise & Decline of Muslims   
  8. Caliphate: Redundant or Relevant?
  9. Sectarianism
  10. Learning & Science
  11. Islam and Modernism: By Mufti Taqi Usmani   
  12. Jihad: Myth & Reality  
  13. Tolerance   
  14. Anti-Islam FAQs